مژدہ! اے رہروانِ راہِ سخنپایہ سنجانِ دست گاہِ سخن
طے کرو راہِ شوق، زودا زودآن پہنچی ہے منزلِ مقصود
پاس ہے اب، سوادِ اعظمِ نثردیکھیے، چل کے، نظمِ عالمِ نثر
سب کو اس کا سوادِ ارزانی!چشمِ بینش ہو جس سے نورانی
یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیاجلوۂ مدعا نظر آیا
ہاں، یہی شاہ راہِ دہلی ہےمطبعِ بادشاہِ دہلی ہے
منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگگل و ریحان و لالہ رنگا رنگ
ہے یہ وہ گلشنِ ہمیشہ بہاربارور جس کا سرو، بے خار
نہیں اس کا جواب، عالم میںنہیں ایسی کتاب، عالم میں
اس سے اندازِ شوکتِ تحریراخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر
مرحبا! طرزِ نغز گفتاریحبذا! رسم و راہِ نثاری
نثر مدحت سرائے ابراہیمہے مقرر جو، اب، پئے تعلیم
اس کے فقروں میں کون آتا ہےکیا کہیں، کیا وہ راگ گاتا ہے
تین نثروں سے کام کیا نکلے؟ان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے؟
ورزشِ قصۂ کہن کب تک؟داستانِ شہِ دکن کب تک؟
تا کجا درسِ نثر ہائے کہن؟تازہ کرتا ہے دل کو، تازہ سخن
تھے ظہوریؔ و عرفیؔ و طالبؔاپنے اپنے زمانے میں غالب
نہ ظہوری ہے اور نہ طالبؔ ہےاسد اللّٰہ خان غالبؔ ہے
قول حافظؔ کا ہے بجا، اے دوست"ہر کرا پنج روز، نوبت اوست"
کل وہ سرگرمِ خود نمائی تھےشمعِ بزمِ سخن سرائی تھے
آج یہ قدر دانِ معنی ہےبادشاہِ جہانِ معنی ہے
نثر اس کی، ہے کارنامہ رازنظم اس کی، نگار نامہ راز
دیکھو اس دفترِ معانی کوسیکھو آئینِ نکتہ دانی کو
اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گاسینہ گنجینہ گہر ہو گا
ہو سخن کی جسے طلب گاریکرے اس نسخے کی خریداری
آج جو دیدہ ور کرے درخواستتین بھیجے رُپے، وہ بے کم و کاست
منطبع جب کہ ہو چکے گی کتابزرِ قیمت کا اور ہو گا حساب
چار سے، پھر نہ ہو گی کم قیمتاس سے لیویں گے، کم، نہ ہم، قیمت
جس کو منظور ہو کہ زر بھیجےاحسن اللّٰہ خاں کے گھر بھیجے
وہ بہارِ ریاض و مہر و وفاجس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما
میں جو ہوں درپے حصولِ شرفنام عاصی کا ہے غلام نجف
ہے یہ، القصہ، حاصلِ تحریرکہ نہ ارسالِ زر میں ہو تاخیر
چشمہ انطباع جاری ہےابتدائے ورق شماری ہے
مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قلپجے ہے جوگ مایا اور دیبی
نشاں باقی نہیں ہے سلطنت کامگر، ہاں، نام کو اورنگ زیبی
جب کہ سید غلام بابا نےمسندِ عیش پر جگہ پائی
ایسی رونق ہوئی برات کی راتکہ کواکب ہوئے تماشائی
ہزار شکر کہ سید غلام بابا نےفرازِ مسندِ عیش و طرب جگہ پائی
زمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی راتکہ آسماں پہ کواکب بنے تماشائی
سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشمِ واصل خاںحکیم حاذق و دانا ہے، وہ لطیف کلام
تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہےکسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام
اسے فضائلِ علم و ہنر کی افزائشہوئی ہے مبدعِ عالم سے، اس قدر انعام
کہ بحثِ علم میں، اطفال ابجدی اس کےہزار بار فلاطوں دے چکے الزام
عجیب نسخہ نادر، لکھا ہے، ایک اس نےکہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
نہیں کتاب، ہے اک منبعِ نکاتِ بدیعنہیں کتاب، ہے اک معدنِ جواہر کام
کل اس کتاب کے سالِ تمام میں، جو مجھےکمالِ فکر میں دیکھا، خرد نے، بے آرام
کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے؟"لکھا ہے نسخہ تحفہ" یہی ہے سالِ تمام
مقامِ شکر ہے، اے ساکنانِ خطہ خاکرہا ہے زور سے، ابر ستارہ بار، برس
کہاں ہے ساقی مہوش، کہاں ہے ابرِ مُطیر"بیار" لا مئے گلنار گوں، "ببار" برس
خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانیدرِ حضور پر، اے ابر، بار بار برس
ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک، وہ کہے"امیر کلب علی خاں جئیں ہزار برس"
فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیںکئی ہزار برس، بلکہ بے شمار برس
جنابِ قبلہ حاجات، اس بلا کش نےبڑے عذاب سے کاٹے ہیں، پانچ چار برس
شفا ہو آپ کو، غالبؔ کو بندِ غم سے نجاتخدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس
در پر امیرِ کلب علی خاں کے ہوں مقیمشائستۂ گدائیٔ ہر در نہیں ہوں میں
بوڑھا ہوا ہوں، قابلِ خدمت نہیں، اسدؔخیرات خوارِ محض ہوں، نوکر نہیں ہوں میں
ہندوستان کی بھی عجب سرزمین ہےجس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور
جیسا کہ آفتاب نکلتا ہے شرق سےاخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور
ہے اصل تخمِ ہند سے اور اس زمین سےپھیلا ہے سب جہاں میں، یہ میوہ دور دور
ہند میں اہلِ تسنّن کی ہیں دو سلطنتیںحیدرآباد دکن، رشکِ گلستانِ ارم
رام پور، اہلِ نظر کی ہے نظر میں وہ شہرکہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم
حیدر آباد بہت دور ہے، اس ملک کے لوگاُس طرف کو نہیں جاتے ہیں، جو جاتے ہیں تو کم
رام پور آج ہے وہ بقعۂ معمور کہ ہےمرجع و مجمع، اشرافِ نژادِ آدم
رام پور اک بڑا باغ ہے، از روئے مثالدل کش و تازہ و شاداب و وسیع و خرم
جس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیںہے اسی طور پہ یاں، دجلہ فشاں دستِ کرم
ابرِ دست کرم کلب علی خاں سے مدامدُرِّ شہوار ہیں، جو گرتے ہیں قطرے پیہم
صبح دم باغ میں آ جائے، جسے نہ ہو یقیںسبزہ و برگِ گل و لالہ پہ دیکھے شبنم
حبذا! باغِ ہمایوں تقدس آثارکہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالانِ حرم
مسلکِ شرع کے ہیں، راہرو و راہ شناسخضر بھی یاں اگر آ جائے، تو لے ان کے قدم
مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخناس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق، رقم
حق سے کیا مانگیے؟ ان کے لیے جب ہو موجودملک و گنجینہ و خیل و سپہ و کُوس و علم
ہم نہ تبلیغ کے مائل، نہ غلو کے قائلدو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم
یا خدا! غالبِؔ عاصی کے خداوند کو دےوہ وہ چیزیں کہ طلب گار ہے جن کا، عالم
اولاً، عمرِ طبیعی بہ دوامِ اقبالثانیاً، دولتِ دیدارِ شہنشاہِ امم