دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 25: قطعات

اے شہنشاہِ فلک منظرِ بے مثل و نظیراے جہان دارِ کرم شیوۂ بے شبہ و عدیل

پاؤں سے تیرے مَلے فرقِ ارادتِ اَورنگفرق سے تیرے کرے کسبِ سعادتِ اِکلیل

تیرا اندازِ سُخَن شانۂ زُلفِ اِلہامتیری رفتارِ قلم جُنبشِ بالِ جبریل

تجھ سے عِالم پہ کُھلا رابطۂ قُربِ کلیمتُجھ سے دنیا میں بِچھا مائدۂ بَذلِ خلیل

بہ سُخَن اَوجِ دہِ مرتبۂ معنی و لفظبہ کرم داغِ نِہِ ناصیۂ قُلزُم و نِیل

تا، ترے وقت میں ہو عَیش و طرب کی توفیرتا، ترے عہد میں ہو رنج و اَلَم کی تقلیل

ماہ نے چھوڑ دیا ثَور سے جانا باہرزُہرہ نے ترک کیا حُوت سے کرنا تحویل

تیری دانش، مری اصلاحِ مَفاسدؔ کی رَہینتیری بخشش، مِرے اِنجاحِ مقاصد کی کفیل

تیرا اقبالِ تَرَحُّم مِرے جینے کی نَوِیدتیرا اندازِ تَغافُل مِرے مرنے کی دلیل

بختِ ناساز نے چاہا کہ نہ دے مُجھ کو اماںچرخِ کج باز نے چاہا کہ کرے مُجھ کو ذلیل

پیچھے ڈالی ہے سرِ رشتۂ اوقات میں گانٹھپہلے ٹھونکی ہے بُنِ ناخُنِ تدبیر میں کیل

تَپِشِ دل نہیں بے رابطۂ خَوفِ عظیمکششِ دم نہیں بے ضابطۂ جَرِّ ثقیل

دُرِ معنی سے مِرا صفحہ، لقا کی ڈاڑھیغَمِ گیتی سے مِرا سینہ اَمَر کی زنبیل

فکر میری گُہر اندوزِ اشاراتِ کثیرکِلک میری رقَم آموزِ عباراتِ قلیل

میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدُّق توضیحمیرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل

نیک ہوتی مِری حالت تو نہ دیتا تکلیفجمع ہوتی مِری خاطر تو نہ کرتا تعجیل

قبلۂ کون و مکاں، خستہ نوازی میں یہ دیر؟کعبۂ امن و اماں، عُقدہ کُشائی میں یہ ڈھیل؟

گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفاداریکیا کرتے تھے تم تقریر، ہم خاموش رہتے تھے

بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی، جانے دو، مل جاؤقَسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں "کیوں ہم نہ کہتے تھے"

کلکتے کا جو ذکر کیا تُو نے ہم نشیں!اِک تِیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

وہ سبزہ زار ہائے مُطرّا کہ، ہے غضب!وُہ نازنیں بُتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے!

صبر آزما وہ اُن کی نگاہیں کہ حف نظر!طاقت رُبا وہ اُن کا اشارا کہ ہائے ہائے!

وہ میوہ ہائے تازۂ شیریں کہ، واہ واہوہ بادہ ہائے نابِ گوارا کہ ہائے ہائے!

ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلیزیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھّا کہیے

خامہ انگشت بہ دنداں، کہ اسے کیا لکھیےناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

مُہرِ مکتوبِ عزیزانِ گرامی لکھیےحرزِ بازوئے شگرفانِ خود آرا کہیے

مِسی آلود سر انگشتِ حسیناں لکھیےداغِ طرفِ جگرِ عاشقِ شیدا کہیے

خاتمِ دستِ سلیماں کے مشابہ لکھیےسرِ پستانِ پری زاد سے مانا کہیے

اخترِ سوختۂ قیس سے نسبت دیجےخالِ مشکینِ رُخِ دل کشِ لیلیٰ کہیے

حجر الاسودِ دیوارِ حرم کیجے فرضنافہ، آہوئے بیابانِ خُتن کا کہیے

وضع میں اس کو اگر سمجھیے قافِ تریاقرنگ میں سبزۂ نوخیزِ مسیحا کہیے

صَومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مُہرِ نمازمے کدے میں اسے خشتِ خُمِ صہبا کہیے

کیوں اسے قُفلِ درِ گنجِ محبّت لکھیےکیوں اسے نقطۂ پَرکارِ تمنّا کہیے

کیوں اسے گوہرِ نایاب تصوّر کیجےکیوں اسے مردُمکِ دیدۂ عَنقا کہیے

کیوں اسے تکمۂ پیراہنِ لیلیٰ لکھیےکیوں اسے نقشِ پئے ناقۂ سلمیٰ کہیے

بندہ پرور کے کفِ دست کو دل کیجے فرضاور اِس چِکنی سُپاری کو سُویدا کہیے

نہ پُوچھ اِس کی حقیقت، حُضُورِ والا نےمجھے جو بھیجی ہے بیسن کی رَوغَنی روٹی

نہ کھاتے گیہوں، نکلتے نہ خُلد سے باہرجو کھاتے حضرتِ آدم یہ بیسَنی روٹی

ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلورکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مُشک بُو کی ناند

