نرالا عاشق · مرزا فدا علی خنجر لکھنوی

Chapter 2: باب٢

باب٢

پھر کسی کے ظلم سہنے کا ہوا ہے دل کو شوق

پھر ہوئی ہے مجھ کو فکر عاشقی تھوڑی بہت

وہی خوفناک اور تاریک رات، اسی طرح سناٹا اور سکوت لیکن آج حضور باغ پر قیامت کی بہار ٹوٹ پڑی، رَوِشوں میں ٹھاٹھر بندی کی گئی ہے، جابجا بلوری کنول نصب ہیں، درختوں کے تنوں میں شال باف اور لچکا لپٹا ہوا ہے۔ روشنی کی کثرت سے تیر و تار شب میں روز روشن کی کیفیت پیدا ہے۔ صفائی سے باغ کی سڑکوں پر ایک پتہ تک نہیں نظر آتا ہے، فوارے سر اٹھا کر فلک چھو لینے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ باغبان سرخ بانات کی وردیاں اور ہاتھوں میں سونے کے کڑے پہنے ہوئے باغ کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں، چوبدار طلائی نُقرئی عصا لیے کارچوبی وردیوں سے مزین اپنے فرض منصبی کی تکمیل پر آمادہ و مستعد نظر آتے۔ ایک طرف ہرکاروں اور داروغۂ ارباب نشاط میں آہستہ آہستہ کچھ گفتگو ہو رہی ہے، بارہ دری عروس نو کی طرح آراستہ و پیراستہ ہے، فرش فروش جھاڑ کنول، مردنگین فانوس الغرض آرائش کی تمام چیزیں مہیا ہیں، جلسہ عیش و طرب جمع ہے، صدر میں مرزا ولی عہد بہادر، دائیں بائیں خواص مصاحبین اور زہرہ جبینان ہند بیٹھے ہیں، لیکن آج مرزا ولی عہد بہادر کی مشتاق نظریں بار بار در کی جانب بڑھ جاتی ہیں، لبوں پر مہر سکوت ہے، مصاحبین لاکھ لاکھ کوشش کرتے ہیں اس افسردگی اور خموشی کو ظریفانہ مذاق سے دفع کریں مگر خدا جانے کون ایسا خیال ہے جو انھیں کسی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔

یہاں کی یہ حالت بہت دیر تک رہی اور خدا جانے کب تک یہ افسردگی اور سکوت قائم رہتا اگر چوبدار جرنیل صاحب کی آمد کی خبر نہ دیتا۔ اِدھر تو چوبدار نے مژدۂ جاں بخش سنایا، اُدھر مرزا ولی عہد بہادر مع مصاحبین و رفقا پیشوائی کے واسطے تا پائین فرش اٹھ کر آئے اور مرزا سکندر حشمت بہادر کو اپنے برابر مسند پر بٹھایا اور بعد معمولی صاحب سلامت و مزاج پرسی گفتگو ہونے لگی۔

ولی عہد: کل جس امر میں گفتگو ہوئی تھی اس کی کیا ٹھہری؟

جرنیل صاحب: حاضر ہے۔

ولی عہد: پھر بلوانے میں کیا دیر ہے۔

جرنیل صاحب: صرف آپ کی اجازت درکار تھی۔

اس کے بعد جرنیل صاحب نے آہستہ سے ایک شخص کے کان میں کچھ کہا، اس نے فوراً ایک چوبدار کو حکم دیا جو طائفہ حضور جرنیل صاحب بہادر کے ہمراہ آیا ہے اسے تیار ہونے کا حکم دیا جائے، جس کی فوراً تعمیل کی گئی۔

تھوڑی دیر کے بعد اٹھارہ یا انیس برس کی نہایت حسین و خوبصورت عورت جس کا رنگ کندن کی طرح دمک رہا تھا، اودی اطلس کا پائجامہ سرخ مصالحہ دار پہنے، کامدانی کا آنچل پلودار ڈوپٹہ اوڑھے بصد ناز و انداز دل عشاق پائمال کرتی ہوئی خراماں خراماں چلی آتی ہے، پیچھے پیچھے سازندے ساز و سامان سے درست ہمراہ ہیں۔

ہمارا ہیرو جو ایک روز قبل تعریف سن کر بے چین ہو گیا تھا، اس کے انتظار میں ہمہ تن چشم تھا، اب جو اس قتالہ عالم سے نگاہ چار ہوئی تو فوراً تیر نظر اپنا کام کرگیا، ہر چند دونوں ہاتھوں سے دل و جگر سنبھالا لیکن زبان سے آہ نکل گئی، اگر صحبت میں ہم چشموں کا مجمع نہ ہوتا تو یہ نوگرفتار محبت حالتِ بیخودی میں ضرور داستان شروع کردیتا، یہ تو کہیے خیریت گذری جو حجاب نے لبوں پر مہر سکوت لگا دی۔ خدا نہ کرے کسی کو کسی سے محبت ہو جائے۔ اس وقت کا عالم دیکھنے کے قابل ہے، مرزا ولی عہد بہادر کی للچائی ہوئی نظریں گل رخسار تابان پر مثل بلبل بےتاب نثار ہو رہی ہیں، کبھی نظروں ہی نظروں سے اہل محفل کی نگاہیں بچا کر مصحف رخ کے بوسے لیے جاتے ہیں۔ گاہ وہی نظریں جو ابھی روئے مصفا پر جمی ہوئی تھیں، بخوف نظر زمین کی طرف جھک گئیں، مگر ہائے رے بیتابی معاً دل بے قرار میں ہوک پیدا ہوئی اور نظربازی کے ذریعہ سے سوز محبت کا اظہار ہونے لگا۔

اِدھر تو ہمارا ہیرو نئی نئی محبت کے مزے دل ہی دل میں اٹھا رہا ہے، حُضّار جلسہ مؤدب بیٹھے ہیں اور یہ بربادکن صبر و شکیب حکم کی منتظر کھڑی ہے۔ یہ حال دیکھ کر جرنیل صاحب نے مجرا شروع کرنے کا حکم دیا:

(اختر شاہ اودھ)

حسن کیا کم تھا جو آئینہ کی کھولی قلعی

ایک حیرانی زیادہ ہوئی حیرانوں پر

اُدھر تو وہ زہرہ مثال مشتری تمثال ناچ میں مصروف ہے، ادھر مرزا ولی عہد بہادر کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں۔ حاضرین محفل اگرچہ کچھ نہ کچھ روز ایسی کیفیت کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے، لیکن اس وقت کی بیتابی اور گریہ بے اختیار دیکھ کر متحیر ہوئے یا الہی یہ کیا ماجرا ہے جو ولی عہد بہادر ایسے بے چین ہیں۔ جرنیل صاحب الگ دل ہی دل میں اس معاملہ پر غور کر رہے ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آتا آخر ایک مصاحب نے دست بستہ عرض کیا۔

مصاحب: کیوں حضور شب بخیر مزاج کیسا ہے، اس وقت چہرے پر کچھ افسردگی پائی جاتی ہے۔

ولی عہد (ضبط کرکے): کچھ نہیں طبیعت آپ ہی آپ گری پڑتی ہے۔

جرنیل صاحب: مناسب ہو تو آرام فرمائیے، شب بھی نصف سے زائد گذر چکی ہے اور خدا نا کردہ طبیعت بھی کسی قدر ناساز ہے۔

مصاحبین (متفق ہو کر): انسب ہے، حضور نے نہایت معقول رائے دی، قبلہ عالم روز دوپہر کو آرام فرمانے کے عادی ہیں، آج تمام دن آرائش باغ میں مصروف رہے اور اتنی رات آگئی، ابھی تک آرام نہیں فرمایا ، اسی سبب سے دشمنوں کی طبیعت کسل مند ہو گئی۔

