نرالا عاشق · مرزا فدا علی خنجر لکھنوی

Chapter 9: باب ۹

باب ۹

خاک ہو سکتا نہیں تدبیر سے

آدمی مجبور ہے تقدیر سے

گرمیوں کا زمانہ، دوپہر کا وقت، لو کی شدت سے تمام جسم میں آگ لگی ہوئی ہے، امیروں کو روپیہ کے زور سے موسم گرما میں گلابی جاڑوں کی گلابی کیفیت حاصل ہے، بڑے بڑے زمین دوز تہ خانے بنے ہوئے ہیں، یہاں خس کے پردے جو برابر پانی سے تر کیے جاتے ہیں پڑے ہیں؛ ہاں وہ غریب جو بے چارے مفلوک الحالی سے پریشان ہو کر تمام دن لگاتار محنتوں کے بعد شام کو پیٹ بھرنے کے لیے تھوڑا بہت پا جاتے ہیں ان سے گرمی کا لطف نہ پوچھیے، آفتاب کی حدت سے رنگ سنولا گیا ہے، پسینہ کا یہ حال ہے جیسے ابھی نہا کر آئے ہوں، نہ تو انھیں شورے میں جھالا ہوا پانی میسر ہے نہ بڑے بڑے خس خانوں میں آرام سے بیٹھنا نصیب ہے، اگر آرام لینے کے لیے سو گئے تو جمعدار نے نصف مزدوری کاٹ لی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بچوں کو ذرا ظہور کھلا کر خود تمام رات فاقہ کیا۔ یہ رفتار زمانہ ہے جسے واقعتاً نظریں روز مشاہدہ کرتی ہیں۔ اب ہم مطلب کی طرف رجوع ہوتے ہیں، اس وقت بی جان کے مکان میں ایک کمرے میں خس کی ٹٹیاں لگی ہیں جنھیں ایک آدمی نے وقتاً فوقتاً پانی سے تر کر رکھا ہے۔ اس کمرے میں چار شخص ہیں جس میں ایک تو خود بی جان ہیں، دوسری وزیرن اور باقی دو شخصوں میں ایک مراد خان دوسرے الہیا خان جو آپس میں کسی خاص معاملہ کی نسبت گفتگو کر رہے ہیں جو ان کی گفتگو سے ظاہر ہو جائے گا۔

وزیرن: امی جان! کل رات کو آپ نے بڑا غضب کیا جو اس طرح نجم النسا کو ڈانٹا۔

بی جان: بیٹا! ابھی تم بچہ ہو، ان باتوں کو کیا جانو۔ روپیہ پیدا کرنے کی یہی تدبیریں ہیں، اس طرح رئیس کے دل پر رعب چھا جاتا ہے اور وہ ایک روپیہ خرچ کرنے والا ہوتا ہے تو دس روپیہ خرچ کرتا ہے۔

وزیرن: یہ سچ ہے لیکن ولی عہد بہادر کے آدمی کو ناراض کرنا اچھا نہیں، کل نجم النسا صاف صاف کہہ گئیں کہ سب بندوبست ہو گیا ہے، ولی عہد بہادر اس وقت کچھ سپاہی بھیج کر تمھاری ماں کو گرفتار کرنے والے تھے لیکن میں نے بہت نشیب و فراز دکھا کر انھیں اس حرکت سے باز رکھا صرف اس لیے کہ تم سے محبت ہو گئی ہے لہذا تم اپنی ماں کو سمجھا بجھا کر راضی کردو ورنہ ان کے واسطے مفر کی صورت نظر نہیں آتی، وہ پوری باتیں بھی نہ کرنے پائی تھیں کہ آپ آ گئیں اور انھیں ایسا آڑے ہاتھوں لیا کہ وہ بے چاری اپنی جان بجا کر بھاگیں۔

مراد خان (وزیرن کی باتیں سن کر): جناب بی جان صاحبہ! خدا نظر بد سے بچائے، ماشاءاللہ آپ کی صاحبزادی نہایت دور اندیش اور عقلمند ہیں، واقعی اس وقت جس قدر باتیں انھوں نے کہیں سب آپ کے لیے مفید ہیں کیونکہ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے، آپ کی کشیدگی اور ولی عہد بہادر کے اشتیاق کی حد ہو گئی، اب زیادہ کھنچنے سے یہ اندیشہ ہوا ہوتا ہے کہیں ایسا نہ ہو ولی عہد بہادر کی طبیعت میں اشتعال پیدا ہو جس کا نتیجہ آپ کے واسطے بہت تکلیف دہ ہے۔ میری رائے میں اب آپ جس قدر روپیہ طلب کیجیے گا آپ کو بے عذر مل جائے گا، پھر کیا وجہ ہے جو ایسا اچھا موقع ہاتھ سے دیا جائے۔ میں نے ابتدا میں آپ کی رائے سے اتفاق کیا تھا تھا اور اب وقت و مصلحت کے لحاظ سے وزیرن جان کی صلاح ہے کہتا ہوں، شاید آپ کا خیال یہ ہو ولی عہد بہادر گھر ڈال لیں گے تو یہ خیال ہی خیال ہے۔

بالفرض ایسا ہی ہوا تو کوئی نقصان نہیں، میں نے سنا ہے وہ پری خانہ بنانے والے ہیں جہاں جوان جوان کمسن عورتیں علم موسیقی حاصل کرنے کے لیے رکھی جائے گی، اس کام کے واسطے ہم لوگوں کا موجود ہونا لازمی ہے۔ وزیرن سے ہمیں یہ بھی امید ہے وہ اپنی تعلیم کے واسطے ہمیں کو ملازم رکھے گی اور ہم پر آپ کو کافی اطمینان ہے۔ دوسرے جب چاہے آپ خود آ جا سکتی ہیں، آپ کے واسطے ممانعت یا روک ٹوک نہ ہوگی، روپیہ پیسہ کی کمی نہیں سچ تو یہ ہے کہ آپ کی خوش نصیبی میں کلام نہیں خواہ آپ اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیں۔

بی جان: میں اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ اس وقت کی باتوں نے گونہ فکر میں ڈال دیا ہے، خیر اس معاملے کو اچھی طرح سوچ سمجھ لوں تو کوئی رائے قائم کروں۔

مراد خان: آپ کو لازم ہے بہت جلد اپنے دل سے کوئی نہ کوئی فیصلہ کر لیجیے، وقت ہاتھ سے نکل جائے گا تو بجز افسوس کچھ حاصل نہ ہوگا۔