شب زُلف و رُخِ عَرَق فِشاں کا غم تھاکیا شرح کروں کہ طُرفہ تَر عالَم تھارویا میں ہزار آنکھ سے صُبح تلکہر قطرۂ اشک دیدۂ پُرنَم تھا
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویااُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویاپَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیںغالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔدل رُک رُک کر بند ہو گیا ہے غالبؔواللّٰہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیںسونا سَوگند ہو گیا ہے غالبؔ
آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفالہے سوزِ جگر کا بھی اسی طور کا حالتھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئیلڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال!
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفالایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حالآ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدماے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال
مشکل ہے ز بس کلام میرا اے دلسُن سُن کے اسے سخنورانِ کاملآساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائشگویم مشکل و گر نگویم مشکل
ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہمآثارِ جلالی و جمالی باہمہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہمہے اب کے شبِ قدر و دِوالی باہم
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیںعُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیںجو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گاکیوں کر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں!
سامانِ خور و خواب کہاں سے لاؤں؟آرام کے اسباب کہاں سے لاؤں؟روزہ مِرا اِیمان ہے غالبؔ! لیکنخَس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں؟
دل تھا، کہ جو جانِ دردِ تمہید سہیبے تابیٔ رشک و حسرتِ دید سہیہم اور فُسُردن اے تجلی افسوستکرار روا نہیں تو تجدید سہی
ہے خَلقِ حسد قماش لڑنے کے لیےوحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیےیعنی ہر بار صُورتِ کاغذِ بادملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے
بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جَمِ جاہ نے دالہے لُطف و عنایاتِ شہنشاہِ پہ دالیہ شاہ پسند دال بے بحث و جِدالہے دولت و دین و دانش و داد کی دال
حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرےتا شاہ شیوعِ دانش و داد کرےیہ جو دی گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھہے صِفر کہ افزائشِ اعداد کرے
اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوااِتنے ہی برس شُمار ہوں، بلکہ سِواہر سیکڑے کو ایک گرہ فرض کریںایسی گرہیں ہزار ہوں، بلکہ سِوا
ہم گرچہ بنے سلام کرنے والےکرتے ہیں دِرنگ، کام کرنے والےکہتے ہیں کہیں خدا سے، اللّٰہ اللّٰہ!وُہ آپ ہیں صُبح و شام کرنے والے!
اِن سیم کے بِیجوں کو کوئی کیا جانےبھیجے ہیں جو اَرمُغاں شہِ والا نےگِن کر دیویں گے ہم دُعائیں سَو بارفیروزے کی تسبیح کے، ہیں یہ دانے
رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نےثاقب! حرکت یہ کی ہے بے جا تم نےحاجی کلّو کو دے کے بے وجہ جوابغالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے
اے روشنیٔ دیدہ شہاب الدیں خاںکٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رَمَضاںہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تکسُنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں
اے منشیٔ خیرہ سر! سخن ساز نہ ہوعصفور ہے تو، مقابلِ باز نہ ہوآواز تیری نکلی اور آواز کے ساتھلاٹھی وہ لگی کہ جس میں آواز نہ ہو
جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہریکہتے ہیں مجھے وہ رافضی و دہریدہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفی؟شیعی کیوں کر ہو ماوراء النہری