میرے کُہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاںتیری چٹانوں میں ہے میرے اَب و جدَ کی خاکروزِ ازل سے ہے تو منزلِ شاہین و چرغلالہ و گُل سے تہی، نغمۂ بُلبل سے پاکتیرے خَم و پیچ میں میری بہشتِ بریںخاک تِری عنبریں، آب ترا تاب ناکباز نہ ہوگا کبھی بندۂ کبک و حمامحِفظِ بدن کے لیے رُوح کو کردوں ہلاک!اے مرے فقرِ غیور! فیصلہ تیرا ہے کیاخِلعتِ انگریز یا پیرہنِ چاک چاک!
حقیقتِ ازَلی ہے رقابتِ اقوامنگاہِ پِیرِ فلک میں نہ میں عزیز، نہ تُوخودی میں ڈُوب، زمانے سے نا اُمید نہ ہوکہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمامِ رفُورہے گا تُو ہی جہاں میں یگانہ و یکتااُتر گیا جو ترے دل میں ’لَاشَرِیکَ لَہٗ‘
تِری دُعا سے قضا تو بدل نہیں سکتیمگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تُو بدل جائےتری خودی میں اگر انقلاب ہو پیداعجب نہیں ہے کہ یہ چار سُو بدل جائےوہی شراب، وہی ہاے و ہُو رہے باقیطریقِ ساقی و رسمِ کدُو بدل جائےتری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوریمری دُعا ہے تری آرزو بدل جائے!
کیا چرخِ کج رو، کیا مہر، کیا ماہسب راہرو ہیں واماندۂ راہکڑکا سکندر بجلی کی مانندتجھ کو خبر ہے اے مرگِ ناگاہنادر نے لُوٹی دِلّی کی دولتاک ضربِ شمشیر، افسانہ کوتاہافغان باقی، کُہسار باقیاَلْحُکْمُ لِلّٰہ! اَلْمُلْکُ لِلّٰہ!حاجت سے مجبور مردانِ آزادکرتی ہے حاجت شیروں کو رُوباہمحرم خودی سے جس دم ہُوا فقرتُو بھی شہنشاہ، مَیں بھی شہنشاہ!قوموں کی تقدیر وہ مردِ درویشجس نے نہ ڈھُونڈی سُلطاں کی درگاہ
یہ مَدرسہ یہ کھیل یہ غوغائے روارَواس عیشِ فراواں میں ہے ہر لحظہ غمِ نَووہ عِلم نہیں، زہر ہے احرار کے حق میںجس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کفِ جوَناداں! اَدب و فلسفہ کچھ چیز نہیں ہےاسبابِ ہُنر کے لیے لازم ہے تگ و دَوفِطرت کے نوامیِس پہ غالب ہے ہُنر مندشام اس کی ہے مانندِ سحَر صاحبِ پرتَووہ صاحبِ فن چاہے تو فَن کی بَرکت سےٹپکے بدنِ مہر سے شبنم کی طرح ضَو!
جو عالمِ ایجاد میں ہے صاحبِ ایجادہر دَور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ
تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کوکر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ
اُس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!ہے جس کے تصّور میں فقط بزمِ شبانہ
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدیدمشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ
رومی بدلے، شامی بدلے، بدلا ہندُستانتُو بھی اے فرزندِ کُہستاں! اپنی خودی پہچان
اپنی خودی پہچاناو غافل افغان!
موسم اچھّا، پانی وافر، مٹّی بھی زرخیزجس نے اپنا کھیت نہ سینچا، وہ کیسا دہقان
اپنی خودی پہچاناو غافل افغان!
اُونچی جس کی لہر نہیں ہے، وہ کیسا دریاےجس کی ہوائیں تُند نہیں ہیں، وہ کیسا طوفان
اپنی خودی پہچاناو غافل افغان!
ڈھُونڈ کے اپنی خاک میں جس نے پایا اپنا آپاُس بندے کی دہقانی پر سُلطانی قربان
اپنی خودی پہچاناو غافل افغان!
تیری بے عِلمی نے رکھ لی بے عِلموں کی لاجعالِم فاضِل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان
اپنی خودی پہچاناو غافل افغان!
زاغ کہتا ہے نہایت بدنُما ہیں تیرے پَرشَپرّک کہتی ہے تجھ کو کور چشم و بے ہُنرلیکن اے شہباز! یہ مُرغانِ صحرا کے اچھُوتہیں فضائے نیلگوں کے پیچ و خَم سے بے خبران کو کیا معلوم اُس طائر کے احوال و مقامرُوح ہے جس کی دمِ پرواز سر تا پا نظر!
عشق طینت میں فرومایہ نہیں مثلِ ہوَسپرِ شہباز سے ممکن نہیں پروازِ مگَسیوں بھی دستورِ گُلستاں کو بدل سکتے ہیںکہ نشیمن ہو عنادل پہ گراں مثلِ قفَسسفر آمادہ نہیں منتظرِ بانگِ رحیلہے کہاں قافلۂ موج کو پروائے جرَس!گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہےمرُدہ ہے، مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفَسپرورِش دل کی اگر مدِّ نظر ہے تجھ کومردِ مومن کی نگاہِ غلط انداز ہے بس!
