دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 13: غزلیات — ردیف ک

زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمککیا مزا ہوتا، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک

گردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دلورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک

مجھ کو ارزانی رہے، تجھ کو مبارک ہو جیونالۂ بُلبُل کا درد اور خندۂ گُل کا نمک

شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آجگِردِ ساحل ہے بہ زخمِ موجۂ دریا نمک

داد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی، واہ واہ!یاد کرتا ہے مجھے، دیکھے ہے وہ جس جا نمک

چھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہےدل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک

غیر کی منت نہ کھینچوں گا پَے توفیرِ دردزخم، مثلِ خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک

اس عمل میں عیش کی لذٓت نہیں ملتی اسدؔزورِ نسبت مَے سے رکھتا ہے نصارا کا نمک

یاد ہیں غالبؔ! تُجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میںزخم سے گرتا، تو میں پلکوں سے چُنتا تھا نمک

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تککون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگدیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تابدل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکنخاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

پرتوِ خُور سے، ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں، ایک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل!گرمیٔ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک

تا قیامت شبِ فرقت میں گزر جائے گی عمرسات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک

غمِ ہستی کا، اسدؔ! کس سے ہو جُز مرگ، علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایکوضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک

ہم سخن اور ہم زباں، حضرتِ قاسم و طپاںایک تپش کا جانشین، درد کی یادگار ایک

نقدِ سخن کے واسطے ایک عیارِ آگہیشعر کے فن کے واسطے، مایۂ اعتبار ایک

ایک وفا و مہر میں تازگیٔ بساطِ دہرلطف و کرم کے باب میں زینتِ روزگار ایک

گُل کدۂ تلاش کو، ایک ہے رنگ، اک ہے بوریختہ کے قماش کو، پود ہے ایک، تار ایک

مملکتِ کمال میں ایک امیرِ نامورعرصۂ قیل و قال میں، خسروِ نام دار ایک

گلشنِ اتّفاق میں ایک بہارِ بے خزاںمے کدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک

زندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمنکُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایک

دونوں کے دل حق آشنا، دونوں رسول پر فِداایک مُحبِّ چار یار، عاشقِ ہشت و چار ایک

جانِ وفا پرست کو ایک شمیمِ نو بہارفرقِ ستیزہ مست کو، ابرِ تگرگِ بار ایک

لایا ہے کہہ کے یہ غزل، شائبۂ رِیا سے دورکر کے دل و زبان کو غالبؔ خاک سار ایک