انتخابِ نظیر اکبرآبادی · نظیر اکبرآبادی

Chapter 2: نظمیں

بنجارہ نامہ

ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے ماراقزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقاراکیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گو میں پلا سر بھاراکیا گیہوں چانول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگاراسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراگر تو ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہےاے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہےکیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری ہےکیا داکھ منقی ٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہےسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراتو بدھیا لادے بیل بھرے جو پورب پچھم جاوے گایا سود بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گاقزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گادھن دولت ناتی پوتا کیا اک کنبہ کام نہ آوے گاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراہر منزل میں اب ساتھ ترے یہ جتنا ڈیرا ڈانڈا ہےزر دام درم کا بھانڈا ہے بندوق سپر اور کھانڈا ہےجب نایک تن کا نکل گیا جو ملکوں ملکوں ہانڈا ہےپھر ہانڈا ہے نہ بھانڈا ہے نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہےسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراجب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری رہ جاوے گیاک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گییہ کھیپ جو تو نے لادی ہے سب حصوں میں بٹ جاوے گیدھی پوت جنوائی بیٹا کیا بنجارن پاس نہ آوے گیسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارایہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ کھیپ میاں مت گن اپنیاب کوئی گھڑی پل ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کفنیکیا تھال کٹوری چاندی کی کیا پیتل کی ڈبیا ڈھکنیکیا برتن سونے چاندی کے کیا مٹی کی ہنڈیا چینیسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارایہ دھوم دھڑکا ساتھ لیے کیوں پھرتا ہے جنگل جنگلاک تنکا ساتھ نہ جاوے گا موقوف ہوا جب ان اور جلگھر بار اٹاری چوپاری کیا خاصا نین سکھ اور ململچلون پردے فرش نئے کیا لال پلنگ اور رنگ محلسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراکچھ کام نہ آوے گا تیرے یہ لعل و زمرد سیم و زرجب پونجی باٹ میں بکھرے گی ہر آن بنے گی جان اوپرنوبت نقارے بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکرکیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھترسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراکیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے ان گونوں بھاری بھاری کےجب موت کا ڈیرا آن پڑا پھر دونے ہیں بیوپاری کےکیا ساز جڑاؤ زر زیور کیا گوٹے تھان کناری کےکیا گھوڑے زین سنہری کے کیا ہاتھی لال عماری کےسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارامفرور نہ ہو تلواروں پر مت پھول بھروسے ڈھالوں کےسب پٹا توڑ کے بھاگیں گے منہ دیکھ اجل کے بھالوں کےکیا ڈبے موتی ہیروں کے کیا ڈھیر خزانے مالوں کےکیا بغچے تاش مشجر کے کیا تختے شال دوشالوں کےسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراکیا سخت مکاں بنواتا ہے خم تیرے تن کا ہے پولاتو اونچے کوٹ اٹھاتا ہے واں گور گڑھے نے منہ کھولاکیا رینی خندق رند بڑے کیا برج کنگورا انمولاگڑھ کوٹ رہکلہ توپ قلعہ کیا شیشہ دارو اور گولاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بنٹک غافل دل میں سوچ ذرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمنکیا لونڈی باندی دائی دوا کیا بندا چیلا نیک چلنکیا مندر مسجد تال کنواں کیا کھیتی باڑی پھول چمنسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجاراجب مرگ پھرا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گاکوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سئے اور ٹانکے گاہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گااس جنگل میں پھر آہ نظیرؔ اک تنکا آن نہ جھانکے گاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا

آدمی نامہ

دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

مفلسی

جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی

روٹیاں

جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں

ہولی کی بہاریں

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیاور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیپریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیخم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیمحبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرےکچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرےدل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرےکچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرےکچھ گھنگھرو تال چھنکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

سامان جہاں تک ہوتا ہے اس عشرت کے مطلوبوں کاوہ سب سامان مہیا ہو اور باغ کھلا ہو خوابوں کاہر آن شرابیں ڈھلتی ہوں اور ٹھٹھ ہو رنگ کے ڈوبوں کااس عیش مزے کے عالم میں ایک غول کھڑا محبوبوں کاکپڑوں پر رنگ چھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

گل زار کھلے ہوں پریوں کے اور مجلس کی تیاری ہوکپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہومنہ لال، گلابی آنکھیں ہوں، اور ہاتھوں میں پچکاری ہواس رنگ بھری پچکاری کو انگیا پر تک کر ماری ہوسینوں سے رنگ ڈھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

اس رنگ رنگیلی مجلس میں وہ رنڈی ناچنے والی ہومنہ جس کا چاند کا ٹکڑا ہو اور آنکھ بھی مے کے پیالی ہوبد مست بڑی متوالی ہو ہر آن بجاتی تالی ہومے نوشی ہو بے ہوشی ہو "بھڑوے" کی منہ میں گالی ہوبھڑوے بھی، بھڑوا بکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

اور ایک طرف دل لینے کو محبوب بھویوں کے لڑکےہر آن گھڑی گت بھرتے ہوں کچھ گھٹ گھٹ کے کچھ بڑھ بڑھ کےکچھ ناز جتاویں لڑ لڑ کے کچھ ہولی گاویں اڑ اڑ کےکچھ لچکے شوخ کمر پتلی کچھ ہاتھ چلے کچھ تن بھڑکےکچھ کافر نین مٹکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

یہ دھوم مچی ہو ہولی کی اور عیش مزے کا جھکڑ ہواس کھینچا کھینچ گھسیٹی پر بھڑوے رنڈی کا پھکڑ ہومعجون، شرابیں، ناچ، مزہ، اور ٹکیا سلفا ککڑ ہولڑ بھڑ کے نظیرؔ بھی نکلا ہو، کیچڑ میں لتھڑ پتھڑ ہوجب ایسے عیش مہکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

برسات کی بہاریں

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریںسبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریںبوندوں کی جھمجھماوٹ قطرات کی بہاریںہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

بادل ہوا کے اوپر ہو مست چھا رہے ہیںجھڑیوں کی مستیوں سے دھومیں مچا رہے ہیںپڑتے ہیں پانی ہر جا جل تھل بنا رہے ہیںگلزار بھیگتے ہیں سبزے نہا رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

مارے ہیں موج ڈابر دریا ڈونڈ رہے ہیںمور و پپہیے کوئل کیا کیا رمنڈ رہے ہیںجھڑ کر رہی ہیں جھڑیاں نالے امنڈ رہے ہیںبرسے ہے منہ جھڑا جھڑ بادل گھمنڈ رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جنگل سب اپنے تن پر ہریالی سج رہے ہیںگل پھول جھاڑ بوٹے کر اپنی دھج رہے ہیںبجلی چمک رہی ہے بادل گرج رہے ہیںاللہ کے نقارے نوبت کے بج رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

بادل لگا ٹکوریں نوبت کی گت لگاویںجھینگر جھنگار اپنی سرنائیاں بجاویںکر شور مور بگلے جھڑیوں کا منہ بلاویںپی پی کریں پپیہے مینڈک ملاریں گاویںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

ہر جا بچھا رہا ہے سبزہ ہرے بچھونےقدرت کے بچھ رہے ہیں ہر جا ہرے بچھونےجنگلوں میں ہو رہے ہیں پیدا ہرے بچھونےبچھوا دیے ہیں حق نے کیا کیا ہرے بچھونےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

سبزوں کی لہلہاہٹ کچھ ابر کی سیاہیاور چھا رہی گھٹائیں سرخ اور سفید کاہیسب بھیگتے ہیں گھر گھر لے ماہ تا بماہییہ رنگ کون رنگے تیرے سوا الٰہیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کیا کیا رکھے ہیں یا رب سامان تیری قدرتبدلے ہے رنگ کیا کیا ہر آن تیری قدرتسب مست ہو رہے پہچان تیری قدرتتیتر پکارتے ہیں سبحان تیری قدرتکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئل کی کوک میں بھی تیرا ہی نام ہے گااور مور کی زٹل میں تیرا پیام ہے گایہ رنگ سو مزے کا جو صبح و شام ہے گایہ اور کا نہیں ہے تیرا ہی کام ہے گاکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

بولیں بئے بٹیریں قمری پکارے کو کوپی پی کرے پپیہا بگلے پکاریں تو توکیا حدحدوں کی حق حق کیا فاختوں کی ہو ہوسب رٹ رہے ہیں تجھ کو کیا پنکھ کیا پکھیروکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی ماریں

جو مست ہوں ادھر کے کر شور ناچتے ہیںپیارے کا نام لے کر کیا زور ناچتے ہیںبادل ہوا سے کر کر گھنگھور ناچتے ہیںمینڈک اچھل رہے ہیں اور مور ناچتے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

پھولوں کی سیج اوپر سوتے ہیں کتنے بن بنسو ہیں گلابی جوڑے پھولوں کے ہار ابرنکتنوں کے گھر ہے کھانا سونا لگے ہے آنگنکونے میں پڑ رہی ہیں سر منہ لپیٹ سوگنکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جو خوش ہیں وہ خوشی میں کاٹے ہیں رات ساریجو غم میں ہیں انہوں پر گزرے ہے رات بھاریسینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاریچھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برہ کی ماریکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جو وصل میں ہیں ان کے جوڑے مہک رہے ہیںجھولوں میں جھولتے ہیں گہنے جھمک رہے ہیںجو دکھ میں ہیں سو ان کے سینے پھڑک رہے ہیںآہیں نکل رہی ہیں آنسو ٹپک رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

اب برہنوں کے اوپر ہے سخت بے قراریہر بوند مارتی ہے سینے اپر کٹاریبدلی کی دیکھ صورت کہتی ہیں باری باریہے ہے نہ لی پیا نے اب کے بھی سدھ ہماریکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جب کوئل اپنی ان کو آواز ہے سناتیسنتے ہی غم کو مارے چھاتی ہے امنڈی آتیپی پی کی دھن کو سن کر بے کل ہیں کہتی جاتیمت بول اے پپیہے پھٹتی ہے میری چھاتیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

ہے جن کی سیج سونی اور خالی چارپائیرو رو انہوں نے ہر دم یہ بات ہے سنائیپردیسی نے ہماری اب کے بھی سدھ بھلائیاب کے بھی چھاؤنی جا پردیس میں ہے چھائیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنوں نے اپنی غم سے اب ہے یہ گت بنائیمیلے کچیلے کپڑے آنکھیں بھی ڈبڈبائینے گھر میں جھولا ڈالا نے اوڑھنی رنگائیپھوٹا پڑا ہے چولہا ٹوٹی پڑی کڑھائیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

گاتی ہے گیت کوئی جھولے پہ کر کے پھیرامارو جی آج کیجیے یاں رین کا بسیراہے خوش کسی کو آ کر ہے درد و غم نے گھیرامنہ زرد بال بکھرے اور آنکھوں میں اندھیراکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

اور جن کو اب مہیا حسنوں کی ڈھیریاں ہیںسرخ اور سنہرے کپڑے عشرت کی گھیریاں ہیںمحبوب دلبروں کی زلفیں بکھیریاں ہیںجگنو چمک رہے ہیں راتیں اندھیریاں ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنے تو بھنگ پی پی کپڑے بھگو رہے ہیںباہیں گلوں میں ڈالے جھولوں میں سو رہے ہیںکتنے برہ کے مارے سدھ اپنی کھو رہے ہیںجھولے کی دیکھ صورت ہر آن رو رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

بیٹھے ہیں کتنے خوش ہو اونچے چھوا کے بنگلےپیتے ہیں مے کے پیالے اور دیکھتے ہیں جنگلےکتنے پھرے ہیں باہر خوباں کو اپنے سنگ لےسب شاد ہو رہے ہیں عمدہ غریب کنگلےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنوں کو محلوں اندر ہے عیش کا نظارایا سائبان ستھرا یا بانس کا اساراکرتا ہے سیر کوئی کوٹھے کا لے سہارامفلس بھی کر رہا ہے پولے تلے گزاراکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

چھت گرنے کا کسی جا غل شور ہو رہا ہےدیوار کا بھی دھڑکا کچھ ہوش کھو رہا ہےدر در حویلی والا ہر آن رو رہا ہےمفلس سو جھوپڑے میں دل شاد سو رہا ہےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

مدت سے ہو رہا ہے جن کا مکاں پرانااٹھ کے ہے ان کو مینہ میں ہر آن چھت پہ جاناکوئی پکارتا ہے ٹک موری کھول آناکوئی کہے ہے چل بھی کیوں ہو گیا دواناکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئی پکارتا ہے لو یہ مکان ٹپکاگرتی ہے چھت کی مٹی اور سائبان ٹپکاچھلنی ہوئی اٹاری کوٹھا ندان ٹپکاباقی تھا اک اسارا سو وہ بھی آن ٹپکاکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

اونچا مکان جس کا ہے پچ کھنا سوایااوپر کا کھن ٹپک کر جب پانی نیچے آیااس نے تو اپنے گھر میں ہے شور غل مچایامفلس پکارتے ہیں جانے ہماراکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

سبزوں پہ بیر بھوٹی ٹیلوں اپر دھتورےپسو سے مچھروں سے روئے کوئی بسورےبچھو کسی کو کاٹے کیڑا کسی کو گھورےآنگن میں کنسلائی کونوں میں کھن کھجورےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

پھنسی کسی کے تن میں سر پر کسی کے پھوڑےچھاتی یہ گرمی دانے اور پیٹھ میں دودڑےکھا پوریاں کسی کو ہیں لگ رہے مروڑےآتے ہیں دست جیسے دوڑیں عراقی گھوڑےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

پتلی جہاں کسی نے دال اور کڑھی پکائیمکھی نے ووہیں بولی آ اونٹ کی بلائیکوئی پکارتا ہے کیوں خیر تو ہے بھائیایسے جو کھانستے ہو کیا کالی مرچ کھائیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جس گل بدن کے تن میں پوشاک سوسنی ہےسو وہ پری تو خاصی کالی گھٹا بنی ہےاور جس پہ سرخ جوڑا یا اودی اوڑھنی ہےاس پر تو سب گھلاوٹ برسات کی چھنی ہےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

بدنوں میں کھب رہے ہیں خوبوں کے لال جوڑےجھمکیں دکھا رہے ہیں پریوں کے لال جوڑےلہریں بنا رہے ہیں لڑکوں کے لال جوڑےآنکھوں میں چبھ رہے ہیں پیاروں کے لال جوڑےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

اور جس صنم کے تن میں جوڑا ہے زعفرانیگلنار یا گلابی یا زرد سرخ دھانیکچھ حسن کی چڑھائی اور کچھ نئی جوانیجھولوں میں جھولتے ہیں اوپر پڑے ہے پانیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئی تو جھولنے میں جھولے کی ڈور چھوڑےیا ساتھیوں میں اپنے پاؤں سے پاؤں جوڑےبادل کھڑے ہیں سر پر برسے ہیں تھوڑے تھوڑےبوندوں میں بھیگتے ہیں لال اور گلابی جوڑےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنوں کو ہو رہی ہے اس عیش کی نشانیسوتے ہیں ساتھ جس کے کہتی ہے وہ سیانیاس وقت تم نہ جاؤ اے میرے یار جانیدیکھو تو کس مزے سے برسے ہے آج پانیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنے شراب پی کر ہو مست چھک رہے ہیںمے کی گلابی آگے پیالے چھلک رہے ہیںہوتا ہے ناچ گھر گھر گھنگھرو جھنک رہے ہیںپڑتا ہے مینہ جھڑا جھڑ طبلے کھڑک رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

ہیں جن کے تن ملائم میدے کی جیسے لوئیوہ اس ہوا میں خاصی اوڑھے پھرے ہیں لوئیاور جن کی مفلسی نے شرم و حیا ہے کھوئیہے ان کے سر پہ سر کی یا بوریے کی کھوئیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنے پھرے ہیں اوڑھے پانی میں سرخ پٹوجو دیکھ سرخ بدلی ہوتی ہے ان پہ لٹوکتنوں کی گاڑی رتھ ہیں کتنوں کے گھوڑے ٹٹوجس پاس کچھ نہیں ہے وہ ہم سا ہے نکھٹوکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جو اس ہوا میں یارو دولت میں کچھ بڑھے ہیںہے ان کے سر پہ چھتری ہاتھی پہ وہ چڑھے ہیںہم سے غریب غربا کیچڑ میں گر پڑے ہیںہاتھوں میں جوتیاں ہیں اور پائنچے چڑھے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

ہے جن کنے مہیا پکا پکایا کھاناان کو پلنگ پہ بیٹھے جھڑیوں کا خط اڑاناہے جن کو اپنے گھر میں یاں لون تیل لاناہے سر پہ ان کے پنکھا یا چھاج ہے پراناکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنے خوشی سے بیٹھے کھاتے ہیں خوش محل میںکتنے چلے ہیں لینے بنئے سے قرض پل میںکاندھے پہ دال آٹا ہلدی گرہ نے مل میںہاتھوں میں گھی کی پیالی اور لکڑیاں بغل میںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جو کسبیاں جوانیں حسنوں میں پرتیاں ہیںسینوں میں لال انگیاں اور لال کرتیاں ہیںنظریں بھی بدلیاں ہیں دل میں بھی سرتیاں ہیںاک اک نگہ میں کافر بجلی کی پھرتیاں ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جو نوجواں ہیں ان کی تیاریاں بڑی ہیںہاتھوں میں لال چھڑیاں کوٹھوں پہ وہ کھڑی ہیںاور وہ جو آشنا سے جھگڑی ہیں یا لڑی ہیںمنہ کو چھپا پلنگ پر مچلی ہوئی پڑی ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئی اپنے آشنا سے کر ناز کا جھپٹاکہتی ہے ہنس کے کافر چٹکی لے یا نہٹاتم سے تو دل ہمارا اب ہو گیا ہے کھٹاتم آج بھی نہ لائے رنگوا مرا دوپٹاکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کہتی ہیں کوئی مجھ کو جوڑا سوہا بنا دویا ٹاٹ بافی جوتا یا کفش سرخ لا دوکوئی کہے ہے میری کرتی ابھی رنگا دویا گرم سے اندرسے اک سیر بھر منگا دوکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جو ان کے مبتلا ہیں سب چیز لا رہے ہیںکرتی بنا رہے ہیں انگیا رنگا رہے ہیںجو جو ہیں ان کی باتیں سب کچھ اٹھا رہے ہیںباہیں گلے میں ڈالے عشرت منا رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنوں نے قول باندھا معمولی دے کے پیسےکہتے ہیں شاد ہو کر یوں اپنے آشنا سےبرسات بھر تو مل کے سنتے ہو جان پیارےاحمق ہو جو پلنگ سے اب موتنے کو اترےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

یہ سن کے ان سے ہنس ہنس کہتی ہے شوخ رنڈیمعمولی اب تو لے کر بندی بھی ہے گھمنڈیہم پہنیں لال جوڑا تم پہنو خاصی بنڈیخندی ہو جو تمہاری چھاتی کرے نہ ٹھنڈیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

زردار کی تو ان میں ہے بچھ رہی پلنگڑیدلبر پری سی بیٹھی جھمکائے چوڑی نبگڑیمفلس کی ٹوٹی پٹی یا ٹاٹ کی جھلنگڑیرنڈی ملی تو کالی یا کنجی لولی لنگڑیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کرتی گلابی جن میں گوٹے لگے ہوئے ہیںانگیاں کے گرد جھوٹے گوٹے ٹکے ہوئے ہیںکہتی ہیں ان سے ہنس ہنس جو جو کٹے ہوئے ہیںلا اب تو میرے تجھ پر بارہ ٹکے ہوئے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جو بیگمی ہے گھر میں آرام کر رہی ہےپردوں میں دوستوں سے پیغام کر رہی ہےچتون لگاوٹوں سے سو دام کر رہی ہےچپکے ہی چپکے اپنا سب کام کر رہی ہےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کہتا ہے کوئی اپنے محبوب سیم بر سےوہ اس مینہ میں نہ جاؤ پیارے ہمارے برسےکوئی کہے ہے اپنے دل دار خوش نظر سےہاتھوں سے میرے جانی کھا لے یہ دو اندرسےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کہتا ہے کوئی پیاری جو کچھ کہو سو لا دیںزر دوزی ٹاٹ بافی جوتا کہو پہنا دیںپیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیںچیرا دوپٹہ جامہ جیسا کہو رنگا دیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جن دلبروں کے تن پر ہیں گرمی دانے آلےکہتے ہیں ان کو عاشق یوں پیار سے بلا لےکیا مینہ برس رہا ہے پیارے ذرا نہا لےچھاتی نہیں تو پیارے ٹک پیٹھ ہی ملا لےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

اس رت میں ہیں جہاں تک گلزار بھیگتے ہیںشہر و دیار کوچے بازار بھیگتے ہیںصحرا و جھاڑ بوٹے کہسار بھیگتے ہیںعاشق نہا رہے ہیں دل دار بھیگتے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کہتی ہے جب وہ سن کر یہ بات بھیگ احمقماروں گی تیرے آ کر اک لات بھیگ احمقمجھ کو بھی ضد چڑھی ہے دن رات بھیگ احمقیوں ہی تو اب کے ساری برسات بھیگ احمقکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

زردار کی تو سن کر آواز وہ پری روکہتی ہے لونڈیوں سے جلدی کواڑ کھولومفلس کوئی پکارے تو اس سے کہتی ہے وہہرگز کوئی نہ بولو احمق کو بھیگنے دوکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئی یار سے کہے ہے اے دل ستان آؤبدلی بڑی اٹھی ہے کہنے کو مان آؤکیا مینہ برس رہا ہے ہر اک مکان آؤراتیں اندھیریاں ہیں اے میری جان آؤکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئی رات کو پکارے پیارے میں بھیگتی ہوںکیا تیری الفتوں کے مارے میں بھیگتی ہوںآئی ہوں تیری خاطر آ رے میں بھیگتی ہوںکچھ تو ترس تو میرا کھا رے میں بھیگتی ہوںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئی پکارتی ہے دل سخت بھیگتی ہوںکانپے ہے میری چھاتی یک لخت بھیگتی ہوںکپڑے بھی تر بہ تر ہیں اور سخت بھیگتی ہوںجلدی بلا لے مجھ کو کمبخت بھیگتی ہوںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

شیشہ کہیں گلابی بوتل جھمک رہی ہےرابیل موتیا کی خوشبو مہک رہی ہےچھاتی سے چھاتی لگ کر عشرت چھلک رہی ہےپائے کھٹک رہے ہیں پٹی چٹک رہی ہےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کوئی پکارتی ہے کیا کیا مجھے بھگویاکوئی پکارتی ہے کیسا مجھے بھگویاناحق قرار کر کے جھوٹا مجھے بھگویایوں دور سے بلا کر اچھا مجھے بھگویاکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

جن دلبروں کی خاطر بھیگے ہیں جن کے جوڑےوہ دیکھ ان کی الفت ہوتے ہیں تھوڑے تھوڑےلے ان کے بھیگے کپڑے ہاتھوں میں دھر نچوڑےچیرا کوئی سنگھاوے جامہ کوئی نچوڑےکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کیچڑ سے ہو رہی ہے جس جا زمیں پھسلنیمشکل ہوئی ہے واں سے ہر اک کو راہ چلنیپھسلا جو پاؤں پگڑی مشکل ہے پھر سنبھلنیجوتی گری تو واں سے کیا تاب پھر نکلیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کتنے تو کیچڑوں کی دلدل میں پھنس رہے ہیںکپڑے تمام گندی دلدل میں بس رہے ہیںکتنے اٹھے ہیں مرمر کتنے اکس رہے ہیںوہ دکھ میں پھنس رہے ہیں اور لوگ ہنس رہے ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

کہتا ہے کوئی گر کر یہ اے خدائے لیجوکوئی ڈگمگا کے ہر دم کہتا ہے وائے لیجوکوئی ہاتھ اٹھا پکارے مجھ کو بھی ہائے لیجوکوئی شور کر پکارے گرنے نہ پائے لیجوکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

گر کر کسی کے کپڑے دلدل میں ہیں معطرپھسلا کوئی کسی کا کیچڑ میں منہ گیا بھراک دو نہیں پھسلتے کچھ اس میں آن اکثرہوتے ہیں سیکڑوں کے سر نیچے پاؤں اوپرکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

یہ رت وہ ہے کہ جس میں خرد و کبیر خوش ہیںادنیٰ غریب مفلس شاہ و وزیر خوش ہیںمعشوق شاد و خرم عاشق اسیر خوش ہیںجتنے ہیں اب جہاں میں سب اے نظیرؔ خوش ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں

مہادیو جی کا بیاہ

پہلے ناؤں گنیش کا، لیجئے سیس نوائےجا سے کارج سدھ ہوں، سدا مہورت لائےبول بچن آنند کے، پریم، پیت اور چاہسن لو یارو، دھیان دھر، مہادیو کا بیاہجوگی جنگم سے سنا، وہ بھی کیا بیاناور کتھا میں جو سنا، اس کا بھی پرمانسننے والے بھی رہیں ہنسی خوشی دن ریناور پڑھیں جو یاد کر، ان کو بھی سکھ چیناور جس نے اس بیاہ کی، مہما کہی بنائےاس کے بھی ہر حال میں، شیو جی رہیں سہائےخوشی رہے دن رات وہ، کبھی نہ ہو دلگیرمہما اس کی بھی رہے جس کا نام نظیرؔ

ہولی

آ دھمکے عیش و طرب کیا کیا جب حسن دکھایا ہولی نےہر آن خوشی کی دھوم ہوئی یوں لطف جتایا ہولی نےہر خاطر کو خورسند کیا ہر دل کو لبھایا ہولی نےدف رنگیں نقش سنہری کا جس وقت بجایا ہولی نےبازار گلی اور کوچوں میں غل شور مچایا ہولی نے

یا سوانگ کہوں یا رنگ کہوں یا حسن بتاؤں ہولی کاسب ابرن تن پر جھمک رہا اور کیسر کا ماتھے ٹیکاہنس دینا ہر دم ناز بھرا دکھلانا سج دھج شوخی کاہر گالی، مصری، قند بھری، ہر ایک قدم اٹکھیلی کادل شاد کیا اور موہ لیا یہ، جوبن پایا ہولی نے

کچھ طبلے کھٹکے تال بجے کچھ ڈھولک اور مردنگ بجیکچھ جھڑپیں بین ربابوں کی کچھ سارنگی اور چنگ بجیکچھ تار طنبوروں کے جھنکے، کچھ ڈھمڈھی اور منہ چنگ بجیکچھ گھنگرو کھٹکے جھم جھم جھم کچھ گت گت پر آہنگ بجیہے ہر دم ناچنے گانے کا یہ تار بندھایا ہولی نے

ہر جاگہ تھال گلالوں سے، خوش رنگت کی گل کاری ہےاور ڈھیر ابیروں کے لاگے، سو عشرت کی تیاری ہےہیں راگ بہاریں دکھلاتے اور رنگ بھری پچکاری ہےمنہ سرخی سے گل نار ہوئے تن کیسر کی سی کیاری ہےیہ روپ جھمکتا دکھلایا یہ رنگ دکھایا ہولی نے

ہر آن خوشی سے آپس میں سب ہنس ہنس رنگ چھڑکتے ہیںرخسار گلالوں سے گل گوں، کپڑوں سے رنگ ٹپکتے ہیںکچھ راگ اور رنگ جھمکتے ہیں کچھ مے کے جام چھلکتے ہیںکچھ کودے ہیں، کچھ اچھلے ہیں، کچھ ہنستے ہیں، کچھ بکتے ہیںیہ طور یہ نقشا عشرت کا ہر آن بنایا ہولی نے

دارالمکافات

ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے

گرو نانک

ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرووہ کامل رہبر جگ میں ہیں یوں روشن جیسے ناہ گرومقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرونت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرواس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گروہر آن دلوں وچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا دھرتے ہیںاور سیوک ہو کر ان کے ہی ہر صورت بیچ کہاتے ہیںگرد اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین انہیں دکھلاتے ہیںخوش رکھتے ہیں ہر حال انہیں سب من کا کاج بناتے ہیںاس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرودن رات جنہوں نے یاں دل وچ ہے یاد گرو سے کام لیاسب من کے مقصد بھر پائے خوش وقتی کا ہنگام لیادکھ درد میں اپنے دھیان لگا جس وقت گرو کا نام لیاپل بیچ گرو نے آن انہیں خوش حال کیا اور تھام لیااس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گروالطاف جنہوں پر ہیں ان کے سو خوبی حاصل ہے ان کوہر آن نظیرؔ اب یاں تم بھی تو بابا نانک شاہ کہواس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گروسب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

جاڑے کی بہاریں

جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور ہنس ہنس پوس سنبھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیدن جلدی جلدی چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیاور پالا برف پگھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیچلا غم ٹھونک اچھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیتن ٹھوکر مار پچھاڑا ہو اور دل سے ہوتی ہو کشتی سیتھر تھر کا زور اکھاڑا ہو بجتی ہو سب کی بتیسیہو شور پھپو ہو ہو کا اور دھوم ہو سی سی سی سی کیکلے پہ کلا لگ لگ کر چلتی ہو منہ میں چکی سیہر دانت چنے سے دلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں میں سردی نے آ باندھ دیا ہو یہ چکرجو ہر دم کپ کپ ہوتی ہو ہر آن کڑاکڑ اور تھر تھرپیٹھی ہو سردی رگ رگ میں اور برف پگھلتا ہو پتھرجھڑ باندھ مہاوٹ پڑتی ہو اور تس پر لہریں لے لے کرسناٹا باؤ کا چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر چار طرف سے سردی ہو اور صحن کھلا ہو کوٹھے کااور تن میں نیمہ شبنم کا ہو جس میں خس کا عطر لگاچھڑکاؤ ہوا ہو پانی کا اور خوب پلنگ بھی ہو بھیگاہاتھوں میں پیالہ شربت کا ہو آگے اک فراش کھڑافراش بھی پنکھا جھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیجب ایسی سردی ہو اے دل تب روز مزے کی گھاتیں ہوںکچھ نرم بچھونے مخمل کے کچھ عیش کی لمبی راتیں ہوںمحبوب گلے سے لپٹا ہو اور کہنی، چٹکی، لاتیں ہوںکچھ بوسے ملتے جاتے ہوں کچھ میٹھی میٹھی باتیں ہوںدل عیش وطرب میں پلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہو فرش بچھا غالیچوں کا اور پردے چھوٹے ہوں آ کراک گرم انگیٹھی جلتی ہو اور شمع ہو روشن اور تس پروہ دلبر، شوخ، پری، چنچل، ہے دھوم مچی جس کی گھر گھرریشم کی نرم نہالی پر سو ناز و ادا سے ہنس ہنس کرپہلو کے بیچ مچلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیترکیب بنی ہو مجلس کی اور کافر ناچنے والے ہوںمنہ ان کے چاند کے ٹکڑے ہوں تن ان کے روئی کے گالے ہوںپوشاکیں نازک رنگوں کی اور اوڑھے شال دو شالے ہوںکچھ ناچ اور رنگ کی دھومیں ہوں عیش میں ہم متوالے ہوںپیالے پر پیالہ چلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کیہر ایک مکاں ہو خلوت کا اور عیش کی سب تیاری ہووہ جان کہ جس سے جی غش ہو سو ناز سے آ جھنکاری ہودل دیکھ نظیرؔ اس کی چھب کو ہر آن ادا پر واری ہوسب عیش مہیا ہو آ کر جس جس ارمان کی باری ہوجب سب ارمان نکلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی

سامان دیوالی کا

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کاہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کاسبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کاکسی کے دل کو مزا خوش لگا دیوالی کاعجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا

جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہارکسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھارکھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازارہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہارسبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کا

مٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائیپکارتے ہیں کہ "لا لا! دوالی ہے آئی"بتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائیکھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئیگویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا

صرف حرام کی کوڑی کا جن کا ہے بیوپارانہوں نے کھایا ہے اس دن کے واسطے ہے ادھارکہے ہے ہنس کے قرض خواہ سے ہر اک اک باردوالی آئی ہے سب دے دلائیں گے اے یارخدا کے فضل سے ہے آسرا دوالی کا

مکان لیپ کے ٹھلیا جو کوری رکھوائیجلا چراغ کو کوڑی وہ جلد جھنکائیاصل جواری تھے ان میں تو جان سی آئیخوشی سے کود اچھل کر پکارے او بھائیشگون پہلے کرو تم ذرا دوالی کا

شگن کی بازی لگی پہلے یار گنڈے کیپھر اس سے بڑھ کے لگی تین چار گنڈے کیپھری جو ایسی طرح بار بار گنڈے کیتو آگے لگنے لگی پھر ہزار گنڈے کیکمال نرخ ہے پھر تو لگا دوالی کا

کسی نے گھر کی حویلی گرو رکھا ہاریجو کچھ تھی جنس میسر بنا بنا ہاریکسی نے چیز کسی کسی کی چرا چھپا ہاریکسی نے گٹھری پڑوسن کی اپنی لا ہارییہ ہار جیت کا چرچا پڑا دوالی کا

کسی کو داؤ پہ لانکّی موٹھ نے ماراکسی کے گھر پہ دھرا سوختہ نے انگاراکسی کو نرد نے چوپڑ کے کر دیا زارالنگوٹی باندھ کے بیٹھا ازار تک ہارایہ شور آ کے مچا جا بجا دوالی کا

کسی کی جورو کہے ہے پکار اے پھڑوےبہو کی نوگرے بیٹے کے ہاتھ کے کھڑوےجو گھر میں آوے تو سب مل کیے ہیں سو گھڑوےنکل تو یاں سے ترا کام یاں نہیں بھڑوےخدا نے تجھ کو تو شہدا کیا دوالی کا

وہ اس کے جھونٹے پکڑ کر کہے ہے ماروں گاترا جو گہنہ ہے سب تار تار اتاروں گاحویلی اپنی تو اک داؤ پر میں ہاروں گایہ سب تو ہارا ہوں خندی تجھ بھی ہاروں گاچڑھا ہے مجھ کو بھی اب تو نشا دوالی کا

تجھے خبر نہیں خندی یہ لت وہ پیاری ہےکسی زمانے میں آگے ہوا جو جواری ہےتو اس نے جورو کی نتھ اور ازار اتاری ہےازار کیا ہے کہ جورو تلک بھی ہاری ہےسنا یہ تو نے نہیں ماجرا دوالی کا

جہاں میں یہ جو دیوالی کی سیر ہوتی ہےتو زر سے ہوتی ہے اور زر بغیر ہوتی ہےجو ہارے ان پہ خرابی کی فیر ہوتی ہےاور ان میں آن کے جن جن کی خیر ہوتی ہےتو آڑے آتا ہے ان کے دیا دوالی کا

یہ باتیں سچ ہیں نہ جھوٹ ان کو جانیو یارو!نصیحتیں ہیں انہیں دل سے مانیو یارو!جہاں کو جاؤ یہ قصہ بکھانیو یارو!جو جواری ہو نہ برا اس کا مانیو یارونظیرؔ آپ بھی ہے جواریا دیوالی کا

ہولی

پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پراور عیش نے عرصہ ہے کیا تنگ زمیں پرہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پرہوتا ہے کہیں راگ کہیں رنگ زمیں پربجتے ہیں کہیں تال کہیں زنگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

گھنگرو کی پڑی آن کے پھر کان میں جھنکارسارنگی ہوئی بین طنبوروں کی مددگارطبلوں کے ٹھکے طبل یہ سازوں کے بجے تارراگوں کے کہیں غل کہیں ناچوں کے بندھے تارڈھولک کہیں جھنکارے ہے مردنگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

مستی میں اٹھا آنکھ جدھر دیکھو اہاہاناچے ہے طوائف کہیں مٹکے ہے بھویاچلتے ہیں کہیں جام کہیں سوانگ کا چرچااو رنگ کو گلیوں میں جو دیکھو تو ہر اک جابہتی ہیں امنڈ کر جمن و گنگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

بھاگے ہے کہیں رنگ کسی پر جو کوئی ڈالوہ پوٹلی مارے ہے اسے دوڑ کے فی الحالیہ ٹانگ گھسیٹے ہے تو وہ کھینچے پکڑ بالوہ ہاتھ مروڑے تو یہ توڑے ہے کھڑا گالاس ڈھب کے ہر اک جا پہ مچے ڈھنگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

بیٹھے ہیں سب آپس میں نہیں ایک بھی کڑواپچکاری اٹھا کر کوئی جھمکاوے ہے کھڑوابھرتے ہیں کہیں مشک کہیں رنگ کا گڑواکیا شاد وہ ہوتا ہے جسے کہتے ہیں بھڑواسننے میں یہاں تک نہیں اب ننگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

ہولی کی نظیرؔ اب جو بہاریں ہیں اہاہامحبوب رنگیلوں کی قطاریں ہیں اہاہاکپڑوں پہ جمی رنگ کی دھاریں ہیں اہاہاسب ہولی ہے ہولی ہی پکارے ہیں اہاہاکیا عیش ہے کیا رنگ ہے کیا ڈھنگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

خوشامد

دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہےآدمی جن پری و بھوت بلا راضی ہےبھائی فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہےشاد مسرور غنی شاہ و گدا راضی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےاپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجےاور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کیجےاولیا انبیا اور رب کی خوشامد کیجےاپنے مقدور غرض سب کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کی خوشامد سے خدا راضی ہےچار دن جس کو کیا جھک کے خوشامد سے سلاموہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کامبڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دامخوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمامجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبد بخیل اور سخی کی بھی خوشامد کیجےاور جو شیطان ہو تو اس کی بھی خوشامد کیجےگر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپیار سے جوڑ دئیے جس کی طرف ہاتھ جو آہوہیں خوش ہو گیا کرتے ہی وہ ہاتھوں پہ نگاہغور سے ہم نے جو اس بات کو دیکھا واللہکچھ خوشامد ہی بڑی چیز ہے اللہ اللہجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضیپینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجےہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجےمست و ہشیار دوانے کی خوشامد کیجےبھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےعیش کرتے ہیں وہی جن کا خوشامد کا مزاججو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ محتاجہاتھ آتا ہے خوشامد سے مکاں ملک اور تاجکیا ہی تاثیر کی اس نسخے نے پائی ہے رواججو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر بھلا ہو تو بھلے کی بھی خوشامد کیجےاور برا ہو تو برے کی بھی خوشامد کیجےپاک ناپاک سڑے کی بھی خوشامد کیجےکتے بلی و گدھے کی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےخوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھیتی ہےغیر کی اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہےماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا لیتی ہےنانی دادی بھی خوشامد سے دعا دیتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےبی بی کہتی ہے میاں آ ترے صدقے جاؤںساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاؤںخالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاؤںسالی کہتی ہے کہ بھیا ترے صدقے جاؤںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےآ پڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسےڈھونڈتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسےآشنا ملتے ہیں اور چاہے ہیں سب یار اسےاپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ کہ خوشامد سے خدا راضی ہےروکھی اور روغنی آبی کو خوشامد کیجےنان بائی و کبابی کی خوشامد کیجےساقی و جام شرابی کی خوشامد کیجےپارسا رند خرابی کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا اراضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےجو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے ہیں انساںجو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراںہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماںجس نے یہ بات نکالی ہے میں اس کے قرباںجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےکوڑی پیسے و ٹکے زر کی خوشامد کیجےلعل و نیلم در و گوہر کی خوشامد کیجےاور جو پتھر ہو تو پتھر کی خوشامد کیجےنیک و بد جتنے ہیں یک سر کی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےہم نے ہر دل کی خوشامد کی محبت دیکھیپیار اخلاص و کرم مہر مروت دیکھیدلبروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھیعاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھیجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےپارسا پیر ہے زاہد ہے منا جاتی ہےجواریا چور دغاباز خراباتی ہےماہ سے ماہی تلک چیونٹی ہے یا ہاتھی ہےیہ خوشامد تو میاں سب کے تئیں بھاتی ہےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےگر نہ میٹھی ہو تو کڑوی بھی خوشامد کیجےکچھ نہ ہو پاس تو خالی بھی خوشامد کیجےجانی دشمن ہو تو اس کی خوشامد کیجےسچ اگر پوچھو تو جھوٹی بھی خوشامد کیجےجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہےمرد و زن طفل و جواں خورد و کلاں پیر و فقیرجتنے عالم میں ہیں محتاج و گدا شاہ وزیرسب کے دل ہوتے ہیں پھندے میں خوشامد کے اسیرتو بھی واللہ بڑی بات یہ کہتا ہے نظیرؔجو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہےحق تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے

عید

یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہکرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہہم عید کے بھی دن رہے امیدوار آہہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کامخوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کامدل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عامآغوش خلق گل بدنوں سے بھرے تمامخالی رہا پر ایک ہمارا کنار آہکیا پوچھتے ہو شوخ سے ملنے کی اب خبرکتنا ہی جستجو میں پھرے ہم ادھر ادھرلیکن ملا نہ ہم سے وہ عیار فتنہ گرملنا تو اک طرف ہے عزیزو کہ بھر نظرپوشاک کی بھی ہم نے نہ دیکھی بہار آہرکھتے تھے ہم امید یہ دل میں کہ عید کوکیا کیا گلے لگاویں گے دل بر کو شاد ہوسو تو وہ آج بھی نہ ملا شوخ حیلہ جوتھی آس عید کی سو گئی وہ بھی دوستواب دیکھیں کیا کرے دل امیدوار آہاس سنگ دل کی ہم نے غرض جب سے چاہ کیدیکھا نہ اپنے دل کو کبھی ایک دم خوشیکچھ اب ہی اس کی جورو و تعدی نہیں نئیہر عید میں ہمیں تو سدا یاس ہی رہیکافر کبھی نہ ہم سے ہوا ہمکنار آہاقرار ہم سے تھا کئی دن آگے عید سےیعنی کہ عید گاہ کو جاویں گے تم کو لےآخر کو ہم کو چھوڑ گئے ساتھ اور کےہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور راہ دیکھتےکیا کیا غرض سہا ستم انتظار آہکیوں کر لگیں نہ دل میں مرے حسرتوں کے تیردن عید کے بھی مجھ سے ہوا وہ کنارہ گیراس درد کو وہ سمجھے جو ہو عشق کا اسیرجس عید میں کہ یار سے ملنا نہ ہو نظیرؔاس کے اپر تو حیف ہے اور صد ہزار آہ

راکھی

چلی آتی ہے اب تو ہر کہیں بازار کی راکھیسنہری سبز ریشم زرد اور گلنار کی راکھیبنی ہے گو کہ نادر خوب ہر سردار کی راکھیسلونوں میں عجب رنگیں ہے اس دل دار کی راکھینہ پہنچے ایک گل کو یار جس گل زار کی راکھی

عیاں ہے اب تو راکھی بھی چمن بھی گل بھی شبنم بھیجھمک جاتا ہے موتی اور جھلک جاتا ہے ریشم بھیتماشا ہے اہا ہا ہا غنیمت ہے یہ عالم بھیاٹھانا ہاتھ پیارے واہ وا ٹک دیکھ لیں ہم بھیتمہاری موتیوں کی اور زری کے تار کی راکھی

مچی ہے ہر طرف کیا کیا سلونوں کی بہار اب توہر اک گل رو پھرے ہے راکھی باندھے ہاتھ میں خوش ہوہوس جو دل میں گزرے ہے کہوں کیا آہ میں تم کویہی آتا ہے جی میں بن کے بامھن، آج تو یارومیں اپنے ہاتھ سے پیارے کے باندھوں پیار کی راکھی

ہوئی ہے زیب و زینت اور خوباں کو تو راکھی سےولیکن تم سے اے جاں اور کچھ راکھی کے گل پھولےدوانی بلبلیں ہوں دیکھ گل چننے لگیں تنکےتمہارے ہاتھ نے مہندی نے انگشتوں نے ناخن نےگلستاں کی چمن کی باغ کی گل زار کی راکھی

ادا سے ہاتھ اٹھتے ہیں گل راکھی جو ہلتے ہیںکلیجے دیکھنے والوں کے کیا کیا آہ چھلتے ہیںکہاں نازک یہ پہنچے اور کہاں یہ رنگ ملتے ہیںچمن میں شاخ پر کب اس طرح کے پھول کھلتے ہیںجو کچھ خوبی میں ہے اس شوخ گل رخسار کی راکھی

پھریں ہیں راکھیاں باندھے جو ہر دم حسن کے تارےتو ان کی راکھیوں کو دیکھ اے جاں چاؤ کے مارےپہن زنار اور قشقہ لگا ماتھے اپر بارےنظیرؔ آیا ہے بامھن بن کے راکھی باندھنے پیارےبندھا لو اس سے تم ہنس کر اب اس تیوہار کی راکھی

پیسا

نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کااس نے تیار ہر اک ٹھاٹھ کیا پیسے کاگھر بھی پاکیزہ عمارت سے بنا پیسے کاکھانا آرام سے کھانے کو ملا پیسے کاکپڑا تن کا بھی ملا زیب فزا پیسے کاجب ہوا پیسے کا اے دوستو آ کر سنجوگعشرتیں پاس ہوئیں دور ہوئے من کے روگکھائے جب مال پوے دودھ دہی موہن بھوگدل کو آنند ہوئے بھاگ گئے روگ اور دھوگایسی خوبی ہے جہاں آنا ہوا پیسے کاساتھ اک دوست کے اک دن جو میں گلشن میں گیاواں کے سرو و سمن و لالہ و گل کو دیکھاپوچھا اس سے کہ یہ ہے باغ بتاؤ کس کااس نے تب گل کی طرح ہنس دیا اور مجھ سے کہامہرباں مجھ سے یہ تم پوچھا ہو کیا پیسے کایہ تو کیا اور جو ہیں اس سے بڑے باغ و چمنہیں کھلے کیاریوں میں نرگس و نسرین و سمنحوض فوارے ہیں بنگلوں میں بھی پردے چلونجا بجا قمری و بلبل کی صدا شور افگنواں بھی دیکھا تو فقط گل ہے کھلا پیسے کاواں کوئی آیا لیے ایک مرصع پنجڑالال دستار و دوپٹا بھی ہرا جوں طوطااس میں اک بیٹھی وہ مینا کہ ہو بلبل بھی فدامیں نے پوچھا یہ تمہارا ہے رہا وہ چپکانکلی منقار سے مینا کے صدا پیسے کاواں سے نکلا تو مکاں اک نظر آیا ایسادر و دیوار سے چمکے تھا پڑا آب طلاسیم چونے کی جگہ اس کی تھا اینٹوں میں لگاواہ وا کر کے کہا میں نے یہ ہوگا کس کاعقل نے جب مجھے چپکے سے کہا پیسے کاروٹھا عاشق سے جو معشوق کوئی ہٹ کا بھرااور وہ منت سے کسی طور نہیں ہے منتاخوبیاں پیسے کی اے یارو کہوں میں کیا کیادل اگر سنگ سے بھی اس کا زیادہ تھا کڑاموم سا ہو گیا جب نام سنا پیسے کاجس گھڑی ہوتی ہے اے دوستو پیسے کی نمودہر طرح ہوتی ہے خوش وقتئ و خوبی بہبودخوش دلی تازگی اور خرمی کرتی ہے درودجو خوشی چاہیئے ہوتی ہے وہیں آ موجوددیکھا یارو تو یہ ہے عیش و مزا پیسے کاپیسے والے نے اگر بیٹھ کے لوگوں میں کہاجیسا چاہوں تو مکاں ویسا ہی ڈالوں بنواحرف تکرار کسی کی جو زباں پر آیااس نے بنوا کے دیا جلدی سے ویسا ہی دکھااس کا یہ کام ہے اے دوستو یا پیسے کاناچ اور راگ کی بھی خوب سی تیاری ہےحسن ہے ناز ہے خوبی ہے طرح داری ہےربط ہے پیار ہے اور دوستی ہے یاری ہےغور سے دیکھا تو سب عیش کی بسیاری ہےروپ جس وقت ہوا جلوہ نما پیسے کادام میں دام کے یارو جو مرا دل ہے اسیراس لیے ہوتی ہے یہ میری زباں سے تقریرجی میں خوش رہتا ہے اور دل بھی بہت عیش پذیرجس قدر ہو سکا میں نے کیا تحریر نظیرؔوصف آگے میں لکھوں تا بہ کجا پیسے کا

فنا

دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہےیا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہےہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہےناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہورلے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نورگزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیوررو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضورجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےدنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھےاجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہےروحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزےپر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیںوہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہحشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہمرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہاب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےکس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہتن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہجاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہروتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےوہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائےہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائےسو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائےرونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاےجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےعمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرامفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑاقائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہادونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیاجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفناور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تنکیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدندیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخنجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوںاور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوںکپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموںکمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوںجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑبڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑسب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑکیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےجتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہاپھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جداترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوازر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سواجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہےگڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیرباغ و چمن محل و مکانات دل پزیرہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیرمیری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔجو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

بہار

گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہاررنگ و بو کے حسن کیا کیا کچھ دکھاتی ہے بہارصبح کو لا کر نسیم دل کشا ہر شاخ پرتازہ تر کس کس طرح کے گل کھلاتی ہے بہارنونہالوں کی دکھا کر دم بدم نشو و نماجسم میں روح رواں کیا کیا بڑھاتی ہے بہاربلبلیں چہکارتی ہیں شاخ گل پر جا بجابلبلیں کیا فی الحقیقت چہچہاتی ہے بہارحوض و فواروں کو دے کر آبرو پھر لطف سےکیا معطر فرش سبزے کا بچھاتی ہے بہارجنبش باد صبا سے ہو کے ہم دوش نشاطساتھ ہر سبزے کے کیا کیا لہلہاتی ہے بہارخلق کو ہر لحظہ اپنے حسن کی رنگت دکھابے تکلف کیا ہی ہر دل میں سماتی ہے بہارمجمع خوباں ہجوم عاشقاں اور جوش گلدیکھ ان رنگوں کو کیا کیا کھلکھلاتی ہے بہارگل رخوں کی دیکھ کر گل بازیاں ہر دم نظیرگل ادھر خنداں ادھر دھومیں مچاتی ہے بہار

جھونپڑا

یہ تن جو ہے ہر اک کے اتارے کا جھونپڑااس سے ہے اب بھی سب کے سہارے کا جھونپڑااس سے ہے بادشہ کے نظارے کا جھونپڑااس میں ہی ہے فقیر بچارے کا جھونپڑااپنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی بھولے بھالے اسی میں سیانے ہیںاس میں ہی ہوشیار اسی میں دوانے ہیںاس میں ہی دشمن اس میں ہی اپنے بیگانے ہیںشاجھونپڑا بھی اپنے اسی میں نمانے ہیںاپنا نہ مول ہے نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی لوگ عشق و محبت کے مارے ہیںاس میں ہی شوخ حسن کے چاند اور ستارے ہیںاس میں ہی یار دوست اسی میں پیارے ہیںشاجھونپڑا بھی اپنے اسی میں بچارے ہیںاپنا نہ مول ہے نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی اہل دولت و منعم امیر ہیںاس میں ہی رہتے سارے جہاں کے فقیر ہیںاس میں ہی شاہ اور اسی میں وزیر ہیںاس میں ہی ہیں صغیر اسی میں کبیر ہیںاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی چور ٹھگ ہیں اسی میں امول ہیںاس میں ہی رونی شکل اسی میں ٹھٹھول ہیںاس میں ہی باجے اور نقارے و ڈھول ہیںشاجھونپڑا بھی اس میں ہی کرتے کلول ہیںاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس میں ہی پارسا ہیں اسی میں لوند ہیںبے درد بھی اسی میں ہے اور دردمند ہیںاس میں ہی سب پرند اسی میں چرند ہیںشاجھونپڑا بھی اب اسی ڈر بے بند ہیںاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑااس جھونپڑے میں رہتے ہیں سب شاہ اور وزیراس میں وکیل بخشی و متصدی اور امیراس میں ہی سب غریب ہیں اس میں ہی سب فقیرشاجھونپڑا جو کہتے ہیں سچ ہے میاں نظیرؔاتنا نہ مول کا نہ اجارے کا جھونپڑابابا یہ تن ہے دم کے گزارے کا جھونپڑا

ہولی

ملنے کا تیرے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھبھاتی ہے بہت ہم کو تیری آن ادھر دیکھہم چاہنے والے ہیں تجرے جان ادھر دیکھہولی ہے صنم ہنس کہ تُو اک آن ادھر دیکھاے رنگ بھرے نو گُل خنداں ادھر دیکھ

ہم دیکھنے ترا یہ جمال اس گھڑی اے جاںآئے ہیں یہی کرکہ خیال اس گھڑی اے جاںتُو دل میں نہ رکھ ہم سے ملال اس گھڑی اے جاںمکھڑے پہ تیرے دیکھ گلال اِس گھڑی اے جاںہولی بھی یہی کہتی ہے اے جان ادھر دیکھ

اب زرد یہ چیرا جُو تیرے سر پہ جما ہےاور اس پہ یہ طرہ جُو زری کا بھی دھرا ہےنیما بھی تیرا رنگ سے کیسر کے بھرا ہےپوشاک پہ تری گل صد برگ فدا ہےنرگس تیری آنکھوں پہ ہے قربان ادھر دیکھ

ہولی کی طرب ہے جُو ہر اک جا میں نمودارسنتے ہیں کہیں راگ کہیں مے سے ہیں سرشارہے دل میں ہمیں تو تیری نظروں سے سروکارپچکاری ہمارے تو لگا یا نہ لگا یارہم کو تو فقط ہے یہی ارمان ادھر دیکھ

ہے دھوم سے ہولی کی کہیں شور کہیں غلہوتا نہیں کچھ رنگ چھڑکنے میں تأملدف بجتے ہیں سب ہنستے ہیں اُور دھوم ہے بالکلہولی کی خوشی میں تو نہ کر ہم سے تغافلاے جان ہمارا بھی کہا مان ادھر دیکھ

ہے دید کی ہر آن طلب دل کو ہمارےجیتے ہیں فقط تیری نگاہوں کہ سہارےہیں یاں جو کھڑے آن کہ اس شوق کہ مارےہم ایک نگہ کہ تیرے مشتاق ہیں پیارےٹک پیار کی نظروں سے میری جان ادھر دیکھ

ہر چار طرف ہولی کی دھومیں ہیں اہا ہادیکھو جدھر آتا ہے نظر روز تماشاہر آن جھمکتا ہے عجب عیش کا چرچاہولی کو نظیرؔ اب تُو کھڑا دیکھے ہے یاں کیامحبوب یہ آیا ارے نادان ادھر دیکھ

دیوالی

دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہےسب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہےاس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگارہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رےگرم جوشی اپنی با جام چراغاں لطف سےکیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مےمائل سیر چراغاں نخل ہر جا دم بدمحاصل نظارہ حسن شمع رویاں پے بہ پےعاشقاں کہتے ہیں معشوقوں سے با عجز و نیازہے اگر منظور کچھ لینا تو حاضر ہیں روپےگر مکرر عرض کرتے ہیں تو کہتے ہیں وہ شوخہم سے لیتے ہو میاں تکرار و حجت تا بہ کےکہتے ہیں اہل قمار آپ میں گرم اختلاطہم تو ڈب میں سو رپے رکھتے ہیں تم رکھتے ہو کےجیت کا پڑتا ہے جس کا دانوں وہ کہتا ہے یوںسوئے دست راست ہے میرے کوئی فرخندہ پےہے دسہرے میں بھی یوں گو فرحت و زینت نظیرؔپر دیوالی بھی عجب پاکیزہ تر تیوہار ہے

شب برات

کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب براتچلپک چپاتی حلوے سے ہے بھاری شب براتزندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب براتمردوں کی روح کی ہے مددگاری شب براتلگتی ہے سب کہ دل کو غرض پیاری شب برات

شکر کا جن کہ حلوہ ہوا وہ تو پورے ہیںگڑ کا ہوا ہے جن کہ وُہ ان سے ادھورے ہیںشکر نہ گڑ کا جن کہ وہ پرکٹ لنڈورے ہیںاوروں کہ میٹھے حلوے چپاتی کو گھورے ہیںان کی نہ آدھی پاؤ نہ کچھ ساری شب برات

دنیا کی دولتوں میں جُو زردار ہیں بڑےقندوں کہ حلوے روغنی نانیں لیے کھڑےپہنچائے خوان پھرتے ہیں نوکر کئی پڑےزندے بھی راہ تکتے ہیں مردے بھی ہیں کھڑےان خوبیوں کو رکھتی ہے تیاری شب برات

ٹھلیاں چپاتی حلوے کی تُو سب میں چال ہےادنیٰ غریب کہ تئیں یہ بھی محال ہےکالے سے گڑ کی لپٹی کڑھی کی مثال ہےپانی سے ہانڈی گیہوں کی روٹی بھی لال ہےکرتی ہے ایسی دکھیا پنساری شب برات

اور مفلسوں کی ہے یہ تمنا کی فاتحہدریا پہ جا کہ دیتے ہیں بابا کی فاتحہبھٹیاری کہ تنور پہ نانا کی فاتحہحلوائی کی دکان پہ دادا کی فاتحہیاں تک تُو ان پہ لاتی ہے ناچاری شب برات

وارث ہیں جن کہ جیتے وُہ مردے بھی آن کرحلوے چپاتی خوب ہی چکھتے ہیں پیٹ بھرجن کا کوئی نہیں ہے وُہ پھرتے ہیں در بدراوروں کہ لگتے پھرتے ہیں کونوں سے گھر بہ گھران کی ہے کھاری نون سے بھی کھاری شب برات

ملا جُو دینے فاتحہ گھر گھر میں جاتے ہیںحلوہ کہیں کہیں وُہ چپاتی اڑاتے ہیںمفلس کوئی بلاوے تُو منہ کو چھپاتے ہیںشکر کا حلوہ سنتے ہی بس دوڑے جاتے ہیںکہتے ہوئے یہ دِل میں اہا ہا ری شب برات

چھوڑے ہے لٹو تونبڑی ہر دم بنا کہ جُوحاکم کا پیادہ کہتا ہے یُوں اس سے تلخ ہوکپڑے بدن بچا کہ جُو چاہو سو چھوڑ دوچھپر جلاؤ گے تُو دلاوے گی صبح کوتم سے چبوترے میں گنہ گاری شب برات

پھرتے ہیں عشق باز جُو لڑکے کی گھات میںٹونٹا ہی لے کہ دیتے ہیں لڑکے کہ ہاتھ میںمہتابی آ کہ چھوڑیں ہیں لڑکے جُو رات میںکیا زرکیاں سی چھوڑے ہیں ہنس ہنس کے بات میںکرتی ہے کام ان کہ بھی یوں جاری شب برات

جُو رنڈی باز ہیں وُہ بہت دِل میں شاد ہوکیا کیا انار چھوڑے ہیں بشنی ہو روبرواے بی تم اپنی کلھیا ہمیں چھوڑنے کو دواُور چاہو تم ہمارا یہ ہت پھول چھوڑ لوہو جائے جس کہ چھٹتے ہی پھلواری شب برات

اُور جُو بہار حُسن کہ ہیں پاکباز یارگلکاری چھوڑے ہیں جہاں محبوب گلعذارکہتے ہیں ان کو دیکھ کہ آنکھوں میں کر کہ پیارکیا چاہیے میاں تمہیں ہت پھول اور انارتم پر تُو آپ ہوتی ہے اب واری شب برات

گھن چکر اپنے دم میں کہیں چرخ کھاتے ہیںٹونٹے ہوائی سینک کہیں قہقہہاتے ہیںزینپٹ زپٹ پٹاخے کہیں غل مچاتے ہیںلڑکوں کہ باندھ غول کہیں لڑنے جاتے ہیںکرتی ہے پھر تُو ایسی دھواندھاری شب برات

آ کر کسی کہ سر پہ چھچھوندر لگی کڑیاوپر سے اُور ہوائی کی آ کر پڑی چھڑیہو گئی گلے کا ہار پٹاخے کی ہر لڑیپاؤں سے لپٹی شور مچا کر قلم تڑیکرتی ہے پھر تُو ایسی ستم گاری شب برات

چہرہ کسی کا جل گیا آنکھیں جھلس گئیںچھائی کسی کی جل گئیں باہیں جھلس گئیںٹانگیں بچیں کسی کی تُو رانیں جھلس گئیںمونچھیں کسی کی پھک گئیں پلکیں جھلس گئیںرکھے کسی کی داڑھی پہ چنگاری شب برات

کوئی دوستوں کو دِل میں سمجھتا ہے اپنے غیرکوئی دشمنوں سے دِل کا نکالے ہے اپنا بیرکہتا ہے واں نظیرؔ بھی آتش کی دیکھ سیریا رب تُو سب کی کیجیو برسا برس کی خیربے طرح کر رہی ہے نموداری شب برات

ہولی

میاں تُو ہم سے نہ رکھ کچھ غبار ہولی میںکے روٹھے ملتے ہیں آپس میں یار ہولی میںمچی ہے رنگ کی کیسی بہار ہولی میںہوا ہے زور چمن آشکار ہولی میںعجب یہ ہند کی دیکھی بہار ہولی میں

اب اس مہینے میں پہنچی ہے یاں تلک یہ چالفلک کا جامہ پہن سرخیٔ شفق سے لالبنا کہ چاند کہ سورج کہ آسماں پر تھالفرشتے کھیلیں ہیں ہولی بنا عبیر و گلالتُو آدمی کا بھلا کیا شمار ہولی میں

سنا کہ ہولی جو زہرہ بجاتی ہے طبنورتُو اس کہ راگ سے بارہ بروج ہیں معمورچھوؤں ستاروں کہ اوپر پڑا ہے رنگ کا نورسبھوں کہ سر پہ یہ ہر دم پکارتی ہے حور

جو گھر کہ ابر کبھی اس مزے میں آتا ہےتُو بادلوں میں وُہ کیا کیا ہی رنگ لاتا ہےخُوشی سے رعد بھی ڈھولک کی گت لگاتا ہےہوا کو ہولیاں گا گا کہ کیا نچاتا ہےتمام رنگ سے پر ہے بہار ہولی میں

چمن میں دیکھو تُو دِن رات ہولی رہتی ہےشراب ناب کی گلشن میں نہر بہتی ہےنسیم پیار سے غنچے کا ہاتھ گہتی ہےتُو باغبان سے بلبل کھڑی یہ کہتی ہےنہ چھیڑ مُجھ کو تُو اے بد شعار ہولی میں

گلوں نے پہنے ہیں کیا کیا ہی جوڑے رنگ برنگکے جیسے لڑکے یہ معشوق پہنتے ہیں تنگہوا سے پتوں کہ بجتے ہیں تال اُور مردنگتمام باغ میں کھیلیں ہیں ہولی گُل کہ سنگعجب طرح کی مچی ہے بہار ہولی میں

امیر جتنے ہیں سب اپنے گھر میں ہیں خوش حالقبائیں پہنے ہوئے تنگ تنگ گُل کی مثالبنا کے گہری طرح حوض مل کہ سب فی الحالمچائے ہولیاں آپس میں لے عبیر و گلالبنے ہیں رنگ سے رنگیں نگار ہولی میں

یہ سیر ہولی کی ہم نے تُو برج میں دیکھیکہیں نہ ہووے گی اس لطف کی میاں ہولیکوئی تُو ڈوبا ہے دامن سے لے کہ تا چولیکوئی تُو مرلی بجاتا ہے کہہ کنہیا جیہے دھوم دھام پہ بے اختیار ہولی میں

گھروں سے سانوری اُور گوریاں نکل چلیاںکسنبی اوڑھنی اور مست کرتی اچھلیاںجدھر کو دیکھیں ادھر مچ رہی ہیں رنگ رلیاںتمام برج کی پریوں سے بھر رہیں گلیاںمزا ہے سیر ہے در ہر کنار ہولی میں

جُو کچھ کہانی ہے ابلا بہت پیا ماریچلی ہے اپنے پیا پاس لے کے پچکاریگلال دیکھ کہ پھر چھاتی کھول دی ساریپیا کی چھاتی سے لگتی وُہ چاؤ کی مارینہ تاب دِل کو رہی نے قرار ہولی میں

جُو کوئی سیانی ہے ان میں تُو کوئی ہے نا کندوُہ شور بور تھی سب رنگ سے نپٹ یک چندکوئی دلاتی ہے ساتھن کو یار کی سوگندکے اب تُو جامہ و انگیا کہ ٹولے ہیں سب بندپھر آ کے کھلیں گے ہو کر دو چار ہولی میں

نظیرؔ ہولی کا موسم جُو جگ میں آتا ہےوُہ ایسا کون ہے ہولی نہیں مناتا ہےکوئی تُو رنگ چھڑکتا ہے کوئی گاتا ہےجُو خالی رہتا ہے وُہ دیکھنے کو جاتا ہےجُو عیش چاہو سو ملتا ہے یار ہولی میں

ہولی

جب آئی ہولی رنگ بھری سو ناز و ادا سے مٹک مٹکاور گھونگھٹ کہ پٹ کھول دئے وُہ روپ دکھلا چمک چمککچھ مکھڑا کرتا دمک دمک کچھ ابرن کرتا جھلک جھلکجب پاؤں رکھا خوش وقتی سے تب پائل باجی جھنک جھنککچھ اچھلیں سنتیں ناز بھریں کچھ گودیں آئیں تھرک تھرک

یہ روپ دکھا کر ہولی کہ جب مین رسیلے ٹک مٹکےمنگوائے تھال گلالوں کہ بھر ڈالے رنگوں سے مٹکےپھر سانگ بہت تیار ہوئے اُور ٹھاٹھ خُوشی کہ جھر مٹکےغل شور ہوئے خوشحالی کہ اور ناچنے گانے کہ کھٹکےمردنگیں باجیں تال بجے کچھ کھنک کھنک کچھ دھنک دھنک

پوشاک چھڑکواں سے ہر جا تیاری رنگیں پوشوں کیاور بھیگی جاگہ رنگوں سے کر کنج گلی اور کوچوں کیہر جاگہ زرد لباسوں سے ہوئی زینت سب آغوشوں کیسو عیش و طرب کی دھویں میں اُور محفل میں مے نوشوں کیمے نکلی جام گلابی کچھ لہک لہک کچھ چھلک چھلک

ہر چار طرف خُوش وقتی سے دف باجے رنگ اُور رنگ ہوئیکچھ دھومیں فرحت عشرت کی کچھ عیش خُوشی کہ رنگ ہوئےدل شاد ہوئے خوشحالی سے اُور عشرت کہ سو ڈھنگ ہوئےیہ جھمکی رنگت ہولی کی جُو دیکھنے والے دنگ ہوئےمحبوب پری رو بھی نکلے کچھ جھجک جھجک کچھ ٹھٹھک ٹھٹھک

جب خوباں آئے رنگ بھرے پھر کیا کیا ہولی جھمک اٹھیکچھ حُسن کی جھمکیں ناز بھریں کچھ شُوخی ناز اداؤں کیسب چومنے والے گرد دکھڑے نظارہ کرتے ہنسی خوشیمحبوب نشے کی خوبی میں پھر عاشق اوپر گھڑی گھڑیہیں رنگ چھڑکتے سرخی کہ کچھ لپک لپک کچھ جھپک جھپک

ہے دھوم خوشی کی ہر جانب اُور کثرت ہے خوش وقتی کیہیں چرچے ہوتے فرحت کہ اور عشرت کی بھی دھوم مچیخوباں کہ رنگیں چہروں پر ہر آن نگاہیں ہیں لڑتیمحبوب بھگوئیں عاشق کو اُور عاشق ہنس کر ان کو بھیخوش ہو کر ان کو بھگوویں ہیں کچھ اٹک اٹک کچھ ہمک ہمک

وُہ شوخ رنگیلا جب آیا یاں ہولی کی کر تیاریپوشاک سنہری زیب بدن اُور ہاتھ چمکتی پچکاریکی رنگ چھڑکنے سے کیا کیا اِس شُوخ نے ہر دم عیاریہم نے بھی نظیرؔ اِس چنچل کو پھر خوب بھگویا ہر باریپھر کیا کیا رنگ بہے اِس دم کچھ ڈھلک ڈھلک کچھ چپک چپک

ہولی

قاتِل جُو مرا اوڑھے اِک سرخ شال آیاکھا کھا کہ پان ظالم کر ہونٹھ لال آیاگویا نکل شفق سے بدر کمال آیاجب منہ سے وہ پری رو مل کر گلال آیااِک دم تُو دیکھ اس کو ہولی کو حال آیا

عیش و طرب کا سامان ہے آج سب گھر اس کہاب تو نہیں ہے کوئی دنیا میں ہمسر اس کہاز ماہ تاب ماہی بندے ہیں بے زر اس کہکل وقت شام سورج ملنے کو منہ پر اس کہرکھ کر شفق کہ سر پر طشت گلال آیا

خالص کہیں سے تازی اِک زعفران منگا کرمشک و گلاب میں بھی مل کر اسے بسا کرشیشے میں بھر کہ نکلا چپکے لگا چھپا کرمدت سے آرزو تھی اک دم لگا چکا کراِک دن صنم پہ جا کر میں رنگ ڈال آیا

ارباب بزم بھر تُو وہ شاہ اپنے لے کرسب ہم نشین حُسب دل خواہ اپنے لے کرچالاک چست کافر گمراہ اپنے لے کردس بیس گُل رخوں کو ہم راہ اپنے لے کریُوں ہیں بھگونے مُجھ کو وُہ خوش جمال آیا

عشرت کا اس گھڑی تھا اسباب سب مہیابہتا تھا حُسن کا بھی اس جا پہ ایک دریاہاتھوں میں دلبروں کہ ساغر کسی کے شیشہکمروں میں جھولیوں میں سیروں گلال باندھااور رنگ کی بھی بھر کر مشک و پکھال آیا

عیارگی سے پہلے اپنے تئیں چھپا کرچاہا کہ میں بھی نکلوں ان میں سے چھٹ چھٹا کردوڑے کئی یہ کہہ کر جاتا ہے دم چرا کراتنے میں گھیر مُجھ کو اور شور و غل مچا کراس دم کمر کمر تک رنگ و گلال آیا

یہ چہل تُو کچھ اپنی قسمت سے مچ رہی تھییہ آبرو کی پردہ حرمت سے بچ رہی تھیکیسا سماں تھا کیسی شادی سی رچ رہی تھیاس وقت مرے سر پر اِک دھوم مچ رہی تھیاُک دھوم میں بھی مُجھ کو جُو کچھ خیال آیا

