انتخابِ نظیر اکبرآبادی · نظیر اکبرآبادی

Chapter 1: غزلیات

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہمبس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم

مے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی نہیںدل میں آتا ہے لگا دیں آگ مے خانے کو ہم

کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبرکیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم کھانے کو ہم

ہم کو پھنسنا تھا قفس میں کیا گلہ صیاد کابس ترستے ہی رہے ہیں آب اور دانے کو ہم

طاق ابرو میں صنم کے کیا خدائی رہ گئیاب تو پوجیں گے اسی کافر کے بت خانے کو ہم

باغ میں لگتا نہیں صحرا سے گھبراتا ہے دلاب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم

کیا ہوئی تقصیر ہم سے تو بتا دے اے نظیرؔتاکہ شادی مرگ سمجھیں ایسے مر جانے کو ہم


کہا جو ہم نے ”ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو”کہا کہ اس لیے تم یاں جو غل مچاتے ہو”

کہا ”لڑاتے ہو کیوں ہم سے غیر کو ہمدم”کہا کہ ”تم بھی تو ہم سے نگہ لڑاتے ہو”

کہا جو حال دل اپنا تو اس نے ہنس ہنس کرکہا ”غلط ہے یہ باتیں جو تم بناتے ہو”

کہا ”جتاتے ہو کیوں ہم سے روز ناز و ادا”کہا کہ ”تم بھی تو چاہت ہمیں جتاتے ہو”

کہا کہ ”عرض کریں ہم پہ جو گزرتا ہے؟”کہا ”خبر ہے ہمیں کیوں زباں پہ لاتے ہو”

کہا کہ ”روٹھے ہو کیوں ہم سے کیا سبب اس کا”کہا ”سبب ہے یہی تم جو دل چھپاتے ہو”

کہا کہ ”ہم نہیں آنے کے یاں” تو اس نے نظیرؔکہا کہ ”سوچو تو کیا آپ سے تم آتے ہو”


لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھارقیب صبح کو منہ آنسوؤں سے دھوتا تھا

تمام رات تھی اور کہنیاں و لاتیں تھیںنہ سونے دیتا تھا مجھ کو نہ آپ سوتا تھا

جو بات ہجر کی آتی تو اپنے دامن سےوہ آنسو پونچھتا جاتا تھا اور میں روتا تھا

مسکتی چولی تو لوگوں سے چھپ کے سینے کووہ تاگے بٹتا تھا اور میں سوئی پروتا تھا

غرض دکھانے کو آن و ادا کے سو عالموہ مجھ سے پاؤں دھلاتا تھا اور میں دھوتا تھا

لٹا کے سینے پہ چنچل کو پیار سے ہر دممیں گدگداتا تھا ہنس ہنس وہ ضعف کھوتا تھا

وہ مجھ پہ پھینکتا پانی کی کلیاں بھر بھرمیں اس کے چھینٹوں سے تو پیرہن بھگوتا تھا

نہانے جاتے تو پھر آہ کرتی چھینٹوں سےوہ غوطے دیتا تھا اور میں اسے ڈبوتا تھا

ہوا نہ مجھ کو خمار آخر ان شرابوں کانظیرؔ آہ اسی روز کو میں روتا تھا


جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہویہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو

جدا جو ہم کو کرے اس صنم کے کوچے سےالٰہی راہ میں ایسا کوئی رقیب نہ ہو

علاج کیا کریں حکما تپ جدائی کاسوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو

نظیرؔ اپنا تو معشوق خوب صورت ہےجو حسن اس میں ہے ایسا کوئی عجیب نہ ہو


ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہےمژہ پہ آن کے ٹک جم رہے رہے نہ رہے

رہیں وہ شخص جو بزم جہاں کی رونق ہیںہماری کیا ہے اگر ہم رہے رہے نہ رہے

مجھے ہے نزع وہ آتا ہے دیکھنے اب آہکہ اس کے آنے تلک دم رہے رہے نہ رہے

بقا ہماری جو پوچھو تو جوں چراغ مزارہوا کے بیچ کوئی دم رہے رہے نہ رہے

ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوک گیاہمثال قطرۂ شبنم رہے رہے نہ رہے

یہی ہے عزم کہ دل بھر کے آج رو لیجےکہ کل یہ دیدۂ پر نم رہے رہے نہ رہے

تمہارے غم میں غرض ہم تو دے چکے ہیں جیبلا سے تم کو بھی اب غم رہے رہے نہ رہے

یہی سمجھ لو ہمیں تم کہ اک مسافر ہیںجو چلتے چلتے کہیں تھم رہے رہے نہ رہے

نظیرؔ آج ہی چل کر بتوں سے مل لیجےپھر اشتیاق کا عالم رہے رہے نہ رہے


جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیاسنتے ہی اس کے میرا کلیجہ الٹ گیا

فرہاد تھا تو شیریں کے غم میں موا غریبلیلیٰ کے غم میں آن کے مجنوں بھی لٹ گیا

میں عشق کا جلا ہوں مرا کچھ نہیں علاجوہ پیڑ کیا ہرا ہو جو جڑ سے اکھٹ گیا

اتنا کوئی کہے کہ دوانے پڑا ہے کیاجا دیکھ ابھی ادھر کوئی پریوں کا غٹ گیا

چھینا تھا دل کو چشم نے لیکن میں کیا کروںاوپر ہی اوپر اس صف مژگاں میں پٹ گیا

کیا کھیلتا ہے نٹ کی کلا آنکھوں آنکھوں میںدل صاف لے لیا ہے جو پوچھا تو نٹ گیا

آنکھوں میں میری صبح قیامت گئی جھمکسینے سے اس پری کے جو پردہ الٹ گیا

سن کر لگی یہ کہنے وہ عیار نازنیںکیا بولیں چل ہمارا تو دل تجھ سے پھٹ گیا

جب میں نے اس صنم سے کہا کیا سبب ہے جاناخلاص ہم سے کم ہوا اور پیار گھٹ گیا

ایسی وہ بھاری مجھ سے ہوئی کون سی خطاجس سے یہ دل اداس ہوا جی اچٹ گیا

آنکھیں تمہاری کیا پھریں اس وقت میری جانسچ پوچھئے تو مجھ سے زمانہ الٹ گیا

عشاق جاں نثاروں میں میں تو امام ہوںیہ کہہ کے میں جو اس کے گلے سے لپٹ گیا

کتنا ہی اس نے تن کو چھڑایا جھڑک جھڑکپر میں بھی قینچی باندھ کے ایسا چمٹ گیا

یہ کشمکش ہوئی کہ گریباں مرا ادھرٹکڑے ہوا اور اس کا دوپٹہ بھی پھٹ گیا

آخر اسی بہانے ملا یار سے نظیرؔکپڑے بلا سے پھٹ گئے سودا تو پٹ گیا


اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈاتو آ لپٹئے گلے سے اے جاں جھمک سے کر جھپ چراغ ٹھنڈا

ہم اور تم جاں اب اس قدر تو محبتوں میں ہیں ایک تن منلگایا تم نے جبیں پہ صندل ہوا ہمارا دماغ ٹھنڈا

لبوں سے لگتے ہی ہو گئی تھی تمام سردی دل و جگر میںدیا تھا ساقی نے رات ہم کو کچھ ایسے مے کا ایاغ ٹھنڈا

درخت بھیگے ہیں کل کے مینہ سے چمن چمن میں بھرا ہے پانیجو سیر کیجے تو آج صاحب عجب طرح کا ہے باغ ٹھنڈا

وہی ہے کامل نظیرؔ اس جا وہی ہے روشن دل اے عزیزوہوا سے دنیا کی جس کے دل کا نہ ہووے ہرگز چراغ ٹھنڈا


نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوںکوئی خوب رو لے تو ہاں بیچتا ہوں

وہ مے جس کو سب بیچتے ہیں چھپا کرمیں اس مے کو یارو عیاں بیچتا ہوں

یہ دل جس کو کہتے ہیں عرش الٰہیسو اس دل کو یارو میں یاں بیچتا ہوں

ذرا میری ہمت تو دیکھو عزیزوکہاں کی ہے جنس اور کہاں بیچتا ہوں

لیے ہاتھ پر دل کو پھرتا ہوں یاروکوئی مول لیوے تو ہاں بیچتا ہوں

وہ کہتا ہے جی کوئی بیچے تو ہم لیںتو کہتا ہوں لو ہاں میاں بیچتا ہوں

میں ایک اپنے یوسف کی خاطر عزیزویہ ہستی کا سب کارواں بیچتا ہوں

جو پورا خریدار پاؤں تو یارومیں یہ سب زمین و زماں بیچتا ہوں

زمیں آسماں عرش و کرسی بھی کیا ہےکوئی لے تو میں لا مکاں بیچتا ہوں

جسے مول لینا ہو لے لے خوشی سےمیں اس وقت دونوں جہاں بیچتا ہوں

بکی جنس خالی دکاں رہ گئی ہےسو اب اس دکاں کو بھی ہاں بیچتا ہوں

محبت کے بازار میں اے نظیرؔ ابمیں عاجز غریب اپنی جاں بیچتا ہوں


تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحبجگر کے داغ جو دھونے تھے دھو لیے صاحب

غلام عاشق و چاکر مصاحب و ہم رازغرض جو تھا ہمیں ہونا سو ہو لیے صاحب

قرار و صبر جو کرنے تھے کر چکے بربادحواس و ہوش جو کھونے تھے کھو لیے صاحب

ہمارے وزن محبت میں کچھ ہو فرق تو ابپھر امتحاں کی ترازو میں تولیے صاحب

کچھ انتہائے بکا ہو تو اور بھی یک چندسرشک چشم سے موتی کو رولیے صاحب

کل اس صنم نے کہا دیکھ کر ہمیں خاموشکہ اب تو آپ بھی ٹک لب کو کھولیے صاحب

یہ سن کے میں نے نظیرؔ اس سے یوں کہا ہنس کرجو کوئی بولے تو البتہ بولئے صاحب


عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانے ہےدل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانے ہے

ناز اٹھانے میں جفائیں تو اٹھائیں لیکنلطف بھی ایسا اٹھایا ہے کہ جی جانے ہے

زخم اس تیغ نگہ کا مرے دل نے ہنس کراس مزے داری سے کھایا ہے کہ جی جانے ہے

اس کی دزدیدہ نگہ نے مرے دل میں چھپ کرتیر اس ڈھب سے لگایا ہے کہ جی جانے ہے

بام پر چڑھ کے تماشے کو ہمیں حسن اپنااس تماشے سے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے

اس کی فرقت میں ہمیں چرخ ستم گار نے آہیہ رلایا ،یہ رلایا ہے کہ جی جانے ہے

حکم چپی کا ہوا شب تو سحر تک ہم نےرتجگا ایسا منایا ہے کہ جی جانے ہے

تلوے سہلانے میں گو اونگھ کے جھک جھک تو پڑےپر مزا بھی وہ اڑایا ہے کہ جی جانے ہے

رنج ملنے کے بہت دل نے سہے لیک نظیرؔیار بھی ایسا ملایا ہے کہ جی جانے ہے


سراپا حسن سمدھن گویا گلشن کی کیاری ہےپری بھی اب تو بازی حسن میں سمدھن سے ماری ہے

کھنچی کنگھی گندھی چوٹی جمی پٹی لگا کاجلکماں ابرو نظر جادو نگہ ہر اک دلاری ہے

جبیں مہتاب آنکھیں شوخ شیریں لب گہر دنداںبدن موتی دہن غنچہ ادا ہنسنے کی پیاری ہے

نیا کم خواب کا لہنگا جھمکتے تاش کی انگیاکچیں تصویر سی جن پہ لگا گوٹا کناری ہے

ملائم پیٹ مخمل سا کلی سی ناف کی صورتاٹھا سینہ صفا پیڑو عجب جوبن کی ناری ہے

سریں نازک کمر پتلی خط گل زار روما دلکہوں کیا آگے اب اس کے مقام پردہ داری ہے

لٹکتی چال مدھ ماتی چلے بچھوں کو جھنکاتیادا میں دل لیے جاتی عجب سمدھن ہماری ہے

بھرے جوبن پہ اتراتی جھمک انگیا کی دکھلاتیکمر لہنگے سے بل کھاتی لٹک گھونگھٹ کی بھاری ہے


دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیاپایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیا

کس کس نے اس کے عشق میں مارا نہ دم ولےسب چل بسے مگر وہ دل آرام رہ گیا

جس کام کو جہاں میں تو آیا تھا اے نظیرؔخانہ خراب تجھ سے وہی کام رہ گیا


اے مری جان ہمیشہ ہو تری جان کی خیرنازکی دور بلا، حسن کے سامان کی خیر

رات دن شام سحر پہر گھڑی پل ساعتمانگتے جاتی ہے ہم کو تری آن آن کی خیر

مہندی چوٹی ہو سوائی ہو چمک پیٹی کیعمر چوٹی کی بڑی زلف پریشان کی خیر

بے طرح بوجھ سے جھمکوں کے جھکے پڑتے ہیںکیجو اللہ تو ان جھمکوں کی اور کان کی خیر

پان کھایا ہے تو اس وقت بھی لازم ہے یہیایک بوسہ ہمیں دیجے لب و دندان کی خیر

آنکھ اٹھا دیکھیے اور دیکھ کے ہنس بھی دیجےاپنے کاجل کی زکوٰۃ اور مسی و پان کی خیر

پہلے جس آن تمہاری نے لیا دل ہم سےاب تلک مانگتے ہیں دل سے ہم اس آن کی خیر

کیا غضب نکلے ہے بن ٹھن کے وہ کافر یاروآج ہوتی نظر آتی نہیں ایمان کی خیر

جتنے محبوب پری زاد ہیں دنیا میں نظیرؔسب کے اللہ کرے حسن کی اور جان کی خیر


ٹک ہونٹ ہلاؤں تو یہ کہتا ہے نہ بک بےاور پاس جو بیٹھوں تو سناتا ہے سرک بے

کہتا ہوں کبھی گھر میں مرے آ تو ہے کہتاچوکھٹ پہ ہماری کوئی دن سر تو پٹک بے

جب بدر نکلتا ہے تو کہتا ہے وہ مغرورکہہ دو اسے یاں آن کے اتنا نہ چمک بے

پردہ جو الٹ دوں گا ابھی منہ سے تو دم میںاڑ جائے گی چہرے کی ترے سب یہ جھمک بے

سب بانکپن اب تیرا نظیرؔ عشق نے کھویاکیا ہو گئی سچ کہہ وہ تیری دوت دبک بے


آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلناہر قدم ناز کے غصے میں اکڑ کر چلنا

جتنے بن بن کے نکلتے ہیں صنم نام خداسب میں بھاتا ہے مجھے اس کا بگڑ کر چلنا

ناتوانی کا بھلا ہو جو ہوا مجھ کو نصیباس کی دیوار کی اینٹوں کو رگڑ کر چلنا

اس کی کاکل ہے بری مان کہا اے افعیدیکھیو اس سے تو کاندھا نہ رگڑ کر چلنا

چلتے چلتے نہ خلش کر فلک دوں سے نظیرؔفائدہ کیا ہے کمینے سے جھگڑ کر چلنا


جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیزغرض یہ ماہ تو کیا آفتاب ہے کیا چیز

یہ پیرہن میں ہے اس گورے گورے تن کی جھلککہ جس کے سامنے موتی کی آب ہے کیا چیز

بھلا دیں ہم نے کتابیں کہ اس پری رو کےکتابی چہرے کے آگے کتاب ہے کیا چیز

تمہارے ہجر میں آنکھیں ہماری مدت سےنہیں یہ جانتیں دنیا میں خواب ہے کیا چیز

نظیرؔ حضرت دل کا نہ کچھ کھلا احوالمیں کس سے پوچھوں یہ ندرت مآب ہے کیا چیز

جو سخت ہووے تو ایسا کہ کوہ آہن کاجو نرم ہووے تو برگ گلاب ہے کیا چیز

گھڑی میں سنگ گھڑی موم اور گھڑی فولادخدا ہی جانے یہ عالی جناب ہے کیا چیز


الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کےہیں لاکھوں اپنی آنکھوں پر احسان تمہاری صورت کے

منہ دیکھے کہ یہ بات نہیں سچ پوچھو تو اب دنیا میںبے ہوش کرے ہیں پریوں کو انسان تمہاری صورت کے

آئینہ رخوں کی محفل میں جس وقت عیاں تم ہوتے ہوسب آئنہ ساں رہ جاتے ہیں حیران تمہاری صورت کے

کچھ کہنے پر موقوف نہیں معلوم ابھی ہو جاوے گاخورشید مقابل ہو دیکھے اک آن تمہاری صورت کے

کہ عرض نظیرؔ اک بوسے کی جب ہنس کر چنچل بولا یوںاس منہ سے بوسہ لیجئے گا قربان تمہاری صورت کے


دھواں کلیجے سے میرے نکلا جلا جو دل بس کہ رشک کھا کروہ رشک یہ تھا کہ غیر سے ٹک ہنسا تھا چنچل مسی لگا کر

فقط جو چتون پہ غور کیجے تو وہ بھی وہ سحر ہے کہ جس کاکرشمہ بندہ غلام غمزہ دغائیں نوکر فریب چاکر

خرام کی ہے وہ طرز یارو کہ جس میں نکلیں کئی ادائیںقدم جو رکھنا تو تن کے رکھنا جو پھر اٹھانا تو ڈگمگا کر

لٹک میں بندوں کی دل جو آوے تو خیر بندے ہی اس کو لے لیںوگرنہ آوے تو پھر نہ چھوڑے ادھر سے بالا جھمک دکھا کر

مجال کیا ہے جو دو بدو ہو نظر سے کوئی نظر لڑاوےمگر کسی نے جو اس کو دیکھا تو سو خرابی سے چھپ چھپا کر

سنے کسی کے نہ درد دل کو وگر سنے تو جھڑک کے اس کویہ صاف کہہ دے تو کیا بلا ہے جو سر پھراتا ہے ناحق آ کر

نظیرؔ وہ بت ہے دشمن جاں نہ ملیو اس سے تو دیکھ ہرگزوگر ملا تو خدا ہے حافظ بچے ہیں ہم بھی خدا خدا کر


کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورتکہ میں غلام ہوں اس شکل کا بہر صورت

ہیں آئنے کے بھی کیا طالع اب سکندر واہکہ اس نگار کی دیکھے ہے ہر سحر صورت

عجب بہار ہوئی کل تو وقت نظارہجو میں ادھر کو ہوا اس نے کی ادھر صورت

ادھر کو جب میں گیا اس نے لی ادھر کو پھیرپھرا میں اس نے پھرائی جدھر جدھر صورت

ہزاروں پھرتیاں میں نے تو کیں پر اس نے نظیرؔنہ دیکھنے دی مجھے اپنی آنکھ بھر صورت


ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جاناادھر مرنا تڑپنا غش میں آنا دم الٹ جانا

کہوں کیا کیا میں نقشے اس کی ناگن زلف کے یارولپٹنا اڑ کے آنا کاٹ کھانا پھر پلٹ جانا

اگر ملنے کی دھن رکھنا تو اس ترکیب سے ملناسرکنا دور ہٹنا بھاگنا اور پھر لپٹ جانا

نہ ملنے کا ارادہ ہو تو یہ عیاریاں دیکھوہمکنا آگے بڑھنا پاس آنا اور ہٹ جانا

یہ کچھ بہروپ پن دیکھو کہ بن کر شکل دانے کیبکھرنا سبز ہونا لہلہانا پھر سمٹ جانا

یہ یکتائی یہ یک رنگی تس اوپر یہ قیامت ہےنہ کم ہونا نہ بڑھنا اور ہزاروں گھٹ میں بٹ جانا

نظیرؔ ایسا جو چنچل دل ربا بہروپیا ہووےتماشا ہے پھر ایسے شوخ سے سودے کا پٹ جانا


رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پرتو کیا بہار سے گزری ہے رات کوٹھے پر

یہ دھوم دھام رہی صبح تک اہا ہا ہاکسی کی اتری ہے جیسے برات کوٹھے پر

مکاں جو عیش کا ہاتھ آیا غیر سے خالیپٹے کے چلنے لگے پھر تو ہات کوٹھے پر

گرایا شور کیا گالیاں دیں دھوم مچیعجب طرح کی ہوئی واردات کوٹھے پر

لکھیں ہم عیش کی تختی کو کس طرح اے جاںقلم زمین کے اوپر دوات کوٹھے پر

کمند زلف کی لٹکا کے دل کو لے لیجےیہ جنس یوں نہیں آنے کی ہات کوٹھے پر

خدا کے واسطے زینے کی راہ بتلاؤہمیں بھی کہنی ہے کچھ تم سے بات کوٹھے پر

لپٹ کے سوئے جو اس گل بدن کے ساتھ نظیرؔتمام ہو گئیں حل مشکلات کوٹھے پر


یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہےفلک پہ سورج بھی تھرتھرا کر منہ اس کا حیرت سے تک رہا ہے

کھجوری چوٹی ادا میں موٹی جفا میں لمبی وفا میں چھوٹیہے ایسی کھوٹی کہ دل ہر اک کا ہر ایک لٹ میں لٹک رہا ہے

وہ نیچی کافر سیاہ پٹی کہ دل کے زخموں پہ باندھے پٹیپڑھی ہے جس نے کہ اس کی پٹی وہ پٹی سے سر ٹپک رہا ہے

وہ ماتھا ایسا کہ چاند نکھرے پھر اس کے اوپر وہ بال بکھرےدل اس کے دیکھے سے کیوں نہ بکھرے کہ مثل سورج چمک رہا ہے

وہ چین خود رو کٹیلے ابرو وہ چشم جادو نگاہیں آہووہ پلکیں کج خو کہ جن کا ہر مو جگر کے اندر کھٹک رہا ہے

غضب وہ چنچل کی شوخ بینی پھر اس پہ نتھنوں کی نکتہ چینیپھر اس پہ نتھ کی وہ ہم نشینی پھر اس پہ موتی پھڑک رہا ہے

لب و دہاں بھی وہ نرم و نازک مسی و پاں بھی وہ قہر و آفتسخن بھی کرنے کی وہ لطافت کہ گویا موتی ٹپک رہا ہے

وہ کان خوبی میں چھک رہے ہیں جواہروں میں جھمک رہے ہیںادھر کو جھمکے جھمک رہے ہیں ادھر کا بالا چمک رہا ہے

صراحی گردن وہ آبگینہ پھر آگے سینہ بھی جوں نگینہبھرا ہے جس میں تمام کینہ کہ جوں نگینہ دمک رہا ہے

کچیں وہ کچھ کچھ ثمر درختی کچھ ان کی سختی وہ کچھ کرختیہیں جس نے دیکھے وہ پھل درختی کلیجہ اس کا دھڑک رہا ہے

وہ سرخ انگیا جو کس رہی ہے وہ چس رہی ہے اکس رہی ہےکچھ ایسے ڈھب سے وہ کس رہی ہے کہ اس کا کسنا کسک رہا ہے

وہ پیٹ دل کو لپیٹ لیوے وہ ناف جی کو سمیٹ لیوےمزار جی کا جھپیٹ لیوے کچھ ایسا پیڑو پھڑک رہا ہے

وہ پیٹھ گوری کمر وہ پتلی غضب لگاوٹ وہ پھر سرین کیاب آگے کہئے تو کیا کہوں میں کہ ہوش اس جا ٹھٹک رہا ہے

فقط وہ چمپے کی اک کلی ہے کچھ اک مندی ہے کچھ اک کھلی ہےسلاخ سونے کی اک ڈلی ہے کہ گویا کندن دمک رہا ہے

وہ پیاری رانیں وہ گول ساقیں وہ کف ملائم وہ نرم پہنچےکڑی کڑی سے کھڑک رہی ہے کڑا کڑے سے کھڑک رہا ہے

نظیرؔ خوبی میں اس پری کی کہوں کہاں تک ثنا بنا کرصفت سراپا میں جس کے لکھنے دل اب اسی سے اٹک رہا ہے


انداز کچھ اور ناز و ادا اور ہی کچھ ہےجو بات ہے وہ نام خدا اور ہی کچھ ہے

نہ برق نہ خورشید نہ شعلہ نہ بھبھوکاکیوں صاحبو یہ حسن ہے یا اور ہی کچھ ہے

بلور کی چمکیں ہیں نہ الماس کی جھمکیںاس گورے سے سینے کی صفا اور ہی کچھ ہے

پیچھے کو نظر کی تو وہ گدی ہے قیامتآگے کو جو دیکھا تو گلا اور ہی کچھ ہے

سینے پہ کہا میں نے یہ دو سیب ہیں کیا ہیںشرما کے یہ چپکے سے کہا اور ہی کچھ ہے

تم باتیں ہمیں کہتے ہو اور سنتے ہیں ہم چپاپنی بھی خموشی میں صدا اور ہی کچھ ہے

ہیں آپ کی باتیں تو شکر ریز پر اے جاںاس گونگے کے گڑ میں بھی مزا اور ہی کچھ ہے

پوچھی جو دوا ہم نے طبیبوں سے تو بولےبیماری نہیں ہے یہ بلا اور ہی کچھ ہے

عناب نہ خطمی نہ بنفشہ نہ خیاریناس ڈھب کے مریضوں کی دوا اور ہی کچھ ہے

ہم کو تو نظیرؔ ان سے شکایت ہے جفا کیاور ان کا جو سنیے تو گلہ اور ہی کچھ ہے


بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگاہم بھی عاشق ہیں خلل کیا ہوگا

دل ہی ہو سکتا ہے اور اس کے بغیرجان من دل کا بدل کیا ہوگا

حسن کے ناز اٹھانے کے سواہم سے اور حسن عمل کیا ہوگا

کل کا اقرار جو میں کر کے اٹھابولا بیٹھ اور بھی چل کیا ہوگا

تو جو کل آنے کو کہتا ہے نظیرؔتجھ کو معلوم ہے کل کیا ہوگا


یہ چھپکے کا جو بالا کان میں اب تم نے ڈالا ہےاسی بالے کی دولت سے تمہارا بول بالا ہے

نزاکت سر سے پاؤں تک پڑی قربان ہوتی ہےالٰہی اس بدن کو تو نے کس سانچے میں ڈھالا ہے

یہ دل کیوں کر نگہ سے اس کی چھدتے ہیں میں حیراں ہوںنہ خنجر ہے نہ نشتر ہے نہ جمدھر ہے نہ بھالا ہے

بلائیں ناگ کالے ناگنیں اور سانپ کے بچےخدا جانے کہ اس جوڑے میں کیا کیا باندھ ڈالا ہے

نہ غول آتا ہے خوباں کا سرک اے دل میں کہتا ہوںیہ کمپو کی نہیں پلٹن یہ پریوں کا رسالا ہے

جسے تم لے کے بیدردی سے پاؤں میں کچلتے ہویہ دل میں نے تو اے صاحب بڑی محنت سے پالا ہے

نظیرؔ اک اور لکھ ایسی غزل جو سن کے جی خوش ہواری اس ڈھب کی باتوں نے تو دل میں شور ڈالا ہے


جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھیپھر جہاں کٹ گئے چار گھڑی اور بھی

پہلے ہی ساغر میں تھے ہم تو پڑے لوٹتےاتنے میں ساقی نے دی اس سے کڑی اور بھی

پلکیں تو چھیدے تھیں دل مارے تھی برچھی نگاہابرو نے اس پر سے ایک تیغ جڑی اور بھی

کچھ تپش دل تھی کچھ سنتے ہی فرقت کا نامآگ سی ایک آگ پر آن پڑی اور بھی

میری شب وصل کی صبح چلی آتی ہےروک لے اس دم فلک ایک گھڑی اور بھی

گرچہ ابھر آئے ہیں تن پہ مرے پر میاںاتنی لگائیں جہاں ایک چھڑی اور بھی

کیا کہوں اس شوخ کی واہ میں خوبی نظیرؔسنتے ہی اس بات کے ایک جڑی اور بھی


بحر ہستی میں صحبت احبابیوں ہے جیسے بروئے آب حباب

گردش آسماں میں ہم کیا ہیںپر کاہے میانۂ گرداب

بادۂ ناب کیا ہے خون جگرزردئ رنگ ہے شب مہتاب

جس کو رقص و سرود کہتے ہیںوہ بھی ہے اک ہوائے خانہ خراب

عمر کہتے ہیں جس کو وہ کیا ہےمثل تحریر موج نقش بر آب

جسم کیا روح کی ہے جولا نگاہروح کیا اک سوار پا بہ رکاب

حسن اور عشق کیا ہیں یہ بھی ہیںخطفہ برق و قطرۂ سیماب

زندگانی و مرگ بھی کیا ہیںایک مثل خیال و دیگر خواب

فرصت عمر قطرۂ شبنموصل محبوب گوہر نایاب

کیوں نہ عشرت دو چند ہو جو ہےیار مہ چہرہ اور شب مہتاب

سب کتابوں کے کھل گئے معنیجب سے دیکھی نظیرؔ دل کی کتاب


نہ اس کے نام سے واقف نہ اس کی جا معلومملے گا دیکھیے کیوں کر وہ بت خدا معلوم

جواب دیکھیے دل لے کے یہ کہا چپکےنہ ہو یہ اور کسی کو ترے سوا معلوم

لگا کے زخم جگر پر جو پھر نمک چھڑکاتو اس میں ہم کو ہوا اور ہی مزا معلوم

بدن پری کا ترے تن سے گو کہ گورا ہےولے وہ چاہے کہ ایسا ہو گدگدا معلوم

ہم اس پہ مرتے ہیں مدت سے اور وہ کہتا ہےقسم خدا کی ہمیں تو یہ اب ہوا معلوم

کیا تھا عہد نہ وعدہ نہ قول نے اقرارجو آ گیا وہ مرے پاس شب کو نا معلوم

جو مجھ سے ہنس کے کہا جس لیے ہم آئے ہیںنظیرؔ تم نے بھی سچ کہیو کیا کیا معلوم

کہا یہ میں نے مجھے کیا خبر تمہیں جانوکسی کے دل کی بھلا جی کسی کو کیا معلوم


چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہےکافر تری نظروں میں کچھ اور ہی چھل بل ہے

بالا بھی چمکتا ہے جگنو بھی دمکتا ہےبدھی کی لپٹ تس پر تعویذ کی ہیکل ہے

گورا وہ گلا نازک اور پیٹ ملائی ساسینے کی صفائی بھی ایسی گویا مخمل ہے

وہ حسن کے گلشن میں مغرور نہ ہو کیوں کربڑھتی ہوئی ڈالی ہے اٹھتی ہوئی کونپل ہے

انگیا وہ غضب جس کو ململ ہی کرے دل بھیکیا جانے کہ شبنم ہے نن سکھ ہے کہ ململ ہے

یہ دو جو نئے پھل ہیں سینے پہ ترے ظالمٹک ہاتھ لگانے دے جینے کا یہی پھل ہے

ابھرا ہوا وہ سینہ اور جوش بھرا جوبنایک ناز کا دریا ہے اک حسن کا بادل ہے

کیا کیجے بیاں یارو چنچل کی رکھاوٹ کاہر بات میں در در ہے ہر آن میں چلچل ہے

یہ وقت ہے خلوت کا اے جان نہ کر کل کلکافر تری کل کل سے اب جی مرا بیکل ہے

کل میں نے کہا اس سے کیا دل میں یہ آیا جوکنگھی ہے نہ چوٹی ہے مسی ہے نہ کاجل ہے

معلوم ہوا ہم سے روٹھے ہو تم اے جانیالٹا ہی دوپٹے کا مکھڑے پہ یہ آنچل ہے

یہ سن کے لگی کہنے روٹھی تو نہیں تجھ سےپر کیا کہوں دو دن سے کچھ دل مرا بیکل ہے

جس دن ہی نظیرؔ آ کر وہ شوخ ملے ہم سےہتھ پھیر ہیں بوسے ہیں دن رات کی مل دل ہے


ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گااور چوم کے منہ اس کا سینے سے لگا لوں گا

گر تیر لگاوے گا پیہم وہ نگہ کے تومیں اس کی جراحت کو ہنس ہنس کے اٹھا لوں گا

دل جاتے ادھر دیکھا جب میں نے نظیرؔ اس کوروکا ارے وہ تجھ کو لے گا تو میں کیا لوں گا

واں ابرو و مژگاں کے ہیں تیغ و سناں چلتےٹک سوچ تو میں تجھ کو کس کس سے بچا لوں گا

پڑ جاوے گی جب شہہ وہ اے دل تو بھلا پھر میںکیا آپ کو تھاموں گا کیا تجھ کو سنبھالوں گا


گلے سے دل کے رہی یوں ہے زلف یار لپٹکہ جوں سپیرے کی گردن میں جائے مار لپٹ

مزے اٹھاتے کمر بند کی طرح سے اگرکمر سے یار کی جاتے ہم ایک بار لپٹ

ہمارے پاس وہ آیا تو کھول کر آغوشیہ چاہا جاویں ہم اس سے بہ انکسار لپٹ

وہیں وہ دور سرک کر عتاب سے بولاہمارے ساتھ نہ ہو کر تو بے قرار لپٹ

ہمیں جو چاہیں تو لپٹیں نظیرؔ اب ورنہتو چاہے لپٹے سو ممکن نہیں ہزار لپٹ


نہ مہ نے کوند بجلی کی نہ شعلے کا اجالا ہےکچھ اس گورے سے مکھڑے کا جھمکڑا ہی نرالا ہے

وہ مکھڑا گل سا اور اس پر جو نارنجی دوشالہ ہےرخ خورشید نے گویا شفق سے سر نکالا ہے

کن انکھیوں کی نگہ گپتی اشارت قہر چتون کےجو ووں دیکھا تو برچھی ہے جو یوں دیکھا تو بھالا ہے

کہیں خورشید بھی چھپتا ہے جی باریک پردے میںاٹھا دو منہ سے پردے کو بڑا پردہ نکالا ہے

کھلے بالوں سے منہ کی روشنی پھوٹی نکلتی ہےتمہارا حسن تو صاحب اندھیرے کا اجالا ہے

نہ جھمکیں کس طرح کانوں میں اس کے حسن کے جھمکےادھر بندا ادھر جھمکا ادھر بجلی کا بالا ہے

نظیرؔ اس سنگ دل قاتل پہ دعویٰ خون کا مت کرمیاں جا تجھ سے یاں کتنوں کو اس نے مار ڈالا ہے


حسن اس شوخ کا اہا ہاہاجن نے دیکھا کہا اہا ہاہا

زلف ڈالے ہے گردن دل میںدام کیا کیا بڑھا اہا ہاہا

تیغ ابرو بھی کرتی ہے دل پروار کیا کیا نیا اہا ہاہا

آن پر آن وہ اجی او ہواور ادا پر ادا اہا ہاہا

ناز سے جو نہ ہو وہ کرتی ہےچپکے چپکے حیا اہا ہاہا

طائر دل پہ اس کا باز نگاہجس گھڑی آ پڑا اہا ہاہا

اس کی پھرتی اور اس کی لپ چھپ کاکیا تماشا ہوا اہا ہاہا

بزم خوباں میں جب گیا وہ شوخاپنی سج دھج بنا اہا ہاہا

کی او ہو ہو کسی نے دیکھ نظیرؔکوئی کہنے لگا اہا ہاہا


نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سیلپٹ ہے یہ تو کسی زلف پر شکن کی سی

میں ہنس کے اس لیے منہ چومتا ہوں غنچہ کاکہ کچھ نشانی ہے اس میں ترے دہن کی سی

خدا کے واسطے گل کو نہ میرے ہاتھ سے لومجھے بو آتی ہے اس میں کسی بدن کی سی

ہزار تن کے چلیں بانکے خوب رو لیکنکسی میں آن نہیں تیرے بانکپن کی سی

مجھے تو اس پہ نہایت ہی رشک آتا ہےکہ جس کے ہاتھ نے پوشاک تیرے تن کی سی

کہا جو تم نے کہ منکا ڈھلا تو آؤں گاہے بات کچھ نہ کچھ اس میں بھی مکر و فن کی سی

وگرنہ سچ ہے تو اے جان اتنی مدت میںیہی بس ایک کہی تم نے میرے من کی سی

وہ دیکھ شیخ کو لاحول پڑھ کے کہتا ہے"یہ آئے دیکھیے داڑھی لگائے سن کی سی"

کہاں تو اور کہاں اس پری کا وصل نظیرؔمیاں تو چھوڑ یہ باتیں دوانے پن کی سی


یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیںفتنہ گر ہیں ہزار ہنستے ہیں

عرض بوسے کی سچ نہ جانو تمہم تو اے گلعذار ہنستے ہیں

دل کو دے مفت ہنستے ہیں ہم یوںجس طرح شرمسار ہنستے ہیں

ہم جو کرتے ہیں عشق پیری میںخوبرو بار بار ہنستے ہیں

جو قدیمی ہیں یار دوست نظیرؔوہ بھی بے اختیار ہنستے ہیں


گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیااور غم میں بسر ہو گئی اوقات تو پھر کیا

جب آئی اجل پھر کوئی ڈھونڈا بھی نہ پایاقصوں میں رہے حرف و حکایات تو پھر کیا

حد بوس و کنار اور جو تھا اس کے سوا آہگر وہ بھی میسر ہوا ہیہات تو پھر کیا

دو دن اگر ان آنکھوں نے دنیا میں مری جاںکی ناز و اداؤں کی اشارات تو پھر کیا

پھر اڑ گئی اک آن میں سب حشمت و سب شانلے شرق سے تا غرب لگا ہات تو پھر کیا

اسپ و شتر و فیل و خر و نوبت و لشکرگر قبر تلک اپنے چلا سات تو پھر کیا

جب آئی اجل پھر وہیں اٹھ بھاگے شتابیرندوں میں ہوئے اہل خرابات تو پھر کیا

دو دن کو جو تعویذ و فتیلہ و عمل سےتسخیر کیا عالم جنات تو پھر کیا

اس عمر دو روزہ میں اگر ہو کے نجومیسب چھان لیے ارض و سماوات تو پھر کیا

اک دم میں ہوا ہو گئے سب عملی و نظریتھے یاد جو اسباب و علامات تو پھر کیا

اس نے کوئی دن بیٹھ کے آرام سے کھایاوہ مانگتا در در پھرا خیرات تو پھر کیا

دولت ہی کا ملنا ہے بڑی چیز نظیرؔ آہبالفرض ہوئی اس سے ملاقات تو پھر کیا

آخر کو جو دیکھا تو ہوئے خاک کی ڈھیریدو دن کی ہوئی کشف و کرامات تو پھر کیا

جب آئی اجل ایک ریاضت نہ گئی پیشمر مر کے جو کی کوشش و طاعات تو پھر کیا

جب آئی اجل آہ تو اک دم میں گئے مرگر یہ بھی ہوئی ہم میں کرامات تو پھر کیا


آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستےجل دے گیا ہے شاید عیار ہنستے ہنستے

اتنا نہ ہنس دل اس سے ایسا نہ ہو کہ چنچللڑنے کو تجھ سے ہووے تیار ہنستے ہنستے

لے کر صریح دل کو وہ گل عذار یاروظاہر کرے ہے کیا کیا انکار ہنستے ہنستے

ہنس ہنس کے چھیڑ اس کو زنہار تو نہ اے دلہوگا گلے کا تیرے یہ ہار ہنستے ہنستے

ہنسنے کی آن دکھلا لیتا ہے دل کو گل روکرتا ہے شوخ یارو بے کار ہنستے ہنستے

جھنجھلا کے حال دل کا کہنا نہیں روا ہےلائق یہاں تو کرنا انکار ہنستے ہنستے

دستار سرخ سج کر طرہ زری کا رکھ کرآیا جو دل کو لینے دل دار ہنستے ہنستے

آنکھیں لڑا کے اس نے ہنس کر نگہ کی ایسیجو لے گیا دل آخر خونخوار ہنستے ہنستے

آیا ہے دیکھنے کو تیرے نظیرؔ اے گلدکھلا دے ٹک تو اس کو دیدار ہنستے ہنستے


جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیاہمیں تو پہلے ہی اس کی ادا نے لوٹ لیا

نگہ کے ٹھگ کی لگاوٹ نے فن سے کر غافلہنسی نے ڈال دی پھانسی دعا نے لوٹ لیا

وفا جفا نے یہ کی جنگ زر گری ہم سےوفا نے باتوں لگایا جفا نے لوٹ لیا

لٹے ہم اس کی گلی میں تو یوں پکارے لوگکہ اک فقیر کو اک بادشا نے لوٹ لیا

ابھی کہیں تو کسی کو نہ اعتبار آوےکہ ہم کو راہ میں اک آشنا نے لوٹ لیا

ہزاروں قافلے جس شوخ نے کیے غارتنظیرؔ کو بھی اسی بے وفا نے لوٹ لیا


ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہمتو ہار کے اک دن اس کی بھی تدبیر کوئی ٹھہرائیں گے ہم

بیزار کریں گے خاطر کو پہلے تو تمہاری چاہت سےپھر دل کو بھی کچھ منت سے کچھ ہیبت سے سمجھائیں گے ہم

گر کہنا دل نے مان لیا اور رک بیٹھا تو بہتر ہےاور چین نہ لینے دیوے گا تو بھیس بدل کر آئیں گے ہم

اول تو نہیں پہچانو گے اور لو گے بھی پہچان تو پھرہر طور سے چھپ کر دیکھیں گے اور دل کو خوش کر جائیں گے ہم

گر چھپنا بھی کھل جاوے گا تو مل کر افسوں سازوں سےکچھ اور ہی لٹکا سحر بھرا اس وقت بہم پہنچائیں گے ہم

جب وہ بھی پیش نہ جاوے گا اور شہرت ہووے گی پھر توجس صورت سے بن آوے گا تصویر کھنچا منگوائیں گے ہم

موقوف کرو گے چھپنے کو تو بہتر ورنہ نظیرؔ آساجو حرف زباں پر لائیں گے پھر وہ ہی کر دکھلائیں گے ہم


تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرتترے آگے کوئی قادر کہا سکتا ہے کیا قدرت

تو وہ یکتائے مطلق ہے کہ یکتائی میں اب تیریکوئی شرک دوئی کا حرف لا سکتا ہے کیا قدرت

زمیں سے آسماں تک تو نے جو جو رنگ رنگے ہیںیہ رنگ آمیزیاں کوئی دکھا سکتا ہے کیا قدرت

ہزاروں گل ہزاروں گل بدن تو نے بنا ڈالےکوئی مٹی سے ایسے گل کھلا سکتا ہے کیا قدرت

ہوئے ہیں نور سے جن کے زمین و آسماں پیداکوئی یہ چاند یہ سورج بنا سکتا ہے کیا قدرت

ہوا کے فرق پر کوئی بنا کر ابر کا خیمہطنابیں تار باراں کی لگا سکتا ہے کیا قدرت

جم و اسکندر و دارا و کیکاؤس و کیخسروکوئی اس ڈھب کے دل بادل بنا سکتا ہے کیا قدرت

کیا نمرود نے گو کبر سے دعویٰ خدائی کاکہیں اس کا یہ دعویٰ پیش جا سکتا ہے کیا قدرت

نکالا تیرے اک پشتے نے کفشیں مار مغز اس کاسوا تیرے خدا کوئی کہا سکتا ہے کیا قدرت

نکالے لکڑیوں سے تو نے جس جس لطف کے میوےکوئی پیڑوں میں یہ پیڑے لگا سکتا ہے کیا قدرت

ترے ہی خوان نعمت سے ہے سب کی پرورش ورنہکوئی چیونٹی سے ہاتھی تک کھلا سکتا ہے کیا قدرت

ہماری زندگانی کو بغیر از تیری قدرت کےکوئی پانی کو پانی کر بہا سکتا ہے کیا قدرت

ترے حسن تجلی کا جہاں ذرہ جھمک جاوےتو پھر موسیٰ کوئی واں تاب لا سکتا ہے کیا قدرت

دم عیسیٰ میں وہ تاثیر تھی تیری ہی قدرت کیوگرنہ کوئی مردے کو جلا سکتا ہے کیا قدرت

تو وہ محبوب چنچل ہے کہ بار ناز کو تیرےبغیر از مصطفی کوئی اٹھا سکتا ہے کیا قدرت

نظیرؔ اب طبع پر جب تک نہ فیضان الٰہی ہوکوئی یہ لفظ یہ مضموں بنا سکتا ہے کیا قدرت


وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیںتو مہ کے طشت میں گھی کے چراغ چلتے ہیں

پڑے ہوس ہی ہوس میں ہمیشہ گلتے ہیںہمارے دیکھیے ارمان کب نکلتے ہیں

ہجوم آہ ہے آنکھوں سے اشک ڈھلتے ہیںبھرے ہیں چاؤ جو دل میں سو یوں نکلتے ہیں

چراغ صبح یہ کہتا ہے آفتاب کو دیکھیہ بزم تم کو مبارک ہو ہم تو چلتے ہیں

برنگ اشک کبھی گر کے ہم نہ سنبھلے آہیہی کہا کئے جی میں کہ اب سنبھلتے ہیں

نکالتا ہے ہمیں پھر وہ اپنے کوچے سےابھی تو نکلے نہیں ہیں پر اب نکلتے ہیں

فدا جو دل سے ہے ان شوخ سبزہ رنگوں پریہ ظالم اس کی ہی چھاتی پہ مونگ دلتے ہیں

ہوا نحیف بھی یاں تک کہ حضرت مجنوںیہ مجھ سے کہتے ہیں اور ہاتھ اپنے ملتے ہیں

کوئی تو پگڑی بدلتا ہے اور سے لیکنمیاں نظیرؔ ہم اب تم سے تن بدلتے ہیں


رخ پری چشم پری زلف پری آن پریکیوں نہ اب نام خدا ہو ترے قربان پری

جھمکے جھمکے وہ ثریا کے کرن پھول وہ پھولبندے بالے پری موتی پری اور کان پری

رشک خورشید جبیں ابر سیہ سی پٹیلہر چوٹی کی غضب زلف پریشان پری

حسن گل زار قمر شکل صراحی گردنمہ جبیں سیب ذقن چاہ زنخدان پری

مار غمزہ کی بلا تیر نگہ دست سناںتیغ ابرو کی ستم ترکش مژگان پری

مسکرانے کی ادا جیسے چمک بجلی کیآن ہنسنے کی قیامت لب و دندان پری

آنکھ مستی کی بھری شوخ نگاہیں چنچلقہر کاجل کی کھچاوٹ مسی و پان پری

بینی اور نتھ کا وہ عالم کہ چھدے دل جس سےحور چنی کی جھلک گوہر غلطان پری

دھکدھکی چاند سی جگنو بھی ستاروں کی مثالعطرداں طرفہ وہ توڑے بھی درخشان پری

چاک سینے کا غضب صاف بدن موتی ساایک تصویر سی کرتی کا گریبان پری

پشت گلبرگ شکم سیم کمر تار نگاہسان بلور گلاوٹ میں ہر اک ران پری

گھیرا پشواز کا وہ جس کے کناری قرباںچال آفت کی نشاں جنبش دامان پری

کیا کہوں اس کے سراپا کی میں تعریف نظیرؔقد پری دھج پری عالم پری اور شان پری


آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکالب ہائے مبارک سے اک شور تھا "بس بس" کا

سو بار حریر اس کا مسکا نگہ گل سےشبنم سے کب اے بلبل پیراہن گل مسکا

اس تن کو نہیں طاقت شبنم کے تلبس سےاے دست ہوس اس پر تو قصد نہ کر مس کا

ملتی ہے پری آنکھیں اور حور جبیں سا ہےہے نقش جہاں یارو اس پائے مقدس کا

تر رکھیو سدا یارب تو اس مژۂ تر کوہم عطر لگاتے ہیں گرمی میں اسی خس کا

اس گریۂ خونیں کی دولت سے نظیرؔ اپنےاب کلبۂ احزاں میں کل فرش ہے اطلس کا


کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیاکہ جس کے غم سے مرا دل ہوا ہے باولیا

تمام گوروں کے حیرت سے رنگ اڑ جاتےجو گھر سے آج نکلتا وہ میرا سانولیا

تجھے خبر نہیں بلبل کے باغ سے گلچیںبڑی سی پھولوں کی اک بھر کے لے گیا ڈلیا

نظیرؔ یار کی ہم نے جو کل ضیافت کیپکایا قرض منگا کر پلاؤ اور قلیا

سو یار آپ نہ آیا رقیب کو بھیجاہزار حیف ہم ایسے نصیب کے بلیا

ادھر تو قرض ہوا اور ادھر نہ آیا یارپکائی کھیر تھی قسمت سے ہو گیا دلیا


گل زار ہے داغوں سے یہاں تن بدن اپناکچھ خوف خزاں کا نہیں رکھتا چمن اپنا

اشکوں کے تسلسل نے چھپایا تن عریاںیہ آب رواں کا ہے نیا پیرہن اپنا

کس طرح بنے ایسے سے انصاف تو ہے شرطیہ وضع مری دیکھو وہ دیکھو چلن اپنا

انکار نہیں آپ کے گھر چلنے سے مجھ کومیں چلنے کو موجود جو چھوڑو چلن اپنا

مسکن کا پتہ خانہ بدوشوں سے نہ پوچھوجس جا پہ کہ بس گر رہے وہ ہے وطن اپنا


رکھتا ہے گو قدیم سے بنیاد آگرہاکبر کے نام سے ہوا آباد آگرہ

یاں کے کھنڈر نہ اور جگہ کی عمارتیںیارو عجب مقام ہے دل شاد آگرہ

شداد زر لگا نہ بناتا بہشت کوگر جانتا کہ ہووے گا آباد آگرہ

توڑے کوئی قلعے کو کوئی لوٹے شہر کواب کس سے اپنی مانگے بھلا داد آگرہ

اب تو ذرا سا گاؤں ہے بیٹی نہ دے اسےلگتا تھا ورنہ چین کا داماد آگرہ

یک بارگی تو اب مجھے یارب تو پھر بساکرتا ہے اب خدا سے یہ فریاد آگرہ

اک خوبرو نہیں ہے یہاں ورنہ ایک دنتھا رشک حسن بلخ و نوشاد آگرہ

ہرگز وطن کی یاد نہ آوے اسے کبھیجو کر کے اپنی جاں کو کرے شاد آگرہ

اس میں سدا خوشی سے رہا ہے ترا نظیرؔیارب ہمیشہ رکھیو تو آباد آگرہ


کھولی جو ٹک اے ہم نشیں اس دل ربا کی زلف کلکیا کیا جتائے خم کے خم کیا کیا دکھائے بل کے بل

آتا جو باہر گھر سے وہ ہوتی ہمیں کیا کیا خوشیگر دیکھ لیتے ہم اسے پھر ایک دم یا ایک پل

دن کو تو بیم فتنہ ہے ہم اس سے مل سکتے نہیںآتا ہے جس دم خواب میں جب دیکھتے ہیں بے خلل

کیا بے بسی کی بات ہے یارو نظیرؔ اب کیا کرےوہ آنے واں دیتا نہیں آتی نہیں یاں جی میں کل


کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھااپنا بھی اس طرف گزر عاشقانہ تھا

مل بیٹھنے کے واسطے آپس میں ہر گھڑیتھا کچھ فریب واں تو ادھر کچھ بہانہ تھا

چاہت ہماری تاڑتے ہیں واں کے تاڑ بازتس پر ہنوز خوب طرح دل لگا نہ تھا

کیا کیا دلوں میں ہوتی تھی بن دیکھے بے کلیہے کل کی بات حیف کہ ایسا زمانہ تھا

اب اس قدر ہوا وہ فراموش اے نظیرؔکیا جانے وہ معاملہ کچھ تھا بھی یا نہ تھا


ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلبوہ خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلب

فقط جو ذات کے ہیں دل سے چاہنے والےانہیں کرشمہ و ناز و ادا سے کیا مطلب

نہال تازہ رہیں نامیہ کے منت کشدرخت خشک کو نشوونما سے کیا مطلب

مراد و مقصد و مطلب ہیں سب ہوس کے ساتھہوس ہی مر گئی پھر مدعا سے کیا مطلب

مجھے وہ پوچھے تو اس کا ہی لطف ہے ورنہوہ بادشاہ ہے اسے مجھ گدا سے کیا مطلب

جو اپنے یار کے جور و جفا میں ہیں مسرورانہیں پھر اور کے مہر و وفا سے کیا مطلب

رضائے دوست جنہیں چاہئے بہ ہر صورتنظیرؔ پھر انہیں اپنی رضا سے کیا مطلب


کبھی تو آؤ ہمارے بھی جان کوٹھے پرلیا ہے ہم نے اکیلا مکان کوٹھے پر

کھڑے جو ہوتے ہو تم آن آن کوٹھے پرکرو گے حسن کی کیا تم دکان کوٹھے پر

تمہیں جو شام کو دیکھا تھا بام پر میں نےتمام رات رہا میرا دھیان کوٹھے پر

یقیں ہے بلکہ مری جان جب کہ نکلے گیتو آ رہے گی تمہارے ہی جان کوٹھے پر

مجھے یہ ڈر ہے کسی کی نظر نہ لگ جاوےپھرو نہ تم کھلے بالوں سے جان کوٹھے پر

بشر تو کیا ہے فرشتے کا جی نکل جاوےتمہارے حسن کی دیکھ آن بان کوٹھے پر

جھمک دکھا کے ہمیں اور بھی پھنسانا ہےجبھی تو چڑھتے ہو تم جان جان کوٹھے پر

تمہیں تو کیا ہے ولیکن مری خرابی ہوکسی کا آن پڑے اب جو دھیان کوٹھے پر

گو چونے کاری میں ہوتی ہے سرخی تو ایسیکسی کے خون کا یہ ہے نشان کوٹھے پر

یہ آرزو ہے کسی دن تو اپنے دل کا دردکریں ہم آن کے تم سے بیان کوٹھے پر

لڑاؤ غیر سے آنکھیں کہو ہو ہم سے آہکہ تھا ہمیں تو تمہارا ہی ہے دھیان کوٹھے پر

خدا کے واسطے اتنا تو جھوٹ مت بولوکہیں نہ ٹوٹ پڑے آسمان کوٹھے پر

کمند زلف کی لٹکا کے اس صنم نے نظیرؔچڑھا لیا مجھے اپنے ندان کوٹھے پر


گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنےارادے سے چاہت کے آگاہ کرنے

کہا اس نے آنا ہوا کس سبب سےکہا آپ کے دل کو ہم راہ کرنے

بٹھایا اور اک چٹکی لی ایسی جس سےلگے منہ بنا ہم وہیں آہ کرنے

جو یہ شکل دیکھی تو چٹکی بجا کرکہا یوں نظیرؔ اور لگا واہ کرنے

میاں ایک چٹکی سے کی آہ رک کراسی منہ سے آئے ہو تم چاہ کرنے


ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سےکبھی شان سے کبھی آن سے کبھی ناز سے کبھی پیار سے

ہوئی پیرہن سے بھی خوش دلی کلی دل کی اور بہت کھلیکبھی طرے سے کبھی گجرے سے کبھی بدھی سے کبھی ہار سے

وہ کناری ان میں جو تھی گندھی اسے دیکھ کر بھی ہوئی خوشیکبھی نور سے کبھی لہر سے کبھی تاب سے کبھی تار سے

گئے اس کے ساتھ چمن میں ہم تو گلوں کو دیکھ کے خوش ہوئےکبھی سرو سے کبھی نہر سے کبھی برگ سے کبھی بار سے

وہ نظیرؔ سے تو ملا کیا مگر اپنی وضع نیں اس طرحکبھی جلد سے کبھی دیر سے کبھی لطف سے کبھی عار سے


جب اس کا ادھر ہم گزر دیکھتے ہیںتو کر دل میں کیا کیا حذر دیکھتے ہیں

ادھر تیر چلتے ہیں ناز و ادا کےادھر اپنا سینہ سپر دیکھتے ہیں

ستم ہے کن انکھیوں سے گر تاک لیجےغضب ہے اگر آنکھ بھر دیکھتے ہیں

نہ دیکھیں تو یہ حال ہوتا ہے دل کاکہ سو سو تڑپ کے اثر دیکھتے ہیں

جو دیکھیں تو یہ جی میں گزرے ہے خطرہابھی سر اڑے گا اگر دیکھتے ہیں

مگر اس طرح دیکھتے ہیں کہ اس پریہ ثابت نہ ہو جو ادھر دیکھتے ہیں

چھپا کر دغا کر نظیرؔ اس صنم کوغرض ہر طرح اک نظر دیکھتے ہیں


بگولے اٹھ چلے تھے اور نہ تھی کچھ دیر آندھی میںکہ ہم سے یار سے آ ہو گئی مڈبھیڑ آندھی میں

