بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر، در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
وفورِ اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگکہ ہو گئے مرے دیوار و در، در و دیوار
نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مَقدمِ یارگئے ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
ہوئی ہے کس قدر ارزانیٔ مئے جلوہکہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
جو ہے تجھے سرِ سودائے انتظار، تو آکہ ہیں دکانِ متاعِ نظر در و دیوار
ہجومِ گریہ کا سامان کب کیا میں نےکہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
وہ آ رہا مرے ہم سایہ میں، تو سائے سےہوئے فدا در و دیوار پر در و دیوار
نظر میں کھٹکے ہے بِن تیرے گھر کی آبادیہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
نہ پوچھ بے خودیٔ عیشِ مَقدمِ سیلابکہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار
نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ، نہیں زمانے میںحریفِ رازِ محبت مگر در و دیوار
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن"جانوں کسی کے دل کی میں کیوں کر کہے بغیر"
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میںلیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہمسر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر
چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجناچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر
مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کامچلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگوبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
بہرا ہوں میں تو چاہیے دُونا ہوں اِلتفاتسنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر
غالبؔ نہ کر حضور میں تُو بار بار عرضظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر
آتش پرست کہتے ہیں اہلَ جہاں مجھےسر گرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر
کیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفارکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سےمرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلقلرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر
وا حسرتا! کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر
بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھلیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر
زُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈالرہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
ان آبلوں سے پاؤں کے، گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر
کیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرےطوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پردیتے ہیں بادہ "ظرفِ قدح خوار" دیکھ کر
سر پھوڑنا وہ! "غالبِؔ شوریدہ حال" کایاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائیسفیدی دیدۂ یعقوب کی پھِرتی ہے زنداں پر
دل خونیں، جگر بے صبر و فیضِ عشق مستغنی!الٰہی یک قیامتِ خاور آ ٹوٹے بدخشاں پر
فنا "تعلیمِ درسِ بے خودی" ہوں اُس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویشِ مرہم سےبہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایساکہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر
مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ، یاد آیاکہ فرقت میں تری، آتش برستی تھی گلِستاں پر
بہ جُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہو گاقیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر
نہ لڑ ناصح سے، غالبؔ، کیا ہوا گر اس نے شدّت کیہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
ہے بس کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور
یا رب ! وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوندہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم، جب اٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
ہر چند سُبُک دست ہوئے بت شکنی میںہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور
ہے خوںِ جگر جوش میں، دل کھول کے روتاہوتے جو کئی دیدۂ خونبانہ فشاں اور
مرتا ہوں اِس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائےجلاّد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ "ہاں اور"
لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور
لیتا، نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چینکرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرُکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھّےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
صفائے حیرت آئینہ ہے سامانِ زنگ آخرتغیر "آبِ برجا ماندہ" کا پاتا ہے رنگ آخر
نہ کی سامانِ عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کیہوا جامِ زُمرّد بھی مجھے داغِ پلنگ آخر
خطِ نوخیز نیلِ چشم زخمِ صافیٔ عارضلیا آئینے نے حرزِ پرِ طوطی بچنگ آخر
ہلال آسا تہی رہ، گر کشادن ہائے دل چاہےہوا مہ کثرتِ سرمایہ اندوزی سے تنگ آخر
تڑپ کر مرگیا وہ صیدِ بال افشاں کہ مضطر تھاہوا ناسورِ چشمِ تعزیت، چشمِ خدنگ، آخر
لکھی یاروں کی بدمستی نے مے خانے کی پامالیہوئی قطرہ فشانی ہائے مے بارانِ سنگ آخر
اسدؔ پیری میں بھی آہنگِ شوقِ یار قائم ہےنہیں ہے نغمے سے خالی، خمیدن ہائے چنگ آخر
فسونِ یک دلی ہے لذّتِ بیداد دشمن پرکہ وجدِ برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
تکلّف خار خارِ التماسِ بے قراری ہےکہ رشتہ باندھتا ہے پیرہن انگشتِ سوزن پر
یہ کیا وحشت ہے! اے دیوانے، پس از مرگ واویلارکھی بے جا بنائے خانۂ زنجیر شیون پر
جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانیگریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
بہ رنگِ کاغذِ آتش زدہ نیرنگِ بے تابیہزار آئینہ دل باندھے ہے بالِ یک تپیدن پر
فلک سے ہم کو عیشِ رَفتہ کا کیا کیا تقاضا ہےمتاعِ بُردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر
ہم اور وہ بے سبب رنج، آشنا دشمن، کہ رکھتا ہےشعاعِ مہر سے تُہمت نگہ کی چشمِ روزن پر
فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کافروغِ طالعِ خاشاک ہے موقوف گلخن پر
اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا، قاتل سے کہتا ہے"تو مشقِ ناز کر، خونِ دو عالم میری گردن پر"
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
مٹ جائےگا سَر، گر ترا پتھر نہ گھِسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ "جاؤں؟"مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گےکیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفؔکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کےکرتا مَلَکُ الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمھیں نفرت سہی، نیّرؔ سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و نا خوشکرنا تھا جواں مرگ، گزارا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔقسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور