نرالا عاشق · مرزا فدا علی خنجر لکھنوی

Chapter 12: باب ١٢

باب ۱۲

کہنا جو تھا وہ کہہ چکے لگ جاؤ اب گلے اچھی نہیں ہے کشتۂ ہجر ان سے چھیڑ چھاڑ

بہار کا موسم، ننھی ننھی بوندوں کا پڑنا عجب دلکش منظر ہے، علی الخصوص ان نوجوان جہاں کے واسطے جو کسی شرمگیں نازنین کے وصل کا مزا اٹھاتے رہے ہوں، بجلی کی چمک سے کسی کمسن کا سہم کر چھاتی سے چمٹ جانا مسیحائی سے کم نہیں، زبان سے کچھ نہ کہا جاتا ہوگا لیکن دل ہی دل میں دعائیں تو ضرور مانگی جاتی ہوں گی کہ کاش بجلی برابر چمک کر دلی آرزوؤں کے نکلنے کا موقع دیتی رہے۔

یہی سماں ہم ناظرین کو دکھانا چاہتے ہیں، اس وقت قصر سلطانی میں تخلیہ کی صحبت رنگیلی طبیعت والے مرزا ولی عہد بہادر مع اپنی معشوقہ طناز کے جلوہ گر ہیں، مصاحبت میں امیر الدولہ بہادر اور اکبر الدولہ بہادر حاضر ہیں، مزے مزے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

ولی عہد (وزیرن سے): اب تو ہمیں دن بھر تم سے جدا رہنا بہت ہی شاق گذرتا ہے، کوئی صورت ایسی ہوتی کہ یہ جدائی دفع ہو جاتی۔ دو تین مہینے ہوگئے تم شب کو چلی آتی ہو اور دن کو چلی جاتی ہو، آخر یہ نامناسب طریقہ کب تک قائم رہے گا۔

وزیرن: میں تمھاری خوشی کرنے کو ہر طرح موجود ہوں لیکن اپنی والدہ سے مجبور ہوں، وہ میرا تمھارے گھر میں رہنا پسند نہیں کرتیں۔

ولی عہد: کیوں آخر کوئی وجہ تو ہونا چاہیے۔

امیر الدولہ: پیر و مرشد! غلام نے جہاں تک دریافت کیا یہی معلوم ہوا بی جان سے کسی کمبخت نے کہہ دیا ہے جب ولی عہد بہادر کسی کو اپنے گھر بٹھا لیتے ہیں تو اس کے اعزا کو اس کے پاس آنے جانے سے قطعاً منع کردیتے ہیں۔

بہاؤ الدولہ: آپ نے بہت صحیح خبر سنی ہے، مجھ سے خود بی جان نے یہی خیالات ظاہر کیے تھے۔

امیر الدولہ: استغفر الله! ہماری سرکار ظالم نہیں جو ماں سے بیٹی کو علاحدہ کرے۔ ایسا خیال کرنا بھی حماقت ہے۔

وزیرن: ہاں اگر انھیں پورے طور سے اطمینان ہوجائے گا میں ان سے علاحدہ نہ کی جاؤں گی تو وہ بخوشی آپ کا کہنا منظور کرلیں گے۔

ولی عہد: میں بسر و چشم ان سے قول و اقرار کرنے کو موجود ہوں، انھیں میری طرف سے ایسے لغو شکوک بے جا ہیں۔

وزیرن: یہی خیالات ایسے تھے جن کی وجہ سے میں نے اور تم نے اتنے دن تڑپ تڑپ کر بسر کیے۔ حقیقت میں تمھاری صفت وثنا میں نہیں کرسکتی، تمھارا جو جی چاہتا وہ سلوک ہمارے ساتھ کرسکتے تھے مگر واہ رے عدل وانصاف اپنے اوپر تکلیف اٹھائی لیکن غریب آزاری سے نفرت ہی رہی۔

امیرالدولہ: سبحان اللہ کیا بات فرمائی ہے۔ واللہ سمجھداری اسی کا نام ہے، اگر اتنی عقل آپ کی والدہ میں ہوتی تو جان عالم کو جفاکشی نہ کرنا پڑتی۔

ولی عہد: سب صاحبوں کی راۓ ہو تو بی جان کو ابھی بلا کر اس معاملے کی بابت گفتگو چھیڑی جائے اور کسی نہ کسی طرح ان کو راضی کیا جائے۔