جتا کر خاک کا اڑنا دکھا کر گرد کا چکروہیں ہم لے چلے اس گل بدن کو گھیر آندھی میں

رقیبوں نے جو دیکھا یہ اڑا کر لے چلا اس کوپکارے ہائے یہ کیسا ہوا اندھیر آندھی میں

وہ دوڑے تو بہت لیکن انہیں آندھی میں کیا سوجھےزبس ہم اس پری کو لائے گھر میں گھیر آندھی میں

چڑھا کوٹھے پہ دروازے کو موند اور کھول کر پردےلگا چھاتی لیے بوسے کیا ہت پھیر آندھی میں

وہ کوٹھے کا مکاں وہ کالی آندھی وہ صنم گل روعجب رنگوں کی ٹھہری آ کے ہیرا پھیر آندھی میں

اٹھا کر طاق سے شیشہ لگا چھاتی سے دلبر کونشوں میں عیش کے کیا کیا کیا دل سیر آندھی میں

کبھی بوسہ کبھی انگیا پہ ہاتھ اور گاہ سینے پرلگے لٹنے مزے کے سنگترے اور بیر آندھی میں

مزے عیش و طرب لذت لگے یوں ٹوٹ کر گرنےکہ جیسے ٹوٹ کر میووں کے ہوویں ڈھیر آندھی میں

رقیبوں کی میں اب خواری خرابی کیا لکھوں بارےبھری نتھنوں میں ان کے خاک دس دس سیر آندھی میں

کسی کی اڑ گئی پگڑی کسی کا پھٹ گیا دامنگئی ڈھال اور کسی کی گر پڑی شمشیر آندھی میں

نظیرؔ آندھی میں کہتے ہیں کہ اکثر دیو ہوتے ہیںمیاں ہم کو تو لے جاتی ہیں پریاں گھیر آندھی میں


دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالباگرچہ مے کش تو ہم نئے تھے پہ لب پہ رکھتے ہی پی گئے سب

چلتے ہیں دینے کو ہم جسے دل وہ ہنس کے لے لے بس اب ہمیں تویہی ہے خواہش یہی تمنا یہی ہے مقصد یہی ہے مطلب

کبھی جو آتے ہیں دیکھنے ہم تو آپ تیوری کو ہیں چڑھاتےجو ہر دم آویں تو کیجے خفگی میاں ہم آتے ہیں ایسے کب کب

نہ پی تھی ہم نے یہ مے تو جب تک نظیرؔ ہم میں تھا دین و ایماںلگا لبوں سے وہ جام پھر تو کہاں کا دین اور کہاں کا مذہب


یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہاہم تو رسوا ہیں ہی کیا بے جا کہا اچھا کہا

وصف اس کے حسن کا کلی ہوا کس سے گرجس کے جتنا فہم میں آیا کہا اچھا کہا

آپ سے جب آپ کو ہم نے ملایا خاک میںپھر تو جس جس نے جو کچھ چاہا کہا اچھا کہا

یار کے آگے پڑھا یہ ریختہ جا کر نظیرؔسن کے بولا واہ واہ اچھا کہا اچھا کہا


رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدرکھوئی کاکل نے بھی آخر کو شب قدر کی قدر

عزت و قدر کی اس گل سے توقع ہے عبثواں نہ عزت کی کچھ عزت ہے نہ کچھ قدر کی قدر

راستی خوار ہے اس چشم فسوں پرور سےہاں مگر منزلت مکر ہے اور غدر کی قدر

مے پرستوں میں ہے یوں ساغر و مینا کا وقارجیسے اسلام میں ہو محتسب و صدر کی قدر

کفش برداری سے اس مہر کی چمکا ہے نظیرؔورنہ کیا خاک تھی اس ذرۂ بے قدر کی قدر


مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشک حور لے جاناکسی صورت سے واں تک تم مرا مذکور لے جانا

اگر وہ شعلہ رو پوچھے مرے دل کے پھپھولوں کوتو اس کے سامنے اک خوشۂ انگور لے جانا

جو یہ پوچھے کہ اب کتنی ہے اس کے رنگ پر زردیتو یارو تم گل صد برگ یا کافور لے جانا

اگر پوچھے مرے سینے کے زخموں کو تو اے یاروکہیں سے ڈھونڈھ کر اک خانۂ زنبور لے جانا

رقیب رو سیہ کے حال کا گر ماجرا پوچھےتو اس کے سامنے جنگل سے اک لنگور لے جانا

نظیرؔ اک دن خوشی سے یار نے ہنس کر کہا مجھ کوکہ تو بھی ایک بوسہ ہم سے اے رنجور لے جانا


بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تکدیکھیں تو آپ ہم سے ناخوش رہیں گے کب تک

اقرار تھا سحر کا ایسا ہوا سبب کیاجو شام ہونے آئی اور وہ نہ آیا اب تک

محفل میں گل رخوں کے آیا جو وہ پری روہو شکل حیرت اس کی صورت رہے وہ سب تک

بوسہ نظیرؔ ہم کو دینے کہا تھا اس نےہم وقت پا کے جس دم لینے کی پہنچے ڈھب تک

ہر چند تھا نشے میں وہ شوخ تو بھی اس نےہرگز ہمارے لب کو آنے دیا نہ لب تک


یہ حسب عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کامگر دنیا سے لے جاویں گے ہم ارمان ملنے کا

عجب مشکل ہے کیا کہئے بغیر از جان دینے کےکوئی نقشہ نظر آتا نہیں آسان ملنے کا

ہمیں تو خاک میں جا کر بھی کیا کیا بے کلی ہوگیجب آ جاوے گا اس غنچہ دہن سے دھیان ملنے کا

کسی سے ملنے آئے تھے سو یاں بھی ہو چلے اک دمکہے دیتا ہوں یہ مجھ پر نہیں احسان ملنے کا

نظیرؔ اک عمر ہم اس دل ربا کے وصل کی خاطربہت روئے بہت چیخے پہ کیا امکان ملنے کا

ہماری بے قراری اضطرابی کچھ نہ کام آئیوہ خود ہی آ ملا جب وقت آیا آن ملنے کا


انکار ہم سے غیر سے اقرار بس جی بسدیکھے تمہارے ہم نے یہ اطوار بس جی بس

اتنا ہوں جائے رحم جو کرتا ہے وہ جفاتو اس سے رو کے کہتے ہیں اغیار بس جی بس

ساقی ہمیں پلائیے یوں جام پے بہ پےجو ہم نشین کہہ اٹھیں یک بار بس جی بس

ہوں ناامید وصل سے یوں جیسے وقت نزعرو کر کہے طبیب سے بیمار بس جی بس

غش ہوں میں وقت بوسہ جو کہتا ہے ہنس کے وہمنہ کو ہٹا ہٹا کے بہ تکرار بس جی بس

اس کا جو بس جی بس مجھے یاد آوے ہے تو آہپہروں تلک میں کہتا ہوں ہر بار بس جی بس

کل وہ جو بولا ٹک تو کہا ہم نے منہ پھراخیر اب نہ ہم سے بولئے زنہار بس جی بس

ہم دل لگا کے تم سے ہوے یاں تلک بہ تنگجو اپنے جی سے کہتے ہیں لاچار بس جی بس

سن کر کہا کہ کیا مرے لگتی ہے دل میں آگشکوہ سے جب کرے ہے تو اظہار بس جی بس

ایسے طمانچے ماروں گا منہ میں ترے نظیرؔگر تو نے مجھ سے پھر کہا ایک بار بس جی بس


صفائی اس کی جھلکتی ہے گورے سینے میںچمک کہاں ہے یہ الماس کے نگینے میں

نہ توئی ہے نہ کناری نہ گوکھرو تس پرسجی ہے شوخ نے انگیا بنت کے مینے میں

جو پوچھا میں "کہاں تھی" تو ہنس کے یوں بولی"میں لگ رہی تھی اس انگیا موئی کے سینے میں"

پڑا جو ہاتھ مرا سینے پر تو ہاتھ جھٹکپکاری! "آگ لگے اوئی اس قرینے میں"

جو ایسا ہی ہے تو اب ہم نہ روز آویں گےکبھو جو آئے تو ہفتے میں یا مہینے میں

کبھو مٹک کبھی بس بس کبھو پیالہ پٹکدماغ کرتی تھی کیا کیا شراب پینے میں

چڑھی جو دوڑ کے کوٹھے پہ وہ پری اک بارتو میں نے جا لیا اس کو ادھر کے زینے میں

وہ پہنا کرتی تھی انگیا جو سرخ لاہی کیلپٹ کے تن سے وہ تر ہو گئی پسینے میں

یہ سرخ انگیا جو دیکھی ہے اس پری کی نظیرؔمجھے تو آگ سی کچھ لگ رہی ہے سینے میں


کل نظر آیا چمن میں اک عجب رشک چمنگل رخ و گلگوں قبا و گلغدار و گل بدن

مہر طلعت زہرہ پیکر مشتری رو مہ جبیںسیم بر سیماب طبع و سیم ساق و سیم تن

تیر قد نشتر نگہ مژگاں سناں ابرو کماںبرق ناز و رزم ساز و نیزہ باز تیغ زن

زلف و کاکل خال و خط چاروں کے یہ چاروں غلاممشک تبت مشک چیں مشک خطا مشک ختن

نازنیں ناز آفریں نازک بدن نازک مزاجغنچہ لب رنگیں ادا شکر دہاں شیریں سخن

بے مروت بے وفا بے درد بے پروا خرامجنگجو قتال وضع و سرفراز و سر فگن

دوش و بر دنداں و لب چاروں سے یہ چاروں خجلنسترن برگ سمن در عدن لعل یمن

سختی و بے رحمی و ظلم و جفا اس شوخ کےمعتمد مومی الیہ مستشار و موتمن

مبتلا ایسے ہی خوش وضعوں کے ہوتے ہیں نظیرؔبے قرار و دل فگار و خستہ حال بے وطن


کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھےخاک تھے کیا تھے غرض اک آن کے مہمان تھے

کر رہے تھے اپنا قبضہ غیر کی املاک پرغور سے دیکھا تو ہم بھی سخت بے ایمان تھے

اور کی چیزیں دبا رکھنا بڑی سمجھی تھی عقلچھین لیں جب اس نے جب جانا کہ ہم نادان تھے

ایک دن اک استخواں اوپر پڑا میرا جو پاؤںکیا کہوں اس دم مجھے غفلت میں کیا کیا دھیان تھے

پاؤں پڑتے ہی غرض اس استخواں نے آہ کیاور کہا غافل کبھی تو ہم بھی صاحب جان تھے

دست و پا زانو سر و گردن شکم پشت و کمردیکھنے کو آنکھیں اور سننے کی خاطر کان تھے

ابرو و بینی جبیں نقش و نگار و خال و خطلعل و مروارید سے بہتر لب و دندان تھے

رات کو سونے کو کیا کیا نرم و نازک تھے پلنگبیٹھنے کو دن کے کیا کیا کوٹھے اور دالان تھے

کھل رہا تھا روبرو جنت کے گلشن کا چمننازنین محبوب گویا حور اور غلمان تھے

لگ رہا تھا دل کئی چنچل پری زادوں کے ساتھکچھ کسی سے عہد تھے اور کچھ کہیں پیمان تھے

گل بدن اور گلعذاروں کے کنارو بوس سےکچھ نکالی تھی ہوس کچھ اور بھی ارمان تھے

مچ رہے تھے چہچہے اور اڑ رہے تھے قہقہےساقی و ساغر صراحی پھول عطر و پان تھے

ایک ہی چکر دیا ایسا اجل نے آن کرجو نہ ہم تھے اور نہ وہ سب عیش کے سامان تھے

ایسی بے دردی سے ہم پر پاؤں مت رکھ اے نظیرؔاو میاں تیری طرح ہم بھی کبھی انسان تھے


عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کاارنی پکارتا ہے سدا دم فقیر کا

خوبی بھری ہے جس میں دو عالم کی کوٹ کوٹاللہ نے کیا ہے وہ عالم فقیر کا

سب جھوٹ ہے کہ تم کو ہمارا ہو غم میاںبابا کسے خدا کے سوا غم فقیر کا

ہم کیوں نہ اپنے آپ کو رو لیویں جیتے جیاے دوست کون پھر کرے ماتم فقیر کا

مر جاویں ہم تو پر نہ خبر ہو یہ تم کو آہکیا جانے کب جہاں سے گیا دم فقیر کا

اب ہم پہ کیا گزرتی ہے اور کیا گزر گئیکس سے کہیں وہ یار ہے محرم فقیر کا

جب جیتے جی کسی نے نہ پوچھا تو مہرباںپھر بعد مرگ کس کو رہا غم فقیر کا

ہو کیوں نہ اس کو فقر کی باتوں میں دست گاہہے بالکا نظیرؔ پراتم فقیر کا


سحر جو نکلا میں اپنے گھر سے تو دیکھا اک شوخ حسن والاجھلک وہ مکھڑے میں اس صنم کے کہ جیسے سورج میں ہو اجالا

وہ زلفیں اس کی سیاہ پر خم کہ ان کے بل اور شکن کو یارونہ پہنچے سنبل نہ پہنچے ریحاں نہ پہنچے ناگن نہ پہنچے کالا

ادائیں بانکی عجب طرح کی وہ ترچھی چتون بھی کچھ تماشہبھنویں وہ جیسے کھنچی کمانیں پلک سناں کش نگاہ بھالا

وہ آنکھیں مست اور گلابی اس کی کہ ان کو دیکھے تو دیکھتے ہیمئے محبت کا اس کی دل کو ہو کیا ہی گہرا نشہ دوبالا

لبوں پہ سرخی وہ پان کی کچھ کہ لعل بھی منفعل ہو جس سےوہ آن ہنسنے کی بھی پھر ایسی کہ جس کا عالم ہے کچھ نرالا

وہ جامہ زیبی وہ دل فریبی وہ سج دھج اس کی وہ قد زیباکہ دیکھ جس پر فدا ہوں دل سے وہ جن کو کہتے ہیں سرو بالا

نگہ لڑائی ہے اس نے جس دم جھٹک لیا جھپ تو دل کو میرےادا ادا نے ادھر دبوچا پلک پلک نے ادھر اچھالا

جو لے لیا دل کو میرے یارو تو اس نے لی راہ اپنے گھر کیپڑا تڑپتا میں رہ گیا واں زباں پہ آہ اور لبوں پہ نالہ

بہت یہ میں نے تو چاہا پوچھوں میں نام اس کا ولے وو گل رونہ مجھ سے بولا نہ کی اشارت نہ دی تسلی نہ کچھ سنبھالا

پری رخ من شکر لب من و مے تو باز آ بہ پیش چشممبیاد سرو تو بے قرارم نہال عشقت شدہ است بالا

فداے وجہک عشی شرقاً و موع نہراً و من فراقککثیر حزنا مع الہموم ثقیل ہجرا و کالجبالا

تسا دے ملنے نوں دل ہے بے کل ایہی او گلاں نت آکھدا ہےسدا لے مینوں دے اپنے گھر وچ نہیں تو اتھے اسا دے نال آ

تمہاری آسا لگی ہے نس دن تمہارے درشن کو ترسیں نیناںدلارے سندر انوٹھے ابرن ہٹیلے موہن انوکھے لالا

چہن کے من کو جو چھننوں تھی اے یار کائیں لگائی اتنیبھرایتیں آ کر کھبر لو مہاں کی پلک کٹارا جو تھاں نے گھالا

اگن برت ہے ہیا میں مورے برہ میں تیرے اے من موہنواںتورے جو نیناں نے موہا مہکو نہ جینوں تنکو بھوا وکھالا

جگت سبہا امت برہمکھ اٹک کہسوا ممن کرن کھادوانی کینی تمن سریجن نہ سدھ کی گر پر نہ بدھ کی جھالا

کبھی تو ہنس کر شتاب آ جا نظیرؔ کی بھی طرف ٹک اے جاںبنا کے سج دھج پھرا کے دامن لگا کے ٹھوکر ہلا کے بالا


کیا ادا کیا ناز ہے کیا آن ہےیاں پری کا حسن بھی حیران ہے

حور بھی دیکھے تو ہو جاوے فداآج اس عالم کا وہ انسان ہے

اس کے رنگ سبز کی ہے چیں میں دھومکیوں نہ ہو آخر کو ہندوستان ہے

جان و دل ہم نذر کو لائے ہیں آجلیجئے یہ دل ہے اور یہ جان ہے

دل بھی ہے دل سے تصدق آپ پرجان بھی جی جان سے قربان ہے

دل کہاں پہلو میں جو ہم دیں تمہیںیہ تو گھر اک عمر سے ویران ہے

عقل و ہوش و صبر سب جاتے رہےہاں مگر اک آدھ موئی سی جان ہے

وہ بھی گر لینی ہوں تو لے جائیےخیر یہ بھی آپ کا احسان ہے

آن کر مل تو نظیرؔ اپنے سے جاناب وہ کوئی آن کا مہمان ہے


اے دل اپنی تو چاہ پر مت پھولدلبروں کی نگاہ پر مت پھول

عشق کرتا ہے ہوش کو بربادعقل کی رسم و راہ پر مت پھول

دام ہے وہ ارے کمند ہے وہدیکھ زلف سیاہ پر مت پھول

واہ کہہ کر جو ہے وہ ہنس دیتاآہ اس ڈھب کی واہ پر مت پھول

گر پڑے گا نظیرؔ کی مانندتو زنخداں کی چاہ پر مت پھول


میاں دل تجھے لے چلے حسن والےکہو اور کیا جا خدا کے حوالے

ادھر آ ذرا تجھ سے مل کر میں رو لوںتو مجھ سے ذرا مل کے آنسو بہا لے

چلا اب تو ساتھ ان کے تو بے بسی سےلگا میرے پہلو میں فرقت کے بھالے

خبردار ان کے سوا زلف و رخ کےکہیں مت نکلنا اندھیرے اجالے

ترے اور بھی ہیں طلب گار کتنےمبادا کوئی تجھ کو واں سے اڑا لے

کہیں قہر ایسا نہ کیجو کہ مجھ کوبلانے پڑیں فال تعویذ والے

کسی کا تو کچھ بھی نہ جاوے گا لیکنپڑیں گے مجھے اپنے جینے کے لالے

تری کچھ سفارش میں ان سے بھی کر دوںکرے گا تو کیا یاد مجھ کو بھلا لے

سنو دلبرو گل رخو مہ جبینومیں تم پاس آیا ہوں اک التجا لے

خدا کی رضا یا محبت سے اپنیپڑا اب تو آ کر تمہارے یہ پالے

تم اپنے ہی قدموں تلے اس کو رکھیوتسلی دلاسے میں ہر دم سنبھالے

کوئی اس کو تکلیف ایسی نہ دیجوکہ جس میں یہ رو کر کرے آہ نالے

تمہارے یہ سب ناز اٹھاوے گا لیکنوہی بوجھ رکھیو جسے یہ اٹھا لے

اگر دسترس ہو تو کیجے منادیکہ پھر کوئی سینے میں دل کو نہ پالے

نظیرؔ آہ دل کی جدائی بری ہےبہیں کیوں نہ آنکھوں سے آنسو کے نالے


چتون کی کہوں کہ اشارات کی گرمیہے نام خدا اس میں ہر ایک بات کی گرمی

رونے سے مرے اس کو عرق آ گیا یاروسچ ہے کہ بری ہوتی ہے برسات کی گرمی

ٹک پھول چھوا تھا سو نزاکت سے کئی باررہ رہ کے دکھائی مجھے گل ہات کی گرمی

کھلواتے ہی بندوں کے بدن گرم ہو آیاشاید کہ لگی اس کو مرے ہات کی گرمی

جلتا ہوں میں اور شعلے نہیں دیتے دکھائیہے عشق میں یارو یہ طلسمات کی گرمی

رہنا ہے کوئی دن تو سمجھ جائیو اے دلیاں پھر وہی ٹھہری ہے ملاقات کی گرمی

گرمی تھی کہیں آہ ہم افسردہ دلوں میںساقی کی فقط ہے یہ عنایات کی گرمی

آتے ہی جو تم میرے گلے لگ گئے واللہاس وقت تو اس گرمی نے سب مات کی گرمی

کہتا ہے وہ جس دم کہ چلو ہم سے نہ بولواس بات میں ہے اور ہی ایک بات کی گرمی

سب پوچ ہے ظاہر کی یہ شوخی و شرارتمعشوق میں جب تک کہ نہ ہو ذات کی گرمی

تم غصہ ہو یا قہر ہو آتش ہو غضب ہواب ہم نے یہ سب دل پہ مساوات کی گرمی

یا حضرت دل تم تو بڑے صاحب دل تھےرکھتے تھے بہت اپنے کمالات کی گرمی

ایک ہی نگہ گرم سے بس ہو گئے تم سرداب کہئے کہاں ہے وہ کرامات کی گرمی

یوں گرمی صحبت تو بہت ہوگی نظیرؔ آہپر یار نہ بھولے گی مجھے رات کی گرمی


نہ لذتیں ہیں وہ ہنسنے میں اور نہ رونے میںجو کچھ مزا ہے ترے ساتھ مل کے سونے میں

پلنگ پہ سیج بچھاتا ہوں مدتوں سے جانکبھی تو آن کے سو جا مرے بچھونے میں

مسک گئی ہے وہ انگیا جو تنگ بندھنے سےتو کیا بہار ہے کافر کے چاک ہونے میں

کہا میں اس سے کہ اک بات مجھ کو کہنی ہےکہوں میں جب کہ چلو میرے ساتھ کونے میں

یہ بات سنتے ہی جی میں سمجھ گئی کافرکہ تیرا دل ہے کچھ اب اور بات ہونے میں

یہ سن کے بولی کہ ہے ہے یہ کیا کہا تو نےپڑا ہے کیوں مجھے دنیا سے اب تو کھونے میں

تو بوڑھا مردوا اور بارہواں برس مجھ کومیں کس طرح سے چلوں تیرے ساتھ کونے میں

نظیرؔ ایک وہ عیار سرتی ہے کافرکبھی نہ آوے گی وہ تیرے جادو ٹونے میں


عیش کر خوباں میں اے دل شادمانی پھر کہاںشادمانی گر ہوئی تو زندگانی پھر کہاں

جس قدر پینا ہو پی لے پانی ان کے ہاتھ سےآب جنت تو بہت ہوگا یہ پانی پھر کہاں

لذتیں جنت کے میوے کی بہت ہوں گی وہاںپھر یہ میٹھی گالیاں خوباں کی کھانی پھر کہاں

واں تو ہاں حوروں کے گہنے کے بہت ہوں گے نشاںان پری زادوں کے چھلوں کی نشانی پھر کہاں

الفت و مہر و محبت سب ہیں جیتے جی کے ساتھمہرباں ہی اٹھ گئے یہ مہربانی پھر کہاں

واعظ و ناصح بکیں تو ان کے کہنے کو نہ ماندم غنیمت ہے میاں یہ نوجوانی پھر کہاں

جا پڑے چپ ہو کے جب شہر خموشاں میں نظیرؔیہ غزل یہ ریختہ یہ شعر خوانی پھر کہاں


کل جو رخ عرق فشاں یار نے ٹک دکھا دیاپانی چھڑک کے خواب سے فتنے کو پھر جگا دیا

اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیاطور کو سر سے پاؤں تک پھونک دیا جلا دیا

پھر کے نگاہ چار سو ٹھہری اسی کے رو بہ رواس نے تو میری چشم کو قبلہ نما بنا دیا

میرا اور اس کا اختلاط ہو گیا مثل ابر و برقاس نے مجھے رلا دیا میں نے اسے ہنسا دیا

میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میںچاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا

تیشے کی کیا مجال تھی یہ جو تراشے بے ستوںتھا وو تمام دل کا زور جس نے پہاڑ ڈھا دیا

گزرے جو سوئے خانقاہ واں بھی بہ شکل جانمازاہل صلوٰۃ و زہد کو فرش کیا بچھا دیا

نکلے جو راہ دیر سے اک ہی نگاہ مست میںگبر کا صبر کھو دیا بت کو بھی بت بنا دیا

شکوہ ہمارا ہے بجا مفت بروں سے کس لیےہم نے تو اپنا دل دیا ہم کو کسی نے کیا دیا

سن کے ہمارے حال کا یار نے اک سخن نظیرؔہنس کے کہا کہ بس جی بس تم نے تو سر پھرا دیا


کہا تھا ہم نے تجھے تو اے دل کہ چاہ کی مے کو تو نہ پیناجو اس کو پی کر تو ایسا بہکا کہ ہم کو مشکل ہوا ہے جینا

جو آنکھیں چنچل کی دیکھیں ہم نے تو نوک مژگاں نے دل کو چھیدانگہ نے ہوش و خرد کو لوٹا ادا نے صبر و قرار چھینا

کہا جو ہم نے کہ آن لگیے ہمارے سینے سے اس دم اے جاںتو سن کے اس نے حیا کی ایسی کہ آیا منہ پر وہیں پسینہ

کیا ہے غصہ میں ہاتھ لا کر مرا گریباں جو ٹکڑے اس نےپھٹا ہی رہنا ہے اب تو بہتر نہیں مناسب کچھ اس کو سینا

کہا تھا آؤں گا دو ہی دن میں ولے نہ آیا وہ شوخ اب تکگنا جو ہم نے نظیرؔ دل میں تو اس سخن کو ہوا مہینہ


اولاً اس بے نشاں اور با نشاں کو عشق ہےبعد ازاں سر حلقۂ پیغمبراں کو عشق ہے

لا فتیٰ الا علی ہے شان میں جس کی نزولدوستاں اس شاہ مرداں سے جواں کو عشق ہے

پھر جو ہے باغ نبوت اور امامت کی بہارغنچۂ گل سبزۂ عنبر فشاں کو عشق ہے

عرش و کرسی حور و غلماں اور ملائک خاص و عامعالم بالا کے سب باشندگاں کو عشق ہے

ہیں جو یہ چودہ طبق متحرک و ساکن سدابے سخن ان سب زمین و آسماں کو عشق ہے

مختلف ہیں اور ملے رہتے ہیں باہم روز و شبخاک باد و آتش و آب رواں کو عشق ہے

ہے جہاں میں جن سے روشن عدل کے گھر کا چراغدم بدم ان بادشاہان جہاں کو عشق ہے

اور خراساں اصفہان ایران اور توران کوپھر ہمارے گلشن ہندوستاں کو عشق ہے

ہیں جہاں تک سلسلے فقرا کے از کہہ تا بہ مہعارفاں اور کاملاں اور عاشقاں کو عشق ہے

کوہ تھراتے ہیں لرزیں ہیں زمین و آسمانعاشق مولا کی فریاد و فغاں کو عشق ہے

ہر طرف گل زار ہے سبزان اور آب رواںاپنی نظروں میں بہار گل فشاں کو عشق ہے

وہ جو ہیں اس گلشن ہستی میں اب محو فناان کے آگے موسم باد خزاں کو عشق ہے

گرد کے مانند پھرتی ہیں پڑی اڑتی خرابلٹ گئی دست جنوں کی کارواں کو عشق ہے

لوٹتے ہیں مست مے خانے کے در پر جا بجاجام و صہبا ساقی و پیر مغاں کو عشق ہے

کل ہی نقش ذائقہ سن کر بھی ہم عامل رہےاے عزیزاں اس حیات رائیگاں کو عشق ہے

خلقت کونین میں کیا جن و کیا انساں نظیرؔوحشی و طائر زباں و بے زباں کو عشق ہے


ہو کیوں نہ ترے کام میں حیران تماشایارب تری قدرت میں ہے ہر آن تماشا

لے عرش سے تا فرش نئے رنگ نئے ڈھنگہر شکل عجائب ہے ہر اک شان تماشا

افلاک پہ تاروں کی جھلکتی ہے طلسماتاور روئے زمیں پر گل و ریحان تماشا

جنات پری دیو ملک حور بھی نادرانسان عجوبہ ہے تو حیوان تماشا

جب حسن کے جاتی ہے مرقع پہ نظر آہکیا کیا نظر آتا ہے ہر اک آن تماشا

چوٹی کی گندھاوٹ کہیں دکھلاتی ہے لہریںرکھتی ہے کہیں زلف پریشان تماشا

گر عشق کے کوچے میں گزر کیجے تو واں بھیہر وقت نئی سیر ہے ہر آن تماشا

منہ زرد بدن خشک جگر چاک المناکغل شور تپش نالہ و افغان تماشا

ہم پست نگاہوں کی نظر میں تو نظیرؔ آہسب ارض و سما کی ہے گلستان تماشا


آج تو ہمدم عزم ہے یہ کچھ ہم بھی رسمی کام کریںکلک اٹھا کر یار کو اپنے نامۂ شوق ارقام کریں

