ضربِ کلیم · علامہ محمد اقبال

Chapter 1: ابتدا

نہیں مقام کی خُوگر طبیعتِ آزادہُوائے سیر مثالِ نسیم پیدا کر

ہزار چشمہ ترے سنگِ راہ سے پُھوٹےخودی میں ڈُوب کے ضربِ کلیم پیدا کر

اعلیٰحضرت نوّاب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں

زمانہ با اُمَمِ ایشیا چہ کرد و کندکسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو خواندتو صاحبِ نظری آنچہ در ضمیرِ من استدل تو بیند و اندیشۂ تو می داندبگیر ایں ہمہ سرمایۂ بہار از من’کہ گُل بدستِ تو از شاخِ تازہ تر ماند‘

ناظرین سے

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظرتیرا زُجاج ہو نہ سکے گا حریفِ سنگیہ زورِ دست و ضربتِ کاری کا ہے مقاممیدانِ جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگخُونِ دل و جگر سے ہے سرمایۂ حیاتفطرت، لہُو ترنگ، ہے غافل! نہ، جل ترنگ

تمہید

نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداریکہ خاوراں میں ہے قوموں کی رُوح تریاکیاگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامےبُری ہے مستیِ اندیشہ ہائے افلاکیتری نجات غمِ مرگ سے نہیں ممکنکہ تُو خودی کو سمجھتا ہے پیکرِ خاکیزمانہ اپنے حوادث چھُپا نہیں سکتاترا حِجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکیعطا ہُوا خس و خاشاکِ ایشیا مجھ کوکہ میرے شُعلے میں ہے سرکشی و بے باکی!

ترا گُناہ ہے اقبالؔ! مجلس آرائیاگرچہ تُو ہے مثالِ زمانہ کم پیوندجو کوکنار کے خُوگر تھے، اُن غریبوں کوتری نَوا نے دیا ذوقِ جذبہ ہائے بلندتڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیےوہ پَر شکستہ کہ صحنِ سرا میں تھے خورسندتری سزا ہے نوائے سحَر سے محرومیمقامِ شوق و سروُر و نظر سے محرومی