خوش ہو اے بخت کہ ہے آج تِرے سر سہراباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
کیا ہی اِس چاند سے مُکھڑے پہ بھلا لگتا ہے!ہے تِرے حُسنِ دل افروز کا زیور سہرا
سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرفِ کُلاہمجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے تِرا لمبر سہرا
ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتیورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتیتب بنا ہو گا اِس انداز کا گز بھر سِہرا
رُخ پہ دُولہا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکاہے رگِ ابرِ گُہر بار سَراسَر سِہرا
یہ بھی اِک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائےرہ گیا آن کے دامن کے برابر سِہرا
جی میں اِترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اِک چیزچاہیے پُھولوں کا بھی ایک مُقرّر سہرا
جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارےگوندھے پُھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سِہرا
رُخ روشن کی دَمک، گوہرِ غلتاں کی چمککیوں نہ دکھلائے فرُوغِ مہ و اختر سہرا
تار ریشم کا نہیں، ہے یہ رَگِ ابرِ بہارلائے گا تابِ گراں باریٔ گوہر سِہرا!
ہم سُخن فہم ہیں، غالبؔ کے طرف دار نہیںدیکھیں، اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کر سہرا!
ہم نشیں تارے ہیں اور چاند شہاب الدیں خاںبزمِ شادی ہے فلک، کاہکشاں ہے سہرا
ان کو لڑیاں نہ کہو، بحر کی موجیں سمجھوہے تو کشتی میں، ولے بحرِ رواں ہے سہرا
چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہراچاند کا دائرہ لے، زہرہ نے گایا سہرا
رشک سے لڑتی ہیں آپس میں اُلجھ کر لڑیاںباندھنے کے لیے جب سر پہ اُٹھایا سہرا
جسے کہتے ہیں خوشی، ا س نے بلائیں لے کرکبھی چوما، کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا
صاف آتی ہیں نظر آبِ گہر کی لہریںجنبشِ بادِ سحر نے جو ہلایا سہرا
منظُور ہے گُزارشِ احوالِ واقعیاپنا بیانِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے
سَو پُشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گریکچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
آزادہ رَو ہوں اور مِرا مسلک ہے صلحِ کُلہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوںمانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
اُستادِ شہ سے ہو مجھے پَرخاش کا خیال؟یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
جامِ جہاں نُما ہے شہنشاہ کا ضمیرسَوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
میں کون اور ریختہ، ہاں اِس سے مدعاجُز انبساطِ خاطرِ حضرت نہیں مجھے
سِہرا لکھا گیا ز رہِ امتثالِ اَمردیکھا کہ چارہ غیرِ اطاعت نہیں مجھے
مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گُسترانہ باتمقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے
رُوئے سُخن کسی کی طرف ہو تو رُو سیاہسودا نہیں، جُنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے
قسمت بُری سہی پَہ طبیعت بُری نہیںہے شُکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ، خدا گواہکہتا ہوں سچ کہ جُھوٹ کی عادت نہیں مجھے