نرالا عاشق · مرزا فدا علی خنجر لکھنوی

Chapter 10: باب ١٠

باب ١٠

وصل چاہا جو کسی کا تو غم ہجر ملا

میرے معبود یہ تاثیر دعا کیسی ہے

صبح کا سہانا وقت ہے، آفتاب عالمتاب افق مشرق سے ظاہر ہو کر اپنی نورانی شعاعوں سے کرۂ زمین کو منور کر رہا ہے، علی الخصوص دریا کا سماں قابل دید ہے، سورج کی ہلکی ہلکی کرنیں پانی میں گر گر کر عجب دلکش سین پیدا کر رہی ہیں، چھوٹی چھوٹی لہروں کا بے تابانہ مچل مچل کر آغوش ساحل سے ٹکرانا خالی از کیفیت نہیں۔

دریائے گومتی کے کنارے جو شاہی عمارت چتر منزل کے نام سے مشہور ہے اپنی شاہی شان و شوکت کے علاوہ کمین کو بھی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ اس قصر کی سجاوٹ و آراستگی کا کیا ذکر، جو لوگ آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں آج تک دل ہی دل میں مزے اٹھاتے ہیں۔

اس وقت چتر منزل کے ایک کمرے میں مرزا ولی عہد بہادر لیٹے ہوئے خیال یار سے ہمکلام ہیں، کبھی بے وفائی کا شکوہ ہوتا ہے، کبھی اس بھولی بھولی شرمیلی تصویر کو گلے لگا کر حسرت وصل نکالی جاتی ہے، واقعی کسی عاشق کے دل سے تصور کا مزا پوچھیے۔

نہ پوچھیے کہ تصور میں لطف کیا کیا ہیں

کسی کو اپنے گلے سے لگائے بیٹھے ہیں

کبھی فلک کج رفتار کی گردشوں کا رونا رویا جاتا ہے اور اپنی ناکامی پر کف افسوس ملتے ہوئے بے اختیار زبان سے نکل جاتا ہے:

جہاں میں خوب ملی دادِ خستگی ہم کو

ہزاروں تیر ستم دل پہ کھائے بیٹھے ہیں

کبھی چشم یار کے بوسہ لے لے کر اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہوتے ہیں، کبھی تیر نظر کی مدح سرائی کی جاتی ہے:

کچھ اپنے تیر نظر کی تمھیں خبر بھی ہے

جگر فگار کلیجہ دبائے بیٹھے ہیں

کبھی ہجر اور اپنے دیدۂ بے خواب کا حال آٹھ آٹھ آنسو رلواتا ہے اور یہ مضطرب ہو کر دل جگر سنبھالنےلگتے ہیں، جب دل زیادہ بے تاب ہوتا ہے تو اٹھ کر ٹہلنے لگتے ہیں اور ڈبڈبائی ہوئی آنکھیں ہاتھوں سے مل مل کر کہتے ہیں:

آشنائے درد میٹھی نیند کیونکر سو سکے

تلخی فرقت سے پاس آنے میں گھبراتی ہے نیند

کبھی دل بے تاب کو نصیحت کی جاتی ہے، بہلانے کے واسطے اپنے نفس سے خطاب ہوتا ہے:

کیوں مرے جاتے ہو دو دن کے لیے اے خنجرؔ

رفتہ رفتہ یہ مصیبت بھی گذر جائے گی

کبھی نوجوانی برباد ہونے کا قلق ہوتا ہے اور آسمان کی طرف دیکھ کر حسرت ناک لہجہ میں یہ شعر پڑھ دیتے ہیں:

کچھ نہ پوچھو غم ایام جوانی خنجرؔ

یہ زمانہ بھی مصیبت سے بسر ہوتا ہے

اس دار بے ثبات میں کسی کو قیام نہیں جو کل تھا آج نہیں ہے، آج ہے کل نہ ہوگا، وصل کے بعد ہجر اور رنج کے بعد راحت ہونا لازمی ہے۔ اس حالت میں آہ و زاری کرنا یا تڑپنا تلملانا آپے سے گذر جانا سوائے نادانی کے کیا کہا جا سکتا ہے، دل مضطر کا اضطراب بے کار، آہ بے اثر کا سلسلہ بے سود ان باتوں میں بجز ضرر فائدہ نہیں۔

کب تک آہ بے اثر کا سلسلہ

لیجیے منہ کو کلیجہ آگیا

کبھی دل کا طوطے کی طرح آنکھیں پھرا کر غیر کا طرفدار ہوجانا یاد آ آ کر بے چین کردیتا ہے، لیکن واہ رے محبت دل کسی قدر بے مروت لاپروائی کرے ، انھیں اس کی خوشی کا ویسا ہی خیال ہے جیسا ہمیشہ تھا، اس کے صدمہ فراق میں آنسوؤں کا سلسلہ قطع نہیں ہوتا، سچ ہے:

جس کا بچھڑا ہو کوئی یہ درد اس سے پوچھیے

او دل غم دوست تجھ کو اب کہاں پائیں گے ہم

کبھی اپنے دل کی الجھن کے ساتھ زلف پریشان کا خیال دماغ میں پیدا ہو کر سودائی بنا دیتا ہے اور یہ ٹھنڈی سانس بھر کر حالت جنوں میں کہنے لگتے ہیں:

