دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 17: غزلیات — ردیف ن

خوش وحشتے کہ عرضِ جنونِ فنا کروںجوں گردِ راہ، جامۂ ہستی قبا کروں

گر بعدِ مرگ وحشتِ دل کا گلہ کروںموجِ غبار سے پرِ یک دشت وا کروں

آ، اے بہارِ ناز! کہ تیرے خرام سےدستار گردِ شاخِ گلِ نقشِ پا کروں

خوش اوفتادگی! کہ بہ صحرائے انتظارجوں جادہ، گردِ رہ سے نگہ سرمہ سا کروں

صبر اور یہ ادا کہ دل آوے اسیرِ چاکدرد اور یہ کمیں کہ رہِ نالہ وا کروں

وہ بے دماغِ منتِ اقبال ہوں کہ میںوحشت بہ داغِ سایۂ بالِ ہما کروں

وہ التماسِ لذتِ بیداد ہوں کہ میںتیغِ ستم کو پشتِ خمِ التجا کروں

وہ رازِ نالہ ہوں کہ بہ شرحِ نگاہِ عجزافشاں غبارِ سرمہ سے فردِ صدا کروں

لوں وام بختِ خفتہ سے یک خوابِ خوش ولےغالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں

وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

فرصتِ کاروبارِ شوق کسےذوقِ نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہاشورِ سودائے خطّ و خال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصّور سےاب وہ رعنائیٔ خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونادل میں‌ طاقت، جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا "قمار خانۂ عشق"واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوںمیں کہاں اور یہ وبال کہاں

فلکِ سفلہ بے محابا ہےاس ستم گر کو انفعال کہاں؟

بوسے میں وہ مضائقہ نہ کرےپر مجھے طاقتِ سوال کہاں؟

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔوہ عناصر میں اعتدال کہاں

کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر، ان سےکہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیں

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انھیں کچھ نہ کہوجو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں

دل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سےاُور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخارِ رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں

اک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے گا کیاآگ مطلوب ہے ہم کو، جو ہَوا کہتے ہیں

دیکھیے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگاُس کی ہر بات پہ ہم نامِ خدا کہتے ہیں

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شایدمر گیا غالبِؔ آشفتہ نوا، کہتے ہیں

آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیںہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں

ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں

ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتابذرّے اُس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں

کیا کہوں تاریکیٔ زندانِ غم، اندھیر ہےپنبہ، نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں‌ نہیں

رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں

زخم سِلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذّت زخمِ سوزن میں نہیں

بس کہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوئےجلوۂ گُل کے سِوا گرد اپنے مدفن میں نہیں

قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کاخُوں بھی ذوقِ درد سے، فارغ مرے تن میں نہیں

لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مریموجِ مے کی آج رگ، مینا کی گردن میں نہیں

ہو فشارِ ضعف میں کیا نا توانی کی نمود؟قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں

تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدربے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں

آنسو کہوں کہ، آہ، سوارِ ہوا کہوںایسا عناں گسیختہ آیا کہ کیا کہوں

اقبالِ کلفتِ دلِ بے مدعا رسااختر کو داغِ سایہِ بال ہما کہوں

مضمون وصل ہاتھ نہ آیا مگر اسےاب طائر پریدہ رنگ حنا کہوں

عہدے سے مدح‌ِ ناز کے باہر نہ آ سکاگر اک ادا ہو تو اُسے اپنی قضا کہوں

حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بہ سوئے دلہر تارِ زلف کو نگہِ سُرمہ سا کہوں

میں اور صد ہزار نوائے جگر خراشتو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں

ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہہَے ہَے خُدا نہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں

ز دیدنِ دلِ ستم آمادہ ہے محالمژگاں کہوں کہ جوہر تیغِ قضا کہوں

طرز آفرینِ نکتہ سرائی طبع ہےآئینہ خیال کو طوطی نما کہوں

مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقتمیں گیا وقت نہیں ہوں ‌کہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہےبات کچھ سَر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر، ورنہکیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مے پرستی ایک دنورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن

غَرَّۂ اوجِ بِنائے عالمِ امکاں نہ ہواِس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

نغمہ ہائے غم کو ہی اے دل غنیمت جانیےبے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن

دَھول دَھپّا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیںہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیںاِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں

کس منہ سے شکر کیجیے اس لطف خاص کاپرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں

ہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیزنا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں

بوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہیآخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں

ہر چند جاں گدازیٔ قہر و عتاب ہےہر چند پشت گرمیٔ تاب و تواں نہیں

جاں مطربِ ترانہ هَل مِن مَّزيد ہےلب پردہ سنجِ زمزمۂِ الاَماں نہیں

خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیمدل میں چُھری چبھو مژہ گر خون چکاں نہیں

ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہوہے عارِ دل نفس اگر آذر فشاں نہیں

نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خرابسو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں

کہتے ہو "کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں"گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں

پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کیرُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں

جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھیغالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں‌ نہیں

مانعِ دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں

شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو، کہ جہاںجادہ غیر از نگہِ دیدۂِ تصویر نہیں

حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہےجادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں

رنجِ نومیدیٔ جاوید گوارا رہیوخوش ہوں گر نالہ زبونی کشِ تاثیر نہیں

سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائےلذّتِ سنگ بہ اندازۂِ تقریر نہیں

جب کرم رخصتِ بے باکی و گستاخی دےکوئی تقصیر بہ جُز خجلتِ تقصیر نہیں

آئینہ دام کو سبزے میں چھپاتا ہے عبثکہ پری زادِ نظر قابلِ تسخیر نہیں

مثلِ گُل زخم ہے میرا بھی سناں سے توامتیرا ترکش ہی کچھ آبِستنِ تیر نہیں

میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔجس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں

غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ"آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں"

مت مَردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیںہیں جمع سُویدائے دلِ چشم میں آہیں

جوں مردمکِ چشم میں ہوں جمع نگاہیںخوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں

پھر حلقۂ کاکل میں پڑیں دید کی راہیںجوں دود، فراہم ہوئیں روزن میں نگاہیں

پایا سرِ ہر ذرّہ جگر گوشۂ وحشتہیں داغ سے معمور شقایق کی کلاہیں

کس دل پہ ہے عزمِ صفِ مژگانِ خود آرا؟آئینے کی پایاب سے اتری ہیں سپاہیں

دیر و حرم، آئینۂ تکرارِ تمناواماندگیٔ شوق تراشے ہے پناہیں

یہ مطلع، اسدؔ، جوہرِ افسونِ سخن ہوگر عرضِ تپاکِ نفسِ سوختہ چاہیں

حسرت کشِ یک جلوۂ معنی ہیں نگاہیںکھینچوں ہوں سویدائے دلِ چشم سے آہیں

صاف ہے از بس کہ عکسِ گل سے، گل زار چمنجانشینِ جوہرِ آئینہ ہے، خارِ چمن

برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیےکھِل گئی مانندِ گُل سَو جا سے دیوارِ چمن

اُلفتِ گل سے غلط ہے دعویٔ وارستگیسرو ہے با وصفِ آزادی گرفتارِ چمن

ہے نزاکت بس کہ فصلِ گل میں معمارِ چمنقالبِ گل میں ڈھلی ہے خشتِ دیوارِ چمن

تیری آرائش کا استقبال کرتی ہے بہارجوہرِ آئینہ، ہے یاں نقشِ احضارِ چمن

بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکستہے کلاہِ نازِ گل، بر طاقِ دیوارِ چمن

وقت ہے، گر بلبلِ مسکیں زلیخائی کرےیوسفِ گل جلوہ فرما ہے بہ بازارِ چمن

وحشت افزا گریہ ہا موقوفِ فصلِ گل، اسدؔچشمِ دریا بار ہے میزابِ سرکارِ چمن

عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری شجرِ بید نہیں

سلطنت دست بہ دَست آئی ہےجامِ مے خاتمِ جمشید نہیں

ہے تجلی تری سامانِ وجودذرّہ بے پرتوِ خورشید نہیں

رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائےورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں

گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہےغمِ محرومیٔ جاوید نہیں

کہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگہم کو جینے کی بھی امّید نہیں

مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصلبادہ، غالبؔ! عرقِ بید نہیں

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں

دل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں

ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

تماشا! کہ اے محوِ آئینہ داریتجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں

سراغِ تُفِ نالہ لے داغِ دل سےکہ شب رَو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

کسو کو ز خود رستہ کم دیکھتے ہیںکہ آہو کو پابندِ رم دیکھتے ہیں

خطِ لختِ دل یک قلم دیکھتے ہیںمژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

سرابِ یقین ہیں پریشان نگاہاںاسدؔ کو گر از چشمِ کم دیکھتے ہیں

کہ ہم بیضۂ طوطیٔ ہند، غافلتہِ بالِ شمعِ حرم دیکھتے ہیں

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔتماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میںکافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں

کب سے ہُوں۔ کیا بتاؤں، جہانِ خراب میںشب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھرآنے کا عہد کر گئے، آئے جو خواب میں

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوںمیں جانتا ہوں جو، وہ لکھیں گے جواب میں

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جامساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

جو منکرِ وفا ہو، فریب اس پہ کیا چلےکیوں بد گماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں

میں مضطرب ہُوں وصل میں خوفِ رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں

میں اور حظِّ وصل خدا ساز بات ہےجاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں

ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کےہے اک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں

لاکھوں لگاؤ ایک چُرانا نگاہ کالاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں

وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائےجس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں

وہ سحر مدعا طلبی میں کام نہ آئےجس سِحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

غالبؔ چُھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھیپیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں

کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میںیہ سُوء ظن ہے ساقیٔ کوثر کے باب میں

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماعگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

رَو میں‌ ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہےجتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میں

اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میں

آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں

ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں‌ خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں

غالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوستمشغولِ حق ہوں، بندگیٔ بُوتراب میں

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوںہر اک سے پُوچھتا ہوں کہ "جاؤں کدھر کو مَیں"

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار باراے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو مَیں

ہے کیا، جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرےکیا جانتا نہیں ہُوں تمھاری کمر کو مَیں

لو، وہ بھی کہتے ہیں کہ "یہ بے ننگ و نام ہے"یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیں

چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھپہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیں

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرارکیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیں

پھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یارجاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیں

اپنے پہ کر رہا ہُوں قیاس اہلِ دہر کاسمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہُنر کو مَیں

غالبؔ خدا کرے کہ سوارِ سمندِ نازدیکھوں علی بہادرِ عالی گُہر کو مَیں

ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں

وعدۂ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوقمژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں

شاہدِ ہستیٔ مطلق کی کمر ہے عالَملوگ کہتے ہیں کہ "ہے" پر ہمیں‌ منظور نہیں

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکنہم کو تقلیدِ تُنُک ظرفیٔ منصور نہیں

حسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہیعشقِ پُر عربَدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں

ظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہوتُو تغافل میں ‌کسی رنگ سے معذور نہیں

میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمھیںکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ "ہم حور نہیں"

پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہےمحوِ نسبت ہیں، تکلّف ہمیں منظور نہیں

صاف دُردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگوائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں

ہُوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔمیرے دعوے پہ یہ حجّت ہےکہ مشہور نہیں

نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیں

عشق و مزدوریٔ عشرت گہِ خسرو، کیا خُوب!ہم کو تسلیم، نکو نامیٔ فرہاد نہیں

کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں

اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتبلَطمۂ موج کم از سیلیٔ استاد نہیں

وائے مظلومیٔ تسلیم! و بدا! حالِ وفا!جانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں

رنگِ تمکینِ گُل و لالہ پریشاں کیوں ہے؟گر چراغانِ سرِ راہ گُزرِ باد نہیں

سَبَدِ گُل کے تلے بند کرے ہے گل چیں!مژدہ اے مرغ! کہ گل زار میں صیّاد نہیں

نفی سے کرتی ہے اِثبات طَراوِش گویادی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد ”نہیں“

کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے ولے، اس قدر آباد نہیں

کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔتم کو بے مہریٔ یارانِ وطن یاد نہیں؟

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہایاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئےتیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں؟

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہلِ بزم؟ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں؟

ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیںدامنِ تمثال آبِ آئینہ سے تر نہیں

ہے وطن سے باہر اہلِ دل کی قدر و منزلتعزلت آبادِ صدف میں قیمتِ گوہر نہیں

ہوتے ہیں بے قدر در کنجِ وطن صاحب دلاںعزلت آبادِ صدف میں قیمتِ گوہر نہیں

باعثِ ایذا ہے برہم خوردنِ بزمِ سرورلخت لختِ شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں

واں سیاہی مردمک ہے اور یاں داغِ شرابمہ حریفِ نازشِ ہم چشمیٔ ساغر نہیں

ہے فلک بالا نشینِ فیضِ خم گر دیدنیعاجزی سے ظاہرا رتبہ کوئی برتر نہیں

دل کو اظہارِ سخن اندازِ فتح الباب ہےیاں صریرِ خامہ غیر از اصطکاکِ در نہیں

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگرعشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں

کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباںطاقتِ لب تشنگی اے ساقیٔ کوثر نہیں

سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میںرہے یاں، شوخیٔ رفتار سے، پا آستانے میں

ہجومِ مژدۂ دیدار، و پردازِ تماشا ہاگلِ اقبالِ خس ہے چشمِ بلبل، آشیانے میں

ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سےکہ طوطی قفلِ زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں

ترے کوچے میں ہے، مشاطۂ واماندگی، قاصدپرِ پرواز، زلفِ باز ہے ہدہد کے شانے میں

کجا معزولیٔ آئینہ؟ کُو ترکِ خود آرائی؟نمد در آب ہے، اے سادہ پُرکار، اس بہانے میں

بہ حکمِ عجز، ابروئے مہِ نو حیرت ایما ہےکہ یاں گم کر جبینِ سجدہ فرسا آستانے میں

قیامت ہے کہ سُن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آناتعجّب سے وہ بولا "یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں؟"

دلِ نازک پہ اُس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔنہ کر سرگرم اُس کافر کو اُلفت آزمانے میں

ہے ترحم آفریں، آرائشِ بیداد، یاںاشکِ چشمِ دام ہے، ہر دانۂ صیاد، یاں

ہے، گدازِ موم، اندازِ چکیدن ہائے خوںنیشِ زنبورِ عسل، ہے نشترِ فصاد، یاں

ناگوارا ہے ہمیں، احسانِ صاحبِ دولتاںہے، زرِ گل بھی، نظر میں جوہرِ فولاد، یاں

جنبشِ دل سے ہوئے ہیں، عقدہ ہائے کار، واکم تریں مزدورِ سنگیں دست ہے، فرہاد، یاں

دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنابارے اپنی بے کسی کی ہم نے پائی داد، یاں

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تماممہرِ گردوں ہے چراغِ رہگزارِ باد، یاں

قطرہ ہائے خونِ بسمل زیبِ داماں ہیں، اسدؔہے تماشا کردنی گل چینیٔ جلاد، یاں

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

نظر لگے نہ کہیں اُس کے دست و بازو کویہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

ترے جواہرِ طرفِ کُلہ کو کیا دیکھیںہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں

نہیں، کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں

کوئی کہے کہ "شبِ مَہ میں کیا بُرائی ہے"بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں

جو آؤں سامنے اُن کے تو مرحبا نہ کہیںجو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیں

کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں، تو کہتے ہیںکہ "آج بزم میں کچھ فتنۂ و فساد نہیں"

علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شرابگدائے کُوچۂ مے خانہ نا مراد نہیں

جہاں میں ہو غم و شادی بہم، ہمیں کیا کام؟دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں

تم اُن کے وعدے کا ذکر اُن سے کیوں کرو غالبؔیہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ"یاد نہیں"

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہَوا باندھتے ہیں

آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی اک اپنی ہَوا باندھتے ہیں

تیری فرصت کے مقابل اے عُمْر!برق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں

قیدِ ہستی سے رہائی معلوم!اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں

نشۂ رنگ سے ہے واشُدِ گلمست کب بندِ قبا باندھتے ہیں

غلطی ہائے مضامیں مت پُوچھلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

اہلِ تدبیر کی واماندگیاںآبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں

سادہ پُرکار ہیں خوباں غالبؔہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں

پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیںمیرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں

تنِ بہ بندِ ہوس در نہ دادہ رکھتے ہیںدلِ زکارِ جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں

تمیزِ زشتی و نیکی میں لاکھ باتیں ہیںبہ عکسِ آئینہ یک فردِ سادہ رکھتے ہیں

بہ رنگِ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیمکہ داغِ دل بہ جبینِ کشادہ رکھتے ہیں

بہ زاہداں، رگِ گردن، ہے رشتۂ زنارسرِ بپائے بتے نا نہادہ رکھتے ہیں

معافِ بیہُدہ گوئی ہیں ناصحانِ عزیزدلے بہ دستِ نگارے نہ دادہ رکھتے ہیں

بہ رنگِ سبزہ، عزیزانِ بد زباں یک دستہزار تیغ بہ زہراب دادہ رکھتے ہیں

ادب نے سونپی ہمیں سرمہ سائیٔ حیرتزبانِ بستہ و چشمِ کشادہ رکھتے ہیں

زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدؔوگرنہ ہم تو توقُّع زیادہ رکھتے ہیں

دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہُوں میں

کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دلانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہُوں میں

یا رب، زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہُوں میں

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطےآخر گناہ گار ہُوں کافَر نہیں ہُوں میں

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے؟لعل و زمرّد و زر و گوہر نہیں ہُوں میں

رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ؟رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہُوں میں؟

کرتے ہو مجھ کو منعِ قدم بوس کس لیے؟کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہُوں میں؟

غالبؔ وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعاوہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہُوں میں

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!

یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاںلیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں

تھیں بَنَات النّعشِ گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبرلیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں

سب رقیبوں سے ہوں نا خوش، پر زنانِ مصر سےہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں

جُوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراقمیں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں

ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقامقدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں

نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے، راتیں اُس کی ہیںتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کُھل گیابلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

وہ نگاہیں کیوں ہُوئی جاتی ہیں یا رب دل کے پار؟جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں

بس کہ روکا میں نے اور سینے میں اُبھریں پَے بہ پَےمیری آہیں بخیئہ چاکِ گریباں ہو گئیں

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب؟یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں

جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیاسب لکیریں ہاتھ کی گویا، رگِ جاں ہو گئیں

ہم موَحِّد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسُوممِلّتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں

رنج سے خُوگر ہُوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں مجھ پر پڑِیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاںدیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںیعنی ہمارے جَیب میں اک تار بھی نہیں

دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں

ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہےدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں

بے عشق عُمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاںطاقت بہ قدرِ لذّتِ آزار بھی نہیں

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوشصحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں

گنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرفیاں دل میں ضعف سے ہَوَسِ یار بھی نہیں

ڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خُدا کو مانآخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیں

دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے رُو کشیحالاں کہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں

اس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں

فزوں کی دوستوں نے حرصِ قاتل ذوقِ کشتن میںہوئے ہیں بخیہ ہائے زخم، جوہر تیغِ دشمن میں

تماشا کردنی ہے لطفِ زخمِ انتظار اے دلسوادِ زخمِ مرہم مردمک ہے چشمِ سوزن میں

دل و دین و خرد، تاراجِ نازِ جلوہ پیرائیہوا ہے جوہرِ آئینہ خَیلِ مور خرمن میں

نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میںہُوا ہے تارِ اشکِ یاس، رشتہ چشمِ سوزن میں

