انتخابِ کلامِ ذوق · محمد ابراہیم ذوق

Chapter 2: قطعات

تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہےاور اگر تو ہی برا ہے تو وہ سچ کہتا ہےکیوں برا کہنے سے تو اس کے برا مانتا ہے

نذر دیں نفس کش کو دنیا دارواہ کیا تیری کارسازی ہےسچ کہا ہے کسی نے یہ اے ذوقؔمال موذی نصیب غازی ہے

جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمالغور سے دیکھو تو اے ذوقؔ ہے ان کا یہ حالجس طرح سے کہ ہنسا دینے کو بے دینوں کےنقل کرتا ہو مسلمان کی کافر نقال

دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دےجس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دےپر ذوقؔ تو نہ چھوڑے گا اس پیر زال کویہ پیر زال گر تجھے چاہے تو چھوڑ دے

The end.