لازم نہ تھی یہ حرکت اے خوش صفیر تُجھ کواظہر ہے سب کہے ہیں مل کر شریر تُجھ کوکرتے ہیں اب ملامت خرد و کبیر تُجھ کولاحول پڑھ کہ شیطان بولا نظیرؔ تُجھ کواب ہولی کھیلنے کا پورا کمال آیا

ہولی

ہوا جُو آ کہ نشاں آشکار ہولی کابجا رباب سے مِل کر ستار ہولی کاسرود رقص ہوا بے شمار ہولی کاہنسی خُوشی میں بڑھا کاروبار ہولی کازباں پہ نام ہوا بار بار ہولی کا

خوشی کی دھوم سے ہر گھر میں رنگ بنوائےگلال عبیر کہ بھر بھر کہ تھال رکھوائےنشوں کہ جوش ہوئے راگ رنگ ٹھہرائےجھمکتے روپ کہ بن بن کہ سوانگ دکھلائےہوا ہجوم عجب ہر کنار ہولی کا

گلی میں کوچے میں غل شور ہو رہے اکثرچھڑکنے رنگ لگے یار ہر گھڑی بھر بھربدن میں بھیگے ہیں کپڑے گلال چہروں پرمچی یہ دھوم تُو اپنے گھروں سے خوش ہو کرتماشا دیکھنے نکلے نگار ہولی کا

بہار چھڑکواں کپڑوں کی جب نظر آئیہر عشق باز نے دِل کی مراد بھرپائینگہ لڑا کہ پکارا ہر ایک شیدائیمیاں یہ تم نے جُو پوشاک اپنی دکھلائیخوش آیا اب ہمیں نقش و نگار ہولی کا

تمہارے دیکھ کہ منہ پر گلال کی لالیہمارے دِل کو ہوئی ہر طرح کی خوشحالینگہ نے دی مئے گُل رنگ کی بھری پیالیجُو ہنس کہ دو ہمیں پیارے تم اس گھڑی گالیتو ہم بھی جانیں کہ ایسا ہے پیار ہولی کا

جُو کی ہے تم نے یہ ہولی کی طرفہ تیاریتُو ہنس کہ دیکھو ادھر کو بھی جان یک باریتمہاری آن بہت ہم کو لگتی ہے پیاریلگا دو ہاتھ سے اپنے جو ایک پچکاریتو ہم بھی دیکھیں بدن پر سنگار ہولی کا

تمہارے ملنے کا رکھ کر ہم اپنے دِل میں دھیانکھڑے ہیں آس لگا کر کے دیکھ لیں اِک آنیہ خُوش دلی کا جُو ٹھہرا ہے آن کر سامانگلے میں ڈال کہ بانہیں خوشی سے تم اے جانپہناؤ ہم کو بھی اِک دم یہ ہار ہولی کا

ادھر سے رنگ لیے آؤ تم ادھر سے ہمگلال عبیر ملیں منہ پہ ہو کہ خوش ہر دمخُوشی سے بولیں ہنسیں ہولی کھیل کر باہمبہت دنوں سے ہمیں تُو تمہارے سر کی قسماسی اُمید میں تھا انتظار ہولی کا

بتوں کی گالیاں ہنس ہنس کہ کوئی سہتا ہےگلال پڑتا ہے کپڑوں سے رنگ بہتا ہےلگا کہ تاک کوئی منہ کو دیکھ رہتا ہےنظیرؔ یار سے اپنے کھڑا یہ کہتا ہےمزا دکھا ہمیں کچھ تُو بھی یار ہولی کا

ہولی

جدا نہ ہم سے ہو اے خوش جمال ہولی میںکے یار پھرتے ہیں یاروں کہ تال ہولی میںہر ایک عیش سے ہے گا بحال ہولی میںبہار اور کچھ اب کہ ہے سال ہولی میںمزا ہے سیر ہے ہر سو کمال ہولی میں

سبھوں کہ عیش کو پھاگن کا یہ مہینہ ہےسفید و زرد میں لیکن کمال کینا ہےطلا کا زرد کنے سربسر خزینہ ہےسفید پاس فقط سیم کا دفینہ ہےہر ایک دِل میں ہے رستم و زال ہولی میں

کہا سفید سے آخر کو زرد نے یہ پیامکے اے سفید تو اب چھوڑ دے جہاں کا مقاممیں آیا اب تو مرا بند و بست ہوگا تمامتو مجھ سے آن کہ مل چھوڑ اپنی ضد کا کلاموگرنہ کھینچے گا تُو انفعال ہولی میں

ملے گا مجھ سے تُو میں تُجھ کو پھر بڑھاؤں گابنا کہ آپ سا پاس اپنے لے بٹھاؤں گاکہا سفید نے میں مطلقاً نہ آؤں گاتجھی کو بعد کئی دن کے میں بھگاؤں گاتُو اپنا دیکھیو کیا ہوگا حال ہولی میں

یہ سن کے طیش میں آ زرد کا سپہ سالارچڑھ آیہ فوج کو لے کر سفید پر یک بارادھر سفید بھی لڑنے کو ہو کہ آیا سوارصف مقابلہ دونوں کی جب ہوئیں تیارہوا کرخت جواب و سوال ہولی میں

ملا ادھر سے سفید اور ادھر سے زرد بہارگھٹائیں رنگ برنگ فوجوں کی جھکیں سرشارپکھالیں مشکیں چھٹیں رنگ کی پڑی پوچھاراور چار طرف سے پچکاریوں کی مارا مارااڑا زمیں سے زماں تک گلال ہولی میں

یہاں تو دونوں میں آپس میں ہو رہی یہ جنگادھر سے آیا جُو اک شوخ با رخ گل رنگہزاروں نازنیں معشوق اور اس کے سنگنشے میں مست کھلی زلف جوڑے رنگ برنگکہا کہ پُوچھو تو کیا ہے یہ حال ہولی میں

کہا کسی نے کے اے بادشاہ مہ رو یاںسفید و زرد یہ آپس میں لڑ رہے ہیں یہاںیہ سن کے آپ وہ دونوں کے آ گیا درمیاںادھر سے تھانبا اسے اُور ادھر اس کو کہ ہاںتم اس قدر نہ کرو اختلال ہولی میں

کہا تمہاری خصومت کا ماجرا ہے کیاکہا سفید نے ناحق یہ زرد ہے لڑتایہ سن کہ اس نے وہیں اپنا اک منگا جوڑاپھر اپنے ہاتھ سے جوڑے کو چھڑکواں رنگواکہا کے دونوں رہو شامل حال ہولی میں

پھر اپنے تن میں جُو پہنا وہ خلعت رنگیںسبھوں کو حکم کیا تم بھی پہنو اب یوں ہیںہزاروں لڑکوں نے پہنے وُہ جوڑنے پھر ووں ہیںپکاری خلق کے انصاف چاہئے یوں ہیںہوا پھر اُور ہی حُسن و جمال ہولی میں

میاں میں کیا کہوں پھر اس مزے کی ٹھہری بہارجدھر کو آنکھ اٹھا کر نظر کرو اک بارہزاروں باغ رواں ہیں کروڑوں ہیں گلزارچمن چمن پڑے پھرتے ہیں سرو گُل رخسارعجب بہار کہ ہیں نونہال ہولی میں

جو نہر حسن کی ہے موج مار چلتی ہےعلم لئے ہوئے آگے بہار چلتی ہےاگاڑی مست صف گلعذار چلتی ہےپچھاڑی عاشقوں کی سب قطار چلتی ہےبھول کہ دِل میں خُوشی کا خیال ہولی میں

گلال عبیر سے کتنے بھرے ہیں چوپائےتمام ہاتھوں میں گڑوے بھی رنگ کے لائےکوئی کہے ہے کسی سے کے ہم بھی لو آئےتُو اس سے کہتا وہ ہنس کر کے آ مرے جائےہنسی خُوشی کا ہے قال و مقال ہولی میں

اسی بہار سے گوکل پورے میں جا پوہنچےاُور منڈی نائی کی اور سید خاں کی منڈی سےسب عالم گنج میں شاہ گنج و تاج گنج پھرےہیں شہر میں نہیں اُور گرد شہر کے رہتےہوا ہجوم کا بحر کمال ہولی میں

سبھوں کو لے کہ کناری بزار میں آئےپھر موتی کٹرے پلٹھی کہ لوگ سب دھائےکے پیپل منڈی و پنی گلی کہ بھی آئےجہاں تہاں سے یہ گھر گھر کہ لوگ سب دھائےکے بے نواؤں کے دیکھیں جمال ہولی میں

ہوئی جُو سب میں شریف و رذیل میں ہولیتُو پہلے رنگ کی پچکاریوں کی مار ہوئیکسی کا بھر گیا جامہ کسی کی پگڑی بھریکسی کہ منہ پہ لگائی گلال کی مٹھیتُو رفتہ رفتہ ہوئی پھر یہ چال ہولی میں

گھٹائیں مشک و پکھالوں کی جھوم کر آئیںسنہری بجلیاں پچکاریوں کی چمکائیںصبا نے رنگ کی بوچھاریں آ کہ برسائیںہوا نے آن کہ سانون کی جھڑیاں بنوائیںلگی برسنے کو مشک و پکھال ہولی میں

ادھر گلال کا بادل بھی چھا گیا گھنگھورصدائے رعد ہوئی ہر کسی کا غل اور شوریہ لڑکے نازنیں بولیں ہیں کوکلا جوں مورتمام رنگ کی بوچھار سے ہیں شورابورعجب ہے رنگ لگی برشگال ہولی میں

لگا کہ چوک سے اُور چار سو تلک دیکھاکے جاگہ ایک بھی تل دھرنے کی نہیں ہے ذراتمام بھیڑ سے ہر طرف بند ہے رستاتس اوپر رنگ کا بادل ہے اس قدر برساکے ہر گلی میں بہا ڈھولی کھال ہولی میں

نظیرؔ ہولی تُو ہے ہر نگر میں اچھی خوبولیک ختم ہوا آگرے پہ یہ اسلوبکہاں ہیں ایسے صنم اُور کہاں ہیں یہ محبوبجنہوں کہ دیکھے سے عاشق کا ہووے تازہ قلوبتیری نرالی ہے یاں چال ڈھال ہولی میں