دیوانِ غالب · مرزا غالب

Chapter 12: غزلیات — ردیف ف

نامہ بھی لکھتے ہو، تو بہ خطِ غبار، حیف!رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت، ہزار حیف!

بیش از نفس، بتاں کے کرم نے وفا نہ کیتھا محملِ نگاہ بہ دوشِ شرار، حیف!

تھی میرے ہی جلانے کو، اے آہ شعلہ ریزگھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار، حیف!

گل چہرہ ہے کسو خفقانی مزاج کاگھبرا رہی ہے بیمِ خزاں سے بہار، حیف!

بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوشمجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار، حیف!

جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اِک بار جل گئےاے ناتمامیٔ نَفَسِ شعلہ بار حیف!

ہیں میری مشتِ خاک سے اُس کو کدورتیںپائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار، حیف!

بنتا، اسدؔ، میں سرمۂ چشمِ رکابِ یارآیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار، حیف!