جو آئے، جام بھر کے پیے اور ہو کے مستسبزے کو رَوندتا پھرے، پُھولوں کو جائے پھاند

غالبؔ یہ کیا بیاں ہے، بجُز مدحِ پادشاہبھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشتِ خواند

بَٹتے ہیں سونے رُوپے کے چھلے حُضُور میںہے جن کے آگے سیم و زر و مہر و ماہ ماند

یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئےلاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند

افطارِ صوم کی جسے کچھ دستگاہ ہواُس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے

جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہوروزہ اگر نہ کھائے تو نا چار کیا کرے

اٹھا اک دن بگولا سا جو کچھ، مَیں جوشِ وحشت میںپھرا آسیمہ سر، گھبرا گیا تھا جی بیاباں سے

نظر آیا مجھے اک طائرِ مجروح پَر بستہٹپکتا تھا سرِ شوریدہ دیوارِ گلستاں سے

کہا میں نے کہ "او گمنام! آخر ماجرا کیا ہےپڑا ہے کام تجھ کو کس ستم گر آفتِ جاں سے"

ہنسا کچھ کھلکھلا کر پہلے، پھر مجھ کو جو پہچاناتو یہ رویا کہ جوئے خوں بہی پلکوں کے داماں سے

کہا، "میں صید ہوں اُس کا کہ جس کے دامِ گیسو میںپھنسا کرتے ہیں طائر روز آ کر باغِ رضواں سے

اسی کی زلف و رُخ کا دھیان ہے شام و سحر مجھ کونہ مطلب کُفر سے ہے اور نہ ہے کچھ کام ایماں سے"

بہ چشمِ غور جو دیکھا، مِرا ہی طائرِ دل تھاکہ جل کر ہو گیا یوں خاک میری آہِ سوزاں سے

خوشی تو ہے آنے کی برسات کےپئیں بادۂ ناب اور آم کھائیں

سر آغازِ موسم میں اندھے ہیں ہمکہ دِلّی کو چھوڑیں، لوہارو کو جائیں

سِوا اناج کے جو ہے مطلوبِ جاںنہ واں آم پائیں، نہ انگور پائیں

ہوا حکم باورچیوں کو، کہ ہاںابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں

وہ کھٹّے کہاں پائیں اِملی کے پھولوہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں

فقط گوشت، سو بھیڑ کا ریشہ دارکہو اس کو کیا کھا کے ہم حِظ اُٹھائیں؟

خُجستہ انجمن طُوئے میرزا جعفرکہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ

ہوئی ہے ایسے ہی فرخُندہ سال میں غالبؔنہ کیوں ہو مادّۂ سالِ عیسوی "محظوظ"

ہوئی جب میرزا جعفر کی شادیہوا بزمِ طرب میں رقصِ ناہید

کہا غالبؔ سے: "تاریخ اس کی کیا ہے؟"تو بولا: "اِنشراحِ جشنِ جمشید"

اِس کتابِ طرب نصاب نے جبآب و تاب انطباع کی پائی

فکرِ تاریخِ سال میں، مجھ کوایک صورت نئی نظر آئی

ہندسے پہلے سات سات کے دودیے ناگاہ مجھ کو دکھلائی

اور پھر ہندسہ تھا بارہ کابا ہزاراں ہزار زیبائی

سالِ ہجری تو ہو گیا معلومبے شمولِ عبارت آرائی

مگر اب ذوقِ بذلہ سنجی کوہے جداگانہ کار فرمائی

سات اور سات ہوتے ہیں چودہبہ اُمیدِ سعادت افزائی

غرض اِس سے ہیں چار دہ معصُومجس سے ہے چشمِ جاں کو زیبائی

اور بارہ امام ہیں بارہجس سے ایماں کو ہے توانائی

اُن کو غالبؔ یہ سال اچھا ہےجو ائِمّہ کے ہیں تولاّئی

سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لےجہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے

ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھےکہ جو شریک ہو میرا، شریکِ غالبؔ ہے

سہل تھا مُسہل ولے یہ سخت مُشکل آ پڑیمجھ پہ کیا گُزرے گی، اتنے روز حاضر بِن ہوئے

تین دن مسہل سے پہلے، تین دن مسہل کے بعدتین مُسہل، تین تَبریدیں، یہ سب کَے دِن ہوئے؟

گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیںدربار دار لوگ بہم آشنا نہیں

کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلاماس سے مُراد یہ ہے کہ ہم آشنا نہیں

ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفسیوں کہا آتی نہیں اب کیوں صدائے عندلیب؟

بال و پر دو چار دکھلا کر کہا صیّاد نےیہ نشانی رہ گئی ہے اب بجائے عندلیب

اے جہاں آفریں خدائے کریمضائعِ ہفت چرخ، ہفت اقلیم

نام میکلوڈ جن کا ہے مشہوریہ ہمیشہ بہ صد نشاط و سرور

عمر و دولت سے شادمان رہیںاور غالبؔ پہ مہربان رہیں

گوڑ گانویں کی ہے جتنی رعیّت، وہ یک قلمعاشق ہے اپنے حاکمِ عادل کے نام کی

سو یہ نظر فروز قلم دان نذر ہےمسٹر کووان صاحبِ عالی مقام کی