دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 51: ضمیمۂ سوم: انتخاب از "دیوانِ غالبؔ کامل، تاریخی ترتیب سے" — رباعیات

ہر چند کہ دوستی میں کامل ہوناممکن نہیں یک زبان و یک دل ہونامیں تجھ سے اور مجھ سے تُو پوشیدہہے مفت، نگاہ کا مقابل ہونا

سامانِ ہزار جستجو، یعنی، دل!ساغر کشِ خونِ آرزو، یعنی دلپشت و رخِ آئینہ ہے، دین و دنیامنظور ہے دو جہاں سے تُو، یعنی دل

اے کاش بتاں کا خنجرِ سینہ شگافپہلوئے حیات سے گزر جاتا صافایک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چندرہیے نہ مشقتِ گدائی سے معاف

اے کثرتِ فہمِ بے شمار اندیشہہے اصلِ خرد سے شرم سار اندیشہیک قطرۂ خون، و دعوتِ صد نشتریک وہم و عبادتِ ہزار اندیشہ

بے گریہ کمالِ تر جبینی ہے مجھےدر بزمِ وفا خجل نشینی ہے مجھےمحرومِ صدا رہا بغیر از یک تارابریشمِ ساز، موئے چینی ہے مجھے

گر جوہرِ امتیاز ہوتا ہم میںرسوا کرتے نہ آپ کو عالم میںہیں نام و نگیں، کمیں گہِ نقبِ شعوریہ چور پڑا ہے خانۂ خاتم میں

گلخن، شرر اہتمام بستر ہے آجیعنی تبِ عشق شعلہ پرور ہے آجہوں دردِ ہلاکِ نامہ بر سے بیمارقارورہ مرا خونِ کبوتر ہے آج

دل، سوزِ جنوں سے جلوہ منظر ہے آجنیرنگِ زمانہ، فتنہ پرور ہے آجیک تارِ نفس میں، جوں طنابِ صباغہر پارۂ دل، بہ رنگِ دیگر ہے آج

اصحاب کو جو نا سزا کہتے ہیںسمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیںسمجھا تھا نبیؑ نے ان کو اپنا ہمدمہے، ہے! نہ کہو، کسے برا کہتے ہیں

یارانِ رسول، یعنی اصحابِ کبارہیں گرچہ بہت، خلیفہ ان میں ہیں چاران چار میں ایک سے ہو جس کو انکارغالبؔ، وہ مسلماں نہیں ہے زنہار

یارانِ نبی میں تھی لڑائی کس میں؟الفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں؟وہ صدق، وہ عدل، وہ حیا اور وہ علمبتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں؟

یارانِ نبی سے رکھ تولا، باللّٰہ!ہر یک ہے کمالِ دیں میں یکتا، باللّٰہ!وہ دوست نبی اور تم ان کے دشمنلا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ!