نرالا عاشق · مرزا فدا علی خنجر لکھنوی

Chapter 7: باب ۷

باب ۷

کیا خبر تھی کہ محبت کا یہ ہوگا انجام

بے سبب قیدی زندان بلا ہو جانا

رات کا وقت ہے، مرزا ولی عہد بہادر کے خاص مکان میں حسبِ معمول روشنی وغیرہ ہو رہی ہے لیکن وہ جلسے جو دل بستگی کے لیے ہوا کرتے تھے، نہیں معلوم ہوتے؛ نہ سارنگی کی سریلی صدائیں کان میں آتی ہیں نہ طبلے بائیں کی گھن گرج آوازوں سے مکان گونجتا ہے، جہاں جنت کی قمریاں اپنی دلکش شیریں آوازوں سے ہر وقت دل لبھایا کرتی تھیں اسی مکان میں آج خاموشی کا عالم ہے، جس قدر شاگرد پیشہ لوگ ہیں اپنے اپنے ٹھکانوں پر ساکت بیٹھے ہیں، نشست کے کمرے میں بالکل سناٹا ہے، ہاں چند آدمی دکھائی دیتے ہیں، ایک تو داروغہ حال میر محمد مہدی جنھیں سرکار ولی عہد سے امیر الدولہ بہادر کا خطاب عنایت ہوا اور دو شخص اور ہیں، بہاؤ الدولہ غلام علی اور اکبر الدولہ میر اکبر علی یہ دونوں مرزا ولی عہد بہادر کے پرانے رفیقوں میں سے ہیں، جو باب عالی کی طرف سے جداگانہ خدمتوں پر سرفراز ہیں، بہاؤ الدولہ بہادر تو بھر ماروں کی پلٹن کی کمیدانی پر معمور ہیں۔

اکبر الدولہ دیوان خانہ سلطانی کے پیشکار ہیں، آج امیر الدولہ بہادر میر محمد مہدی کی زبانی ولی عہد بہادر کے عشق کی داستان سن کر مزاج پرسی کے واسطے حاضر ہوئے ہیں، لیکن ولی عہد بہادر کو درد ہجر سے فرصت کہاں جو باہر آئیں، یا یہ ہو کہ ملازموں نے خوف کی وجہ سے ان لوگوں کی حاضری کی خبر نہ کی ہو، بہرحال ولی عہد بہادر اس صحبت میں موجود نہیں، ان لوگوں میں کچھ آہستہ آہستہ گفتگو ہو رہی ہے، جو بخوبی سمجھ میں نہیں آئی، ہاں جس قدر ہم سن سکے ہدیہ ناظرین ہے۔

امیر الدولہ: میں نے خواجہ سرا سے کہلوا تو بھیجا ہے خدا ہی ہے جو اس وقت سرکار برآمد ہوں۔

بہاؤ الدولہ: اماں کچھ مفصل حال بیان کرو کس سے ولی عہد بہادر کو عشق ہوا، وہ کون خوش نصیب عورت ہے۔

اکبر الدولہ: سنا ہے وزیرن طوائف کی طرف طبیعت مائل ہے۔

امیر الدولہ: جی ہاں ہے تو طوائف لیکن بلا کی ہوشیار ہے۔ بظاہر تو وہ یہاں آنے کی بالکل روادار نہیں، کل میں خود اس کے مکان پر گیا تھا ایسی ایسی باتیں کیں میرے ہوش اڑ گئے، مجھے تو سیدھی انگلیوں سے گھی نکلتے معلوم نہیں ہوتا۔

بہاؤ الدولہ: اگر یوں نہ آئے تو زبردستی لے آئیں گے، بھلا اس کی مجال ہے ولی عہد بہادر یاد فرمائیں اور وہ حیلہ بازی کرے۔

امیر الدولہ: یہ سچ ہے لیکن قبلہ عالم کو خبر ہو جائے تو کیا ہو۔

اکبر الدولہ: اس کا انتظام پہلے ہی سے کر لیں گے۔

امیر الدولہ: میں نے تھوڑا بہت بندوبست کر لیا ہے۔

بہاؤ الدولہ: کیا بندوبست کیا ہے میں بھی سنوں۔

امیر الدولہ: میر قدرت علی کی معرفت نواب امین الدولہ بہادر کو اس بات پر راضی کر لیا ہے اگر ان سے بی جان وزیرن کی ماں داد فریاد کرے تو کچھ شنوائی نہ کریں اور جہاں تک ممکن ہو قبلہ عالم کو خبر نہ ہونے پائے۔ یہ بھی سنا ہے سرکار نے مصاحب السلطان اور حبیب السلطان کی معرفت خود بھی نواب صاحب کو پیغام بھیجا ہے، انھوں نے منظور بھی کر لیا ہے لیکن کوئی مفید صورت نہیں نکلی؛ شاید انھوں نے سرکار کے بہلانے کے واسطے منظور کرلیا ہو۔

اکبر الدولہ: جہاں یہ سب ہے وہاں یہ بھی ہوگا امین الدولہ بہادر کو جو ولی عہد بہادر کا بہت پاس و لحاظ ہے اور کیوں نہ ہو آخر انھوں نے پڑھایا ہے۔

بہاؤ الدولہ: میرا خیال ہے اگر تم لوگوں کی طرف سے وزیرن کے یہاں لانے میں زیادتی سے کام لیا جائے گا تو امین الدولہ بہادر کچھ تعرض نہ کریں گے۔

امیر الدولہ: بہت صحیح ہے میرا بھی یہی خیال ہے مگر دیکھا چاہیے اونٹ کس بل بیٹھتا ہے۔

یہاں یہی ذکر تھا کہ چوبدار نے آکر اطلاع دی حضور ولی عہد بہادر تشریف لاتے ہیں، یہ خبر سن کر سب لوگ مؤدب ہو کر تعظیم کے واسطے سر و قد کھڑے ہو گئے، جب ولی عہد بہادر آکر مسند پر جلوہ افروز ہوئے تو جھک کر فراشی سلام کر کے اپنے اپنے مقام پر بیٹھ گئے، کچھ دیر یہاں سکوت کا عالم طاری رہا تھوڑی دیر کے بعد اس طرح سلسلہ کلام شروع ہوا۔

بہاؤ الدولہ: شب بخیر حضور عالی! مزاج کیسا ہے، دیکھتا ہوں حضور بے حد لاغر ہوگئے ہیں، چہرہ بھی پژمردہ نظر آتا ہے۔

ولی عہد بہادر (ٹھنڈی سانس بھر کر): کیا کہوں کس مصیبت میں گرفتار ہوں بس یہ سمجھ لو حضرت دل کی بدولت جو کچھ نہ ہو کم ہے۔

اکبر الدولہ: ہم لوگوں نے ابھی ابھی امیر الدولہ بہادر کی زبانی تھوڑی بہت کیفیت سنی، سخت صدمہ ہے۔ آخر حضور کیوں اس قدر متفکر ہیں، ذرا صبر سے کام لیں ہم لوگ ان شاءاللہ حضور کی مطلب براری کے واسطے جان لڑادیں گے، حضور اس طرح بے قرار و بے تاب ہوں گے تو ہم سے کچھ نہ ہو سکے گا۔

ولی عہد بہادر (آنسو پوچھ کر): مجھے تم لوگوں سے ایسی ہی امید ہے جیسا کہ تم کہتے ہو مگر کیا کروں دل بے قابو ہوا جاتا ہے۔

نہ مانتا دل بے تاب کا کہا لیکن

پہ کیا کروں کہ طبیعت پہ اختیار نہ تھا

امیر الدولہ: جان عالم! خدا کا واسطہ ایسے مایوسانہ کلام زبان سے نہ نکالیے، غلاموں کے دلوں میں اتنی طاقت نہیں جو متحمل ہو سکیں، حضور کو ہرگز اس طرح بے تاب و بے قرار ہوکر گریہ و زاری نہ چاہیے۔

مشکلیں نیست کہ آسان نہ شود

مرد باید کہ ہراسان نہ شود

خدا نے چاہا تو حضور کی معشوقہ پری چہرہ و صاحب جمال کو بہت جلد حضور کے پہلو میں بٹھادیں گے، چندے ضبط و تحمل کرنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان باتوں کی خبر قبلۂ عالم کو ہو جائے یا بی جان خود در دولت پر داد فریاد کرے اور پرچے اعلی حضرت کی نظر سے گزریں تو بنا بنایا کھیل بگڑ جائے۔

ولی عہد: تم لوگ جو کہتے ہو میری خیرخواہی کے لیے کہتے ہو لیکن میں بھی اپنے بس میں نہیں ہوں۔

اکبر الدولہ: حضور! ہم کو ایک ماہ کی اجازت عطا فرمائیں تاکہ ہم لوگ پوری جانسوزی دکھا سکیں، اس کے بعد حضور کو اختیار ہے جو طریقہ ذہن مبارک میں آئے اس پر کاربند ہوں۔

ولی عہد: خیر تمھاری خاطر سے ایک ماہ تک اور دل پر صبر کی سل رکھے لیتا ہوں لیکن دیکھو میرے درد دل کے علاج میں کوتاہی نہ کرنا، جس قدر عجلت سے کام لیا جائے بہتر ہے، اب میرے دل میں غم اٹھانے کی طاقت نہیں۔