دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 52: ضمیمۂ سوم: انتخاب از "دیوانِ غالبؔ کامل، تاریخی ترتیب سے"

نیازِ عشقِ خرمن سوز، اسبابِ ہوس بہترجو ہو جاوے نثارِ برق مشتِ خار و خس بہتر

یاد آیا جو وہ کہنا، کہ نہیں، واہ غلطکی تصور نے بہ صحرائے ہوس راہ غلط

شمشیر صافِ یار، جو زہراب دادہ ہووہ خط سبز ہے کہ بہ رخسارِ سادہ ہو

دیکھتا ہوں اسے، تھی جس کی تمنا مجھ کوآج بیداری میں ہے خوابِ زلیخا مجھ کو

ہنستے ہیں، دیکھ دیکھ کے، سب، ناتواں مجھےیہ رنگِ زرد، ہے چمنِ زعفراں مجھے

بتو! توبہ کرو، تم کیا ہو؟ جب اِدبار آتا ہےتو یوسف سا حسیں بِکنے سرِ بازار آتا ہے

زخمِ دل تم نے دُکھایا ہے کہ جی جانے ہےایسے ہنستے کو رلایا ہے کہ جی جانے ہے

طرز بیدل میں ریختہ کہنااسد اللّٰہ خان قیامت ہے

ملے دو مرشدوں کو قدرتِ حق سے ہیں دو طالبنظام الدینؔ کو خسروؔ، سراج الدینؔ کو غالبؔ

ان دل فریبیوں سے نہ کیوں اس پہ پیار آئے؟روٹھا جو بے گناہ، تو بے عذر من گیا

خوشی جینے کی کیا، مرنے کا غم کیاہماری زندگی کیا اور ہم کیا

مسجد کے زیرِ سایہ اِک گھر بنا لیا ہےیہ بندۂ کمینہ ہمسایۂ خدا ہے

دمِ واپسیں بر سرِ راہ ہےعزیزو، اب اللّٰہ ہی اللّٰہ ہے

گاتی تھیں شمرو کی بیگم، تن نا ہا یا ہُودودھ میں پکّے تھے شلغم، تن نا ہا یا ہُو

تم سلامت رہو قیامت تکدولت و عزّ و جاہ، روز افزوں

دِرَم و دام اپنے پاس کہاںچیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

سات جِلدوں کا پارسل پہنچاواہ کیا خوب بر محل پہنچا

یہ خبط نہیں تو اور کیا ہے

روز اس شہر میں اک حکم نیا ہوتا ہےکچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے

دیکھیے کیا جواب آتا ہے

خدا سے بھی میں چاہوں از رہِ مہر"فروغِ میرزا حاتم علی مہرؔ"

پِیر و مرشد معاف کیجے گامیں نے جمنا کا کچھ نہ لکھا حال

خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد امامیہی ہے مذہبِ حق، والسّلام والاکرام

تھا تو خط پر نہ تھا جواب طلبکوئی اس کا جواب کیا لکھتا

میں بھولا نہیں تجھ کو، اے میری جاںکروں کیا، کہ یاں گِر رہے ہیں مکاں

جویائے حالِ دہلی و الور سلام لو

ولی عہدی میں شاہی ہو مبارکعنایاتِ الٰہی ہو مبارک

معلوم ہوا خیر کہ ٹھینگا باجا

کوئی اس کا جواب دو صاحبسائلوں کا ثواب لو صاحب

خوشنودیٔ احباب کا طالب، غالبؔ

کھانا نہ اِنہیں، کہ یہ پرائے ہیں آم

میں قائلِ خدا و نبی و امام ہوںبندہ خدا کا اور علی کا غلام ہوں

ہاتفِ غیب سن کے یہ چیخاان کی تاریخ میرا تاریخا

تحریر ہے یہ غالبِؔ یزداں پرست کیتاریخ اس کی آج نویں ہے اگست کی

سنین عمر کے ستّر ہوئے شمار برسبہت جیوں تو جیوں اور تین چار برس

آج یک شنبے کا دن ہے آؤ گے؟یا فقط رستا ہمیں بتلاؤ گے

The end.