وہ کیا جانیں کسی کے خاطر ناشاد کی الجھن

جنھیں فرصت نہیں آرائش زلف معنبر سے

ناگاہ حضرت عشق کی نہ کٹنے والی مصیبتوں کا خیال آگیا اور اب ان کے چہرے سے مایوسی کے آثار نمایاں ہوگئے، اگرچہ ان کا شاداب و خوبصورت چہرہ گل کی طرح گردِ ملال و صرصرِ غم سے پژمردہ ہو رہا تھا لیکن اس سوہانِ روح خیال نے غضب ہی کیا یا تو مسہری پر پڑے پڑے تڑپ رہے تھے یا بے قرار ہو کر دل و جگر سنبھالتے ہوئے اٹھ بیٹھے، بڑی بڑی بادامی آنکھوں میں مثل دُرِبے بہا آنسو بھر آئے، طفل اشک مچل مچل کر دامن پر گرنے لگے جن کو پہلے ہی سے دست جنون نے چاک کر رکھا تھا، اب سوکھے ہوئے ہونٹوں کو پھر جنبش ہوئی اور عجب دلخراش لہجہ میں یہ شعر زبان سے نکلا:

عشق کے حال سے ہوتے جو عدم میں واقف

بھول کر بھی نہ کبھی رخ سوئے عالم کرتے

اس شعر نے زخمی دل کے ساتھ تیغ و خنجر کا کام کیا، کئی بار درد آمیز آواز سے پڑھا پھر خود بخود کہنے لگے، میں پہلے آگاہ نہ تھا اب ضرور واقف ہوگیا، واقعی عشق تو بہت اچھی چیز ہے لیکن اس کا ساتھی فراق اور اس کی تکلیفیں حد برداشت سے باہر ہیں۔ یہ تو اچھی طرح معلوم ہوگیا مجھے دنیا ئے ناپائیدار سے وصال یار کی حسرت لے کر جانا پڑے گا، پھر کیا وجہ ہے جو اپنے زبان و دل کو زحمت دوں۔ عمر کی بے وفائی بھی معلوم ہے ایک روز مرنا ضرور ہے، مناسب وقت یہی ہے ہجر یار میں جان شیریں گنوا دوں، نام ہوگا اور آئے دن کے جھگڑے بکھیڑوں سے بھی نجات مل جائے گی، بس بس بہت ہی مناسب تدبیر ہے۔

کوچ کا سامان مہیا کیجیے

موت کا پیغام خنجر آ گیا

بس بس اے تماشائے عالم اسباب! میرے سامنے سے دور ہو، اے ہوس وصل یار! تو بہت پیاری چیز ہے لیکن مجھے معاف کر میں اب تیری خواہش نہیں کر سکتا، اے خیال دل ربا! خدا حافظ، اے میرے رفیق اے غمگسار! آخری سلام آج اختر تیری خدمتوں کا شکر گذار ہو کر ناشاد و نامراد سفر آخرت کرتا ہے، اچھا رخصت وقت بہت کم رہ گیا مجھے اپنے کام میں عجلت ہے۔

اتنا کہہ کر ہمارا نوجوان ہیرو اٹھ کھڑا ہوا اور ایک تپنچہ لے کر منزل کی چھت پر جو لب دریا واقع تھی اور گلزار منزل کے نام سے موسوم تھی چڑھ گیا، چاروں طرف سے دروازے بند کر لیے اور قصد کیا خودکشی کرکے دفتر عشاق میں اپنا نام لکھوالے، ناگاہ داروغہ نجم النسا بیگم تلاش کرتی ہوئی یہاں پہنچ گئیں اور روزنِ در سے جھانک کر بے اختیار اپنا سر دروازے کی چوکھٹ پر دے مارا اور پکار کر کہا اے جان عالم! خدا رسول کے واسطے پہلے میری ایک عرض سن لیجیے، اس لونڈی کو بے موت نہ ماریے، یہ کہہ کر کچھ اس بے قراری سے رونا شروع کیا کہ ہمارے ہیرو نوجوان اپنے درد دل کو بھول گیا اور فوراً آواز دی “کہو کیا کہنا چاہتی ہو”۔

نجم النسا: خدا کا واسطہ تپنچہ اپنے ہاتھ سے پھینک دیجیے، جان دینے کے ارادے سے دست بردار ہو جیے، میں حضور کی مطلوبہ کو آج ہی شام کو لا کر آپ کے پہلو میں نہ بٹھا دوں تو پھر آپ کو اختیار۔

ولی عہد: آہ اے نجم النسا! تم میرے دل کی کیفیت سے واقف نہیں ورنہ اس طرح جھوٹی تسلیاں دے دے کر نہ بہلایا کرتیں۔

نجم النسا: خدا کی قسم جان عالم اگر آج میں اپنا وعدہ پورا کرنے میں قاصر رہوں تو اپنے ہاتھوں سے اپنا سر کاٹ کر حضور کے قدموں پر ڈال دوں گی۔

ولی عہد (کچھ سوچ کر): خیر ایک دن اور تمھاری خوشی سے ضبط کروں گا۔

نجم النسا: ابھی ابھی بہاؤالدولہ گھوڑے پر سوار ہو کر بی جان کے یہاں گئے ہیں، جس طرح ہوگا اسے راضی کر کے شام کو خدمت والا میں حاضر کریں گے۔