ہفت بند در مدح حضرت علیؓ
بند اول
السلام اے رازدار داور جاں آفریںالسلام اے لامکاں کے حاکم مسندنشیںذات تیری جوں خدا کی ذات ہے والاصفاتبے شریک و بے عدیل و بے نظیر و بے قریںیہ شرافت یہ سیادت یہ تقدس یہ کمالیہ تنزہ یہ تعلی یہ تفوق ہے کہیںتو ولی ہے تو وصی ہے تو علی ہے تو وہ ہےجس سے بالاتر تصور کیجیے تو کچھ نہیںکیا تعقل کیا تحمل کیا تبختر کیا وقارطفل مکتب درس گہ کا تیرے عقل اولیںسید برحق شریف النفس فخر روزگارباعث عز سپہر و موجب وقر زمیںپیشواے پیشوایاں سجدہ گاہ مومناںزینت بطحا و یثرب رونق اسلام دیںمظہر صدہا عجائب مصدر لطف و کرمزیب منبر جانشین رحمۃ للعالمیںمقصد دل آشنایاں مدعاے عاشقاںآرزوے اہل عرفاں مطلب اہل یقیںوارث دیں داور عادل شفیع روز حشرحافظ عرش بریں و حامی شرع متیںمالک ملک ولایت حاکم عالم پسندبادشاہ صاحب استقلال امیرالمومنیںعہد تیرا عدل ہے سب ملک ہے تیرا سرورمجرم و اندوہ گیں ہوں ملتفت ہونا ضرور
بند دوم
اے مرے سرمایۂ دنیا و عقبیٰ لطف کراے مرے مولا مرے صاحب ادھر بھی کر نظرلطف ترا مس سے میری کیمیاسازی کرےمکرمت یک گونہ کر یہ خاک ہوجاتی ہے زررحم پر موقوف ہیں سب کام اس ناکام کےنے مجھے کچھ مکر آوے ہے نہ مجھ میں کچھ ہنرسر فرو لانے کو جی کب چاہتا ہے سب کے پاسہے دماغ بے دماغان محبت عرش پروقت جب آتا ہے خاص اے خاص رب العالمیںمیل کلی دل کا ہوتا ہے تری جانب مگرتو نہ پہنچے داد کو تو ہائے کیا بیداد ہےگوش زد تیرے نہ ہو فریاد تو ہے بے اثروقت خوش وہ تھا مسرت بخش کتنا خلق کادیکھنے کو بھی نہ آتی تھی میسر چشم ترشاہد عدل آنکھ میلی گر کرے تو خوب رواپنی پلکوں سے سئیں عشاق کے زخم جگرکیا بیاں اب کریے شرم آتی ہے عرض حال سےقدر تیری ایسی والا حاجت اپنی کس قدراب تو وحشت ہے طبیعت میں بسان گردبادخاک بر سر زندگانی کب تلک کریے بسرآبیاری تیری یہ اور باغ سب سرسبز ہےایک شاخ آرزو اپنی نہیں لاتی ثمربارے بے برگی گراں ہے اور میں ہوں ناتواںبے نسیم فیض تیرے اس چمن میں میں کہاں
بند سوم
اے شہ خوبی نسب والاحسب عالی تبارجملہ تن عزت سراپا وقر و یکسر اعتباراللہ اللہ زور بازو قدر و قدرت دیدنیریجھنے کی جاے حشمت سیر قابل اقتدارقدس کے باشندگاں کا ناز تیری ذات پرنوع انساں کا تمامی تیرے اوپر افتخارقلع خیبر مرگ اژدر کھینچنا خورشید کاہیں فسانے زور کے تیرے جہاں میں یادگارجھک گئے گردن کشوں کے سر جہاں میں نے کہالافتیٰ الا علی لاسیف الا ذوالفقارتوکہے جاروب تھی میدان کیں کی تیری تیغجس کے نکلے نے خس و خاشاک نے گرد و غبارتونے چھیڑا ہے اگر مرکب کو اپنے کہہ کے ہاںتو ہوا ہے اس روش اس بادپیما کا گذارجوں کوئی بجلی چمک جاتی ہے گاہے پیش چشمپھر کھلے پر آنکھ کے رہ جاتے ہیں حیران کارگوشۂ محراب میں راتوں کے تیں رونے سے کامروز میداں سایۂ شمشیر میں ہنسنا شعارکیا چھپی ہے کچھ یہ شخصیت جو میں ظاہر کروںپر ترے اوصاف سے ہیں قریہ و شہر و دیارہے گہربخشی سے تیری ابر نیساں یک طرفہے کف ہمت کے آگے تیرے دریا یک کنارمہرباں ہو یک نظر اس چشم نم کی اور دیکھدیکھ مت میری طرف اپنے کرم کی اور دیکھ
بند چہارم
کیا گدا کیا شاہ دونوں تیرے در سے کامیابسجدہ گاہ خلق و عالم ہے تری عالی جنابکوئی بیگانہ تری تقلید کیوں کر کرسکےتھا تو ایسا جب پیمبرؐ کی ہوا خویشی کا بابحیف وہ بے تہ نہ رکھے جو کہ تیری دوستیاک ولا کے ضمن میں تیری ہزاروں ہیں ثوابعقل کا معقولہ تو ہے خلق کا مقبول توذات تیری فرد اعلیٰ بات تیری یک کتابتجھ سے روے بحث کس کو غیر علام الغیوباس جگہ جبریل ساکت عقل اول لاجوابجب کوئی ساقی کہیں تجھ سا بہشتی رو ملےجن کو ہے کچھ ہوش وے تیرے بنیں مست و خرابعنبریں گیسو ترے وا ہوں تو کھل جاتا ہے جیمدعی کھاتے ہیں آپ ہی آپ یوں ہی پیچ و تابتو توقع کی جگہ سب کی تجھی سے چشم داشتتو پناہ دہر و تو امیدگاہ شیخ و شابلطف بے پایاں ہے تیرا سایہ گستر خلق کاایک تابش اپنے ذرے پر بھی کر اے آفتابہے جہاں تیری سخا واں بحر و بر کا کیا شمارجب برسنے تو لگے گنتی میں آوے کب سحابشرح وسعت دامن دولت کی تیرے کیا کروںبخش دے ہے جوہر تر پھینک دے ہے لعل نابتیری ہمت تیری جرأت تیری طاقت تیرا زورتو ہی ریجھے توہی بوجھے توہی دیکھے اپنی اور
بند پنجم
اے بسان کعبہ تیرے طوف میں روحانیاںنام تیرا حاملان عرش کا ورد زباںجوش مارے فیض کا چشمہ ترا تو بحر ہےزمزم و تسنیم پھر ہیں ایک دو چقر کہاںآب شرم رشک سے تیرے ستارہ صبح کاخاک تیرے آستانے کی جبین راستاںکیا بلندی قدر کی اللہ کیا شان رفیعجس جگہ تو ہے نہیں ہرگز رہ وہم و گماںزور ایسا کاہے کو بالقوت انسان ہےبے مزہ ہو تو ملا دیوے زمیں و آسماںگرچہ عالم دیدہ حضرت خضر بھی ہیں آدمیپر نہیں ہے ان کو مطلق یاں کی صحبت کا دھیاںتجھ پہ ظل اللہ کا اطلاق شاہا راست ہےچتر ہے خورشید تیرا چرخ تیرا سائباںشیر ہونا تیرا کیا سمجھے بز اخفش ہے شیخقشعریرے میں سدا رہتا ہے یاں ببر ژیاںبس طلسمات جہاں کے سب عیاں ہیں تجھ پہ رازحاصل کون و مکاں تو واقف راز نہاںنور سے تو ماہ کامل قدر سے چرخ بریںحلم تیرا کوہ تیرا علم بحر بیکراںکیا تسلط کیا تحمل کیا تمول کیا شکوہتو جہاں ہو ایک واں گویا کہ ہیں دونوں جہاںیہ طرح پاتے ہیں تجھ میں سب رسول اللہؐ کیشبہ ہے نام خدا تو اب رسول اللہؐ کی
بند ششم
اے چراغ جملہ نور خاندان مصطفےٰاے مرے والی مرے مقصود ہم نام خداہے تو تو مخلوق لیکن عقل میں آتا نہیںدیکھ کر اندیشہ تجھ کو عرش پر جاتا رہاتو جہاں ہے اس جگہ کیا آسماں کی قدر ہےقدر تیری ہے جہاں واں گفتگو کو قدر کیاگاہ احمدؐ گہ احد گاہے علی پایا تجھےہر زماں میں ہر مکاں میں شان تھی تیری جدافرط عشق اپنے سے کیا حرف و سخن اے کام جاںتو ہماری آرزو ہے تو ہمارا مدعامطلب اپنا مقصد اپنا حاصل اپنی زیست کاعشق تیرا دوستی تیری فقط تیری ولاتجھ سے ہم خواہان مطلب تجھ سے ہم جویاے کامتوہی یاں حاجت روا ہے تو ہی یاں مشکل کشاتجھ سا حاکم تجھ سا داور تجھ سا یاور چھوڑ کرکس سے کہیے کس کنے لے جایئے پھر التجاتو ہے وارث تو ہے مالک تو ہے صاحب تجھ سے چشماپنے ہاں جو ہے سو تو اے شافع روز جزااعتقاد اپنا یہی یارب رہے ہنگام مرگہوں زبان و دل موافق جس گھڑی پہنچے قضادم بہ دم ہونٹھوں کے اوپر یاعلی ہو یاعلیہے رضامندی تو اپنی اس میں آگے جو رضاہم یہی فردوس سمجھے ہیں اسی کے تیں نجاترفتگان شوق سے بس اور کیا پوچھو ہو بات
بند ہفتم
اے امام واجب التعظیم و باب احتراماے سزاے عزت و مسجود انبوہ انامتیری قدر و منزلت ختم رسلؐ سے پوچھیےتیری قدر و منزلت میں ہے کسی کو کیا کلامتجھ رخ پرنور سے نسبت نہیں ہے بدر کوشہرگرد ایسے بہت دیکھے ہیں پھرتے ناتمامدے جہاں عرض تجمل حشمت و شوکت تریقیصر و فغفور واں ہوں بندگی میں جوں غلامجب تری زورآوری کی معرکے میں دھوم ہوسام کو تب پوچھتا ہے کون رستم ہے کدامتجھ سوا جور فلک کا کس سے بدلہ چاہیےتو ملیک مقتدر ہے تو عزیز ذی انتقامدست بستہ اقتدا ہم سے کسو کی کب ہوئیتو ہی اپنا پیشوا ہے تو ہی اپنا پیش امامگرچہ کہتا ہے زبان ہند میں یہ منقبتلیک حسان عرب سے کم نہیں کچھ میرا ناماس ادا سے گفتگو اس حسن سے طرز سخناس فصاحت سے عبارت اس بلاغت سے کلامہیں متاع نیک یاں اشعار مولاناحسنیمن مدحت سے ترے پڑھتا ہے عالم صبح و شامتو خریداری کرے ٹک بھی تو قیمت ہو دوچندیعنی ہووے جنس کاسد کا قبول خاص و عامسو خدا ناکردہ ہم چشمی نہیں کرتا فقیرآرزو ہوتی نہیں ہے غیبت ایمان میرؔ
مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
درویش جو ہیں مقصد دلخواہ کہیں ہیںسالک جو ہیں وے راہبر راہ کہیں ہیںاک واقف اسرار و دل آگاہ کہیں ہیںاک چرخ حقیقت کا تجھے ماہ کہیں ہیںکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
مذکور کہیں نام ترا کام روا ہےمشہور لقب ایک جگہ راہ نما ہےہر ایک نے کچھ حسب خرد اپنے کہا ہےسمجھا نہ کوئی یہ کہ حقیقت میں تو کیا ہےکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
من بعد نبیؐ باعث بہبود تو ہی ہےنزدیک خردمندوں کے مسجود تو ہی ہےکچھ کوئی کہو خلق سے مقصود تو ہی ہےپہنچیں جو حقیقت کو تو معبود تو ہی ہےکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
جس روز سے تو تھا نہ کوئی عرصے میں آیافتنے کو ترے شور نے تا حشر سلایابالفرض فلک سے بھی اگر ہاتھ ملایااک روز میں کر خاک برابر ہی دکھایاکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
اس بات کو جانیں ہیں سب آگاہ تہ کارایوبؑ نے جب نالہ کیا کھینچ کے آزارقدرت نے کیا حق کی ترے پردے میں اظہارصورت سے شفا کی تو ہوا آکے نمودارکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
آدم کی انابت تھی شب و روز تری اورجپتے ہیں ملک نام ترا چرخ پہ کر شورقائل ہیں ترے لے کے سلیمان سے تا موراللہ ری تری شوکت و احسنت ترا زورکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
ہستی میں ترا جلوہ ترا شور عدم میںتیرا ہی تصرف ہے حدوث اور قدم میںہوتا نہ ترا دست حمایت کا جو یم میںیونسؑ کی توقع نہ تھی ماہی کے شکم میںکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
پردے میں صدا تھی تری داؤد کا الحانشمہ تھا تری چشم کا اک نوح کا طوفانجاں بخش دم عیسوی میں تو ہی تھا پنہانتھا ہاتھ ترا معجزۂ موسی عمرانکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
یعقوب کا تھا کلبۂ احزاں میں تو غم خواریوسف کا ملک ہو کے ہوا چہ میں مددگاررحمت کا فرشتہ ہو ترے لطف نے پر مارکی آتش نمرود براہیم پہ گلزارکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
الٹا ہے دو انگشت سے دروازۂ خیبرچیرا ہے کس انداز سے گہوارے میں اژدرکیا ہاتھ تھا جس سے کہ گیا جان سے عنترظاہر ہے کہ یاں تھا وہی ظاہر وہی مظہرکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
ثانی ترا پاتے نہیں تسلیم و رضا میںایوب سے ہو صبر ترا سا نہ بلا میںمشہور سخاوت ہے تری شاہ و گدا میںتیں خود کے تئیں بخش دیا راہ خدا میںکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
اے وہ کہ تو ہے جان و جہاں سارا ہے قالبدر پر جو اکٹھے ہوں ترے سینکڑوں طالباک پل میں روا کردے تو ان سب کے مطالبہم عاجز و عاجز ہیں تو ہے غالب و غالبکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
ہے میرؔ پریشاں دل و آوارہ و مضطرکیا تیری صفت کرسکے یا حیدر صفدرہے وصف ترا حیز امکان سے باہرکہتے ہیں خردور تری قدرت کو نظر کرکیا مدح ہے یہ جو تجھے ہم شاہ کہیں ہیںسچے ہیں وہی لوگ جو اللہ کہیں ہیں
مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
چیدہ خواروں میں شہ روم ترے صبح و شامریزہ چینی سے تری بادشہ چیں کا قیامحبشی ہندی صفاہانی بخارائی تمامہیں ترے دست نگر لیجیے کس کس کا نامیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
گرسنہ چشم ترا آدم و سب اس کے خلفتو جو دعوت کرے تو آویں فرشتے صف صفدہر کا راتبہ ہے بحر ترا کشتی بہ کفمہر و مہ دیکھتے ہیں تیرے ہی ہاتھوں کی طرفیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
سایہ گستر دوجہاں کا ہے ترا لطف عمیمدے تو جنت کی نعیم اور تو ہی فوز عظیمتجھ سے مامول عطا سب تو کریم ابن کریمہووے یعقوب کہ اسحاق کہ ہو ابراہیمیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
مردمی کا تری دریا نہیں رکھتا ہے کنارایک موجے میں ترے سینکڑوں بیڑے ہوئے پارکاڑھے طوفان بلا سے تری ہمت نے پارنوح ممنون ہے یونس ہے ترا شکرگزاریا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
اہل عالم متمتع رہے ہیں تجھ سے مداممائدہ طور پہنچتا تھا ترے ہاں سے طعاممن و سلویٰ تھا فرستادہ کبھو بہر انامقول عیسیٰ بھی یہی تھا یہی موسیٰ کا کلامیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
ہے بچھا شرق سے تا غرب ترا دسترخوانجس پہ مہمان ہے ہر شام و سحر خلق جہانآسماں یاں کی گدائی سے بھرے ہے انبانماہ و خورشید کو ملتی ہیں یہاں سے دو نانیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
سر شاہان زمانہ تری خاک درگاہکج رکھیں تیرے بھروسے پہ فقیر اپنی کلاہمنھ ترا تکتے رہیں عارف و کامل آگاہتجھ سے سب پہنچے ہیں مقصود کو قصہ کوتاہیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
نام حاتم کا خنک جیسے لطیفہ مستورمعن زائد کا تری بزم میں زائد مشہوررنگ رنگ اطعمہ ہیں بذل پھر اس درجہ وفورکیا خداوندی ہے اللہ خدائی مشکوریا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
لطف ہے عام ترا سب تجھی سے پاتے ہیںتیری دولت ہے جو یہ شاہ و گدا کھاتے ہیںشکر نعمت یہ نہیں تیرا بجا لاتے ہیںاس جہاں سے بھی یہی کہتے ہوئے جاتے ہیںیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
ارض میں اور سماوات میں سب تیرا مالجس کا گھر چاہے تو کر دیوے اسے مالامالروز بہبود کا تجھ سے سر گردوں میں خیالاپنی خوبی کو زمیں رات کرے تجھ سے سوالیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
فی الحقیقت تری مہمان خلائق ہے سبتیرے دروازے سے محروم کوئی آوے ہے کبریجھنے ہی کی ہے گوں تیری مروت کا ہے ڈھبجاؤں ناکام اگر میں تو نہایت ہے عجبیا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
کاسہ لیسی تیرے مطبخ کی کریں خرد و کبیرہاتھ پھیلائے رہے آگے ترے جم غفیرظرف ہیں جن کے بڑے سب وے یہیں کے ہیں فقیرآدم و جن و ملک شاہ و گدا میر و وزیریا علی کیست کہ شرمندۂ احسان تو نیستبر سر خوان کرم کیست کہ مہمان تو نیست
مسدس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
جاتی ہے شب تارے گنتے دن کو پھرتا ہوں خرابکب تلک اس خاکداں میں جوں بگولا پیچ و تابدل تڑپتا ہے جدا جی کو جدا ہے اضطرابہر گھڑی تازہ تعب ہر دم نیا ہے اک عذابیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
اب گرا جاتا ہوں چشم خلق سے لے ٹک سنبھالدیکھ مت اس سے زیادہ خوار و زار و خستہ حالمرحمت کر مکرمت کر رنج سے مجھ کو نکالکب تلک محزوں رہوں میں تا کجا کھینچوں ملالیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
کیا لکھے اعجاز تیرے خامۂ جادوشعارتو وہی ہے ایک لیکن نام تیرے ہیں ہزاروقت جب ہوتا ہے تنگ اے قدرت پروردگارنام لے لے کر ترے کہتا ہے ہر اک یوں پکاریا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
حاجت اہل جہاں وابستہ تجھ سے ہے مدامسہل ہیں یاں مشکلیں آساں ہیں یاں دشوار کامعارف و عامی سبھوں کا ہے وظیفہ تیرا نامزیر لب ہر اک کے رہتا ہے یہی ہر صبح و شامیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
تنگ ہے عرصہ نہایت دم رکا جاتا ہے آہیاں سے جانا بھی نہیں آتا ہے بن اے خضر راہلیتے ہیں آنکھیں چھپائے جن پہ جاتی ہے نگاہآستاں بن تیرے دکھلائی نہیں دیتی پناہیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
حرف زن ہوتا ہوں جب میں تنگی احوال سےصفحہ صفحہ درد کرتا ہے تراوش قال سےلطف بن تیرے چھڑاوے کون اس جنجال سےآئی ہے سر پر قیامت شامت اعمال سےیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
آسمان بے تمیز و بے تہ و دشمن کمالدوستی کے پردے میں کرتا ہے مجھ کو پائمالیعنی سر سہلا کے بھیجا کھا گیا یکسر نکالاب تلک جیتے تو ہیں پر زندگانی ہے وبالیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
خاک سے یکساں ہوا ہوں ہو کرم سے دستیارہوں گدا تجھ آستاں کا کر ٹک اک امداد کاردل کو میرے جس گھڑی ہوتا ہے شاہا اضطراربار بار آوے ہے منھ پر اس گھڑی بے اختیاریا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
سارے عالم سے کرے ہے کج روی چرخ نژندقافیہ ہے تنگ ازبس امن کی راہیں ہیں بندغم فروکن کچھ نہیں میرا ہے یہ شعر بلندپڑھتے ہیں سب شیخ و شاب و ناتوان و دردمندیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
غالباً پہنچے بہم اب میرؔ کو بھی برگ و سازآبلہ یک بن گیا ہے جملہ تن ہو کر گدازشام کہتا ہے یہی رکھ خاک پر روے نیازصبح پڑھتا ہے یہی جاے دعا بعد از نمازیا علی یا ایلیا یا بوالحسن یا بوترابحل مشکل سرور دیں شافع یوم الحساب
مخمس در مدح حضرت علیؓ
اے مرتفع نشین علی العرش استواوے غیر ماسواے خدا خویش مصطفےٰؐتو تھا کہ تونے دوش نبی پر قدم رکھابت توڑ توڑ شرک کی صورت دی سب مٹالایا بہ زور عرصے میں یکتائی خدا
رکھتے ہیں تجھ سے چشم کرم صاحب نظرافضل ہوئی سبب سے ترے خلقت بشرتو مجمع کمال ہے تو مصدر ہنرہے مورد قبول دعا تیرے گھر کا درہے مولد شریف ترا خانۂ خدا
ہر مو زبان ہو تو کریں وصف ہم تراکرتا رہا ہمیشہ مسیحائی دم ترارونق ہوئی جہاں میں جو آیا قدم ترابرپا نہ ہووے روز جزا گر علم تراخورشید حشر سائے میں کس کے ہو پھر کھڑا
تو وہ ہے نام لیتے ترا بھیجئے درودگذرے اگر تو دل میں تو کر بیٹھیے سجودشخص کرم کی وقت دہش تیرے کیا نمودتو گرم جود ہووے تو پھر کیا بھلا ہے جودتیری سخا کے روبرو کیا چیز ہے سخا
آگہ ہیں تیری قدر سے کاہے کو بے تہاںجانیں ہیں فخر یاں کی گدائی کے تیں شہاںتجھ سا کریم عرصے میں آفاق کے کہاںہے در ترا وہ کان عطا و کرم جہاںہوتی ہے سیر آن کے حرص شہ و گدا
مقدور والے عہد کے گھٹتی سہا کیےافسانے تیرے جود کے مردم کہا کیےدریا گہر کے ہاتھ سے تیرے بہا کیےاحساں پہ تیرے سینکڑوں احساں رہا کیےہمت نے تیری ہمت عالی سے کچھ لیا
دکھلاوے چند چرخ نشیب و فراز کوپیوند کر زمیں کا غم جاں گداز کوکر ناز ایک لطف سے میرے نیاز کوتو وہ امام ہے کہ جب آوے نماز کوپیشینیاں تمام کریں تجھ سے اقتدا
ہر اک کو اس تقدس ذاتی سے کیا خبرپہنچانیں تجھ کو کیونکے عزیزان بے بصرنے تصفیہ دلوں کو نہ باریکی نظرپر علم ہورہے گا کہ تھا حق ہی جلوہ گرپردہ یہ بیچ سے بشریت کا جب اٹھا
جاگہ ہر ایک دل میں تری ہی ولا کی تھیتیرا ظہور آرزو ارض و سما کی تھیتجھ سے شہان عہد کو نسبت گدا کی تھیقدرت جو دیکھی تیری سو قدرت خدا کی تھیگر آسماں حریف ہوا خاک میں ملا
زورآوری جہاں میں تری داستاں ہوئیعرصے کے پہلوانوں کی قدرت عیاں ہوئیکتنوں کی جان سامنے تیرے رواں ہوئیکتنوں کی دور بیٹھے ہی خاطرنشاں ہوئیسیسر تری کماں کی نہ کوئی اٹھا سکا
فرضاً ہوا غلام سے تیرے اگر بگاڑدشمن سب آئے سامنے ہر ایک جوں پہاڑمارا نہ ایک دو ہی کو میدان میں پچھاڑجس کی کمر میں ہاتھ چلایا لیا اکھاڑجس کی طرف کو آن جھکا پھر جھکا دیا
آیا ڈپٹ کے گھوڑے کو جس وقت بھیڑ چیرخرگوش تھے بہیر کے گویا جوان و پیرسرگرم رزم جب کہ ہوا کہہ کے گیر گیراس کی کماں کے ساتھ تھا پیغام مرگ تیرتلوار اس کے ہاتھ میں تھا نامۂ فنا
بہتیرے کوہ و دشت کو بھاگے کڈھب گئےبہتیرے زخم تن پہ اٹھا جاں بلب گئےتھے برج سے جوان سو ہیبت سے دب گئےجوڑا ادھر سے تیر ادھر سہم سب گئےچمکی ادھر سے تیغ ادھر سر ہوا جدا
ہے کون دادرس جو کہوں دل کے اس سے بھیدجور فلک سے چھاتی میں سب پڑ گئے ہیں چھیدامید ہے کہ پہنچے ترے لطف کی نویدکم بخت بھی پھرا نہ ترے در سے ناامیدازبسکہ وقف کرتے ہیں واں طالع رسا
ہر شب یہ دل خفا ہے یونہیں عمر ہوگئیہر روز اک جفا ہے یونہیں عمر ہوگئیجی پر غرض بلا ہے یونہیں عمر ہوگئیہر شام غم غذا ہے یونہیں عمر ہوگئیہر صبح خون دل ہے مجھے آب ناشتا
آشفتہ کوہ و دشت میں مدت پھرا ہوں میںآوارہ گرد بادیۂ ابتلا ہوں میںجوں گردباد خاک میں یکسر ملا ہوں میںیعنی برہنگی سے تو ٹک بچ رہا ہوں میںتہ گرد کی جو بیٹھے ہے تن پر سو ہے قبا
اس شہر میں ہوں دیر سے آوارہ بے وطنمرنا بنا نہ اس سے کہ پیدا نہ تھا کفنالقصہ حال بد سے کروں تاکجا سخناحوال میرؔ تجھ پہ ہویدا ہے من و عناظہار اس پہ ہے یہ طبیعت کا مقتضا
