نرالا عاشق · مرزا فدا علی خنجر لکھنوی

Chapter 8: باب ۸

باب ۸

یو نہیں جو گرم بازاری رہے گی آہ سوزاں کی

جلادیں گے اسیرانِ محبت کنج زنداں کو

اندھیری رات ہے، بارہ بج چکے ہیں، ہر گلی کوچہ میں سناٹا پھیلا ہوا ہے، سوائے چوکیداروں کی (یا علی حیدر) کی آواز یا ان جنگلی کتوں کی صدائیں جو گلی کوچوں میں مارے مارے پھرا کرتے ہیں کسی قسم کی چہل پہل نہیں۔ اس وقت قصائی کے پل پر ایک عورت سر سے پاؤں تک سیاہ چادر اوڑھے ہوئے اور دو مرد ادھر ادھر آتے ہوئے دکھائی دیے، ان کی رفتار سے معلوم ہوتا ہے کوئی اہم معاملہ درپیش ہے جو انھیں گلی کوچوں کی ٹھوکریں کھلوا رہا ہے، ورنہ یہ وقت جو پروردگار نے اپنے بندوں کی آسائش کے واسطے بنایا ہے، ان لوگوں کا یوں در بدر پھرنا کیا معنی۔ آخر کار یہ لوگ رفتہ رفتہ اس مکان تک پہنچ گئے جو حور منزل یعنی وزیرن کے رہنے کا گھر ہے، یہاں پہنچ کر یہ سب ٹھٹک کر کھڑے ہوگئے اور آپس میں کچھ سرگوشیاں ہوئیں پھر وہی سیاہ پوش عورت آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھی، اس کے ہمراہی مرد ادھر ادھر ہو گئے۔ اس نے دروازے کے قریب پہنچ کر آہستہ سے اسے دھکا دیا جو فوراً کھل گیا اور یہ مکان میں داخل ہو کر جس کمرے میں وزیرن آرام کرتی تھی پہنچ گئی۔ یہاں روشنی بالکل کم تھی، وزیرن سفید دلائی اوڑھے پلنگ پر خواب ناز میں مشغول تھی۔ یہ عورت آہستہ سے وزیرن کے پاس پلنگ پر بیٹھ گئی، اس حرکت سے وزیرن کی آنکھ کھل گئی، اس نے فوراً اپنے منہ سے دُلائی کا آنچل ہٹا کر خوف زدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا، ہائے کمسنی بھی کیا چیز ہے، ایک سیاہ پوش کو دیکھتے ہی ڈر سے تمام جسم کانپنے لگا، عجب نہ تھا جو وہ گھبرا کر چیخ اٹھتی۔ سیاہ پوش عورت اس کے خوف سے خبردار ہو گئی اور اپنا برقع اتار کر کہنے لگی۔

عورت: ڈرنا نہیں، میں ہوں نجم النسا بیگم اس وقت ہمارے سرکار بہت بے چین ہیں، تمھاری خیریت دریافت کرنے کو بھیجا ہے۔ مجھے بہت ڈر تھا کہ بی جان وہاں ہوں گی شکر ہے میرا خیال غلط نکلا وہ اس وقت کہاں گئی ہیں؟

وزیرن: استاد کے یہاں خدائی رات ہے میری طبیعت سست تھی اس لیے وہ وہاں گئی ہیں ایک بجے تک واپس آئیں گی۔

نجم النسا: میری خوش قسمتی میں شک نہیں، کسے امید تھی تم سے تنہائی میں باتیں کرنے کا موقع ملے گا۔ تم سے ضروری باتیں کرنا ہیں اگر غور سے سنو اور جواب دینے کا وعدہ کرو تو کہوں۔

وزیرن: فرمائیے۔

نجم النسا: دیکھو بیٹا تم ماشاءاللہ سمجھدار ہو، ایسی نایاب سرکار ہاتھ سے نہ جانے دو، روپیہ پیسہ، عزت، حرمت، صورت، سیرت، شان و شوکت، حکومت سبھی تو خدا نے ولی عہد بہادر کو عطا کیا ہے، تمھاری ماں کی آنکھوں پر پردے پڑے ہیں، خدا جانے کیوں وہاں بھیجنے سے انکار کرتی ہیں اور اس سے وہ انکار کرتی ہیں اگر ان کے مزاج میں ضد آجائے تو قیامت ہو جائے، جب چاہیں حکومت کے زور سے طلب کرلیں گے لیکن اللہ رکھے ان میں ایسی عادت نہیں جو جبر و ظلم کریں۔

وزیرن (ٹھنڈی سانس بھر کر): آپ بہت سچ فرماتی ہیں، اس میں ان کا کچھ قصور نہیں یہ سب میری قسمت کا کرشمہ ہے آپ مثل بزرگوں کے شفقت فرماتی ہیں اس لیے میں دلی راز کہے دیتی ہوں مجھ سے قسم لے لیجیے جب سے آپ کے سرکار کو دیکھا آج تک کبھی نیند بھر کے نہیں سوئی۔ کیا کروں اما جان پر اختیار نہیں بےبس ہوتی ہوں، منہ لپیٹ کر پڑ رہتی ہوں یا چپکے چپکے آنسو بہا کر دل ٹھنڈا کرلیتی ہوں۔ آپ ہی فرمائیے اس کے علاوہ کیا کر سکتی ہوں۔

نجم النسا: واقعی تمھاری حالت پر افسوس ہوتا ہے میں تمھاری ماں کو اتنا سنگ دل نہ جانتی تھی۔ تم دیکھو تو کیا ہوتا ہے ولی عہد بہادر کی خوشی نہ ہو غیر ممکن ہے، رہا بی جان کا راضی ہونا یہ خوشی سے نہ منظور کریں گی تو کوئی اور کارروائی کی جائے گی۔

وزیرن: اے ہے خدا کے لیے میری اماں جان کو کوئی تکلیف نہ دی جائے، ان کا مجھ پر بہت بڑا حق ہے۔ رہیں ایسی ناسمجھی کی باتیں یہ ان کے سن کا باعث ہے، للہ کوئی ایسی تدبیر کیجیے کہ انھیں بھی اذیت نہ ہو اور ولی عہد بہادر کا بھی کام ہو جائے۔

نجم النسا: حقیقت میں تم فخر خاندان ہو، جس کی ماں ایسی پست خیال ہو اس کی لڑکی ایسی بامروت خدا کی شان ہے، خیر میں تمھاری خاطر سے اتنا کر سکتی ہوں کہ تمھاری ماں تمام عمر مصیبت نہ جھیلنے پائے گی لیکن دس پندرہ روز ضرور تکلیف اٹھانا پڑے گی کیونکہ وہ خوشی سے راضی نہ ہوں گی اور تمھارا وہاں جانا لازمی ہے جب تم وہاں پہنچ جاؤ گی تو وہ آزاد ہو جائیں گی۔

وزیرن: ہائے غضب کیا وہ قید کی جائیں گی۔

نجم النسا: ہاں میں تمھیں ان باتوں کی اطلاع دینے آئی ہوں، ہمارے سرکار تمھاری مرضی کے خلاف کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتے۔ مناسب ہو تو تم اپنی ماں کو سب نشیب و فراز سمجھا کر راضی کر لو، تمھیں ایک مہینے کی مہلت دی جاتی ہے میں یہاں زیادہ آ جا نہیں سکتی تمھاری ماں ناراض ہوتی ہیں، اس وقت وہ یہاں ہوتیں تو خدا جانے میرا کیا دھاڑا کرتیں۔

وزیرن: خیر ایک مرتبہ اور دل کڑا کر کے انھیں سمجھاؤں گی، خدا کرے راضی ہو جائیں۔

یہاں یہی ذکر تھا کہ ایک آدمی لالٹین لیے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے بی جان مکان میں داخل ہوئیں، نجم النسا کو دیکھ کر غصے سے چراغ پا ہو گئیں اور ڈانٹ کر کہنے لگیں۔

بی جان: میں نہیں سمجھتی میرے یہاں سرکاری داروغاؤں کا کیا کام جو یہ لوگ رنڈیوں کے مکان میں بارہ بارہ ، ایک ایک بجے رات کو آیا کرتے ہیں۔ آخر اس آمد و رفت سے کیا منشا ہے، کیا میری لڑکی کو مجھ سے چھڑانا چاہتے ہیں، اگر یہی مطلب ہے تو میں در دولت پر دہائی دوں گی کہ ہمیں ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں کیا وجہ ہے جو یہ لوگ ہمارے یہاں آدھی رات پچھلے پہر آیا کرتے ہیں۔

نجم النسا یہ ہنگامہ سن کر بہت گھبرائیں لیکن کیا کرتیں، وقت ہی ایسا تھا جو خون کے گھونٹ پی کر چپ ہوجانا پڑا، ادھر بی جان کا غصہ بڑھتا ہی گیا آخر یہ بعجلت تمام اس کے گھر سے نکل کر بے نیل مرام سرکاری ڈیوڑھی کی طرف روانہ ہوئیں۔ خاص مکان میں مرزا ولی عہد بہادر شب فراق سے گھبرا گھبرا کر گریہ و زاری میں مصروف تھے، کبھی شبیہ یار سے شکوۂ جفا تھا کبھی اپنی قسمت سے گلہ، کبھی چرخ جفاکار کے جور و ستم کی شکایت کبھی دل بے قرار سے بیزاری، الغرض یہ امید و بیم کی کشمکش میں تھے کہ نجم النسا سرجھکائے ہوئے غمگین سامنے آئیں۔ اس وقت یہ مایوسی کی مجسم تصویر تھیں، چہرے سے حزن و ملال ہویدا تھا، ہاتھ پاؤں غصے سے کانپ رہے تھے، ولی عہد بہادر یہ حال دیکھ کر پریشان ہو گئے۔