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تاراشباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاریاگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کراگر ہو صُلح تو رعنا غزالِ تاتاریعجب نہیں ہے اگر اس کا سوز ہے ہمہ سوزکہ نیستاں کے لیے بس ہے ایک چنگاریخدا نے اس کو دیا ہے شکوہِ سُلطانیکہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کرّارینگاہِ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کُلاہی کویہ بے کُلاہ ہے سرمایۂ کُلہ داری
جس کے پرتوَ سے منوّر رہی تیری شبِ دوشپھر بھی ہو سکتا ہے روشن وہ چراغِ خاموشمردِ بے حوصلہ کرتا ہے زمانے کا گِلہبندۂ حُر کے لیے نشترِ تقدیر ہے نوشنہیں ہنگامۂ پیکار کے لائق وہ جواںجو ہُوا نالۂ مُرغانِ سحر سے مَدہوشمجھ کو ڈر ہے کہ ہے طفلانہ طبیعت تیریاور عیّار ہیں یورپ کے شکر پارہ فروش!
لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُوداَرو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُوْ‘صیّادِ معانی کو یورپ سے ہے نومِیدیدِلکش ہے فضا، لیکن بے نافہ تمام آہُوبے اشکِ سحَر گاہی تقویمِ خودی مشکلیہ لالۂ پیکانی خوشتر ہے کنارِ جُوصیّاد ہے کافر کا، نخچیر ہے مومن کایہ دیرِ کُہن یعنی بُتخانۂ رنگ و بوُاے شیخ، امیروں کو مسجد سے نکلوا دےہے ان کی نمازوں سے محراب تُرش ابرو
مجھ کو تو یہ دُنیا نظر آتی ہے دِگرگُوںمعلوم نہیں دیکھتی ہے تیری نظر کیاہر سینے میں اک صُبحِ قیامت ہے نمودارافکار جوانوں کے ہوئے زیر و زبر کیاکر سکتی ہے بے معرکہ جِینے کی تلافیاے پِیرِ حرم تیری مناجاتِ سحَر کیاممکن نہیں تخلیقِ خودی خانقہوں سےاس شُعلۂ نم خوردہ سے ٹُوٹے گا شرَر کیا!
بے جُرأتِ رِندانہ ہر عشق ہے رُوباہیبازُو ہے قوی جس کا، وہ عشق یدُاللّٰہیجو سختیِ منزل کو سامانِ سفر سمجھےاے وائے تن آسانی! ناپید ہے وہ راہیوحشت نہ سمجھ اس کو اے مَردکِ میدانی!کُہسار کی خلوَت ہے تعلیمِ خود آگاہیدُنیا ہے روایاتی، عُقبیٰ ہے مناجاتیدر باز دو عالم را، این است شہنشاہی!
آدم کا ضمیر اس کی حقیقت پہ ہے شاہدمشکل نہیں اے سالکِ رہ! عِلم فقیریفولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے لائقپیدا ہو اگر اس کی طبیعت میں حریریخود دار نہ ہو فقر تو ہے قہرِ الٰہیہو صاحبِ غیرت تو ہے تمہیدِ امیریافرنگ ز خود بے خبرت کرد وگرنہاے بندۂ مومن! تو بشیری، تو نذیری!
قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائیہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!جو فقر ہُوا تلخیِ دوراں کا گِلہ منداُس فقر میں باقی ہے ابھی بُوئے گدائیاس دور میں بھی مردِ خُدا کو ہے میَسّرجو معجزہ پربت کو بنا سکتا ہے رائیدر معرکہ بے سوزِ تو ذوقے نتواں یافتاے بندۂ مومن تو کجائی، تو کجائیخورشید! سرا پردۂ مشرق سے نکل کرپہنا مرے کُہسار کو ملبوسِ حنائی
آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کولاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحبِ یقیںہوتا ہے کوہ و دشت میں پیدا کبھی کبھیوہ مرد جس کا فقر خزف کو کرے نگِیںتُو اپنی سرنوِشت اب اپنے قلم سے لِکھخالی رکھی ہے خامۂ حق نے تری جبیںیہ نیلگوں فضا جسے کہتے ہیں آسماںہِمّت ہو پَرکُشا تو حقیقت میں کچھ نہیںبالائے سر رہا تو ہے نام اس کا آسماںزیرِ پَر آگیا تو یہی آسماں، زمیں!
یہ نکتہ خوب کہا شیر شاہ سُوری نےکہ امتیازِ قبائل تمام تر خواریعزیز ہے انھیں نامِ وزیری و محسودابھی یہ خِلعتِ افغانیت سے ہیں عاریہزار پارہ ہے کُہسار کی مسلمانیکہ ہر قبیلہ ہے اپنے بُتوں کا زُنّاریوہی حرم ہے، وہی اعتبارِ لات و مناتخُدا نصیب کرے تجھ کو ضربتِ کاری!
نگاہ وہ نہیں جو سُرخ و زرد پہچانےنگاہ وہ ہے کہ محتاجِ مہر و ماہ نہیںفرنگ سے بہت آگے ہے منزلِ مومنقدم اُٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیںکھُلے ہیں سب کے لیے غَربیوں کے میخانےعُلومِ تازہ کی سرمستیاں گُناہ نہیںاسی سُرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تریترے بدن میں اگر سوزِ ’لاالٰہ‘ نہیںسُنیں گے میری صداخانزادگانِ کبیر؟گِلیم پوش ہوں مَیں صاحبِ کُلاہ نہیں!
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانییا بندۂ صحرائی یا مردِ کُہستانیدنیا میں مُحاسب ہے تہذیبِ فُسوں گر کاہے اس کی فقیری میں سرمایۂ سُلطانییہ حُسن و لطافت کیوں؟ وہ قُوّت و شوکت کیوںبُلبل چمَنِستانی، شہباز بیابانی!اے شیخ! بہت اچھّی مکتب کی فضا، لیکنبنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانیصدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کاتلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی!