دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 18: غزلیات — ردیف و

حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہوکہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظّارہ سے وا ہو

بہ قدرِ حسرتِ دل چاہیے ذوقِ معاصی بھیبھروں یک گوشۂ دامن گر آبِ ہفت دریا ہو

اگر وہ سرو قد گرمِ خرامِ ناز آ جاوےکفِ ہر خاکِ گلشن، شکلِ قمری، نالہ فرسا ہو

بہم بالیدنِ سنگ و گلِ صحرا یہ چاہے ہےکہ تارِ جادہ بھی کہسار کو زنارِ مینا ہو

حریفِ وحشتِ نازِ نسیمِ عشق جب آؤںکہ مثلِ غنچہ، سازِ یک گلستاں دل مہیا ہو

بجائے دانہ خرمن یک بیابان بیضۂ قمریمرا حاصل وہ نسخہ ہے کہ جس سے خاک پیدا ہو

کرے کیا سازِ بینش وہ شہیدِ دردِ آگاہیجسے موئے دماغِ بے خودی، خوابِ زلیخا ہو

دلِ چوں شمع، بہرِ دعوتِ نظارہ لا، جس سےنگہ لب ریزِ اشک و سینہ معمورِ تمنا ہو

نہ دیکھیں روئے یک دل سر د، غیر از شمعِ کافوریخدایا، اس قدر بزمِ اسدؔ گرمِ تماشا ہو

آئی اگر بلا، تو جگہ سے ٹلے نہیںایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کِشت کو

کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیںبھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کُنِشت کو

طاعت میں تا، رہے نہ مے و انگبیں کی لاگدوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سےٹیڑھا لگا ہے قط قلمِ سر نَوِشت کو

غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لَہنا نہیں مجھےخِرمن جلے اگر نہ مَلخ کھائے کِشت کو

وارَستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کاہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو

پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوایوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو

ڈالا نہ بےکسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

ہنگامۂ زبونیٔ ہمّت ہے، انفعالحاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہو

وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو

مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟عمرِ عزیز صَرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔاس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو

نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہےنہ دی ہوتی خدا یا آرزوئے دوست، دشمن کو

نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پرکیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو

خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میںکبھی میرے گریباں کو، کبھی جاناں کے دامن کو

ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے تَوسن کو

ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کاکیا بے تاب کاں میں، جنبشِ جوہر نے آہن کو

خوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آوےسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو

وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہےمَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کوجہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو

نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتارہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو

سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کےجگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو

مرے شاہِ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔفریدون و جم و کَیخُسرو و داراب و بہمن کو

واں اس کو ہَولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمساریعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو

اپنے کو دیکھتا نہیں ذوقِ ستم کو دیکھآئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو

واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوصد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کو

دل کو میں اور مجھے دل محوِ وفا رکھتا ہےکس قدر ذوقِ گرفتاریٔ ہم ہے ہم کو

ضعف سے نقشِ پئے مور، ہے طوقِ گردنترے کوچے سے کہاں طاقتِ رم ہے ہم کو

جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امّید بھی ہویہ نگاہِ غلط انداز تو سَم ہے ہم کو

رشکِ ہم طرحی و دردِ اثرِ بانگِ حزیںنالۂ مرغِ سحر تیغِ دو دم ہے ہم کو

سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرّر چاہاہنس کے بولے کہ "ترے سر کی قسم ہے ہم کو!"

دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ و لیکن ناچارپاسِ بے رونقیٔ دیدہ اہم ہے ہم کو

تم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہوہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو

لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنیہوسِ سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو

مقطعِ سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہرعزمِ سیرِ نجف و طوفِ حرم ہے ہم کو

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع غالبؔجادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو

ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادی کروبرق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو

طاقتِ رنجِ سفر بھی نہیں پاتے اتنیہجرِ یارانِ وطن کا بھی الم ہے ہم کو

لائی ہے معتمد الدولہ بہادر کی امیدجادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو

تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

بچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سےقاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو

کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو

ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے، ایک تارمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قیدمسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو

سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درستلیکن خدا کرے وہ تِرا جلوہ گاہ ہو

غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیںدنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو

ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصالکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو

ادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجےحیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو

تمھیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کابتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو

الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو

جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا ساوہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو

ہمیں پھر ان سے امید اور انھیں ہماری قدرہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہو

غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کانہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو

بتاؤ اُس مِژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قراریہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہو

مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بہ قولِ حضور"فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو"

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہونہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیںسبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو

کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کونہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہراتو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدمگری ہے جس پہ کل بجلی، وہ میرا آشیاں کیوں ہو

یہ کہہ سکتے ہو "ہم دل میں نہیں ہیں" پر یہ بتلاؤکہ جب دل میں تمھیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو

غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہےنہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہےہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیںعدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو

کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائیبجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیےکوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو بیمارداراور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو