میڈیکل ٹیسٹ
دو ملازم ایک کالا اور گورا دوسرادوسرا پیدل مگر پہلا سوار راہ وار
تھے سول سرجن کی کوٹھی کی طرف دونوں رواںکیونکہ بیماری کی رخصت کے تھے دونوں خواست گار
راہ میں دونوں کے باہم ہو گئی کچھ ہشت مشتکوکھ میں کالے کی اک مکا دیا گورے نے مار
صدمہ پہنچا جس سے تلی کو بہت مسکین کیآ کے گھوڑے سے لیا سائیس نے اس کو اتار
ٹھوک کر کالے کو گورے نے تو اپنی راہ لیچوٹ کے صدمے سے غش کالے کو آیا چند بار
آخرش کوٹھی پہ پہنچے جا کے دونوں پیش و پسضارب اپنے پاؤں اور مضروب ڈولی میں سوار
ڈاکٹر نے آ کے دونوں کی سنی جب سرگزشتتہ کو جا پہنچا سخن کی سن کے قصہ ایک بار
دی سند گورے کو لکھ کر جس میں تھی تصدیق مرضاور یہ لکھا تھا مسائل ہیں بہت زار و نزار
یعنی اک کالا نہ جس گورے کے مکے سے مرےکر نہیں سکتا حکومت ہند پر وہ زینہار
اور کہا کالے سے تم کو مل نہیں سکتی سندکیونکہ تم معلوم ہوتے ہو بظاہر جان دار
ایک کالا پٹ کے جو گورے سے فوراً مر نہ جائےآئے بابا اس کی بیماری کا کیونکر اعتبار
فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہ
فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہچلے آئے ہیں جو کہ سینہ بہ سینہ
نہ ان کو نباتات سے آگہی ہےنہ اصلاً خبر معدنیات کی ہے
نہ تشریح کی لے کسی پر کھلی ہےنہ علم طبیعی نہ کیمسٹری ہے
نہ پانی کا علم اور نہ علم ہوا ہےمریضوں کا ان کے نگہباں خدا ہے
نہ قانون میں ان کے کوئی خطا ہےنہ مخزن میں انگشت رکھنے کی جا ہے
سیدی میں لکھا ہے جو کچھ بجا ہےنفیسی کے ہر قول پر جاں فدا ہے
سلف لکھ گئے جو قیاس اور گماں سےصحیفے ہیں اترے ہوئے آسماں سے
وہ شعر اور قصائد کا ناپاک دفترعفونت میں سنڈاس سے جو ہے بد تر
زمیں جس سے ہے زلزلہ میں برابرملک جس سے شرماتے ہیں آسماں پر
ہوا علم و دیں جس سے تاراج ساراوہ علموں میں علم ادب ہے ہمارا
برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہےعبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے
تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہےمقرر جہاں نیک و بد کی سزا ہے
گنہ گار واں چھوٹ جائیں گے سارےجہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والامرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والاوہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰیتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
خطا کار سے درگزر کرنے والابد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کا زیر و زبر کرنے والاقبائل کو شیر و شکر کرنے والا
اتر کر حِرا سے سوئے قوم آیااور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
مس خام کو جس نے کندن بنایاکھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا
عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایاپلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کااِدھر سے اُدھر پھر گیا رخ ہوا کا