باب ۵
کب بجھائے سے بجھا سوزِ محبت اے رشک
لاکھ چھینٹے دیے لیکن تپشِ دل نہ گئی
(خنجر لکھنوی)
ہم جس زمانے کا ذکر کر رہے ہیں اُن دنوں میں دو عورتیں گانے والی امن و امان جو رئیس فرخ آباد کے یہاں اسی فن کی بدولت عزت و افتخار حاصل کر چکی تھی کسی بات سے رنجیدہ ہو کر لکھنؤ وارد ہوئیں اور کسی ذریعہ سے سرکار ولی عہد بہادر میں ملازم ہو گئیں، یہ دونوں بہنیں کسی قدر سن دراز تھیں لیکن فن موسیقی میں پوری پوری صلاحیت رکھتی تھیں، یہی وجہ تھی جو سرکار ولی عہد بہادر سے سرور محفل خطاب عنایت ہوا اور از بسکہ دونوں فطرتًا چالاک تھیں، اس لیے بہت جلد ولی عہد کے مزاج میں دخیل ہو گئیں؛ انتہا یہ ہوئی کہ ولی عہد بہادر نے اپنی زبان سے بہن کہا۔ ان کی اطاعت و فرمانبرداری مزاج دانی اس حد کی تھی ادھر ولی عہد بہادر نے دل میں کچھ خیال کیا ادھر یہ دونوں اور نجم النسا بیگم سمجھ گئیں، اسی خوش سلیقگی اور دور اندیشی کے سبب سے ولی عہد بہادر بغیر ان کی صلاح و مشورے کے کوئی کام نہ کرتے تھے۔ فی الحال وزیرن طوائف کا معاملہ درپیش اور گل نوخیز بوستان محبوبی کا عشق ولی عہد بہادر کے دل میں ترقی پر تھا، کوئی گھڑی کوئی ساعت وہ پیاری صورت اور اس کی یاد ان کے دل سے نہ جاتی تھی، یہ حال امن و امان نے بھی دیکھا اسی روز سے اسی فکر میں لگیں، کسی طرح ولی عہد بہادر سے ان کا دلی احوال دریافت کرکے اس میں سعی و کوشش کرنا چاہیے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ایک روز موقع پا کر ان دونوں بہنوں نے تمام و کمال حال دریافت کرلیا اور اس کی سعی میں مصروف ہوئیں، علی الخصوص ولی عہد بہادر کے دل بہلانے کو سب پر مقدم رکھا۔ جس روز یہ لوگ انھیں زیادہ فکر مند پاتے عاشقانہ غزلیں ٹھمریاں گا کر آتش عشق ٹھنڈی کرتے۔ قاعدہ ہے جب دل چوٹیلہ ہوتا ہے تو طبیعت اشعار عشق انگیز و درد آمیز کی طرف مائل ہوتی ہے، یہی حال ولی عہد بہادر کا ہے، بات بات پر کلام عاشقانہ زبان پر لاتے، کبھی ٹھمریاں تصنیف کرکے امن و امان کو دیتے کہ تم انھیں گاکر میرا غم غلط کرو۔
ایک روز کا ذکر ہے کہ آفتاب عالم تاب نصف منزل ختم کر چکا ہے، ولی عہد بہادر کے زنانے مکان کے ایک کمرے میں چند خواصیں، امن و امان، داروغہ نجم النسا بیگم صاحبہ اپنے اپنے مقام پر مؤدب بیٹھی ہیں، صدر کی جانب مسند پر گاؤ سے لگے ہوئے مرزا ولی عہد بہادر جلوہ گر ہیں، سامنے ستار رکھا ہے، ایک ٹھمری جو حال میں تصنیف کی گنگناتے جاتے ہیں اور وجد کے عالم میں جھوم رہے ہیں، بڑی بڑی بادامی آنکھوں میں اشک بھرے ہیں، لیجیے اب انھوں نے امن و امان کی طرف خطاب کرکے کہا۔
ولی عہد: میں نے ایک ٹھمری تصنیف کی ہے، تم اس کی دھن بنا کر سناؤ۔
امن و امان (یک زبان ہو کر): ارشاد ہو، ہم ابھی دھن بنا کر حضور کو سنادیں۔
ولی عہد:
پہلے آستائی سن پھر انترہ پھر یاد کرلینا آستائی
سن او گوئبان سیان رہے واہو دیس
نجم النسا: قربان جاؤں جان عالم کیا خوب ٹھمری تصنیف فرمائی ہے۔
ولی عہد (کسی قدر مسکرا کر): یہ سب دل کی چوٹ کا اثر ہے، جس نے کچھ روز سے بےچین کر رکھا ہے۔
اتنی دیر میں امن و امان نے اس ٹھمری کی دھن بنا کر گانا شروع کیا۔ ایک تو ہمارے ہیرو کے دل پر محبت کی چوٹ لگی ہوئی تھی، دوسرے ان کی درد آمیز آواز سے گانے نے کچھ ایسا اثر کیا قوت صبر رخصت ہو گئی، بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، بے چارے ملازم ایک گوشہ میں مؤدب بیٹھے ہوئے اپنے مالک کا ساتھ دے رہے ہیں، یہ حالت پوری ایک ساعت تک رہی پھر ولی عہد بہادر نے قلم و دوات منگا کر اپنے دلی جذبات کو اس طرح نظم کرنا شروع کیے۔
غزل
میری زبان سے پوچھو مزا محبت کا
یہ خوب جانتی ہے ذائقہ محبت کا
پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا
بتوں کے دل کو مزا دے خدا محبت کا
ہماری موم دلی کا اثر نمایاں ہو
بتوں کے دل کو مزا دے خدا محبت کا
بچے گی جان حزیں کس طرح رقیبوں سے
رہے گا یوں ہی اگر سامنا محبت کا
کھنچاؤ کرکے کیا قتل ایک عالم کو
اگال دے کے دیا خوں بہا محبت کا
برا ہی ہوتا ہے انجام کار عاشق حسن
کچھ اچھا نام نہیں ہے دلا محبت کا
جہاں کی سنگدلی بے وفائی تم میں ہے
ہمارا قلب تو ہے آشنا محبت کا
بندھے ہیں دوش و سر دست و پا و گردن و دل
اسیر زلف ہوں میں مبتلا محبت کا
نصیب فتح ہو یا ہو مجھے شکست اخترؔ
خدا بچائے، ہوا سامنا محبت کا
جب غزل تصنیف ہو چکی تو ایک نقل داروغہ ارباب نشاط کو عنایت ہوئی عمدہ گانے والوں کو دی جاوے آج سرکار سنیں گے، ایک نقل امن و امان کو مرحمت ہوئی تم یاد کر کے سنانا کیونکہ تم میری پسند کی موافق دھن بناتی ہو۔