باب ٦
ایک صاف صاف بات کی تصریح کیا ضرور
صورت سے آشکار ہے سائل کی آرزو
(خنجر لکھنوی)
جھٹپٹا وقت ہے، چراغ جل چکے ہیں، لکھنؤ کے ہر گلی کوچہ سے لوگ نکل نکل کر چوک کی طرف جا رہے ہیں۔ شام اودھ کے فقرے سے کون ایسا ہے جو واقف نہیں، جس طرح صبح بنارس مشہور آفاق ہے، اسی طرح صوبہ اودھ کی شام سرور افزا ہے۔ نوجوان امیرزادوں کا زرق برق پوشاکیں انوکھی وضع تراش خراش اپنی آپ نظیر ہے۔
جس زمانے کا ہم ذکر کرتے ہیں وہ زمانہ بھی عجیب زمانہ تھا، لکھنؤ دار السرور بنا ہوا تھا، روپیہ مینہ کی طرح برس رہا تھا، انتہا یہ تھی کہ تین روپیہ کا ملازم سینکڑوں روپیہ صرف کردیتا تھا۔
اس وقت ایک شخص گھوڑے پر سوار کشمیری محلہ کی طرف سے درگاہ جاتا ہوا دکھائی دیا۔ جانے والا تھوڑا راستہ طے کرنے پایا تھا کہ ایک شخص اس جانب سے آتا ہوا نظر آیا، جب سوار کے قریب پہنچا تو بڑے تپاک سے سلام کیا جس کے جواب میں سوار بھی سلام کر کے گھوڑے سے اتر پڑا۔
سوار: اس وقت میں بہت اچھی ساعت سے گھر سے نکلا تھا جو تم سے ملاقات ہوگئی، اگر تم کسی ضرورت سے نہ جاتے ہو تو گھر واپس چلو میں تم سے بہت ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔
شخص: کیوں خیر تو ہے۔ جب سے تم مرزا ولی عہد بہادر کی سرکار میں ملازم ہوئے اس روز سے دکھائی نہیں دیتے، ہمیں خیال تھا شاید غریبوں سے ملنے جلنے میں کسر شان ہے۔
ناظرین اب تو شاید آپ نے اس سوار کو پہچانا، یہ وہی ہمارے پرانے شناسا داروغہ میر محمد مہدی ہیں، یہ اس وقت یہاں کس ضرورت سے آئے ہیں یہ انھیں کی گفتگو سے معلوم ہوجائے گا۔ دوسرے شخص ادھیڑ مگر قوی الجثہ میر قدرت علی داروغہ مذکور کے لنگوٹیے یار یا کمسنی کے رفیق ہیں، یہ امین الدولہ بہادر کے یہاں ملازم ہیں کیونکہ نواب مذکور رحم دل تھے اس لیے کچھ پرسش نہ کرتے تھے اور صرف یہ مہینے میں دو چار مرتبہ سلام کر کے تنخواہ وصول کر لیا کرتے تھے۔ باقی تمام وقت دوستوں میں صرف کرتے تھے۔ آج بہت روز کے بعد جو پرانے دوستوں میں ملاقات ہوئی، شکوہ و شکایت کے دفتر کھل گئے گئے۔
میر محمد مہدی (بعد شکوہ و شکایت کے): اچھا اب مکان واپس چلو تو میں کچھ مفید مطلب گفتگو کروں۔
اتنا کہنے کے بعد یہ دونوں پھر درگاہ کی طرف واپس چلے، یہاں درگاہ کے قریب ایک چھوٹا سا مکان جو کہنہ ہونے سے خدا کی یاد میں سرنگوں تھا، استرکاری جھڑ جھڑ کر گر گئی تھی، گلی ہوئی اینٹیں نکل آئی تھیں اور زبان حال سے دعا کر رہی تھیں کہ اے معبود ہمارے مالک ناداری دور کر ایک مرتبہ پھر لباس نو پہن کر اپنے مالک کی صفائی مزاج کا باعث ہوں۔
ہمارے دونوں دوست مکان میں داخل ہوئے اور بیٹھ کے کمرے میں جہاں بوریہ کا فرش تھا، ایک طرف مداریہ حقہ رکھا ہوا تھا دوسری طرف ایک ٹھلیہ پر آبخورہ رکھا تھا جس کی دیکھ بھال اور صفائی نہ ہونے سے گرد جم گئی تھی۔ ایک طرف ٹوٹا ہوا کونڈا راکھ سے بھرا ہوا تھا اور اس کے اوپر کچھ کوئلے پڑے تھے، اسی کے پاس ایک سکورے میں تمباکو اور دست پناہ رکھا تھا، طاق پر دیا سلائی کی ڈبیا اور ایک بوسیدہ پنکھا سہولت کار کے لیے موجود تھا۔ یہ دونوں وہاں بیٹھ گئے۔ میر قدرت علی نے جیب سے افیون کی ڈبیا اور ایک پیالی نکالی، ٹھلیہ سے تھوڑا سا پانی لے کر افیون گھولنا شروع کی جب وہ گھل کر تیار ہو گئی تو ذائقہ لے لے کر پی۔ ان کاموں سے فراغت پاکر داروغہ میرمہدی کی طرف مخاطب ہوئے۔
میر قدرت علی: معاف کرنا تمھیں بڑی تکلیف ہوئی۔ آج میں افیون پینا بھول گیا تھا اس وجہ سے ہاتھ پاؤں ٹوٹ رہے تھے، جمائیاں بھی برابر آ رہی تھیں اگرچہ ابھی نشہ نہیں ہوا تاہم تسکین ضرور ہوگئی۔
میر محمد مہدی: ہاں یہ سب عادت سے تعلق رکھتا ہے۔
میر قدرت علی: تم نے کس کام کے لیے یہاں آنے کی تکلیف اٹھائی۔
میر محمد مہدی: کیا بتاؤں کیا کام ہے تم پر مجھے اعتماد ہے اس لیے ایک رائے لینا چاہتا ہوں۔
میر قدرت علی: ضرور کہو تمھارے سر عزیز کی قسم میں کسی کام میں عذر نہ کروں گا خواہ کیسا ہی ہو۔
میر محمد مہدی: میں اپنا مطلب بیان کرنے کے قبل اتنی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ بہت ہی سمجھ بوجھ کر اُس کام کو کرنا اور اس راز سے کسی کو آگاہ نہ کرنا کیونکہ میری آئندہ زندگی کی تمام امیدیں اس سے وابستہ ہیں، خدانخواستہ ذرا بھی اونچ نیچ ہوئی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا۔
میر قدرت علی: استغفر اللہ! میری جانب سے یہ بد گمانی خدا کی قسم اپنا سر کاٹ کر پھینک دوں اگر دل میں کبھی تمھاری طرف بدی کا خیال آئے۔
میر محمد مہدی: ہماری سرکار میں ایک روز جرنیل صاحب بہادر کے ہمراہ وزیرن نامی ایک طوائف جو قصائی کے پل پر رہتی ہے، مجرے کے واسطے آئی تھی، ولی عہد بہادر اس سے محبت کرنے لگے۔ امیر آدمی ضبط و صبر کیا جانیں، ایک ماہ ہوا جب سے ہر وقت چپ چپ رہتے ہیں نہ ناچ رنگ میں دل بہلتا ہے، نہ ہنسی مذاق میں دلچسپی ہے۔ یہ حالت دیکھ کر میں نے عرض کیا جان عالم خدا حضور کو صحیح و سالم رکھے کیوں اس قدر غمگین رہا کرتے ہیں اور اسی طرح ہمدردی کی بہت سی باتیں کیں کی انھوں نے بھی تمام و کمال واقعہ بیان کر دیا۔ مجھے یقین کامل ہے یہ کام میرے ہاتھ سے ہو جائے تو ان کے دل میں بہت کچھ رسوخ ہو، اسی بنا پر ان سے وعدہ کر لیا۔ جب اس مقدمہ پر غور کیا تو بہت سی مشکلیں نظر آئیں اسے سرکار میں لے جانا تو آسان ہے مگر قبلۂ عالم کو خبر ہوگئی تو بہت خرابیاں ہوں گی، مختصر یہ ہے سوچتے سوچتے یہ تدبیر ذہن میں آئی کہ تمھاری معرفت نواب امین الدولہ بہادر کے کانوں تک صاحب عالم کی عشق کی داستان پہنچوا دوں، شاید وزیرن کی ماں داد بیداد کرے تو وہ اپنے ہی مقام پر رفع دفع کر دیں قبلۂ عالم تک خبر نہ ہو لیکن تم ان سے اس طرح بیان کرنا کہ ولی عہد بہادر کا پیغام نہ ثابت ہو۔
میر قدرت علی: لاحول ولا قوۃ میں سمجھا تھا کوئی پیچیدہ معاملہ ہوگا، اتنی سی بات کے واسطے یہ طول مگر ایک بات سمجھ میں نہیں آتی وزیرن طوائف ہے اسے جو روپیہ دے گا اسی کی لونڈی ہو جائے گی پھر ولی عہد بہادر کیوں اس قدر متفکر و پریشان ہیں۔ ہزار دو ہزار دے کر اُسے پھسلا لیں۔
میر محمد مہدی: روپیہ پیسہ کی کوئی بات نہیں، اس کی ماں بڑی چلتی پرزہ ہے اس نے کسی ذریعہ سے معلوم کرلیا ہے کہ ولی عہد بہادر وزیرن کے لیے بہت بے قرار ہیں، پس پاؤں پھیلا دیے، ہزاروں نخرے کرتی ہے کہتی ہے میری لڑکی فالتو نہیں جو ولی عہد بہادر کے یہاں بھیج دوں، اب اسے دھوکا دے کر لے جانے کی کوئی تدبیر نہیں سمجھ میں آتی، ہاں اس کارروائی کے بعد دس پانچ ہزار دے کر راضی نامہ لکھوا لیں گے، لیکن دوراندیشی بہت اچھی چیز ہے شاید وہ صلح نہ کرے اس لیے قبل ہی سے بندوبست ہو جانا بہتر ہے۔
میر قدرت علی: میں بخوبی سمجھ گیا ہوں، تم اطمینان رکھو سب باتیں طے کرکے اسی وقت تم سے کہوں گا۔
میر محمد مہدی: اگر میری مرضی کے موافق سب کام ہو گئے تو یاد رکھو سرکار ولی عہد بہادر سے کچھ نہ کچھ تمھارا وظیفہ مقرر ہو جائے گا کیونکہ میں ان سے ضرور بیان کروں گا میرے لنگوٹئے یار میر قدرت علی نے اس کار خاص میری بہت مدد کی۔
میر قدرت علی (ترش رو ہو کر): میں اپنی منفعت کے لیے اس کام میں نہیں پڑا، صرف تمھاری دوستی کا خیال ہے جو مجھے اس طرف مائل کررہا ہے۔
میر محمد مہدی: تم بھی عجیب گول آدمی ہو، اتنا سن آیا مگر عقل نہ آئی۔ کیا یہ کلمے تمھیں لالچ دلانے کو کہے گئے تھے، میری خواہش ہے تم اور میں ایک جگہ رہیں، جس طرح ایام طفولیت میں مَیں اور تم ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے اسی طرح یہ زمانہ بھی گزاریں۔
میر قدرت علی: معاف کرنا، پہلے میں تمھارا مطلب نہ سمجھا تھا۔ میر محمد مہدی دوسرے روز ملنے کا وعدہ کرکے رخصت ہوئے اور اپنے گھوڑے پر سوار پر ہو کر قصائی کے پل کی طرف روانہ ہوئے۔
انھیں تو راہ میں چھوڑیے، اب وزیرن طوائف کے یہاں چل کر دیکھنا چاہیے وہاں کیا رنگ ہے۔
رات کے نو بج چکے ہیں راستوں کی چہل پہل کسی قدر کم ہے یا تو وہ نوجوان راستہ چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو اپنا گراں بہا وقت شاہدانِ بازاری کی صحبت میں بسر کرتے ہیں یا وہ لوگ ہیں جنھیں کوئی خاص وجہ کوچہ گردی پر مجبور کرتی ہے، باقی اپنے اپنے مکانوں کو جا چکے ہیں۔ وزیرن طوائف کے مکان میں معمول سے کسی قدر زائد روشنی ہے، کمرے میں فرش بھی اُجلا ہے، صدر میں نہایت نفیس قالین بچھایا گیا ہے۔ وزیرن جان پر تو قیامت کا جوبن ہے، گلابی اطلس کا پائجامہ جس میں اسی کی گوٹ، اس پر بانکڑی ٹکی ہے، سبز کمخواب کا شلوکہ، کریب کا آنچل پلو دار دوپٹہ مارے ڈالتا ہے۔ عاشق مزاج لوگ تو خیر زاہد صد سالہ بھی دیکھے تو درود پڑھنے لگے۔ خدا داد حسن جوانی، اس پر طرہ جامہ زیبی۔ ایک طرف سازندے ساز و سامان سے درست بیٹھے ہیں، بی جان انتظام خانہ داری میں مصروف ہیں۔
مراد خان (وزیرن سے): تم بھی عجیب مزاج کی ہو خواہ مخواہ شام سے بلوا کر بٹھا لیا نہ کوئی آتا ہے نہ جاتا ہے۔
وزیرن: ابھی ابھی نواب کا چوبدار آیا تھا حضور یہیں تشریف لاکر مجرا دیکھیں گے، اسے گئے ہوئے دیر ہوئی اب آتے ہی ہوں گے۔
الہیا خان: نو بج گئے اگر آنا ہوتا تو اب تک آجاتے۔
وزیرن: تم نا سمجھی کی بات کرتے ہو کوئی رئیس اتنے سویرے آئے گا جو وہی چلے آئیں۔
مراد خان: شاید گیارہ بارہ بجے آئیں۔
یہاں یہی ذکر تھا جو ایک چوبدار نے آکر وزیرن سے کہا۔
چوبدار: نواب صاحب کی طبیعت ناساز ہو گئی ہے آج تشریف نہ لائیں گے، آپ کے ہرجے کے روپیے دے دیے ہیں اور کل گھر پر یاد فرمایا ہے۔
یہ کہہ کر جیب سے دو اشرفیاں نکال کر وزیرن جان کی نذر کیں۔
وزیرن (اشرفیاں لے کر): اس کی کیا ضرورت تھی، میری طرف سے نواب صاحب کی خدمت میں آداب تسلیمات عرض کرنا اور کہہ دینا حضور کا مزاج پوچھا ہے۔
چوبدار: میں ابھی عرض کر دوں گا۔
وزیرن (روپیہ دے کر): لو اس کی مٹھائی کھانا۔
چوبدار (روپیہ لے کر، سلام کرکے): تو کل صبح میں پھر حاضر ہو کر یاد دلاؤں۔
وزیرن: تم کیوں تکلیف کرو مکان معلوم ہی ہے۔
اتنا کہہ کر انھوں نے ایک گلوری اسے دی، وہ سلام کر کے رخصت ہوا۔ اسے گئے ہوئے کچھ دیر نہ ہوئی تھی کہ ہمارے پرانے شناسا داروغہ میر محمد مہدی صاحب کمرے کے دروازے میں داخل ہوئے اور بعد صاحب سلامت قالین پر ایک طرف بیٹھ گئے، انھیں دیکھ کر بی جان بھی یہیں آ بیٹھی۔
بی جان: کہیے داروغہ صاحب کدھر بھول پڑے۔
میر محمد مہدی: عرصہ سے آپ کی ملاقات کا اشتیاق تھا، کثرت کار سے فرصت نہ ہوئی یہ تو کہیے کہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، بی وزیرن جان کے ناچ گانے نے ہمارے سرکار پر بہت بڑا اثر کیا۔ مجھے حکم ہوا ہے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مجرے کا بیعانہ پیش کروں۔
بی جان (مسکرا کر): یہ فرمائیے آ نا بھی ہوا تو اپنے مطلب سے۔
میر محمد مہدی: آپ جانتی ہیں محکوم ہمیشہ بے بس ہوتا ہے، ہاں فرمائیے اس وقت آپ لوگ میرے ہمراہ چل سکتے ہیں۔
بی جان: یہ تو ہمارا پیشہ ہے لیکن آج نواب کجن صاحب تشریف لانے والے ہیں۔
دیکھیے استاد لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں، ان سے کھچڑی کا روپیہ نہ لے چکی ہوتی تو کوئی عذر نہ تھا۔
میر محمد مہدی: آج فرصت نہیں تو کل کے بارے میں کیا فرماتی ہیں۔
بی جان: کل بھی ان کے گھر پر مجرا کرنا ہے۔
میر محمد مہدی: پرسوں تو فرصت ہے۔
بی جان: برسوں کی بابت میں ابھی نہیں بتا سکتی۔
میر محمد مہدی: اس سے ظاہر ہوتا ہے آپ کو وہاں جانا پسند نہیں۔
بی جان: آپ جو چاہیں خیال فرمائیں۔
میر محمد مہدی: دیکھیے بی جان صاحبہ آپ بڑی غلطی کر رہی ہیں جو ایسی سرکار چھوڑے دیتی ہیں، دوستانہ رائے دیتا ہوں، آپ ولی عہد بہادر کی خوشی کر دیجیے خدا جانتا ہے نہال ہو جائے گا، لکھنؤ میں کوئی طوائف آپ کے مقابلے کی نہ نکلے گی۔
میری سمجھ میں نہیں آتا آپ کیوں انکار کرتی ہیں، روپیہ، پیسہ، عزت، حرمت، حکومت ایسی کونسی چیز ہے جو ہمارے سرکار میں نہیں، دور دور فیاضی کا آوازہ ہے غالبا آپ بھی واقف ہوں گی۔
خدا گواہ ہے میں نے اس سرکار سے بہتر خلیق و غریب پرور رحم دل سرکار نہیں دیکھی، بے واسطہ ہزاروں آدمی پرورش پا رہے ہیں، للہ ایسا نایاب موقع ہاتھ سے نہ جانے دیجیے۔
بی جان: جس قدر آپ نے بیان کیا بہت کم ہے میں اس سے بہت زیادہ سمجھتی ہوں، لیکن میر صاحب میرے ایک ہی اولاد ہے اور وہاں جو گیا پھر اس کا نکلنا دشوار ہے، یہ کیونکر ہو سکتا ہے میں روپیہ کے واسطے اپنی لڑکی ہاتھ سے کھو دوں۔
میر محمد مہدی: یہ صرف آپ کا خیال ہے، ولی عہد بہادر ایسے سنگدل نہیں جو آپ کی لڑکی کو آپ سے چھڑا لیں گے، انھیں بھی تو قبلۂ عالم کا خوف ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے اگر انھیں ضد دلائی جائے گی تو غصہ کی حالت میں جو حرکت کر بیٹھیں تعجب نہیں۔
بی جان: یہ نہیں ہو سکتا وہ رعایا پر صریحاً تشدد کریں اور بندگانِ عالی خبر نہ لیں، غریبوں بیکسوں کی فریاد کے لیے ہر وقت در دولت کھلا رہتا ہے، خدا قبلۂ عالم کو ایک سو تیس برس تک زندہ سلامت رکھے رعیت کا بہت خیال فرماتے ہیں۔
میر محمد مہدی: مجھے اس سے کچھ بحث نہیں، جو میری دوستی کا مقتضا تھا وہ کرچکا اب آپ جانیں آپ کا کام جانے۔
اس قدر گفتگو کے بعد داروغہ میر محمد مہدی غصہ میں بھرے ہوئے اٹھے، صاحب سلامت کرکے خاص مکان کی طرف روانہ ہوئے۔