ہُوئی ہے مانعِ ذوقِ تماشا، خانہ ویرانیکفِ سیلاب باقی ہے بہ رنگِ پنبہ روزن میں

ودیعت خانۂ بے دادِ کاوش ہائے مژگاں ہوںنگینِ نامِ شاہد ہے مِرا ہر قطرہ خوں تن میں

بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کیشبِ مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں

نِکوہش مانعِ بے ربطیٔ شورِ جنوں آئیہُوا ہے خندۂ احباب بخیہ جَیب و دامن میں

ہوئے اُس مِہر وَش کے جلوۂ تمثال کے آگےپَر افشاں جوہر آئینے میں مثلِ ذرّہ روزن میں

نہ جانوں نیک ہُوں یا بد ہُوں، پر صحبت مخالف ہےجو گُل ہُوں تو ہُوں گلخن میں جو خس ہُوں تو ہُوں گلشن میں

ہزاروں دل دیے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کوسِیہ ہو کر سُوَیدا ہو گیا ہر قطرہ خوں تن میں

اسدؔ زندانیٔ تاثیرِ الفت ہائے خوباں ہُوںخمِ دستِ نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں

مگر غبار ہُوئے پر، ہَوا اُڑا لے جائےوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں

یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟کہ غیرِ جلوۂ گُل رہ گزر میں خاک نہیں

بھلا اُسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں

خیالِ جلوۂ گُل سے خراب ہیں مے کششراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں

ہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہسوائے حسرتِ تعمیر، گھر میں خاک نہیں

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔکُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں؟

دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟

جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روزآپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں؟

دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہتیرا ہی عکسِ رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟

واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضعراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟

ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟

غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا؟ کیجیے ہائے ہائے کیوں؟

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سے مجھے بتا کہ یُوں

پُرسِشِ طرزِ دلبری کیجیے کیا؟ کہ بن کہےاُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں

رات کے وقت مَے پِیے ساتھ رقیب کو لیےآئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یُوں

"غیر سے رات کیا بنی" یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا اور یہ دیکھنا کہ یُوں

بزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیےاُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوں

میں نے کہا کہ "بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی"سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟

مجھ سے کہا جو یار نے "جاتے ہیں ہوش کس طرح"دیکھ کے میری بے خودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوں

کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں

گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوں

جو یہ کہے کہ "ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی؟"گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں

ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوںمیں دشتِ غم میں آہوئے صیّاد دیدہ ہوں

ہوں دردمند، جبر ہو یا اختیار ہوگہ نالۂ کشیدہ، گہ اشکِ چکیدہ ہوں

نے سُبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے رابطہمیں معرضِ مثال میں دستِ بریدہ ہوں

ہوں خاکسار پر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگنے دانۂ فتادہ ہوں، نے دامِ چیدہ ہوں

جو چاہیے، نہیں وہ مری قدر و منزلتمیں یوسفِ بہ قیمتِ اوّل خریدہ ہوں

ہر گز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہہوں میں کلامِ نُغز، ولے نا شنیدہ ہوں

اہلِ وَرَع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیلپر عاصیوں کے زمرے میں مَیں برگزیدہ ہوں

ہوں گرمیٔ نشاطِ تصوّر سے نغمہ سنجمیں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں

جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہناز بس کہ تلخیٔ غمِ ہجراں چشیدہ ہوں

ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاںخارِ الم سے پشت بہ دنداں گزیدہ ہوں

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کُن کے پاؤںہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیر زن کے پاؤں

بھاگے تھے ہم بہت سو، اسی کی سزا ہے یہہو کر اسیر دابتے ہیں راہ زن کے پاؤں

مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دورتن سے سوا فِگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں

اللّٰہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگہلتے ہیں خود بہ خود مرے، اندر کفن کے، پاؤں

ہے جوشِ گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرفاڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں

بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے، شیخ جیکعبے میں، کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں

شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیںدکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں

غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہوپیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں