باب ١
اگلا مذاق اگلی سے وہ گفتگو کہاں
پہلے تھی جس کی دھوم وہ اب لکھنؤ کہاں
یوں تو کوئی مقام کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں کہیں انقلاب روزگار نے اپنا تصرف نہ کیا ہو، لیکن لکھنؤ زمانے کے زبردست ہاتھوں سے کچھ ایسا تہ وبالا ہوا کہ آج تک سنبھلنا تو سنبھلنا اپنی اجڑی ہوئی حالت قائم رہنا دشوار ہے، وہ گھرانے جو اپنے عہد حکومت میں صرف دو گھڑی دلچسپی کے لیے لاکھوں صَرف کردیتے تھے، آج ایک شمع مزار اور دست دعا کے محتاج تیر و تار کوٹھری (قبر) میں پڑے ہوئے قیامت کا انتظار کر رہے ہیں:
پڑے ہوئے ہیں تہِ خاک خسروانِ جہاں
نہ وہ شکوہ نہ وہ اقتدار باقی ہے
اب نہ وہ رنگ رلیاں منائی جاتی ہیں، نہ انجمن آرائی کا خیال ہے، نہ تعمیر باغ کی فکر نہ صحبت نشاط کی آراستگی کی آرزو؛ خوابِ مرگ سے ایسی محبت ہوگئی ہے کہ آغوشِ لحد میں عروسِ خلوت کو گلے لپٹائے پڑے ہیں، چونکنا یا ہوشیار ہونا کیسا ، کروٹ لینا تک محال ہے۔
یہ سب گردشِ فلکی ہے جو ہمارے پیشِ نگاہ ہے لیکن ان مرنے والوں کے وہ واقعات جو ان کی فراخ دلی اور حوصلہ مندی کے گواہ ہیں اور یوں ہی ہمیشہ درخشاں رکھیں گے ہندوستان میں بچہ بچہ کی زبان پر ہیں، شہر لکھنؤ کے بڑے امام باڑے، عظیم الشان مسجدیں، فلک شکوہ مکانات، نمونہ بہشت باغات وغیرہ ہنوز ان کی پرانی شان و عظمتِ شکوہ و سطوت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہاں وہ عمارتیں جن پر انقلاب کا قبضہ ہو چکا ہے ، اپنی شکستہ حالی سے تصویر عبرت بنی ہوئی ہیں۔
خیر یہ تو دنیا کا دستور ہی ہے جو سلف سے ہوتا آیا ہے اور برابر یوں ہی جاری رہے گا۔ ہم ناظرین کو اس زمانے کی تصویر کھینچ کر دکھانا چاہتے ہیں جب حضرت ثریا جاہ محمد امجد علی شاہ لکھنؤ کے تخت پر جلوہ افروز تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ حضرت محمد علی شاہ رحلت کر چکے ہیں، لکھنؤ شباب پر ہے، ہر فن کے کامل دربار میں جمع ہیں، بچے بوڑھے جوان سب ہی پرلطف زندگی بسر کر رہے ہیں، شہر میں ہن برس رہا ہے، خصوصاً وارث تخت و تاج ہونہار شاہزادہ خورشید حشمت مرزا محمد واجد علی کی بزم آرائی اور شوقینی کا آوازہ کوچہ و بازار میں گونج رہا ہے، دن رات محفل عیش و سرور گرم رہتی ہے، اربابِ نشاط کی چاندی ہے، روپیہ ٹھیکریوں کی طرح بے غل و غِش اڑ رہا ہے۔
ہم جس رات کا احوال قلمبند کرنا چاہتے ہیں وہ برسات کی اندھیری رات ہے، آسمان پر کالی کالی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، ننھی ننھی بوندیاں پڑ رہی ہیں، ٹھنڈی ٹھنڈی دل خوش کن ہوا کے جھونکے چل رہے ہیں جس سے عجیب فرحت ناک کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اس وقت حضور باغ پر بلا کا جوبن پھٹ پڑا ہے۔ چاروں طرف روشنی کا اہتمام ہے، مرغان زمزمہ سنج درختوں پر نغمہ سنجی کر رہے ہیں، طاؤسان زریں قبا پر و بال کھولے باغ میں ادھر ادھر ناچتے پھرتے ہیں، گلزار کی روشوں پر لکہ ابر آب باشی کر رہا ہے، بارہ دری میں محفل عیش و نشاط منعقد ہے۔ مسند پر شاہزادہ والا تبار مرزا ولی عہد بہادر، ان کے گرد مصاحبین حلقہ کیے ہوئے بیٹھے ہیں، چنور بردار بھاری بھاری کار چوبی پوشاکیں پہنے ہوئے چنور مرصع کار ہلا رہے ہیں۔ ناچ گانے کا شغل جاری ہے، ہر شخص اس محفل میں جو چوتھی کی دلہن کی طرح سنواری گئی تھی، جوش انبساط میں عیش عشرت کی داد دے رہا ہے بقول شاعر:
اگر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
ہنوز یہ صحبت اسی طرح جاری تھی کہ ناگاہ چوبدار نے جرنیل صاحب مرزا سکندر حشمت بہادر کی تشریف آوری کی خبر دی جس سے تھوڑی دیر کے لیے بدنظمی پھیل گئی۔ ہر شخص برائے تعظیم و استقبال کھڑا ہو گیا، ولی عہد بہادر تا پائیں فرش پیشوائی کے لیے گئے اور اپنے چھوٹے بھائی جرنیل صاحب کو مسند پر اپنے پہلو میں جگہ دی، حُضّار محفل قاعدے سے بیٹھ گئے، رقص و سرود شروع ہوا۔
جرنیل صاحب: فی الواقع اس طوائف کی تعریف جس قدر سنی تھی صحیح ہے، مگر آج میرے یہاں وزیرن نامی ایک طوائف جو قصائی کے پل پر رہتی ہے آئی تھی، حقیقت میں اس کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔ حسن و خوبی میں یکتا، گانے بجانے میں بے مثل و بے نظیر، علم صحبت سے واقف۔
ولی عہد (بیتابانہ): آہ بھائی تم نے بڑا غضب کیا جو اُسے میرے یہاں نہ لائے۔
جرنیل صاحب: میں اسے ضرور خدمت والا میں حاضر کرتا لیکن اس وقت وہ میرے سامنے ناچ گا کر بہت خستہ ہو گئی ہے، ان شاء الله پھر کسی روز دیکھا جائے گا۔
اس گفتگو کے اختتام پر ولی عہد بہادر کے چہرے سے افسردگی کے آثار نمایاں ہوئے۔ چونکہ ہمارا ہیرو روز اول سے عیش پسند و جلد باز دل اپنے پہلو میں لایا ہے، اسے اتنی تاب کہاں ایک مہ جبیں رقاصہ کی تعریف سن کر صبر و تحمل سے کام لے۔ اس ذکر کے بعد اس کا دل نادان بچے کی طرح مچلنے لگا، یہ جو بزم جو اندر کے اکھاڑے کی حقیقت نہ سمجھتی تھی نظروں میں خار ہو گئی اور وہ بیتاب ہو کر جرنیل صاحب سے کہنے لگا۔
ولی عہد: اگر آج وہ رقاصہ یہاں نہیں آسکتی تو کل تو کوئی عذر مانع نہ ہوگا۔
جرنیل صاحب: ان شاء الله کل ضرور تعمیل ارشاد ہوگی۔
دو پہر رات گذر چکی تھی، جلسہ برخاست ہوا۔ جرنیل صاحب اپنی دولت سرا تشریف لے گئے اور عاشق مزاج مرزا ولی عہد بہادر دل پر چوٹ کھائے ہوئے اپنی آرام گاہ میں آئے۔ اگرچہ تمام عیش و آرام کے اسباب جمع تھے، لیکن جرنیل صاحب کی زبانی کسی بربادکن صبر و شکیب کی تعریف سن کر دل بے چین ہو رہا تھا، کسی طرح نیند نہ آتی تھی اور رات ختم نہ ہوتی تھی، پریشانی سے الجھن اور الجھن کے ساتھ دل کی سوزش زیادہ ہو رہی تھی۔ الغرض تمام شب انتہا کی تکلیف اٹھانے کے بعد نور سحر ظاہر ہوا، انھوں نے مسہری سے اٹھ کر فریضہ سحری ادا کیا اور وظیفہ و تلاوت کلام اللہ میں مصروف ہوئے۔