ہوں مبتلاے رنج و بلا سینہ چاک ہوںپھوڑا سا پک رہا ہوں سبھی دردناک ہوںدور آستاں سے تیرے کہاں تک ہلاک ہوںیہ جی میں آرزو ہے کہ جب مر کے خاک ہوںلاوے نجف کی اور اڑاتی ہوئی صبا
امداد کر کہ پہنچوں ترے آستاں تلکلے جاوے اشتیاق مجھے کھینچ واں تلکہر در پہ اضطراب پھراوے کہاں تلکیوں اتفاق ہوکہ کروں صرف جاں تلکمقصد یہی ہے دل کا یہی جی کا مدعا
یوں کشتہ چند مرتبہ و جاہ کا رہوںکب تک ہلاک مطلب دلخواہ کا رہوںجی چاہتا ہے خاک ہو اس راہ کا رہوںپامال تیرے زائر درگاہ کا رہوںتاج شرف ہو سر پہ مرے عاقبت کو تا
بے اختیار روؤں ہوں ہر صبح اور شامیعنی کہ شوق در کا ترے دل کو ہے تماممقصد اسی کو جانوں ہوں سمجھا یہی ہوں کاماے جدپاک حضرت موسیٰ رضا اماماپنی تو آرزو ہے یہ آگے تری رضا
مخمس در مدح حضرت علیؓ
زور و ثبات و تاب و تواں مرتضےٰ علیامیدگاہ خرد و کلاں مرتضےٰ علیمقصود خلق و خواہش جاں مرتضےٰ علیذکر روان و ورد زباں مرتضےٰ علیجو کچھ کہو سو اپنے ہیں ہاں مرتضےٰ علی
اس کی ولا ہے باعث بہبود کائناتاس کی ولا ہی شرط پڑی ہے پئے نجاتکیا کیا نمود کرتے ہیں اتنے عجائباتوا ہو جو چشم دل تو تماشا ہے اس کی ذاتیکتاے عرصۂ دوجہاں مرتضےٰ علی
ہرچند کام ایسی جگہ کیا کرے سمجھاس راز کو سمجھ جو سکے تو ارے سمجھیعنی نہ ذات پاک سے اتنا ورے سمجھعقل نخست سے بھی اسے کچھ پرے سمجھہے آں سوے خیال و گماں مرتضےٰ علی
موجود اس کے ہونے سے روشن جہاں ہوااس پردے میں جو تھا پس پردہ عیاں ہوافرمان شاہ بحروبر ان پر رواں ہواپیر زمانہ دیدۂ عالم جواں ہواچشم و چراغ کون و مکاں مرتضےٰ علی
شخصیت ایسی کس کی تھی کس کو تھا یہ شرفاس قدر سے تھا کون بغیر از شہ نجفاللہ رے زور کوئی نہ اس کا ہوا طرفدریاے موج خیز تھا اس کے کرم کا کفابن عم رسول زماں مرتضےٰ علی
ہرچند ہے یہ عرصہ ہمیشہ سے پرغباریاران رفتہ کے بھی تردد ہیں یادگارلیکن کہاں یہ حربے کہاں ایسے مردکارنکلی نہ ویسی تیغ کہ جیسی تھی ذوالفقاردیکھا نہ تھا وہ جیسا جواں مرتضےٰ علی
پامال راہ اس کے ہیں سرہاے پرغرورنزدیک اہل عقل کے رتبہ ہے اس کا دورشائستۂ سجود سمجھتے ہیں ذی شعورہے جملہ تن منزہ و سر تا قدم ہے نوراس بے نشاں سے دے ہے نشاں مرتضےٰ علی
آیا ہے یہ جو شاہد غیبی شہود میںلایا ہے اس کو شوق ہی اس کا وجود میںانداز کیسے کیسے ہیں اس کی نمود میںگہ سر فرو نہ لاوے گہے ہو سجود میںہے خلوتی راز نہاں مرتضےٰ علی
کب گفتگو انھوں سے ہے جن میں ہے بے تہیکاہے کو اس طریق پہ ہیں محو گمرہیختم رسلؐ کو قدر سے ہے اس کی آگہیقربان اس کے در کے گدا پر سے کی شہیخورشید چرخ عزت و شاں مرتضےٰ علی
بارے چھپا ہو کوئی تو اس کو جتایئےجو بے بصر ہیں ان کے تئیں کچھ سجھایئےخورشید کو اشاروں سے کب تک بتایئےروشن ہیں سب پہ باتیں عبث کیا بنایئےحاجت نہیں بیاں ہے عیاں مرتضےٰ علی
وہ جانے جس کو اور کسو سے کچھ ہووے کامشام و سحر یہاں تو وظیفہ اسی کا ناممیلان دل ہے میرؔ غرض اس طرف تمامسرمایہ دوجہاں کا ہے اپنا یہی امامیاں مرتضےٰ علی ہے وہاں مرتضےٰ علی
مخمس در مدح حضرت علیؓ
یاعلی شاہ اولیا ہے تومحرم راز اِنّما ہے توزور بازوے مصطفےٰؐ ہے تومظہر قدرت خدا ہے توعلم کس کو ہے یہ کہ کیا ہے تو
گرچہ آخر کیا ہے تونے ظہورپر ترے قرب کا ہے رتبہ دورہے تو اللہ کا مجسم نورجانے ہیں جن کو کچھ ہے عقل و شعوراگلے پچھلوں کا پیشوا ہے تو
تیرے پردے میں حق ہوا موجودتجھ سے کیا کیا عجب ہوئے مشہودجانتے ہیں تجھی کو سب معبودتھا زمین و زماں سے تو مقصودآرزو تو ہے مدعا ہے تو
اس زمانے میں آہ دکھ ہے عظیمہے مری جان پر عذالب الیممستحق کرم ہوں میں تو کریمملتفت ہو بہت ہے حال سقیممیرے ہر درد کی دوا ہے تو
فرصت وقت جوں حباب ہے کمحال مانند موج ہے درہمڈوب جاتا ہے جی مرا ہردمجوش زن گوکہ ہو محیط غمغم نہیں کچھ جو آشنا ہے تو
تجھ سے ظاہر ہوئے چھپے سب بھیدجلوہ تیرے ظہور کا جاویدذرے ذرے کو تجھ سے ہے امیددن ہے طالع ہوا جہاں خورشیدسب پہ روشن ہے کیا چھپا ہے تو
میرؔ کو کب تلک یہ رنج و غماس بھی اندوہ گیں کو کر خرممنبسط ہے ترا سحاب کرمیعنی سائے میں ہے ترے عالمسارے عالم میں چھا رہا ہے تو
مخمس در مدح حضرت علیؓ
ہے حقیقت سے تو اگر آگہیاد میں روز و شب علی کی رہکعبہ اس کا ہی در ہے اے ابلہمیرے مولا کی ذات پاک ہے وہجس کو کہتے ہیں لا شریک لہ
اک تلطف میں خاک ساری زراک توجہ میں قطرہ آب گہراک نظر میں نہال خشک ہو تراک سخن میں تمام یہ بہتراعرج و اعمیٰ ابرص و اکمہ
ہاتھ پکڑے دم مصائب یہیار ہووے گہ نوائب یہہے غرض مظہر عجائب یہمستقل ہے نبیؐ کا نائب یہجو کہے سو یہ کچھ کرے سو یہ
ہر نفس لب پہ گفتگو اس کیہر زماں جی کو جستجو اس کیپوچھ مت کچھ ولا سے تو اس کیخواہش اس کی ہے آرزو اس کیمطلب و مدعا و مقصد وہ
شان ارفع تری فلک کردارایک ہے تو برابر دو ہزاراللہ اللہ ترا ثبات و قرارحلم سے تیرے کہتے تھے کہسارسن کے کبک دری ہنسے قہ قہ
دیکھے سب لوگ پھر کے چاروں دانگمردمی یاں کی ہے عجائب سوانگشخص ہمت کے ان کے ہاتھ نہ مانگمانگے ہے تو جو کچھ خدا سے مانگجو کہے ہے سو تو علی سے کہہ
شاد اس نام سے جو خوگر ہےاسم اعظم یہی مقرر ہےانس کرنا اسی سے بہتر ہےیہی جنت یہی تو کوثر ہےاس میں تو پھر بگاہ یا بیگہ
خلق سب دیکھے اس کے ہاتھ کی اورلے سلیماں سے مفتقر تا مورکف ہمت کی اس کے دھوم ہے زورظرف ہوتا تو یوں نہ کرتے شوربحر و عماں نکل گئے بے تہ
ہے وہ امیدگاہ خلق خداروز محشر اسی سے سب کو رجاوہ مروت شعار و جملہ حیابحر ذخار جود و کان عطااس سے نفع گدا تمتع شہ
مرتبہ کچھ نہ پوچھو اس گھر کابندگی یاں کی فخر قیصر کاشاہ چیں پیش دست قنبر کاآسماں ہے گدا اسی در کادیکھتے ہیں ادھر ہی مہر و مہ
اس کی ہمت اسی کو بن آوےدولت اس کی جہان سب کھاوےبار اس در پہ جو گدا پاوےایک آواز کرکے لے جاوےمال و اسباب و ملک و تاج و کلہ
میرؔ عازم ہوئے ہو کیدھر کےجو تلاشی ہو یار و یاور کےرہگرے دوستی حیدر کےنہیں محتاج ہوتے رہبر کےہے اسی راہ میں خدا ہمرہ
مخمس در مدح حضرت علیؓ
اے نائب مصاحب ذی القوۃ المتیںوے دست زور خلوتی قدرت آستیںچاہے تو ایک کردے ابھی آسماں زمیںٹھوکر لگے تری تو اڑے کوہ آہنیںپایا نہ جائے جیسے پر کاہ پھر کہیں
تو ہے کہ تیری قدر نہ آئے بیان میںقدرت تری نہ گذرے کسو کے گمان میںشانیں ہزار قسم ہیں اک تیری شان میںشہرت ہے تیرے زور کی دونوں جہان میںنکلا نہ شہربند عدم سے ترا قریں