بہاؤ الدولہ: پیر و مرشد کی رائے بہت صائب ہے، جو کچھ طے پانا ہو ابھی طے پا جائے تو بہتر ہے۔

اکبر الدولہ : پہلے وزیرن جان کا عندیہ دریافت کرنا ضروری ہے۔

امیر الدولہ: آپ بھی عجیب آدمی ہیں، اے حضرت! جان عالم کے فرمانے سے بھلا انھیں انحراف ہو سکتا ہے۔ (وزیرن سے مخاطب ہو کر) آپ ہی فرمائیے، میں صحیح عرض کرتا ہوں یا غلط۔

وزیرن: نہیں نہیں آپ کا خیال بہت صحیح ہے۔ (ولی عہد کی طرف اشارہ کرکے) جو ان کی خوشی میری مرضی ؏

راضی ہیں ہم اسی میں، تیری رضا ہو جس میں

بہاؤ الدولہ: سبحان الله! واہ واہ آپ موزوں طبع بھی ہیں، اچھا مصرع پڑھا، واللہ طبیعت خوش ہو گئی۔

اکبر الدولہ: دل پھڑک گیا۔ واقعی سچ ہے جس دل کو شعر و سخن کا مزا نہیں وہ دل نہیں پتھر کا ٹکڑا ہے، جس میں حس کی قدرت نہیں۔

ولی عہد: خیر یہ سب باتیں تو اپنے اپنے موقع سے ہوتی رہیں گی، پہلے موجودہ مقدمہ مکمل ہونا چاہیے۔

امیر الدولہ: میں ابھی چوبدار کو دوڑاتا ہوں، وہ اپنے ساتھ ہی بی جان کو لے آئے گا اور یہیں حضور کے سامنے سب گفتگو ہوجائے گی۔

بہاؤ الدولہ: ہاں ہاں مناسب وقت یہی ہے۔

اتنی گفتگو کے بعد امیر الدولہ اس صحبت سے اٹھ کر باہر چلے آئے اور ایک چوبدار کو حکم دیا ابھی جاکر اپنے ہمراہ بی جان کو لا کر سرکار ولی عہد بہادر میں حاضر کرے، جس کی فوراً تکمیل کی گئی۔ ایک گھنٹہ بعد بی جان حاضر ہو گئیں، اب جو گفتگو ہوئی وہ ہدیۂ ناظرین ہے۔

بہاؤ الدولہ: دیکھو بی جان تمھیں اسی غرض سے یہاں حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے کہ جان عالم تم سے ایک خواہش رکھتے ہیں جو ابھی ابھی بیان کی جائے گی، لیکن پہلے چند باتوں کا طے پا جانا ضروری ہے، تمھاری لڑکی کو ہماری سرکار میں ملازم ہوئے دو تین ماہ کا عرصہ ہو گیا، اس مدت میں کوئی بات بھی ایسی ہوئی جو تمھاری یا ان کی مرضی کے خلاف ہو؟

بی جان: خدا حضور ولی عہد بہادر کی عمر ایک سو تیس برس کی کرے ، یہاں کس چیز کی کمی ہے ایک سے ایک اچھا کھانا، کپڑے، نفیس زیورات، بیش بہا روپیہ پیسہ، اللہ رکھے سبھی کچھ ہے، میں کیونکر جھوٹ کہہ دوں کہ کوئی تکلیف ہوئی۔

بہاؤ الدولہ: اور جب تمھارا جی چاہا تم بھی اپنی لڑکی کے ہمراہ مجرے کے واسطے حاضر ہوئیں، یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہوئی۔

بی جان: بالکل نہیں۔

بہاؤ الدولہ: اکثر ایسا بھی ہوا کہ بی جان دن کو بھی یہیں رہیں۔

بی جان: ہاں۔

بہاؤ الدولہ: دیکھو تم نے جس قدر باتیں بیان کیں سب تمھارے اگلے خیالات کے برعکس تھیں۔

بی جان: بے شک پہلے لوگوں نے مجھ کو بہکایا لیکن اب تو وہ خیال بالکل نہیں۔

بہاؤ الدولہ: اچھا تو اب سنو جس غرض سے تم یہاں بلائی گئی ہو وہ یہ ہے کہ ہمارے سرکار کو وزیرن جان سے محبت ہوگئی ہے، وہ چاہتے ہیں وزیرن جان یہ ذلیل پیشہ ترک کرکے بیگموں کے رتبہ پر پہنچائی جائیں، اب تمھاری کیا مرضی ہے۔