خوبی سے القاب لکھیں آداب بھی خوش آئینی سےبعد اس کے ہم تحریر مفصل فرقت کے آلام کریں

یا خود آوے آپ ادھر یا جلد بلاوے ہم کو وہاںاس مطلب کے لکھنے کو بھی خوب سا سرانجام کریں

حسن زیادہ آن مؤثر ناز کی شوخی ہو وہ چندایسے کتنے حرف لکھیں اور نائے کو اشمام کریں

سن کر وہ ہنس کر یوں بولا یہ تو تمہیں ہے فکر عبثعقل جنہیں ہے وہ تو ہرگز اب نہ خیال خام کریں

کام یقیناً ہے وہی اچھا جو کہ ہو اپنے موقع سےبات کہیں یا نامہ لکھیں یارو صبح سے شام کریں

اس میں بھلا کیا حاصل ہوگا سوچ تو دیکھو میاں نظیرؔوہ تو خفا ہو پھینک دے خط اور لوگ تمہیں بد نام کریں


دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سمادیکھا تو ہر مکاں میں وہی ہے رہا سما

ہے کون سی وہ چشم نہیں جس میں اس کا نورہے کون سا وہ دل کہ نہیں جس میں اس کی جا

قمری اسی کی یاد میں کو کو کرے ہے یاربلبل اسی کے شوق میں کرتی ہے چہچہا

مفلس کہیں غریب تونگر کہیں غنیعاجز کہیں نبل کہیں سلطاں کہیں گدا

بہروپ سا بنا کے ہر اک جا وہ آن آنکس کس طرح کے روپ بدلتا ہے واہ وا

ملک رضا میں کر کے توکل کی جنس کوبیٹھیں ہیں سب اسی کی دکانیں لگا لگا

سب کا اسی دکان سے جاری ہے کاروبارلیتا ہے کوئی حسن کوئی دل ہے بیچتا

دیکھا جو خوب غور سے ہم نے تو یاں نظیرؔبازار مصطفیٰ ہے خریدار ہے خدا


پھر اس طرف وہ پری رو جھمکتا آتا ہےبرنگ مہر عجب کچھ چمکتا آتا ہے

ادھر ادھر جو نظر ہے تو اس لیے یاروجو ڈھب سے تاکتے ہیں ان کو تکتا آتا ہے

کوئی جو راہ میں کہتا ہے دل کی بے تابیتو اس سے کہتا ہے کیا تو یہ بکتا آتا ہے

ملاپ کرنا ہے جس سے تو اس کی جانب واہقدم اٹھاتا ہے جلد اور ہمکتا آتا ہے

ہمارے دل کی جو آتش ہے دینی پھر بھڑکاجبھی نظیرؔ وہ پلکیں جھپکتا آتا ہے


نظر پڑا اک بت پری وش نرالی سج دھج نئی ادا کاجو عمر دیکھو تو دس برس کی پہ قہر و آفت غضب خدا کا

جو گھر سے نکلے تو یہ قیامت کہ چلتے چلتے قدم قدم پرکسی کو ٹھوکر کسی کو چھکڑ کسی کو گالی نپٹ لڑاکا

گلے لپٹنے میں یوں شتابی کہ مثل بجلی کے اضطرابیکہیں جو چمکا چمک چمک کر کہیں جو لپکا تو پھر جھپاکا

یہ چنچلاہٹ یہ چلبلاہٹ خبر نہ سر کی نہ تن کی سدھ بدھجو چیرا بکھرا بلا سے بکھرا نہ بند باندھا کبھو قبا کا

لڑا دے آنکھیں وہ بے حجابی کہ پھر پلک سے پلک نہ مارےنظر جو نیچی کرے تو گویا کھلا سراپا چمن حیا کا

یہ راہ چلنے میں چنچلاہٹ کہ دل کہیں ہے نظر کہیں ہےکہاں کا اونچا کہاں کا نیچا خیال کس کو قدم کی جا کا

یہ رم یہ نفرت یہ دور کھنچنا یہ ننگ عاشق کے دیکھنے سےجو پتا کھٹکے ہوا سے لگ کر تو سمجھے کھٹکا نگہ کے پا کا

جتاوے الفت چڑھاوے ابرو ادھر لگاوٹ ادھر تغافلکرے تبسم جھڑک دے ہر دم روش ہٹیلی چلن دغا کا

نہ وہ سنبھالے کسی کے سنبھلے نہ وہ منائے منے کسی سےجو قتل عاشق پہ آ کے مچلے تو غیر کا پھر نہ آشنا کا

جو شکل دیکھو تو بھولی بھولی جو باتیں سنئے تو میٹھی میٹھیدل ایسا پتھر کہ سر اڑا دے جو نام لیجے کسی وفا کا

نظیرؔ ہٹ جا پرے سرک جا بدل لے صورت چھپا لے منہ کوجو دیکھ لیوے گا وہ ستم گر تو یار ہوگا ابھی جھڑاکا


کہتے ہیں یاں کہ ”مجھ سا کوئی مہ جبیں نہیں”پیارے جو ہم سے پوچھو تو یاں کیا کہیں نہیں

تجھ سا تو کوئی حسن میں یاں نازنیں نہیںیوں نازنیں بہت ہیں یہ ناز آفریں نہیں

ساقی کو جام دینے میں اس خوش نگہ کو آہہر دم اشارتیں ہیں کہ اس کے تئیں نہیں

جب اس نہیں کے کہنے سے مانے ہے وہ براآپھی پھر اس کو کہتا ہوں ہنس کر نہیں نہیں

اتنا تو چھیڑتا ہوں کہ کہتا ہے جب وہ شوخبندہ تو میرا مول خریدا نہیں نہیں

ساقی تجھے قسم ہے دیے جا مجھے تو جامیاں دم میں دم ہے ہوتی نہیں جب نہیں نہیں

پوچھے ہے اس سے جب کوئی قتل نظیرؔ کوکہتا ہے ہم نے مارا ہے ہاں ہاں نہیں نہیں


دیکھ عقد ثریا ہمیں انگور کی سوجھیکیوں بادہ کشاں ہم کو بھی کیا دور کی سوجھی

غش کھا کے گرا پہلے ہی شعلے کی جھلک سےموسیٰ کو بھلا کہئے تو کیا طور کی سوجھی

ہم نے تو اسے دیکھ یہ جانا کہ پری ہےپریوں نے جو دیکھا تو انہیں حور کی سوجھی

دیکھا جو نہانے میں وہ گورا بدن اس کابلور کی چوکی پہ جھلک نور کی سوجھی

سر پاؤں سے جب پھنس گئے اس زلف سیہ میںجب ہم کو سیاہی شب دیجور کی سوجھی

جنت کے لئے شیخ جو کرتا ہے عبادتکی غور جو خاطر میں تو مزدور کی سوجھی

مصنوع میں صانع نظر آوے تو نظیرؔ آہنزدیک کی پھر کیا ہے جہاں دور کی سوجھی


ادھر یار جب مہربانی کرے گاتو اپنا بھی جی شادمانی کرے گا

دیا دل نظیرؔ اس کو یوں کہہ کے اے جاںکہو گے تو یہ پاسبانی کرے گا

پڑھے گا یہ اشعار بیٹھو گے جب تکجو لیٹو گے افسانہ خوانی کرے گا

بٹھاؤ گے در پر تو ہوگا یہ درباںلڑاؤ گے تو پہلوانی کرے گا

اطاعت میں خدمت میں فرماں بری میںغرض ہر طرح جانفشانی کرے گا


ساقی یہ پلا اس کو جو ہو جام سے واقفہم آج تلک مے کے نہیں نام سے واقف

مستی کے سوا دور میں اس چشم سیہ کےکافر ہو جو ہو گردش ایام سے واقف

مر کر بھی تہ خاک نہ آسودہ ہوئے آہاے عشق نہ تھے ہم ترے انجام سے واقف

صیاد کی الفت سے پھنسے آن کے ورنہتھے کاہے کو ہم اس قفس و دام سے واقف

ملنے کا پیام اس سے کہو جا کے عزیزوجو اس کے نہ ہو وصل کے پیغام سے واقف

اوروں سے قسم کھائیے اور ہم تو مری جاںہیں خوب تمہاری قسم اقسام سے واقف

کوئی نہیں کرتا جو کیا تو نے نظیرؔ آہدل اس کو دیا جس کے نہیں نام سے واقف


گر ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیااسلام چھوڑ کفر لیا پھر کسی کو کیا

کیا جانے کس کے غم میں ہیں آنکھیں ہماری لالاے ہم نے گو نشہ بھی پیا پھر کسی کو کیا

آپھی کیا ہے اپنے گریباں کو ہم نے چاکآپھی سیا سیا نہ سیا پھر کسی کو کیا

اس بے وفا نے ہم کو اگر اپنے عشق میںرسوا کیا خراب کیا پھر کسی کو کیا

دنیا میں آ کے ہم سے برا یا بھلا نظیرؔجو کچھ کہ ہو سکا سو کیا پھر کسی کو کیا


ہنسے روئے پھرے رسوا ہوئے جاگے بندھے چھوٹےغرض ہم نے بھی کیا کیا کچھ محبت کے مزے لوٹے

کلیجے میں پھپھولے دل میں داغ اور گل ہیں ہاتھوں پرکھلے ہیں دیکھیے ہم میں بھی یہ الفت کے گل بوٹے

تفاوت کچھ نہیں گلچیں میں اور بے درد خوباں میںجو اس کے ہاتھ گل ٹوٹے تو ان کے ہاتھ دل ٹوٹے

ہزاروں گالیاں دیں پھر ذرا ہنس کر ادھر دیکھابھلا اتنی تسلی سے پھپھولے دل کے کب پھوٹے

کچلتے ہو مجھے تم میں یہ مانگوں ہوں دعا دل میںکوئی دلبر مرے آگے تمہیں بھی خوب سا کوٹے

زباں کی کر کے مقراض اور بنا دشنام کا کاغذہمارے حق میں کیا کیا آپ نے کترے ہیں گل بوٹے

یہ کہتے ہیں کہ عاشق چھوٹ جاتا ہے اذیت سےجب اس کی عمر کو لشکر اجل کا آن کر لوٹے

ہماری روح تو پھرتی ہے معشوقوں کی گلیوں میںنظیرؔ اب ہم تو مر کر بھی نہ اس جنجال سے چھوٹے


کل اس کے چہرے کو ہم نے جو آفتاب لکھاتو اس نے پڑھ کے وہ نامہ بہت عتاب لکھا

جبیں کو مہ جو لکھا تو کہا ہو چیں بہ جبیںیہ کیسی اس کی سمجھ تھی جو ماہتاب لکھا

چمکتے دانتوں کو گوہر لکھا تو ہنس کے کہاستارے اڑ گئے تھے جو در خوش آب لکھا

لکھا جو مشک خطا زلف کو تو بل کھا کرکہا خطا کی جو یہ حرف نا صواب لکھا

گلاب عرق کو لکھا تو یہ بولا ناک چڑھااسے نہ عطر میسر تھا جو گلاب لکھا

جگر کباب لکھا اپنا تو کہا جل کربھلا جی کیا میں شرابی تھا جو کباب لکھا

حساب شوق کا دفتر لکھا تو جھنجھلا کرکہا میں کیا متصدی تھا جو حساب لکھا

جو بے حساب لکھا اشتیاق دل تو کہاوہ کس حساب میں ہے یہ بھی بے حساب لکھا

ہوئے جو رد و بدل ایسے کتنے بار نظیرتو اس نے خط کا ہمارے نہ پھر جواب لکھا


زاہدو روضۂ رضواں سے کہو عشق اللہعاشقو کوچۂ جاناں سے کہو عشق اللہ

جس کی آنکھوں نے کیا بزم دو عالم کو خرابکوئی اس فتنۂ دوراں سے کہو عشق اللہ

یارو دیکھو جو کہیں اس گل خنداں کا جمالتو مرے دیدۂ گریاں سے کہو عشق اللہ

ہیں جو وہ کشتۂ شمشیر نگاہ قاتلجا کے ان گنج شہیداں سے کہو عشق اللہ

آہ کے ساتھ مرے سینے سے نکلے ہے دھواںاے بتاں مجھ دل بریاں سے کہو عشق اللہ

یاد میں اس کے رخ و زلف کی ہر آن نظیرؔروز و شب سنبل و ریحاں سے کہو عشق اللہ


جال میں زر کے اگر موتی کا دانا ہوگاوہ نہ اس دام میں آوے گا جو دانا ہوگا

دام زلف اور جہاں خال کا دانا ہوگاپھنس ہی جاوے گا غرض کیسا ہی دانا ہوگا

دل کو ہم لائے تھے مژگاں کی صفیں دکھلانےیہ نہ سمجھے تھے کہ تیروں کا نشانا ہوگا

آج دیکھ اس نے مری چاہ کی چتون یارومنہ سے گو کچھ نہ کہا دل میں تو جانا ہوگا

بھر نظر دیکھیں گے اس عہد شکن کی صورتدیکھیے کون سا یارب وہ زمانا ہوگا

خوں بہانے کا مرے حشر میں جب ہوگا بہادیکھیں کیا اس گھڑی قاتل کو بہانا ہوگا

وہ بھی کچھ ایسی ہی کہہ دے گا کہ جس سے اس کوبات کی بات بہانے کا بہانا ہوگا

تلخیٔ مرگ جسے کہتے ہیں افسوس افسوسایک دن سب کے تئیں زہر یہ کھانا ہوگا

دیکھ لے اس چمن دہر کو دل بھر کے نظیرؔپھر ترا کاہے کو اس باغ میں آنا ہوگا


مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائیہنس کر کہا یہ ہم نے اے جاں بسنت آئی

سنتے ہی اس پری نے گل گل شگفتہ ہو کرپوشاک زر فشانی اپنی وہیں رنگائی

جب رنگ کے آئی اس کے پوشاک پر نزاکتسرسوں کی شاخ پر کل پھر جلد اک منگائی

اک پنکھڑی اٹھا کر نازک سے انگلیوں میںرنگت کو اس کی اپنی پوشاک سے ملائی

جس دم کیا مقابل کسوت سے اپنی اس کودیکھا تو اس کی رنگت اس پر ہوئی سوائی

پھر تو بصد مسرت اور سو نزاکتوں سےنازک بدن پہ اپنے پوشاک وہ کھپائی


دیکھ کر کرتی گلے میں سبز دھانی آپ کیدھان کے بھی کھیت نے اب آن مانی آپ کی

کیا تعجب ہے اگر دیکھے تو مردہ جی اٹھےچین نیفے کی ڈھلک پیڑو پہ آنی آپ کی

ہم تو کیا ہیں دل فرشتے کا بھی کافر چھین لےٹک جھلک دکھلا کے پھر انگیا چھپانی آپ کی

آ پڑے دو سو برس کے مردۂ بے جاں میں جانجس کے اوپر دو گھڑی ہو مہربانی آپ کی

چھلے غیروں پاس تو وہ خاتم زر اے نگارہے ہمارے پاس بھی اب تک نشانی آپ کی

وقت تو جاتا رہا پر بات باقی رہ گئیہے یہ جھوٹی دوستی اب ہم نے جانی آپ کی

کیا عجب صورت رقیب رو سیہ کی دیکھ کرخوف سے حالت ہوئی ہو پانی پانی آپ کی

ایک عالم کوہ کن کی طرح سر پھوڑے گا ابگر اسی صورت رہی شیری زبانی آپ کی

کیا ہمیں لگتی ہے پیاری جب وہ کہتی ہے نظیرؔہے میاں کچھ ان دنوں نا مہربانی آپ کی


بھرے ہیں اس پری میں اب تو یارو سر بسر موتیگلے میں کان میں نتھ میں جدھر دیکھو ادھر موتی

کوئی بندوں سے مل کر کان کے نرموں میں ہلتا ہےیہ کچھ لذت ہے جب اپنا چھداتے ہیں جگر موتی

وہ ہنستے ہیں تو کھلتا ہے جواہر خانۂ قدرتادھر لعل اور ادھر نیلم ادھر مرجاں ادھر موتی

فلک پر دیکھ کر تارے بھی اپنا ہوش کھوتے ہیںپہن کر جس گھڑی بیٹھے ہے وہ رشک قمر موتی

جو کہتا ہو ارے ظالم ٹک اپنا نام تو بتلاتو ہنس کر مجھ سے یہ کہتی ہے وہ جادو نظر موتی

وہ دریا موتیوں کا ہم سے روٹھا ہو تو پھر یاروبھلا کیونکر نہ برسا دے ہماری چشم تر موتی

نظیرؔ اس ریختے کو سن وہ ہنس کر یوں لگی کہنےاگر ہوتے تو میں دیتی تجھے اک تھال بھر موتی


لیتا ہے جان میری تو میں سر بدست ہوںاے یار میں تو کشتۂ روز الست ہوں

اک دم کی زندگی کے لیے مت اٹھا مجھےاے بے خبر میں نقش زمیں کی نشست ہوں

تو مست کر شراب سے اے گل بدن مجھےظالم میں تیری چشم گلابی سے مست ہوں

دور از طریق مجھ کو سمجھیو نہ زاہداگر تو خدا پرست ہے میں بت پرست ہوں

ان سنگ دل بتوں کا گلہ کیا کروں نظیرؔمیں آپ اپنے شیشۂ دل کی شکست ہوں


تن پر اس کے سیم فدا اور منہ پر مہ دیوانہ ہےسر سے لے کر پاؤں تلک اک موتی کا سا دانہ ہے

ناز نیا انداز نرالا چتون آفت چال غضبسینہ ابھرا صاف ستم اور چھب کا قہر یگانہ ہے

بانکی سج دھج آن انوٹھی بھولی صورت شوخ مزاجنظروں میں کھل کھیل لگاوٹ آنکھوں میں شرمانا ہے

تن بھی کچھ گدرایا ہے اور قد بھی بڑھتا آتا ہےکچھ کچھ حسن تو آیا ہے اور کچھ کچھ اور بھی آنا ہے

جب ایسا حسن قیامت ہو بیتاب نہ ہو دل کیونکہ نظیرؔجان پر اپنی کھلیں گے اک روز یہ ہم نے جانا ہے


ادا و ناز میں کچھ کچھ جو ہوش اس نے سنبھالا ہےتو اپنے حسن کا کیا کیا دلوں میں شور ڈالا ہے

ابھی کیا عمر ہے کیا عقل ہے کیا فہم ہے لیکنابھی سے دل فریبی کا لہر اک نقشہ نرالا ہے

تبسم قہر ہنس دینا قیامت دیکھنا آفتپلک دیکھو تو نشتر ہے نگہ دیکھو تو بھالا ہے

ابھی نوک نگہ میں اس قدر تیزی نہیں تس پرکئی زخمی کیے ہیں اور کئی کو مار ڈالا ہے

اکڑنا تن کے چلنا دھج بنانا وضع دکھلاناکبھی نیمہ کبھی چپکن کبھی خالی دوشالا ہے

کسی کے ساتھ کاندھے پر کسی کے لات سینے پرکہیں نفرت کہیں الفت کہیں حیلہ حوالا ہے

نظیرؔ ایسا ہی دلبر شہرۂ آفاق ہوتا ہےابھی سے دیکھیے فتنے نے کیسا ڈھب نکالا ہے


یہ جو اٹھتی کونپل ہے جب اپنا برگ نکالے گیڈالی ڈالی چاٹے گی اور پتا پتا کھا لے گی

ہونہار بروا کے پتے چکنے چکنے ہوتے ہیںبہت نہیں کچھ تھوڑے ہی دن میں بیل پھنگ کو آلے گی

ابھی تو کیا ہے چھٹپن ہے نادانی ہے بے ہوشی ہےقہر تو اس دن ہووے گا جب اپنا ہوش سنبھالے گی

ناز ادا اور غمزوں کے کچھ اور ہی کترے گی گل پھولسین لگاوٹ چتون کا بھی اور ہی عطر نکالے گی

کاجل مہندی پان مسی اور کنگھی چوٹی میں ہر آنکیا کیا رنگ بناویگی اور کیا کیا نقشے ڈھالے گی

جب یہ تن گدراوے گا اور بازو بانہیں ہوں گے گولاس دم دیکھا چاہئے کیا کیا پیٹ کے پاؤں نکالے گی

کس کس کا دل دھڑکے گا اور کون ملے گا ہاتھوں کوپکیں سے جب انگیا میں یہ کچے سیب اچھالے گی

پان چبا اور آئینے میں دیکھ کے اپنے ہونٹوں کوکیا کیا ہنس ہنس دیوے گی اور کیا کیا دیکھے بھالے گی

خانہ جنگیاں ہوویں گی اور لوگ مریں گے کٹ کٹ کرشہر کے کوچے گلیوں میں اک شور قیامت ڈالے گی

جب یہ میوہ حسن کا رس رس پک کر ہووے گا تیارنائکہ اس کی قیمت کا جب دیکھا چاہئے کیا لے گی

سونا روپا سیم و جواہر صبر و دل و دیں ہوش و قرارآنکھ اٹھا کر دیکھتے ہی ایک آن میں سب رکھوا لے گی

اپنے وقت جوانی میں یہ شوخ خدا ہی جانے نظیرؔکس کس کا زر لوٹے گی اور کس کس کا گھر گھالے گی


کچھ تو ہو کر دو بدو کچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دیادل پہ جو گزرا تھا ہم نے آگے اس کے کہہ دیا

باتوں باتوں میں جو ہم نے درد دل کا بھی کہاسن کے بولا تو نے یہ کیا بکتے بکتے کہہ دیا

اب کہیں کیا اس سے ہمدم دل لگاتے وقت آہتھا جو کچھ کہنا سو وہ تو ہم نے پہلے کہہ دیا

چاہ رکھتے تھے چھپائے ہم تو لیکن اس کا بھیدکچھ تو ہم نے سامنے اس ہم نشیں کے کہہ دیا

یہ ستم دیکھو ذرا منہ سے نکلتے ہی نظیرؔاس نے اس سے اس نے اس سے کہہ دیا


کیا نام خدا اپنی بھی رسوائی ہے کمبخترسوائی مجنوں بھی تماشائی ہے کمبخت

لڑنے کو لڑے اس سے پر اب کرتے ہیں افسوسافسوس عجب اپنی بھی دانائی ہے کمبخت

اک بات بھی مل کر نہ کریں اس سے ہم اے چرخکیا تجھ کو یہی بات پسند آئی ہے کمبخت

ہمدم تو یہی کہتے ہیں چل بزم میں اس کیکیا کہئے اسے اپنی جو خود رائی ہے کمبخت

وہ تو نہیں واقف پہ ہمیں دل میں خجل ہیںکس منہ سے کہیں ہم نے قسم کھائی ہے کمبخت

یارو ہمیں تکلیف نہ دو سیر چمن کیآنے دو بلا سے جو بہار آئی ہے کمبخت

رہنے دو ہمیں کنج قفس میں کہ ہمارےقسمت میں یہی گوشۂ تنہائی ہے کمبخت

اس جام نگوں سے مئے راحت نہ طلب کریاں بادہ نہیں بادیہ پیمائی ہے کمبخت

توڑے ہیں بہت شیشۂ دل جس نے نظیرؔ آہپھر چرخ وہی گنبد بینائی ہے کمبخت


بنا ہے اپنے عالم میں وہ کچھ عالم جوانی کاکہ عمر خضر سے بہتر ہے ایک اک دم جوانی کا

نہیں بوڑھوں کی داڑھی پر میاں یہ رنگ وسمے کاکیا ہے ان کے ایک ایک بال نے ماتم جوانی کا

یہ بوڑھے گو کہ اپنے منہ سے شیخی میں نہیں کہتےبھرا ہے آہ پر ان سب کے دل میں غم جوانی کا

یہ پیران جہاں اس واسطے روتے ہیں اب ہر دمکہ کیا کیا ان کا ہنگامہ ہوا برہم جوانی کا

کسی کی پیٹھ کبڑی کو بھلا خاطر میں کیا لاوےاکڑ میں نوجوانی کے جو مارے دم جوانی کا

شراب و گل بدن ساقی مزے عیش و طرب ہر دمبہار زندگی کہئے تو ہے موسم جوانی کا

نظیرؔ اب ہم اڑاتے ہیں مزے کیا کیا اہا ہا ہابنایا ہے عجب اللہ نے عالم جوانی کا


جو کہتے ہو چلیں ہم بھی ترے ہم راہ بسم اللہپھر اس میں دیر کیا اور پوچھنا کیا واہ بسم اللہ

قدم اس ناز سے رکھتا ہوا آتا ہے محفل میںکہ اہل بزم سب کہتے ہیں بسم اللہ بسم اللہ

لگائی اس نے جو جو تیغ ابرو کی مرے دل پرلب ہر زخم سے نکلی بجائے آہ بسم اللہ

شب مہ میں جو کل ٹک ڈگمگایا وہ تو سب انجموہیں بولے خدا حافظ پکارا ماہ بسم اللہ

وہ جس دم نسخۂ ناز و ادا آغاز کرتا ہےتو ہم کہتے ہیں اک اک آن پر واللہ بسم اللہ

جو اس کی چاہ کا جی میں ارادہ ہے تو بس اے دلمبارک ہے تجھے جا شوق سے تو چاہ بسم اللہ

نظیرؔ اس دل ربا محبوب چنچل سے لگا کر دلہمیں کہنا پڑا ہے دم بہ دم اللہ بسم اللہ


نہ سرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سینہ یاسمن میں صفائی ترے بدن کی سی

میں کیوں نہ پھولوں کہ اس گل بدن کے آنے سےبہار آج مرے گھر میں ہے چمن کی سی

یہ برق ابر میں دیکھے سے یاد آتی ہےجھلک کسی کے دوپٹے میں نورتن کی سی

گلوں کے رنگ کو کیا دیکھتے ہو اے خوباںیہ رنگتیں ہیں تمہارے ہی پیرہن کی سی

جو دل تھا وصل میں آباد تیرے ہجر میں آہبنی ہے شکل اب اس کی اجاڑ بن کی سی

تو اپنے تن کو نہ دے نسترن سے اب تشبیہبھلا تو دیکھ یہ نرمی ہے تیرے تن کی سی

ترا جو پاؤں کا تلوا ہے بزم مخمل ساصفائی اس میں ہے کہیے تو نسترن کی سی

نظیرؔ ایک غزل اس زمیں میں اور بھی لکھکہ اب تو کم ہے روانی ترے سخن کی سی


رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کاہیں جس کے سب صنم وہ صنم ہے فقیر کا

تکیہ اسے نہ بھول کے کہنا کبھی میاںتکیہ نہیں یہ باغ ارم ہے فقیر کا

رہتا ہے پھر وہ پھولتا مثل سدا سہاگجس گل بدن پہ لطف و کرم ہے فقیر کا

گھٹ جائیں جس کو دیکھ کے لاکھوں تری گھٹااے ابر تر وہ دیدۂ نم ہے فقیر کا

لکھتا ہے بن تراشے ہی حرفوں کے جوڑ توڑاے خوش نویس یہ وہ قلم ہے فقیر کا

ظل ہما بھی واں سے سعادت کرے حصولجس سر زمیں پہ نقش قدم ہے فقیر کا

ہیں زیر سایہ اس کے ہزاروں گدا و شاہبیرق اسے نہ کہہ یہ علم ہے فقیر کا

کیونکر لکھے نہ فقر کے شان و شکوہ کویارو نظیرؔ پر بھی کرم ہے فقیر کا


یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحبسب نے جانا ہمیں پر تم نے نہ جانا صاحب

ان بیانوں سے غرض ہم نے یہ جانا صاحبآپ کو خون ہمارا ہے بہانا صاحب

چھوڑ کر آپ کے کوچہ کو پھروں صحرا میںسو تو مجنوں سا نہیں ہوں میں دوانا صاحب

یاد تھے ہم کو جوانی میں تو سو مکر و فریباک کرشمہ تھا تمہیں دام میں لانا صاحب

اب جو بوڑھے ہیں تو اب بھی ہمیں شیطان نظیرؔہنس کے کہتا ہے اجی آئیے نانا صاحب


سب ٹھاٹھ یہ اک بوند سے قدرت کی بنا ہےیاں اور کسی کی نہ منی ہے نہ منا ہے

بالفرض اگر ہم ہوے حوا کے شکم سےآدم کے تئیں دیکھیے وہ کس کا جنا ہے

یاں لوگ دولہن دولہا کے قصے میں پھنسے ہیںواں اور بنت ہے نہ بنی ہے نہ بنا ہے

حکمت کا الٹ پھیر نہیں جن کی نظر میںوہ کہتے ہیں غافل یہ بقا ہے یہ فنا ہے

لے عرش سے تا فرش جو روشن ہے طلسماتیہ نور سب اس نور کی چھلنی سے چھنا ہے

ہم کچے سے کچا اسے سمجھے ہیں وگرنہاس دیگ کے چاول میں کنی ہے نہ کنا ہے

ملنا بھی غرض کا ہے لڑائی بھی غرض کینہیں اور کسی سے کوئی روٹھا نہ منا ہے

حاجت نہ بر آئی تو وہیں کرنے لگے ہجواور ہو گیا مطلب تو ہیں وصف و ثنا ہے

یابس کہیں مرطوب کہیں گرم کہیں سردمصری میں کہیں زہر ہلاہل میں سنا ہے

ایک اس کی دوا سمجھی نہیں جاتی نظیرؔ آہکچھ زور ہی معجون کا نسخہ یہ بنا ہے


دیکھ کر کرتے گلے میں سبز دھانی آپ کیدھان کے بھی کھیت نے اب آن مانی آپ کی

کیا تعجب ہے اگر دیکھے تو مردہ جی اٹھےچین نیفہ کی ڈھلک پیڑو پہ آنی آپ کی

ہم تو کیا ہیں دل فرشتوں کا بھی کافر چھین لےٹک جھلک دکھلا کے پھر انگیا چھپانی آپ کی

آ پڑی دو سو برس کے مردۂ بے جاں میں جانجس کے اوپر دو گھڑی ہو مہربانی آپ کی

اک لپٹ کشتی کی ہم سے بھی تو کر دیکھو ذراہاں بھلا ہم بھی تو جانیں پہلوانی آپ کی

چھلے غیروں پاس ہے وہ خاتم زر اے نگارہے ہمارے پاس بھی اب تک نشانی آپ کی


جب ہم نشیں ہمارا بھی عہد شباب تھاکیا کیا نشاط و عیش سے دل کامیاب تھا

حیرت ہے اس کی زود روی کیا کہیں ہم آہنقش طلسم تھا وہ کوئی یا حباب تھا

تھا جب وہ جلوہ گر تو دل و جاں میں دم بدمعشرت کی حد نہ عیش و طرب کا حساب تھا

تھے باغ زندگی کے اسی سے ہی آب و رنگدیوان عمر کا بھی وہی انتخاب تھا

اپنی تو فہم میں وہی ہنگام اے نظیرؔمجموعۂ حیات کا لب لباب تھا


ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھاتو ہلتے ہی ٹک عناں کے کیا کیا کچلتے صبر و قرار دیکھا

جھپک پہ مژگاں کے جب نگہ کی تو اس نے اک پل میں ہوش اڑایاجو چشم و غمزہ کی طرز دیکھی تو جادو اس کا شعار دیکھا

جو دیکھی اس کی وہ تیغ ابرو تو جی کو ہیبت نے آن گھیرانگہ جو کاکل کے دام پر کی تو دل کو اس کا شکار دیکھا

حنا جو ہاتھوں میں اس کے دیکھی تو رنگ دل کا ہوا عجب کچھکمر بھی دیکھی تو ایسی نازک کہ ہو بھی اس پر نثار دیکھا

وہ دیکھ لیتا ہماری جانب تو اس میں ہوتی کچھ اور خوبیپر اس نے ہرگز ادھر نہ دیکھا نظیرؔ ہم نے ہزار دیکھا


جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طربوہی ہے عشق میں ہر مبتلا کو عیش و طرب

اگرچہ اہل نوا خوش ہیں ہر طرح لیکنزیادہ ان سے ہے ہر بے نوا کو عیش و طرب

وہ میکدے میں حلاوت ہے رند میکش کوجو خانقاہ میں ہے پارسا کو عیش و طرب

رکھے ہے ہر تن عریاں برہنہ پائی وہیجو کچھ ہے صاحب اسپ و قبا کو عیش و طرب

کمال قدرت حق ہے نظیرؔ کیا کہئےجو شاہ کو ہے وہی ہے گدا کو عیش و طرب


دل کو لے کر ہم سے اب جاں بھی طلب کرتے ہیں آپلیجئے حاضر ہے پر یہ تو غضب کرتے ہیں آپ

مورد تقصیر گر ہوتے تو لازم تھی سزایہ جفا پھر کہئے ہم پر کس سبب کرتے ہیں آپ

کرتے ہو ابرو سے کشتہ رخ سے دیتے ہو جلاحسن میں اعجاز کیا کیا روز و شب کرتے ہیں آپ

قیس سے جو تھا کیا در پردہ لیلیٰ نے سلوکسو وہی اے مہرباں ہم سے بھی اب کرتے ہیں آپ

بے کلی ہوتی ہے حسرت سے دل صد چاک کواپنی زلف عنبریں کو شانہ جب کرتے ہیں آپ

ہم نے پوچھا پھر بھی اس کی جاں پھری سب جسم میںنزع میں دوری سے جس کو جاں بلب کرتے ہیں آپ

ہنس کے فرمایا نظیرؔ اپنی دعائے لطف سےیہ بھی ہو سکتا ہے کیا اس کا عجب کرتے ہیں آپ


تجھے کچھ بھی خدا کا ترس ہے اے سنگ دل ترساہمارا دل بہت ترسا ارے ترسا نہ اب ترسا

میں اس پر مبتلا وہ غیر مذہب شوخ اب ترساقیامت ہے مسلماں عاشق اور معشوق ہے ترسا

فقط تیر نگہ سے تو نہ دل کی آرزو نکلیترے قرباں لگا اب کے کوئی اس سے بھی بہتر سا

نہ جاؤں میں تو اس کے پاس لیکن کیا کروں یارویکایک کچھ جگر میں آ کے لگ جاتا ہے نشتر سا

پکارا دور سے دے کر صفیر اس نے تو کیا میرادھڑک کر یک بیک سینے میں دل لوٹا کبوتر سا

ہوا بیمار تیرے عشق میں جو چرخ چارم پرمسیحا پڑھ رہا ہے کچھ بچھا کر اپنا بستر سا

نظیرؔ اک دو گلے کرنے بہت ہوتے ہیں خوباں سےچلو اب چپ رہو بس کھول بیٹھے تم تو دفتر سا


اے صف مژگاں تکلف بر طرفدیکھتی کیا ہے الٹ دے صف کی صف

دیکھ وہ گورا سا مکھڑا رشک سےپڑ گئے ہیں ماہ کے منہ پر کلف

آ گیا جب بزم میں وہ شعلہ روشمع تو بس ہو گئی جل کر تلف

ساقی بھی یوں جام لے کر رہ گیاجس طرح تصویر ہو ساغر بکف


محفل میں ہم تھے اس طرف وہ شوخ چنچل اس طرفتھی سادہ لوحی اس طرف مکر و فسوں چھل اس طرف

بیٹھے ہم اپنے دھیان میں بیٹھا وہ اپنی آن میںفکر نظارہ اس طرف مکھڑے پر آنچل اس طرف

کیا کیا دکھاتی ہے الم کیا کیا رکھے ہے پیچ و خمآہوں کی شورش اس طرف زلف مسلسل اس طرف

ہم دے کے دل ہیں رنج کش وہ لے کے دل ہے جی میں خوشبے تابیٔ جاں اس طرف راحت خوشی کل اس طرف

آج اس سے ملنے کو نظیرؔ احوال ہے دل کا عجبہم کھینچتے ہیں اس طرف کہتا ہے وہ چل اس طرف


دل کو چشم یار نے جب جام مے اپنا دیاان سے خوش ہو کر لیا اور کہہ کے بسم اللہ پیا

دیکھ اس کی جامہ زیبی گل نے اپنا پیرہناس قدر پھاڑا کہ بلبل سے نہیں جاتا پیا

بے قراری نے نگاہ سیم بر پھیری ادھرکی عنایت ہم کو اس سیماب نے یہ کیمیا

اس کے کوچے میں جسے جا بیٹھنے کو مل گئیمسند زرباف پر غالب ہے اس کا بوریا

دل چھپا بیٹھا تو اس زلف مسلسل سے نظیرؔاے اسیر دام نافہمی یہ تو نے کیا کیا


جہاں ہے قد اس کا جلوہ فرما تو سرو واں کس حساب میں ہےوہ قامت ایسا ہے کچھ قیامت قیامت اس کی رکاب میں ہے

یہ سب غلط ہے جو یوں ہیں کہتے کہ اس کا مکھڑا نقاب میں ہےنقاب کیا ہے وہ شرمگیں تو نقاب سے بھی حجاب میں ہے

وہ گورا پنڈا اور اس میں سرخی مگر خدا نے لے سر سے تا پاکیا ہے میدا تو موتیوں کا اور اس کو گوندھا شہاب میں ہے

جھپک جو مکھڑے کی دیکھی اس کے تو ہم نے اپنے یہ دل میں جاناانہی کے پرتو سے مہ ہے روشن اسی کا نور آفتاب میں ہے

رہے گا محبوب جس مکاں میں تو واں ہی دیکھیں گے اس کو جا کرغرض وہ جس کا کہ نام دل ہے یہ دھن اس عالی جناب میں ہے

جو غصہ ہو کر وہ دیوے گالی تو اس ادا سے کہ ہم تو کیا ہیںفرشتے غش ہو کے لوٹ جاویں یہ لطف اس کے عتاب میں ہے

بندھا ہے جب سے خیال اس کا عجب طرح کی لگن لگی ہےکبھی وہ دل میں کبھی وہ جی میں کبھی وہ چشم پر آب میں ہے

وہی ادھر ہے وہی ادھر ہے وہی زباں پر وہی نظر میںجو جاگتا ہوں تو دھیان میں ہے جو سو گیا ہوں تو خواب میں ہے

نظیرؔ سیکھے سے علم رسمی بشر کی ہوتی ہیں چار آنکھیںپڑھے سے جس کے ہوں لاکھ آنکھیں وہ علم دل کی کتاب میں ہے


ہو کچھ آسیب تو واں چاہئے گنڈا تعویذاور جو ہو عشق کا سایہ تو کرے کیا تعویذ

دل کو جس وقت یہ جن آن کے لپٹا پھر توکیا کریں واں وہ جو لکھتے ہیں فلیتا تعویذ

ہم تو جب ہوش میں آویں جو کہیں سے پاویںیار کے ہاتھ کا بازو کا گلے کا تعویذ

زور تعویذ کا چلتا تو عرب میں یاروکیا کوئی ایک بھی مجنوں کو نہ دیتا تعویذ

کوہ کن کوہ کو کس واسطے کاٹا کرتادیتے غم خوار نہ کیا اس کے تئیں لا تعویذ

آخر اس کے بھی گیا دل کا دھڑکنا اس روزقبر کا تیشے نے جب اس کے تراشا تعویذ

ہم کو بھی کتنے ہی لوگوں نے دیئے آہ نظیرؔپر کسی کا کوئی کچھ کام نہ آیا تعویذ


کر لیتے الگ ہم تو دل اس شوخ سے کب کاگر اور بھی ہوتا کوئی اس طور کی چھب کا

بوسہ کی عوض ہوتے ہیں دشنام سے مسروراتنا تو کرم ہم پہ بھی ہے یار کے لب کا

اس کان کے جھمکے کی لٹک دیکھ لی شایدہر خوشہ اسی تاک میں رہتا ہے عنب کا

دیکھا جو بڑی دیر تلک اس نے منہ اپنالے دست حنا بستہ میں آئینہ حلب کا

جب ہم نے کہا رکھیے اب آئینہ کو یہ توحصہ ہے کسی اور بھی دیدار طلب کا

یہ سن کے ادھر اس نے کیا غصے میں منہ سرخبھبکا ادھر آئینہ بھی ہمسر ہو غضب کا

تم ربط کے ڈھب جس سے لڑاتے ہو نظیرؔ آہوہ دلبر عیار ہے کچھ اور ہی ڈھب کا


چاہ میں اس کی دل نے ہمارے نام کو چھوڑا نام کیاشغل میں اس کے شوق بڑھا کر کام کو چھوڑا کام کیا

زلف دوپٹہ دھانی میں کر کے پنہاں مرا دل باندھ لیاصید نہ کھاوے کیوں کر جل جب سبزے میں پنہاں دام کیا

رم پر اپنے آہوئے دل کو غرہ نہایت تھا لیکنچنچل آہوئے چشم نے اس کو ایک نگہ میں رام کیا

سمجھے تھے یوں ہم دل کو لگا کر پاویں گے یاں آرام بہتحیف اسی فہمید نے ہم کو کیا کیا بے آرام کیا

ہم نے کہا جب ناز بتاں کے تم تو بہت کام آئے نظیرؔسن کے کہا کیا آئے جی ہاں کچھ بت کے موافق کام کیا


سحر ہم نے چمن اندر عجب دیکھا کل اک دل برسہی قامت پری پیکر مقطع وضع خوش منظر

سخن بر غنچہ لب گل رو جبین مہر اور کماں ابرودو چشم شوخ پر جادو نگہ تیر اور مژہ نشتر

شمیم زلف مشک افشاں تغافل سو ستم ساماںغرور اور ناز بے پایاں مزاج اور طبع نازک تر

ادائیں سب فسوں آئیں نہ چھوڑیں دل نہ چھوڑیں دیںفریب و عشوہ صلح آگیں عتاب و غمزہ جنگ آور

یہ دیکھا ہم نے جب عالم تو رکھ دل ہاتھ پر ہمدمکہا ہیں نذر کرتے ہم جو لے لیجے تو ہے بہتر

کہا لے جا تو اپنا دل کہ تو کیا اور تیرا دلنہ لیویں ہم تو ایسا دل کہا جب ہم نے یوں ہنس کر

یہی اک دل ہے بچارا بھلا ہے یا کہ ناکارہاگرچہ ہے یہ آوارہ و لیکن ہے وفا پرور

جو نامنظور کرتے ہو تو کر دو یہ کب اٹھتا ہےہے جب تک دم میں دم اس کے رہے گا یہ اسی در پر

نظیرؔ اس نے سنا یہ جب تو بولا یوں وہ شیریں لبہمارا ہو چکا یہ اب بس اس قصے کو کوتہ کر


جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیاتو یارب یہ دل میرا کس کام آیا

کبھی اس تغافل منش کی طرف سےنہ قاصد نہ نامہ نہ پیغام آیا

صد افسوس دم اپنا نکلا ہے کس دمکہ جب گھر سے گھر تک وہ گلفام آیا

مجھے صبح کو قتل کر وہ مسیحاجو گھر اپنے فرخندہ فرجام آیا

کسی نے مری بات بھی واں نہ پوچھیاگرچہ ہر اک خاص اور عام آیا

غرض پھر اسی کو جو یاد آئی میریتو گھبرا کے جس دم ہوئی شام آیا

جلایا اٹھایا گلے سے لگایاعزیزو پھر آخر وہی کام آیا

گئی بے وفائی نظیرؔ اب جہاں سےوفاداریوں کا بھی ہنگام آیا


تیرے بھی منہ کی روشنی رات گئی تھی مہ سے ملتاب سے تاب رخ سے رخ نور سے نور ظل سے ظل

یوسف مصر سے مگر ملتے ہیں سب ترے نشاںزلف سے زلف لب سے لب چشم سے چشم تل سے تل

جتنے ہیں کشتگان عشق ان کے ازل سے ہیں ملےاشک سے اشک نم سے نم خون سے خون گل سے گل

جب سے موا ہے کوہ کن کرتے ہیں اس کا غم سداکوہ سے کوہ جو سے جو سنگ سے سنگ سل سے سل

یار ملا جب اے نظیرؔ میرے گلے، تو مل گئےجسم سے جسم جاں سے جاں روح سے روح دل سے دل


رکھتا ہے صدا ہونٹ کو جوں گل کی کلی چپوہ غنچہ دہن آہ یہ سیکھا ہے بھلی چپ

سوتا ہے تو لیتا ہوں میں یوں چوری سے بوسہجوں منہ میں کھلا دے کوئی مصری کی ڈلی چپ

منت سے کہا ہم نے تو تم آہ نہ بولےجب غیر نے کی گدگدی پھر کچھ نہ چلی چپ

پروانے سے عاشق کے تئیں شمع جلا کرپھر آپ بھی روتی ہے کھڑی بخت جلی چپ

سبزی بھی اگی باغ میں غنچے بھی کھلے آہپر اس مری گونگی کے لبوں سے نہ ٹلی چپ

غصے میں رقیب آتا ہے جب بھوت سا بن کرپڑھتا ہوں میں جب دل میں کھڑا نعت علی چپ

مر جائیں پہ شکوے کی کبھی بات نہ نکلےیہ ہونٹ وہ ہیں جن میں ازل سے ہے پلی چپ

جس دم یہ خبر جا کے رقیبوں کو ہوئی پھربس سنتے ہی سن ہو گئے اور سانس نہ لی چپ

الٹی ہی سمجھ یار کی سنتا ہے نظیرؔ آہزنہار نہ کچھ بولیو یاں سب سے بھلی چپ


ہم میں بھی اور انہوں میں پہلے جو یاریاں تھیںدونوں دلوں میں کیا کیا امیدواریاں تھیں

وہ منتظر کہ آویں ہم پر تپش کہ جاویںاس ڈھب کی ہر دو جانب بے اختیاریاں تھیں

نہ ضبط ہے نگہ کا نہ رک سکے نظارہکیا شوق ورزیاں تھیں کیا بے قراریاں تھیں

اٹھنے میں بیٹھنے میں ہنسنے میں بولنے میںکچھ بے شعوریاں تھیں کچھ ہوشیاریاں تھیں

جس جا نظیرؔ آ کر ہوتی ہیں الفتیں توواں ایسی ایسی کتنی عشرت شعاریاں تھیں


ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپناکہ یہ نکلا سحر کو اور نہ نکلا آفتاب اپنا

ترے منہ کے جو ہر دم روبرو آنے کو کہتا ہےذرا آئینہ لے کر منہ تو دیکھے آفتاب اپنا

نہ اتنا ظلم کر اے چاندنی بہر خدا چھپ جاتجھے دیکھے سے یاد آتا ہے مجھ کو ماہتاب اپنا

خفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہےکھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا

سحر آسا عیاں ہوتے ہی لی راہ عدم ہم نےہوا آنا بھی اور جانا بھی ایسا کچھ شتاب اپنا

نظیرؔ اس بحر میں فرصت کم اور عیش و طرب لاکھوںتو پھر اب حق بہ جانب ہے کرے کیا کیا حساب اپنا


دکھا کر اک نظر دل کو نہایت کر گیا بے کلپری رو تند خو سرکش ہٹیلا چلبلا چنچل

وہ عارض اور جبیں تاباں کہ ہوں دیکھ اس کو شرمندہقمر خورشید زہرہ شمع شعلہ مشتری مشعل

کفوں میں انگلیوں میں لعل میں اور چشم میگوں میںحنا آفت ستم فندق مسی جادو فسوں کاجل

بدن میں جامۂ زر کش سراپا جس پہ زیب آورکڑے بندے چھڑے چھلے انگوٹھی نورتن ہیکل

نزاکت اور لطافت وہ کف پا تک کہ حیراں ہوںسمن گل لالہ نسریں نسترن درپرنیاں مخمل

سراسر پر فریب ایسا کہ ظاہر جس کی نظروں سےشرارت شوخی عیاری طرح پھرتی دغا چھلبل

نظیرؔ اک عمر عشرت ہو ملے ایسا پری پیکراگر اک آن اگر اک دم اگر اک چھن اگر اک پل


دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگااس کو دل کہتے ہیں بس لیتے ہی چرچا ہوگا

تم کو ہر آن ادھر ہووے گی حسن آرائیہم کو ہر لحظہ ادھر ذوق تماشا ہوگا

ہم بھی سو چاہ سے دیکھیں گے تمہاری جانبتم سے بھی ضبط تبسم نہ پھر اصلا ہوگا

جوں ہی ہم دیکھیں گے تم اور تبسم ہو گےچاہ کا غنچۂ سربستہ وہیں وا ہوگا

گفتگو ہووے گی باہم جو اشارات کے ساتھمتن اس کا بھی حریفوں میں محشا ہوگا

پاؤں تک ہاتھ جو لاویں گے کسی عذر سے ہمتاڑنے والوں میں شور اس کا بھی برپا ہوگا

جب یہ تقریر سنی اس شہ خوباں نے نظیرؔہم سے دل لے لیا اور ہنس کے کہا کیا ہوگا


ملا مجھ سے وہ آج چنچل چھبیلاہوا رنگ سن کر رقیبوں کا نیلا

کیا مجھ سے جس نے عداوت کا پنجاسنلقی علیک قولا ثقیلا

نکل اس کی زلفوں کے کوچے سے اے دلتو پڑھتا قم اللیل الا قلیلا

کہستاں میں ماروں اگر آہ کا دمفکانت جبال کثیباً مہیلا

نظیرؔ اس کے فضل و کرم پر نظر رکھفقل حسبی اللہ نعم الوکیلا


کب غیر نے یہ ستم سہے چپایسے تھے ہمیں جو ہو رہے چپ

شکوہ تو کریں ہم اس سے اکثرپر کیا کریں دل ہی جب کہے چپ

سن شور گلی میں اپنی ہر دمبولا کبھی تم نہ یاں رہے چپ

جب ہم نے کہا نظیرؔ اس سےہم رہنے کے یاں نہیں گہے چپ

سوچو تو کبھی چمن میں اے جاںبلبل نے کیے ہیں چہچہے چپ


جب آنکھ اس صنم سے لڑی تب خبر پڑیغفلت کی گرد دل سے جھڑی تب خیر پڑی

پہلے کے جام میں نہ ہوا کچھ نشہ تو آہدل بر نے دی تب اس سے کڑی تب خبر پڑی

لائے تھے ہم تو عمر پٹا یاں لکھا ولےجب سیاہی پر سفیدی چڑی تب خبر پڑی

داڑھیں لگیں اکھڑنے کو دنداں ہوے شہیدمجلس میں چل بچل یہ پڑی تب خبر پڑی

بن دانت بھی ہنسے پہ جب آنکھیں چلیں تو آہ!جب لاگی آنسوؤں کی جھڑی تب خبر پڑی

شہتیر سا وہ قد تھا سو خم ہو کے جھک گیاگرنے لگی کڑی پہ کڑی تب خبر پڑی

نیچا دکھایا شیر نے تو بھی یہ سمجھے جھوٹجب چاب لی گلے کی نڑی تب خبر پڑی

جب آئے اس گڑھے میں نظیرؔ اور ہزار مناوپر سے آ کے خاک پڑی تب خبر پڑی


ساقی ظہور صبح و ترشح ہے نور کادے مے یہی تو وقت ہے نور و ظہور کا

کوچہ میں اس کے جس کو جگہ مل گئی وہ پھرمائل ہوا نہ صحن چمن کے سرور کا

یہ گل جو ہم نے ہاتھ پہ کھائے ہیں روبروہم کو یہی ملا ہے تبرک حضور کا

سیماب جس کو کہتے ہیں سیماب یہ نہیںدل آب ہو گیا ہے کسی ناصبور کا

مے پی کے عاشقی کے خرابات میں نظیرؔنے ڈر ہے محتسب کا نہ صدر الصدور کا


نیچی نگہ کی ہم نے تو اس نے منہ کو چھپانا چھوڑ دیاکچھ جو ہوئی پھر اونچی تو رخ سے پردہ اٹھانا چھوڑ دیا

زلف سے جکڑا پہلے تو دل پھر اس کا تماشہ دیکھنے کونظروں کا اس پر سحر کیا اور کر کے دوانا چھوڑ دیا

اس نے اٹھایا ہم پہ طمانچہ ہم نے ہٹایا منہ کو جو آہشوخ نے ہم کو اس دن سے پھر ناز دکھانا چھوڑ دیا

بیٹھ کے نزدیک اس کے جو اک دن پاؤں کو ہم نے چوم لیااس نے ہمیں بے باک سمجھ کر لطف جتانا چھوڑ دیا

پھر جو گئے ہم ملنے کو اس کو دیکھ کے اس نے ہم کو نظیرؔیوں تو کہا ہاں آؤ جی لیکن پاس بٹھانا چھوڑ دیا


جو پوچھا میں نے یاں آنا مرا منظور رکھیے گاتو سن کر یوں کہا یہ بات دل سے دور رکھیے گا

بہت روئیں یہ آنکھیں اور پڑی دن رات روتی ہیںاب ان کو چشم بھی کیجے گا یا ناسور رکھیے گا

جو پردہ بزم میں منہ سے اٹھاتے ہو تو یہ کہہ دوکہ پھر یاں شمع کے جلنے کا کیا مذکور رکھیے گا

دیا دل ہم نے تم کو اور تو اب کیا کہیں لیکنیہ ویرانہ تمہارا ہے اسے معمور رکھیے گا

نظیرؔ اب تو دل و جاں سے تمہارا ہو چکا بندہمیاں اپنے غلاموں میں اسے مشہور رکھیے گا


نہ دل میں صبر نہ اب دیدۂ پر آب میں خوابشتاب آ کہ ہمیں آوے اس عذاب میں خواب

جہاں بھی خواب ہے اور ہم بھی خواب ہیں اے دلعجب بہار کا دیکھا یہ ہم نے خواب میں خواب

ہماری چشم کا اے شہسوار توسن نازجو غور کی تو کیا ہے تری رکاب میں خواب

ہر اک مکاں میں گزر گاہ خواب ہے لیکناگر نہیں تو نہیں عشق کے جناب میں خواب

ہجوم اشک میں لگتی ہے چشم تر اس طورکہ جیسے ماہی کو آتا ہے اپنے آب میں خواب

روا روی میں لگے آنکھ کس طرح سے نظیرؔمسافروں کو کہاں ایسے اضطراب میں خواب


ہم ایسے کب تھے کہ خود بدولت یہاں بھی کرتے قدم نوازشمگر یہ اک اک قدم پر اے جاں فقط عنایت کرم نوازش

کہاں یہ گھر اور کہاں یہ دولت جو آپ آتے ادھر کو اے جاںجو آن نکلے ہو بندہ پرور تو کیجے اب کوئی دم نوازش

لگا کے ٹھوکر ہمارے سر پر بلا تمہاری کرے تأسفکہ ہم تو سمجھے ہیں اس کو دل سے تمہارے سر کی قسم نوازش

جواب مانگا جو نامہ بر سے تو اس نے کھا کر قسم کہا یوںزباں قلم ہو جو جھوٹ بولے کہ واں نہیں یک قلم نوازش

اٹھاویں نازاں کے ہم نہ کیوں کر نظیرؔ دل سے کہ جن کے ہوویںجفا تلطف عتاب شفقت غضب توجہ ہتم نوازش


ہم دیکھیں کس دن حسن اے دل اس رشک پری کا دیکھیں گےوہ قد وہ کمر وہ چشم وہ لب وہ زلف وہ مکھڑا دیکھیں گے

مت دیکھ بتوں کی ابرو کو ہٹ یاں سے تو اے دل ورنہ تجھےایک آن میں بسمل کر دیں گے اور آپ تماشا دیکھیں گے

دل دے کر ہم نے آج اسے ہی دیکھی صورت تیوری کییہ شکل رہی تو اے ہمدم کل دیکھیں کیا کیا دیکھیں گے

جب دیکھی اس کی چین جبیں یوں ہم نے نظیرؔ اس بت سے کہاخیر آپ تو ہم سے ناخوش ہیں اب اور کو ہم جا دیکھیں گے