غیب و شہود دونوں میں مشہود ہے تو توہستی ہماری وہم ہے موجود ہے تو توحاصل کہ دوجہان کا مقصود ہے تو تومسجود تجھ کو جانے ہیں معبود ہے تو توناجی ہیں وے ہی لوگ جنھوں کا ہے یہ یقیں
احوال خوش انھوں کا جنھیں تجھ سے ہے ولااعدا تو آسماں نے دیے خاک میں ملاآئینہ ہے کہ دین کو تجھ سے ہوئی جلابرپا وہی رہے گا جو تجھ تک ہے سلسلہیاروں نے جتنی رسمیں بٹھائیں تھیں اٹھ چلیں
فتنے کو تیرے عہد میں سوتے گذر گئیآشوب کی خطر سے ترے سدھ بسر گئیآفت کہاں کہ کب کی کنارہ بھی کر گئیآوازہ تیرا سن کے بلا جیسے مر گئییوں مٹ گئے فساد کہ مذکور بھی نہیں
داور ہوا جو تو تو ملی بیکسوں کی دادتلوار مارنے سے ترے مٹ گئے فساداٹھے نہ گرد زندقہ و کفر پر عنادزنار ٹوٹے مہرے جلے بت گئے بہ بادبرہم ہوئے گھڑی میں ہزاروں برس کے دیں
ہنگامے گرم یاروں کے سب سرد ہوگئےچہرے منافقوں کے ووہیں زرد ہوگئےسر در نقاب خاک بڑے مرد ہوگئےجن سے تھا پر غبار جہاں گرد ہوگئےگلوں میں بکریوں کے چھٹے شیر خشمگیں
بھاگے پھرے پلنگ نمر ہانپنے لگےروکش جو ہونے کو تھے سو منھ ڈھانپنے لگےرستم ہو بے حواس زمیں ناپنے لگےہلنے لگے پہاڑ فلک کانپنے لگےرکھا گیا جو پیٹھ پہ مرکب کے تیرے زیں
تلوار تیری برق تھی آنکھیں جھپک گئیںگھوڑوں کی باگیں ہاتھ سے سب کے اچک گئیںبھاگیں جو اضطرار سے فوجیں بہک گئیںلاشوں کی سیر کرتے ہوئے آنکھیں تھک گئیںلوہو کی ہر چہار طرف ندیاں بہیں
نعرہ کیا ہے تو جو کبھو ہاتھ جھاڑ کرنکلا ہے پردہ گوش فلک کا بھی پھاڑ کرقوت جو تونے کی ہے کبھو پاؤں گاڑ کرکوہ گراں کو پھینک دیا ہے اکھاڑ کرپہنچا ہے ملک قدس تلک شور آفریں
رکھتا ہے پائمال حوادث یہ آسماںجاگہ نہیں رہی کہ کریں داد جا کے واںہو دستگیر لطف ترا تو ملے اماںتیری طرف نہ آویں تو پھر جاویں ہم کہاںاے عرش تخت دادگر لامکاں مکیں
تو ہے کہ تجھ کو کہتے ہیں حلال مشکلاتتو ہے کہ حلقہ زن ہے ترے در پہ کائناتتو ہے کہ تجھ سے دید میں آئے عجائباتاحسنت تیری قدرت و رحمت ترا ثباتآگے سے تیرے سینکڑوں بھیڑیں سرک گئیں
قدغن ہوا جو رفع کا بدعت کی ایک بارپردوں میں مطربوں نے رکھے دف طمانچے مارنغمہ یہ سن کے یاروں نے چھیڑا کبھو نہ تارنالہ ہوا نہ بلبل طنبور سے دوچارآواز نے کی بند ہوئی ہوگئی حزیں
تردامنوں کے دیکھے تو لب خشک ہوگئےاحوال میکدہ پہ بہت ابر رو گئےمعتاد مے جنھوں کی تھی سب جان کھو گئےمخمور کھینچ کھینچ کے خمیازہ سو گئےکیا کیا خرابیاں نہ خرابات پر رہیں
لا شکل اس کی دل میں وہی مصطفےٰ کو دیکھاس رخ کا کر تصور نور خدا کو دیکھرنگینی جمالت شاہ ولا کو دیکھنرگس نے غش کیا تھا کہیں اس ادا کو دیکھگلشن میں دلبروں کی نہ پھر انکھڑیاں ملیں
عاجزنوازی تیری سے ہو مشت خاک زربرسے گدا پہ ابر کرم سے ترے گہرجور فلک نے سیر کیا جی سے رحم کرمہماں ترے سماط پہ ہے خلق ہر سحرحاتم یک آشمال ہے یاں معن ریزہ چیں
جس دل کو ہو نہ شوق ترا ہوجیو گدازجس چشم کو نہ میل ہو تیرا نہ ہوجو بازجو سر ترا خیال رکھے رہیو بے نیازسجدے سے تیرے در کے جو ہوتی ہو سرفرازمسجود ہوجو صبح سعادت کی وہ جبیں
اہل نظر سے دیکھنا اودھر کا ہے عجبآنکھوں سے تیری رہ نہ چلے واقف ادبکس کو تھی یہ بزرگی و کس کا تھا یہ حسبیہ قدر تھی تری مرے مولا ہوا تو جبرونق فزاے کعبہ محمدؐ کا جانشیں
کیا کہیے تیرے قرب سے اے سایۂ الٰہبے دانشی سے کچھ کہے کوئی دروں سیاہاپنی تو تجھ پہ پڑتی ہے جا کر وہیں نگاہفہم و گمان و وہم کو جس جا نہیں ہے راہہے چشم شوق عینک شفاف دوربیں
جس کو نہیں ہے تیری محبت کا کچھ خیالافسوس اس کی زندگی و واے اس کا حالیاں اس کے سر وبال ہے واں رنج یا نکالتجھ سے نہ رکھے بندگی ہے کفر اور ضلالتیری ولا ہے داخل ایمان مومنیں
میرؔ شکستہ حال نہایت ہے تنگ ابشوریدہ سر سے مارے ہے لے لے کے سنگ ابہر آن اس کو آپ سے رہتی ہے جنگ ابدست تہی سے خلق جہاں کا ہے ننگ ابخوش مت کر آہ اس سے زیادہ نہ کر غمیں
افسوس ہے مدیح ترا اتنا خستہ حالہر لحظہ اک عذاب نیا ہردم اک وبالتھے اس چمن میں جو روش سبزہ پائمالیک دم میں تیرے ابر کرم نے کیے نہالبرسے انھوں پہ اوس کی جاگہ در ثمیں
مخمس در مدح حضرت علیؓ
ہراس روز محشر کیا محمد مصطفےٰؐ بس ہےکرم خصلت وفاسیرت علی مرتضےٰ بس ہےشفیع جرم سوز سینۂ خیرالنسا بس ہےنہ ٹکڑے دل کے کر مسموم امام مجتبےٰ بس ہےلہو مت رو شہید تشنہ کام کربلا بس ہے
رکھے کوئی توقع تو رکھے آل پیمبر سےطلب ہووے کسی کو کچھ تو ہو اولاد حیدر سےامانت چاہنا پھر لطف ہے یاران دیگر سےدل اپنا جمع کر دور قمر کے شور اور شر سےبہت ہے گرچہ ہنگامہ ولے زین العبا بس ہے
ولا باقر کی فرض عین ہے حیدرپرستی میںجپا کر نام کو اس کے تو ہشیاری و مستی میںغرض رہ محو اس کا دشت میں ہو تو کہ بستی میںعجب ہے نونہال اک سایہ دار اس باغ ہستی میںکرم اس کا پئے ہر شخص بے برگ و نوا بس ہے
محبت چاہیے صادق جناب پاک جعفر میںاسی کا شوق دل میں ہو اسی کا شور ہو سر میںوہی یاں بھی نشاں ہے تھا جو کچھ ساقی کوثر میںعنایت کی اسی سے چشم رکھ آشوب محشر میںبلا صد رنگ ہووے کیوں نہ ایک اس کی ولا بس ہے
رکھے کاظم کو جو سر پر غم و غصہ سے کیا اس کونہ دیکھے یہ امام دیں بلا میں مبتلا اس کوبیک چشمک زدن حاصل ہو ایسا مرتبہ اس کوکہ رکھے کفش جس کے سر پہ دیکھو بادشا اس کوتوجہ گونہ اے مولا پئے ہر مدعا بس ہے
جسے اے مجلس آرایان دیں بہرہ ہے ایماں سےاسے اک بندگی خاص ہے شاہ خراساں سےنگہ کی چشم سے آتی ہے خلق ایران و توراں سےگذر جاتے ہیں اس کے نام پر جنس خوش جاں سےجو سودا اس سے بن جائے تو ہو راضی رضا بس ہے
جو وہ دن ہو کہ نکلے آفتاب اس روز پچھم سےموکل درمیاں لاویں سخن جنت جہنم سےکریں پرسش بد و نیک عمل کی خلق عالم سےمخاطب ہم کسو سے ہوں نہ یارب نے کوئی ہم سےتقی متقی ہم کو امام اتقیا بس ہے
تقی پاک کا آکر علم جس وقت برپا ہوالٰہی ہم سیہ کاروں کی اس کے سائے میں جا ہووہ حامی لطف سے ہو تو کچھ اپنا کام اچھا ہووگرنہ زشتی اعمال سے کیا جانیے کیا ہوووں ہی ہووے تو بس کیا اور یوں ہووے تو کیا بس ہے
نہ ہو لشکرکشی سے غم کی اے دل اس قدر درہمکرے گا عسکری انبوہ اس اندوہ کا برہمعدو مجروح ہے اس کا احبا کا ہے وہ مرہمرہیں گے ناامید رستگاری اس سے کیونکر ہموسیلہ ہم گنہگاروں کا وہ روز جزا بس ہے
اگرچہ اشک آنکھوں میں لبوں پر آہ رہتے ہیںولے مستغنیانہ ہرگہ و بے گاہ رہتے ہیںکبھو ہیں شہر میں جاکر کبھو درگاہ رہتے ہیںکرم پر مہدی ہادی کے ہم گمراہ رہتے ہیںہمیں اس وادی پرخوف میں وہ رہنما بس ہے
