مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دلدرد کچھ اور بڑھ گیا میں نے جو کی دوائے دل
میری طرح خدا کرے تیرا کسی پے آئے دلتو بھی جگر کو تھام کہ کہتا پھرے کے ہائےدل
غنچہ سمجھ کے لے لیا چُٹکی سے یوں مسل دیاان کا تو اک کھیل تھا لُٹ گیا میرا ہائے دل
روندو نہ میری قبر کو اس میں دبی ہیں حسرتیںرکھنا قدم سنبھال کر دیکھو کُچل نہ جائے دل
عاشقِ نامراد کی قبر پہ تھا لکھا ہواجس کو ہو زندگی عزیز وہ نہ کہیں لگائے دل
پوچھتے کیا ہو میرے غم ملتے ہیں بے وفا صنمچھوڑو بُتوں کی دوستی دیتا یہی ہے رائے دل
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھانہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیںیہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گےتمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہامقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگتتمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاقکہو وہ تذکرۂ ناتمام کس کا تھا
ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیںسنا جو تو نے بہ دل وہ پیام کس کا تھا
اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میںلحاظ آپ کو وقت خرام کس کا تھا
گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوںخیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا
ہمیں تو حضرت واعظ کی ضد نے پلوائییہاں ارادۂ شرب مدام کس کا تھا
اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھےتباہ حال بہت زیر بام کس کا تھا
وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے وفا جاناخیال خام یہ سودائے خام کس کا تھا
انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہورجو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے وفا نکلایہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
آپ کا اعتبار کون کرےروز کا انتظار کون کرے
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتےپر تمہیں شرمسار کون کرے
ہو جو اس چشم مست سے بے خودپھر اسے ہوشیار کون کرے
تم تو ہو جان اک زمانے کیجان تم پر نثار کون کرے
آفت روزگار جب تم ہوشکوۂ روزگار کون کرے
اپنی تسبیح رہنے دے زاہددانہ دانہ شمار کون کرے
ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤںموت کا انتظار کون کرے
آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاددیکھیں دل کا شکار کون کرے
وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیںتجھ کو امیدوار کون کرے
داغؔ کی شکل دیکھ کر بولےایسی صورت کو پیار کون کرے
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیںباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں
منتظر ہیں دم رخصت کہ یہ مر جائے تو جائیںپھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں
سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہینشۂ مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں
کیا کہا پھر تو کہو ہم نہیں سنتے تیرینہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیںصاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہےتجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں
دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہواکون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں
ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوںجن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں
زیست سے تنگ ہو اے داغؔ تو جیتے کیوں ہوجان پیاری بھی نہیں جان سے جاتے بھی نہیں
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیاتمام رات قیامت کا انتظار کیا
کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیامری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
ہنسا ہنسا کے شب وصل اشک بار کیاتسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا
یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیاکہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا
سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیااگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا
نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کیاشب وصال بھی میں نے تو انتظار کیا
تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھایہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا
یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیشانہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا
کہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالمبہ تنگ آئے تو حال دل آشکار کیا
تڑپ پھر اے دل ناداں کہ غیر کہتے ہیںاخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا
ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینیتمام رات دل مضطرب کو پیار کیا
بھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو راز نہاںچھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتاصبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا
ہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتامگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا
ہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجرشب وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا
رقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہےوہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا
زبان خار سے نکلی صدائے بسم اللہجنوں کو جب سر شوریدہ پر سوار کیا
تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتللگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا
غضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکہ میںہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا
ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والاکہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا
نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیںوہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا
جب ان کو طرز ستم آ گئے تو ہوش آیابرا ہو دل کا برے وقت ہوشیار کیا
فسانۂ شب غم ان کو اک کہانی تھیکچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا
اسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہیتمام طرۂ طرار تار تار کیا
کچھ آ گئی داور محشر سے ہے امید مجھےکچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا
کسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھیکہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا
فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھےاخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا
وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکےستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا
بنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہجو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
اپنے دل کو بھی بتاؤں نہ ٹھکانا تیراسب نے جانا جو پتا ایک نے جانا تیرا
تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہےکس کے اجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا
آرزو ہی نہ رہی صبح وطن کی مجھ کوشام غربت ہے عجب وقت سہانا تیرا
یہ سمجھ کر تجھے اے موت لگا رکھا ہےکام آتا ہے برے وقت میں آنا تیرا
اے دل شیفتہ میں آگ لگانے والےرنگ لایا ہے یہ لاکھے کا جمانا تیرا
تو خدا تو نہیں اے ناصح ناداں میراکیا خطا کی جو کہا میں نے نہ مانا تیرا
رنج کیا وصل عدو کا جو تعلق ہی نہیںمجھ کو واللہ ہنساتا ہے رلانا تیرا
کعبہ و دیر میں یا چشم و دل عاشق میںانہیں دو چار گھروں میں ہے ٹھکانا تیرا
ترک عادت سے مجھے نیند نہیں آنے کیکہیں نیچا نہ ہو اے گور سرہانا تیرا
میں جو کہتا ہوں اٹھائے ہیں بہت رنج فراقوہ یہ کہتے ہیں بڑا دل ہے توانا تیرا
بزم دشمن سے تجھے کون اٹھا سکتا ہےاک قیامت کا اٹھانا ہے اٹھانا تیرا
اپنی آنکھوں میں ابھی کوند گئی بجلی سیہم نہ سمجھے کہ یہ آنا ہے کہ جانا تیرا
یوں تو کیا آئے گا تو فرط نزاکت سے یہاںسخت دشوار ہے دھوکے میں بھی آنا تیرا
داغؔ کو یوں وہ مٹاتے ہیں یہ فرماتے ہیںتو بدل ڈال ہوا نام پرانا تیرا
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتاکبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتاترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتاتمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا
غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتےیہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا
یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتینہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا
نہ مزا ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میںکوئی غیر غیر ہوتا کوئی یار یار ہوتا
ترے وعدے پر ستم گر ابھی اور صبر کرتےاگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا
یہ وہ درد دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئیاگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا
گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشم مست دیکھیمجھے کیا الٹ نہ دیتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتےدر یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا
تمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داغؔ کا دلیہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا
بات میری کبھی سنی ہی نہیںجانتے وہ بری بھلی ہی نہیں
دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیںرنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہدہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
اڑ گئی یوں وفا زمانے سےکبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں
جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میںتم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں
ہم تو دشمن کو دوست کر لیتےپر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں
ہم تری آرزو پہ جیتے ہیںیہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں
دل لگی دل لگی نہیں ناصحتیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں
داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتاوہ شکایت کا آدمی ہی نہیں
ناروا کہئے ناسزا کہئےکہئے کہئے مجھے برا کہئے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہئےایسے جھوٹے کو اور کیا کہئے
درد دل کا نہ کہئے یا کہئےجب وہ پوچھے مزاج کیا کہئے
پھر نہ رکئے جو مدعا کہئےایک کے بعد دوسرا کہئے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیںیہ نہ کہئے کہ مدعا کہئے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیںمانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہئے
دل میں رکھنے کی بات ہے غم عشقاس کو ہرگز نہ برملا کہئے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نےکہنے والوں کو اور کیا کہئے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھیحال دل سب سے جا بجا کہئے
مجھ کو کہئے برا نہ غیر کے ساتھجو ہو کہنا جدا جدا کہئے
انتہا عشق کی خدا جانےدم آخر کو ابتدا کہئے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلبآپ اپنا تو مدعا کہئے
ایسی کشتی کا ڈوبنا اچھاکہ جو دشمن کو ناخدا کہئے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہےپر اسے دیر آشنا کہئے
آ گئی آپ کو مسیحائیمرنے والوں کو مرحبا کہئے
آپ کا خیر خواہ میرے سواہے کوئی اور دوسرا کہئے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پرمجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہئے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کےداغؔ کو اور باوفا کہئے
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کایاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا
تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آجائےمیں سناؤں جو کبھی دل سےفسانا دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلےان کا جانا تھا الہٰی کہ یہ جانا دل کا
حور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تماور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
چھوڑ کر اس کو تیری بزم سے کیوںکر جاؤںاک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا
بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیںکر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا
بعد مدت کے یہ اے “داغ“ سمجھ میںآیاوہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا
آرزو ہے وفا کرے کوئیجی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
گر مرض ہو دوا کرے کوئیمرنے والے کا کیا کرے کوئی
کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیااپنے حق میں دعا کرے کوئی
ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیںمیرا مطلب ادا کرے کوئی
چاہ سے آپ کو تو نفرت ہےمجھ کو چاہے خدا کرے کوئی
اس گلے کو گلہ نہیں کہتےگر مزے کا گلا کرے کوئی
یہ ملی داد رنج فرقت کیاور دل کا کہا کرے کوئی
تم سراپا ہو صورت تصویرتم سے پھر بات کیا کرے کوئی
کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریمکیوں ہماری خطا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوںایسی جنت کو کیا کرے کوئی
اس جفا پر تمہیں تمنا ہےکہ مری التجا کرے کوئی
منہ لگاتے ہی داغؔ اترایالطف ہے پھر جفا کرے کوئی
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیاجھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیںالٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا
ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میںسنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا
کیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میںوہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا
دیکھا ہے بتکدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا
افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیںلیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا
گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکرمجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا
بزم عدو میں صورت پروانہ دل مراگو رشک سے جلا ترے قربان تو گیا
ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکےاب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
تیور ترے اے رشک قمر دیکھ رہے ہیںہم شام سے آثار سحر دیکھ رہے ہیں
میرا دل گم گشتہ جو ڈھونڈا نہیں ملتاوہ اپنا دہن اپنی کمر دیکھ رہے ہیں
کوئی تو نکل آئے گا سر باز محبتدل دیکھ رہے ہیں وہ جگر دیکھ رہے ہیں
ہے مجمع اغیار کہ ہنگامۂ محشرکیا سیر مرے دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں
اب اے نگہ شوق نہ رہ جائے تمنااس وقت ادھر سے وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامتہم کوئی دن اس کو بھی مگر دیکھ رہے ہیں
آمد ہے کسی کی کہ گیا کوئی ادھر سےکیوں سب طرف راہ گزر دیکھ رہے ہیں
تکرار تجلی نے ترے جلوے میں کیوں کیحیرت زدہ سب اہل نظر دیکھ رہے ہیں
نیرنگ ہے ایک ایک ترا دید کے قابلہم اے فلک شعبدہ گر دیکھ رہے ہیں
کب تک ہے تمہارا سخن تلخ گوارااس زہر میں کتنا ہے اثر دیکھ رہے ہیں
کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپناکچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں
اب تک تو جو قسمت نے دکھایا وہی دیکھاآئندہ ہو کیا نفع و ضرر دیکھ رہے ہیں
پہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبتاب آنکھ سے وہ آٹھ پہر دیکھ رہے ہیں
کیوں کفر ہے دیدار صنم حضرت واعظاللہ دکھاتا ہے بشر دیکھ رہے ہیں
خط غیر کا پڑھتے تھے جو ٹوکا تو وہ بولےاخبار کا پرچہ ہے خبر دیکھ رہے ہیں
پڑھ پڑھ کے وہ دم کرتے ہیں کچھ ہاتھ پر اپنےہنس ہنس کے مرے زخم جگر دیکھ رہے ہیں
میں داغؔ ہوں مرتا ہوں ادھر دیکھیے مجھ کومنہ پھیر کے یہ آپ کدھر دیکھ رہے ہیں
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلومکسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم
یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گےمگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم
بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیںحیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم
قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرحبسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم
یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کوکہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم
جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہےاس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم
کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیںانہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم
خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئیاٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم
ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میںاٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم
جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھوچھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہےمری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میںکوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے
پس پردہ بھی لیلیٰ ہاتھ رکھ لیتی ہے آنکھوں پرغبار ناتوان قیس جب محمل سے ملتا ہے
بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبیملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے
مجھے آتا ہے کیا کیا رشک وقت ذبح اس سے بھیگلا جس دم لپٹ کر خنجر قاتل سے ملتا ہے
بظاہر با ادب یوں حضرت ناصح سے ملتا ہوںمرید خاص جیسے مرشد کامل سے ملتا ہے
مثال گنج قاروں اہل حاجت سے نہیں چھپتاجو ہوتا ہے سخی خود ڈھونڈ کر سائل سے ملتا ہے
جواب اس بات کا اس شوخ کو کیا دے سکے کوئیجو دل لے کر کہے کم بخت تو کس دل سے ملتا ہے
چھپائے سے کوئی چھپتی ہے اپنے دل کی بیتابیکہ ہر تار نفس اپنا رگ بسمل سے ملتا ہے
عدم کی جو حقیقت ہے وہ پوچھو اہل ہستی سےمسافر کو تو منزل کا پتا منزل سے ملتا ہے
غضب ہے داغؔ کے دل سے تمہارا دل نہیں ملتاتمہارا چاند سا چہرہ مہ کامل سے ملتا ہے
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتےاجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئیبہت دیر کی مہرباں آتے آتے
سنا ہے کہ آتا ہے سر نامہ بر کاکہاں رہ گیا ارمغاں آتے آتے
یقیں ہے کہ ہو جائے آخر کو سچیمرے منہ میں تیری زباں آتے آتے
سنانے کے قابل جو تھی بات ان کووہی رہ گئی درمیاں آتے آتے
مجھے یاد کرنے سے یہ مدّعا تھانکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے
ابھی سن ہی کیا ہے، جو بے باکیاں ہوںاُنہیں آئیں گی شوخیاں آتے آتے
کلیجا مرے منہ کو آئے گا اِک دنیونہی لب پر آہ و فغاں آتے آتے
چلے آتے ہیں دل میں ارمان لاکھوںمکاں بھر گیا مہماں آتے آتے
نتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامیوہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتے
تمہارا ہی مشتاقِ دیدار ہو گاگیا جان سے اک جواں آتے آتے
تری آنکھ پھرتے ہی کیسا پھرا ہےمری راہ پر آسماں آتے آتے
پڑا ہے بڑا پیچ پھر دل لگی میںطبیعت رکی ہے جہاں آتے آتے
مرے آشیاں کے تو تھے چار تنکےچمن اُڑ گیا آندھیاں آتے آتے
کسی نے کچھ ان کو ابھارا تو ہوتانہ آتے، نہ آتے، یہاں آتے آتے
قیامت بھی آتی تھی ہمراہ اس کےمگر رہ گئی ہم عناں آتے آتے
بنا ہے ہمیشہ یہ دل باغ و صحرابہار آتے آتے، خزاں آتے آتے
نہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دوکہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہےرنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانےتو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے
تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے اندازوہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے
انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسمخاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے
دوستی میں تری در پردہ ہمارے دشمناس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے
اس نہیں کا کوئی علاج نہیںروز کہتے ہیں آپ آج نہیں
کل جو تھا آج وہ مزاج نہیںاس تلون کا کچھ علاج نہیں
آئنہ دیکھتے ہی اترائےپھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں
لے کے دل رکھ لو کام آئے گاگو ابھی تم کو احتیاج نہیں
ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکرہم کو ملتا ترا مزاج نہیں
چپ لگی لعل جاں فزا کو ترےاس مسیحا کا کچھ علاج نہیں
دل بے مدعا خدا نے دیااب کسی شے کی احتیاج نہیں
کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرادرہم داغ کا رواج نہیں
بے نیازی کی شان کہتی ہےبندگی کی کچھ احتیاج نہیں
دل لگی کیجئے رقیبوں سےاس طرح کا مرا مزاج نہیں
عشق ہے پادشاہ عالم گیرگرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں
درد فرقت کی گو دوا ہے وصالاس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں
یاس نے کیا بجھا دیا دل کوکہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں
ہم تو سیرت پسند عاشق ہیںخوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں
حور سے پوچھتا ہوں جنت میںاس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں
صبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گےابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیںتجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں
ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیںوہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں
زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیںہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
پھرے بت کدے سے تو اے اہل کعبہپھر آ کر تمہارے قدم دیکھتے ہیں
ہمیں چشم بینا دکھاتی ہے سب کچھوہ اندھے ہیں جو جام جم دیکھتے ہیں
نہ ایمائے خواہش نہ اظہار مطلبمرے منہ کو اہل کرم دیکھتے ہیں
کبھی توڑتے ہیں وہ خنجر کو اپنےکبھی نبض بسمل میں دم دیکھتے ہیں
غنیمت ہے چشم تغافل بھی ان کیبہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں
غرض کیا کہ سمجھیں مرے خط کا مضموںوہ عنوان و طرز رقم دیکھتے ہیں
سلامت رہے دل برا ہے کہ اچھاہزاروں میں یہ ایک دم دیکھتے ہیں
رہا کون محفل میں اب آنے والاوہ چاروں طرف دم بدم دیکھتے ہیں
ادھر شرم حائل ادھر خوف مانعنہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں
انہیں کیوں نہ ہو دل ربائی سے نفرتکہ ہر دل میں وہ غم الم دیکھتے ہیں
نگہباں سے بھی کیا ہوئی بد گمانیاب اس کو ترے ساتھ کم دیکھتے ہیں
ہمیں داغؔ کیا کم ہے یہ سرفرازیکہ شاہ دکن کے قدم دیکھتے ہیں
بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیںکسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں
دلوں پر سیکڑوں سکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیںکلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں
الٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہےہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں
یہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں ہے اے دل ناداںابھی پھر روٹھ جائیں گے ابھی تو من کے بیٹھے ہیں
اثر ہے جذب الفت میں تو کھنچ کر آ ہی جائیں گےہمیں پروا نہیں ہم سے اگر وہ تن کے بیٹھے ہیں
سبک ہو جائیں گے گر جائیں گے وہ بزم دشمن میںکہ جب تک گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں
فسوں ہے یا دعا ہے یا معمہ کھل نہیں سکتاوہ کچھ پڑھتے ہوئے آگے مرے مدفن کے بیٹھے ہیں
بہت رویا ہوں میں جب سے یہ میں نے خواب دیکھا ہےکہ آپ آنسو بہاتے سامنے دشمن کے بیٹھے ہیں
کھڑے ہوں زیر طوبیٰ وہ نہ دم لینے کو دم بھر بھیجو حسرت مند تیرے سایۂ دامن کے بیٹھے ہیں
تلاش منزل مقصد کی گردش اٹھ نہیں سکتیکمر کھولے ہوئے رستے میں ہم رہزن کے بیٹھے ہیں
یہ جوش گریہ تو دیکھو کہ جب فرقت میں رویا ہوںدر و دیوار اک پل میں مرے مدفن کے بیٹھے ہیں
نگاہ شوخ و چشم شوق میں در پردہ چھنتی ہےکہ وہ چلمن میں ہیں نزدیک ہم چلمن کے بیٹھے ہیں
یہ اٹھنا بیٹھنا محفل میں ان کا رنگ لائے گاقیامت بن کے اٹھیں گے بھبوکا بن کے بیٹھے ہیں
کسی کی شامت آئے گی کسی کی جان جائے گیکسی کی تاک میں وہ بام پر بن ٹھن کے بیٹھے ہیں
قسم دے کر انہیں یہ پوچھ لو تم رنگ ڈھنگ اس کےتمہاری بزم میں کچھ دوست بھی دشمن کے بیٹھے ہیں
کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیںعظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں
دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریںجانے والی چیز کا غم کیا کریں
ہم نے مر کر ہجر میں پائی شفاایسے اچھوں کا وہ ماتم کیا کریں
اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجاتاس بنا پر فکر عالم کیا کریں
ایک ساغر پر ہے اپنی زندگیرفتہ رفتہ اس سے بھی کم کیا کریں
کر چکے سب اپنی اپنی حکمتیںدم نکلتا ہو تو ہمدم کیا کریں
دل نے سیکھا شیوۂ بیگانگیایسے نامحرم کو محرم کیا کریں
معرکہ ہے آج حسن و عشق کادیکھیے وہ کیا کریں ہم کیا کریں
آئینہ ہے اور وہ ہیں دیکھیےفیصلہ دونوں یہ باہم کیا کریں
آدمی ہونا بہت دشوار ہےپھر فرشتے حرص آدم کیا کریں
تند خو ہے کب سنے وہ دل کی باتاور بھی برہم کو برہم کیا کریں
حیدرآباد اور لنگر یاد ہےاب کے دلی میں محرم کیا کریں
کہتے ہیں اہل سفارش مجھ سے داغؔتیری قسمت ہے بری ہم کیا کریں
رنج کی جب گفتگو ہونے لگیآپ سے تم تم سے تو ہونے لگی
چاہیئے پیغام بر دونوں طرفلطف کیا جب دوبدو ہونے لگی
میری رسوائی کی نوبت آ گئیان کی شہرت کو بہ کو ہونے لگی
ہے تری تصویر کتنی بے حجابہر کسی کے رو بہ رو ہونے لگی
غیر کے ہوتے بھلا اے شام وصلکیوں ہمارے رو بہ رو ہونے لگی
ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدرآرزو کی آرزو ہونے لگی
اب کے مل کر دیکھیے کیا رنگ ہوپھر ہماری جستجو ہونے لگی
داغؔ اترائے ہوئے پھرتے ہیں آجشاید ان کی آبرو ہونے لگی
کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہوجاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو
مطلب کی کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیںمطلب کی پوچھتے ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو
آتا ہے بعد ظلم تمہیں کو تو رحم بھیاپنے کیے سے دل میں پشیماں تمہیں تو ہو
پچھتاؤ گے بہت مرے دل کو اجاڑ کراس گھر میں اور کون ہے مہماں تمہیں تو ہو
اک روز رنگ لائیں گی یہ مہربانیاںہم جانتے تھے جان کے خواہاں تمہیں تو ہو
دل دار و دل فریب دل آزار و دل ستاںلاکھوں میں ہم کہیں گے کہ ہاں ہاں تمہیں تو ہو
کرتے ہو داغؔ دور سے بت خانے کو سلاماپنی طرح کے ایک مسلماں تمہیں تو ہو
غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیاجھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا
ان کے گھر داغؔ جا کے دیکھ لیادل کے کہنے میں آ کے دیکھ لیا
کتنی فرحت فزا تھی بوئے وفااس نے دل کو جلا کے دیکھ لیا
کبھی غش میں رہا شب وعدہکبھی گردن اٹھا کے دیکھ لیا
جنس دل ہے یہ وہ نہیں سوداہر جگہ سے منگا کے دیکھ لیا
لوگ کہتے ہیں چپ لگی ہے تجھےحال دل بھی سنا کے دیکھ لیا
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفابارہا آزما کے دیکھ لیا
زخم دل میں نہیں ہے قطرۂ خوںخوب ہم نے دکھا کے دیکھ لیا
ادھر آئینہ ہے ادھر دل ہےجس کو چاہا اٹھا کے دیکھ لیا
ان کو خلوت سرا میں بے پردہصاف میدان پا کے دیکھ لیا
اس نے صبح شب وصال مجھےجاتے جاتے بھی آ کے دیکھ لیا
تم کو ہے وصل غیر سے انکاراور جو ہم نے آ کے دیکھ لیا
داغؔ نے خوب عاشقی کا مزاجل کے دیکھا جلا کے دیکھ لیا
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہےمجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
سن کے مرا فسانہ انہیں لطف آ گیاسنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے
پیغام بر کی بات پر آپس میں رنج کیامیری زبان کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے
کچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیےہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے
جاں بر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جاںکیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے
حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پرکہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے
وقت خرام ناز دکھا دو جدا جدایہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے
فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملےدن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے
قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرحچھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے
جور رقیب و ظلم فلک کا نہیں خیالتشویش ایک خاطر نامہرباں کی ہے
سن کر مرا فسانۂ غم اس نے یہ کہاہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے
دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھاخنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے
ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبارکیا جانے گرد راہ یہ کس کارواں کی ہے
کیونکہ نہ آتے خلد سے آدم زمین پرموزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے
تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میںتدبیر کوئی بھی ستم ناگہاں کی ہے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیںجہاں بجتے ہیں نقارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں
گلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات تو گزریپریشاں تم بھی ہوتے ہو پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں
جو رکھے چارہ گر کافور دونی آگ لگ جائےکہیں یہ زخم دل شرمندہ مرہم بھی ہوتے ہیں
وہ آنکھیں سامری فن ہیں وہ لب عیسیٰ نفس دیکھومجھی پر سحر ہوتے ہیں مجھی پر دم بھی ہوتے ہیں
زمانہ دوستی پر ان حسینوں کی نہ اترائےیہ عالم دوست اکثر دشمن عالم بھی ہوتے ہیں
بظاہر رہنما ہیں اور دل میں بدگمانی ہےترے کوچے میں جو جاتا ہے آگے ہم بھی ہوتے ہیں
ہمارے آنسوؤں کی آبداری اور ہی کچھ ہےکہ یوں ہونے کو روشن گوہر شبنم بھی ہوتے ہیں
خدا کے گھر میں کیا ہے کام زاہد بادہ خواروں کاجنہیں ملتی نہیں وہ تشنۂ زمزم بھی ہوتے ہیں
ہمارے ساتھ ہی پیدا ہوا ہے عشق اے ناصحجدائی کس طرح سے ہو جدا توام بھی ہوتے ہیں
نہیں گھٹتی شب فرقت بھی اکثر ہم نے دیکھا ہےجو بڑھ جاتے ہیں حد سے وہ ہی گھٹ کر کم بھی ہوتے ہیں
بچاؤں پیرہن کیا چارہ گر میں دست وحشت سےکہیں ایسے گریباں دامن مریم بھی ہوتے ہیں
طبیعت کی کجی ہرگز مٹائے سے نہیں مٹتیکبھی سیدھے تمہارے گیسوئے پر خم بھی ہوتے ہیں
جو کہتا ہوں کہ مرتا ہوں تو فرماتے ہیں مر جاؤجو غش آتا ہے تو مجھ پر ہزاروں دم بھی ہوتے ہیں
کسی کا وعدۂ دیدار تو اے داغؔ برحق ہےمگر یہ دیکھیے دل شاد اس دن ہم بھی ہوتے ہیں
دل کو کیا ہو گیا خدا جانےکیوں ہے ایسا اداس کیا جانے
اپنے غم میں بھی اس کو صرفہ ہےنہ کھلا جانے وہ نہ کھا جانے
اس تجاہل کا کیا ٹھکانا ہےجان کر جو نہ مدعا جانے
کہہ دیا میں نے راز دل اپنااس کو تم جانو یا خدا جانے
کیا غرض کیوں ادھر توجہ ہوحال دل آپ کی بلا جانے
جانتے جانتے ہی جانے گامجھ میں کیا ہے ابھی وہ کیا جانے
کیا ہم اس بد گماں سے بات کریںجو ستائش کو بھی گلہ جانے
تم نہ پاؤ گے سادہ دل مجھ ساجو تغافل کو بھی حیا جانے
ہے عبث جرم عشق پر الزامجب خطاوار بھی خطا جانے
نہیں کوتاہ دامن امیدآگے اب دست نارسا جانے
جو ہو اچھا ہزار اچھوں کاواعظ اس بت کو تو برا جانے
کی مری قدر مثل شاہ دکنکسی نواب نے نہ راجا نے
اس سے اٹھے گی کیا مصیبت عشقابتدا کو جو انتہا جانے
داغؔ سے کہہ دو اب نہ گھبراؤکام اپنا بتا ہوا جانے
اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیےاللہ تیری شان کے قربان جائیے
بگڑے ہوئے مزاج کو پہچان جائیےسیدھی طرح نہ مانئے گا مان جائیے
کس کا ہے خوف روکنے والا ہی کون ہےہر روز کیوں نہ جائیے مہمان جائیے
محفل میں کس نے آپ کو دل میں چھپا لیااتنوں میں کون چور ہے پہچان جائیے
ہیں تیوری میں بل تو نگاہیں پھری ہوئیجاتے ہیں ایسے آنے سے اوسان جائیے
دو مشکلیں ہیں ایک جتانے میں شوق کےپہلے تو جان جائیے پھر مان جائیے
انسان کو ہے خانۂ ہستی میں لطف کیامہمان آئیے تو پشیمان جائیے
گو وعدۂ وصال ہو جھوٹا مزہ تو ہےکیوں کر نہ ایسے جھوٹ کے قربان جائیے
رہ جائے بعد وصل بھی چیٹک لگی ہوئیکچھ رکھئے کچھ نکال کے ارمان جائیے
اچھی کہی کہ غیر کے گھر تک ذرا چلومیں آپ کا نہیں ہوں نگہبان جائیے
آئے ہیں آپ غیر کے گھر سے کھڑے کھڑےیہ اور کو جتایئے احسان، جائیے
دونوں سے امتحان وفا پر یہ کہہ دیامنوائیے رقیب کو یا مان جائیے
کیا بدگمانیاں ہیں انہیں مجھ کو حکم ہےگھر میں خدا کے بھی تو نہ مہمان جائیے
کیا فرض ہے کہ سب مری باتیں قبول ہیںسن سن کے کچھ نہ مانئے کچھ مان جائیے
سودائیان زلف میں کچھ تو لٹک بھی ہوجنت میں جائیے تو پریشان جائیے
دل کو جو دیکھ لو تو یہی پیار سے کہوقربان جائیے ترے قربان جائیے
دل کو جو دیکھ لو تو یہی پیار سے کہوقربان جائیے ترے قربان جائیے
جانے نہ دوں گا آپ کو بے فیصلہ ہوئےدل کے مقدمے کو ابھی چھان جائیے
یہ تو بجا کہ آپ کو دنیا سے کیا غرضجاتی ہے جس کی جان اسے جان جائیے
غصے میں ہاتھ سے یہ نشانی نہ گر پڑےدامن میں لے کے میرا گریبان جائیے
یہ مختصر جواب ملا عرض وصل پردل مانتا نہیں کہ تری مان جائیے
وہ آزمودہ کار تو ہے گر ولی نہیںجو کچھ بتائیے داغؔ اسے مان جائیے
کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیادیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا
میرے قابو میں نہ پہروں دل ناشاد آیاوہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا
کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیاکہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا
لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میںکس مصیبت سے ترا کشتۂ بیداد آیا
جذب وحشت ترے قربان ترا کیا کہناکھنچ کے رگ رگ میں مرے نشتر فصاد آیا
اس کے جلوے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھاداد لینے کے لیے حسن خداداد آیا
بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہےجو کیا تو نے وہ آگے ترے فرہاد آیا
دل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیںکام کس کس کے مرا خرمن برباد آیا
عشق کے آتے ہی منہ پر مرے پھولی ہے بسنتہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا
ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھناجب مرے ہاتھ کوئی خامۂ فولاد آیا
عید ہے قتل مرا اہل تماشا کے لیےسب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا
چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والےکام عقبیٰ میں ہمارا دل ناشاد آیا
دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی راتہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
میرے نالے نے سنائی ہے کھری کس کس کومنہ فرشتوں پہ یہ گستاخ یہ آزاد آیا
غم جاوید نے دی مجھ کو مبارک بادیجب سنا یہ کہ انہیں شیوۂ بیداد آیا
میں تمنائے شہادت کا مزا بھول گیاآج اس شوق سے ارمان سے جلاد آیا
شادیانہ جو دیا نالہ و شیون نے دیاجب ملاقات کو ناشاد کی ناشاد آیا
لیجئے سنئے اب افسانۂ فرقت مجھ سےآپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیںہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا
سبق ایسا پڑھا دیا تو نےدل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے
ہم نکمے ہوئے زمانے کےکام ایسا سکھا دیا تو نے
کچھ تعلق رہا نہ دنیا سےشغل ایسا بتا دیا تو نے
کس خوشی کی خبر سنا کے مجھےغم کا پتلا بنا دیا تو نے
کیا بتاؤں کہ کیا لیا میں نےکیا کہوں میں کی کیا دیا تو نے
بے طلب جو ملا ملا مجھ کوبے غرض جو دیا دیا تو نے
عمر جاوید خضر کو بخشیآب حیواں پلا دیا تو نے
نار نمرود کو کیا گلزاردوست کو یوں بچا دیا تو نے
دست موسیٰ میں فیض بخشش ہےنور و لوح و عصا دیا تو نے
صبح موج نسیم گلشن کونفس جاں فزا دیا تو نے
شب تیرہ میں شمع روشن کونور خورشید کا دیا تو نے
نغمہ بلبل کو رنگ و بو گل کودلکش و خوش نما دیا تو نے
کہیں مشتاق سے حجاب ہواکہیں پردہ اٹھا دیا تو نے
تھا مرا منہ نہ قابل لبیککعبہ مجھ کو دکھا دیا تو نے
جس قدر میں نے تجھ سے خواہش کیاس سے مجھ کو سوا دیا تو نے
رہبر خضر و ہادی الیاسمجھ کو وہ رہنما دیا تو نے
مٹ گئے دل سے نقش باطل سبنقشہ اپنا جما دیا تو نے
ہے یہی راہ منزل مقصودخوب رستے لگا دیا تو نے
مجھ گنہ گار کو جو بخش دیاتو جہنم کو کیا دیا تو نے
داغؔ کو کون دینے والا تھاجو دیا اے خدا دیا تو نے
وہ زمانہ نظر نہیں آتاکچھ ٹھکانا نظر نہیں آتا
جان جاتی دکھائی دیتی ہےان کا آنا نظر نہیں آتا
عشق درپردہ پھونکتا ہے آگیہ جلانا نظر نہیں آتا
اک زمانہ مری نظر میں رہااک زمانہ نظر نہیں آتا
دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیااٹھ کے جانا نظر نہیں آتا
رہیے مشتاق جلوۂ دیدارہم نے مانا نظر نہیں آتا
لے چلو مجھ کو راہروان عدمیاں ٹھکانا نظر نہیں آتا
دل پہ بیٹھا کہاں سے تیر نگاہیہ نشانہ نظر نہیں آتا
تم ملاؤگے خاک میں ہم کودل ملانا نظر نہیں آتا
آپ ہی دیکھتے ہیں ہم کو تودل کا آنا نظر نہیں آتا
دل پر آرزو لٹا اے داغؔوہ خزانہ نظر نہیں آتا
دل چرا کر نظر چرائی ہےلٹ گئے لٹ گئے دہائی ہے
ایک دن مل کے پھر نہیں ملتےکس قیامت کی یہ جدائی ہے
اے اثر کر نہ انتظار دعامانگنا سخت بے حیائی ہے
میں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرانارسائی عجب رسائی ہے
اس طرح اہل ناز ناز کریںبندگی ہے کہ یہ خدائی ہے
پانی پی پی کے توبہ کرتا ہوںپارسائی سی پارسائی ہے
وعدہ کرنے کا اختیار رہابات کرنے میں کیا برائی ہے
کب نکلتا ہے اب جگر سے تیریہ بھی کیا تیری آشنائی ہے
داغؔ ان سے دماغ کرتے ہیںنہیں معلوم کیا سمائی ہے
تیری صورت کو دیکھتا ہوں میںاس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں
جب ہوئی صبح آ گئے ناصحانہیں حضرت کو دیکھتا ہوں میں
وہ مصیبت سنی نہیں جاتیجس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں
دیکھنے آئے ہیں جو میری نبضان کی صورت کو دیکھتا ہوں میں
موت مجھ کو دکھائی دیتی ہےجب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں
شب فرقت اٹھا اٹھا کر سرصبح عشرت کو دیکھتا ہوں میں
دور بیٹھا ہوا سر محفلرنگ صحبت کو دیکھتا ہوں میں
ہر مصیبت ہے بے مزا شب غمآفت آفت کو دیکھتا ہوں میں
نہ محبت کو جانتے ہو تمنہ مروت کو دیکھتا ہوں میں
کوئی دشمن کو یوں نہ دیکھے گاجیسے قسمت کو دیکھتا ہوں میں
حشر میں داغؔ کوئی دوست نہیںساری خلقت کو دیکھتا ہوں میں
یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہےدبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے
ٹھہر ٹھہر کے جلا دل کو ایک بار نہ پھونککہ اس میں بوئے محبت ابھی نکلتی ہے
بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کومری زباں سے کروں کیا یہی نکلتی ہے
خوشی میں ہم نے یہ شوخی کبھی نہیں دیکھیدم عتاب جو رنگت تری نکلتی ہے
ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصلدعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے
ادا سے تیری مگر کھنچ رہیں ہیں تلواریںنگہ نگہ سے چھری پر چھری نکلتی ہے
محیط عشق میں ہے کیا امید و بیم مجھےکہ ڈوب ڈوب کے کشتی مری نکلتی ہے
جھلک رہی ہے سر شاخ مژہ خون کی بوندشجر میں پہلے ثمر سے کلی نکلتی ہے
شب فراق جو کھولے ہیں ہم نے زخم جگریہ انتظار ہے کب چاندنی نکلتی ہے
سمجھ تو لیجئے کہنے تو دیجئے مطلببیاں سے پہلے ہی مجھ پر چھری نکلتی ہے
یہ دل کی آگ ہے یا دل کے نور کا ہے ظہورنفس نفس میں مرے روشنی نکلتی ہے
کہا جو میں نے کہ مر جاؤں گا تو کہتے ہیںہمارے زائچے میں زندگی نکلتی ہے
سمجھنے والے سمجھتے ہیں پیچ کی تقریرکہ کچھ نہ کچھ تری باتوں میں فی نکلتی ہے
دم اخیر تصور ہے کس پری وش کاکہ میری روح بھی بن کر پری نکلتی ہے
صنم کدے میں بھی ہے حسن اک خدائی کاکہ جو نکلتی ہے صورت پری نکلتی ہے
مرے نکالے نہ نکلے گی آرزو میریجو تم نکالنا چاہو ابھی نکلتی ہے
غم فراق میں ہو داغؔ اس قدر بیتابذرا سے رنج میں جاں آپ کی نکلتی ہے
دل ناکام کے ہیں کام خرابکر لیا عاشقی میں نام خراب
اس خرابات کا یہی ہے مزہکہ رہے آدمی مدام خراب
دیکھ کر جنس دل وہ کہتے ہیںکیوں کرے کوئی اپنے دام خراب
ابر تر سے صبا ہی اچھی تھیمیری مٹی ہوئی تمام خراب
وہ بھی ساقی مجھے نہیں دیتاوہ جو ٹوٹا پڑا ہے جام خراب
کیا ملا ہم کو زندگی کے سواوہ بھی دشوار ناتمام خراب
واہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیںخوب رو ہو کے یہ کلام خراب
چال کی رہنمائے عشق نے بھیوہ دکھایا جو تھا مقام خراب
داغؔ ہے بدچلن تو ہونے دوسو میں ہوتا ہے اک غلام خراب
غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہمدل خون میں نہائے تو گنگا نہائیں ہم
جنت میں جائیں ہم کہ جہنم میں جائیں ہممل جائے تو کہیں نہ کہیں تجھ کو پائیں ہم
جوف فلک میں خاک بھی لذت نہیں رہیجی چاہتا ہے تیری جفائیں اٹھائیں ہم
ڈر ہے نہ بھول جائے وہ سفاک روز حشردنیا میں لکھتے جاتے ہیں اپنی خطائیں ہم
ممکن ہے یہ کہ وعدے پر اپنے وہ آ بھی جائےمشکل یہ ہے کہ آپ میں اس وقت آئیں ہم
ناراض ہو خدا تو کریں بندگی سے خوشمعشوق روٹھ جائے تو کیونکر منائیں ہم
سر دوستوں کا کاٹ کے رکھتے ہیں سامنےغیروں سے پوچھتے ہیں قسم کس کی کھائیں ہم
کتنا ترا مزاج خوشامد پسند ہےکب تک کریں خدا کے لیے التجائیں ہم
لالچ عبث ہے دل کا تمہیں وقت واپسیںیہ مال وہ نہیں کہ جسے چھوڑ جائیں ہم
سونپا تمہیں خدا کو چلے ہم تو نامرادکچھ پڑھ کے بخشنا جو کبھی یاد آئیں ہم
سوز دروں سے اپنے شرر بن گئے ہیں اشککیوں آہ سرد کو نہ پتنگے لگائیں ہم
یہ جان تم نہ لوگے اگر آپ جائے گیاس بے وفا کی خیر کہاں تک منائیں ہم
ہمسائے جاگتے رہے نالوں سے رات بھرسوئے ہوئے نصیب کو کیونکر جگائیں ہم
جلوہ دکھا رہا ہے وہ آئینۂ جمالآتی ہے ہم کو شرم کہ کیا منہ دکھائیں ہم
مانو کہا جفا نہ کرو تم وفا کے بعدایسا نہ ہو کہ پھیر لیں الٹی دعائیں ہم
دشمن سے ملتے جلتے ہیں خاطر سے دوستیکیا فائدہ جو دوست کو دشمن بنائیں ہم
تو بھولنے کی چیز نہیں خوب یاد رکھاے داغؔ کس طرح تجھے دل سے بھلائیں ہم
تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤمری طرف بھی تو سرکار دیکھتے جاؤ
نہ جاؤ حال دل زار دیکھتے جاؤکہ جی نہ چاہے تو ناچار دیکھتے جاؤ
بہار عمر میں باغ جہاں کی سیر کروکھلا ہوا ہے یہ گلزار دیکھتے جاؤ
یہی تو چشم حقیقت نگر کا سرمہ ہےنزاع کافر و دیں دار دیکھتے جاؤ
اٹھاؤ آنکھ نہ شرماؤ یہ تو محفل ہےغضب سے جانب اغیار دیکھتے جاؤ
نہیں ہے جنس وفا کی تمہیں جو قدر نہ ہوبنیں گے کتنے خریدار دیکھتے جاؤ
تمہیں غرض جو کرو رحم پائمالوں پرتم اپنی شوخیٔ رفتار دیکھتے جاؤ
قسم بھی کھائی تھی قرآن بھی اٹھایا تھاپھر آج ہے وہی انکار دیکھتے جاؤ
یہ شامت آئی کہ اس کی گلی میں دل نے کہاکھلا ہے روزن دیوار دیکھتے جاؤ
ہوا ہے کیا ابھی ہنگامہ اور کچھ ہوگافغاں میں حشر کے آثار دیکھتے جاؤ
شب وصال عدو کی یہی نشانی ہےنشان بوسۂ رخسار دیکھتے جاؤ
تمہاری آنکھ مرے دل سے لے سبب بے وجہہوئی ہے لڑنے کو تیار دیکھتے جاؤ
ادھر کو آ ہی گئے اب تو حضرت زاہدیہیں ہے خانۂ خمار دیکھتے جاؤ
رقیب برسر پرخاش ہم سے ہوتا ہےبڑھے گی مفت میں تکرار دیکھتے جاؤ
نہیں ہیں جرم محبت میں سب کے سب ملزمخطا معاف خطاوار دیکھتے جاؤ
دکھا رہی ہے تماشا فلک کی نیرنگینیا ہے شعبدہ ہر بار دیکھتے جاؤ
بنا دیا مری چاہت نے غیرت یوسفتم اپنی گرمئ بازار دیکھتے جاؤ
نہ جاؤ بند کئے آنکھ رہروان عدمادھر ادھر بھی خبردار دیکھتے جاؤ
سنی سنائی پہ ہرگز کبھی عمل نہ کروہمارے حال کے اخبار دیکھتے جاؤ
کوئی نہ کوئی ہر اک شعر میں ہے بات ضرورجناب داغؔ کے اشعار دیکھتے جاؤ
ساز یہ کینہ ساز کیا جانیںناز والے نیاز کیا جانیں
شمع رو آپ گو ہوئے لیکنلطف سوز و گداز کیا جانیں
کب کسی در کی جبہہ سائی کیشیخ صاحب نماز کیا جانیں
جو رہ عشق میں قدم رکھیںوہ نشیب و فراز کیا جانیں
پوچھئے مے کشوں سے لطف شرابیہ مزا پاکباز کیا جانیں
بلے چتون تری غضب ری نگاہکیا کریں گے یہ ناز کیا جانیں
جن کو اپنی خبر نہیں اب تکوہ مرے دل کا راز کیا جانیں
حضرت خضر جب شہید نہ ہوںلطف عمر دراز کیا جانیں
جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمےآپ بندہ نواز کیا جانیں
زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیںتجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیں
غیروں کی دوستی پر کیوں اعتبار کیجےیہ دشمنی کریں گے بیگانے آدمی ہیں
جو آدمی پہ گزری وہ اک سوا تمہارےکیا جی لگا کے سنتے افسانے آدمی ہیں
کیا جرأتیں جو ہم کو درباں تمہارا ٹوکےکہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے آدمی ہیں
مے بوند بھر پلا کر کیا ہنس رہا ہے ساقیبھر بھر کے پیتے آخر پیمانے آدمی ہیں
تم نے ہمارے دل میں گھر کر لیا تو کیا ہےآباد کرتے آخر ویرانے آدمی ہیں
ناصح سے کوئی کہہ دے کیجے کلام ایساحضرت کو تا کہ کوئی یہ جانے آدمی ہیں
جب داور قیامت پوچھے گا تم پہ رکھ کرکہہ دیں گے صاف ہم تو بیگانے آدمی ہیں
میں وہ بشر کہ مجھ سے ہر آدمی کو نفرتتم شمع وہ کہ تم پر پروانے آدمی ہیں
محفل بھری ہوئی ہے سودائیوں سے اس کیاس غیرت پری پر دیوانے آدمی ہیں
شاباش داغؔ تجھ کو کیا تیغ عشق کھائیجی کرتے ہیں وہی جو مردانے آدمی ہیں
ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھاحقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا
تجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہےکہ اپنا بھی ثانی نہ دیکھا نہ دیکھا
ان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نےہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا
نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیںنہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا
مریضان الفت کی کیا بے کسی ہےمسیحا کو بھی چارہ فرما نہ دیکھا
بہت درد مندوں کو دیکھا ہے تو نےیہ سینہ یہ دل یہ کلیجا نہ دیکھا
وہ کب دیکھ سکتا ہے اس کی تجلیجس انسان نے اپنا جلوا نہ دیکھا
بہت شور سنتے تھے اس انجمن کایہاں آ کے جو کچھ سنا تھا نہ دیکھا
صفائی ہے باغ محبت میں ایسیکہ باد صبا نے بھی تنکا نہ دیکھا
اسے دیکھ کر اور کو پھر جو دیکھےکوئی دیکھنے والا ایسا نہ دیکھا
وہ تھا جلوہ آرا مگر تو نے موسیٰنہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا
گیا کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہاذرا میرے آنے کا رستا نہ دیکھا
کہاں نقش اول کہاں نقش ثانیخدا کی خدائی میں تجھ سا نہ دیکھا
تری یاد ہے یا ہے تیرا تصورکبھی داغؔ کو ہم نے تنہا نہ دیکھا
عذر ان کی زبان سے نکلاتیر گویا کمان سے نکلا
وہ چھلاوا اس آن سے نکلاالاماں ہر زبان سے نکلا
خار حسرت بیان سے نکلادل کا کانٹا زبان سے نکلا
فتنہ گر کیا مکان سے نکلاآسماں آسمان سے نکلا
آ گیا غش نگاہ دیکھتے ہیمدعا کب زبان سے نکلا
کھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہمجھوٹ سچ امتحان سے نکلا
دل میں رہنے نہ دوں ترا شکوہدل میں آیا زبان سے نکلا
وہم آتے ہیں دیکھیے کیا ہووہ اکیلا مکان سے نکلا
تم برستے رہے سر محفلکچھ بھی میری زبان سے نکلا
سچ تو یہ ہے معاملہ دل کاباہر اپنے گمان سے نکلا
اس کو آیت حدیث کیا سمجھیںجو تمہاری زبان سے نکلا
پڑ گیا جو زباں سے تیری حرفپھر نہ اپنے مکان سے نکلا
دیکھ کر روئے یار صل علیٰبے تحاشا زبان سے نکلا
لو قیامت اب آئی وہ کافربن بنا کر مکان سے نکلا
مر گئے ہم مگر ترا ارماندل سے نکلا نہ جان سے نکلا
رہرو راہ عشق تھے لاکھوںآگے میں کاروان سے نکلا
سمجھو پتھر کی تم لکیر اسےجو ہماری زبان سے نکلا
بزم سے تم کو لے کے جائیں گےکام کب پھول پان سے نکلا
کیا مروت ہے ناوک دل دوزپہلے ہرگز نہ جان سے نکلا
تیرے دیوانوں کا بھی لشکر آجکس تجمل سے شان سے نکلا
مڑ کے دیکھا تو میں نے کب دیکھادور جب پاسبان سے نکلا
وہ ہلے لب تمہارے وعدے پروہ تمہاری زبان سے نکلا
اس کی بانکی ادا نے جب مارادم مرا آن تان سے نکلا
میرے آنسو کی اس نے کی تعریفخوب موتی یہ کان سے نکلا
ہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھےغیر کیوں درمیان سے نکلا
ذکر اہل وفا کا جب آیاداغؔ ان کی زبان سے نکلا
صاف کب امتحان لیتے ہیںوہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں
یوں ہے منظور خانہ ویرانیمول میرا مکان لیتے ہیں
تم تغافل کرو رقیبوں سےجاننے والے جان لیتے ہیں
پھر نہ آنا اگر کوئی بھیجےنامہ بر سے زبان لیتے ہیں
اب بھی گر پڑ کے ضعف سے نالےساتواں آسمان لیتے ہیں
تیرے خنجر سے بھی تو اے قاتلنوک کی نوجوان لیتے ہیں
اپنے بسمل کا سر ہے زانو پرکس محبت سے جان لیتے ہیں
یہ سنا ہے مرے لیے تلواراک مرے مہربان لیتے ہیں
یہ نہ کہہ ہم سے تیرے منہ میں خاکاس میں تیری زبان لیتے ہیں
کون جاتا ہے اس گلی میں جسےدور سے پاسبان لیتے ہیں
منزل شوق طے نہیں ہوتیٹھیکیاں ناتوان لیتے ہیں
کر گزرتے ہیں ہو بری کہ بھلیدل میں جو کچھ وہ ٹھان لیتے ہیں
وہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سےبیچ میں مجھ کو سان لیتے ہیں
ضد ہر اک بات پر نہیں اچھیدوست کی دوست مان لیتے ہیں
مستعد ہو کے یہ کہو تو سہیآئیے امتحان لیتے ہیں
داغؔ بھی ہے عجیب سحر بیاںبات جس کی وہ مان لیتے ہیں
ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لیناکن انکھیوں سے اس کو مگر دیکھ لینا
فقط نبض سے حال ظاہر نہ ہوگامرا دل بھی اے چارہ گر دیکھ لینا
کبھی ذکر دیدار آیا تو بولےقیامت سے بھی پیشتر دیکھ لینا
نہ دینا خط شوق گھبرا کے پہلےمحل موقع اے نامہ بر دیکھ لینا
کہیں ایسے بگڑے سنورتے بھی دیکھےنہ آئیں گے وہ راہ پر دیکھ لینا
تغافل میں شوخی نرالی ادا تھیغضب تھا وہ منہ پھیر کر دیکھ لینا
شب وعدہ اپنا یہی مشغلہ تھااٹھا کر نظر سوئے در دیکھ لینا
بلایا جو غیروں کو دعوت میں تم نےمجھے پیشتر اپنے گھر دیکھ لینا
محبت کے بازار میں اور کیا ہےکوئی دل دکھائے اگر دیکھ لینا
مرے سامنے غیر سے بھی اشارےادھر بھی ادھر دیکھ کر دیکھ لینا
نہ ہو نازک اتنا بھی مشاطہ کوئیدہن دیکھ لینا کمر دیکھ لینا
نہیں رکھنے دیتے جہاں پاؤں ہم کواسی آستانے پہ سر دیکھ لینا
تماشائے عالم کی فرصت ہے کس کوغنیمت ہے بس اک نظر دیکھ لینا
دیے جاتے ہیں آج کچھ لکھ کے تم کواسے وقت فرصت مگر دیکھ لینا
ہمیں جان دیں گے ہمیں مر مٹیں گےہمیں تم کسی وقت پر دیکھ لینا
جلایا تو ہے داغؔ کے دل کو تم نےمگر اس کا ہوگا اثر دیکھ لینا
اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیںکوئی جانے کہ وفا کرتے ہیں
یوں وفا عہد وفا کرتے ہیںآپ کیا کہتے ہیں کیا کرتے ہیں
ہم کو چھیڑوگے تو پچھتاؤگےہنسنے والوں سے ہنسا کرتے ہیں
نامہ بر تجھ کو سلیقہ ہی نہیںکام باتوں میں بنا کرتے ہیں
چلئے عاشق کا جنازہ اٹھاآپ بیٹھے ہوئے کیا کرتے ہیں
یہ بتاتا نہیں کوئی مجھ کودل جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں
حسن کا حق نہیں رہتا باقیہر ادا میں وہ ادا کرتے ہیں
تیر آخر بدل کافر ہےہم اخیر آج دعا کرتے ہیں
روتے ہیں غیر کا رونا پہروںیہ ہنسی مجھ سے ہنسا کرتے ہیں
اس لیے دل کو لگا رکھا ہےاس میں محبوب رہا کرتے ہیں
تم ملوگے نہ وہاں بھی ہم سےحشر سے پہلے گلہ کرتے ہیں
جھانک کر روزن در سے مجھ کوکیا وہ شوخی سے حیا کرتے ہیں
اس نے احسان جتا کر یہ کہاآپ کس منہ سے گلہ کرتے ہیں
روز لیتے ہیں نیا دل دلبرنہیں معلوم یہ کیا کرتے ہیں
داغؔ تو دیکھ تو کیا ہوتا ہےجبر پر صبر کیا کرتے ہیں
ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیںہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیں
تم بھی بے چین ہم بھی ہیں بے چینتم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں
اے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہےعیش کے خواست گار ہم بھی ہیں
کھینچ لائے گا جذب دل ان کوہمہ تن انتظار ہم بھی ہیں
بزم دشمن میں لے چلا ہے دلکیسے بے اختیار ہم بھی ہیں
شہر خالی کئے دکاں کیسیایک ہی بادہ خوار ہم بھی ہیں
شرم سمجھے ترے تغافل کوواہ کیا ہوشیار ہم بھی ہیں
ہاتھ ہم سے ملاؤ اے موسیٰعاشق روئے یار ہم بھی ہیں
خواہش بادۂ طہور نہیںکیسے پرہیزگار ہم بھی ہیں
تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوقاپنے مطلب کے یار ہم بھی ہیں
جس نے چاہا پھنسا لیا ہم کودلبروں کے شکار ہم بھی ہیں
آئی مے خانے سے یہ کس کی صدالاؤ یاروں کے یار ہم بھی ہیں
لے ہی تو لے گی دل نگاہ تریہر طرح ہوشیار ہم بھی ہیں
ادھر آ کر بھی فاتحہ پڑھ لوآج زیر مزار ہم بھی ہیں
غیر کا حال پوچھئے ہم سےاس کے جلسے کے یار ہم بھی ہیں
کون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیںعشق میں یادگار ہم بھی ہیں
دل پریشان ہوا جاتا ہےاور سامان ہوا جاتا ہے
خدمت پیر مغاں کر زاہدتو اب انسان ہوا جاتا ہے
موت سے پہلے مجھے قتل کرواس کا احسان ہوا جاتا ہے
لذت عشق الٰہی مٹ جائےدرد ارمان ہوا جاتا ہے
دم ذرا لو کہ مرا دم تم پرابھی قربان ہوا جاتا ہے
گریہ کیا ضبط کروں اے ناصحاشک پیمان ہوا جاتا ہے
بے وفائی سے بھی رفتہ رفتہوہ مری جان ہوا جاتا ہے
عرصۂ حشر میں وہ آ پہنچےصاف میدان ہوا جاتا ہے
مدد اے ہمت دشوارپسندکام آسان ہوا جاتا ہے
چھائی جاتی ہے یہ وحشت کیسیگھر بیابان ہوا جاتا ہے
شکوہ سن آنکھ ملا کر ظالمکیوں پشیمان ہوا جاتا ہے
آتش شوق بجھی جاتی ہےخاک ارمان ہوا جاتا ہے
عذر جانے میں نہ کر اے قاصدتو بھی نادان ہوا جاتا ہے
مضطرب کیوں نہ ہوں ارماں دل میںقید مہمان ہوا جاتا ہے
داغؔ خاموش نہ لگ جائے نظرشعر دیوان ہوا جاتا ہے
جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتامگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتا
محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتامرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا
الگ کرنا رقیبوں کا الٰہی تجھ کو آساں ہےمجھے مشکل کہ میری بیکسی سے ہو نہیں سکتا
کیا ہے وعدۂ فردا انہوں نے دیکھیے کیا ہویہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا
یہ مشتاق شہادت کس جگہ جائیں کسے ڈھونڈیںکہ تیرا کام قاتل جب تجھی سے ہو نہیں سکتا
لگا کر تیغ قصہ پاک کیجئے دادخواہوں کاکسی کا فیصلہ کر منصفی سے ہو نہیں سکتا
مرا دشمن بظاہر چار دن کو دوست ہے تیراکسی کا ہو رہے یہ ہر کسی سے ہو نہیں سکتا
پرسش کہوگے کیا وہاں جب یاں یہ صورت ہےادا اک حرف وعدہ نازکی سے ہو نہیں سکتا
نہ کہئے گو کہ حال دل مگر رنگ آشنا ہیں ہمیہ ظاہر آپ کی کیا خامشی سے ہو نہیں سکتا
کیا جو ہم نے ظالم کیا کرے گا غیر منہ کیا ہےکرے تو صبر ایسا آدمی سے ہو نہیں سکتا
چمن میں ناز بلبل نے کیا جو اپنی نالے پرچٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا
نہیں گر تجھ پہ قابو دل ہے پر کچھ زور ہو اپناکروں کیا یہ بھی تو نا طاقتی سے ہو نہیں سکتا
نہ رونا ہے طریقے کا نہ ہنسنا ہے سلیقے کاپریشانی میں کوئی کام جی سے ہو نہیں سکتا
ہوا ہوں اس قدر محجوب عرض مدعا کر کےکہ اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا
غضب میں جان ہے کیا کیجئے بدلہ رنج فرقت کابدی سے کر نہیں سکتے خوشی سے ہو نہیں سکتا
