صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیےطاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
دل ہی نہیں کہ منتِ درباں اُٹھائیےکس کو وفا کا سلسلہ جنباں اُٹھائیے؟
تا چند داغ بیٹھیے، نقصاں اُٹھائیے؟اب چار سوئے عشق سے دُکاں اُٹھائیے
ہستی، فریب نامۂ موجِ سراب ہےیک عمر نازِ شوخیٔ عنواں اُٹھائیے
ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشقیعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے
دیوار بارِ منّتِ مزدور سے ہے خماے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
یا میرے زخمِ رشک کو رسوا نہ کیجیےیا پردۂ تبسّمِ پنہاں اٹھائیے
ضبطِ جنوں سے، ہر سرِ مو ہے ترانہ خیزیک نالہ بیٹھیے تو، نیستاں اُٹھائیے
نذرِ خراشِ نالہ، سرشکِ نمک اثرلطفِ کرم، بدولتِ مہماں اُٹھائیے
انگور، سعیٔ بے سرو پائی سے سبز ہےغالبؔ، بہ دوشِ دل خُمِ مستاں اُٹھائیے
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیےصاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں کچھ نہ کچھ تلافیٔ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّریتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کواک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جداہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودیرو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرِّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریائے بے تابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیٔ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہےکہیں ہو جائے جلد اے گردشِ گردونِ دوں، وہ بھی!
نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کو آنے کاکہ میری خواب بندی کے لیے ہو گا فسوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
ہے دورِ قدح وجہ پریشانیٔ صہبایک بار لگا دو خمِ مے میرے لبوں سے
رندانِ درِ مے کدہ گستاخ ہیں زاہدزنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
بیدادِ وفا دیکھ، کہ جاتی رہی آخرہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
کیا پوچھے ہے بر خود غلطی ہائے عزیزاں؟خواری کو بھی اک عار ہے، عالی نسبوں سے
گو تم کو رضا جوئیٔ اغیار ہے، لیکنجاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے؟
مت پوچھ، اسدؔ، غصۂ کم فرصتیٔ زیستدو دن بھی جو کاٹے، تو قیامت تعبوں سے
تا، ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جاسن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کووہ سن کے بلا لیں، یہ اجارا نہیں کرتے
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب!قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہےولے مشکل ہے حکمت، دل میں سوزِ غم چھپانے کی
انھیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی
ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
لکدکوبِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی
کہوں کیا خوبیٔ اوضاعِ ابنائے زماں غالبؔبدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل، جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دےمیں بھی جلے ہؤوں میں ہوں داغِ نا تمامی
کرتے ہو شکوہ کس کا؟ تم اور بے وفائیسر پیٹتے ہیں اپنا، ہم اور نیک نامی
صد رنگ گل کترنا، در پردہ قتل کرناتیغِ ادا نہیں ہے پابندِ بے نیامی
طرفِ سخن نہیں ہے مجھ سے، خدا نہ کردہہے نامہ بر کو اُس سے دعوائے ہم کلامی
طاقت فسانۂ باد، اندیشہ شعلہ ایجاداے غم، ہنوز آتش، اے دل ہنوز خامی!
ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکنہے شرحِ شوق کو بھی، جوں شکوہ، نا تمامی
ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغتدریا سے خشک گزری مستوں کی تشنہ کامی
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
ہے کائنات کو حَرَکت تیرے ذوق سےپرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے
حالاں کہ ہے یہ سیلیٔ خارا سے لالہ رنگغافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
کی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
کیا خوب! تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیابس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میںفرماں روائے کشورِ ہندوستان ہے
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیاکس سے کہوں کہ ”داغ“ جگر کا نشان ہے
ہے بارے اعتمادِ وفاداری اس قدرغالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نا مہربان ہے
دلّی کے رہنے والو اسدؔ کو ستاؤ متبے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیالدشمنی اپنی تھی، میری دوست داری ہائے ہائے
عمر بھر کا تو نے پیمانِ وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہائے ہائے
زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگییعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے
گل فشانی ہائے نازِ جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
شرمِ رسوائی سے جا چھپنا نقابِ خاک میںختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
خاک میں ناموسِ پیمانِ محبّت مل گئیاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری ہائے ہائے
ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہادل پہ اک لگنے نہ پایا زخمِ کاری ہائے ہائے
کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تارِ برشکالہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے
گوش مہجورِ پیام و چشم محرومِ جمالایک دل تِس پر یہ نا امّیدواری ہائے ہائے
عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگرہ گیا، تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواری ہائے ہائے
گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔمیری دلّی ہی میں ہونی تھی یہ خواری ہائے ہائے
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبراب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلکہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے
ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفاہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے
پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
کیا غم ہے اُس کو، جس کا علی سا امام ہواتنا بھی اے فلک زدہ، کیوں بے حواس ہے
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔمجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہدل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدارحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے
ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنیاے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے
مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جاننافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھادریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔعالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے، اسدؔدل وقفِ درد رکھ کہ فقیروں کا مال ہے
نظر بہ نقصِ گدایاں، کمالِ بے ادبی ہےکہ خارِ خشک کو بھی دعویٔ چمن نسبی ہے
ہوا وصال سے شوقِ دلِ حریص زیادہلبِ قدح پہ، کفِ بادہ، جوشِ تشنہ لبی ہے
خوشا! وہ دل کہ سراپا طلسمِ بے خبری ہوجنونِ یاس و الم، رزقِ مدعا طلبی ہے
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
دلا یہ درد و الم بھی تو مُغتَنَم ہے کہ آخرنہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
چمن میں کس کی، یہ برہم ہوئی ہے، بزمِ تماشا؟کہ برگ برگِ سمن، شیشہ ریزۂ حلبی ہے
امامِ ظاہر و باطن، امیرِ صورت و معنیعلی، ولی، اسد اللّٰہ، جانشینِ نبیؐ ہے
بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہےناخنِ انگشت بتخالِ لبِ بیمار ہے
زلف سے شب درمیاں دادن نہیں ممکن دریغورنہ صد محشر بہ رہنِ صافیٔ رخسار ہے
در خیال آبادِ سودائے سرِ مژگانِ دوستصد رگِ جاں جادہ آسا وقفِ نشتر زار ہے
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو بھی مٹ گیاظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوںہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صداہر کوئی در ماندگی میں نالے سے نا چار ہے
ہے وہی بد مستیٔ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
مجھ سے مت کہہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگیزندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تاتجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرتِ دیدار ہے
جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوںہم نہیں جلتے، نفس ہر چند آتش بار ہے
ہے وہی بد مستی ہر ذرّہ کا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوئے زیر و زبرگردِ صحرائے حرم تا کوچۂ زنّار ہے
اے سرِ شوریدہ، ذوقِ عشق و پاسِ آبرو!جوشِ سودا کب حریفِ منتِ دستار ہے
وصل میں دل انتظارِ طرفہ رکھتا ہے مگرفتنہ، تاراجِ تمنا کے لیے درکار ہے
خانماں ہا پائمالِ شوخیٔ دعویٰ اسدؔسایۂ دیوار سے سیلابِ در و دیوار ہے
اے سرِ شوریدہ نازِ عشق و پاسِ آبرویک طرف سودا و یک سو منتِ دستار ہے
پِینَس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرےکندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
یہ بزمِ مے پرستی، حسرتِ تکلیف بے جا ہےکہ جامِ بادہ کف بر لب بہ تقریبِ تقاضا ہے
مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہےجسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا، فصلِ گل کہتے ہیں کس کو، کوئی موسم ہووہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفائے دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدماثر فریادِ دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
نہ لائی شوخیٔ اندیشہ تابِ رنجِ نومیدیکفِ افسوس مَلنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے
نشاطِ دیدۂ بینا ہے، کُو خواب؟ و چہ بیداری؟بہم آوردہ مژگاں، روئے بر روئے تماشا ہے
نہ سووے آبلوں میں گر، سرشکِ دیدۂ نم سےبہ جولاں گاہِ نومیدی، نگاہِ عاجزاں پا ہے
وفائے دلبراں ہے اتفاقی، ورنہ، اے ہمدماثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
نگہ معمارِ حسرت ہا، چہ آبادی؟ چہ ویرانی؟کہ مژگاں جس طرف وا ہو، بہ کف دامانِ صحرا ہے
بہ سختی ہائے قیدِ زندگی، معلوم آزادیشرر بھی صیدِ دامِ رشتۂ رگ ہائے خارا ہے
اسدؔ، پاسِ تمنا سے نہ رکھ امیدِ آزادیگدازِ ہر تمنا آبیارِ صد تمنا ہے
نشۂ مے، بے چمن، دودِ چراغِ کشتہ ہےجام، داغِ شعلہ اندودِ چراغِ کشتہ ہے
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہےنبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیںورنہ یاں بے رونقی سودِ چراغِ کشتہ ہے
داغِ ربطِ ہم ہیں اہلِ باغ، گر گُل ہو شہیدلالہ، چشمِ حسرت آلودِ چراغِ کشتہ ہے
شور ہے کس بزم کی عرضِ جراحت خانہ کا؟صبح، یک زخمِ نمک سودِ چراغِ کشتہ ہے
نامرادِ جلوہ، ہر عالم میں حسرت گُل کرےلالہ، داغِ شعلہ فرسودِ چراغِ کشتہ ہے
ہو جہاں، تیرا دماغِ ناز، مستِ بے خودیخوابِ نازِ گل رخاں، دودِ چراغِ کشتہ ہے
ہے دلِ افسردہ، داغِ شوخیٔ مطلب، اسدؔشعلہ، آخر فالِ مقصودِ چراغِ کشتہ ہے
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہےسُرمہ تُو کہوے کہ دودِ شعلۂ آواز ہے
پیکرِ عشّاق سازِ طالعِ ناساز ہےنالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے
دست گاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنایک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے
ہے صریرِ خامہ، ریزش ہائے استقبالِ نازنامہ خود پیغام کو بال و پرِ پرواز ہے
سر نوشتِ اضطراب انجامیٔ الفت نہ پوچھنالِ خامہ، خار خارِ خاطرِ آغاز ہے
شرم ہے طرزِ تلاشِ انتخابِ یک نگاہاضطرابِ چشمِ برپا دوختہ غمّاز ہے
نغمہ ہے کانوں میں اس کے، نالۂ مرغِ اسیررشتۂ پا، یاں نوا سامانِ بندِ ساز ہے
نقشِ سطرِ صد تبسم ہے بر آب زیرِ گاہحسن کا خط پر نہاں خندیدنی انداز ہے
شوخیٔ اظہار غیر از وحشتِ مجنوں نہیںلیلیٰٔ معنی، اسدؔ، محمل نشینِ راز ہے
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت، تِری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلّق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہوآگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
عمر ہر چند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیںنہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
کچھ تو دے اے فلکِ نا انصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
ہے آرمیدگی میں نِکوہِش بجا مجھےصبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
ڈھونڈے ہے اس مغنّیٔ آتش نفس کو جیجس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے
مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیٔ خیالتا باز گشت سے نہ رہے مدّعا مجھے
کرتا ہے بس کہ باغ میں تو بے حجابیاںآنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
ہے پیچ تابِ رشتۂ شمعِ سحر گہیخجلت گدازیٔ نفسِ نا رسا مجھے
واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوزیاں شعلۂ چراغ ہے، برگِ حنا مجھے
پرواز ہا نیازِ تماشائے حسنِ دوستبالِ کشادہ ہے، نگہِ آشنا مجھے
از خود گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہےموجِ غبارِ سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے
تا چند پست فطرتیٔ طبعِ آرزو؟یا رب ملے بلندیٔ دستِ دعا مجھے
یاں آب و دانہ، موسمِ گل میں، حرام ہےزنارِ واگسستہ ہے، موجِ صبا مجھے
یک بار امتحانِ ہوس بھی ضرور ہےاے جوشِ عشق، بادۂ مرد آزما مجھے
میں نے جنوں سے کی جو، اسدؔ، التماسِ رنگخونِ جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھےمگر ایک شعر میں اندازِ رسا رکھتے تھے
اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملاآپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
اُس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
دل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیامیں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے
رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مےمدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے
بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضرحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیمتو نے وہ گنجِ ہائے گراں مایہ کیا کیے
کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو؟کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے؟
صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خُودینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
ضد کی ہے اور بات مگر خُو بری نہیںبھُولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے
غالبؔ تمھیں کہو کہ ملے گا جواب کیامانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
رفتارِ عمر قطعِ رہِ اضطراب ہےاس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
مینائے مے ہے سروِ نشاطِ بہار سےبالِ تَدَرو جلوۂ موجِ شراب ہے
زخمی ہوا ہے پاشنہ پائے ثبات کانے بھاگنے کی گوں، نہ اقامت کی تاب ہے
جادادِ بادہ نوشیٔ رنداں ہے شش جہتغافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
نظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کاجوشِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے
میں نا مراد دل کی تسلّی کو کیا کروںمانا کہ تیری رخ سے نگہ کامیاب ہے
گزرا اسدؔ مسرّتِ پیغامِ یار سےقاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے
مینائے مے ہے سروِ نشاطِ بہارِ مےبالِ تَدَرو جلوۂ موجِ شراب ہے
مینائے مے ہے سروِ نشاطِ بہار سےبالِ تَدَرو جلوۂ موجِ شراب ہے
عروجِ نشہ ہے سر تا قدم قدِّ چمن رویاںبجائے خود وگرنہ سرو بھی مینائے خالی ہے
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےمیں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہےآبگینہ تندیٔ صہبا سے پگھلا جائے ہے
غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرےگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیےدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہنغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشقپر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاںمثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے
ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیارنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیںکھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔپاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھےتب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے
نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوملے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے
کثرت آرائیٔ وحدت ہے پرستاریٔ وہمکر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے
ہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہاعجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارانشہ بخشا غضب اس ساغرِ خالی نے مجھے
بس کہ تھی فصلِ خزانِ چمنستانِ سخنرنگِ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
جلوۂ خور سے، فنا ہوتی ہے شبنم، غالبؔکھو دیا سطوتِ اسمائے جلالی نے مجھے
کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہےبرقِ خرمنِ راحت، خونِ گرمِ دہقاں ہے
غنچہ تا شگفتن ہا برگِ عافیت معلومباوجودِ دل جمعی خوابِ گل پریشاں ہے
ہم سے رنجِ بے تابی کس طرح اٹھایا جائےداغ پشتِ دستِ عجز، شعلہ خس بہ دنداں ہے
حیرتِ تپیدن ہا، خوں بہائے دیدن ہارنگِ گل کے پردے میں آئینہ پَر افشاں ہے
عشق کے تغافل سے، ہرزہ گرد ہے عالمروئے شش جہت آفاق، پشتِ چشمِ زنداں ہے
وحشتِ انجمن ہے گل، دیکھ لالے کا عالممثلِ دودِ مجمر کے، داغ بال افشاں ہے
اے کرم نہ ہو غافل، ورنہ ہے اسدؔ بیدلبے گُہر صدف گویا، پشتِ چشمِ نیساں ہے
جورِ زلف کی تقریر پیچ تابِ خاموشیہند میں اسدؔ نالاں، نالہ در صفاہاں ہے
فرصت، آئینۂ صد رنگِ خود آرائی ہےروز و شب، یک کفِ افسوسِ تماشائی ہے
وحشتِ زخمِ وفا دیکھ کہ سر تا سرِ دلبخیہ، جوں جوہرِ تیغ، آفتِ گیرائی ہے
شمع آسا، چہ سرِ دعوی؟ و کُو پائے ثبات؟گلِ صد شعلہ، بہ یک جیبِ شکیبائی ہے
نالہ خونیں ورق، و دل گلِ مضمونِ شفقچمن آرائے نفس، وحشتِ تنہائی ہے
بوئے گل فتنۂ بیدار و چمن جامۂ خوابوصل ہر رنگِ جنوں کسوتِ رسوائی ہے
شرم طوفانِ خزاں رنگِ طرب گاہِ بہارگلِ مہتاب بہ کف چشمِ تماشائی ہے
شرم، طوفانِ خزاں رنگِ طرب گاہِ بہارماہتابی بہ کفِ چشمِ تماشائی ہے
باغِ خاموشیٔ دل سے سخنِ عشق، اسدؔنفسِ سوختہ رمزِ چمن ایمائی ہے
اُگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
سادگی پر اُس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اُس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گییہ جو اک لذّت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے!اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم، منزل میں ہے
جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہیفتنۂ شورِ قیامت کِس کی آب و گِل میں ہے
ہے دلِ شوریدۂ غالبؔ طلسمِ پیچ و تابرحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغتکلیفِ پردہ داریٔ زخمِ جگر گئی
وہ بادۂ شبانہ کی سر مستیاں کہاںاٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی
اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میںبارے اب اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی
دیکھو تو دل فریبیٔ اندازِ نقشِ پاموجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی
ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی
نظّارے نے بھی کام کِیا واں نقاب کامستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
فردا و دی کا تفرِقہ یک بار مٹ گیاکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
مارا زمانے نے اسدؔ اللّٰہ خاں تمھیںوہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملےحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
ساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہمہر شب پِیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیممیرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کِیافرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے
لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اِک بزرگ ہمیں ہمسفر ملے
اے ساکنانِ کوچۂ دل دار دیکھناتم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوزِ غم ہائے نہانی اور ہے
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ برکچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے
قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوموہ بلائے آسمانی اور ہے
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمامایک مرگِ ناگہانی اور ہے
کوئی امّید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟
آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبعیت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی
داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہےآخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیںغمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہےنگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیںابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امّیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہو گااَور درویش کی صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئےیک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وو آئے
ہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّتکچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالمآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے
ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرینہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
جلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتےہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافتدیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے
کی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریراچّھے رہے آپ اُس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
اُس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالبؔہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہےسینہ جویائے زخمِ کاری ہے
پھِر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے
قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے
چشم دلاّلِ جنسِ رسوائیدل خریدارِ ذوقِ خواری ہے
وہ ہی صد رنگ نالہ فرسائیوہ ہی صد گونہ اشک باری ہے
دل ہوائے خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بے قراری ہے
جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہےروزِ بازارِ جاں سپاری ہے
پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے
پھر کھلا ہے درِ عدالتِ نازگرم بازارِ فوج داری ہے
ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے
پھر دیا پارۂ جگر نے سوالایک فریاد و آہ و زاری ہے
پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلباشک باری کا حکم جاری ہے
دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھاآج پھر اس کی روبکاری ہے
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کینمک پاشِ خراشِ دل ہے لذّت زندگانی کی
کشاکش ہائے ہستی سے کرے کیا سعیٔ آزادیہوئی زنجیر موجِ آب کو فرصت روانی کی
پس از مُردن بھی دیوانہ زیارت گاہِ طفلاں ہےشرارِ سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
نہ کھینچ اے دستِ سعیٔ نا رسا زلفِ تمنّا کوپریشاں تر ہے موئے خامہ سے تدبیر مانیؔ کی
کماں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں، انصاف بہتر ہےنہ کھینچے طاقتِ خمیازہ تہمت ناتوانی کی
تکلف بر طرف، فرہاد اور اتنی سبک دستیخیال آساں تھا، لیکن خوابِ خسرو نے گرانی کی
اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موجِ ہستی نےفقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی
نِکوہِش ہے سزا فریادیٔ بیدادِ دِلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشےاگر بو دے بجائے دانہ دہقاں نوک نشتر کی
پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتیٔ مے تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دَورِ ساغر کی
کروں بیدادِ ذوقِ پَر فشانی عرض کیا قدرتکہ طاقت اُڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہ پر کی
کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!مری قسمت میں یا رب کیا نہ تھی دیوار پتھّر کی؟
مرا دل مانگتے ہیں عاریت اہل ہوس، شایدیہ جایا چاہتے ہیں آج دعوت میں سمندر کی
غرورِ لطفِ ساقی نشۂ بے باکیٔ مستاںنمِ دامانِ عصیاں ہے، طراوت موجِ کوثر کی
تھکا جب قطرہ بے دست و پا بالا دویدن سےزِ بہرِ یادگاری ہا گرہ دیتا ہے گوہر کی
بہ جز دیوانگی ہوتا نہ انجامِ خود آرائیاگر پیدا نہ کرتا آئینہ زنجیر جوہر کی
اسدؔ، جز آب بخشیدن ز دریا خضر کو کیا تھا!ڈبوتا چشمۂ حیواں میں، گر، کشتی سکندر کی
بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے
پنہاں تھا دام، سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قَسم ہوئے
سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبروہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
اللّٰہ ری تیری تندیٔ خُو جس کے بِیم سےاجزائے نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوئے
اہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشقجو پاؤں اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے
نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھِنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے
چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانیکبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتاکہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہےاک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
نے مژدۂ وصال نہ نظّارۂ جمالمدّت ہوئی کہ آشتیٔ چشم و گوش ہے
ہو کر شہید عشق میں، پائے ہزار جسمہر موجِ گردِ رہ، مرے سر کو دوش ہے
مے نے کِیا ہے حسنِ خود آرا کو بے حجاباے شوق یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے
گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھناکیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
دیدار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مستبزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دلزنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگیہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میںنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہےطاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلےنشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کوہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطرخاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے
دل سے اٹھا لطفِ جلوہ ہائے معانیغیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارےوائے اگر عہد استوار نہیں ہے
تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔتیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیںچل نکلتے جو مے پیے ہوتے
قہر ہو یا بلا ہو، جو کچھ ہوکاشکے تم مرے لیے ہوتے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھادل بھی یا رب کئی دیے ہوتے
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔکوئی دن اور بھی جیے ہوتے
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہےکہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے
ہوا ہے مانعِ عاشق نوازی، نازِ خود بینیتکلّف بر طرف، آئینۂ تمیز حایل ہے
بہ سیلِ اشک لختِ دل ہے دامن گیر مژگاں کاغریقِ بحر جویائے خس و خاشاکِ ساحل ہے
بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبارِ کلفتِ خاطرکہ چشمِ تر میں ہر یک پارۂ دل پائے در گِل ہے
نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخیغرض اب تک خیالِ گرمیٔ رفتار قاتل ہے
رفوئے زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کیسمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گُل جس گُلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔچٹکنا غنچۂ گُل کا صدائے خندۂ دل ہے
ہم زباں آیا نظر فکرِ سخن میں تُو مجھےمردمک، ہے طوطیٔ آئینۂ زانو مجھے
باعثِ واماندگی ہے عمرِ فرصت جُو مجھےکر دیا ہے پا بہ زنجیرِ رمِ آہو مجھے
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بس کہ میں صحرا نوردخارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقتہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے
ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
خاکِ فرصت بر سرِ ذوقِ فنا! اے انتظارہے غبارِ شیشۂ ساعت، رمِ آہو مجھے
یادِ مژگاں میں بہ نشتر رازِ صحرائے خیالچاہیے وقتِ تپش یک دست صد پہلو مجھے
کثرتِ جور و ستم سے، ہو گیا ہوں بے دماغخوبرویوں نے بنایا عاقبت بد خو مجھے
اضطرابِ عمر بے مطلب نہیں آخر، کہ ہےجستجوئے فرصتِ ربطِ سرِ زانو مجھے
چاہیے درمانِ ریشِ دل بھی تیغِ ناز سےمرہمِ زنگار ہے وہ وسمۂ ابرو مجھے
فرصتِ آرام غش، ہستی ہے بحرانِ عدمہے شکستِ رنگِ امکاں، گردشِ پہلو مجھے
سازِ ایمائے فنا ہے عالمِ پیری، اسدؔقامتِ خم سے ہے حاصل شوخیٔ ابرو مجھے
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قدِ دل کش سے جو گل زار میں آوے
تب نازِ گراں مائگیٔ اشک بجا ہےجب لختِ جگر دیدۂ خوں بار میں آوے
دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر!کچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے
اس چشمِ فسوں گر کا اگر پائے اشارہطوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادیٔ پر خار میں آوے
مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تنِ نازکآغوشِ خمِ حلقۂ زُنّار میں آوے
غارت گرِ ناموس نہ ہو گر ہوسِ زرکیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے
تب چاکِ گریباں کا مزا ہے دلِ نالاںجب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے
گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیےجو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاساغرِ جم سے مرا جامِ سِفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اُس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عُشّاق بُتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کِیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ ماٰل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچّھا ہے
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
خار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہےشوق گُلچِینِ گلستانِ تسلّی نہ سہی
مے پرستاں خُمِ مے منہ سے لگائے ہی بنےایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحراگر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی، نہ سہی
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی
عشرتِ صحبتِ خُوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالبؔ اگر عمرِ طبیعی نہ سہی
عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگےکہ اپنے سائے سے، سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے
قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفتفقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے
غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستیوگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے
خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دیناکہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نےتمھارے آئیو، اے طُرّہ ہائے خَم بہ خَم آگے
دل و جگر میں پَر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہےہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے
قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجااک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھوشکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چالسست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہمآپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہکہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور ابلب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخنشاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علمتیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجےتو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلالآستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میںیہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معافآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تُند خُو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیٔ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گاکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیزسوائے بادۂ گُلفامِ مشکبو کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کے
رات پی زم زم پہ مے اور صبح دمدھوئے دھبّے جامۂ احرام کے
دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمھارے دام کے
شاہ کی ہے غسلِ صحّت کی خبردیکھیے کب دن پھریں حمّام کے
عشق نے غالبؔ نکمّا کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
پھر اس انداز سے بہار آئیکہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاکاس کو کہتے ہیں عالم آرائی
کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سررو کشِ سطحِ چرخِ مینائی
سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملیبن گیا روئے آب پر کائی
سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیےچشمِ نرگس کو دی ہے بینائی
ہے ہوا میں شراب کی تاثیربادہ نوشی ہے باد پیمائی
کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔشاہِ دین٘دار نے شفا پائی
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہےاگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم، اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سےبھرے ہیں جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے
بتانِ شوخ کا دل سخت ہو گا کس قدر، یا رب!مری فریاد کو، کہسار، سازِ عجز نالی ہے
نشان بے قرارِ شوق، جز مژگاں نہیں باقیکئی کانٹے ہیں اور پیراہنِ شکلِ نہالی ہے
جنوں کر، اے چمن تحریرِ درسِ شغلِ تنہائینگاہِ شوق کو، صحرا بھی، دیوانِ غزالی ہے
سیہ مستی ہے اہلِ خاک کو ابرِ بہاری سےزمیں جوشِ طرب سے، جامِ لب ریزِ سفالی ہے
اسدؔ، مت رکھ تعجب خر دماغی ہائے منعم کاکہ یہ نامرد بھی شیر افگنِ میدانِ قالی ہے
کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میری
خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھدیکھ خوں نابہ فشانی میری
کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میری
ہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیالبھول جانا ہے نشانی میری
متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری
قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میری
گرد بادِ رہِ بے تابی ہوںصرصرِ شوق ہے بانی میری
دہن اس کا جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میری
کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔننگِ پیری ہے جوانی میری
تشنۂ خونِ تماشا جو وہ پانی مانگےآئنیہ، رخصتِ اندازِ روانی مانگے
نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیبپائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے
تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانےغم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
وہ تبِ عشق تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمعشعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے
رنگ نے گُل سے دمِ عرضِ پریشانیٔ بزمبرگِ گُل، ریزۂ مینا کی نشانی مانگے
زلف تحریرِ پریشانِ تقاضا ہے، مگرشانہ ساں، مُو بہ زباں خامۂ مانی مانگے
آمدِ خط ہے، نہ کر خندۂ شیریں کہ، مباد!چشمِ مور، آئینۂ دل نگرانی مانگے
ہوں گرفتارِ کمیں گاہِ تغافل کہ جہاںخوابِ صیاد سے، پرواز، گرانی مانگے
چشمِ پرواز و نفس خفتہ، مگر ضعفِ امیدشہپرِ کاہ، پئے مژدہ رسانی مانگے
وحشتِ شورِ تماشا ہے کہ جوں نکہتِ گلنمکِ زخمِ جگر بال فشانی مانگے
گر ملے حضرتِ بیدل کا خطِ لوحِ مزاراسدؔ، آئینۂ پردازِ معانی مانگے
گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پریاں نالے کو اُور الٹا دعوائے رسائی ہے
از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازےجو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کشعاشق کو غبارِ دل اک وجہِ صفائی ہے
ہنگامِ تصوّر ہوں دریوزہ گرِ بوسہیہ کاسۂ زانو بھی اک جامِ گدائی ہے
وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔصد جلوۂ آئینہ، یک صبحِ جدائی ہے
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سےیاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
اے بے خبراں! میرے لبِ زخمِ جگر پربخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
گو زندگیٔ زاہدِ بے چارہ عبث ہےاتنا تو ہے، رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کوخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔحسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کےپانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے
سیماب پشت گرمیٔ آئینہ دے ہے ہمحیراں کیے ہوئے ہیں دلِ بے قرار کے
بعد از وداعِ یار بہ خوں در طپیدہ ہیںنقشِ قدم ہیں ہم کفِ پائے نگار کے
ظاہر ہے ہم سے کلفتِ بختِ سیاہ روزگویا کہ تختۂ مشق ہے خطِّ غبار کے
حسرت سے دیکھ رہتے ہیں ہم آب و رنگِ گلمانندِ شبنم اشک ہے مژگانِ خار کے
آغوشِ گل کشودہ برائے وداع ہےاے عندلیب چل! کہ چلے دن بہار کے
ہم مشقِ فکرِ وصل و غمِ ہجر سے اسدؔلائق نہیں رہے ہیں غمِ روزگار کے
عاشق، نقابِ جلوۂ جانانہ چاہیےفانوسِ شمع کو پرِ پروانہ چاہیے
ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میںمعشوقِ شوخ و عاشقِ دیوانہ چاہیے
اُس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو، ہاں!شوقِ فضول و جرأتِ رندانہ چاہیے
پیدا کریں دماغِ تماشائے سرو و گلحسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
دیوانگاں ہیں حاملِ رازِ نہانِ عشقاے بے تمیز، گنج کو ویرانہ چاہیے
ساقی، بہارِ موسمِ گل ہے سرور بخشپیماں سے ہم گزر گئے، پیمانہ چاہیے
جادو ہے یار کی روشِ گفتگو، اسدؔیاں جز فسوں نہیں، اگر افسانہ چاہیے
چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذرجائے مے، اپنے کو کھینچا چاہیے
دل تو ہو اچھا، نہیں ہے گر دماغکچھ تو اسبابِ تمنا چاہیے
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے!
چاک مت کر جیب، بے ایامِ گُلکُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
دُشمنی نے میری، کھویا غیر کوکِس قدر دُشمن ہے، دیکھا چاہیے
اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعییار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امیدنا اُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے
غافل، اِن مہ طلعتوں کے واسطےچاہنے والا بھی اچھا چاہیے
چاہتے ہیں خُوب رویوں کو اسدؔآپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے
ہر قدم دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سےمیری رفتار سے بھاگے ہے، بیاباں مجھ سے
درسِ عنوانِ تماشا، بہ تغافلِ خُوشترہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے
وحشتِ آتشِ دل سے، شبِ تنہائی میںصورتِ دُود، رہا سایہ گُریزاں مجھ سے
غمِ عشاق نہ ہو، سادگی آموزِ بُتاںکِس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
اثرِ آبلہ سے، جادۂ صحرائے جُنوںصُورتِ رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے
بے خودی بسترِ تمہیدِ فراغت ہُوجو!پُر ہے سایے کی طرح، میرا شبستاں مجھ سے
شوقِ دیدار میں، گر تُو مجھے گردن مارےہو نگہ، مثلِ گُلِ شمع، پریشاں مجھ سے
بے کسی ہائے شبِ ہجر کی وحشت، ہے ہے!سایہ خُورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے
گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں، تجھ سےآئینہ داریٔ یک دیدۂ حیراں، مُجھ سے
نگہِ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے، اسدؔ!ہے چراغاں، خس و خاشاکِ گُلستاں مجھ سے
نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےکیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے
میں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دلاُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے
کھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جائےکاش! یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنے
غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ، اگرکوئی پُوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چُھپائے نہ بنے
اِس نزاکت کا بُرا ہو، وہ بھلے ہیں، تو کیاہاتھ آویں، تو اُنھیں ہاتھ لگائے نہ بنے
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہےپردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے کہ اُٹھائے نہ بنے
موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بِن آئے نہ رہےتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ، تو بُلائے نہ بنے
بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اُٹھائے نہ اُٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ!کہ لگائے نہ لگے اور بُجھائے نہ بنے
چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرےصبح کے مانند، زخمِ دل گریبانی کرے
جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ، گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے
ہے شکستن سے بھی دل نومید، یا رب! کب تلکآبگینہ کوہ پر عرضِ گِراں جانی کرے
مے کدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکستمُوئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے
خطِّ عارض سے، لکھا ہے زُلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرے
ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقتِ قہقہہکرمکِ شب تاب آسا مِہ پر افشانی کرے
وقت اس افتادہ کا خوش، جو قناعت سے اسدؔنقشِ پائے مور کو نقشِ سلیمانی کرے
وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دےولے مجھے تپشِ دل، مجالِ خواب تو دے
کرے ہے قتل، لگاوٹ میں تیرا رو دیناتری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
دِکھا کے جنبشِ لب ہی، تمام کر ہم کونہ دے جو بوسہ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے
پلا دے اوک سے ساقی، جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے شراب تو دے
یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں، لیکنکبھی زمانہ مرادِ دلِ خراب تو دے
اسدؔ! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پُھول گئےکہا جو اُس نے، ”ذرا میرے پاؤں داب تو دے“
تپِش سے میری، وقفِ کش مکش، ہر تارِ بستر ہےمِرا سر رنجِ بالیں ہے، مِرا تَن بارِ بستر ہے
سرشکِ سر بہ صحرا دادہ، نورالعینِ دامن ہےدلِ بے دست و پا اُفتادہ بر خوردارِ بستر ہے
خوشا اقبالِ رنجوری! عیادت کو تم آئے ہوفروغِ شمع بالیں، طالعِ بیدارِ بستر ہے
بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائیشعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے
ابھی آتی ہے بُو، بالش سے، اُس کی زلفِ مشکیں کیہماری دید کو، خوابِ زلیخا، عارِ بستر ہے
بہ ذوقِ شوخیٔ اعضاء تکلّف بارِ بستر ہےمعافِ پیچ تابِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے
معمّائے تکلّف سر بہ مہرِ چشم پوشیدنگدازِ شمعِ محفل پیچشِ طومارِ بستر ہے
مژہ فرشِ رہ و دل ناتوان و آرزو مضطربہ پائے خفتہ سیرِ وادیٔ پُر خارِ بستر ہے
اسد جوشِ بہارِ دیدۂ بیدار کے صدقےہماری دید کو خوابِ زلیخا عارِ بستر ہے
کہوں کیا، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں، غالبؔ!کہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر، خارِ بستر ہے
عیادت بس کہ تجھ سے گرمیٔ بازارِ بستر ہےفروغِ شمعِ بالیں طالعِ بیدارِ بستر ہے
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائےغرورِ دوستی آفت ہے، تُو دُشمن نہ ہو جائے
بہ پاسِ شوخیٔ مژگاں سرِ ہر خار سوزن ہےتبسّم برگِ گل کو بخیہِ دامن نہ ہو جائے
جراحت دوزیٔ عاشق ہے جائے رحم ترساں ہوںکہ رشتہ تارِ اشکِ دیدۂ سوزن نہ ہو جائے
غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینیسپیدی آئنے کی پنبۂ روزن نہ ہو جائے
سمجھ اس فصل میں کوتاہیٔ نشو و نما، غالبؔ!اگر گُل سَرو کے قامت پہ، پیراہن نہ ہو جائے
فریاد کی کوئی لَے نہیں ہےنالہ پابندِ نَے نہیں ہے
کیوں بوتے ہیں باغباں تون٘بے؟گر باغ گدائے مَے نہیں ہے
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہےپَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے
ہاں، کھائیو مت فریبِ ہستی!ہر چند کہیں کہ "ہے"، نہیں ہے
شادی سے گُذر کہ، غم نہ ہووےاُردی جو نہ ہو، تو دَے نہیں ہے
کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد!مَے ہے یہ مگس کی قَے نہیں ہے
انجامِ شمارِ غم نہ پوچھویہ مصرفِ تا بکَے نہیں ہے
جس دل میں کہ "تا بکَے" سما جائےواں عزّتِ تختِ کَے نہیں ہے
ہستی ہے، نہ کچھ عَدم ہے، غالبؔ!آخر تُو کیا ہے، اَے "نہیں ہے"
بہارِ تعزیت آبادِ عشق، ماتم ہےکہ تیغِ یار، ہلالِ مہِ محرم ہے
نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کاکہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے
بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کیوہ اِک نگہ کہ، بظاہر نگاہ سے کم ہے
بہ رہنِ ضبط ہے، آئینہ بندیٔ گوہروگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشمِ پُر نم ہے
چمن میں کون ہے طرز آفرینِ شیوۂ عشق؟کہ گل ہے بلبلِ رنگین و بیضہ شبنم ہے
اگر نہ ہو وے رگِ خواب صرفِ شیرازہتمام دفترِ ربطِ مزاج، درہم ہے
اسدؔ بہ نازکیٔ طبعِ آرزو انصاف!کہ ایک وہمِ ضعیف و غمِ دو عالم ہے
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتےمرتے ہیں، ولے، اُن کی تمنا نہیں کرتے
در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانیظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
یہ باعثِ نومیدیٔ اربابِ ہوس ہےغالبؔ کو بُرا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے
شفق بدعویٔ عاشق گواہِ رنگیں ہےکہ ماہ دزدِ حنائے کفِ نگاریں ہے
کرے ہے بادہ، ترے لب سے، کسبِ رنگِ فروغخطِ پیالہ، سراسر نگاہِ گل چیں ہے
کبھی تو اِس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے!کہ ایک عُمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے
بجا ہے، گر نہ سُنے، نالہ ہائے بُلبلِ زارکہ گوشِ گُل، نمِ شبنم سے پنبہ آگیں ہے
عیاں ہے پائے حنائی بہ رنگِ پرتوِ خورشیدرِکاب روزنِ دیوارِ خانۂ زیں ہے
جبینِ صبح، امیدِ فسانہ گویاں پردرازیٔ رگِ خوابِ بتاں خطِ چیں ہے
ہوا نشانِ سوادِ دیارِ حسن عیاںکہ خط غبارِ زمیں خیزِ زلفِ مشکیں ہے
نہ پوچھ کچھ سر و سامان و کار و بارِ اسدؔجنوں معاملہ، بے دل، فقیرِ مسکیں ہے
اسدؔ ہے نزع میں، چل بے وفا! برائے خُدا!مقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے
دل سراپا وقفِ سودائے نگاہِ تیز ہےیہ زمیں، مثلِ نیستاں، سخت ناوک خیز ہے
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل، کیوں نہ ہو؟یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
مرتے مرتے، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گیوائے ناکامی! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے
ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے؟بے ستوں، خوابِ گرانِ خسروِ پرویز ہے
ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں، زبس، تیرِ نگاہپردۂ بادام، یک غربالِ حسرت بیز ہے
خوں چکاں ہے جادہ، مانندِ رگِ سودائیاںسبزۂ صحرائے اُلفت، نشترِ خوں ریز ہے
ہے بہارِ تیز رو، گلگونِ نکہت پر سواریک شکستِ رنگِ گل، صد جنبش مہمیز ہے
عارضِ گُل دیکھ، رُوئے یار یاد آیا، اسدؔ!جوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے
دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بِن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے، کیا کہیے!
رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ، کہ کُوئے دوست کو اباگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے، کیا کہیے!
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریبکہ بن کہے ہی انھیں سب خبر ہے، کیا کہیے
سمجھ کے کرتے ہیں، بازار میں وہ پُرسشِ حالکہ یہ کہے کہ، سرِ رہ گزر ہے، کیا کہیے؟
تمھیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیالہمارے ہاتھ میں کچھ ہے، مگر ہے کیا؟ کہیے!
اُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے، کیوں لڑیئےہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے، کیا کہیے؟
حَسد، سزائے کمالِ سخن ہے، کیا کیجےسِتم، بہائے متاعِ ہُنر ہے، کیا کہیے!
کہا ہے کِس نے کہ غالبؔ بُرا نہیں، لیکنسوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے، کیا کہیے
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھے
بن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فَساںمرحبا مَیں! کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
کیوں نہ ہو بے التفاتی، اُس کی خاطر جمع ہےجانتا ہے محوِ پُرسش ہائے پنہانی مجھے
میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگیلِکھ دیا مِن جملۂ اسبابِ ویرانی، مجھے
بد گماں ہوتا ہے وہ کافر، نہ ہوتا، کاشکے!اِس قدر ذوقِ نوائے مُرغِ بُستانی مجھے
وائے! واں بھی شورِ محشر نے نہ دَم لینے دیالے گیا تھا گور میں ذوقِ تن آسانی مجھے
وعدہ آنے کا وفا کیجے، یہ کیا انداز ہے؟تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے؟
ہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری، واہ واہ!پھر ہُوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
دی مرے بھائی کو حق نے از سرِ نَو زندگیمیرزا یوسف ہے، غالبؔ! یوسفِ ثانی مجھے
یاد ہے شادی میں بھی، ہنگامۂ "یا رب"، مجھےسُبحۂ زاہد ہوا ہے، خندہ زیرِ لب مجھے
ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ دَر، رہنِ سخنتھا طلسمِ قُفلِ ابجد، خانۂ مکتب مجھے
یا رب! اِس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!رشک، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
طبع ہے مشتاقِ لذت ہائے حسرت کیا کروں!آرزو سے، ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے
صبح، نا پیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میںتوڑنا ہوتا ہے رنگِ یک نفس، ہر شب مجھے
شومیٔ طالع سے ہوں ذوقِ معاصی میں اسیرنامۂ اعمال ہے، تاریکیٔ کوکب مجھے
درد نا پیدا و بے جا تہمتِ وارستگیپردہ دارِ یاوگی ہے، وسعتِ مشرب مجھے
دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مُجھی سے ہو گئےعشق سے آتے تھے مانِع، میرزا صاحب مجھے
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں، قیس و کوہ کُن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہ کُن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر ، اچھا، جگر کے پار ہو، بہترغرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائیوفا داری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بے تابی سے کیا حاصل؟مگر پھر تابِ زُلفِ پُر شکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہو!ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا، غالبؔ!نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہے
کبھی نیکی بھی اُس کے جی میں، گر آجائے ہے، مُجھ سےجفائیں کر کے اپنی یاد، شرما جائے ہے، مُجھ سے
خُدایا! جذبۂ دل کی مگر تاثیر اُلٹی ہے!کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کِھنچتا جائے ہے مُجھ سے
وہ بَد خُو اور میری داستانِ عشق طُولانیعبارت مُختصر، قاصد بھی گھبرا جائے ہے، مُجھ سے
اُدھر وہ بد گمانی ہے، اِدھر یہ ناتوانی ہےنہ پُوچھا جائے ہے اُس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سے
سنبھلنے دے مجھے اے نا اُمیدی! کیا قیامت ہے!کہ دامانِ خیالِ یار، چُھوٹا جائے ہے مُجھ سے
تکلف بر طرف، نظارگی میں بھی سہی، لیکنوہ دیکھا جائے، کب یہ ظُلم دیکھا جائے ہے، مُجھ سے
ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبردِ عشق میں زخمینہ بھاگا جائے ہے مجھ سے، نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے
قیامت ہے کہ ہووے مُدعی کا ہم سفر غالبؔ!وہ کافر، جو خُدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مُجھ سے
ز بس کہ مشقِ تماشا جنوں علامت ہےکشاد و بستِ مژہ، سیلیٔ ندامت ہے
نہ جانوں، کیونکہ مٹے داغِ طعنِ بد عہدیتجھے کہ آئینہ بھی ورطۂ ملامت ہے
بہ پیچ و تابِ ہوس، سِلکِ عافیت مت توڑنگاہِ عجز سرِ رشتۂ سلامت ہے
وفا مقابل و دعوائے عشق بے بُنیادجنونِ ساختہ و فصلِ گُل، قیامت ہے!
اسدؔ! بہارِ تماشائے گلستانِ حیاتوصالِ لالہ عذارانِ سرو قامت ہے
لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھےمیرا ذمہ، دیکھ کر گر کوئی بتلا دے مجھے
کیا تعجب ہے کہ اُس کو دیکھ کر آجائے رحمواں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
منہ نہ دکھلاوے، نہ دکھلا، پر بہ اندازِ عتابکھول کر پردہ ذرا آنکھیں ہی دکھلا دے مجھے
یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ، مَیںزلف گر بن جاؤں تو شانے میں اُلجھا دے مجھے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیکاک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظورجز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے
ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتےگِھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے
مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھےتو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
سچ کہتے ہو خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوںبیٹھا ہے بتِ آئینہ سیما مرے آگے
پھر دیکھیے اندازِ گل افشانیٔ گفتاررکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے
نفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزراکیوں کر کہوں، لو نام نہ ان کا مرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفرکعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کاممجنوں کو برا کہتی ہے لیلےٰ مرے آگے
خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتےآئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے
ہے موج زن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہوآتا ہے ابھی دیکھیے، کیا کیا مرے آگے
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے!رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میراغالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے"تمھیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستم گر ہیں"مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو "بجا" کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوےنگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاںوہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دل کُشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیےجو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے
کہیں حقیقتِ جانکاہیٔ مرض لکھیےکہیں مصیبتِ ناسازیٔ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجےکبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجےکٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!روانیٔ روش و مستیٔ ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!طرواتِ چمن و خوبیٔ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔخدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئےدھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے
صرفِ بہائے مے ہوئے آلاتِ مے کشیتھے یہ ہی دو حساب، سو یوں پاک ہو گئے
رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تمبارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثرپردے میں گُل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہلِ شوق کاآپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
کرنے گئے تھے اس سے تغافُل کا ہم گِلہکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
پوچھے ہے کیا معاشِ جگر تُفتگانِ عشقجوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
اس رنگ سے اٹھائی کل اُس نے اسدؔ کی نعشدشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
شوخیٔ مضرابِ جولاں، آبیارِ نغمہ ہےبرگ ریزِ ناخنِ مطرب، بہارِ نغمہ ہے
نشہہا شادابِ رنگ و سازہا مستِ طربشیشۂ مے سروِ سبزِ جوئبارِ نغمہ ہے
ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزمِ عیشِ دوستواں تو میرے نالے کو بھی اعتبارِ نغمہ ہے
کس سے، اے غفلت، تجھے تعبیرِ آگاہی ملے؟گوش ہا سیمابی و دل بے قرارِ نغمہ ہے
سازِ عیشِ بے دلی ہے، خانہ ویرانی، مجھےسیل، یاں کوکِ صدائے آبشارِ نغمہ ہے
سنبلی خواں ہے، بہ ذوقِ تارِ گیسوئے درازنالۂ زنجیرِ مجنوں، رشتہ دارِ نغمہ ہے
شوخیٔ فریاد سے ہے پردۂ زنبور، گلکسوتِ ایجادِ بلبل، خار خارِ نغمہ ہے
غفلت استعداد ذوق، و مدعا غافل اسدؔپنبۂ گوشِ حریفاں، پود و تارِ نغمہ ہے
عرضِ نازِ شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہےدعویٔ جمعیّتِ احباب جائے خندہ ہے
خود فروشی ہائے ہستی بس کہ جائے خندہ ہےدو جہاں وسعت بہ قدرِ یک فضائے خندہ ہے
ہے عدم میں غنچہ محوِ عبرتِ انجامِ گُلیک جہاں زانو تامّل در قفائے خندہ ہے
کلفتِ افسردگی کو عیشِ بے تابی حرامورنہ دنداں در دل افشردن بِنائے خندہ ہے
سوزشِ باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاںدل محیطِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے
ہر شکستِ قیمتِ دل میں صدائے خندہ ہےنقشِ عبرت در نظر ہا نقدِ عشرت در بساط
جائے استہزاء ہے عشرت کوشیٔ ہستی اسدؔصبح و شبنم فرصتِ نشو و نمائے خندہ ہے
حسنِ بے پروا خریدارِ متاعِ جلوہ ہےآئینہ زانوئے فکرِ اختراعِ جلوہ ہے
تا کُجا اے آگہی رنگِ تماشا باختن؟چشمِ وا گر دیدہ آغوشِ وداعِ جلوہ ہے
عجزِ دیدن ہا بہ ناز و نازِ رفتن ہا بہ چشمجادۂ صحرائے آگاہی، شعاعِ جلوہ ہے
اختلافِ رنگ و بو، طرحِ بہارِ بے خودیصلحِ کل، گردِ ادب گاہِ نزاعِ جلوہ ہے
حسنِ خوباں بس کہ بے قدرِ تماشا ہے، اسدؔآئینہ یک دستِ ردِّ امتناعِ جلوہ ہے
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئیمشکل، کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی
عالم غُبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بہ سرکب تک خیالِ طرّۂ لیلیٰ کرے کوئی
افسردگی نہیں طرب انشائے التفاتہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھےآخر کبھی تو عُقدۂ دل وا کرے کوئی
تمثالِ جلوہ عرض کر، اے حسن، کب تلکآئینۂ خیال کو دیکھا کرے کوئی
چاکِ جگر سے جب رہِ پرسش نہ وا ہوئیکیا فائدہ کہ جَیب کو رسوا کرے کوئی
لختِ جگر سے ہے رگِ ہر خار شاخِ گلتا چند باغبانیٔ صحرا کرے کوئی
ناکامیٔ نگاہ ہے برقِ نظارہ سوزتو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
ہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکستنقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
سَر بَر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عُمرفُرصت کہاں کہ تیری تمنّا کرے کوئی
ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیزیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
بے کاریٔ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغلجب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
حسنِ فروغِ شمعِ سُخن دور ہے اسدؔپہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی
وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی؟ہستی کو لفظِ معنیٔ عنقا کرے کوئی
ابنِ مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہیایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چال جیسے کڑی کمان کا تیردل میں ایسے کے جا کرے کوئی
بات پر واں زبان کٹتی ہےوہ کہیں اور سنا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
نہ سنو اگر برا کہے کوئینہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئیبخش دو گر خطا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مندکس کی حاجت روا کرے کوئی
کیا کیا خضر نے سکندر سےاب کسے رہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔکیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے؟غُلامِ ساقیٔ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے
تمھاری طرز و روش جانتے ہیں ہم، کیا ہےرقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوےکوئی بتاؤ کہ وہ زُلفِ خم بہ خم کیا ہے
لکھا کرے کوئی احکامِ طالعِ مولودکسے خبر ہے کہ واں جنبشِ قلم کیا ہے؟
نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کاخدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے؟
وہ داد و دید گراں مایہ شرط ہے ہمدموگرنہ مُہرِ سلیمان و جامِ جم کیا ہے
سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانییقین ہے ہم کو بھی، لیکن اب اس میں دم کیا ہے
باغ تجھ بن گلِ نرگس سے ڈراتا ہے مجھےچاہوں گر سیرِ چمن، آنکھ دکھاتا ہے مجھے
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھےسایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے
ماہِ نو ہوں، کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھےعمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
جوہرِ تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلومہُوں میں وہ سبزہ کہ زہر آب اُگاتا ہے مجھے
مدّعا محوِ تماشائے شکستِ دل ہےآئینہ خانے میں کوئی لیے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کفِ خاکآسمان بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھےدیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
شورِ تمثال ہے کس رشکِ چمن کا یا رب!آئینہ بیضۂ بلبل نظر آتا ہے مجھے
حیرت آئینہ انجامِ جنوں ہوں جوں شمعکس قدر داغِ جگر شعلہ دکھاتا ہے مجھے
میں ہوں اور حیرتِ جاوید، مگر ذوقِ خیالبہ فسونِ نگہِ ناز ستاتا ہے مجھے
حیرتِ فکرِ سخن سازِ سلامت ہے اسدؔدل پسِ زانوئے آئینہ بٹھاتا ہے مجھے
روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کیاترائے کیوں نہ خاک سرِ رہ گزار کی
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہلوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
بُھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستان کے ہم ولےکیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اُس کی گردن پروہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالمکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظپر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
کوہ کے ہوں بارِ خاطر گر صدا ہو جائیےبے تکلف اے شرارِ جستہ! کیا ہو جائیے
بیضہ آسا ننگِ بال و پر ہے یہ کنجِ قفساز سرِ نو زندگی ہو، گر رِہا ہو جائیے
یاد رکھیے ناز ہائے التفاتِ اولیںآشیانِ طائرِ رنگِ حنا ہو جائیے
لطفِ عشقِ ہر یک اندازِ دگر دکھلائے گابے تکلف یک نگاہِ آشنا ہو جائیے
داد از دستِ جفائے صدمۂ ضرب المثل!گر ہمہ اُفتادگی، جوں نقشِ پا ہو جائیے
از دلِ ہر درد مندے جوشِ بے تابی زدناے ہمہ بے مدعائی، یک دعا ہو جائیے
وسعتِ مشرب، نیازِ کلفتِ وحشت، اسدؔیک بیاباں سایۂ بالِ ہُما ہو جائیے
مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہےموجِ شراب یک مژۂ خواب ناک ہے
جُز زخمِ تیغِ ناز، نہیں دل میں آرزوجیبِ خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
کلفت، طلسمِ جلوۂ کیفیّتِ دگرزنگار خوردہ آئینہ، یک برگِ تاک ہے
ہے عرضِ جوہرِ خط و خالِ ہزار عکسلیکن ہنوز دامنِ آئینہ پاک ہے
ہوں، خلوتِ فسردگیٔ انتظار میںوہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
جوشِ جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں، اسدؔصحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے
غم و عشرت، قدم بوسِ دلِ تسلیم آئیں ہےدعائے مدّعا گم کردگاں، لبریزِ آمیں ہے
تماشا ہے کہ ناموسِ وفا رسوائے آئیں ہےنفس تیری گلی میں خوں ہو اور بازار رنگیں ہے
لبِ عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانیقیامت کشتۂ لعل بُتاں کا خوابِ سنگیں ہے
ہمارا دیکھنا گر ننگ ہے، سیرِ گلستاں کرشرارِ آہ سے، موجِ صبا، دامانِ گل چیں ہے
پیامِ تعزیت پیدا ہے اندازِ عیادت سےشبِ ماتم، تہِ دامانِ دودِ شمعِ بالیں ہے
زبس جز حسن، منت نا گوارا ہے طبیعت پرکشادِ عقد، محوِ ناخنِ دستِ نگاریں ہے
نہیں ہے، سر نوشتِ عشق، غیر از بے دماغی ہاجبیں پر میری، مدِّ خامۂ قدرت خطِ چیں ہے
بہارِ باغ، پامالِ خرامِ جلوہ فرمایاںحنا سے دست، و خونِ کشتگاں سے تیغ رنگیں ہے
بیابانِ فنا ہے بعدِ صحرائے طلب، غالبؔپسینہ توسنِ ہمت کا سیلِ خانۂ زیں ہے
دیکھتا ہوں وحشتِ شوقِ خروش آمادہ سےفالِ رسوائی، سرشکِ سر بہ صحرا دادہ سے
آمدِ سیلابِ طوفانِ صدائے آب ہےنقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
بزمِ مے وحشت کدہ ہے کس کی چشمِ مست کاشیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے موجِ بادہ سے
دام گر سبزے میں پنہاں کیجیے طاؤس ہوجوشِ نیرنگِ بہارِ عرضِ صحرا دادہ سے
خیمۂ لیلیٰ سیاہ و خانۂ مجنوں خرابجوشِ ویرانی ہے عشقِ داغ بیروں دادہ سے
بزمِ ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم، اسدؔدیکھتے ہیں چشمِ از خوابِ عدم نہ کشادہ سے
ہوں میں بھی تماشائیٔ نیرنگِ تمنامطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کیکہ شمعِ خانۂ دل، آتشِ مے سے فروزاں کی
سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پرمری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہائے ہجراں کی
بہ زلفِ مہ وشاں، رہتی ہے، شب بیدار، ظاہر ہےزبانِ شانہ سے تعبیرِ صد خوابِ پریشاں کی
ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشقِ تیرہ روزی تھیسیاہی ہے مرے ایام میں، لوحِ دبستاں کی
دریغ! آہِ سحر گہ کارِ بادِ صبح کرتی ہےکہ ہوتی ہے زیادہ، سرد مہری شمعِ رویاں کی
مجھے اپنے جنوں کی، بے تکلف، پردہ داری تھیولیکن کیا کروں، آوے جو رسوائی گریباں کی
ہنر پیدا کیا ہے میں نے، حیرت آزمائی میںکہ جوہر آئینے کا، ہر پلک ہے، چشمِ حیراں کی
خدایا، کس قدر اہلِ نظر نے خاک چھانی ہے!کہ ہیں صد رخنہ، جوں غربال، دیواریں گلستاں کی
ہوا شرمِ تہی دستی سے وہ بھی سرنگوں آخربس، اے زخمِ جگر، اب دیکھ لی شورش نمک داں کی
بہ یادِ گرمیٔ صحبت، بہ رنگِ شعلہ دہکے ہےچھپاؤں کیوں کہ غالبؔ، سوزشیں داغِ نمایاں کی
ہجومِ نالہ، حیرت عاجزِ عرضِ یک افغاں ہےخموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
تکلف بر طرف، ہے جانستاں تر لطفِ بد خویاںنگاہِ بے حجابِ ناز تیغِ تیزِ عریاں ہے
ہوئی یہ کثرتِ غم سے تلف کیفیّتِ شادیکہ صبحِ عید مجھ کو بد تر از چاکِ گریباں ہے
دل و دیں نقد لا، ساقی سے گر سودا کیا چاہےکہ اس بازار میں ساغر متاعِ دستگرداں ہے
غم آغوشِ بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کوچراغِ روشن اپنا قلزمِ صرصر کا مرجاں ہے
کجا مے؟ کُو عرق؟ سعیٔ عروجِ نشّہ رنگیں ترخطِ رخسارِ ساقی، تا خطِ ساغر چراغاں ہے
رہا بے قدر دل، در پردۂ جوشِ ظہور آخرگل و نرگس بہم، آئینہ و اقلیمِ کوراں ہے
تکلف سازِ رسوائی ہے، غافل، شرمِ رعنائیدلِ خوں گشتہ، در دستِ حنا آلودہ عریاں ہے
تماشا، سرخوشِ غفلت ہے با وصفِ حضورِ دلہنوز آئینہ، خلوت گاہِ نازِ ربطِ مژگاں ہے
تکلف برطرف، ذوقِ زلیخا جمع کر، ورنہپریشاں خواب آغوشِ و داعِ یوسفستاں ہے
اسدؔ، جمعیّتِ دل در کنارِ بے خودی خوشتردو عالم آگہی، سامانِ یک خوابِ پریشاں ہے
خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہےنگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے
فشارِ تنگیٔ خلوت سے بنتی ہے شبنمصبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
نہ پوچھ سینۂ عاشق سے آبِ تیغِ نگاہکہ زخمِ روزنِ در سے ہوا نکلتی ہے
بہ حلقۂ خمِ گیسو ہے راستی آموزدہانِ مار سے گویا صبا نکلتی ہے
بہ رنگِ شیشہ ہوں یک گوشۂ دلِ خالیکبھی پری مری خلوت میں آ نکلتی ہے
بہار شوخ و چمن تنگ و رنگِ گل دلچسپنسیم، باغ سے پا در حنا نکلتی ہے
اسدؔ کو حسرتِ عرضِ نیاز تھی دمِ قتلہنوز، یک سخنِ بے صدا نکلتی ہے
جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہےنافہ دماغِ آہوئے دشتِ تتار ہے
کس کا سراغِ جلوہ ہے حیرت کو اے خدا!آیئنہ فرشِ شش جہتِ انتظار ہے
ہے ذرہ ذرہ تنگیٔ جا سے غبارِ شوقگر دام یہ ہے و سعتِ صحرا شکار ہے
دل مدّعی و دیدہ بنا مدّعا علیہنظارے کا مقدّمہ پھر روبکار ہے
چھڑکے ہے شبنم آئینۂ برگِ گل پر آباے عندلیب وقتِ وداعِ بہار ہے
پچ آپڑی ہے وعدۂ دلدار کی مجھےوہ آئے یا نہ آئے، پہ یاں انتظار ہے
بے پردہ سوئے وادیٔ مجنوں گزر نہ کرہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے
اے عندلیب یک کفِ خس بہرِ آشیاںطوفانِ آمد آمدِ فصلِ بہار ہے
دل مت گنوا، خبر نہ سہی سیر ہی سہیاے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
زنجیر یاد پڑتی ہے، جادے کو دیکھ کراُس چشم سے ہنوز نگہ یادگار ہے
سودائیٔ خیال ہے طوفانِ رنگ و بویاں ہے کہ داغِ لالہ، دماغِ بہار ہے
بھونچال میں گرا تھا یہ آئینہ طاق سےحیرت شہیدِ جنبشِ ابروئے یار ہے
حیراں ہوں شوخیٔ رگِ یاقوت دیکھ کریاں ہے کہ صحبتِ خس و آتش برار ہے
غفلت کفیلِ عمر و اسدؔ ضامنِ نشاطاے مرگِ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
ہے انتظار سے شرر آبادِ رُست خیزمژگانِ کوہ کُن رگِ خارا کہیں جسے
حسرت نے لا رکھا تری بزمِ خیال میںگلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے
کس فرصتِ وصال پہ ہے گل کو عندلیبزخمِ فراق خندۂ بے جا کہیں جسے
یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیویہ محشرِ خیال کہ دنیا کہیں جسے
درکار ہے شگفتنِ گل ہائے عیش کوصبحِ بہار، پنبۂ مینا کہیں جسے
پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خداافسونِ انتظار، تمنا کہیں جسے
سر پر ہجومِ دردِ غریبی سے ڈالیےوہ ایک مشتِ خاک کہ صحرا کہیں جسے
ہے چشمِ تر میں حسرتِ دیدار سے نہاںشوقِ عناں گسیختہ، دریا کہیں جسے
درکار ہے شگفتنِ گلہائے عیش کوصبحِ بہار پنبۂ مینا کہیں جسے
غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہےایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے؟
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہےداغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے
دل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدارآئینہ بہ دستِ بتِ بد مستِ حنا ہے
شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کیجی کس قدر افسردگیٔ دل پہ جلا ہے
تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوقآئینہ بہ اندازِ گل آغوش کشا ہے
قمری کفِ خاکستر و بلبل قفسِ رنگاے نالہ! نشانِ جگرِ سوختہ کیا ہے؟
خو نے تری افسردہ کیا وحشتِ دل کومعشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
مجبوری و دعوائے گرفتاریٔ الفتدستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے
معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہتیغِ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب اِدھر بھیسائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
سر رشتۂ بے تابیٔ دل در گرہِ عجزپرواز بہ خوں خُفتہ و فریاد رسا ہے
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے دادیا رب اگر اِن کردہ گناہوں کی سزا ہے
بیگانگیٔ خلق سے بے دل نہ ہو غالبؔکوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خدا ہے
منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کیقسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
اِک خوں چکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکوکیا بات ہے تمھاری شرابِ طہور کی!
لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنجاڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیںکعبے سے اِن بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدرکی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی
غالبؔ گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہہے یوں کہ مجھے دُردِ تہِ جام بہت ہے
نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میںگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائیپاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے
ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟پا بستگیٔ رسم و رہِ عام بہت ہے
زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حرم سے؟آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کوانکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے
خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگرہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے
ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے؟شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوشِ قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کوعرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئے
پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دمبرسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے
پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفَسمدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوئے
پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشقسامانِ صد ہزار نمک داں کیے ہوئے
پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خونِ دلسازِ چمن طرازیٔ داماں کیے ہوئے
باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیبنظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے
دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہےپندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلبعرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کیے ہوئے
دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیالصد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولناجاں نذرِ دل فریبیٔ عنواں کیے ہوئے
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوسزلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزوسرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے
اک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہچہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے
پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیںسر زیر بارِ منتِ درباں کیے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دنبیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سےبیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کیے ہوئے
نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیےرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لیے
بلا سے! گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہےرکھوں کچھ اپنی ہی مژگانِ خوں فشاں کے لیے
وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناسِ خلق اے خضرنہ تم کہ چور بنے عمرِ جاوداں کے لیے
رہا بلا میں بھی، میں مبتلائے آفتِ رشکبلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے
فلک نہ دور رکھ اُس سے مجھے، کہ میں ہی نہیںدراز دستیٔ قاتل کے امتحاں کے لیے
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیرکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا، مری جو شامت آئےاٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزلکچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
دیا ہے خلق کو بھی، تا اسے نظر نہ لگےبنا ہے عیش تجمُّل حسین خاں کے لیے
زباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیاکہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
نصیرِ دولت و دیں اور معینِ ملّت و ملکبنا ہے چرخِ بریں جس کے آستاں کے لیے
زمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائشبنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہےسفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے
ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سراصلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے
آپ نے مَسَّنيَ الضُّر کہا ہے تو سہییہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی
رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سرذہن میں خوبیٔ تسلیم و رضا ہے تو سہی
ہے غنیمت کہ بہ اُمّید گزر جائے گی عُمرنہ ملے داد، مگر روزِ جزا ہے تو سہی
دوست ہی کوئی نہیں ہے، جو کرے چارہ گرینہ سہی، لیک تمنّائے دوا ہے تو سہی
غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اُس نےنہ سہی ہم سے، پر اُس بُت میں وفا ہے تو سہی
نقل کرتا ہوں اسے نامۂ اعمال میں مَیںکچھ نہ کچھ روزِ ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔشہرۂ تیزیٔ شمشیرِ قضا ہے تو سہی
لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئےجان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دِل آئے
ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزریدوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آئے
وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!ساتھ حُجّاج کے اکثر کئی منزِل آئے
آئیں جس بزم میں وہ، لوگ پکار اٹھتے ہیں"لو وہ برہم زنِ ہنگامۂ محفل آئے"
دیدہ خوں بار ہے مدّت سے، ولے آج ندیمدل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے، نہ کریںعکس تیرا ہی مگر، تیرے مقابِل آئے
موت بس ان کی ہے، جو مر کے وہیں دفن ہوئےزیست ان کی ہے، جو اس کے کوچے سے گھائل آئے
بن گیا سبحہ وہ زنار، خدا خیر کرے!وہ جو نازک ہے کمر، اس پہ بہت دل آئے
اب ہے دِلّی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ!آج ہم حضرتِ نوّاب سے بھی مِل آئے
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیتم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی
غیر کی مرگ کا غم کس لیے، اے غیرتِ ماہ!ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا اور سہی
تم ہو بت، پھر تمھیں پندارِ خُدائی کیوں ہے؟تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی
حُسن میں حُور سے بڑھ کر نہیں ہونے کی کبھیآپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی
تیرے کوچے کا ہے مائل دلِ مضطر میراکعبہ اک اور سہی، قبلہ نما اور سہی
کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے، واعظ!خلد بھی باغ ہے، خیر آب و ہوا اور سہی
کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا ربسیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
مجھ کو وہ دو۔ کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوںزہر کچھ اور سہی، آبِ بقا اور سہی
مجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائیایک بیداد گرِ رنج فزا اور سہی