کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاستونبے بو دیجیے مے خانے کی دیوار کے پاس
مُژدہ، اے ذَوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہےدامِ خالی، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاس
جگرِ تشنۂ آزار، تسلی نہ ہواجُوئے خُوں ہم نے بہائی بُنِ ہر خار کے پاس
مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہَے ہَے!خُوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس
مَیں بھی رُک رُک کے نہ مرتا، جو زباں کے بدلےدشنہ اِک تیز سا ہوتا مِرے غم خوار کے پاس
دَہَنِ شیر میں جا بیٹھیے، لیکن اے دلنہ کھڑے ہو جیے خُوبانِ دل آزار کے پاس
دیکھ کر تجھ کو، چمن بس کہ نُمو کرتا ہےخُود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس
مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی، ہَے ہَے!بیٹھنا اُس کا وہ آ کر تری دِیوار کے پاس