نرالا عاشق · مرزا فدا علی خنجر لکھنوی

Chapter 3: باب ٣

باب ٣

کہنے جاتے ہیں پریشانیٔ خاطر ان سے

جو نہیں جانتے کیا شے ہے پریشان ہونا

قصائی کا پل لکھنؤ کا ایک محلہ ہے جو چوک سے بہت قریب ہے، شاہی زمانے میں بہت آباد تھا لیکن غدر کے بعد جہاں اور محلوں پر وبال آیا وہاں یہ بھی تباہ اور ویران ہو گیا اور ابھی تک غیر آباد پڑا ہے۔ مکانات منہدم ہو گئے، پُل اب تک باقی ہے جسے زمانہ گذشتہ کی یادگار سمجھنا چاہیے۔

ہم جس زمانہ کا حال لکھ رہے ہیں اس زمانے میں یہ محلہ بھرا پرا تھا۔ یہاں ایک مکان دو منزلہ جو حقیقت میں چو منزلہ تھا دکھائی دیتا ہے، اس کا ایک وسط کا کمرہ ایشیائی ساز و سامان سے بہت اچھی طرح سجا ہوا ہے۔ ایک جانب مسہری لگی ہے جس میں سرخ جالی دار کامدانی کا پردا پڑا ہے، مسہری سے ملحق ادنی غالیچہ بچھا ہوا ہے، ایک گاؤ اور پہلو کے دو تکیے رکھے ہیں، قالین کے سامنے دو اگالدان ایک پاندان رکھا ہے۔ صدر میں ایک کمسن حسین و خوبصورت عورت بیٹھی ہوئی پان لگا رہی ہے، اس کے برابر ایک مُسِن عورت بیٹھی ہے جس کی صورت سے غیظ و غضب کے آثار نمایاں ہیں۔ پہلو کی جانب دو ڈھاڑی بیٹھے ہیں ایک کے سامنے طبلہ بائیں کی جوڑی رکھی ہے دوسرا سارنگی ملا رہا ہے۔ اگر ہماری نگاہیں قصور نہیں کرتی تو ہم کہہ سکتے ہیں یہ وہی عورت ہے جو مرزا ولی عہد بہادر کی سرکار میں جرنیل صاحب کے ہمراہ حاضر ہو چکی ہے۔ ہمارا خیال صحیح ہے کیونکہ اس کی نائکہ ڈھاڑیوں سے وہیں کے متعلق کچھ باتیں دریافت کر رہی ہے۔

بی جان: کیوں مراد خان (وزیرن کا استاد) کل ولی عہد بہادر کے یہاں کیسا مجرا ہوا، کچھ پسند بھی آیا یا نہیں۔

مراد خان: آپ کے قدموں کی قسم بیوی ایسا نایاب مجرا ہوا کہ سب مان گئے۔

الہیا خان (طبلہ نواز): مجھے تو وہاں کا رنگ بے رنگ معلوم ہوتا ہے۔

بی جان: یہ کیا؟

الہیا خان: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب بی وزیرن مجرا کر رہی تھیں تو ولی عہد بہادر کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور پھر تو بے چینی اس قدر بڑھی کہ محفل ہی برخاست ہو گئی۔

مراد خان: اگر بی وزیرن ولی عہد بہادر کی نظروں پر چڑھ گئیں تو چاندی ہی چاندی ہے۔

بی جان: خدا نہ کرے ایسا ہو، میری بچی تو گویا قید ہو جائے گی۔

الہیا خان: یہ آپ کیا کہتی ہیں، جو لوگ ولی عہد بہادر کی سرکار میں ہیں، انھیں دیکھیے کس قدر روپیہ پیدا کر رہے ہیں۔

مراد خان: سننے میں آیا ہے صاحب عالم کے کئی محل ہو چکے ہیں اور ان کے عزیز و اقارب خوب خوب ہتے صاف کر رہے ہیں۔

بی جان: یہ سب کچھ ہے لیکن مجھے اپنی وزیرن کا خیال ہے یہ کڑھے گی ورنہ کیا روپیہ کسی کو برا معلوم ہوتا ہے۔

الہیا خان: یہ خیال ہی خیال ہے، وہاں اچھا کھائیں گی ، اچھا پہنیں گی تو کیوں گھبرانے لگیں، لیکن بی وزیرن جان صاحب ہمیں نہ بھولیے گا ولی عہد بہادر سے سفارش کر دیجیے گا۔

وزیرن: دل و جان سے، وہ وقت تو آنے دیجیے۔

یہاں یہی گفتگو تھی کہ ایک نوجوان شخص جو بظاہر شریف مگر نہایت مفلوک الحال تھا، کمرے میں داخل ہوا اور سلام کرکے کہنے لگا۔

شخص: داروغہ صاحب یہاں تشریف لانا چاہتی ہیں، پردے کا انتظام کردیا جائے۔ مجھے اطلاع کرنے کے لیے بھیجا ہے۔

بی جان: کون داروغہ صاحبہ؟

شخص: نجم النسا بیگم صاحبہ جو مرزا ولی عہد بہادر کی سرکار میں زنانخانے کی داروغہ ہیں۔

بی جان (متعجبانہ لہجہ میں): شاہی داروغاؤں کا میرے یہاں کیا کام؟

شخص: مجھے خوب یاد ہے جس مکان کا پتہ دیا ہے وہ یہی مکان ہے احتیاطاً آپ اپنا نام بتا دیجیے۔

بی جان: میرا بی جان نام ہے اور یہ جو بیٹھی ہیں انھیں وزیرن کہتے ہیں۔

شخص: بس بس بہت ٹھیک ہے میں یہیں بھیجا گیا ہوں۔

بی جان (کچھ سوچ کر): اچھا تم کہہ دو شوق سے تشریف لائیں، گھر سے پردہ ہو جائے گا۔

اس قدر گفت وشنید کے بعد وہ شخص چلا گیا اس کے جانے کے بعد یہاں جو بات چیت ہوئی وہ یہ ہے۔

مراد خان: مبارک ہو، لیکن لالچ آکر بے سمجھے بوجھے نہ گر پڑنا۔

بی جان: واہ واہ مجھے کہتے ہو کس ترکیب سے بات چیت کرتی ہوں سن کے سکتا ہی تو ہو جائے، کوئی میرا پیٹ چھوٹا ہے جو ذرا میں بھر جائے، ہزاروں کے وارے نیارے ہوں گے۔

الہیا خان: بی وزیرن جان اگر مناسب ہو تو آپ جھوٹ موٹ اپنی والدہ کی نظر بچا کر داروغہ صاحبہ پر ولی عہد بہادر سے اپنا عشق ظاہر کر دیجیے گا۔

بی جان: تم دیکھو تو میں کس طرح اس کام کو کرتی ہوں۔ میں تو ولی عہد بہادر کی ملازمت سے انکار کر دوں گی اور وزیرن کو سکھا دوں گی، یہ ہر شخص سے اپنی مجبوری ظاہر کرے اور کہے کہ اماں مجھے وہاں نہیں جانے دیتیں، ولی عہد بہادر یہ خبریں سن کر زیادہ بیتاب ہوں گے۔ جب اشتیاق خوب زیادہ بڑھ جائے گا تو جو کہوں گی وہی ہوگا۔ اس میں شک نہیں وزیرن کی آزادی چھن جائے گی لیکن روپیہ خوب ملے گا۔

مراد خان: واللہ مان گئے تم بھی بڑی چالاک ہو۔ اس ترکیب سے ولی عہد بہادر تو خیر بچے ہی ہیں، بڑے بڑے گھاگ مار کھا جاتے ہیں۔

یہاں یہی ذکر تھا کہ وہی شخص جو تھوڑی دیر قبل آیا تھا آکر کہنے لگا:

شخص: سواری آگئی۔

یہ سن کر دونوں ڈھاڑی اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے گئے، یہاں صرف بی جان اور وزیرن رہ گئیں۔ جب پردہ ہو گیا تو وہی مسن عورت برقع اوڑھے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔ صاحب سلامت مزاج پرسی کے بعد وزیرن کے پاس بیٹھ گئی۔

بی جان : بیگم آپ نے کیوں تکلیف فرمائی، جو ضرورت تھی اپنے آدمی سے کہلوا بھیجتیں۔

نجم النسا: تکلیف کیسی، ہمیں تو مالک کی بے چینی دور کرنے میں راحت ہے۔ جرنیل صاحب کے ہمراہ تمھاری صاحبزادی ہماری سرکار میں آئی تھیں، ماشاء اللہ بہت اچھا مجرا کیا، صاحب عالم بہت تعریف کرتے تھے، مجھ سے کئی دفعہ ان کا تذکرہ کیا، اگر اس کا سلسلہ وہاں ہو جائے تو بہت اچھا ہے۔

بی جان: جی ہاں اگر ایسا ہو تو اس کی خوش قسمتی میں کوئی شک نہیں مگر ابھی نہیں۔

نجم النسا: اگر یہ خیال ہے تو بہت بڑی غلطی کرتی ہو، بلکہ یوں کہو بھرے خزانے پر لات مارتی ہو۔

بی جان: پھٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹیں کان اور وہ روپیہ کس کام کا جو ہمارا دل خوش نہ ہوا۔ علاوہ بریں ابھی ہماری لڑکی کمسن ہے۔ (کچھ سوچ کر) داروغہ صاحبہ معاف کیجیے گا، مجھے وزیرن کے استاد سے ایک ضروری بات کہنا تھی جو ان سے کہنا بھول گئی۔ اجازت ہو تو جا کر کہہ آؤں کہیں ایسا نہ ہو وہ چلے جائیں، وزیرن آپ کے پاس رہے گی۔

نجم النسا جو دل میں دعائیں مانگ رہی تھی یہ بلا دفعان ہو تو وزیرن کا عندیہ دریافت کروں اس معاملہ میں اس کا کیا خیال ہے، اس ظالم نے تو صاف صاف انکار کر دیا۔ ان باتوں کا لحاظ کرکے اس نے کہا

نجم النسا: تم شوق سے جاؤ، میں نہیں چاہتی میری وجہ سے تمھارا حرج ہو۔

یہ سن کر بی جان اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد جو بات چیت ہوئی وہ یہ ہے۔

نجم النسا: تم ہماری سرکار پر خدا جانے کیا جادو کر آئی ہو کہ وہ ہر وقت تمھارا ذکر خیر کیا کرتے ہیں، کسی وقت بھی تمھاری یاد نہیں بھولتے، انتہا درجہ یہ ہے کہ ناچ رنگ کی صحبتیں یک قلم موقوف ہیں۔

وزیرن جان: میں کیا عرض کروں سوا اس کے کہ وہ غریب پروری فرماتے ہیں، خدا جانتا ہے میرا بھی ہر وقت ان کے دیکھنے کو جی چاہتا ہے لیکن اما جان سے مجبور ہوں، خدا جانے انھیں کیا کد ہوگئی ہے اگر میں وہاں کا نام لیتی ہوں تو سیکڑوں صلواتیں سناتی ہیں، وہ اتنی بھی روادار نہیں کہ میں وہاں کا تذکرہ کروں۔

نجم النسا: آخر اس کی کوئی وجہ بھی معلوم ہے یا بے سبب بد ظنی ہے ۔

وزیرن: انھیں خیال پیدا ہو گیا ہے کہ اگر میں وہاں جاؤں گی تو وہ مجھے اپنے گھر ڈال لیں گے۔

نجم النسا: میں نے مانا کہ ان کا خیال صحیح ہے تو اس میں کیا برا ہے، آخر تمھیں کسی کے پاس نوکر رکھوائیں گی بس یہی سمجھ لیں کہ لڑکی نوکر ہے۔ ہماری سرکار اس قدر فیاض ہیں کہ دور دور سے لوگ اسی آرزو میں یہاں آتے ہیں حضور ولی عہد بہادر کی نگاہ پڑ جائے ،خیر یہ تو ان کا خیال ہے تم بتاؤ تمھارا کیا قصد ہے؟

یہ کلمات سن کر وزیرن کچھ اس ادا سے خاموش ہو گئی جس سے صاف ظاہر تھا کہ اسے ولی عہد بہادر سے دلی محبت ہوگئی ہے اور عین تمنا ہے کہ ان کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل کرے مگر مجبور ہے ذرا بھی اپنا اختیار نہیں، اس کے چہرے کا اتار چڑھاؤ، رنگ کا دم بدم تغیر وتبدل صاف بتا رہا ہے کہ ابھی ابھی کسی کا نام سننے سے دل پر چوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسو بھی ڈبڈبا آئے۔ یہ حالت دیکھ کر نجم النسا کہنے لگی بیٹا میں تمھاری ماں کے برابر ہوں اور یہ قسم کہتی ہوں کہ تمھارا راز کسی سے نہ بیان کروں گی، جو سچ بات ہے بتا دو۔ بھئی وعدہ کرتی ہوں کہ تمھاری مرضی کے موافق کام کروں گی، میں اس وقت ولی عہد بہادر کی بھیجی ہوئی صرف تمہاے ہی پاس آئی ہوں۔

وزیرن (شرمائی ہوئی غمگین ادا سے): آپ نے ایسی دلجوئی اور شفقت سے کیا راز دریافت کیا کہ مجبوراً مجھے بھی تمام کچا چٹھا بیان کرنا پڑا۔ اصل یہ ہے تالی دونوں ہاتھ بجتی ہے، میری دلی تمنا ہے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہوں مگر اماں سے مجبور ہوں؛ آپ خوب جانتی ہیں کہ میرا کوئی بس نہیں ورنہ ابھی وہاں سر آنکھوں سے چلتی اور اب تو میری کرب و بے چینی میں کچھ اور زیادتی ہو گی کیونکہ ان کے اضطراب کا حال آپ کی زبانی سن لیا ہے۔

یہ کہہ کر اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو بھر آئے لیکن بی جان کے خوف سے ضبط کر کے پان بنانے لگی۔ اتنی دیر میں بی جان بھی آگئی جو مصلحتاً اٹھ کر چلی گئی تھی، اب نجم النسا بیگم کو زیادہ کلام کرنے کا موقع نہ تھا لہذا وہ ان لوگوں سے رخصت ہو کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئیں۔