کہاں تک بت پرستی میں جفا و جور کا سہناکہاں تک آنکھ سے رخسار پر ہر دم لہو بہناکہن سالی میں کس کا چاہیے ہے ہم کو کچھ کہنادیے قشقہ صنم خانے میں کب تک روز و شب رہناگیا وقت ہوس کعبہ کو چلیے اب خدا بس ہے
نہیں مشتاق ہم کچھ مال کے اسباب کے زر کےنہ اچھے فرش کے طالب نہ پاکیزہ کسو گھر کےتجھے درویش سب کہتے ہیں لوگ ایدھر کے اودھر کےہمارا حشر ہووے مر گئے پر ساتھ حیدر کےیہی کہہ میرؔ تو بھی حق میں اپنے یہ دعا بس ہے
مخمس در مدح حضرت علیؓ
ہادی علی رفیق علی رہنما علییاور علی ممدّ علی آشنا علیمرشد علی کفیل علی پیشوا علیمقصد علی مراد علی مدعا علیجو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضےٰ علی
نور یقیں علی سے ہمیں اقتباس ہےایمان کی علی کی ولا پر اساس ہےیوم التناد میں بھی علی ہی کی آس ہےبے گاہ و گاہ ناد علی اپنے پاس ہےقبلہ علی امام علی مقتدا علی
دیوانگان شوق کا مت پوچھو معتقدفہم اس کا تب ہو روح قدس جب کرے مددظاہر اس ایک شان سے شانیں ہیں لاتعدگہ احمد اس کو کہتے ہیں گاہے اسے احدشایان حمد و قابل صل علیٰ علی
نے شہ سے کچھ غرض ہے ہمیں نے وزیر سےنے اعتقاد شیخ سے نے کچھ فقیر سےرکھتے نہیں ہیں کام صغیر و کبیر سےہے لاگ اپنے جی کو اسی اک امیر سےمولا علی وکیل علی بادشا علی
پہنچے ہے تیرے ہاتھ تلک کب کسو کا دستکیا سمجھے شیخ حال کو فطرت ہے اس کی پستہوں جوں نصیری ساقی کوثر کا محو و مستمسکن علی نگر ہے مرا میں علی پرستپیغمبر اس جگہ کا علی ہے خدا علی
شیوہ اگرچہ اپنا نہ یہ وعظ و پند ہےپر اس کو سن رکھ اے کہ تو کچھ دردمند ہےکیا ہے جو عرصہ تنگ ہوا کام بند ہےدل جمع کر کہ ہمت مولیٰ بلند ہےیعنی کرم شعار ہے مشکل کشا علی
اپنی بساط تو ہے علی ہے وہی علیمکس طور جیتے رہتے نہ ہوتا جو وہ کریمدیکھیں ہیں اس کی اور جو ہم ہوتے ہیں سقیمیاں کا وہی ہے شافی و کافی وہی حکیمعارض ہو کوئی درد ہمیں ہے دوا علی
ہے دوستی علی کی تمناے کائناتبے لطف اس بغیر ہے کیا موت کیا حیاتیعنی کہ ذات پاک ہے اس کی خدا کی ذاتکیا ان موالیوں کے تئیں ہے غم نجاتمرتے ہوئے جنھوں کے دلوں میں رہا علی
یہ کس طرح سے راز کہوں میں زبان سےحالات اس روش کے پرے ہیں بیان سےیک شب نبیؐ جو نکلے زمان و مکان سےذات مبارک آئی نظر اور شان سےتھا بزم لامکاں میں بھی رونق فزا علی
خواہش مدد کی غیر سے یہ ہے خیال خامکرتا ہے کب قبول اسے عاقل تمامکافی ہے دوجہان میں مولا کا میرے ناملاریب اس پہ آتش دوزخ ہوئی حراماک بار بھی زبان سے جن نے کہا علی
سر تا قدم ثبات دل و جملگی ادبصورت پکڑ کے سامنے آیا تھا لطف ربظاہر ہوئے ظہور جہاں میں عجب عجبمحراب میں نہ گرم بکا تھا کدام شبہنستا رہا نہ کون سے روز غزا علی
عنتر کو نار خشم نے اس کی جلا دیااژدر کو چیر ایک ہی دم میں کھپا دیاخورشید کو نکال دوبارہ دکھا دیاہنگامہ کفر و شرک کا آکر مٹا دیاتھا جانشین ختم رسلؐ کا بجا علی
گو چشم دل کھلے نہ کسی روسیاہ کیاس تک مجال کب ہے کسو کی نگاہ کیاللہ ری بلندی تری قدر و جاہ کیمرمر کے جبرئیل نے درباں سے راہ کیشاہا ملک سپاہ جہان صفا علی
دشمن کو آگہی ہے کماینبغی کہاںقدرت سے اس کی قدرت حق ہوتی ہے عیاںزورآوری مزاج میں آوے تو الاماںکچھ بھی نہیں ہے پھر یہ جو سب کچھ ہے درمیاںارض و سما کے دیوے قلابے ملا علی
دی تیغ ایسی کس کو کہ جیسی ہو ذوالفقارمرکب کہاں ہیں اس کے سے ویسے کہاں سوارگذرے ہیں گرچہ مردم خوب آگے بھی ہزارپر یہ شرف خدا کی طرف سے ہے یہ وقارخلقت تو دیکھ کعبے میں پیدا ہوا علی
تھی حق کے ہاں سے احمد مرسلؐ کو سروریکہتی تھی ساری خلق خدا کی اسے ولینسبت بغیر ہوتے ہیں یہ اتحاد بھیلطف و سخا و ہمت و حلم و حیا نبیؐجود و سخا و جرأت و مہر و وفا علی
نزدیک سب کے اس کو ہے درجہ قبول کاایک عندیہ ہے سید و شیخ و مغول کاکب معتبر ہے حرف کسو بوالفضول کاباطن علی ہے ظاہر خوب رسولؐ کاخاک اس کے فرق پر جو کہے تھا جدا علی
ہر فرد کی زباں پہ علی کی ہے گفتگوہر شخص کے تئیں ہے علی ہی کی جستجوعالم کو ہے علی کی تولا سے آرزواپنا ہی کچھ علی کی طرف کو نہیں ہے رومقصود خلق و مطلب ارض و سما علی
اک شوق ہے علی کا مرے قلب میں نہاںشاید یہی نجات کا باعث بھی ہو وہاںاب زیر لب ہے زیست میں جو میرؔ ہر زماںاس وقت میں کہ جان ہو یک دم کی میہماںامید ہے کہ یوں ہی لبوں پر ہو یا علی
مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
عقل ہے تو مرا کہا کر تومحو یاد علی رہا کر تویک طرح یہ بھی ہے رہا کر تواشک رخسار پر بہا کر تویا علی یا علی کہا کر تو
نہیں ورد و وظیفہ کچھ درکارسبحہ گردانی سے کر استغفاراس کو جپنا ہے عاقلوں کا شعارچپکے چپکے ہو یا پکار پکاریا علی یا علی کہا کر تو
متفق اس پہ ہیں خواص و عوامکہ ولا اس کی معرفت ہے تمامہو نماز سحر کہ طاعت شامسر فرو کر پس از درود و سلامیا علی یا علی کہا کر تو
لحظہ لحظہ جدا ہے اس کی شاناس کی عادت مروت و احساندوستی اس کی عین ہے ایمانچلے جب تک زباں غنیمت جانیا علی یا علی کہا کر تو
ایسے مظہر کا فہم ہے دشوارہے یہ وہ ایک جس کے نام ہزارگرم تسبیح اس کے ہیں ابراراللہ اللہ کی جا بھی سو سو باریا علی یا علی کہا کر تو
وہی احیاکن عظام رمیموہی رحماں وہی رؤف و رحیمدم بخشش وہی رسول کریمگہ جرأت وہی علی عظیمیا علی یا علی کہا کر تو
جور انواع دشمنوں کے سہپر نہ کر یار گفتگو بے تہدوستی میں علی کی بیخود رہبات یہ ہے گی اور کچھ مت کہہیا علی یا علی کہا کر تو
اسم یہ ایک جو مکرم ہےسب کے نزدیک اسم اعظم ہےیہ سب اوراد پر مقدم ہےغرض اے ہم نشیں جو آدم ہےیا علی یا علی کہا کر تو
رہ ولاے علی کا خواہش مندہے یہ شیوہ خدا رسول پسنددب کے ہرگز نہ رکھ زباں کو بندپست کرنے کو مدعی کے بلندیا علی یا علی کہا کر تو
بدرآسا علی تمام ہے نورذات پاک اس کی ہے علیم صدوربھول مت اس کو گر تجھے ہے شعوریاد خاطر رہے ضرور ضروریا علی یا علی کہا کر تو
سونپ رکھ اس کو اپنی موت و حیاترحمت صرف ہے علی کی ذاتبس ہے اس کی ولا براے نجاتباتیں یوں سو ہیں پر یہی ہے باتیا علی یا علی کہا کر تو
شوق تیرے تئیں نہیں ہے ہنوزورنہ سینہ رہا کرے پرسوزاس طرح جیسے طفل نوآموزسیکھے جو حرف وہ کہے شب و روزیا علی یا علی کہا کر تو
ورد اوراد کا نہ لے تو نامشغل و اشغال چھوڑ بیٹھ تمامذکر اذکار سے تجھے کیا کامایک دو دم ہمیشہ صبح و شامیا علی یا علی کہا کر تو
خوف محشر سے میرؔ حال ہے کیایہ حواسوں کا اختلال ہے کیااس سے محشور رہ ملال ہے کیاہے علی تو یہ پھر خیال ہے کیایا علی یا علی کہا کر تو
مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
