حب وطن
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہواحملہ جب قوم آریا نے کیااور بجا ان کا ہند میں ڈنکاملک والے بہت سے کام آئےجو بچے وہ غلام کہلائےشدر کہلائے راکشس کہلائےرنج پردیس کے مگر نہ اٹھائےگو غلامی کا لگ گیا دھبہنہ چھٹا ان سے دیس پر نہ چھٹاقدر اے دل وطن میں رہنے کیپوچھے پردیسیوں کے جی سے کوئیجب ملا رام چندر کو بن باساور نکلا وطن سے ہو کے اداسباپ کا حکم رکھ لیا سر پرپر چلا ساتھ لے کے داغ جگرپاؤں اٹھتا تھا اس کا بن کی طرفاور کھنچتا تھا دل وطن کی طرفگزرے غربت میں اس قدر مہ و سالپر نہ بھولا ایودھیا کا خیالدیس کو بن میں جی بھٹکتا رہادل میں کانٹا سا اک کھٹکتا رہاتیر اک دل میں آ کے لگتا تھاآتی تھی جب ایودھیا کی ہواکٹنے چودہ برس ہوئے تھے محالگویا ایک ایک جگ تھا ایک اک سالہوئے یثرب کی سمت جب راہیسید ابطحیٰ کے ہم راہیرشتے الفت کے سارے توڑ چلےاور بالکل وطن کو چھوڑ چلےگو وطن سے چلے تھے ہو کے خفاپر وطن میں تھا سب کا جی اٹکادل لگی کے بہت ملے سامانپر نہ بھولے وطن کے ریگستاندل میں آٹھوں پہر کھٹکتے تھےسنگریزے زمین بطحا کےگھر جفاؤں سے جن کی چھوٹا تھادل سے رشتہ نہ ان کا ٹوٹا تھاہوئیں یوسف کی سختیاں جب دوراور ہوا ملک مصر پر مامورمصر میں چار سو تھا حکم رواںآنکھ تھی جانب وطن نگراںیاد کنعاں جب اس کو آتی تھیسلطنت ساری بھول جاتی تھیدکھ اٹھائے تھے جس وطن میں سختتاج بھاتا نہ اس بغیر نہ تختجن سے دیکھی تھی سخت بے مہریلو تھی ان بھائیوں کی دل کو لگیہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرقہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرقہم ہیں نام وطن کے دیوانےوہ تھے اہل وطن کے پروانےجس نے یوسف کی داستاں ہے سنیجانتا ہوگا روئداد اس کیمصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطرکر دیا وقف ان پہ بیت الماللب تک آنے دیا نہ حرف سوالکھتیاں اور کوٹھے کھول دیےمفت سارے ذخیرے تول دیےقافلے خالی ہاتھ آتے تھےاور بھرپور یاں سے جاتے تھےیوں گئے قحط کے وہ سال گزرجیسے بچوں کی بھوک وقت سحراے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیداراو شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والےنام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگنکبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہےیاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگینقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوارکیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہےاس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرندٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میںجا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتاآ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہارمچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سےآگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدورگھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیںگائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھیکہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم ترہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فردجس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیحقوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکےقوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہوسمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاںرنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتمبھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیلجب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاکبیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنومرد ہو تم کسی کے کام آؤورنہ کھاؤ پیو چلے جاؤجب کوئی زندگی کا لطف اٹھاؤدل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤپہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاککرو دامن سے تا گریباں چاککھانا کھاؤ تو جی میں تم شرماؤٹھنڈا پانی پیو تو اشک بہاؤکتنے بھائی تمہارے ہیں نادارزندگی سے ہے جن کا دل بیزارنوکروں کی تمہارے جو ہے غذاان کو وہ خواب میں نہیں ملتاجس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہوواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کوکھاؤ تو پہلے لو خبر ان کیجن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑیپہنو تو پہلے بھائیوں کو پہناؤکہ ہے اترن تمہاری جن کا بناؤایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمرہے کوئی ان میں خشک اور کوئی ترسب کو ہے ایک اصل سے پیوندکوئی آزردہ ہے کوئی خورسندمقبلو! مدبروں کو یاد کروخوش دلو غم زدوں کو شاد کروجاگنے والے غافلوں کو جگاؤتیرنے والو ڈوبتوں کو تراؤہیں ملے تم کو چشم و گوش اگرلو جو لی جائے کور و کر کی خبرتم اگر ہاتھ پاؤں رکھتے ہولنگڑے لولوں کو کچھ سہارا دوتندرستی کا شکر کیا ہے بتاؤرنج بیمار بھائیوں کا ہٹاؤتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیرہو مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہموجعفری ہووے یا کہ ہو حنفیجین مت ہووے یا ہو ویشنویسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کوملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آبادہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کرقوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہات دھو بیٹھیایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی پڑنے تم پہ نگاہپھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئیپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگےکبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹاکبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیاسب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کییہ بھی تم پر خدا کا تھا انعامکہ پڑا تم کو ایسی قوم سے کامورنہ دم مارنے نہ پاتے تمپڑتی جو سر پہ وہ اٹھاتے تمملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہے غیروں سےقوم سے جو تمہارے برتاؤسوچو اے میرے پیارو اور شرماؤاہل دولت کو ہے یہ استغناکہ نہیں بھائیوں کی کچھ پرواشہر میں قحط کی دہائی ہےجان عالم لبوں پہ آئی ہےبچے اک گھر میں بلبلاتے ہیںرو کے ماں باپ کو رلاتے ہیںکوئی پھرتا ہے مانگتا در درہے کہیں پیٹ سے بندھا پتھرپر جو ہیں ان میں صاحب مقدوران میں گنتی کے ہوں گے ایسے غیورکہ جنہیں بھائیوں کا غم ہوگااپنی راحت کا دھیان کم ہوگاجتنے دیکھو گے پاؤ گے بے درددل کے نامرد اور نام کے مردعیش میں جن کے کٹتے ہیں اوقاتعید ہے دن تو شبرات ہے راتقوم مرتی ہے بھوک سے تو مرےکام انہیں اپنے حلوے مانڈے سےان کو اب تک خبر نہیں اصلاًشہر میں بھاؤ کیا ہے غلے کاغلہ ارزاں ہے ان دنوں کہ گراںکال ہے شہر میں پڑا کہ سماںکال کیا شے ہے کس کو کہتے ہیں بھوکبھوک میں کیونکہ مرتے ہیں مفلوکسیر بھوکے کی قدر کیا سمجھےاس کے نزدیک سب ہیں پیٹ بھرےاہل دولت کا سن چکے تم حالاب سنو روئیداد اہل کمالفاضلوں کو ہے فاضلوں سے عنادپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فسادہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدارہنے دو اہل علم ہیں اس طرحپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرحعیدو والوں کا ہے اگر پٹھاشیخو والوں میں جا نہیں سکتاشاعروں میں بھی ہے یہی تکرارخوشنویسوں کو ہے یہی آزارلاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیکدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایکاس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنردور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھرملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کیاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنسارینسخہ اک طب کا جس کو آتا ہےسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہےجس کو آتا ہے پھونکنا کشتہہے ہماری طرف سے وہ گونگاجس کو ہے کچھ رمل میں معلوماتوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے باتباپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹابھید پاتا نہیں منجم کاکام کندلے کا جس کو ہے معلومہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھومالغرض جس کے پاس ہے کچھ چیزجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیزقوم پر ان کا کچھ نہیں احساںان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساںسب کمالات اور ہنر ان کےقبر میں ان کے ساتھ جائیں گےقوم کیا کہہ کے ان کو روئے گینام پر کیوں کہ جان کھوئے گیتربیت یافتہ ہیں جو یاں کےخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اےبھرتے حب وطن کا گو دم ہیںپر محب وطن بہت کم ہیںقوم کو ان سے جو امیدیں تھیںاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیںہسٹری ان کی اور جیوگرفیسات پردے میں منہ دیے ہے پڑیبند اس قفل میں ہے علم ان کاجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتالیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئےکرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہاکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتااہل انصاف شرم کی جا ہےگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہےتم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤیہ جو دولت تمہارے پاس ہے آجہم وطن اس کے ہیں بہت محتاجمنہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتاکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیاآپ شائستہ ہیں تو اپنے لیےکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیےمیز کرسی اگر لگاتے ہیں آپقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپمنڈا جوتا گر آپ کو ہے پسندقوم کو اس سے فائدہ نہ گزندقوم پر کرتے ہو اگر احساںتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاںکچھ دنوں عیش میں خلل ڈالوپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالوعلم کو کر دو کو بہ کو ارزاںہند کو کر دکھاؤ انگلستاںسنتے ہو سامعین با تمکیںسنتے ہو حاضرین صدر نشیںجو ہیں دنیا میں قوم کے ہمدردبندۂ قوم ان کے ہیں زن و مردباپ کی ہے دعا یہ بہر پسرقوم کی میں بناؤں اس کو سپرماں خدا سے یہ مانگتی ہے مرادقوم پر سے نثار ہو اولادبھائی آپس میں کرتے ہیں پیماںتو اگر مال دے تو میں دوں جاںاہل ہمت کما کے لاتے ہیںہم وطن فائدے اٹھاتے ہیںکہیں ہوتے ہیں مدرسے جاریدخل اور خرج جن کے ہیں بھاریاور کہیں ہوتے ہیں کلب قائممبحث حکمت اور ادب قائمنت نئے کھلتے ہیں دوا خانےبنتے ہیں سیکڑوں شفا خانےملک میں جو مرض ہیں عالم گیرقوم پر ان کی فرض ہے تدبیرہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیبکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیبقوم کو پہنچے منفعت جس سےملک میں پھیلیں فائدے جس کےکھپ گئے کتنے بن کے جھاڑوں میںمر گئے سیکڑوں پہاڑوں میںلکھے جب تک جیے سفر نامےچل دیے ہاتھ میں قلم تھامےگو سفر میں اٹھائے رنج کمالکر دیا پر وطن کو اپنے نہالہیں اب ان کے گواہ حب وطندر و دیوار پیرس و لندنکام ہیں سب بشر کے ہم وطنوںتم سے بھی ہو سکے تو مرد بنوچھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤقافلے تم سے بڑھ گئے کوسوںرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوںقافلوں سے اگر ملا چاہوملک اور قوم کا بھلا چاہوگر رہا چاہتے ہو عزت سےبھائیوں کو نکالو ذلت سےان کی عزت تمہاری عزت ہےان کی ذلت تمہاری ذلت ہےقوم کا مبتدل ہے جو انساںبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاںقوم دنیا میں جس کی ہے ممتازہے فقیری میں بھی وہ با اعزازعزت قوم چاہتے ہو اگرجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنرذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستوراب نہ سید کا افتخار صحیحنہ برہمن کو شدر پر ترجیحہوئی ترکی تمام خانوں میںکٹ گئی جڑ سے خاندانوں میںقوم کی عزت اب ہنر سے ہےعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہےکوئی دن میں وہ دور آئے گابے ہنر بھیک تک نہ پائے گانہ رہیں گے سدا یہی دن راتیاد رکھنا ہماری آج کی باتگر نہیں سنتے قول حالیؔ کاپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا
نشاط امید
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتا ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
مناجاتِ بیوہ
(۱)
اے سب سے اول اور آخرجہاں تہاں، حاضر اور ناظراے سب داناؤں سے داناسارے تواناؤں سے توانااے بالا، ہر بالاتر سےچاند سے سورج سے امبر سےاے سمجھے بوجھے بن سوجھےجانے پہچانے بن بوجھےسب سے انوکھے سب سے نرالےآنکھ سے اوجھل دل کے اجالےاے اندھوں کی آنکھ کے تارےاے لنگڑے لولوں کے سہارےناتیوں سے چھوٹوں کے ناتیساتھیوں سے بچھڑوں کے ساتھیناؤ جہاں کی کھینے والےدکھ میں تسلی دینے والےجب اب تب تجھ سا نہیں کوئیتجھ سے ہیں سب تجھ سا نہیں کوئیجوت ہے تیری جل اور تھل میںباس ہے تیری پھول اور پھل میںہر دل میں ہے تیرا بسیراتو پاس اور گھر دور ہے تیراراہ تری دشوار اور سکڑینام ترا رہ گیر کی لکڑیتو ہے ٹھکانا مسکینوں کاتو ہے سہارا غمگینوں کاتو ہے اکیلوں کا رکھوالاتو ہے اندھیرے گھر کا اجالالاگو اچھے اور برے کاخواہاں کھوٹے اور کھرے کابید نراسے بیماروں کاگاہک مندے بازاروں کاسوچ میں دل بہلانے والےبپتا میں یاد آنے والے
(۲)
اے بے وارث گھروں کے وارثبے بازو بے پروں کے وارثبے آسوں کی آس ہے تو ہیجاگتے سوتے پاس ہے تو ہیبس والے ہیں یا بے بس ہیںتو نہیں جن کا وہ بے کس ہیںساتھی جن کا دھیان ہے تیرادسرایت کی وہاں نہیں پروادل میں ہے جن کے تیری بڑائیگنتے ہیں وہ پربت کو رائیبیکس کا غم خوار ہے تو ہیبری بنی کا یار ہے تو ہیدکھیا دکھی یتیم اور بیوہتیرے ہی ہاتھ ان سب کا ہے کھیواتو ہی مرض دے تو ہی دوا دےتو ہی دوا دارو میں شفا دےتو ہی پلائے زہر کے پیالےتو ہی پھر امرت زہر میں ڈالےتو ہی دلوں میں آگ لگائےتو ہی دلوں کی لگی بجھائےچمکارے چمکار کے مارےمارے مار کے پھر چمکارےپیار کا تیرے پوچھنا کیا ہےمار میں بھی اک تیری مزا ہے
(۳)
اے رحمت اور ہیبت والےشفقت اور دباغت والےاے اٹکل اور دھیان سے باہرجان سے اور پہچان سے باہرعقل سے کوئی پا نہیں سکتابھید ترے حکموں میں ہیں کیا کیاایک کو تو نے شاد کیا ہےایک کے دل کو داغ دیا ہےاس سے نہ تیرا پیار کچھ ایسااس سے نہ تو بیزار کچھ ایساہر دم تیری آن نئی ہےجب دیکھو تب شان نئی ہےیہاں پچھوا ہے وہاں پروا ہےگھر گھر تیرا حکم نیا ہےپھول کہیں کملائے ہوئے ہیںاور کہیں پھل آئے ہوئے ہیںکھیتی ایک کی ہے لہراتیایک کا ہر دم خون سکھاتیایک پڑے ہیں دھن کو ڈبوئےایک ہیں گھوڑے بیچ کے سوئےایک نے جب سے ہوش سنبھالارنج سے اس کو پڑا نہ پالاایک نے اس جنجال میں آ کرچین نہ دیکھا آنکھ اٹھا کرمینہ کہیں دولت کا ہے برستاہے کوئی پانی تک کو ترستاایک کو مرنے تک نہیں دیتےایک اکتا گیا لیتے لیتےحال غرض دنیا کا یہی ہےغم پہلے اور بعد خوشی ہےرنج کا ہے دنیا کے گلا کیاتحفہ یہی لے دے کے ہے یاں کایہاں نہیں بنتی رنج سہے بنرنج نہیں سب ایک سے لیکنایک سے یہاں رنج ایک ہے بالاایک سے ہے درد ایک نرالاگھاؤ ہے گو ناسور کی صورتپر اسے کیا ناسور سے نسبتتپ وہی دق کی شکل ہے لیکندق نہیں رہتی جان لیے بندق ہو وہ یا ناسور ہو کچھ ہودے نہ جو اب امید کسی کوروز کا غم کیوں کر سہے کوئیآس نہ جب باقی رہے کوئیتو ہی کر انصاف اے مرے مولاکون ہے جو بے آس ہے جیتاگو کہ بہت بندے ہیں پر ارماںکم ہیں مگر مایوس ہیں جو یاںخواہ دکھی ہے خواہ سکھی ہےجو ہے اک امید اس کو بندھی ہےکھیتیاں جن کی کھڑی ہیں سوکھیآس وہ باندھے بیٹھے ہیں مینہ کیگھٹا جن کی اساڑی میں ہےساونی کی امید نہیں ہےڈوب چکی ہے ان کی اگیتیدیتی ہے ڈھارس ان کو پچھیتیایک ہے اس امید پہ جیتااب ہوئی بیٹی اب ہوا بیٹاایک کو جو اولاد ملی ہےاس کو امنگ شادیوں کی ہےرنج ہے یا قسمت میں خوشی ہےکچھ ہے مگر اک آس بندھی ہےغم نہیں ان کو غمگیں ہیںجو دل ناامید نہیں ہیںکال میں کچھ سختی نہیں ایسیکال میں ہے جب آس سمیں کیسہل ہے موجوں سے چھٹکاراجب کہ نظر آتا ہے کناراپر نہیں اٹھ سکتی وہ مصیبتآئے گی جس کے بعد نہ راحتشاد ہو اس رہ گیر کا کیا دل؟مر کے کٹے گی جس کی منزلان اجڑوں کو کل پڑے کیوں کرگھر نہ بسے گا جن کا جنم بھران بچھڑوں کا کیا ہے ٹھکانا؟جن کو نہ ملنے دے گا زمانہاب یہ بلا ٹلتی نہیں ٹالیمجھ پہ ہے جو تقدیر نے ڈالیآئیں بہت دنیا میں بہاریںعیش کی گھر گھر پڑیں پکاریںپڑے بہت باغوں میں جھولےڈھاک بہت جنگل میں پھولےگئیں اور آئیں چاندنی راتیںبرسیں کھلیں بہت برساتیںپر نہ کھلی ہرگز نہ کھلے گیوہ جو کلی مرجھائی تھی دل کیآس ہی کا بس نام ہے دنیاجب نہ رہی یہی تو رہا کیا؟ایسے بدیسی کا نہیں غم کچھجس کو نہ ہو ملنے کی قسم کچھرونا ان بن باسیوں کا ہےدیس نکالا جن کو ملا ہےحکم سے تیرے پر نہیں چارہکڑوی میٹھی سب ہے گوارازور ہے کیا پتے کا ہوا پرچاہے جدھر لے جائے اڑا کرتنکا اک اور سات سمندرجائے کہاں موجوں سے نکل کرقسمت ہی میں جب تھی جدائیپھر ٹلتی کس طرح یہ آئی؟آج کی بگڑی ہو تو بنے بھیازل کی بگڑی خاک بنے گیتو جو چاہے وہ نہیں ٹلتابندے کا یاں بس نہیں چلتامارے اور نہ دے تو رونےتھپکے اور نہ دے تو سونےٹھہرے بن آتی ہے نہ بھاگےتیری زبردستی کے آگےتجھ سے کہیں گر بھاگنا چاہیںبند ہیں چاروں کھونٹ کی راہیںتو مارے اور خواہ نوازےپڑی ہوئی ہوں میں تیرے دروازےتجھ کو اپنا جانتی ہوں میںتجھ سے نہیں تو کس سے کہوں میںماں ہی سدا بچہ کو مارےاور بچہ ماں ماں ہی پکارے
(۴)
اے مرے زور اور قدرت والےحکمت اور حکومت والےمیں لونڈی تیری دکھیارےدروازے کی تیری بھکاریموت کی خواہاں جان کی دشمنجان اپنی ہے آپ اجیرناپنے پرائے کی دھتکاریمیکے اور سسرال پہ بھاریسہہ کے بہت آزار چلی ہوںدنیا سے بیزار چلی ہوںدل پر میرے داغ ہیں جتنےمنہ میں بول نہیں ہیں اتنےدکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتیاس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتیتجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کاتجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیابیاہ کے دم پائی تھی نہ لینےلینے کے یاں پڑ گئے دینےخوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیاغم کے سوا کچھ ہات نہ آیاایک خوشی نے غم یہ دکھائےایک ہنسی نے گل ہی کھلائےکیسا تھا یہ بیاہ نناواںجوں ہی پڑا اس کا پرچھاواںچین سے رہنے دیا نہ جی کوکر دیا ملیامیٹ خوشی کورو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تکاور روؤں تو روؤں کہاں تکہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کراوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کرایک کا کچھ جینا نہیں ہوتاایک نہ ہنستا بھلا نہ روتالیٹے گر سونے کے بہانےپائنتی کل ہے اور نہ سرہانےجاگیے تو بھی بن نہیں پڑتیجاگنے کی آخر کوئی حد بھیاب کل ہم کو پڑے گی مر کرگور ہے سونی سیج سے بہتربات سے نفرت کام سے وحشتٹوٹی آس اور بجھی طبیعتآبادی جنگل کا نمونہدنیا سونی اور گھر سونادن ہے بھیانک اور رات ڈرانییوں گزری ساری یہ جوانیبہنیں اور بہنیلیاں میریساتھ کی جو تھیں کھیلیاں میریمل نہ سکیں جی کھول کے مجھ سےخوش نہ ہوئیں ہنس بول کے مجھ سےجب آئیں رو دھو کے گئیں وہجب گئیں بے کل ہو کے گئیں وہکوئی نہیں دل کا بہلاواآ نہیں چکتا میرا بلاواآٹھ پہر کا ہے یہ جلاپاکاٹوں گی کس طرح رنڈاپاتھک گئی دکھ سہتے سہتےتھم گئے آنسو بہتے بہتےآگ کھلی دل کی نہ کسی پرگھل گئی جان اندر ہی اندردیکھ کے چپ جانا نہ کسی نےجان کو پھونکا دل کی لگی نےدبی تھی بھوبھل میں چنگاریلی نہ کسی نے خبر ہماریقوم میں وہ خوشیاں بیاہوں کیشہر میں وہ دھوئیں ساہوں کیتہواروں کا آئے دن آنااور سب کا تہوار مناناوہ چیت اور پھاگن کی ہوائیںوہ ساون بھادوں کی گھٹائیںوہ گرمی کی چاندنی راتیںوہ ارمان بھری برساتیںکس سے کہوں کس طور سے کاٹیںخیر کٹیں جس طور سے کاٹیںچاؤ کے اور خوشیوں کے سمے سبآتے ہیں خوش کل جان کو ہو جبرنج میں ہیں سامان خوشی کےاور جلانے والے ہی کےگھر برکھا اور پیا بدیسیآئیو برکھا کہیں نہ ایسیدن یہ جوانی کے کٹے ایسےباغ میں پنچھی قید ہو جیسےرت گئی ساری سر ٹکراتےاڑ نہ سکے پر ہوتے سارےکسی نے ہوگی کچھ کل پائیمجھے تو شادی راس نہ آئیآس بندھی لیکن نہ ملا کچھپھول آیا اور پھل نہ لگا کچھرہ گیا دے کر چاند دکھائیچاند ہوا پر عید نہ آئیپھل کی خاطر برچھی کھائیپھل نہ ملا اور جان گنوائیریت میں ذرے دیکھ چمکتےدوڑ پڑی میں جھیل سمجھ کےچاروں کھونٹ نظر دوڑائیپر پانی کی بوند نہ پائی
کہنا بڑوں کا مانو
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمتہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمتکڑوی نصیحتوں میں ان کی بھرا ہے امرتچاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا مانوماں باپ کا عزیزو مانا نہ جس نے کہنادشوار ہے جہاں میں عزت سے اس کا رہناڈر ہے پڑے نہ صدمہ ذلت کا اس کا سہناچاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا مانوتم کو خبر نہیں کچھ اپنے بھلے برے کیجتنی ہے عمر چھوٹی اتنی ہے عقل چھوٹیہے بہتری اسی میں ہے جو بڑوں کی مرضیچاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا مانو
مٹی کا دیا
جھٹپٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیاایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیاتاکہ رہگیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیںراہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑایہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور اس لیمپ سےروشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سداگر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیےہے اندھیرا گھپ در و دیوار پر چھایا ہواسرخ رو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیںروشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں
ہم نے ان عالی بناؤں سے کیا اکثر سوالآشکارا جن سے ان کے بانیوں کا ہے جلالشان و شوکت کی تمہاری دھوم ہے آفاق میںدور سے آ آ کے تم کو دیکھتے ہیں با کمالقوم کو اس شان و شوکت سے تمہاری کیا ملادو جواب اس کا اگر رکھتی ہو یارائے مقالسرنگوں ہو کر وہ سب بولیں زبان حال سےہو سکا ہم سے نہ کچھ الانفعال الانفعالبانیوں نے تھا بنایا اس لیے گویا ہمیںہم کو جب دیکھیں خلف اسلاف کو رویا کریں
شوق سے اس نے بنایا مقبرہ اک شانداراور چھوڑا اس نے اک ایوان عالی یادگارایک نے دنیا کے پودے باغ میں اپنے لگائےایک نے چھوڑے دفینے سیم و زر کے بے شماراک محب قوم نے اپنے مبارک ہاتھ سےقوم کی تعلیم کی بنیاد ڈالی استوارہوگی عالم میں کہو سرسبز یہ پچھلی مرادیا وہ اگلوں کی امیدیں لائیں گی کچھ برگ و بارچشمۂ سر جیوں ہے جو بہتا رہے گا یاں وہیسب اتر جائیں گی چڑھ چڑھ ندیاں برسات کی
انگلستان کی آزادی اور ہندوستان کی غلامی
کہتے ہیں آزاد ہو جاتا ہے جب لیتا ہے سانسیاں غلام آ کر کرامت ہے ہی انگلستان کی
اس کی سرحد میں غلاموں نے جو ہے رکھا قدماور کنکر پاؤں سے ایک اک کے بیڑی گر پڑی
قلب ماہیت میں انگلستان ہے گر کیمیائیکم نہیں کچھ قلب ماہیت میں ہندوستان بھی
آن کر آزادیاں آزاد رہ سکتا نہیںوہ رہے ہو کر غلام اس کی ہوا جن کو لگی
برکھا رت
گرمی کی تپش بجھانے والیسردی کا پیام لانے والیقدرت کے عجائبات کی کاںعارف کے لیے کتاب عرفاںوہ شاخ و درخت کی جوانیوہ مور و ملخ کی زندگانیوہ سارے برس کی جان برساتوہ کون خدا کی شان برساتآئی ہے بہت دعاؤں کے بعدوہ سیکڑوں التجاؤں کے بعدوہ آئی تو آئی جان میں جاںسب تھے کوئی دن کے ورنہ مہماںگرمی سے تڑپ رہے تھے جان داراور دھوپ میں تپ رہے تھے کہساربھوبل سے سوا تھا ریگ صحرااور کھول رہا تھا آب دریاسانڈے تھے بلوں میں منہ چھپائےاور ہانپ رہے تھے چارپائےتھیں لومڑیاں زباں نکالےاور لو سے ہرن ہوئے تھے کالےچیتوں کو نہ تھی شکار کی سدھہرنوں کو نہ تھی قطار کی سدھتھے شیر پڑے کچھار میں سستگھڑیال تھے رود بار میں سستڈھوروں کا ہوا تھا حال پتلابیلوں نے دیا تھا ڈال کندھابھینسوں کے لہو نہ تھا بدن میںاور دودھ نہ تھا گئو کے تھن میںگھوڑوں کا چھٹا تھا گھاس دانہتھا پیاس کا ان پہ تازیانہگرمی کا لگا ہوا تھا بھبکااور انس نکل رہا تھا سب کاطوفان تھے آندھیوں کے برپااٹھتا تھا بگولے پر بگولاآرے تھے بدن پہ لو کے چلتےشعلے تھے زمین سے نکلتےتھی آگ کا دے رہی ہوا کامتھا آگ کا نام مفت بد نامرستوں میں سوار اور پیدلسب دھوپ کے ہاتھ سے تھے بے کلگھوڑوں کے نہ آگے اٹھتے تھے پاؤںملتی تھی کہیں جو روکھ کی چھاؤںتھی سب کی نگاہ سوئے افلاکپانی کی جگہ برستی تھی خاک
دکن
یہ مقولہ ہند میں مدت سے ہے ضرب المثلجو کہ جا پہنچا دکن میں بس وہیں کا ہو رہاپارسی ہندو مسلماں یا مسیحی ہو کوئیہے دکن کو ہر کوئی اپنی ولایت جانتا
صحن گلشن میں کسی کام کو آئے کوئیجائے گا بوئے ربا سے معطر ہو کرحیدرآباد بھی اک باغ ہے ماشاء اللہہے جہاں فیض کا دروازہ کشادہ سب پر
عزت قومی ترستی تھی صدا آنکھیں میںآ کے بلدہ کے سوا نہ میں لگا اس کا پتہ
جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیات
جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آب حیاتٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہر ہلاہل سربسرجب تک جیو تم علم و دانش سے رہو محروم یاںآئی ہو جیسی بے خبر ویسی ہی جاؤ بے خبردنیا کے دانا اور حکیم اس خوف سے لرزاں تھے سبتم پر مبادا علم کی پڑ جائے پرچھائیں کہیںایسا نہ ہو مرد اور عورت میں رہے باقی نہ فرقتعلیم پا کر آدمی بننا تمہیں زیبا نہیںعلم و ہنر سے رفتہ رفتہ ہو گئیں مایوس تمسمجھا لیا دل کو کہ ہم خود علم کے قابل نہ تھیںآخر تمہاری چپ دلوں میں اہل دل کے چبھ گئیسچ ہے کہ چپ کی داد آخر بے ملے رہتی نہیں