کیا لطف رہا اس چاہت میں جو ہم چاہیں اور تم ہو خفایہ بات سنی تو وہ چنچل یوں ہنس کر بولا دیکھیں گے


کئی دن سے ہم بھی ہیں دیکھے اسے ہم پہ ناز و عتاب ہےکبھی منہ بنا کبھی رخ پھرا کبھی چیں جبیں پہ شتاب ہے

ہے پھنسا جو زلف میں اس کے دل تو بتا دیں کیا تجھے ہم نشیںکبھی بل سے بل کبھی خم سے خم کبھی تاب چین سے تاب ہے

وہ خفا جو ہم سے ہے غنچہ لب تو ہماری شکل یہ ہے کہ ابکبھی رنج دل کبھی آہ جاں کبھی چشم غم سے پر آب ہے

نہیں آتا وہ جو ادھر ذرا ہمیں انتظار میں اس کے یاںکبھی جھانکنا کبھی تاکنا کبھی بے کلی پئے خواب ہے

وہ نظیرؔ ہم سے جو آ ملا تو پھر اس گھڑی سے یہ عیش ہیںکبھی رخ پہ رخ کبھی لب پہ لب کبھی ساغر مئے ناب ہے


جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئےشکن کے عادی ہوئے خم کے خو پذیر ہوئے

خدنگ وار جو غمزے تھے اس کے چھٹپن میںپر اب نظر میں جو آئے تو رشک تیر ہوئے

جھڑک دیا ہمیں کوچے میں اس نے ہر دم دیکھہم اپنے دل میں کچھ اس دم خجل کثیر ہوئے

جو گاہ گاہ ادھر جاتے ہم تو رہتی قدرگھڑی گھڑی جو گئے اس سبب حقیر ہوئے

نگہ کے لڑتے ہی ہنس کر کہا نظیرؔ اس نےیہ باتیں چھوڑ دو کچھ سمجھو اب تو پیر ہوئے


جن دنوں ہم کو اس سے تھا اخلاصکھل رہا تھا وہ جا بجا اخلاص

اس کو بھی ہم سے تھی بہت الفتاور ہمیں اس سے تھا بڑا اخلاص

مل کے جب بیٹھتے تھے آپس میںتھا دکھاتا عجب مزا اخلاص

ایک دن ہم میں اور نظیرؔ اس میںہو کے خفگی جو ہو چکا اخلاص

ہم یہ بولے کدھر گئی الفتوہ یہ بولا کدھر گیا اخلاص


ایام شباب اپنے بھی کیا عیش اثر تھےکہتے ہیں جنہیں عیب وہ اس وقت ہنر تھے

دن رات وہ محبوب میسر تھے کہ جن کیزلفیں الم شام تھیں رخ رشک سحر تھے

ساقی کے ادھر جام ادھر ناز و ادا سےجادو نظراں خوش نگہاں پیش نظر تھے

محفل سے جو اٹھتے تھے ذرا ہم تو لپٹ کرنازک بدناں مو کمراں دست و کمر تھے

ہم راہ گل انداموں کے ہو خرم و خنداںباغ و چمن و گلشن و بستاں میں گزر تھے

کیا شور تھے کیا زور تھے ہر لحظہ اہا ہاکیا ولولے کیا قہقہے بے خوف و خطر تھے

دکھلا کے جھمک جاتے رہے دم میں نظیرؔ آہکیا جانے وہ دن برق تھے یا مثل شرر تھے


چتون درست سین بجا باتیں ٹھیک ٹھیکناز و ادا کی اس میں ہیں سب باتیں ٹھیک ٹھیک

کیا دل کو اچھی لگتی ہیں ان خوش قدوں کی آہیہ پیاری پیاری بولیاں یہ گاتیں ٹھیک ٹھیک

منہ میں طمانچے چھاتی میں گھونسہ کمر میں لاتکیا کیا ہوئیں یہ مجھ پہ عنایاتیں ٹھیک ٹھیک

موقع سے بوسہ موقع سے گالی بھی ہم کو دیکی شوخ نے یہ دونوں مداراتیں ٹھیک ٹھیک

جب دوستی میں قول کے پورے ہوں دونوں شخصہوتی ہیں پھر تو کیا ہی ملاقاتیں ٹھیک ٹھیک

جب بن پڑی تو شیخ جی شیخی نہ ماریں کیاہم سے بھی پھر تو ہوویں کراماتیں ٹھیک ٹھیک

سچ ہے بقول حضرت سید نظیرؔ آہبن آتی ہیں تو ہوتی ہیں سب باتیں ٹھیک ٹھیک


یاں تو کچھ اپنی خوشی سے نہیں ہم آئے ہوئےاک زبردست کے ہیں کھینچ کے بلوائے ہوئے

آتے ہی روئے تو آگے کو نہ روویں کیوں کرہم تو ہیں روز تولد ہی کے دکھ پائے ہوئے

دیکھ کر غیر کے ساتھ اس کو کہا یوں ہم نےہو تو تم چاند پر اس وقت ہو گہنائے ہوئے

کل جو گلشن میں گئے ہم تو عجب شکل سے آہہجر کے مارے ہوئے جی سے بتنگ آئے ہوئے

گل جو تازے تھے کھلے کہتے تھے شبنم سے یہ باتدیکھ کر ان کو جو وہ پھول تھے کمہلائے ہوئے

آج ہیں شاخ پہ جس طور سے پژمردہ نظیرؔکل اسی طرح سے ہم ہوویں گے مرجھائے ہوئے


شہر دل آباد تھا جب تک وہ شہر آرا رہاجب وہ شہر آرا گیا پھر شہر دل میں کیا رہا

کیا رہا پھر شہر دل میں جز ہجوم درد و غمتھی جہاں فوج طرب واں لشکر غم آ رہا

آ رہا آنکھوں میں دم تو بھی نہ آیا وہ صنمحیف کس سے پوچھیے جا کر کہ وہ کس جا رہا


کرنے لگا دل طلب جب وہ بت خوش مزاجہم نے کہا جان کل اس نے کہا ہنس کے آج

زلف نے اس کی دیا کاکل سنبل کو رشکچشم سیہ نے لیا چشم سے آہو کے باج

اس کی وہ بیمار چشم دیکھ رہا تو جو دلرہ تو سہی میں تیرا کرتا ہوں کیسا علاج

کام پڑا آن کر چاہ سے جس دن ہمیںچھٹ گئے اس روز سے اور جو تھے کام کاج

دل تو نہ دیتے ہم آہ لے گئی لیکن نظیرؔاس کی جبیں کی حیا اور وہ آنکھوں کی لاج


بزم طرب وقت عیش ساقی و نقل و شرابکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

مجمع خوباں ولے زمزمۂ چنگ ولےکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

صحن چمن حسن گل ابر و ہوا شرب ملکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

عشرت صبح بہار سیر گل و لالہ زارکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

رقص بت غنچہ لب کثرت عیش و طربکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

عشق کے عجز و نیاز حسن کے انداز و نازکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

مستیٔ مے خانہ ہا گردش پیمانہ ہاکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

شادیٔ وصل بتاں صحبت مہ طلعتاںکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

غلغل کوس نشاط خوش دلی و انبساطکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

ثروت مال و منال حشمت و جاہ و جلالکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب

قصر و محل دل پذیر زینت و زیب اے نظیرؔکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خواب


پردہ اٹھا کر رخ کو عیاں اس شُوخ نے جس ہنگام کیاہم تُو رہے مشغول ادھر یاں عشق نے دِل کا کام کیا

آ گئے جب صیاد کہ بس میں سوچ کئے پھر حاصل کیااب تُو اسی کی ٹھہری مرضی جن نے اسیر دام کیا

چشم نے چھینا پلکوں نے چھیدا زلف نے باندھا دِل کو آہابرو نے ایسی تیغ جڑی جُو قصہ ہی سب اتمام کیا

سخت خجل ہیں اُور شرمندہ رہ رہ کر پچتاتے ہیںخواب میں اس سے رات لڑے ہم کیا ہی خیال خام کیا

چھوڑ دیا جب ہم نے صنم کہ کوچے میں آنے جانے کوپھر تُو ادھر اس شُوخ نے ہم سے شکوہ بھرا پیغام کیا

اُور ادھر سے چاہت بھی یُوں ہنس کر بولی واہ جی واہاٹھئے چلئے یار سے ملیے اب تُو بہت آرام کیا

یار کی مے گوں چشم نے اپنی ایک نگہ سے ہم کو نظیرؔمست کیا اوباش بنایا رند کیا بدنام کیا


خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہامرا جو چاہ میں دم تھا وہ دم کے ساتھ رہا

گیا سحر وہ پری رو جدھر جدھر یارومیں اس کے سایہ صفت ہر قدم کے ساتھ رہا

پھرا جو بھاگتا مجھ سے وہ شوخ آہو چشمتو میں بھی تھک نہ رہا گو وہ رم کے ساتھ رہا

اکیلا اس کو نہ چھوڑا جو گھر سے نکلا وہہر اک بہانے سے میں اس صنم کے ساتھ رہا

نظیرؔ پیر ہوا تو بھی بار ناز بتاںکچھ اس کے دوش کے کچھ پشت خم کے ساتھ رہا


ہو کس طرح نہ ہم کو ہر دم ہوائے مطلبدیکھا جو خوب ہم نے دنیا ہے جائے مطلب

جو گل بدن کہ آیا آغوش میں ہمارےکچھ اور بو نہ نکلی اس میں سوائے مطلب

عشاق کی بھی الفت خالی نہیں غرض سےمرتے ہیں یہ بھی اس پر جس سے برائے مطلب

کوئی کسی کے اوپر ہم نے فدا نہ دیکھامنہ پر فدا ہیں لیکن دل میں فدائے مطلب

مطلب کے آشنا کو ہو کس سے آشنائیکب آشنا کسی کا ہو آشنائے مطلب

گر بزم رقص دیکھی تو واں بھی گوش دل میںکوئی صدا نہ آئی غیر از صدائے مطلب

زیر فلک تو ہم سے جاتی نہیں تمناہاں پھر فلک پہ جاویں جب ہم سے جائے مطلب

وہ آبرو کہ جس پر کرتے ہیں جاں تصدقاس کو بھی دے چکے ہیں اکثر برائے مطلب

جب حرف آبرو تک پہونچا نظیرؔ پھر توکیا کہئے ایسی جاگہ جزیہ کہ ہائے مطلب


لاوے خاطر میں ہمارے دل کو وہ مغرور کیاجس کے آگے مہر کیا مہ کیا پری کیا حور کیا

دل نیا ہم نے لگایا ہے بتا دو مہرباںاس کی ہے رہ کیا روش کیا رسم کیا دستور کیا

یاد ہوں عیاریاں جس کو بہت ہم کیا کریںاس کے آگے مکر کیا جل کیا فسوں کیا زور کیا

یوں کہا ہم لیں گے بوسہ اب تو چھو کر زلف کوبولا منہ کیا دست گہ کیا تاب کیا مقدور کیا

ہم کو چاہت ایک سی ہے اس پری رو سے نظیرؔروبرو کیا در قفا کیا متصل کیا دور کیا


کھینچ کر اس ماہ رو کو آج یاں لائی ہے راتیہ خدا نے مدتوں میں ہم کو دکھلائی ہے رات

چاندنی ہے رات ہے خلوت ہے صحن باغ ہےجام بھر ساقی کہ یہ قسمت سے ہاتھ آئی ہے رات

بے حجاب اور بے تکلف ہو کے ملنے کے لیےوہ تو ٹھہراتے تھے دن پر ہم نے ٹھہرائی ہے رات

جب میں کہتا ہوں کسی شب کو تو کافر یاں بھی آہنس کے کہتا ہے میاں ہاں وہ بھی بنوائی ہے رات

کیا مزہ ہو ہاتھ میں زلفیں ہوں اور یوں پوچھیےاے مری جاں سچ کہو تو کتنی اب آئی ہے رات

جب نشے کی لہر میں بال اس پری کے کھل گئےصبح تک پھر تو چمن میں کیا ہی لہرائی ہے رات

دور میں حسن بیاں کے ہم نے دیکھا بارہارخ سے گھبرایا ہے دن زلفوں سے گھبرائی ہے رات

ہے شب وصل آج تو دل بھر کے سووے گا نظیرؔاس نے یہ کتنے دنوں میں عیش کی پائی ہے رات


کی طلب اک شہہ نے کچھ پند از حکیم نکتہ داںاس نے سن کے یوں کہا اے صاحب اقبال و شاں

یاد رکھ اور پاس رکھ اور سخت رکھ اور جمع کرکھا چھپا، کاٹ اور اٹھا، دے لے، بخوبی ہر زماں

اس نے اس مجمل کے تفصیلات جب پوچھے تو پھرلطف سے اس نکتہ رس نے یوں کیا اس کا بیاں

یاد رکھ ہر دم خدا کو پاس رکھ حسن وفاسخت رکھ دیں کو مدام اور جمع کر علم اے جواں

کھا غضب غصہ چھپا عیب رفیق و آشناکاٹ ربط ہم نشین بد کہ ہے اس میں زیاں

اور اٹھا ہر دم ضعیف و ناتواں سے ظلم و جورداد مظلوموں کی دے اور لے بہشت جاوداں

نثر میں مجھ کو نظیرؔ آئے تھے یہ نکتے نظرمیں نے نظم ان کو کیا تو دل ہو ہر دم شادماں


بتوں کی مجلس میں شب کو مہ رو جو اور ٹک بھی قیام کرتاکنشت ویراں صنم کو بندہ برہمنوں کو غلام کرتا

خراب خستہ سمجھ کے تو نے پیارے مجھ کو عبث نکالاجو رہنے دیتا تو گل رخوں میں قسم ہے میری میں نام کرتا

کروڑوں دل جو موے پڑے ہیں نکلتے خونیں کفن سے نالاںقیامت آ جاتی جو وہ قامت گلی میں اپنی خرام کرتا

نہ اتنے قصے نہ جنگ ہوتی پیارے تیرے ملاپ اوپررقیب آپی سے زہر کھانے جو وصل کا تو پیام کرتا

وہ سرو قامت جو مسکرا کر چمن میں جاتا تو مسکرا کرتڑپتی بلبل سسکتی قمری گلوں پہ ہنسنا حرام کرتا

بھلا ہوا جو نقاب تو نے اٹھایا چہرے سے ہے پری رووگرنہ سینے سے دل تڑپ کر نگہ میں آ کر مقام کرتا

جو زلفیں مکھڑے پہ کھول دیتا صنم ہمارا تو پھر یہ گردوںنہ دن دکھاتا نہ شب بتاتا نہ صبح لاتا نہ شام کرتا

وہ بزم اپنی تھی مے خوری کی فرشتے ہو جاتے مست بے خودجو شیخ جی واں سے بچ کے آتے تو پھر میں ان کو سلام کرتا

نظیرؔ تیری اشارتوں سے یہ باتیں غیروں کی سن رہا ہےوگرنہ کس میں تھی تاب و طاقت جو اس سے آ کر کلام کرتا


وہ صنم جو مہر عذار ہے اسے ہم سے ملنے میں عار ہےولے اپنا جو دل زار ہے وہ ہزار جان سے نثار ہے

ملے جب سے کوچے میں اس کے جا یہ سرور عیش ہے برملالب دل ہے اور وہ نقش پا بر جاں ہے اور در یار ہے

وہ نگہ جو اس کی ہے فتنہ گر اسے مشق صید ہے پیشترہے جو دل کا طائر تیز پر اسی باز کا یہ شکار ہے

وہ مژہ لگا کے جو ایک سنان گئی پھر تو کر نہ دل اب فغاںکئی ایسے ہوویں گے امتحاں یہ ابھی تو پہلا ہی وار ہے

جو بہار گل پہ رہی ہے تل ہمیں کیا جو حسن کی پی ہے ملجنہیں چاہئے ہے وہ رشک گل انہیں گل سے کیا سروکار ہے

جو بتوں کو دیویں دل اور دیں رکھیں اس کو یہ بہ الم قریںبھلا کہئے کیا اسے ہم نشیں یہ عجب کچھ ان کا شعار ہے

کئی دن ہوے ہیں نظیرؔ اب کہ خفا ہے ہم سے وہ غنچہ لباسے کیا ولے ہمیں روز و شب نہ تو صبر ہے نہ قرار ہے


جاں بھی بجاں ہے ہجر میں اور دل فگار بھیتر ہے مژہ بھی اشک سے جیب بھی اور کنار بھی

طرفہ فسوں سرشت ہے چشم کرشمہ سنج یارلیتی ہے اک نگاہ میں صبر بھی اور قرار بھی

کوچے میں اس کے بیٹھنا حسن کو اس کے دیکھناہم تو اسی کو سمجھے ہیں باغ بھی اور بہار بھی

دیکھیے کیا ہو بے طرح دل کی لگے ہیں گھات میںغمزۂ پر فریب بھی عشوۂ سحر کار بھی

زلف کو بھی ہے دم بہ دم عزم کمند افگنیدام لیے ہے مستعد طرۂ تابدار بھی

بیٹھے بتوں کی بزم میں جن کی ہے قدر جب وہ لوگاپنے فریب و فن سے واں تھا یہ خراب و خوار بھی

گننے لگے وہ اپنے جب چاہنے والوں کو نظیرؔاٹھ کے یکایک اس گھڑی ہم نے کہا "ہیں یار بھی"


کیوں نہ ہو بام پہ وہ جلوہ نما تیسرے دنماہ بھی چھپ کے نکلتا ہے دلا تیسرے دن

ہاتھ سے اب تو قلم رشک مسیحا رکھ دےنسخے بدلے ہیں جہاں کے حکما تیسرے دن

غرق دریائے محبت کی نہیں ملتی لاشورنہ ڈوبا ہوا نکلے ہے سنا تیسرے دن

دل بیمار رہے عشق میں کیوں کر سر سبزخاک سے دانے کو ہے نشو و نما تیسرے دن

چھوڑ مت زلف کے مارے کو تو دریا میں ہنوزسانپ کے کاٹے کو دیتے ہیں بہا تیسرے دن

اب ذرا چشم کے بیمار کا کر اپنے علاجہوتی معلوم ہے تاثیر دوا تیسرے دن

لوگ کہتے ہیں کہ ہیں پھول ترے کشتے کےمہندی ہاتوں میں تو قاتل لگا تیسرے دن

عمر اک ہفتہ نہیں باغ میں اے گل مت پھولرنگ بدلے ہے زمانے کی ہوا تیسرے دن

چار حرف اس بت پر خوں کے اوپر بھیج نظیرؔآپ سے آپ جو ہو جائے خفا تیسرے دن


مانی نے جو دیکھا تری تصویر کا نقشہسب بھول گیا اپنی وہ تحریر کا نقشہ

اس ابروئے خم دار کی صورت سے عیاں ہےخنجر کی شباہت دم شمشیر کا نقشہ

کیا گردش ایام ہے اے آہ جگر سوزالٹا نظر آیا تری تاثیر کا نقشہ

دن رات ترے کوچے میں رووے ہے ہمیشہعاشق کے یہ ہے منصب و جاگیر کا نقشہ

تدبیر تو کچھ بن نہیں آتی ہے نظیرؔ آہاب دیکھیے کیا ہوتا ہے تقدیر کا نقشہ


دیکھ لے جو عالم اس کے حسن بالا دست کاحوصلہ اتنا کہاں اپنی نگاہ پست کا

نیست رہتے ہم تو یہ سیریں کہاں سے دیکھتےیہ فقط احسان ہے اس ذات پاک مست کا

بے صدا آ کر لگا اور ہو گیا سینے کے پاریہ خدنگ صاف تھا کس بے نشاں کی شست کا

بات کچھ کہتا ہے اور نکلے ہے منہ سے کچھ نظیرؔیہ نشہ تجھ کو ہوا کس کی نگاہ مست کا


عشق کا مارا نہ صحرا ہی میں کچھ چوپٹ پڑاہے جہاں اس کا عمل وہ شہر بھی ہے پٹ پڑا

عاشقوں کے قتل کو کیا تیز ہے ابرو کی تیغٹک ادھر جنبش ہوئی اور سر ادھر سے کٹ پڑا

اشک کی نوک مژہ پر شیشہ بازی دیکھیےکیا کلائیں کھیلتا ہے بانس پر یہ نٹ پڑا

شاید اس غنچہ دہن کو ہنستے دیکھا باغ میںاب تلک غنچہ بلائیں لیتا ہے چٹ چٹ پڑا

دیکھ کر اس کے سراپا کو یہ کہتی ہے پریسر سے لے کر پاؤں تک یاں حسن آ کر پھٹ پڑا

کیا تماشا ہے کہ وہ چنچل ہٹیلا چلبلااور سے تو ہٹ گیا پر میرے دل پر ہٹ پڑا

کیا ہوا گو مر گیا فرہاد لیکن دوستوبے ستوں پر ہو رہا ہے آج تک کھٹ کھٹ پڑا

ہجر کی شب میں جو کھینچی آن کر نالے نے تیغکی پٹے بازی ولے تاثیر سے ہٹ ہٹ پڑا

دل بڑھا کر اس میں کھینچا آہ نے پھر نیمچہاے نظیرؔ آخر وہ اس کا نیمچہ بھی پٹ پڑا


مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کاکہ یہ باغ اک گل ہے جس کے چمن کا

وہی زلف ہے جس کی نکہت سے اب تکپڑا خون سوکھے ہے مشک ختن کا

وہی لعل لب ہے کہ حسرت سے جس کےجگر آج تک خوں ہے لعل یمن کا

عجب سیر دیکھی نظیرؔ اس چمن کیابھی وصل تھا نرگس و نسترن کا

ابھی یک دگر جمع تھے سنبل و گلابھی تھا بہم جوش سرو و سمن کا

ابھی چہچہے بلبلوں کے عیاں تھےابھی شور تھا قمریٔ نعرہ زن کا

گھڑی بھر کے ہی بعد دیکھا یہ عالمکہ نام و نشاں بھی نہ واں تھا چمن کا


جو تم نے پوچھا تو حرف الفت بر آیا صاحب ہمارے لب سےسو اس کو سن کر ہوے خفا تم نہ کہتے تھے ہم اسی سبب سے

نہ دیتے ہم تو کبھی دل اپنا نہ ہوتے ہرگز خراب و رسواولے کریں کیا کہ تم نے ہم کو دکھائیں جھمکیں عجب ہی چھب سے

وہ جعد مشکیں جو دن کو دیکھے تو یاد اس کی میں شام ہی سےیہ پیچ و تاب آ کے دل سے الجھے کہ پھر سحر تک نہ سلجھے شب سے

لگائی فندق جو ہم نے اس کی کلائی پکڑی تو ہنس کے بولایہ انگلی پہنچے کی یاں نہ ٹھہری بس آپ رہئے ذرا ادب سے

کہا تھا ہم کچھ کہیں گے تم سے کہا تو ایسا کہ ہم نہ سمجھےسمجھتے کیوں کر کہ اس نے لب سے سخن نکالا کچھ ایسے ڈھب سے

ہوس تو بوسے کی ہے نہایت پہ کیجئے کیا کہ بس نہیں ہےجو دسترس ہو تو مثل ساغر لگاویں لب کو ہم ان کے لب سے

کسی نے پوچھا نظیرؔ کو بھی تمہاری محفل میں بار ہوگاکہا کہ ہوگا وہ بولا کب سے کہا کبھو کا کبھی، نہ اب سے


لے کے دل مہر سے پھر رسم جفا کاری کیاتم دل آرام ہو کرتے ہو دل آزاری کیا

تم سے جو ہو سو کرو ہم نہیں ہونے کے خفاکچھ ہمیں اور سے کرنی ہے نئی یاری کیا

جوں حباب آئے ہیں ملنے کو نہ ہو چیں بہ جبیںہم سے اک دم کے لیے کرتے ہو بے زاری کیا

تیغ ابرو کی تو الفت نے کیا دل کو دو نیمدیکھیں اب کرتی ہے کاکل کی گرفتاری کیا

پھر سناں مژۂ دل پر وہ اٹھاتا ہے نظیرؔزخم شمشیر نگہ آہ نہیں کاری کیا


کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنیے ٹک اس کا بیاںتھا وہ معلم غریب بزدل و ترسندہ جاں

کوئی کتاب اس کے تئیں صاف نہ تھی درس کیآئے تو معنی کہے ورنہ پڑھائی رواں

فہم نہ تھا علم سے کچھ عربی کے اسےفارسی میں ہاں مگر سمجھے تھا کچھ این و آں

لکھنے کی یہ طرز تھی کچھ جو لکھے تھا کبھیپختگی و خامی کے اس کا تھا خط درمیاں

شعر و غزل کے سوا شوق نہ تھا کچھ اسےاپنے اسی شغل میں رہتا تھا خوش ہر زماں

سست روش پست قد سانولا ہندی نژادتن بھی کچھ ایسا ہی تھا قد کے موافق عیاں

ماتھے پہ اک خال تھا چھوٹا سا مسے کے طورتھا وہ پڑا آن کر ابرووں کے درمیاں

وضع سبک اس کی تھی تس پہ نہ رکھتا تھا ریشموچھیں تھیں اور کانوں پر پٹے بھی تھے پنبہ ساں

پیری میں جیسی کہ تھی اس کو دل افسردگیویسی ہی رہی تھی ان دنوں جن دنوں میں تھا جواں

جتنے غرض کام ہیں اور پڑھانے سواچاہئے کچھ اس سے ہوں اتنی لیاقت کہاں

فضل نے اللہ کے اس کو دیا عمر بھرعزت و حرمت کے ساتھ پارچہ و آب و ناں


دل ہر گھڑی کہتا ہے یوں جس طور سے اب ہو سکےاٹھ اور سنبھل گھر سے نکل اور پاس اس چنچل کے چل

دیکھی جو اس محبوب کی ہم نے جھلک ہے کل کی کلپائی ہر اک تعویذ میں اپنے دل بیکل کی کل

جب ناز سے ہنس کر کہا اس نے ارے چل کیا ہے توکیا کیا پسند آئی ہیں اس نازنیں چنچل کی چل

ہے وہ کف پا نرم تر اس کی کہ وقت ہم سریڈالے کف پائے صنم نرمی وہیں مخمل کی مل

ہم ہیں تمہارے مبتلا مدت سے ہے یہ آرزوبیٹھو ہمارے پاس بھی اے جاں کبھی اک پل کی پل

ہے دم غنیمت اے نظیرؔ اب میکدے میں بیٹھ کرتو آج تو مے پی میاں پھر دیکھ لیجو کل کی کل


دامان و کنار اشک سے کب تر نہ ہوے آہدو چار بھی آنسو مرے گوہر نہ ہوے آہ

جیسے کہ دل ان لالہ عذاروں کے ہیں سنگیںدل چاہنے والوں کے بھی پتھر نہ ہوے آہ

کہتے ہیں کہ نکلا ہے وہ اب سیر چمن کوکیا وقت ہے اس وقت مرے پر نہ ہوے آہ

خوباں کے تو ہم فدوی و بندہ بھی کہائےلیکن وہ ہمارے نہ ہوے پر نہ ہوے آہ

کیا تفرقہ ہے جب کہ گئے ہم تو نہ تھا وہاور آیا وہ ہم پاس تو ہم گھر نہ ہوے آہ

کیا نقص ہے اس غیرت خورشید کے آگےہم لعل تو کب ہوتے ہیں اخگر نہ ہوے آہ

دریا بھی بہے مے کے پر اے بادہ پرستاںیہ خشک وہ لب ہیں کہ کبھی تر نہ ہوے آہ

دیکھ اس کو نظیرؔ اب مجھے آتا ہے یہی رشککیوں ہم بھی اسی طرح کے دلبر نہ ہوے آہ


منہ سے پردہ نہ اٹھے صاحب من یاد رہےپھر قیامت ہی عیاں ہے یہ سخن یاد رہے

چھوڑو اتنی نہ زباں غنچہ دہن یاد رہےپھر ہمارے بھی دہن ہے یہ سخن یاد رہے

کوچہ گردوں میں نہیں ہم جو یہ کوچہ چھوڑیںخاک کرنا ہے ہمیں یاں ہے بدن یاد رہے

عہد آنے کا کیا ہے تو گرہ بند میں دےاس سے شاید تجھے اے عہد شکن یاد رہے

آپ کے کوچے کو ہم کعبۂ مقصود سمجھبھول بیٹھے ہیں سب آرام وطن یاد رہے

حرف اٹھ جانے کا کہہ بیٹھے ہو اب تو لیکنپھر نہ کہیے گا کبھی قبلۂ من یاد رہے

سو چمن ایک فقط مکھڑے میں اس کے ہیں نظیرؔجب یہ صورت ہو تو پھر کس کو چمن یاد رہے


مہ ہے اگر جوئے شیر تم بھی زری پوش ہودودھ چھٹی کا اسے یاد دلانے چلو

آئینۂ ماہ کو لعل لب اپنے دکھاچشمۂ کافور میں آگ لگانے چلو

تم ہو مہ چار دہ چار قدم رکھ کے آجبدر فلک قدر کی قدر گھٹانے چلو


کہا یہ آج ہمیں فہم نے سنو صاحبیہ باغ دہر غنیمت ہے دیکھ لو صاحب

جو رنگ و بو کے اٹھانے میں حظ اٹھا لیجےمبادا پھر کف افسوس کو ملو صاحب

یہ وہ چمن ہے نہیں ایک سے نہیں جس میںتبدل اس کا ہر اک گل سے سوچ لو صاحب

کہ تھا جو صبح شگفتہ نہ تھا وہ شام کے وقتجو شام تھا سو نہ دیکھا وہ صبح کو صاحب

پس اس مثال سے ظاہر ہے یہ سخن یعنیاسی طریق سے عالم میں تم بھی ہو صاحب

جو سر نوشت ہے ہوگا اسی طرح سے نظیرؔقضا قضا نہیں ہونے کی کچھ کرو صاحب


اسی کا دیکھنا ہے ٹھانتا دلجو ہے تیر نگہ سے چھانتا دل

بہت کہتے ہیں مت مل اس سے لیکننہیں کہنا ہمارا مانتا دل

کہا اس نے یہ ہم سے کس صنم کوتمہارا ان دنوں ہے مانتا دل

چھپاؤگے تو چھپنے کا نہیں یاںہمارا ہے نشاں پہچانتا دل

کہا ہم نے نظیرؔ اس سے کہ جس نےیہ پوچھا ہے اسی کا جانتا دل


پایا مزا یہ ہم نے اپنی نگہ لڑی کاجو دیکھنا پڑا ہے غصہ گھڑی گھڑی کا

عقدہ تو نازنیں کے ابرو کا ہم نے کھولااب کھولنا ہے اس کی خاطر کی گل جھڑی کا

اس رشک مہ کے آگے کیا قدر ہے پری کیکب پہنچے حسن اس کو ایسی گری پڑی کا

اس گل بدن نے ہنس کر اک لے کے شاخ نسریںہم سے کہا کہ کیجے کچھ وصف اس چھڑی کا

جب ہم نظیرؔ بولے اے جاں یہ وہ چھڑی ہےدل ٹوٹتا ہے جس پر جوں پھول پنکھڑی کا


اس کے بالا ہے اب وہ کان کے بیچجس کی کھیتی ہے جھوک جان کے بیچ

دل کو اس کی ہوا نے آن کے بیچکر دیا باؤلا اک آن کے بیچ

آتے اس کو ادھر سنا جس دمآ گئی انبساط جان کے بیچ

راہ دیکھی بہت نظیرؔ اس کیجب نہ آیا وہ اس مکان کے بیچ

پان بھی پانداں میں بند رہےعطر بھی قید عطر دان کے بیچ


ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی ابپھر بزم ہوگی جب تو سمجھ لیجو جب کی جب

ساغر کے لب سے پوچھیے اس لب کی لذتیںکس واسطے کہ خوب سمجھتا ہے لب کی لب

کم فرصتی سے عمر کی اپنی ہزار حیفجتنی تھیں خواہشیں وہ رہیں دل میں سب کی سب

سن کر وہ کل کی آج نہ ہو کس طرح خفااے نا شناس طبع کہی تو نے کب کی کب

پھولا ہوا بدن میں سماتا نہیں نظیرؔوہ گل بدن جو پاس رہا اس کے شب کی شب


ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو سیم بر کی طلبکہ طائران ہوا سے ہے بال و پر کی طلب

جو کہئے حسن کو خواہش نہیں یہ کیا امکاںاسے بھی اہل نظر سے ہے اک نظر کی طلب

کمال عشق بھی خالی نہیں تمنا سےجو ہے اک آہ تو اس کو بھی ہے اثر کی طلب

پری رخوں کو غرض کیا تھی زیب و زینت سےنہ ہوتی گر انہیں اپنے نظارہ گر کی طلب

طلب سے کس کو رہائی ہے بحر ہستی میںاگر صدف ہے تو اس کو بھی ہے گہر کی طلب

چمن میں بلبل و گل بھی ہیں اپنے مطلب کےاسے ہے گل کی طلب اس کو مشت زر کی طلب

جہاں وہ باغ تمنا ہے جس کے بیچ نظیرؔجو اک شجر ہے تو اس کو بھی ہے ثمر کی طلب


کہنے اس شوخ سے دل کا جو میں احوال گیاواں نہ تفصیل گئی پیش نہ اجمال گیا

دام کاکل سے گلا کیا یہ جو ہے طائر دلآپ اپنے یہ پھنسانے کو پر و بال گیا

دل بے تاب کی کیا جانے ہوئی کیا صورتپیچھے اس شوخ ستمگر کے جو فی الحال گیا

لے گیا ساتھ لگا وہ بت قاتل گھر تکیا اسے مار کے رستے میں کہیں ڈال گیا

خیر وہ حال ہوا یا یہ ہوئی شکل نظیرؔکچھ تأسف نہ کرو جانے دو جنجال گیا


صحن گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم اللہچشم بد دور بہار آئی ہے کیا بسم اللہ

مصحف رخ پہ ترے ابروئے پیوستہ نہیںمو قلم سے ید قدرت نے لکھا بسم اللہ

اس قدر تھا وہ نشہ میں کہ یکا یک جو گرامیں نہ بولا پہ مرے دل نے کہا بسم اللہ

زلف اس عارض رنگیں پہ بکھرنے جو لگیبول اٹھی منہ سے وہیں باد صبا بسم اللہ

آج گلشن میں ذرا پاؤں جو پھسلا اس کاگل ہنسا غنچے نے جلدی سے کہا بسم اللہ

یار قاتل مرے جو جو کہ لگاتا تھا وارلب پہ ہر زخم کے نکلے تھی صدا بسم اللہ

شیشہ و ساقی و ساغر بھی حاضر ہیں نظیرؔمے کشی کیجئے اب دیر ہے کیا بسم اللہ


نا خوش دکھا کے جس کو ناز و عتاب کیجےاے مہرباں پھر اس کو خوش بھی شتاب کیجے

جو اپنے مبتلا ہوں اور دل سے چاہتے ہوںلازم نہیں پھر ان سے رکئے حجاب کیجے

بیٹھے جو شام تک ہم بولا وہ مہرباں ہوجو خواہشیں ہیں ان کا کچھ انتخاب کیجے

ہم نے نظیرؔ ہنس کر اس شوخ سے کہا یوںہیں خواہشیں تو اتنی کیا کیا حساب کیجے

موقع کی اب تو یہ ہے جو وقت شب ہے اے جاںہم بیٹھے پاؤں دابیں اور آپ خواب کیجے


تدبیر ہمارے ملنے کی جس وقت کوئی ٹھہراؤ گے تمہم اور چھپیں گے یہاں تک جی جو خوب ہی پھر گھبراؤگے تم

بیزار کرو گے دل ہم سے یا منت در سے روکو گےوہ دل تو ہمارے بس میں ہے کس طور اسے سمجھاؤ گے تم

گر جادو منتر سیکھو گے تو سحر ہماری نظروں کااس کوچے میں بٹھلاویں گے پھر کہیے کیوں کر آؤ گے تم

گر چھپ کر دیکھنے آؤ گے ہم اپنے بالا خانے کےسب پردے چھوڑے رکھیں گے پھر کیوں کر دیکھنے پاؤ گے تم

گر جادو منتر سیکھو گے تو سحر ہماری نظروں کاتاثیر کو اس کی کھو دے گا کچھ پیش نہیں لے جاؤ گے تم

تصویر اگر منگواؤ گے تو دیکھ ہماری صورت کوحیران مصور ہووے گا پھر رنگ کہو کیا لاؤ گے تم

جو وقت نظیرؔ ان باتوں کی ہم خوب کریں گے ہشیاریجو حرف زباں پر لاؤ گے تم پھر کیوں کر دکھلاؤ گے تم


شیوۂ ناز ہوش چھل جاناطرز رفتار دل کچل جانا

صف مژگاں کے جھوک سے گر کرہم سے کب ہو سکا سنبھل جانا

اس نے آنے کہا ہے صبح اے اشکتو پلک پر نہ ایک پل جانا

ہم ابھی منتظر ہیں آنے کےدن ڈھلے گا تو تو بھی ڈھل جانا

دل نے سیکھا ہے بے طرح سے نظیرؔبن کہے بن سنے نکل جانا


قصر رنگیں سے گزر باغ و گلستاں سے نکلہے وفا پیشہ تو مت کوچۂ جاناں سے نکل

نکہت زلف یہ کس کی ہے کہ جس کے آگےہوئی خجلت زدہ بو سنبل و ریحاں سے نکل

گو بہار اب ہے ولے روز خزاں اے بلبلیک قلم نرگس و گل جاویں گے بستاں سے نکل

امتحاں کرنے کو یوں دل سے کہا ہم نے راتاے دل غمزدہ اس کاکل پیچاں سے نکل

کھا کے سو پیچ کہا میں تو نکلنے کا نہیںمگر اے دشمن جاں چل تو مرے ہاں سے نکل

ہو پریشانی سے جس کی مجھے سو جمعیتکس طرح جاؤں میں اس زلف پریشاں سے نکل

لاکھ زندان پر آفات میں ہوتا ہے وہ قیدجو کوئی جاتا ہے اس طور کے زنداں سے نکل

مجھ سے ممکن نہیں محبوب کی قطع الفتگرچہ میں جاؤں گا اس عالم امکاں سے نکل

چاہ میں مجھ کو یہ مرشد کا ہے ارشاد نظیرؔآبرو چاہے تو مت چاہ زنخداں سے نکل


اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیامقدیر و حی و کریم و مہیمن و منعام

بروج بارہ میں لا کر رکھی وہ باریکیکہ جس کو پہنچے نہ فکرت نہ دانش و اوہام

ادھر فرشتۂ کروبی اور ادھر غلماںقلم کو لوح پہ بخشی ہے طاقت ارقام

یہ دو ہیں شمس و قمر اور ساتھ ان کے یارعطارد و زحل و زہرہ مشتری بہرام

جو چاہیں ایک پلک ٹھہریں یہ سو طاقت کیاپھرا کریں گے یہ آغاز سے لے تا انجام

بشر جو چاہے کہ سمجھے انہیں سو کیا امکاںہے یاں فرشتوں کی عاجز عقول اور افہام

نکالے ان سے گل و میوہ شاخ و برگ و بارسب اس کے لطف و کرم کے ہیں عام یہ انعام

اسی کے باغ سے دل شاد ہو کے کھاتے ہیںچھہارے کشمش و انجیر و پستہ و بادام

چمک رہا ہے اسی کی یہ قدرتوں کا نوربہر زماں و بہر ساعت و بہر ہنگام

کہ اس کا شکر کریں شب سے ما بہ روز ادااطاعت اس کی بجا لاویں صبح سے تا شام

نظیرؔ نکتہ سمجھ مہر و فضل خالق کواسی کے فضل سے دونوں جہاں میں ہے آرام


کون یاں ساتھ لیے تاج و سریر آیا ہےیاں تو جو آیا ہے پہلے سو فقیر آیا ہے

عشق لایا ہے فقط ایک ہی سینے کی سپرحسن باندھے ہوئے سو ترکش و تیر آیا ہے

کل کسی شخص نے اس شوخ سے جا کر یہ کہاآج در پر ترے اک عاشق پیر آیا ہے

پشت خم کردہ عصا ہاتھ میں گردن ہلتیضعف پیری سے نہایت ہی حقیر آیا ہے

سن کے یہ شکل و شباہت تیری اس شوخ نے آہوہیں معلوم کیا یہ کہ نظیرؔ آیا ہے


کلال گردوں اگر جہاں میں جو خاک میری کا جام کرتاتو میں صنم کے لبوں سے مل کر عجب ہی عیش مدام کرتا

جو پاتا لذت بسان مستاں مے محبت سے تیری زاہدتو خانقہ سے نکل کے اپنی وہ میکدے میں قیام کرتا

وہ بزم اپنی تھی مے کشی کی فرشتے ہو جاتے مست و بے خودجو شیخ جی واں سے بچ کے آتے تو پھر میں ان کو سلام کرتا

جو زلفیں مکھڑے پہ کھول دیتا صنم ہمارا تو پھر یہ گردوںنہ دن دکھاتا نہ شب بتاتا نہ صبح لاتا نہ شام کرتا

وہ بزم اپنی تھی مے خوری کی فرشتے ہو جاتے مست و بے خودجو شیخ جی بچ کے واں سے آتے تو میں پھر ان کو سلام کرتا

نظیرؔ آخر کو ہار کر میں گلی میں اس کی گیا تھا بکنےتماشا ہوتا جو مجھ کو لے کر وہ شوخ اپنا غلام کرتا


کیا کاسۂ مے لیجئے اس بزم میں اے ہم نشیںدور فلک سے کیا خبر پہنچے گا لب تک یا نہیں

یہ کاسۂ فیروز گوں ہے شیشہ باز پر فنوںجتنے حیل ہیں اور فسوں سب اس کے ہیں زیر نگیں

ہو اعتماد اس کا کسے ہے شیشہ بازی یاد اسےرکھتا ہے شاد اک دم جسے کرتا ہے پھر اندوہگیں

کل دامن صحرا میں ہم گزرے جو وقت صبح دماک کاسۂ سر پر الم آیا نظر اپنے وہیں

بولا بہ فریاد و فغاں کیا دیکھتا ہے او میاںتھے ہم بھی سر بر آسماں گو اب تو ہیں زیر زمیں

گلبرگ سے نازک بدن سر پاؤں سے رشک چمنزریں و سیمیں پیرہن دل کش مکانوں کے مکیں

دن رات ناز و نعمتیں مہ طلعتوں کی صحبتیںعیش و نشاط و عشرتیں ساقی قراں مطرب قریں

باغ و چمن پیش نظر بزم طرب شام و سحرہر سو بہ کثرت جلوہ گر حسن بتان نازنیں

ایک آسماں کے دور سے اک گردش فی الفور سےاب سوچیے گا غور سے در لحظہ آں در لحظہ ایں

سنتے ہی جی تھرا گیا رخسار پر اشک آ گیادل عبرتوں سے چھا گیا خاطر ہوئی بس سہمگیں

اس میں سر اپنا ناگہاں ہر مو ہوا مثل زباںبولا نظیرؔ آگہ ہو ہاں من نیز روزے ہم چنیں


ہوئی شکل اپنی یہ ہم نشیں جو صنم کو ہم سے حجاب ہےکبھی اشک ہے کبھی آہ ہے کبھی رنج ہے کبھی تاب ہے

ذرا در پہ اس کے پہنچ کے ہم جو بلاویں اس کو تو دوستوکبھی غصہ ہے کبھی چھیڑ ہے کبھی حیلہ ہے کبھی خواب ہے

جو اس انجمن میں ہیں بیٹھتے تو مزاج اس کے سے ہم کو واںکبھی عجز ہے کبھی بیم ہے کبھی رسم ہے کبھی داب ہے

وہ ادھر سے جا کے جو آتا ہے اسے دونوں حال سے دل میں یاںکبھی سوچ ہے کبھی فکر ہے کبھی غور ہے کبھی تاب ہے

جو وہ بعد بوسہ کے ناز سے ذرا جھڑکے ہے تو نظیرؔ کوکبھی مصری ہے کبھی قند ہے کبھی شہد ہے کبھی راب ہے


نکلے ہو کس بہار سے تم زرد پوش ہوجس کی نوید پہنچی ہے رنگ بسنت کو

دی بر میں اب لباس بسنتی کو جیسے جاایسے ہی تم ہمارے بھی سینہ سے آ لگو

گر ہم نشہ میں بوسہ کہیں دو تو لطف سےتم پاس منہ کو لا کے یہ ہنس کر کہو کہ لو

بیٹھو چمن میں نرگس و صد برگ کی طرفنظارہ کر کے عیش و مسرت کی داد دو

سن کر بسنت مطرب زرین لباس سےبھر بھر کے جام پھر مئے گل رنگ کے پیو

کچھ قمریوں کے نغمہ کو دو سامعہ میں راہکچھ بلبلوں کا زمزمۂ دل کشا سنو

مطلب ہے یہ نظیرؔ کا یوں دیکھ کر بسنتہو تم بھی شاد دل کو ہمارے بھی خوش کرو


بتوں کی کاکلوں کے دیکھ کر پیچپڑے ہیں دل پہ کیا کیا پیچ پر پیچ

طریق عشق بے رہبر نہ ہو طےکہ ہے یہ رہ نہایت پیچ در پیچ

نہ ہووے دل کی تکل کٹ کے برباداگر ڈالے نہ وہ تار نظر پیچ

وہ زلف اس کی جو ہے پر پیچ و پر خمکمند جاں ہے اے دل اس کا ہر پیچ

نظیرؔ اک روز اپنے زخم سر کوجو باندھا ہم نے دے کر بیشتر پیچ

نظر کرتے ہی اس سرکش نے اک بارکہا کر کے سخن کا مختصر پیچ

دعا دیجے ہماری تیغ کو آجکہ جس نے آپ کو بخشا یہ سر پیچ


نہ آیا آج بھی سب کھیل اپنا مٹی ہےتمام رات یہ سر اور پلنگ کی پٹی ہے

جبیں پہ قہر نہ تنہا سیاہ پٹی ہےبھوؤں کی تیغ بھی کافر بڑی ہی کٹی ہے

پھنکی نکلتی ہیں اشکوں کی شیشیاں یاروہمارے سینے میں کس شیشہ گر کی بھٹی ہے

گلے لگائیے منہ چومئے سلا رکھئےہمارے دل میں بھی کیا کیا ہوس اکھٹی ہے

کوئی حجاب نہیں تجھ میں اور صنم میں نظیرؔمگر تو آپ ہی پردہ اور آپی ٹٹی ہے


جو دل کو دیجے تو دل میں خوش ہو کرے ہے کس کس طرح سے ہلچلاگر نہ دیجے تو وو ہیں کیا کیا جتاوے خفگی عتاب اکڑ بل

اگر یہ کہئے کہ ہم ہیں بے کل ذرا گلے مل تو ہنس کے ظالمدکھاوے ہیکل اٹھا کے یعنی بلا سے میری مجھے تو ہے کل

جو اس بہانے سے ہاتھ پکڑیں کہ دیکھ دل کی دھڑک ہمارےتو ہاتھ چھپ سے چھڑا لے کہہ کر مجھے نہیں ہے کچھ اس کی اٹکل

جو چھپ کے دیکھیں تو تاڑ جاوے وگر صریحاً تو دیکھو پھرتیکہ آتے آتے نگاہ رخ تک چھپا لے منہ کو الٹ کے آنچل

کرے جو وعدہ تو اس طرح کا کہ دل کو سنتے ہی ہو تسلیجو سوچیے پھر تو کیسا وعدہ فقط بہانہ فریب اور چھل

جو دل کو بوسے کے بدلے دیجے تو ہنس کے لیلیٰ بہت خوشی سےجو بوسہ مانگو تو پھر یہ نقشا کبھی تو آج اور کبھی کہے کل

نہ جل میں آوے نہ بھڑ کے نکلے نہ پاس بیٹھے نظیرؔ اک دمبڑا ہی پر فن بڑا ہی سیانا بڑا ہی شوخ اور بڑا ہی چنچل


نگہ کے سامنے اس کا جوں ہی جمال ہواوہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہوا

اگر کہوں میں کہ چمکا وہ برق کی مانندتو کب مثل ہے یہ اس کی جو بے مثال ہوا

قرار و ہوش کا جانا تو کس شمار میں ہےغرض پھر آپ میں آنا مجھے محال ہوا

ادھر سے بھر دیا مے نے نگاہ کا ساغرادھر سے زلف کا حلقہ گلے کا جال ہوا

بہار حسن وہ آئے نظر جو اس کی نظیرؔتو دل وہیں چمن عشق میں نہال ہوا


دل ٹھہرا ایک تبسم پر کچھ اور بہا اے جان نہیںگر ہنس دیجے اور لے لیجے تو فائدہ ہے نقصان نہیں

یہ ناز ہے یا استغنا ہے یا طرز تغافل ہے یاروجو لاکھ کوئی تڑپے سسکے فریاد کرے کچھ دھیان نہیں

جب سنتا ہے احوال مرا یوں کہتا ہے عیاری سےہے کون وہ اس سے ہم کو تو کچھ جان نہیں پہچان نہیں

کچھ بن نہیں آتا کیا کیجے کس طور سے ملیے اے ہمدموہ دیکھ ہمیں رک جاتا ہے اور ہم کو چین اک آن نہیں

تر دیکھ کے میری آنکھوں کو یہ بات سناتا ہے ہنس کرہیں کہتے جس کو چاہ میاں وہ مشکل ہے آسان نہیں

دل پھنس کر اس کی زلفوں میں تدبیر رہائی کی مت کرکب چھوٹا اس کے دام سے تو وہ دانا ہے نادان نہیں


تو ہی نہ سنے جب دل ناشاد کی فریادپھر کس سے کریں ہم تری بیداد کی فریاد

تیشے کی وہ کھٹ کھٹ کا نہ تھا غلغلہ یاروکی غور تو وہ تھی دل فرہاد کی فریاد

کل رات کو اس شوخ کی جا کر پس دیواراک درد فراہم نے جو بنیاد کی فریاد

سنتے ہی کہا اس نے کہ ہاں دیکھو تو اس جاکس نے یہ بلکتی ہوئی ایجاد کی فریاد

فریاد نظیرؔ آگے ہی اس کے ہے بہت خوبواں دیکھنے کا دیکھنا فریاد کی فریاد


صنم کے کوچے میں چھپ کے جانا اگرچہ یوں ہے خیال دل کاپہ وہ تو جاتے ہی تاڑ لے گا پھر آنا ہوگا محال دل کا

گہر نے اشکوں کے یاں نکل کر جھمک دکھائی جو اپنی ہر دمتو ہم نے جانا کہ موتیوں سے بھرا ہے پہلو میں قال دل کا

کبھی اشارت کبھی لگاوٹ کبھی تبسم کبھی تکلمیہ طرزیں ٹھہریں تو ہم سے پھر ہو بھلا جی کیوں کر سنبھال دل کا

وہ زلف پر پیچ و خم ہے اس کی پھنسا تو نکلے گا پھر نہ ہرگزہمارا کہنا ہے سچ ارے جی تو کام اس سے نہ ڈال دل کا

میں لحظہ لحظہ ہوں کھینچ لاتا وہ پھر اسی کی طرف ہے جاتاکروں نظیرؔ اس کی فکر میں کیا ہے اب تو میرے یہ حال دل کا


تھی چھوٹی اس کے مکھڑے پر کل زلف مسلسل اور طرحپھر دیکھا آج تو اس گل کے تھے کاکل کے بل اور طرح

وہ دیکھ جھڑکتا ہے ہم کو کر غصہ ہر دم اور ہمیںہے چین اسی کے ملنے سے زنہار نہیں کل اور طرح

معلوم نہیں کیا بات کہی غماز نے اس سے جو ہم سےتھیں پہلی باتیں اور نمط اب بولے ہے چنچل اور طرح

دل مجھ سے اس کے ملنے کو کہتا ہے تو اس کے پاس مجھےجب لے پہنچا تھا بھیس بدل پھر اب کے لے چل اور طرح

ہے کتنے دنوں سے عشق نظیرؔ اس یار کا ہم کو جس کی ہیںصبح اور برن شام اور پھبن آج اور دوش کل اور طرح


لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سےاتنی ضد بھی نہ رکھو اپنے جگر خستوں سے

فندقیں بزم میں دیکھ اس کے سر انگشتوں سےرشتۂ ربط نے لی راہ کف دستوں سے

روبرو ہووے جو چشمان بتاں سے اے دلڈرتے رہنا ہی مناسب ہے سیہ مستوں سے

دست صیاد سے چھوٹے تو اچھل پے در پےورنہ کیا فائدہ اے آہوے دل جستوں سے

پیش جاتی نہیں ہرگز کوئی تدبیر نظیرؔکام جب آن کے پڑتا ہے زبردستوں سے


مجھے اس جھمک سے آیا نظر اک نگار رعناکہ خور اس کے حسن رخ کو لگا تکنے ذرہ آسا

خد و خال خوبی آگیں لب لعل پاں سے رنگیںنظر آفت دل و دیں مژہ صد مضرت افزا

پڑی رخ پہ زلف پر خم مسی رشک رنگ نیلمغرض اس طرح کا عالم کہ پری کہے اہا ہا

کہا ہم نے اے سمن بر پری چہرہ مہر پیکرجو چلی ہو یوں جھمک کر کہو عزم ہے کدھر کا

ہے یہ وقت سیر بستاں پھلیں ہم بھی ساتھ اے جاںکہا سن کے یہ ارے میاں کوئی تم بھی ہو تماشا

ہے یہ آشنائی اگلی نہ شناخت اک دو دن کیجو ہے دل دہی کی مرضی تو ہے لوچ پھر یہ کیسا

کہا جب نظیرؔ ہم نے "یہی دل ہیں ہم تو رکھتے"تو کہا جو نیکی ہووے تو پھر اس کا پوچھنا کیا


یک بہ یک ہوگی سیاہی اس قدر جاتی رہیکیا کہیں گویا سیاہی یک سر مو بھی نہ تھی

گو سفیدی مو کی یوں روشن ہے جوں آب حیاتلیکن اپنی تو اسی ظلمات سے تھی زندگی

دم بدم بزم سرور و ہر گھڑی سیر چمنعشرت و عیش و نشاط و خرمی و تازگی

خندۂ شادی سے ہرگز لب نہ ہوتے تھے بہمساغر و مینا سرود و رقص و خوش طبعی ہنسی

جام دیتا تھا ادھر ساقی بہ منت ہاتھ جوڑاس طرف کیا کیا لگاوٹ دلبروں کی تھی نئی

گل بدن کرتے تھے کس کس طور اظہار اشتیاقغنچہ لب ملتے تھے سو سو دل میں رکھ کر بے کلی

کوئی دیتا تھا محبت سے گلے میں ہاتھ ڈالکوئی دیتا تھا زبردستی سے بوسہ ہر گھڑی

کوئی دیتا تھا محبت سے گلے میں ہاتھ ڈالکوئی دیتا تھا زبردستی سے بوسہ ہر گھڑی

جس طرف تھے دیکھتے عیش و طرب کا جوش تھامستی و رندی ہوس بازی و بے اندیشگی

آن کر مو کی سفیدی نے یہ کیں بربادیاںکھول دیں جتنی بندھیں تھیں وہ ہوائیں عیش کی

قد میں خم آنکھوں میں نم چہرے پہ جھری رنگ زردسر سے پا تک سخت ناخوش منظری بد ہیئتی

کیا تماشے انقلاب چرخ کے کہئے نظیرؔدم میں وہ رونق تھی اور ایک دم میں یہ بے رونقی


قتل پر باندھ چکا وہ بت گمراہ میاںدیکھیں اب کس کی طرف ہوتے ہیں اللہ میاں

نزع میں چشم کو دیدار سے محروم نہ رکھورنہ تا حشر یہ دیکھیں گی تری راہ میاں

تو جدھر چاہے ادھر جا کہ سحر سے تا شاممیں بھی سائے کی طرح ہوں ترے ہمراہ میاں

ہم تری چاہ سے چاہیں گے اسے بھی دل سےجس کو جی چاہے اسے شوق سے تو چاہ میاں

لیکن اتنا ہے کہ اس چاہ میں دریا ہیں کئیایسے ایسے کئی ہیں جن کی نہیں تھاہ میاں

آگے مختار ہو تم ہم جو تمہیں چاہے ہیںاس سبب سے تمہیں ہم کرتے ہیں آگاہ میاں

جب دم نزع نہ آیا وہ ستم گر تو نظیرؔمر گیا کہہ کے یہ حسرت زدہ اے واہ میاں


کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے ابیعنی وہ شوخ ہم سے خفا بے سبب ہے اب

