دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 23: متفرقات

گھستے گھستے پاؤں کی زنجیر آدھی رہ گئیمر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئیسب ہی پڑھتا کاش، کیوں تکبیر آدھی رہ گئی"کھنچ کے، قاتل! جب تری شمشیر آدھی رہ گئیغم سے جانِ عاشقِ دل گیر آدھی رہ گئی"

بیٹھ رہتا لے کے چشمِ پُر نم اس کے رو بروکیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو بروبات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو"کہہ سکے ساری حقیقت کب ہم اس کے رو بروہم نشیں! آدھی ہوئی تقریر، آدھی رہ گئی"

تو نے دیکھا! مجھ پہ کیسی بن گئی، اے راز دار!خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیارمثلِ زخم آنکھوں کو سی دیتا، جو ہوتا ہوشیار"کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویرِ یارجاگ اٹھا جو، کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی"

غم نے جب گھیرا، تو چاہا ہم نے یوں، اے دل نواز!مستیٔ چشمِ سیہ سے چل کے ہوویں چارہ سازتُو صدائے پا سے جاگا تھا، جو محوِ خوابِ ناز"دیکھتے ہی اے ستم گر! تیری چشمِ نیم بازکی تھی پوری ہم نے جو تدبیر، آدھی رہ گئی"

اس بتِ مغرور کو کیا ہو کسی پر التفاتجس کے حسنِ روز افزوں کی یہ اک ادنیٰ ہے باتماہِ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات"اس رُخِ روشن کے آگے ماہِ یک ہفتہ کی راتتابشِ خورشیدِ پُر تنویر آدھی رہ گئی"

تا مجھے پہنچائے کاہش، بختِ بد ہے گھات میںہاں فراوانی! اگر کچھ ہے، تو ہے آفات میںجُز غمِ داغ و الم، گھاٹا ہے ہر اک بات میں"کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میںآتے ہی خاصیّتِ اکسیر آدھی رہ گئی"

سب سے یہ گوشہ کنارے ہے، گلے لگ جا مِرےآدمی کو کیا پکارے ہے، گلے لگ جا مِرےسر سے گر چادر اتارے ہے، گلے لگ جا مِرے"مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے، گلے لگ جا مِرےوصل کی شب، اے بتِ بے پیر آدھی رہ گئی"

میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھِر گئےپھر نصیب اپنا، انھیں جاتے سنا، جوں پھِر گئےدیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھِر گئے"آ کے آدھی دور، میرے گھر سے وہ کیوں پھِر گئےکیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی"

ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو، یا رب! کب کی باتکچھ نہیں کہتا کسی سے، سن رہا ہوں سب کی باتکس لیے تجھ سے چھپاؤں، ہاں! وہ پرسوں شب کی بات"نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی باتخط میں آدھی ہو سکی، تحریر آدھی رہ گئی"

ہو تجلّی برق کی صورت میں، ہے یہ بھی غضبپانچ چھ گھنٹے تو ہوتی فرصتِ عیش و طربشام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب"پاس میرے وہ جو آئے بھی، تو بعد از نصف شبنکلی آدھی حسرت، اے تقدیر! آدھی رہ گئی"

تم جو فرماتے ہو، دیکھ اے غالبِؔ آشفتہ سرہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے، گیا کیوں اُس کے گھر؟جان کی پاؤں اماں، باتیں یہ سب سچ ہیں مگر"دل نے کی ساری خرابی، لے گیا مجھ کو ظفرؔواں کے جانے میں مِری توقیر آدھی رہ گئی"

ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہواے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہواے زمزمۂ قُم! لبِ عیسیٰ پہ فغاں ہواے ماتمیانِ شہِ مظلوم! کہاں ہوبگڑی ہے بہت بات، بنائے نہیں بنتیاب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی

تابِ سخن و طاقتِ غوغا نہیں ہم کوماتم میں شہِ دیں کے ہیں، سودا نہیں ہم کوگھر پھونکنے میں اپنے، مُحابا نہیں ہم کوگر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کویہ خرگۂ نُہ پایا جو مدّت سے بَپا ہےکیا خیمۂ شبّیر سے رتبے میں سِوا ہے؟

کچھ اور ہی عالم نظر آتا ہے جہاں کاکچھ اور ہی نقشہ ہے دل و چشم و زباں کاکیسا فلک! اور مہرِ جہاں تاب کہاں کا!ہو گا دلِ بے تاب کسی سوختہ جاں کااب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہےگِرتا نہیں اس روُ سے کہو برق نہیں ہے

سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اُس کوتو پھر کہیں کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو

نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستائش ہےکہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو

خدا کی راہ میں ہے شاہی و خسروی کیسی؟کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو

خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں کااگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟

فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ علیکہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس کو

کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں پڑتیاگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس کو

مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں بخشیستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو

وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل، سبیلشہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس کو

عدو کی سمعِ رضا میں جگہ نہ پائے وہ باتکہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس کو

بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین بلندبہ قدرِ فہم ہے گر کیمیا کہیں اُس کو

نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ خاککہ لوگ جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس کو

ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ ملےاگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو

ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حسنِ صبر کی دادمگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس کو

زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیںپس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس کو

وہ ریگِ لقمۂ وادی میں خامہ فرسا ہےکہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس کو

امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عنادپیادہ لے چلیں اور ناسزا کہیں اُس کو

یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیںعلی سے آگے لڑے اور خطا کہیں اُس کو

یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہبُرا نہ مانیے گر ہم بُرا کہیں اُس کو

علی کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسینکرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟

نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہےرکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس کو؟

بھرا ہے غالبِؔ دل خستہ کے کلام میں دردغلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس کو

جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیںکپڑوں میں جوئیں، بخیے کے ٹانکوں سے سوا ہیں

ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدمجہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں فریاد