ضربِ کلیم · علامہ محمد اقبال

Chapter 4: عورت

مردِ فرنگ

ہزار بار حکیموں نے اس کو سُلجھایامگر یہ مسئلۂ زن رہا وہیں کا وہیںقصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میںگواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ و پرویںفساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہورکہ مرد سادہ ہے بیچارہ زن شناس نہیں

ایک سوال

کوئی پُوچھے حکیمِ یورپ سےہند و یوناں ہیں جس کے حلقہ بگوشکیا یہی ہے معاشرت کا کمالمرد بے کار و زن تہی آغوش!

پردہ

بہت رنگ بدلے سِپہرِ بریں نےخدایا یہ دُنیا جہاں تھی، وہیں ہےتفاوُت نہ دیکھا زن و شو میں مَیں نےوہ خَلوت نشیں ہے، یہ خَلوت نشیں ہےابھی تک ہے پردے میں اولادِ آدمکسی کی خودی آشکارا نہیں ہے

خَلوت

رُسوا کِیا اس دَور کو جَلوت کی ہُوس نےروشن ہے نِگہ، آئنۂ دل ہے مُکدّربڑھ جاتا ہے جب ذوقِ نظر اپنی حدوں سےہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابترآغوشِ صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہےوہ قطرۂ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہرخلوَت میں خودی ہوتی ہے خودگیر، و لیکنخلوَت نہیں اب دَیر و حرم میں بھی میَسّر!

عورت

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگاسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ درُوںشرف میں بڑھ کے ثریّا سے مشت خاک اس کیکہ ہر شرَف ہے اسی دُرج کا دُرِ مکنوںمکالماتِ فلاطُوں نہ لِکھ سکی، لیکناسی کے شُعلے سے ٹُوٹا شرارِ افلاطُوں

آزادیِ نسواں

اس بحث کا کچھ فیصلہ مَیں کر نہیں سکتاگو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے، وہ قندکیا فائدہ، کچھ کہہ کے بنوں اَور بھی معتوبپہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزنداس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاشمجبور ہیں، معذور ہیں، مردانِ خِرد مندکیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہآزادیِ نِسواں کہ زمرّد کا گُلوبند!

عورت کی حفاظت

اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستورکیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہُو سردنے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پُرانینِسوانیَتِ زن کا نِگہباں ہے فقط مردجس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایااُس قوم کا خورشید بہت جلد ہُوا زرد

عورت اور تعلیم

تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگِ اُمومتہے حضرتِ انساں کے لیے اس کا ثمر موتجس عِلم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازنکہتے ہیں اُسی علم کو اربابِ نظر موتبیگانہ رہے دِیں سے اگر مَدرسۂ زنہے عشق و محبّت کے لیے عِلم و ہُنر موت

عورت

جوہرِ مرد عیاں ہوتا ہے بے منَّتِ غیرغیر کے ہاتھ میں ہے جوہرِ عورت کی نمودراز ہے اس کے تپِ غم کا یہی نکتۂ شوقآتشیں، لذّتِ تخلیق سے ہے اس کا وجودکھُلتے جاتے ہیں اسی آگ سے اَسرارِ حیاتگرم اسی آگ سے ہے معرکۂ بود و نبودمَیں بھی مظلومیِ نسواں سے ہوں غم ناک بہتنہیں ممکن مگر اس عقدۂ مشکل کی کُشود!