مومن یہ اثر سیاہ مستی کا نہ ہواندیشہ کبھی بلند و پستی کا نہ ہوتوحید وجودی میں جو ہے کیفیتڈرتا ہوں کہ حیلہ خود پرستی کا نہ ہو
کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لالکس واسطے ہر گھڑی رہے ہے تو نڈھالکیا شکل پہ بن گئی ہے تیری مومنؔکیا ہو گیا تجھ کو کیوں ہے تیرا یہ حال
ہے شرم گنہ سے جاں کیسی بے تابپر ذکر جہاں ہوا، ہوا جی ہے تابیارب کہ مؤثر نہ ہو کہنا میرایارب ہے ترا بندۂ عاصی بے تاب
افسوس شکایت نہانی نہ گئیدل پر سے رقیب کی گرانی نہ گئیالطاف تھے بس کہ رو بروئے دشمناس شوخ سے بد گمانی نہ گئی