ولی عہد (کچھ سوچ کر): اچھا جلسہ برخاست، ہم آرام کریں گے۔

حاضرین جلسہ اٹھ کر اپنے اپنے مکان سدھارے، مرزا ولی عہد بہادر حرم سرا میں داخل ہوئے مگر خلافِ معمول چُپ چُپ،بیگمیں متحیر کیا ماجرا ہے اگر چہ مزاج کی کیفیت سے واقف ہیں تاہم اتنا بے قرار کبھی نہ دیکھا تھا۔ اب جو یہ حالت دیکھی پریشان ہوگئیں، ایک دوسرے سے دریافت حال کرنے لگیں۔ ادھر مرزا ولی عہد بہادر سر جھکائے ہوئے خاص کمرے میں تشریف لے گئے جہاں پھولوں میں بسی ہوئی مسہری آغوشِ عاشق کی طرح ان کا انتظار کر رہی تھی۔ ہمارا ہیرو اسی طرح لبوں پر مہر سکوت لگائے ہوئے مسہری پر (آرام کرنا کیسا) بے تحاشا گر پڑا۔ اس کے پہلو میں دل مضطر طائر نیم بسمل کی طرح تڑپ رہا تھا، آنکھوں میں تصویر جاناں رقص کر رہی تھی، کچھ دیر پہلے جو دلکش منظر پیش نظر تھا ابھی تک وہی سماں ہے، کبھی بزم خیال میں کوئی زہرہ صفت مشتری خصال بصد ناز و انداز اس کی طرف مخاطب ہے، جس کے ہر اشارے پر صدہا بجلیاں گر کر دل بیتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں، کبھی کسی پری تمثال کے پاؤں کے گھنگرو کی صدا صور اسرافیل پر خندہ زن ہے۔ کیا عجب ہے جو لحد کے بے خبر سونے والے بھی انگڑائیاں لینے لگے ہوں، کبھی ناچ میں پر مِلو کے ٹکڑے دلوں کو پائمال کیے ڈالتے ہیں اور اس نو گرفتار مصیبت کی زبان سے اُف اُف نکل جاتا ہے، اشک حسرت رخساروں سے ڈھل ڈھل کر گل تکیہ پر گر رہے ہیں جس سے تمام تکیہ تر بتر ہے۔ خدمت گزارانِ خاص غمگین صورت بنائے ہوئے خاموش بیٹھے ہیں لیکن مالک کی بے چینی سے خود بھی مبتلائے رنج ہیں، کسی میں دم مارنے کی تاب نہیں لیکن ان عورتوں میں ایک مُسِن عورت جس کا رنگ گندم گوں مائل بسرخی ہے اور رخسار پر ایک سیاہ تل سویدائے دل کی طرح نمایاں ہے۔ بظاہر وضع قطع سے ان عورتوں کی سردار معلوم ہو تی ہے، چہرے سے شرافت و نجابت آشکار ہے۔ قاعدہ بتاتا ہے سرکار ولی عہد بہادر میں سرفراز ہے اور بہت کچھ رسوخ رکھتی ہے۔ اس نے مسہری کے قریب آکر آہستہ آہستہ پاؤں دبانا شروع کیے۔ اس تدبیر سے اس قدر ضرور ہوا کہ مرزا ولی عہد بہادر نے اپنی روتی ہوئی لال لال آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا، چونکہ اس عورت کو مرزا ولی عہد بہادر سے دلی محبت تھی لہذا ان سے فوراً دونوں ہاتھوں سے چٹ چٹ بلائیں لے کر عرض کیا۔

نجم النسا (یہ اس عورت کا نام ہے): جان عالم! میں آپ کے قربان ہوجاؤں کیا بات ہے جو کل سے حضور کو افسردہ خاطر دیکھتی ہوں ،برائے خدا کچھ اس لونڈی سے اشارہ ہو آخر وہ نگوڑی کونسی فکر ہے جس نے رات کی نیندوں کا چین کھو دیا، نہ تو وہ مزاج عالی کی کیفیت ہے نہ کسی بات کی طرف رجحان ہے۔ خدا کی قسم اگر رات کا دن اور دن کی رات ہو جائے جب بھی کنیز حضور کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار نہ ہو مگر مجبور ہوں سرکار کا باعث کلفت نہیں کھلتا۔ للہ اپنی جوانی کے تصدق میں کچھ زبان مبارک سے ارشاد فرمائیے۔

ولی عہد (ٹھنڈی سانس لے کر): آہ اے نجم النسا کیا بتاؤں جو دل کا حال ہے، میری طبیعت سے تم خوب واقف ہو۔ آج ایک قتالہ عالم نے خنجر ابرو سے دل دو نیم کر دیا، قوت صبر جاتی رہی۔ جس طرح ممکن ہو میرے درد کا علاج کرو ورنہ بلائے فراق میرا کام تمام کر دے گی۔

نجم النسا: خدا کے لیے جان عالم ایسی دل خراش باتیں نہ کیجیے جو کنیز کا کلیجہ پھٹ جائے، آخر یہ لونڈی غلام کس روز کے واسطے ہیں۔ حضور پتہ بتائیں، میں خود اس کے مکان پر جا کر کسی نہ کسی طرح راضی کر کے لے آؤں گی۔

ولی عہد ( خوش ہو کر): ہاں ہاں مجھے تم سے ایسی ہی امید ہے، میں جانتا ہوں تم میری خیر خواہ ہو۔

نجم النسا: یہ حضور کی ذرہ نوازی ہے جو کنیزوں کی نسبت ایسا فرماتے ہیں، ہم لوگ اپنی خوش نصیبی پر جس قدر فخر و ناز کریں کم ہے۔ خدواند عالم نے ہمیں ایسا خلیق و عزیز پرور آقا عطا فرمایا جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

ولی عہد: میں باتوں میں تمھیں اس کا پتہ بتانا بھول گیا۔ کل مرزا سکندر حشمت جب محفل میں آئے تو باتوں باتوں میں ایک طوائف وزیرن نامی بی جان کی لڑکی کا ذکر کیا بلکہ بہت تعریف و توصیف کی، از بسکہ میں موسیقی کا شوقین ہوں اس لیے مجھے اس کا اشتیاق ہوا اور ان سے فرمائش کی مجھے بھی اس کا ناچ دکھاؤ۔ لیکن اس روز تو انھوں نے یہ کہہ دیا آج وہ میرے سامنے مجرا کر کے بہت خستہ ہو گئی ہے ان شاء اللہ کل حاضر کروں گا۔ چنانچہ آج وہ اس کو لائے، واقعی میں نے کبھی ایسا حسین و خوش وضع معشوق نہیں دیکھا۔ کمال تو یہ ہے کہ علاوہ حسن صورت کے ناچ میں بے مثل و بے نظیر ہے۔ میں نے جب سے اسے دیکھا ہے گھڑی بھر کے لیے وہ خیال دل سے نہیں جاتا، وہی پیارا پیارا نقشہ آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔

نجم النسا: حضور نے یہ نہیں دریافت فرمایا اس کا مکان کہاں ہے۔

ولی عہد: جرنیل صاحب نے اثنائے گفتگو میں قصائی کے پل پر مکان بتایا تھا۔

نجم النسا: اب حضور متفکر نہ ہوں، لونڈی بہت جلد یہ کام کر دے گی اور اسے کسی نہ کسی تدبیر سے خدمت عالی میں حاضر کرے گی۔

آدھی رات ہو چکی تھی۔ ان باتوں کے بعد مرزا ولی عہد بہادر نے آرام فرمایا۔ نجم النسا اپنے پلنگ پر جاکر لیٹیں لیکن دل ہی دل میں کہتی تھیں مجھے کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو مفید مطلب ہو۔ ولی عہد بہادر کی عاشقانہ طبیعت روز بروز ترقی کرتی جاتی ہے، بندگان عالی ان حرکتوں سے ناراض ہیں، اکثر ممانعت کی ہے یہ مانتے نہیں، ملازموں کی مفت خرابی ہوگی، ادھر ان کی بے چینی بھی باعث تکلیف ہے۔ الغرض اسی طرح کے خیالات دماغ میں گونجا کیے اور بہت دیر تک کروٹیں بدلا کی، آخر برسات کی ٹھنڈ میں دل خوش کن ہوا نے لوریاں دے دے کر اسے بھی سلا دیا۔