بی جان (کچھ سکوت کے بعد): حضور خوب جانتے ہیں سوائے اس کے اور کوئی لڑکی بھی میرے نہیں ہے اور اللہ رکھے یہی روٹیوں کا سہارا ہے، جب یہ میرے پاس نہ ہوگی تو کھاؤں گی کیا۔

بہاؤ الدولہ (مسکرا کر): تم کھانے کا کچھ ذکر نہ کرو، اگر تمھارا دل چاہے اپنی لڑکی کے پاس رہو، اگر یہ منظور نہ ہو تو اپنے گھر پر رہو ، سو روپیہ ماہوار مقرر کردیا جائے گا، جب دل چاہے بے تکلف یہاں چلی آیا کرنا اور اپنی لڑکی کو دیکھ جایا کرنا۔

بی جان: میرا تو سہارا ہو گیا لیکن دیگر متعلقین کا کیا حشر ہوگا وہ تو مر ہی جائیں گے۔

بہاؤ الدولہ: سو روپیہ ماہوار ان سب پر بھی تقسیم کردیا جائے گا، لو اب تو خوش ہوئیں یا ابھی کچھ اور خواہش ہے۔

بی جان: خدا سرکار کو زندہ سلامت رکھے، میں تو ہر طرح خوش ہوں، اصل میں تو لڑکی کا خوش ہونا لازم ہے۔

ولی عہد( ہنس کر ): تمھیں اپنی لڑکی سے کیا مطلب، تمھارا سب ٹھیک ہوگیا۔

بی جان: واہ حضور! میرا کیا میں تو بھیک مانگ کر پیٹ پال سکتی ہوں لیکن یہ ایسا تھوڑی کر سکتی ہے۔

بہاؤ الدولہ: تم گھبراؤ نہیں، جان عالم نے مذاق سے کہا ہے، تمھیں معلوم نہیں جس سے وہ محبت کریں گے اسے تکلیف دیں گے۔

بی جان: ہاں ان باتوں پر مجھے منظور ہے۔

کامیابی کا فقرہ سن کے ولی عہد بہادر کے چہرے سے خوشی کے آثار نمایاں ہوئے۔ اسی وقت پانچ ہزار روپیہ وزیرن جان کے سر سے چھوا کر اس کی ماں کے حوالے کیا، دو سو روپیہ ماہوار مع پر وائیوں کے مقرر ہوا۔ بہاؤ الدولہ، اکبر الدولہ، امیر الدولہ، نجم النسا بیگم کو بہت سا زر و مال انعام ہوا۔ بی وزیرن جان کو زیورات، بیش بہا نفیس نفیس کپڑے اور ایک مکان مع ساز و سامان کے مرحمت ہوا۔

ولی عہد بہادر کو ان سے غایت درجہ محبت تھی اور وہ چاہتے تھے محل میں کوئی بیگم وزیرن جان کا مقابلہ نہ کرسکے، لہذا ویسا ہی ہوا۔ مثل مشہور ہے جسے پی چاہیں وہی سہاگن۔

محل میں کسی بیگم کا اتنا عروج نہیں ہوا جس قدر وزیرن کا چاہ پیار کیا گیا۔ یہ محض بیگم ہی کے رتبہ پر نہیں رہیں، اس سے ترقی کرکے محل کے مرتبہ پر پہنچائی گئیں اور نواب نگار محل صاحبہ خطاب پایا۔ ان کا عملہ اپنے تمام ہمعصروں سے بڑھا چڑھا رہا ہے۔ خواجہ سرا، ترک سوار، پیادہ سپاہی، خدمت گار خواصین، باری داریاں، مغلانیاں، محل داریں سیکڑوں ملازم ہوئیں۔ ولی عہد بہادر ہر وقت نازبرداری کو موجود۔ ادھر کسی چیز کی طرف ان کا رجحان ہوا فوراً موجود کردی گئی، جدھر ان کی نظر پڑی ولی عہد بہادر بھی اسی طرف پھر گئے۔ انھوں نے اپنے متوسلین ومتعلقین کی سعی کرکے سرکار ولی عہد بہادر سے رعایتی وظیفے مقرر کرادیے جو گھر بیٹھے تنخواہیں پانے لگے اور عیش و آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ فقط

The end.