باب ۱۱
رحم آیا ان کو میرے حال پر
کچھ دنوں اب تو یہی عالم رہے
جھٹ پٹا وقت ہے، شہر میں تاریکی دور کرنے کی غرض سے چراغ روشن ہوتے جاتے ہیں، جوانان نوخیز بناؤ سنگار میں مصروف ہیں، عشاق حسرت نصیب جنھوں نے دن بھر تڑپ تڑپ کر بسر کی اس وقت آرزوئیں پوری ہونے کے خیال میں پھولے نہیں سماتے، کسی کو محو آرائش دیکھ کر جو آئینہ سے زیادہ حیران ہیں ان آرائشوں کا مزا تو ان بےتاب دلوں سے پوچھیے جو ایک مدت تک شوق وصل میں تڑپا کیے ہیں اور بڑی بڑی تکلیفوں کے بعد کسی سنگدل کو مائل رحم دیکھ کر کس ارمان کے ساتھ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب ان کے دلوں کو بےچین کر دینے والی آرزوئیں حال زار پر ترس کھا کر نکلنے والی ہیں۔ ہائے محبت بھی کیا چیز ہے جو کسی طرح چین ہی نہیں لینے دیتی، کوئی دل و دماغ ایسا نہیں جو اس کے خیال اور سودے سے خالی ہو۔ ہاں فرق اتنا ہے ایک فراق کے درد سے بلک بلک کر رو رہا ہے، دوسرا وصل کی روح افزا مسرتوں سے مثل گل نوخیز کھلا جاتا ہے۔ کوئی تصور میں معشوق سے بہ گریہ و زاری عرض تمنا کرنا چاہتا ہے لیکن شبیہ اغماز سے منہ پھیر لیتی ہے، کوئی اپنی آرام جان کو بغل میں لیےہوئے لطف زندگانی اٹھا رہا ہے، کوئی حیا سے سمٹا جاتا ہے، کسی کادست گستاخ بڑھ بڑھ نہال شباب سے ثمر تمنا چن رہا ہے۔ یہ طریقہ ہستی یا گردش لیل و نہار ہے۔ اب ہم پھر اصل مطلب کی طرف رخ کر تے ہیں، اس وقت بی وزیرن جان کے مکان میں حسب معمول سب سامان درست ہے لیکن خود وزیرن جان پر بلا کا جوبن ہے، روزانہ سنگار سے کہیں زیادہ بناؤ ہوا ہے، مسی سرمہ کنگھی چوٹی سے درست مثل عروس نو بہار ہیں،چمپیٔ پوشاک کچھ اس دلفریبی سے پہنی گئی ہے ممکن ہی نہیں کوئی چنبیلی طبیعت والا دیکھے اور پھڑک نہ جائے؛ ان سب پر طرہ زیورات گراں بہا سے آراستہ ہونا۔ اگرچہ شعرا نے سادگی کو بہت پسند کیا ہے اور کہہ گئے ہیں:
(ذوق دہلوی)
نہیں محتاج زیور کا جسےخوبی خدانے دی
کہ دیکھو خوشنما لگتا ہے کیسا چاند بن گہنے
اسی مضمون کوحضرت امیر مینائی لکھنوی بھی کیا خوب نظم فرما گئے ہیں:
خود جوانی ہے جوانی کا سنگار
سادگی زیور ہے اس سن کے لیے
یا حضرت سیف جہاں پوری ارشد تلامذہ جناب جلال لکھنوی فرماتے ہیں:
یہ نکھ سکھ کی درستی بھی عجب انمول زیور ہے
پہن کر سادہ جوڑا ہائے وہ ان کا سنور جانا
لیکن حسن کے لیے زیور وہی کام دیتا ہے جو تیغ جوہر دار کے لیے صیقل ، کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو اس وقت وزیرن جان کو رشک حوران بہشتی تصور کرتے ہیں۔
ناظرین حیران ہوں گے کہ آج ان کے حسن و آراستگی کی تعریف تو اس قدر لکھی لیکن یہ نہ بتایا کس لیے یہ بناؤ سنگار ہوا ہے، خیر سن لیجیے ہمارے ہیرو کی وہ دلی تمنائیں جو کئی ماہ سے برابر دل کے قیدخانے میں گھٹ رہی ہیں آج نکلنے والی ہیں، بہاؤ الدولہ بہادر نے درمیانی انکار کو اپنی چالاکی سے مٹا دیا اور ایک ماہ کی تنخواہ تین ہزار روپیہ دے کر بی جان کو راضی کر لیا۔ ولی عہد بہادر کے یہاں جانے کی تیاریاں ہیں جو آج اس قدر آرائش کی گئی۔ اب تو ناظرین بخوبی سمجھ گئے، ان کو یہاں چھوڑیے اب مرزا ولی عہد بہادر کی خبر لیجیے، وہاں کیا کیا سامان ہو رہے ہیں، اس وقت ان کے درد عشق اور دم بدم بڑھنے والے شوق وصل کی کیا حالت ہے۔ ہم ان باتوں کا فیصلہ خود ناظرین کی دوراندیشی پر چھوڑتے ہیں کیونکہ ایک بے تاب عاشق کا شوق وصل لکھنے کی قدرت قلم میں نہیں۔ بقول شاعر:
وعدۂ وصل چوں شود نزدیک
آتش شوق تیز تر گردد
آرائش کا ذکر کرنا ہی فضول ہے، حاکم وقت کا نور نظر جو کچھ کرسکتا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں، ہمیں صرف اس رنگیلے طبیعت والے عاشق کا سنگار دکھانا منظور ہے جو ہدیۂ ناظرین ہے۔ اس وقت ہمارا عاشق تن ہیرو تاج مروارید سر پر، قبائے ولی عہدی برمیں پہنے ہو ئے آٹھ لڑیوں کا دست بند جس میں بڑے بڑے گوہر آب دار پروئے ہوئے ہیں، ہاتھوں میں گلے میں بیش بہا موتیوں کے مالے، بازوؤں پر پتے کے نورتن بندھے ہوئے، سرخ اطلس کا پائجامہ جس کی ہرسیون پر موتی ٹانکے گئے ہیں، جامہ مطلا جس پر جابجا موتیوں کے چاند بنے ہوئے ہیں زیب جسم ہے۔ ہاتھ میں تیغ جوہردار، آنکھوں میں سرمہ دنبالہ دار دبا ہوا حسن کو بھڑکا رہا ہے، کپڑوں میں حنا کا عطر ملا ہوا جس کی بھینی بھینی خوشبو دماغ کو معطر و تازہ کر رہی ہے، سچ تو یہ ہے اس کی آنکھوں سے خمار شباب اور ماتھے سے جوانی کا ولولہ نمایاں ہے، پرپیج زلفیں عارض مصفا پر پڑی ہوئی ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے شام صبح سے گلے مل رہی ہے۔
(خنجر لکھنوی)
بکھر کر آگئیں زلفیں جو ان کے روئے روشن پر
شب تاریک کو میں نے ہم آغوش سحر جانا
امیر الدولہ بہادر خدمت میں حاضر ہیں، اور کسی کے آنے کی اجازت نہیں۔ شوق اور خوشی کا یہ حال ہے ایک مقام پر قرار نہیں، فرط انبساط سے ادھر ادھر ٹہل رہے ہیں کبھی گھبرا کے امیر الدولہ سے دریافت کیا جاتا ہے، کیوں امیر الدولہ ابھی تک اس آرام جان کے نہ آنے کا کیا سبب ہے، تم تو بیان کرتے تھے بہاؤ الدولہ کے کہنے سننے سے اس کی ماں راضی ہوگئی۔ ہائے اتنی تاخیر میرے لیے زہر سے کم نہیں۔
امیر الدولہ: حضور! ابھی وقت بھی تو کچھ ایسا نہیں آیا ہے، اب آتے ہی ہوں گے۔ غلام نے ابھی چوبدار طلبی کے واسطے روانہ کیا ہے وہ ان لوگوں کو لے کے آتا ہی ہوگا۔
ولی عہد: تمھیں میرے دل کا حال کیا معلوم، اب تو ایک ایک لمحہ ایک ایک سال معلوم ہوتا ہے۔
امیرالدولہ: بجا ہے پیر و مرشد! حضور نے فراق کی سختیاں اٹھانے کے بعد جو مژدہ وصل سنا ہے اس لیے اشتعال کی کثرت ہے، تھوڑا عرصہ بھی پہاڑ معلوم ہوتا ہے۔
یہاں یہی ذکر تھا کہ چوبدار نے وزیرن جان کی آمد کی نوید روح افزا سنائی جس کے سننے سے مرزا ولی عہد بہادر کی بانچھیں کھل گئیں اور انتظار کی تکلیفوں سے اترے ہوئے چہرے پر خوشی سے سرخی آ گئی، اضطراب دل نے کسی طرح بیٹھنے نہ دیا۔ یہ بے تاب ہو کر اس کی پیشوائی کو دوڑے، راہ میں ملاقات ہوئی، انھوں نے جھپٹ کر وزیرن جان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خلوت کدہ میں تشریف لائے، وہی خلوت کدہ جو آغوش تمنا کھولے ہوئے نہایت حسرت و آرزو سے کسی کا منتظر تھا، رشک پرستان معلوم ہونے لگا۔
اب ہماری مشتاق نظروں کے سامنے عاشق و معشوق میں راز و نیاز، پیار محبت کی باتیں ہونے لگیں، کسی کو شوق وصل بے چین کر رہا ہے، کوئی ڈوپٹے کے گوشے میں منہ چھپائے ہوئے سمٹا سمٹایا ایک طرف سرنگوں بیٹھا ہے، کسی کا دست شوخ گستاخانہ بڑھتا ہے اور کوئی نازک نازک ہاتھ اٹھا کر اس بے ادبی کی سزا اس طرح دیتا ہے کہ عاشق دل و جگر تھام کر رہ جاتا ہے۔ ہائے! وصل بھی عجب خوشنما چیز ہے، صرف ایک رات کے لیے عاشقان ناز بڑی بڑی جاں گسل تکلیفوں کا سامنا کرتے ہیں، اکثر تو یوں ہی نا شاد و نامراد حسرت وصل لیے دنیا سے اٹھ گئے، ہاں جن خوش نصیبوں کو یہ مبارک گھڑی دیکھنا نصیب ہوئی وہ بھی کچھ زیادہ نہیں ہوئے،بلکہ اس حال میں شکوہ فلک سنایا گیا:
(امیر مینائی لکھنوی)
وصل کی شب اور اتنی مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے
پیارے ناظرین! ہم اس شب کا حال زیادہ نہیں لکھ سکتے، بس اتنا کافی ہے جس طرح پر ارمان عاشق فراق کی ناگوار سختیاں اٹھانے کے بعد وصل کا مبارک اور دلچسپ سماں دیکھ کر جس طریقہ سے اپنے معشوق سے ملتا ہے وہی حالت ہمارے ہیرو اور ہیروئن کی تھی، کبھی شکوہ ہجر یا شکایت گردش چرخ ہوتی تھی، کبھی ارمان نکلتے ہوئے دیکھ کر درگاہ مسبب الاسباب میں شکر کیا جاتا تھا، کبھی شمع جمال یار پر مثل پروانہ نثار ہوتے تھے، کبھی سنگدلی اور بے نیازی سے ڈرا کر التجا کی جاتی تھی کہ ہم رحم کے قابل ہیں ظلم سہنے کی طاقت نہیں۔ الغرض تمام رات یوں ہی تمام ہوئی اور چرخ نیلی جس نے کسی کے ساتھ وفا نہیں کی رنگ بدلنے لگا یعنی غازۂ نور سحر ظاہر ہوا اور امیر الدولہ نے پس پردہ آ کر آواز دی۔
امیر الدولہ: قبلۂ عالم بیدار ہو جیے نماز سحر کا وقت آگیا، آسمان پر سپیدۂ سحری نمایاں ہے۔
اس آواز نے جو سلوک ہمارے ہیرو کے ساتھ کیا وہ تو اس کا دل ہی خوب جانتا تھا مگر ہاں جو ہماری نظروں نے دیکھا حوالۂ قلم کرتے ہیں۔ جیسے ہی یہ آواز وصل یار کا لطف اٹھانے والے معزز ولی عہد بہادر نے سنی رنگ رخ متغیر ہو گیا، بے تاب دل کو سنبھال کر آہ سرد بھری اور آنکھوں میں آنسو بھر کر وزیرن جان سے اس طرح سلسلۂ کلام شروع کیا۔
ولی عہد: آہ کہ جلد یہ شب گذر گئی، ابھی افسوس میرے سب ارمان اسی طرح دل میں رہ گئے، دیکھیے اب کب خدا تمھاری صورت دکھاتا ہے۔
وزیرن: نہ رات چھوٹی ہوئی، نہ وقت سے پہلے ہم لوگ جگائے گئے۔ قاعدہ ہے خوشی کی گھڑیاں بہت جلد گذر جاتی ہیں۔
ولی عہد: افسوس تو یہی ہے۔ اتنا بڑا پہاڑ سا دن کیوں کر کاٹے کٹے گا، دیکھو خدا کے لیے آج بہت سویرے چلی آنا۔ تمھیں ذرا بھی تاخیر ہوگی تو میرا کام تمام ہو جائے گا۔
وزیرن: خدا نہ کرے، صبح صبح ایسی بری بری باتیں زبان سے نکالنا اچھا نہیں، مجھے خود گھر میں قرار نہ آئے گا تمھارے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔
اتنی گفتگو کے بعد وزیرن جان سوار ہو کر اپنے عشرت کدہ سدھاریں اور ہمارا بے تاب ہیرو حمام سے فراغت کرکے فریضۂ سحری میں مشغول ہوا۔