ولی عہد: کہو کیا خبر لائیں، تم اس وقت نہایت مضطرب و پریشان نظر آتی ہو کیا سبب ہے جلدی بیان کرو۔

نجم النسا: آہ جان عالم اپنی رسوائی کس زبان سے بیان کروں۔

ولی عہد: استغفر الله، تمھیں کون رسوا کر سکتا ہے میرے ہوتے ہوئے کس کی مجال ہے جو تمھاری بدنامی کے درپے ہو۔

نجم النسا: پیر و مرشد بجا فرماتے ہیں، اب تو میں بیان کرتے ہوئے اور زیادہ ڈرتی ہوں ایسا نہ ہو حضور غصہ میں ایسا حکم دے دیں جس سے میری اتنے دنوں کی محنت رائیگاں ہو۔

ولی عہد: نہیں نہیں تم شوق سے بیان کرو، میں تمھاری مرضی کے خلاف کوئی امر نہ کروں گا۔

نجم النسا: میں اس وقت وزیرن کے گھر گئی تھی، اتفاق سے اس کی ماں بی جان مراد خان کے یہاں رت جگے میں گئی تھی، اتفاق سے گھر میں صرف وزیرن یا دو ایک نوکر رہتے ہیں، وزیرن کے پاس جا کر بیٹھی تو دیکھا وہ بھی حضور کی محبت میں سرگرم آہ و نالہ ہے، اس کی دلی منشا ہے کسی طرح حضور کا وصل ہو لیکن بےچاری اپنی ماں سے مجبور ہے، میں اس سے بہت دیر تک مفید مطلب گفتگو کرتی رہی نا گاہ اس کی ماں خونخوار شیرنی کی طرح ڈکارتی ہوئی آج گئی اور اس قدر شور و غل مچایا کہ مجھے ایک لمحہ بھی ٹھہرنا دشوار ہو گیا اور اسی طرح ترساں و لرزاں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی۔

ولی عہد (غضبناک ہو کر): اس کی یہ مجال ہوئی کہ تمھیں سخت و سست کہا، میں ابھی امیر الدولہ کو حکم دیتا ہوں فوراً جا کر ان دونوں کو حضور میں حاضر کرے۔

نجم النسا: پیر و مرشد! ابھی عتاب نہ فرمائیں میں وزیرن کو بہت ڈرا آئی ہوں، یقین ہے وہ اپنی ماں کو لالچ یا خوف سے اس بات پر راضی کرے گی کہ وہ حضور کی مرضی کے موافق کاربند ہو۔

ولی عہد: نہیں نہیں، سیدھی طرح سے وہ راہ پر آتے نظر نہیں آتی، واقعی میں نے غلطی کی جو اب تک اس کی خوشی کا منتظر رہا۔

نجم النسا: خدا کا واسطہ جان عالم میرا بنا بنایا کام نہ بگاڑیے، میں نے بڑی کوشش سے اس قدر رسوخ پیدا کیا ہے، وزیرن میرے کہنے پر عمل کرنے لگی ہے مجھے یقین ہے وہ ضرور اپنی ماں کو خوف خداوندی سے ڈرا کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوگی، حضور ایک مہینہ لونڈی کی خاطر سے ضبط وصبر میں گذاریں اس کے بعد جو طریقہ ذہن مبارک میں آئے اختیار کریں، ایسا نہ ہو جلد بازی میں حضرت ثریا جاہ کو اطلاع ہو جائے تو لاکھ کا گھر خاک ہو جائے اور بجز کف افسوس ملنے کے کچھ ہاتھ نہ لگے گا۔

ولی عہد: خیر تمھاری خوشی سے ایک مہینہ اور دل پر جبر کرتا ہوں۔ تم لوگوں کو لازم ہے جانفشانی کا طریقہ اختیار کرو خوب کان کھول کر سن لو جب تک میری محبوبہ میرے پہلو میں نہ ہوگی مجھ پر خواب و خور حرام ہے، کیا عجب ہے جو کسی روز غم جدائی سے اپنی جان شیریں تلف کردوں پھر تمھیں سوا کف افسوس ملنے کے کوئی چارہ نہ ہوگا۔