آفت آہنگ ہے کچھ نالۂ بلبل ورنہپھول ہنس ہنس کے گلستاں میں فنا ہو جاتا
کاش نا قدر نہ ہوتا ترا اندازِ خراممیں غبارِ سرِ دامانِ فنا ہو جاتا
یک شبہ فرصتِ ہستی ہے اک آئینۂ غمرنگِ گل کاش! گلستاں کی ہَوا ہو جاتا
مستقل مرکزِ غم پہ ہی نہیں تھے ورنہہم کو اندازۂ آئینِ فنا ہو جاتا
دستِ قدرت ہے مرا خشت بہ دیوارِ فناگر فنا بھی نہ میں ہوتا تو فنا ہو جاتا
حیرت اندوزیٔ اربابِ حقیقت مت پوچھجلوہ اک روز تو آئینہ نما ہو جاتا
بدتر از ویرانہ ہے فصلِ خزاں میں صحنِ باغخانۂ بلبل بغیر از خندۂ گل بے چراغ
پتّا پتّا اب چمن کا انقلاب آلودہ ہےنغمۂ مرغِ چمن زا ہے صدائے بوم و زاغ
ہاں بغیر از خوابِ مرگ آسودگی ممکن نہیںرختِ ہستی باندھ تا حاصل ہو دنیائے فراغ
شورِ طوفانِ بلا ہے خندۂ بے اختیارکیا ہے گل کی بے زبانی کیا ہے یہ لالے کا داغ
چشمِ پُر نم رہ، زمانہ منقلِب ہے اے اسدؔاب یہی ہے بس مے شادی سے پُر ہونا ایاغ
خزینہ دارِ محبت ہوئی ہوائے چمنبنائے خندۂ عشرت ہے بر بِنائے چمن
بہ ہرزہ سنجیٔ گلچیں نہ کھا فریبِ نظرترے خیال کی وسعت میں ہے فضائے چمن
یہ نغمۂ سنجیٔ بلبل متاعِ زحمت ہےکہ گوشِ گل کو نہ راس آئے گی صدائے چمن
صدائے خندۂ گل تا قفس پہنچتی ہےنسیمِ صبح سے سنتا ہوں ماجرائے چمن
گل ایک کاسۂ دریوزۂ مسرّت ہےکہ عندلیبِ نواسنج ہے گدائے چمن
حریفِ نالۂ پرورد ہے، تو ہو، پھر بھیہے اک تبسّمِ پنہاں ترا بہائے چمن
بہار راہ رو جادۂ فنا ہے اسدؔگلِ شگفتہ ہیں گویا کہ نقشِ پائے چمن
کرم ہی کچھ سببِ لطف و التفات نہیںانھیں ہنساکے رلانا بھی کوئی بات نہیں
کہاں سے لاکے دکھائے گی عمرِ کم مایہسیہ نصیب کو وہ دن کہ جس میں رات نہیں
زبان حمد کی خوگر ہوئی تو کیا حاصلکہ تیری ذات میں شامل تری صفات نہیں
خوشی، خوشی کو نہ کہہ، غم کو غم نہ جان اسدؔقرار داخلِ اجزائے کائنات نہیں
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیںاُور اس کے سواکچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیں
اک سرحدِ معدوم میں ہستی ہے ہماریسازِ دل بشکستہ کی بے کار صدا ہیں
جس رخ پہ ہوں ہم، سجدہ اسی رخ پہ ہے واجبگو قبلہ نہیں ہیں مگر اک قبلہ نما ہیں
مت ہوجیو اے سیلِ فنا ان سے مقابلجانبازِ الم نقش بہ دامانِ بقا ہیں
پایٔ ہے جگہ ناصیۂ بادِ صبا پرخاکستر پروانۂ جانبازِ فنا ہیں
ہر حال میں ہیں مرضیٔ صیّاد کے تابعہم طائرِ پر سوختہ رشتہ بہ پا ہیں
اے وہم طرازانِ مجازی و حقیقیعشّاق فریبِ حق و باطل سے جدا ہیں
ہم بے خودیٔ شوق میں کرلیتے ہیں سجدےیہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصیہ سا ہیں
اب منتظرِ شوقِ قیامت نہیں غالبؔدنیا کے ہر ذرّے میں سو حشر بپا ہیں
نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروںیہ بھی اے چرخِ ستم گار! کروں یا نہ کروں
مجھ کو یہ وہم کہ انکار نہ ہو جائے کہیںان کو یہ فکر کہ اقرار کروں یا نہ کروں
لطف جب ہو کہ کروں غیر کو بھی میں بدنامکہیے کیا حکم ہے سرکار! کروں یا نہ کروں
وضعِ نیرنگیٔ آفاق نے مارا ہم کوہو گئے سب ستم و جَور گوارا ہم کو
دشتِ وحشت میں نہ پایا کسی صورت سے سراغگردِ جولانِ جنوں تک نے پکارا ہم کو
عجز ہی اصل میں تھا حاملِ صد رنگِ عروجذوقِ پستیٔ مصیبت نے ابھارا ہم کو
ضعف مشغول ہے بے کار بہ سعیٔ بیجاکر چکا جوشِ جنوں اب تو اشارہ ہم کو
صورِ محشر کی صدا میں ہے افسونِ امّیدخواہشِ زیست ہوئی آج دوبارا ہم کو
تختۂ گور سفینے کے مماثل ہے اسدؔبحرِ غم کا نظر آتا ہے کنارا ہم کو
حسنِ بے پروا گرفتارِ خود آرائی نہ ہوگر کمیں گاہِ نظر میں دل تماشائی نہ ہو
ہیچ ہے تاثیرِ عالم گیرئی ناز و اداذوقِ عاشق گر اسیرِ دامِ گیرائی نہ ہو
خود گدازِ شمع آغازِ فروغِ شمع ہےسوزشِ غم درپئے ذوقِ شکیبائی نہ ہو
تار تارِ پیرہن ہے اک رگِ جانِ جنوںعقلِ غیرت پیشہ حیرت سے تماشائی نہ ہو
بزمِ کثرت عالمِ وحدت ہے بینا کے لیےبے نیازِ عشق اسیرِ زورِ تنہائی نہ ہو
ہے محبت رہزنِ ناموسِ انساں اے اسدؔقامتِ عاشق پہ کیوں ملبوسِ رسوائی نہ ہو
نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھ
مجھے بھی تاکہ تمنّا سے ہو نہ مایوسیملو رقیب سے لیکن ذرا حجاب کے ساتھ
نہ ہو بہ ہرزہ روادارِ سعیٔ بے ہودہکہ دورِ عیش ہے مانا خیال و خواب کے ساتھ
بہ ہر نمط غمِ دل باعثِ مسرّت ہےنموئے حیرتِ دل ہے ترے شباب کے ساتھ
لگاؤ اس کا ہے باعث قیامِ مستی کاہَوا کو لاگ بھی ہے کچھ مگر حباب کے ساتھ
ہزار حیف کہ اتنا نہیں کوئی غالبؔکہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ
بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھےاِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے
یہ کیا تشبیہِ بے ہودہ ہے، کیوں موذی سے نسبت دیںہُما عارض کو اور کاکل کو ہم ظلِّ ہما سمجھے
غلط ہی ہو گئی تشبیہ، یہ تو ایک طائر ہےاسے برگِ سمن اور اُس کو سنبل کی جٹا سمجھے
نباتاتِ زمیں سے کیا ان کو نسبت؟ معاذ اللّٰہاسے برق اور اُسے ہم کالی ساون کی گھٹا سمجھے
گھٹا اور برق سے کیوں کر گھٹا کر ان کو نسبت دیںاسے ظلمات، اُسے ہم چشمۂ آبِ بقا سمجھے
جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سےیدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے
جو اس تشبیہ سے بھی داغ اُن دونوں کو آتا ہواسے وقتِ نمازِ صبح اور اُس کو عشاء سمجھے
جو یہ نسبت پسندِ خاطرِ والا نہ ہو تو پھراسے قندیلِ کعبہ، اُس کو کعبے کی ردا سمجھے
اسدؔ ان ساری تشبیہوں کو رد کرکے یہ کہتا ہےسویدا اِس کو سمجھے اُس کو ہم نورِ خدا سمجھے
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائیپئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائی
وقارِ ماتمِ شب زندہ دارِ ہجر رکھنا تھاسپیدی صبحِ غم کی دوش پر رکھ کر کفن لائی
شہیدِ شیوۂ منصور ہے اندازِ رسوائیمصیبت پیشگیٔ مدّعا دار و رسن لائی
وفا دامن کشِ پیرایہ و ہستی ہے اے غالبؔکہ پھر نزہت گہِ غربت سے تا حدِّ وطن لائی
وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہےازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے
جوابِ جنّتِ بزمِ نشاطِ جاناں ہےمری نگاہ جو خونبار ہوتی آئی ہے
نموئے جوشِ جنوں وحشیو! مبارک بادبہار ہدیۂ انظار ہوتی آئی ہے
دل و دماغِ وفا پیشگاں کی خیر نہیںجگر سے آہِ شرر بار ہوتی آئی ہے
یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گےدل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے
وجہِ مایوسیٔ عاشق ہے تغافل ان کانہ کبھی قتل کریں گے، نہ پشیماں ہوں گے
دل سلامت ہے تو صدموں کی کمی کیا ہم کوبے شک ان سے تو بہت جان کے خواہاں ہوں گے
منتشر ہو کے بھی دل جمع رکھیں گے یعنیہم بھی اب پیروئے گیسوئے پریشاں ہوں گے
گردشِ بخت نے مایوس کیا ہے لیکناب بھی ہر گوشۂ دل میں کئی ارماں ہوں گے
ہے ابھی خوں سے فقط گرمیٔ ہنگامۂ اشکپر یہ حالت ہے تو نالے شرر افشاں ہوں گے
باندھ کر عہدِ وفا اتنا تنفّر، ہے ہےتجھ سے بے مہر کم اے عمرِ گریزاں! ہوں گے
اس قدر بھی دلِ سوزاں کو نہ جان افسردہابھی کچھ داغ تو اے شمع! فروزاں ہوں گے
عہد میں تیرے کہاں گرمیٔ ہنگامۂ عیشگل میری قسمت واژونہ پہ خنداں ہوں گے
خوگرِ عیش نہیں ہیں ترے برگشتہ نصیباُن کو دشوار ہیں وہ کام جو آساں ہوں گے
موت پھر زیست نہ ہو جائے یہ ڈر ہے غالبؔوہ مری نعش پہ انگشت بہ دنداں ہوں گے
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہےتسلّی جانِ بلبل کے لیے خندیدنِ گل ہے
نمودِ عالَمِ اسباب کیا ہے؟ لفظِ بے معنیکہ ہستی کی طرح مجھ کو عدم میں بھی تامّل ہے
نہ رکھ پابندِ استغنا کو قیدی رسمِ عالم کاترا دستِ دعا بھی رخنہ اندازِ توکّل ہے
نہ چھوڑا قید میں بھی وحشیوں کو یادِ گلشن نےیہ چاکِ پیرہن گویا جوابِ خندۂ گل ہے
ابھی دیوانگی کا راز کہہ سکتے ہیں ناصح سےابھی کچھ وقت ہے غالبؔ ابھی فصلِ گل و مُل ہے
خود جان دے کے روح کو آزاد کیجیےتاکے خیالِ خاطرِ جلّاد کیجیے
بھولے ہوئے جو غم ہیں انھیں یاد کیجیےتب جاکے ان سے شکوۂ بے داد کیجیے
حالاں کہ اب زباں میں نہیں طاقتِ فغاںپر دل یہ چاہتا ہے کہ فریاد کیجیے
بس ہے دلوں کے واسطے اک جنبشِ نگاہاجڑے ہوئے گھروں کو پھر آباد کیجیے
کچھ دردمند منتظرِ انقلاب ہیںجو شاد ہو چکے انھیں ناشاد کیجیے
شاید کہ یاس باعثِ افشائے راز ہولطف و کرم بھی شاملِ بے داد کیجیے
بیگانۂ رسومِ جہاں ہے مذاقِ عشقطرزِ جدیدِ ظلم کچھ ایجاد کیجیے
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہےہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے
کثرت آرائی خیالِ ما سوا کی وہم تھیمرگ پر غافل گمانِ زندگی کرتے رہے
داغ ہائے دل چراغِ خانۂ تاریک تھےتا مغاکِ قبر پیدا روشنی کرتے رہے
شورِ نیرنگِ بہارِ گلشنِ ہستی، نہ پوچھہم خوشی اکثر رہینِ ناخوشی کرتے رہے
رخصت اے تمکینِ آزارِ فراقِ ہمرہاںہو سکا جب تک غمِ واماندگی کرتے رہے
درد ہو دل میں تو دوا کیجےدل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ہم کو فریاد کرنی آتی ہےآپ سنتے نہیں تو کیا کیجے
ان بتوں کو خدا سے کیا مطلبتوبہ توبہ خدا خدا کیجے
رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہو گیپہلے دل درد آشنا کیجے
عرضِ شوخی نشاطِ عالم ہےحسن کو اور خود نما کیجے
دشمنی ہو چکی بہ قدرِ وفااب حقِ دوستی ادا کیجے
موت آتی نہیں کہیں غالبؔکب تک افسوس زیست کا کیجے
سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہےکمینِ درد میں پوشیدہ رازِ شادمانی ہے
عیاں ہیں حال و قالِ شیخ سے اندازِ دلچسپیمگر رندِ قَدَح کش کا ابھی دورِ جوانی ہے
ثباتِ چند روزہ کار فرمائے غم و حسرتاجل سرمایہ دارِ دورِ عیش و کامرانی ہے
گدازِ داغِ دلِ شمعِ بساطِ خانہ ویرانیتپش گاہِ محبت میں فروغ جاودانی ہے
وفورِ خود نمائی رہنِ ذوقِ جلوہ آرائیبہ وہم کامرانی جذبِ دل کی شادمانی ہے
دلِ حرماں لقب کی داد دے اے چرخِ بے پروابہ غارت دادۂ رخت و متاعِ کامرانی ہے
کس کی برقِ شوخیٔ رفتار کا دلدادہ ہےذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے
ہے غرورِ سرکشی صورت نمائے عجز بھیمنقلب ہو کر بسانِ نقشِ پا افتادہ ہے
خانہ ویراں سازیٔ عشقِ جفا پیشہ نہ پوچھنامرادوں کا خطِ تقدیر تک بھی سادہ ہے
خود نشاط و سرخوشی ہے آمدِ فصلِ بہارآج ہر سیلِ رواں عالم میں موجِ بادہ ہے
زندگانی رہروِ راہِ فنا ہے اے اسدؔہر نفس ہستی سے تا ملکِ عدم اک جادہ ہے
اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سےکیا طرفہ تمنّا ہے امیدِ کرم تجھ سے
امّیدِ نوازش میں کیوں جیتے تھے ہم آخرسہتے ہی نہیں کوئی جب درد و الم تجھ سے
وارفتگیٔ دل ہے یا دستِ تصرّف ہےہیں اپنے تخیّل میں دن رات بہم تجھ سے
یہ جور و جفا سہنا پھر ترکِ وفا کرنااے ہرزہ پژوہی بس عاجز ہوئے ہم تجھ سے
غالبؔ کی وفا کیشی اور تیری ستم رانیمشہورِ زمانہ ہے اب کیا کہیں ہم تجھ سے