باب ٤
کیا اسی قابل تھے ہم اے آسمان کینہ جو
اس قدر درماندگی آسودگی تھوڑی بہت
(خنجر لکھنوی)
میر محمد مہدی ایک مرد سادات بتیس تینتیس برس کے سرخ و سفید آدمی تھے جو عہد حضرت ثریا جاہ محمد امجد علی شاہ میں تمندار تھے۔ ان کی طینت میں کسی قدر غرور بھی شامل تھا، جس کی وجہ سے اپنے عہدہ مقررہ سے علاحدہ کر دیے گئے۔ آدمی پاک باطن و صاف دل تھے اور امین الدولہ بہادر نواب امداد حسین خان کے یہاں دخیل تھے، اس سبب سے سرکار ولی عہد بہادر میں انھوں نے سعی کر کے داروغگی پر ملازم رکھوادیا۔ از بسکہ یہ نئے نئے ملازم ہوئے تھے اس لیے حضور ولی عہد بہادر کے مزاج سے کما حقہ آگاہ نہ تھے نہ کبھی ولی عہد بہادر نے ان سے التفات کیا۔ اگر چہ ان کی دلی تمنا تھی کہ مثل دیگر اشخاص کے سرکار میں کامل دسترس حاصل کریں مگر جب تک کوئی ذریعہ نہ ہو اپنے مقصد میں کامیاب ہونا دشوار ہے، وہی حال ان کا تھا۔ چونکہ ان کے طالع بد دفع ہو چکے تھے اور اقبال مندی نے عروج کا راستہ صاف کر دیا تھا، اتفاق سے حضور ولی عہد بہادر کا دل وزیرن طوائف کی طرف مائل ہوا۔ یہ تو ظاہر ہی ہے دولتمند کو ذرا سی تکلیف بڑی سے بڑی تکلیف معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہ شخص جس نے آنکھ کھول کے بجز عیش و عشرت کے کچھ نہ دیکھا ہو بھلا وہ انتظار اور فراق کی سخت یا پریشان کر دینے والی گھڑیاں کیونکر صبر کر کے بسرکر سکتا ہے، وزیرن ایک پیشہ ور عورت تھی اس نے اشتیاق زیادہ کرنے کی غرض سے یہ طریقہ نکالا:
لعل دشوار بدست آید ازان ست عزیز
آبگینہ ہمہ جا یا بی ازان بے محل ست (سعدیؒ)
یہ ہی وجہ تھی جو ولی عہد بہادر کا اشتیاق دن بدن زیادہ ہوتا جاتا تھا اور اسی طرح ایک مہینہ کا زمانہ گذر گیا لیکن مفید مطلب کوئی صورت نہ نکلی۔ نوجوان رئیس کے لیے سخت مصیبت کا سامنا تھا نہ وہ ناچ و رنگ کی صحبتیں تھیں نہ مصاحبوں میں بیٹھ کر ہنسی دل لگی۔ رات دن ولی عہد ہیں اور پلنگ ہے، لبوں پر مہر سکوت لگی ہوئی۔ یہ سامان میر مہدی نے دیکھ کر ایک روز اپنے دل میں خیال کیا بغیر اس کام کے انجام دیے ہوئے فلاح نہیں، قسمتوں سے یہ موقع ہاتھ آیا۔ مناسب یہی ہے حضور ولی عہد بہادر کا منشا دریافت کرکے کسی طرح وزیرن کو یہاں لے آؤں، اس خیال کے آنے سے ذرا خاطر جمع ہوئی اور انھوں نے موقع پا کر ایک روز ولی عہد بہادر سے عرض کی:
جان عالم میں دیکھتا ہوں حضور کچھ دنوں سے افسردہ خاطر ہیں، نہ تو وہ ناچ رنگ کی صحبتیں ہیں نہ ہنسی دلگی، ہر وقت منہ لپیٹے مسہری پر آرام فرمایا کرتے ہیں، کاش کچھ زبان مبارک سے ارشاد فرمائیں تو غلام کوشش کرے۔ قسم ہے پروردگار عالم کی میری جان بھی اگر کام آوے تو بہت خوشی سے حضور کے قدموں پر نثار کردوں۔ للہ اپنی افسردگی کا باعث ظاہر فرمائیے، غلام سے یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔
ولی عہد: واقعی تم نے بہت صحیح اندازہ کیا، ایک ماہ کا عرصہ ہوا میری طبیعت کچھ ایسی پریشان ہے جو پلنگ پر پڑا رہنا خوش آیا، میں تمھاری ہمدردی سے بہت خوش ہوا، جو شریفوں کا شیوہ ہونا چاہیے وہی تم نے برتا، آج کل میرا ستارہ گردش میں ہے جسے کوئی مٹا نہیں سکتا۔
میر محمد مہدی: حضور جو فرمائیں بجا درست ہے، اکثر صدقہ دینے سے ستاروں کی خرابیاں رفع ہو جاتی ہیں، حضور کچھ ارشاد فرمائیں کیا عجب ہے اس کا تدارک غلام کے ذریعے سے ہو جائے۔
ولی عہد: تمھاری سچی ہمدردی اور دلجوئی مجھے مجبور کر رہی ہے میں اپنا پورا کچا چٹھا سنادوں، میرے دل کو یقین ہے تم سے اپنی داستان بیان کرنے میں مَیں اپنے دلی مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گا، تمھیں یاد ہوگا جرنیل صاحب کے ہمراہ ایک حسینہ و جمیلہ نو عمر طوائف یہاں آ کر ناچی گائی تھی۔
میر محمد مہدی: غلام کو بخوبی یاد ہے، فی الواقع وہ علاوہ حسن و جمال کے اپنے فن میں بھی عدیم المثال ہے ۔
ولی عہد: ہاں ہاں تم نے بہت ٹھیک کہا، وہی میری قاتل ہے، اسی کی ادا نے میرا صبر و شکیب چھین لیا، ہائے اسی کے عشوہ و ناز نے دل بے چین کردیا۔ جب سے اسے دیکھا ہے کسی بات یا کسی شغل میں دل نہیں لگتا، ہر وقت یہی دل چاہتا ہے اس پری جمال کو اپنے سامنے بٹھا کر نظارۂ جمال کیا کروں، میں اچھی طرح جانتا ہوں میرا دل حسن پرست ہے لیکن اس سے پہلے میری حالت کبھی ایسی نہ ہوئی تھی۔
میر محمد مہدی: بندگان عالی متفکر نہ ہوں، ہم لوگ کس دن کے لیے پرورش پاتے ہیں، حضور جلسۂ عیش و عشرت میں مشغول ہوں، غلام بہت جلد کسی تدبیر سے اسے خدمت والا میں حاضر کرے گا لیکن اعلیٰ حضرت دو چار روز اور صبر سے کام فرمائیں کیونکہ جب تک کوئی معقول تدبیر ذہن نشین نہ ہو اس کی ماں بی جان کا راضی ہونا محال ہے۔