قدر کو میری بہت ہے برتریکب مری خورشید سے ہو ہمسریحکم بز رکھے ہے یاں شیر نریکر مخالف سوچ کر ٹک اژدریحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
منقبت خوانی سے میری سب ہیں سناس سوا مجھ میں نہیں ہے کوئی گنساتھ سر کے ہے علی گوئی کی دھنمدعی اس کان یا اس کان سنحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
شوق کامل سے تعجب ہے یہ کیاجو بدن ہو خاک سب بعد فنااور اس سے نے اگے سبزے کی جابرگ برگ اس کا کرے پھر یہ صداحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
تھا کبھو عاقل مخبط تھا کبھوگاہ کرتا گفتگو گہ جستجواب اخیر عمر ہے یہ آرزوایک دو دن ترک کر میں اور توحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
کل منافق ہوکے آیا بہبہاپھاڑے اپنے منھ کو جیسے اژدہاغار سا منھ کھولے بھیچک ہو رہامعرکے میں میں نے جو آکر کہاحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
دل میں میرے ہے تمناے کہنہو میسر اے خداے ذوالمننجس گھڑی ہوویں جدا جان اور تنہو مرے ہونٹھوں کے اوپر یہ سخنحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
ہے ولاے اہل بیت اپنا شعارجانے ہے اس کے تئیں سارا دیارزیر لب کہتا ہوں میں پر اب کی بارتو سہی جو میں کہوں سب میں پکارحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
رخت ہستی جائے رستم بار کرماروں اک مکا اگر تیار کرچپ رہیں موذی دلوں کو مار کرروز میداں گر کہوں للکار کرحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اے مخالف بحث مت کر نابکاربات ایسے سے ہے مجھ کو ننگ و عاربس کہا اس آستاں کا ہوں غبارکیا کہا تجھ سے کروں میں بار بارحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
شیخ کو نسبت نہیں تجرید سےہے یہ خر جکڑا ہوا تقئید سےیہ عقائد ہوتے ہیں تائید سےگو کہا ان نے مری تقلید سےحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اس عقیدے ہی پہ اپنے میں رہوںگو خوارج کے ستم اس میں سہوںبے ولا حیدر کے ہوں میں تو نہ ہوںلب ہلیں جب تک یہی تب تک کہوںحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اب ہوا پیری سے ٹک میں مضمحلورنہ تھا یہ شور تا چین و چگلشوق میرا کچھ نہ تھا بے صدق دلرات دن رہتا تھا کہتا متصلحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
اے مرے سرمایۂ ہر دو جہاںعشق تیرا ہے مرے ہمراہ جاںہو اگر تن پر مرے ہر مو زباںبے گماں سرزد ہو اس سے ہر زماںحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
ہوں اگر یار و گدا و شاہ میںپر ہوں سر کار سے آگاہ میںدل وہیں ہے گو چلوں سو راہ میںمیرؔ جی باور کرو واللہ میںحیدری ہوں حیدری ہوں حیدری
مخمس ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
پارسا ہیں جو جواں پیر ہدیٰ کہتے ہیںجو ولایت رکھے ہیں شاہ ولا کہتے ہیںسالک مسلک دل راہ نما کہتے ہیںایک مولا کہیں ہیں ایک خدا کہتے ہیںیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
آفتاب فلک عز و علا تو ہی تھاچہرہ آراے زمیں اور سما تو ہی تھاجانشینی پیمبرؐ کے سزا تو ہی تھاقالب خاکی کے پردے میں خدا تو ہی تھایا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
ہے تری قدر سے بے ختم رسلؐ کون آگاہحبذا شان تری صل علیٰ تیری جاہزور سے تیرے اڑے کوہ بسان پر کاہوہ ثبات اس قد و قامت پہ یہ قدرت اللہیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
تجھ کو وہ خلوتی راز نہاں پاتے ہیںجس کو اب خلق میں ہر جاے عیاں پاتے ہیںافسر و تخت ترے در سے شہاں پاتے ہیںسر ترے سجدے کا شائستہ کہاں پاتے ہیںیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
پاشکستوں کی ہوئی کام روائی تجھ سےبستہ کاروں کی ہوئی عقدہ کشائی تجھ سےگھٹتی آئیں کی گئی ٹک نہ اٹھائی تجھ سےرہ گئی دین محمدؐ کی بڑائی تجھ سےیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
خشمگینی تری دشمن کے سر آفت لائیعمرو و عنتر نے سنبھلنے کی نہ فرصت پائیروکشی مہد میں اژدر سے نہ ٹک بن آئیزور و قدرت نے ترے قدرت حق دکھلائییا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
شور و ہنگامہ تھا کیسا ہی مٹایا تونےصبح محشر تئیں فتنے کو سلایا تونےدر خیبر کو دو انگشت سے ڈھایا تونےکاڑھ خورشید کو دوبارہ دکھایا تونےیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
عالم کون و فساد آکے کیا تونے پاکدہر گلزار ہوا جھڑ گئے خار و خاشاکدیو سرکش ہوئے آوازہ ترا سن کے ہلاکپردۂ قاف تلک پہنچی ترے زور کی دھاکیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
تھے قوی پنجہ ترے عہد میں سب جان سے سیربھیڑ بکری کی طرح خوف سے رہتے تھے دلیرہر زبردست زمانے کا رہا تیرا زیرتونے سلماں کے لیے توڑ دیا پنجۂ شیریا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
تجھ سے پایا نہ گیا بعد نبیؐ فاضل ترہے فضیلت تری قرآن سے ثابت سب پرقرب کیا تیرا بیاں کیجیے اے فخر بشرجس جگہ تو ہے تو وھاں جلتے ہیں جبریل کے پریا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
دوش پر رحمت عالم کے رکھا تونے پاخانۂ حق سے دیا شرک کی صورت کو مٹاعالم خاکی میں تھا مصلحتاً جلوہ نماعرش اعظم سے بھی تھی ورنہ پرے تیری جایا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
اے ترا مرتبہ بالاتر فہم و ادراکایک رتبے کے تئیں پہنچی ترے جلوے سے خاکہیں ترے شوق میں سرگشتہ شب و روز افلاکپر کہاں عالم خاک اور کہاں عالم پاکیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
اپنے اسرار کا تو آپ ہی کچھ دانا ہےورنہ کن نے تجھے جوں چاہیے پہچانا ہےایک فرقے نے تجھے روح قدس مانا ہےایک نے ذات مقدس تجھی کو جانا ہےیا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
شان و شوکت تری کیا کہہ سکے عاجزتقریریعنی مداح ترا کیونکے ہو الکن ہے میرؔزیب دیتی ہے تجھی کو شہی کل امیرتیں فقیروں کے تئیں بخش دیے تاج و سریریا علی جو تجھے کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
ترجیع بند در مدح حضرت علیؓ
قابل سجدہ ہے علی کا درباب تعظیم ہے علی کا گھرہے علی ہی کا نام موجوداتہے علی افتخار نوع بشرفرش رہ عرش ہو نہیں سکتامنزلت ہے علی کی بالاترمنبع لطف و مظہر احساںمصدر صدہزار فضل و ہنرتھا پرآشوب جن کے شور سے دہرکردیے خاکوں میں انھوں کے سرقدرت اس کی خدا کی قدرت ہےزور اچنبھا عجیب زورآوراعتقاد اپنے کو چھپایا ہےیہ جو کہتے ہیں پاس ظاہر کرہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جاناہے علی جملہ عزت و اعزازجان بھی اپنی ہے علی کی نیازغم شریک محمدؐ عربیحرمت کعبہ آبروے حجازخاک دروازۂ علی رہیےہوویں یاور جو طالع ناسازرو علی کی طرف ہی رکھ اس میںدر فردوس منھ پہ ہوگا بازہوسکے تو علی پرستی کرتو ہو اسلامیوں میں تو ممتازہے علی وہ کہ چرخ و ماہ و مہراس کی قدرت پہ سب کریں ہیں نازمحو یاد علی ہیں جو ان کونے سر سجدہ نے دماغ نمازہیں علی سے علی طلب شب و روزدوستی کشتگان قلب گدازقبلہ کعبہ خدا رسول علیگفتگو شوق کی بہت ہے درازہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ہے علی جانشیں پیمبرؐ کازیب مسجد ہے حسن منبر کازور بازو سے اس کے کیا کہیےہے زباں زد فسانہ خیبر کاکر گیا گم بڑوں بڑوں کے حواسچیرنا کودکی میں اژدر کاجذب خورشید کس طرح سے کیاوقت کم تھا نماز دیگر کاسرکشان جہاں نے جھاڑے کانسن کے احوال عمرو و عنتر کاتیغ اس کی تھی برق ابر بہارکٹ گیا جس سے رنگ اکثر کابارش ابر لطف بن اس کےرفع کیا ہو غبار دل پر کاکیا ہمارا شعور جو سمجھیںمرتبہ اس سبھوں سے برتر کاعقل کل پر بھی کرنا مشکل ہےفرق ظاہر سے ایسے مظہر کاہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ذات پاک اس کی ہے خدا کی ذاتجمع واجب کے اس میں سب ہیں صفاتعلم و قدرت نہ بابت مذکوردم زدن یہ نہ جاے حلم و ثباتوہ نہ ہوتا سبب تو پھر کیا تھاکیسے ہم تم کہاں کے موجوداتنہ تو دس عقل و نہ فلک ہوتےنہ ستارے نمود کرتے ساتحال روشن نہ روز کا ہوتارہتی تاریکی عدم سے راتاس کے مقدم سے نور ہے ورنہسوجھتا کس کو ہاتھ سے پھر ہاتوہ مقوم سبھوں کا وہ سب کچھیہی کہنے کی ایک ہے گی باتہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ہے مسبب کہیں کہیں ہے سببہے وہی لطف بے نہایت ابہے علی قابل پرستیدنہے علی مظہر ہزار عجبعشق ہے ہم جو لیتے ہیں یوں نامورنہ سجدہ بھی یاں ہے ترک ادبدم الطاف سبز روے زمیںجگر چرخ چاک وقت غضبداب یکبارگی لیے دشمندب کیا تونے جس گھڑی مرکبتو بنا پاے خاک میداں پراستخوان مزار کا مطلببارہا اے سوار شائستہابلق چرخ نکلا تجھ سے دبہے تو بندہ تو اے مرے معبودپر خدا کے سے ہیں ترے سب ڈھبہے تفنن کے طور پر یہ شعرآشنا اپنے لب سے روز و شبہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ہے علی حامی و مقوم دیںہے علی پیشواے اہل یقیںہے علی برگزیدۂ عالمہے علی اشرف زمان و زمیںاس کی ہمت سے اس گلستاں میںجیسے شبنم پڑے ہیں در ثمیںاس کی جرأت سے قشعریرہ ہےان کو جو ہیں گے شیر بیشۂ کیںخوبی اس کی کہاں تلک کہیےخوب جانے جسے رسول امیںاللہ اللہ تیری عزت و قدرمجلس انبیا کا صدر نشیںجیتے جیتے ہمارے قلب پر ابنام اس کا ہے جیسے نقش نگیںکبریا اس کی ہے وراے قیاسوہم اپنا گیا کہیں سے کہیںمانو یہ بات اس کی قدرت سےنہیں بالقوۃ آدمی کا نہیںہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
سجدہ کرنے کے ہے علی قابلقبلہ اپنا ہے اس طرف مائلمرگ ہے مصلحت سے دشمن کوبے ولا اس کے زیست کیا حاصلدرس میں تیرے اے شہ علامپیر عقل ایک کودک جاہلتیری ہمت قبول یہ نہ کرےکہ مکرر ہلے لب سائلاصل مطلب کو دوستی تیریراہ مطلوب کو ہے یہ واصلدست بخشش سحاب بارندہکف ہمت محیط بے ساحلسیر کر مجمع کمال تجھےدیکھ کر تیری قدرت کاملطفل و برنا و پیر سارے مقرعقل و ادراک و فہم سب قائلیہ عقیدہ نہیں ہے اپنا ہیکہتے ہیں سارے بالغ و عاقلہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ہے علی سایہ گستر دوجہاںدیوے خورشید حشر سے وہ اماںصورت ظاہر علی پہ نہ جاہے علی خلوتی راز نہاںوہ علی کی ہے ذات پاک جسےجپتے رہتے ہیں اہل عالم جاںکیا کریمی کی ہے صفت اللہنہیں ہے یہ نہیں یہی ہے یاںشان ارفع ہے اپنے صاحب کیکام کرتے نہیں قیاس و گماںہے جہاں رتبۂ وجوب اس کاعقل کا درک وھاں ہے کیا امکاںخوگر اس نام لینے سے جو نہیںحیف صد حیف وہ دہان و زباںدونوں یکتا ہیں ذوالفقار و علیایسی شمشیر ہے نہ ایسا جواںسب ہیں حیران منزلت اس کےقدر اس کی کہاں سپہر کہاںہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ہے علی مدعا علی مقصودوہی مشہود ہے وہی موجودہے علی وہ کہ سارے صاحب دللیتے نام اس کا بھیجتے ہیں درودکیا زمیں کیا سپہر کیا مہ و مہرکی علی کے لیے سبھوں نے نمودجمع رکھ دل علی سبب ہوگاکیا ہے اسباب اگر ہوئے مفقودبندگی کے مقام ہیں معلومہے یہ صاحب ہمارا تو معبودمصطفےٰ مرتضےٰ خدا ہے ایکلیک آگاہ راز ہیں معدودجھک ہی جاتے ہیں سر سن اس کا نامیعنی سب اس کو جانے ہیں مسجودحشر ہوگا علی کے ساتھ اپناکیا ہے واں کا ہمیں غم بہبودعندیہ اپنا اپنا ہے اے شیخگوش کر اس کو تو اچھل یا کودہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
گاہ بے گاہ کر علی خوانیہے علی دانی ہی خدا دانیمہر کا اس کی رہ سرآشفتہہے ولاے علی مسلمانیفرش راہ علی کر آنکھوں کویوں بچھا تو بساط ایمانیمور بے زور ہو علی کا توکہ جہاں میں کرے سلیمانیچاہ میں اس کی آپ کو گم کرتا کہیں تجھ کو ماہ کنعانیہے وہی مہر چرخ عرفاں کاہے وہی شاہ ظل سبحانیقامت آراے کبریا حق کاچہرہ پرداز نور یزدانیہاتھ اس کا وہی خدا کا ہاتھبات اس کی کلام ربانیشوق مفرط سے ہے یہ طرز سخنگو برا مانے کوئی مروانیہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ہے علی یاں کا مالک و مختارآگہ کار واقف اسرارہے علی آفتاب سا روشنکچھ چھپا ہو تو کیجیے اظہارہے علی بہترین خلق خداہے علی خویش سید ابرارکون اس کا مقر جود نہیںاس کی جرأت کا کس کو ہے انکاریہ شرف کس میں جمع ہوتے ہیںاشرف و حر و سید و سردارعہد کا فخر وقت کا سلطاںخوبی بزم و گرمی مضمارتیغ برکف اگر نمود کرےوہی قہار ہے وہی جبارحکم کے مرتبے میں ہو تو وہیپردہ پوش و غفور ہے ستارعشق پیشوں کو اس کے کیا وسواسکہتے ہیں اور پھر کہیں سو بارہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا
ہے علی وہ بلندقدر امیردے دے ڈالے ہیں جس نے تاج و سریراس کی یکتائی میں تردد کیاجس کا نکلا نہیں عدم سے نظیرخاک در ہو شہ ولایت کاشاہیاں لے گئے ہیں یاں سے فقیریوں ہے درریز دست جود اس کاجیسے برسے ہے کوئی ابر مطیرصاحب ایسا ہی ہو تو صاحب ہےگنہ آمرز اور عذر پذیرہم سے بندوں کی ورنہ کیونکے نبھےدم بہ دم جن سے ہوتی ہے تقصیرکچھ محبوں کا معتقد مت پوچھہے علی ہی ہوالعلی کبیرشان سے کہتے ہیں محیط کلقدر سے قادر و خداے قدیرتو موالی علی پرست نصیرچاہے سو ہم کو کہہ لے اب اے میرؔہم علی کو خدا نہیں جاناپر خدا سے جدا نہیں جانا