آہ و فغان و گریہ و اندوہ و درد و داغجو جنس عشق ہے وہ مرے پاس سب ہے اب

دیکھے سے جس کے غنچہ صفت گل ہو رشک ہےایسا تو اس جنم میں وہی غنچہ لب ہے اب

صبح فلک بھی جس کی تجلی سے ہو خجلاس رشک ماہتاب سے اپنی وہ شب ہے اب

آئینہ ایک دم نہیں رکھتا ہے ہاتھ سےایسا وہ اپنے رخ کا تماشا طلب ہے اب

اس گل بدن کے وصل سے ہر دم نظیرؔ کوسب سے زیادہ خلق میں عیش و طرب ہے اب


بے جا ہے رہ عشق میں اے دل گلۂ پایہ اور ہی منزل ہے نہیں مرحلۂ پا

ہنگام خرام اس کے ہجوم دل عشاقغش کردہ ہیں ٹھوکر کے بہر فاصلۂ پا

کل بوسۂ پا ہم نے لیا تھا سو نہ آیاشاید کہ وہ بوسہ ہی ہوا آبلۂ پا

اس پا کی رہ رشک میں نازک قدموں کےپھرتے ہیں بھٹکتے ہوئے سو قافلۂ پا

سو ناز سے ٹھوکر بہ سر عرش لگانااس گل کے سوا کس کا ہے یہ حوصلۂ پا

گلبرگ پہ رکھتے ہی قدم ہنس کے جو کھینچاشاید ہوئی سختی سے رگ گل خلۂ پا

دل سے رہ دل بستگی کب طے ہو نظیرؔ آہوہ زلف مسلسل جو نہ ہو سلسلۂ پا


ہوں تیرے تصور میں مری جاں ہمہ تن چشمدل ہے مرا جوں آئینہ حیراں ہمہ تن چشم

تا ایک نظر دیکھے تجھے اے مہ تاباںرہتا ہے سدا مہر درخشاں ہمہ تن چشم

آنکھوں کو ملے تاکہ ترے پاؤں کے نیچےہر نقش قدم سے ہے بیاباں ہمہ تن چشم

دیوانگی میری کے تحیر میں شب و روزہے حلقۂ زنجیر سے زنداں ہمہ تن چشم

اس آئینہ رو کے ہے تصور میں نظیرؔ ابحیرت زدہ نظارہ پریشاں ہمہ تن چشم


سنئے اے جاں کبھی اسیر کی عرضاپنے کوچے کے جا پذیر کی عرض

چھد گیا دل زباں تلک آتےہم نے جب کی نگہ کے تیر کی عرض

اس گھڑی کھلکھلا کے ہنس دیجےہے یہی اب تو کہنہ پیر کی عرض

جب تو اس گل بدن شکر لب نےیوں کہا سن کے اس حقیر کی عرض

اب تلک دھن ہے حسن دنداں کیدیکھ اس پوپلے نظیرؔ کی عرض


جُو تُو کہتا ہے اے غافل یہ مرا ہے یہ ترا ہےیہ جس کا ہے اسی کا ہے نہ ترا ہے نہ مرا ہے

تُو اول سوچ تُو دِل میں کے تُو ہے کُون اور کیا ہےنمازی ہے شرابی ہے اچکا ہے لٹیرا ہے

فرشتہ ہے پری ہے دیو ہے یا آدمی جن ہےبلا ہے بھوت ہے یامن مزورا یا کمیرا ہے

جب ان چیزوں سے تُو اپنے تئیں کچھ چیز ٹھہرا لےتُو اِس کہ بعد پھر کہیو یہ مرا ہے یہ ترا ہے

یہ چیزیں تُو غرض کیا ہیں تُو اپنا ہی نہیں مالکتُجھے او بے خبر ناداں یہ کس غفلت نے گھیرا ہے

تُو کچے سوت کا دھاگا عبث بل پیچ کھاتا ہےیہ سب وہم غلط ہے اُور قصور فہم ترا ہے

تُو کیا جانے کے تُجھ کو کس نے کس چرخے میں کاتا ہےتُو کیا جانے کے تُجھ کو کس اٹیرن میں اٹیرا ہے

تماشا ہے مزا ہے سیر ہے کیا کیا اہاہاہامصور نے عجب کچھ رنگ قدرت کا بکھیرا ہے

ترقی میں تنزل ہے تنزل میں ترقی ہےاندھیرے میں اجالا ہے اجالے میں اندھیرا ہے

طلسمات حقیقی ہے یہ کچھ سمجھا نہیں جاتایہی چاند اُور یہی سورج یہی شام اُور سویرا ہے

نظیرؔ اللہ اللہ اس جہاں میں دم غنیمت ہےکہاں ہم اُور کہاں پھر تم کوئی دم کا بسیرا ہے


نہیں یاں بیٹھتے جو ایک دم تمتو کیا ڈرتے ہو ہم سے اے صنم تم

ہنسو بولو ملو بیٹھو بھلا جینہیں کیا عاشق و معشوق ہم تم

جو یاں آیا کبھی چاہو تو بے خوفادھر لایا کرو اپنا قدم تم

نہایت سادہ دل ہیں ہم تو اے جاںنہ سمجھو ہم میں ہرگز پیچ و خم تم

سنا جب یہ نظیرؔ اس نے تو ہنس کرکہا یہ تو ہمیں دیتے ہو دم تم


شب مہ میں دیکھ اس کا وہ جھمک جھمک کے چلناکیا انتخاب مہ نے یہ چمک چمک کے چلنا

روش ستم میں آنا تو قدم اٹھانا جلدیجو رہ کرم میں آنا تو ٹھٹک ٹھٹک کے چلنا

نہ دھڑک ہو جو نکلنا تو سر خطر پہ ٹھوکرجو نظر گزر سے ڈرنا تو جھجک جھجک کے چلنا

جو نوازشوں پہ آنا تو رگڑ کے دوش جاناجو سر عتاب ہونا تو پھٹک پھٹک کے چلنا

ہے کھبا نظیرؔ اب تو مرے جی میں اس صنم کاوہ اکڑ کے دھج دکھانا وہ ہمک ہمک کے چلنا


دل ہم نے جو چشم بت بے باک سے باندھاپھر نشۂ صہبا سے نہ تریاک سے باندھا

اس زلف سے جب ربط ہوا جی کو تو ہم نےشانے کا تصور دل صد چاک سے باندھا

دیکھا نہ قد سرو کو پھر ہم نے چمن میںجس دن سے دل اس قامت چالاک سے باندھا

جو آہوئے دل بھا گیا اس صد فگن کوجھپ اس نے اسے کاکل پیچاک سے باندھا

اور جو نہ پسند آیا اسے وہ تو نظیرؔ آہنے صید کیا اس کو نہ فتراک سے باندھا


مژگاں وہ جھپکتا ہے اب تیر ہے اور میں ہوںسر پاؤں سے چھدنے کی تصویر ہے اور میں ہوں

کہتا ہے وہ کل تیرے پرزے میں اڑاؤں گااب صبح کو قاتل کی شمشیر ہے اور میں ہوں

بے جرم و خطا جس کا خوں ہووے روا یارواس خوبیٔ قسمت کا نخچیر ہے اور میں ہوں

ہے قتل کی دھن اس کو اور میری نظر حق پرتدبیر ہے اور وہ ہے تقدیر ہے اور میں ہوں

دل ٹوٹا نظیرؔ اب تو دو چار برس رو کراس قصر شکستہ کی تعمیر ہے اور میں ہوں


کس کے لیے کیجئے جامۂ دیبا طلبدل تو کرے ہے مدام دامن صحرا طلب

کام روا ہوں بھلا اس سے ہم اب کس طرحاس کو تمنا نہیں ہم ہیں تمنا طلب

کس سے کہیں کیا کریں ہے یہ تماشا کی باتوہ تو ہے پردہ نشیں ہم ہیں تماشا طلب

کہئے تو کس کس کے اب غور کرے وہ طبیبجس کے طلب گار ہوں لاکھ مداوا طلب

ایک تمنا ہو تو یار سے کہئے نظیرؔدل ہے پر از آرزو کیجئے کیا کیا طلب


ہوش و خرد کو کر دیا ترک اور شغل جو کچھ تھا چھوڑ دیاہم نے تمہاری چاہ میں اے جاں دیکھو تو کیا کیا چھوڑ دیا

کوچے میں اس رشک چمن کے جا کے جو بیٹھا پھر اس نےباغ و چمن یاں جتنے ہیں سب کا سیر و تماشا چھوڑ دیا

لوٹا ہوش اور لوٹا دیں کو دل کو بھی کچلا کیا کیا واہناز کو اس نے آج تو کچھ بیداد پر ایسا چھوڑ دیا

دن کو ہمارے پاس وہ چنچل کاہے کو آوے گا اے دلرات کو اک دم خواب میں آنا جس نے ادھر کا چھوڑ دیا

طائر دل جب ہم سے گیا پھر فائدہ کیا جو پوچھیں نظیرؔشوخ نے اس کو ذبح کیا یا قید رکھا یا چھوڑ دیا


نہ ٹوکو دوستو اس کی بہار نام خدایہی اب ایک ہے یاں گلعذار نام خدا

یہ وہ صنم ہے پری رو کہ جس پہ ہوتی تھیںہزار جان سے پریاں نثار نام خدا

اسی صنم کی نگاہوں کی برچھیاں یاروہوئی ہیں میرے کلیجے کے پار نام خدا

اسی کے نشتر مژگاں میں اب وہ تیزی ہےکہ جس سے ہوتے ہیں ہم دل فگار نام خدا

اسی صنم کے رخ و زلف کے تصور میںہماری گزرے ہے لیل و نہار نام خدا

گلی میں کوچہ و بازار میں ہم اب دن راتاسی کے واسطے پھرتے ہیں خوار نام خدا

اسی کے سر کی قسم ہے کہ ہم تو مر جاتےاگر نہ ہوتا یہ گل رو نگار نام خدا

بنے ہیں یاں جو کئی دیر اور صنم خانےادھر جو جو ہوتا ہے اس کا گزار نام خدا

اٹھا کے سینہ جھٹک بازو اور بنا کر دھجچلے ہے جس گھڑی ٹھوکر کو مار نام خدا

قدم قدم پہ برہمن کہیں ہیں بسم اللہصنم بھی کہتے ہیں سب بار بار نام خدا

غرض جدھر کو نکلتا ہے یہ تو ہر اک کےزباں سے نکلے ہے بے اختیار نام خدا

نظیرؔ ایک غزل اور کہہ کہ تیرے سخنہیں اب تو سب گہر آب دار نام خدا


چاہت کے اب افشا کن اسرار تو ہم ہیںکیوں دل سے جھگڑتے ہو گنہ گار تو ہم ہیں

رو آئینے کو دیتے ہو برعکس ہمارےآئینہ رکھو طالب دیدار تو ہم ہیں

گلشن میں عجب جاتے ہو کر حسن کی تزئیناس جنس دل آرا کے خریدار تو ہم ہیں

کیا کبک کو دکھلاتے ہو انداز خرام آہحسرت زدۂ شوخئ رفتار تو ہم ہیں

کی چشم سوئے نرگس بیمار تو پھر کیااس عین عنایت کے سزا وار تو ہم ہیں

دل دے کے دل آزار کو کیا شکوۂ بیدادگر سوچیے اپنے لیے آزار تو ہم ہیں

جس دن سے پھنسے دیکھی نہ پھر شکل رہائیکیا کہئے نظیرؔ ایسے گرفتار تو ہم ہیں


شور آہوں کا اٹھا نالہ فلک سا نکلاآج اس دھوم سے ظالم تیرا شیدا نکلا

یوں تو ہم تھے یوں ہی کچھ مثل انار و مہتابجب ہمیں آگ دکھائی تو تماشا نکلا

غم سے ہم بھانمتی بن کے جہاں بیٹھے تھےاتفاقاً کہیں وہ شوخ بھی واں آ نکلا

سینے کی آگ دکھانے کو دہن سے اپنےشعلے پر شعلہ بھبھوکے پہ بھبھوکا نکلا

مت شفق کہہ یہ ترا خون فلک پر ہے نظیرؔدیکھ ٹپکا تھا کہاں اور کہاں جا نکلا


ہیں دم کے ساتھ عشرت و عسرت ہزارہاوابستہ ایک تار نفس سے ہیں تار ہا

کچھ صید زخم خوردۂ جاناں ہمیں نہیںہر صید گہ میں اس کی ہیں بسمل شکار ہا

آیا وہ جب تو ہم نہ رہے آپ میں غرضدیکھا اسی طرح سے اسے ہم نے بارہا

اس گل کے چاک جیب کی حسرت سے باغ میںہر صبح چاک ہوتی ہیں جیب و کنار ہا

اس سوزن مژہ کے تصور میں شانہ ساںٹوٹے ہیں ایک خلق کے پہلو میں خار ہا

کس کس کی دیکھیے چمن صنع میں بہاراپنی فقط دو چشم ہیں اور یاں بہار ہا

تھے کل یہ خط عارض خوبان سبزہ رنگکہتے ہیں آج خلق جنہیں سبزہ زار ہا

تھے کل یہ شاہدان سہی سرو و سیم تنشاہد ہیں آج مرگ کے جن کے مزار ہا

سب کو نظیرؔ سونا ہے ایک دن بہ زیر خاکسنگ مزار اس کے ہیں آئینہ دار ہا


نامۂ یار جو سحر پہونچاخوش رقم خوب وقت پر پہونچا

تھا لکھا یوں کہ اے نظیرؔ اب تککس سبب تو نہیں ادھر پہونچا

میں نے اس کو کہا کہ اے محبوباس لیے میں نہیں ادھر پہونچا

یوں سنا تھا تم آپی آتے ہواس میں نامہ یہ پر گہر پہونچا

مجھ کو پہونچا ہی جانو اپنے پاسآج کل شام یا سحر پہونچا


یہ دل ناداں ہمارا بھی عجب دیوانہ تھااس کو اپنا گھر یہ سمجھا تھا جو مہماں خانہ تھا

تھے جو بیگانے یگانے ان کو گنتا تھا بجاںاس قدر غفلت میں عقل و ہوش سے بیگانہ تھا

لے لیا معنی کو اور صورت کو جانا بے ثباتغور سے دیکھا تو عالم میں وہی فرزانہ تھا

کیا غم اسباب ظاہر کا نہ ہو جس کو قیامچشم معنی بیں میں یکساں ہے اگر تھا یا نہ تھا

کہتے ہیں عہد سلف میں تھا کوئی ایسا مکاںقطعۂ خلد اس کا ایک اک کنج اور کاشانہ تھا

پر صفا و پر ضیا و پر نگار و پر بہارزیب سے سو سو طرح اس میں جو شاخ اور شانہ تھا

لحظہ لحظہ عیش و عشرت دم بدم رقص و سرورگریۂ مینا و یکسر خندۂ پیمانہ تھا

مالک اس کا جب وہ پشت بام پر پھرتا تھا شادکیا کہوں کیا کیا اسے ناز سر افرازانہ تھا

تھا جہاں یہ کچھ عیاں واں انقلاب دور سےیک مژہ برہم زدن میں کچھ نہ تھا ویرانہ تھا

واں طینیس یک مگس آئے نہ ہرگز گوش میںجس جگہ شور قیامت ساز نوبت خانہ تھا

واں نظر آیا نہ ہرگز پارۂ سنگ سیاہجس جگہ لعل و گہر سے پر جواہر خانہ تھا

خوب جو دیکھا نظیرؔ ان رفتگاں کا ماجرابہر خوف و عبرت آئندگاں افسانہ تھا


چھوٹا بڑا نہ کم نہ منجھولا ازار بندہے اس پری کا سب سے امولا ازار بند

ہر اِک قدم پہ شوخ کہ زانو کہ درمیاںکھاتا ہے کس جھلک سے جھکولا ازار بند

ہنسنے میں ہاتھ مرا کہیں لگ گیا تُو وہلونڈی سے بولی جا میرا دھو لا ازار بند

اُور دھو نہیں تُو پھینک دے ناپاک ہو گیاوُہ دوسرا جُو ہے سو پرو لا ازار بند

اِک دِن کہا جو میں نے کے اے جان آپ کاہم نے کبھو مزے میں نہ کھولا ازار بند

سن کر لگی یہ کہنے کے اے واچھڑے چہ خوشایسا بھی کیا میں رکھتی ہوں پولا ازار بند

آ جاوے اس طرح سے جو اب ہر کسی کہ ہاتھویسا تُو کچھ نہیں میرا بھولا ازار بند

اِک رات مرے ساتھ وُہ عیار مکر بازلیٹی چھپا کہ اپنا ممولا ازار بند

جب سو گئی تُو میں نے بھی دہشت سے اس کی آپہلے تُو چپکے چپکے ٹٹولا ازار بند

آخر بڑی تلاش سے اس شوخ کا نظیرؔجب آدھی رات گزری تُو کھولا ازار بند


منتظر اس کے دلا تا بہ کجا بیٹھناشام ہوئی اب چلو صبح پھر آ بیٹھنا

ہوش رہا نے قرار دین رہا اور نہ دل رہاپاس بتوں کے ہمیں خوب نہ تھا بیٹھنا

لطف سے اے دل تجھے اس کے جو ابرو بٹھائےبیٹھیو لیکن بہت پاس نہ جا بیٹھنا

دل کی ہماری غرض باندھے ہے کیا بند بندشوخ کا وہ کھول کر بند قبا بیٹھنا

کوچے میں اس شوخ کے جاتے تو ہو اے نظیرجل میں کہیں اپنی چاہ تم نہ جتا بیٹھنا


سزاوار ارے آرے ہوئے ہیںبھلا اتنے تو ہم بارے ہوئے ہیں

نہ رکھتے ہم سے بل زلفوں کے حلقےمگر اس کے یہ سنکارے ہوئے ہیں

تمہاری دیکھ کر عیاریوں کومیاں کچھ ہم بھی عیارے ہوئے ہیں

بلاتے ہی نہ آئے ہم تو بولاکہیں یہ نقد دل ہارے ہوئے ہیں

پھر آپی یوں نظیرؔ اس نے کہا ہاںکسی چنچل کے للکارے ہوئے ہیں


نہ دِن کو چین نہ راتوں کو خواب آنکھوں میںبھر آ رہا ہے تیرے غم سے آب آنکھوں میں

جدھر وُہ دیکھے ادھر صف کی صف الٹ دے ہےبھری ہے شوخ کہ ایسی شراب آنکھوں میں

تھما نہ اشک نہ نیند آئی نہ پلک جھپکیبسا ہے جب سے وُہ خانہ خراب آنکھوں میں

تمہارے ہم تُو قدیمی غلام بندے ہیںتمہیں نہ چاہئے ہم سے حجاب آنکھوں میں

قسم ہے چشم گلابی کی تری اے گُل روکے یاں کھنچے ہے پڑا نت گلاب آنکھوں میں

خُدا کی شان جنہیں بات بھی نہ آتی تھیوُہ اب کرے ہیں سوال و جواب آنکھوں میں

شتابی آن کہ محبوبو پگڑیاں رنگ لونظیرؔ لایا ہے بھر کر شہاب آنکھوں میں


نگہ لڑانے کہ آگے اس کی ہے ناز کرتی پڑی لگاوٹحنا دکھانے کہ سامنے بھی ہے دست بستہ کھڑی لگاوٹ

دکھا کہ چیں کو جبیں کہ اوپر اسے تُو کچھ حُسن ہے دکھاتاجُو سادہ دِل ہو تُو سمجھے خفگی اُور اس کی ہے وہ بڑی لگاوٹ

چھڑی اٹھاتا ہے جب وُہ گُل کی تُو ہے کچھ اِس میں بھی گل کھلاتالگا دے تن پر وُہ جس کہ ہنس کر تُو وُہ چھڑی ہے چھڑی لگاوٹ

خفا ہو جس سے تُو وُہ یہ جانے کے مُجھ سے روٹھا بس اب وُہ لیکنپھنسا وُہ پھندے میں مدتوں کو جہاں تک اس کی لڑی لگاوٹ

نظیرؔ دِل کو بچاوے یارو کب اس صنم سے کے جس میں ہووےگھڑی مچلنا گھڑی چہکنا گھڑی جھجکنا گھڑی لگاوٹ


رہوں کاہے کو دِل خستہ پھروں کاہے کو آوارہاگر آں ترک شیرازی بدست آرد دِل ما را

خُدا گر مُجھ گدا کو سلطنت بخشے تُو میں یاروبہ خال ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را

ہم اپنا تُو بہشت و چشمۂ کوثر سمجھتے ہیںکنار آب رکناباد و گلگشت مصلیٰ را

زمیں پر آیا جب یوسف اسی دِن آسماں رویاکے عشق از پردۂ عصمت بروں آرد زلیخا را

یہ ظالم سنگ دِل محبوب جادوگر ستم پیشہچناں بردند صبر از دِل کے ترکاں خوان یغما را

جُو صاحب حسن ہیں ہرگز نہیں محتاج زینت کہبہ آب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روئے زیبا را

بتوں کی گالیوں میں بھی عجب لذت نکلتی ہےجواب تلخ می زیبد لب لعل شکر خا را

تُو ہستی کی گرہ پر عقل کہ ناخن نہ توڑ اے دِلکے کس نکشود و نکشاید بہ حکمت ایں معما را

نظیرؔ اس لطف سے تضمین کر تُو مصرعہ حافظکے بر نظم تو افشاند فلک عقد ثریا را


کہیں بیٹھنے دے دِل اب مُجھے جُو حواس ٹک میں بجا کروںنہیں تاب مُجھ میں کے جب تلک تُو پھرے تُو میں بھی پھرا کروں

تُو ہزار مُجھ کو ستا پری تری چاہ مُجھ سے نہ چھوٹے گیمیرے دِل کی تُو ہے یہی خُوشی تُو جفا کرے میں وفا کروں

جوں ہی بوسہ میں نے طلب کیا تُو کہا تُجھے تُو نہیں ہے ڈرمُجھے خوف ہے کے مبادا گر کوئی دیکھ لے تُو میں کیا کروں

مُجھے مدتوں سے ہے درد دِل جُو کہا کچھ اس کا علاج کرتُو کہا کے اس کی دوا ہے یہ تُو کہا کرے میں سنا کروں

جُو نگہ سے چاہ کی دیکھیے تُو چڑھا کہ تیوری یہ کہتا ہےتری اس نگہ کی سزا ہے یہ کے بس اب میں تُجھ سے چھپا کروں

کبھی اِس کہ کوچے میں جا ملے جُو بہ کام دِل گھڑی دو گھڑیتُو مُجھے ہیں یاد وُہ مکر و فن پھر اِسی کہ دِل میں میں جا گروں

کوئی بولا تم نے نظیرؔ کو نہ جھڑک دیا تُو کہا میاںدِل و جاں سے مُجھ پہ فدا ہے وُہ اسے کس طرح میں خفا کروں


خط کی رخساروں پر اِس گُل کہ جُو تحریریں ہیں دوہے وُہ مصحف رخ کے جس کہ ساتھ تفسیریں ہیں دو

حُسن وُہ ترک ستم گر ہے کے جس کہ پاس چارترکشیں مژگاں کی اُور ابرو کی شمشیریں ہیں دو

یا بلاؤ ہم کو پنہاں یا تم آؤ چھپ کہ یاںگر ملا چاہو تُو ملنے کی یہ تدبیریں ہیں دو

فی الحقیقت فیض جذب عشق سے باہم ہیں ایکلیلیٰ و مجنُوں کی گو ظاہر میں تصویریں ہیں دو

دِل دیا اور کی وفا اس کی جفاؤں پر نظیرؔغور سے دیکھا تُو یہ اپنی ہی تقصیریں ہیں دو


کھلے گُل سبزہ نزہت بار ہے کیا کیا بہاریں ہیںصبا ہے رنگ و بو ہے یار ہے کیا کیا بہاریں ہیں

ہجوم ابر ہے چمکے ہے برق اُور مینہ برستا ہےنشہ ہے تازگی ہے یار ہے کیا کیا بہاریں ہیں

صدائے بلبلاں ہے آب جُو ہے صحن گُلشن ہےسمن ہے سرو ہے گلنار ہے کیا کیا بہاریں ہیں

صنم کہ لب میں پان ہاتھوں میں مہندی پیر ہیں رنگیںکناری ہے دھنک ہے ہار ہے کیا کیا بہاریں ہیں

نظیرؔ اب عیش کی پیتا ہے مے ہر دم یہ کہہ کہہ کرچمن ہے گُل ہے گُل رخسار ہے کیا کیا بہاریں ہیں


جب آیا وُہ یاں دِل ربائی جتانےتُو کیا کیا لگا خُوش ادائی جتانے

دکھانے لگی زلف اپنی درازیمژہ بھی لگی کچھ رسائی جتانے

نظیرؔ ایک دِن اس پری رو کہ آگےگئے ہم جُو کچھ آشنائی جتانے

دیا جام اُور ہم جُو ہچکے تُو بولاتم آئے ہو نفرت فزائی جتانے

پلا دیں گے ہم تُو میاں فائدہ کیالگے تم جُو یاں پارسائی جتانے


اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گےوُہ زلف وُہ تِل وہ خال وُہ خد وُہ رنگ وُہ نقشہ دیکھیں گے

جب پاس صنم کہ بیٹھیں گے خوش ہو کہ اس کہ لطف سے ہموُہ بزم وُہ خط وُہ عیش وُہ مے وُہ جام وُہ مینا دیکھیں گے

مسرور بہت دِل ہووے گا خُوش جی بھی ہوگا کیا کیا جبوُہ ناز وہ دھج وُہ آن وُہ سج وُہ زیب وُہ بالا دیکھیں گے

وُہ کاجل چنچل آنکھوں کا وُہ مہندی نازک ہاتھوں کیوُہ پان وُہ لب وُہ حُسن وُہ چھب وُہ گوش وُہ بالا دیکھیں گے

ہے جُو جُو خواہش دِل میں نظیرؔ آوے گا ادھر محبوب تُو ہموُہ ربط و دہن وُہ چین وُہ سکھ وُہ سیر وُہ چرچا دیکھیں گے


سامنے اس صف مژگاں کہ میں کل جاؤں گاچھد تُو جاؤں گا پر آگے سے نہ ٹل جاؤں گا

تیغ اس ابرو کی جب معرکہ آرا ہوگیاپنی جاں بازی کہ گوہر میں اگل جاؤں گا

ہے کف پا وُہ مصفا کے جسے دھیان میں لاپائے نظارہ یہ کہتا ہے پھسل جاؤں گا

مُجھ کو دیتے ہو عبث خانۂ زنجیر میں جاجوں صدا میں ابھی اس گھر سے نکل جاؤں گا

آپ سے چاہوں تُو اٹھ جاؤں گا اس بزم سے میںاُور اِک ہوں بھی کرو گے تو مچل جاؤں گا

گرچہ ہوں بے حرکت ضعف سے جوں آتش سنگپر جُو چھیڑا تُو شرر ساں میں اچھل جاؤں گا

موم ہوں میں تُو بتاں مُجھ کو نہ سمجھو آہنٹک بھی تم گرم ہوئے تُو میں پگھل جاؤں گا

غصہ ہو کر تم اگر لاکھ طرح بدلو رنگمیں وُہ یک رنگ نہیں ہوں جُو بدل جاؤں گا

بیکلی آج بھی واں لے گئی مُجھ کو تُو نظیرؔمیں نے ہر چند یہ چاہا تھا کے کل جاؤں گا


لطف تشریف جُو عشق اس کہ نے آغاز کیاہم نے تعظیم کی اور جھپ در دِل باز کیا

دیکھ کر اس کو بتاں سحر سب اپنا بھولےاس شہ حسن کہ عالم نے یہ اعجاز کیا

لطف سے جس کی طرف ایک نگہ کی اس نےاس کو سو قدر و شرف سے وہیں ممتاز کیا

جس کہ ہاں پاؤں رکھا اس نے تُو کیا کیا اس کوعالم ظاہر و باطن میں سرافراز کیا

ہم تُو کس گنتی میں ہیں حُسن نے اس کہ تُو نظیرؔہیں جُو معشوق انہیں عاشق جانباز کیا