مزا جو اضطراب شوق سے عاشق کو ہے حاصلوہ تسلیم و رضا و بندگی سے ہو نہیں سکتا
خدا جب دوست ہے اے داغؔ کیا دشمن سے اندیشہہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا
ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرناتمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا
ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو بہا کے جاناذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں یہ رسمیںوہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا
لیے تو چلتے ہیں حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں لیکنہمارے پہلو میں بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا
نہیں ہے کچھ قتل ان کا آساں یہ سخت جاں ہیں برے بلا کےقضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنی خوشی نہ کرنا
ہلاک انداز وصل کرنا کہ پردہ رہ جائے کچھ ہماراغم جدائی میں خاک کر کے کہیں عدو کی خوشی نہ کرنا
مری تو ہے بات زہر ان کو وہ ان کے مطلب ہی کی نہ کیوں ہوکہ ان سے جو التجا سے کہنا غضب ہے ان کو وہی نہ کرنا
ہوا اگر شوق آئنے سے تو رخ رہے راستی کی جانبمثال عارض صفائی رکھنا برنگ کاکل کجی نہ کرنا
وہ ہی ہمارا طریق الفت کہ دشمنوں سے بھی مل کے چلنایہ ایک شیوہ ترا ستم گر کہ دوست سے دوستی نہ کرنا
ہم ایک رستہ گلی کا اس کی دکھا کے دل کو ہوئے پشیماںیہ حضرت خضر کو جتا دو کسی کی تم رہبری نہ کرنا
بیان درد فراق کیسا کہ ہے وہاں اپنی یہ حقیقتجو بات کرنی تو نالہ کرنا نہیں تو وہ بھی کبھی نہ کرنا
مدار ہے ناصحو تمہیں پر تمام اب اس کی منصفی کاذرا تو کہنا خدا لگی بھی فقط سخن پروری نہ کرنا
بری ہے اے داغؔ راہ الفت خدا نہ لے جائے ایسے رستےجو اپنی تم خیر چاہتے ہو تو بھول کر دل لگی نہ کرنا
مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیںکہ جو موت کو زندگی جانتے ہیں
شب وصل لیں ان کی اتنی بلائیںکہ ہمدم مرے ہاتھ ہی جانتے ہیں
نہ ہو دل تو کیا لطف آزار و راحتبرابر خوشی ناخوشی جانتے ہیں
جو ہے میرے دل میں انہیں کو خبر ہےجو میں جانتا ہوں وہی جانتے ہیں
پڑا ہوں سر زم میں دم چرائےمگر وہ اسے بے خودی جانتے ہیں
کہاں قدر ہم جنس ہم جنس کو ہےفرشتوں کو بھی آدمی جانتے ہیں
کہوں حال دل تو کہیں اس سے حاصلسبھی کو خبر ہے سبھی جانتے ہیں
وہ نادان انجان بھولے ہیں ایسےکہ سب شیوۂ دشمنی جانتے ہیں
نہیں جانتے اس کا انجام کیا ہےوہ مرنا میرا دل لگی جانتے ہیں
سمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہدمگر رند اس کو ولی جانتے ہیں
باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیاافسانہ عاشقوں کا فقط یاد رہ گیا
یہ سخت جاں تو قتل سے ناشاد رہ گیاخنجر چلا تو بازوئے جلاد رہ گیا
پابندیوں نے عشق کی بیکس رکھا مجھےمیں سو اسیریوں میں بھی آزاد رہ گیا
چشم صنم نے یوں تو بگاڑے ہزار گھراک کعبہ چند روز کو آباد رہ گیا
محشر میں جائے شکوہ کیا شکر یار کاجو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا
ان کی تو بن پڑی کہ لگی جان مفت ہاتھتیری گرہ میں کیا دل ناشاد رہ گیا
پر نور ہو رہے گا یہ ظلمت کدہ اگردل میں بتوں کا شوق خداداد رہ گیا
یوں آنکھ ان کی کر کے اشارہ پلٹ گئیگویا کہ لب سے ہو کے کچھ ارشاد رہ گیا
ناصح کا جی چلا تھا ہماری طرح مگرالفت کی دیکھ دیکھ کے افتاد رہ گیا
ہیں تیرے دل میں سب کے ٹھکانے برے بھلےمیں خانماں خراب ہی برباد رہ گیا
وہ دن گئے کہ تھی مرے سینے میں کچھ خراشاب دل کہاں ہے دل کا نشاں یاد رہ گیا
صورت کو تیری دیکھ کے کھنچتی ہے جان خلقدل اپنا تھام تھام کے بہزاد رہ گیا
اے داغؔ دل ہی دل میں گھلے ضبط عشق سےافسوس شوق نالہ و فریاد رہ گیا
دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئیاس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئی
پردے پردے میں محبت دشمن جانی ہوئییہ خدا کی مار کیا اے شوق پنہانی ہوئی
دل کا سودا کر کے ان سے کیا پشیمانی ہوئیقدر اس کی پھر کہاں جس شے کی ارزانی ہوئی
میرے گھر اس شوخ کی دو دن سے مہمانی ہوئیبیکسی کی آج کل کیا خانہ ویرانی ہوئی
ترک رسم و راہ پر افسوس ہے دونوں طرفہم سے نادانی ہوئی یا تم سے نادانی ہوئی
ابتدا سے انتہا تک حال ان سے کہہ تو دوںفکر یہ ہے اور جو کہہ کر پشیمانی ہوئی
غم قیامت کا نہیں واعظ مجھے یہ فکر ہےدین کب باقی رہا دنیا اگر فانی ہوئی
تم نہ شب کو آؤ گے یہ ہے یقیں آیا ہواتم نہ مانو گے مری یہ بات ہے مانی ہوئی
مجھ میں دم جب تک رہا مشکل میں تھے تیماردارمیری آسانی سے سب یاروں کی آسانی ہوئی
اس کو کیا کہتے ہیں اتنا ہی بڑھا شوق وصالجس قدر مشہور ان کی پاک دامانی ہوئی
بزم سے اٹھنے کی غیرت بیٹھنے سے دل کو رشکدیکھ کر غیروں کا مجمع کیا پریشانی ہوئی
دعویٰ تسخیر پر یہ اس پری وش نے کہاآپ کا دل کیا ہوا مہر سلیمانی ہوئی
کھل گئیں زلفیں مگر اس شوخ مست ناز کیجھومتی باد صبا پھرتی ہے مستانی ہوئی
میں سراپا سجدے کرتا اس کے در پر شوق سےسر سے پا تک کیوں نہ پیشانی ہی پیشانی ہوئی
دل کی قلب ماہیت کا ہو اسے کیونکر یقیںکب ہوا مٹی ہوئی ہے آگ کب پانی ہوئی
آتے ہی کہتے ہو اب گھر جائیں گے اچھی کہییہ مثل پوری یہاں من مانی گھر جانی ہوئی
عرصۂ محشر میں تجھ کو ڈھونڈ لاؤں تو سہیکوئی چھپ سکتی ہے جو صورت ہو پہچانی ہوئی
دیکھ کر قاتل کا خالی ہاتھ بھی جی ڈر گیااس کی چین آستیں بھی چین پیشانی ہوئی
کھا کے دھوکا اس بت کمسن نے دامن میں لیےاشک افشانی بھی میری گوہر افشانی ہوئی
بیکسی پر میری اپنی تیغ کی حسرت تو دیکھچشم جوہر بھی بشکل چشم حیرانی ہوئی
بیکسی پر داغؔ کی افسوس آتا ہے ہمیںکس جگہ کس وقت اس کی خانہ ویرانی ہوئی
ہاتھ نکلے اپنے دونوں کام کےدل کو تھاما ان کا دامن تھام کے
گھونٹ پی کر بادۂ گلفام کےبوسے لے لیتا ہوں خالی جام کے
رات دن پھرتا ہے کیوں اے چرخ پیرتیرے دن ہیں راحت و آرام کے
اس نزاکت کا برا ہو بزم سےاٹھتے ہیں وہ دست دشمن تھام کے
چشم مست یار کی اک دھوم ہےآج کل ہیں دور دور جام کے
یا جگر میں یا رہے گا دل میں تیریہ ہی دو گوشے تو ہیں آرام کے
وہ کریں عذر وفا اچھی کہیمجھ پہ ردے رکھتے ہیں الزام کے
جب قدم کعبے سے رکھا سوئے دیرتار الجھے جامۂ احرام کے
خوش ہیں وہ دور فلک سے آج کلدن پھرے ہیں گردش ایام کے
آ گیا ہے بھول کر خط اس طرفوہ تو عاشق ہیں مرے ہم نام کے
ہاتھ سے صیاد کے گر کر چھریکٹ گئے حلقے ہمارے دام کے
قاصدوں کے منتظر رہنے لگےپڑ گئے ان کو مزے پیغام کے
کیا کسی درگاہ میں جانا ہے آجصبح سے سامان ہیں حمام کے
پوچھتے ہیں حضرت زاہد سے رنددام کیا ہیں جامۂ احرام کے
لب اتر آئے ہیں وہ تعریف پرہم جو عادی ہو گئے دشنام کے
دعویٰ عشق و وفا پر یہ کہاسب بجا لیکن مرے کس کام کے
بن سنور کر کب بگڑتا ہے بناؤصبح تک رہتے ہیں جلوے شام کے
جور سے یا لطف سے پورا کیاآپ پیچھے پڑ گئے جس کام کے
ہے گدائے مے کدہ بھی کیا حریصبھر لیے جھولی میں ٹکڑے جام کے
نالہ و فریاد کی طاقت کہاںبات کرتا ہوں کلیجا تھام کے
خوگر بیداد کو راحت ہے موتبھاگتا ہوں نام سے آرام کے
داغؔ کے سب حرف لکھتے ہیں جداٹکڑے کر ڈالے ہمارے نام کے
ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئیآنکھ میں فتنہ گری دل میں شرارت آئی
کیا تصور ہے نہایت مجھے حیرت آئیآئنے میں بھی نظر تیری ہی صورت آئی
اس ادا سے دم رفتار قیامت آئیایسے ہم کیوں نہ ہوئے ان کو یہ حسرت آئی
روز محشر جو مری داد کی نوبت آئییہ گئی وہ گئی کب ہاتھ قیامت آئی
اب اسی پر تو ہے تاکید وفاداری کیجب گیا جان سے میں غیر کی شامت آئی
کہہ گئے طعن سے وہ آ کے مرے مرقد پرسونے والے تجھے کس طرح سے راحت آئی
بن سنور کر جو وہ آئے تو یہ میں جان گیااب گئی جان گئی آئی طبیعت آئی
رکھ دیا منہ پہ مرے ہاتھ شب وصل اس نےبے حجابی کے لیے کام شکایت آئی
جب یہ کھاتا ہے مرا خون جگر کھاتا ہےدل بیمار کو کس چیز پہ رغبت آئی
گرچہ از حد ہوں گنہ گار مسلمان تو ہوںپیچھے پیچھے مرے دوزح میں بھی جنت آئی
میں ہوا شیفتہ ان پر وہ عدو پر شیداساتھ کے ساتھ ہی دونوں کی طبیعت آئی
عمر بھر اس کو کلیجے سے لگائے رکھاتیرے بیمار کو جس درد میں لذت آئی
ہجر میں جان نکلتی نہیں کیا آفت ہےمار کر آج اجل کو شب فرقت آئی
اپنے دیوانوں کو دیکھا تو کہا گھبرا کریہ نئی وضع کی کس ملک سے خلقت آئی
جذب دل کھینچ ہی لایا انہیں میرے در تکپاؤں پڑتی ہوئی ہرچند نزاکت آئی
یوں تو پامال ہوئے سیکڑوں مٹنے والےپہلے گنتی میں جو آئی مری تربت آئی
حشر کا وعدہ بھی کرتے نہیں وہ کہتے ہیںفرض کر لو جو کئی بار قیامت آئی
داغؔ گھبراؤ نہیں اب کوئی دم کے دم میںلو مبارک ہو ترقی کی بھی ساعت آئی
مجھے اے اہل کعبہ یاد کیا مے خانہ آتا ہےادھر دیوانہ جاتا ہے ادھر مستانہ آتا ہے
مری مژگاں سے آنسو پوچھتا ہے کس لئے ناصحٹپک پڑتا ہے خود جو اس شجر میں دانہ آتا ہے
یہ آمد ہے کہ آفت ہے نگہ کچھ ہے ادا کچھ ہےالٰہی خیر مجھ سے آشنا بیگانہ آتا ہے
دم تقریر نالہ حلق میں چھریاں چبھوتے ہیںزباں تک ٹکڑے ہو ہو کر مرا افسانہ آتا ہے
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیںادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے
جگر تک آتے آتے سو جگہ گرتا ہوا آیاترا تیر نظر آتا ہے یا مستانہ آتا ہے
وہی جھگڑا ہے فرقت کا وہی قصہ ہے الفت کاتجھے اے داغؔ کوئی اور بھی افسانہ آتا ہے
جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیںمجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
کھلتے نہیں ہیں راز جو سوز نہاں کے ہیںکیا پھوٹنے کے واسطے چھالے زباں کے ہیں
کرتے ہیں قتل وہ طلب مغفرت کے بعدجو تھے دعا کے ہاتھ وہی امتحاں کے ہیں
جس روز کچھ شریک ہوئی میری مشت خاکاس روز سے زمیں پہ ستم آسماں کے ہیں
بازو دکھائے تم نے لگا کر ہزار ہاتھپورے پڑے تو وہ بھی بہت امتحاں کے ہیں
ناصح کے سامنے کبھی سچ بولتا نہیںمیری زباں میں رنگ تمہاری زباں کے ہیں
کیسا جواب حضرت دل دیکھیے ذراپیغام بر کے ہاتھ میں ٹکڑے زباں کے ہیں
کیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیاوہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں
عاشق ترے عدم کو گئے کس قدر تباہپوچھا ہر ایک نے یہ مسافر کہاں کے ہیں
ہر چند داغؔ ایک ہی عیار ہے مگردشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں
ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہمہر دم پناہ مانگتے ہیں ہر بلا سے ہم
معشوق جائے حور ملے مے بجائے آبمحشر میں دو سوال کریں گے خدا سے ہم
گر تو کسی بہانے آ جائے وقت نزعظالم کریں ہزار بہانے قضا سے ہم
گو حال دل چھپاتے ہیں پر اس کو کیا کریںآتے ہیں خودبخود نظر اک مبتلا سے ہم
ناچار اختیار کیا شیوۂ رقیبکچھ بے حیائی خوب ہیں گزرے حیا سے ہم
مانگی نہ ہوگی خضر نے یوں عمر جاوداںکیا اپنی موت مانگتے ہیں التجا سے ہم
دیکھیں تو پہلے کون مٹے اس کی راہ میںبیٹھے ہیں شرط باندھ کے ہر نقش پا سے ہم
مجبور اپنی شیوۂ شرم و حیا سے تمناچار اضطراب دل مبتلا سے ہم
یہ آرزو ہے آنکھ میں سرمہ لگائیں گےاے داغؔ خاک پائے رسول خدا سے ہم
بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیںکہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیں
ہزاروں داغ پنہاں عاشقوں کے دل میں رہتے ہیںشرر پتھر کی صورت ان کی آب و گل میں رہتے ہیں
زمیں پر پاؤں نفرت سے نہیں رکھتے پری پیکریہ گویا اس مکاں کی دوسری منزل میں رہتے ہیں
محبت میں مزا ہے چھیڑ کا لیکن مزے کی ہوہزاروں لطف ہر اک شکوۂ باطل میں رہتے ہیں
خدا رکھے سلامت جن کو ان کو موت کب آئےتڑپتے لوٹتے ہم کوچۂ قاتل میں رہتے ہیں
ہزاروں حسرتیں وہ ہیں کہ روکے سے نہیں رکتیںبہت ارمان ایسے ہیں کہ دل کے دل میں رہتے ہیں
یہاں تک تھک گئے ہیں چلتے چلتے تیرے ہاتھوں سےکہ اب چھپ چھپ کے ناوک سینۂ بسمل میں رہتے ہیں
نہ دیکھے ہوں گے رندوں سے بھی تو نے پاک اے زاہدکہ یہ بے داغ مے خانے کی آب و گل میں رہتے ہیں
محیط عشق کی ہر موج طوفاں خیز ایسی ہےوہ ہیں گرداب میں جو دامن ساحل میں رہتے ہیں
خدا رکھے محبت نے کیے آباد دونوں گھرمیں ان کے دل میں رہتا ہوں وہ میرے دل میں رہتے ہیں
جو ہوتی خوبصورت تو نہ چھپتی قیس سے لیلیٰمگر ایسے ہی ویسے پردۂ محمل میں رہتے ہیں
ہمارے سائے سے بچتا ہے ہر اک بزم میں اس کیہمیں دیکھو کہ ہم تنہا بھری محفل میں رہتے ہیں
سراغ مہر و الفت غیر کے دل میں نہ پائیں گےعبث وہ رات دن اس سعی بے حاصل میں رہتے ہیں
بتوں کو محرم اسرار تو نے کیوں کیا یا ربکہ یہ کافر ہر اک خلوت سرائے دل میں رہتے ہیں
فلک دشمن ہوا گردش زدوں کو جب ملی راحتزیادہ راہ سے کھٹکے مجھے منزل میں رہتے ہیں
تن آسانی کہاں تقدیر میں ہم دل گرفتوں کیخدا پر خوب روشن ہے کہ جس مشکل میں رہتے ہیں
شب وصل ضد میں بسر ہو گئینہیں ہوتے ہوتے سحر ہو گئی
نگہ غیر پر بے اثر ہو گئیتمہاری نظر کو نظر ہو گئی
کسک دل میں پھر چارہ گر ہو گئیجو تسکیں پہر دوپہر ہو گئی
لگاتے ہیں دل اس سے اب ہار جیتادھر ہو گئی یا ادھر ہو گئی
جواب ان کی جانب سے دینے لگایہ جرأت تجھے نامہ بر ہو گئی
برے حال سے یا بھلے حال سےتمہیں کیا ہماری بسر ہو گئی
میسر ہمیں خواب راحت کہاںذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئی
جفا پر وفا تو کروں سوچ لوتمہیں مجھ سے الفت اگر ہو گئی
نگاہ ستم میں کچھ ایجاد ہوکہ یہ تو پرانی نظر ہو گئی
تسلی مجھے دے کے جاتے تو ہومبادا جو جوع دگر ہو گئی
کہیں حسن سے بھی ہے کاہیدگینہ ہونے کے قابل کمر ہو گئی
شب وصل ایسی کھلی چاندنیوہ گھبرا کے بولے سحر ہو گئی
کہی زندگی بھر کی شب وارداتمری روح پیغام بر ہو گئی
کہو کیا کروگے مرے وصل کیجو مشہور جھوٹی خبر ہو گئی
غم ہجر سے داغؔ مجھ کو نجاتیقیں تھا نہ ہوگی مگر ہو گئی
محبت کا اثر جاتا کہاں ہےہمارا درد سر جاتا کہاں ہے
دل بیتاب سینے سے نکل کرچلا ہے تو کدھر جاتا کہاں ہے
عدم کہتے ہیں اس کوچے کو اے دلادھر آ بے خبر جاتا کہاں ہے
کہوں کس منہ سے میں تیرے دہن ہےجو ہوتا تو کدھر جاتا کہاں ہے
ترے جاتے ہی مر جاؤں گا ظالممجھے تو چھوڑ کر جاتا کہاں ہے
ہمارے ہاتھ سے دامن بچا کرارے بیداد گر جاتا کہاں ہے
تری چوری ہی سب میری نظر میںچرا کر تو نظر جاتا کہاں ہے
اگرچہ پا شکستہ ہم ہیں اے داغؔمگر قصد سفر جاتا کہاں ہے
کچھ لاگ کچھ لگاو محبت میں چاہئےدونوں طرح کا رنگ طبیعت میں چاہئے
یہ کیا کہ بت بنے ہوئے بیٹھے ہو بزم میںکچھ بے تکلفی بھی تو خلوت میں چاہئے
وہ ابتدائے عشق میں حاصل ہوئی مجھےجو بات انتہائے محبت میں چاہئے
آئیں گے بے شمار فرشتے عذاب کےمیدان حشر غیر کی تربت میں چاہئے
کچھ تو پڑے دباؤ دل بے قرار پرپارا بھرا ہوا مری تربت میں چاہئے
معشوق کے کہے کا برا مانتے ہو داغؔبرداشت آدمی کی طبیعت میں چاہئے
ممکن نہیں کہ تیری محبت کی بو نہ ہوکافر اگر ہزار برس دل میں تو نہ ہو
کیا لطف انتظار جو تو حیلہ جو نہ ہوکس کام کا وصال اگر آرزو نہ ہو
محشر میں اور ان سے مری دو بہ دو نہ ہوکہنے کی بات ہے جو کوئی گفتگو نہ ہو
قاتل اگر نہ شوخ ہو خنجر اگر نہ تیزرگ رگ میں بے قرار ہمارا لہو نہ ہو
خلوت میں تجھ کو چین نہیں کس کا خوف ہےاندیشہ کچھ نہ ہو جو نظر چار سو نہ ہو
سرخی ہے تیغ پر نہ حنا تیرے ہاتھ میںقاتل کہیں سفید عدو کا لہو نہ ہو
وہ آدمی کہاں ہے وہ انسان ہے کہاںجو دوست کا ہو دوست عدو کا عدو نہ ہو
دل کو مسل مسل کے ذرا ہاتھ سونگھئےممکن نہیں کہ خون تمنا کی بو نہ ہو
زاہد مزا تو جب ہے عذاب و ثواب کادوزخ میں بادہ کش نہ ہوں جنت میں تو نہ ہو
معشوق ہجر اس سے زیادہ کوئی نہیںکیا دل لگی رہے جو تری آرزو نہ ہو
ایسے کہاں نصیب کہ وہ بت ہو ہم کلامہم طور پر بھی جائیں تو کچھ گفتگو نہ ہو
دست دعا کو ملتی ہے تاثیر عرش سےجو ہاتھ سے ہو پاؤں سے وہ جستجو نہ ہو
غش آ نہ جائے دیکھ کے قاتل کو موج خوںنازک مزاج کا کہیں ہلکا لہو نہ ہو
ہے لاگ کا مزا دل بے مدعا کے ساتھتم کیا کرو کسی کو اگر آرزو نہ ہو
یہ ٹوٹ کر کبھی نہ بنے گا کسی طرحزاہد شکست توبہ شکست سبو نہ ہو
اے داغؔ آ کے پھر گئے وہ اس کو کیا کریںپوری جو نامراد تری آرزو نہ ہو
اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کادوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کا
کیا چھپے راز الٰہی دل شیدائی کاعرصۂ حشر تو بازار ہے رسوائی کا
جان لے جائے گا آنا شب تنہائی کاکون اب روکنے والا ہے مری آئی کا
خوگر رنج و بلا حشر کے دن کیا خوش ہوںکہ وہ مال آج ہوا ہے شب تنہائی کا
زندہ ہے نام شہادت کا اسی کے دم سےتیرے کشتہ نے کیا کام مسیحائی کا
ہر گلی کوچے میں پامال اسے ہو جانادل ہے یا نقش قدم ہے کسی ہرجائی کا
اس ادب سے تہہ شمشیر تڑپنا اے دلکہ گماں تیری تپش پر ہو شکیبائی کا
فتنے بھی قاعدے سے اٹھتے ہیں جب اٹھتے ہیںکیا سلیقہ ہے تمہیں انجمن آرائی کا
وہ یہ کہتے ہیں مرا صبر پڑے گا تجھ پراب مجھے رنج نہیں اپنی شکیبائی کا
کیا غرض ہے مری تقدیر کو مجھ سے پوچھےآبرو کا ہے طلب گار کہ رسوائی کا
واں شب وعدہ ملی پاؤں میں مہندی اس نےیاں کلیجا کوئی ملتا ہے تمنائی کا
رات بھر شمع رہی ہجر میں وہ بھی خاموشملتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا
سر مرا کاٹ کے دہلیز پر اپنی رکھ دوشوق باقی ہے ابھی ناصیہ فرسائی کا
یوں نہ مقبول ہوا ہوگا کسی کا سجدہبت کو ارمان رہا میری جبیں سائی کا
ہو گیا پرتو رخسار سے کچھ اور ہی رنگمیں نے منہ چوم لیا اس کے تماشائی کا
تھم گئے جم گئے آنکھوں میں لہو کے قطرےخون ظاہر ہے مرے صبر و شکیبائی کا
بن گیا داغ جگر مہر قیامت اے داغؔپر ابھی رنگ وہی ہے شب تنہائی کا
جب وہ بت ہم کلام ہوتا ہےدل و دیں کا پیام ہوتا ہے
ان سے ہوتا ہے سامنا جس دندور ہی سے سلام ہوتا ہے
دل کو روکوں کہ چشم گریاں کوایک ہی خوب کام ہوتا ہے
آپ ہیں اور مجمع اغیارروز دربار عام ہوتا ہے
زیست سے تنگ ہیں نہ چھیڑ ہمیںدیکھ غصہ حرام ہوتا ہے
لیجے موسیٰ سے لن ترانی کیاب تو ہم سے کلام ہوتا ہے
داغؔ کا نام سن کے وہ بولےآدمی کا یہ نام ہوتا ہے
مجھ سا نہ دے زمانے کو پروردگار دلآشفتہ دل فریفتہ دل بے قرار دل
ہر بار مانگتی ہیں نیا چشم یار دلاک دل کے کس طرح سے بناؤں ہزار دل
مشہور ہو گئی ہے زیارت شہید کیخوں کشتہ آرزو کا بنا ہے مزار دل
یہ صید گاہ عشق ہے ٹھہرائیے نگاہصیاد مضطرب سے نہ ہوگا شکار دل
طوفان نوح بھی ہو تو مل جائے خاک میںاللہ رے غبار ترا پر غبار دل
پوچھا جو اس نے طالب روز جزا ہے کوننکلا مری زباں سے بے اختیار دل
کرتے ہو عہد وصل تو اتنا رہے خیالپیمان سے زیادہ ہے ناپائیدار دل
تاثیر عشق یہ ہے ترے عہد حسن میںمٹی کا بھی بنائیں تو ہو بے قرار دل
اس کی تلاش ہے کہ نظر آئے آرزوظالم نے روز چاک کئے ہیں ہزار دل
عالم ہوا تمام رہا اس کو شوق حوربرسائے آسمان سے پروردگار دل
پہلے پہل کی چاہ کا کیجے نہ امتحاںآنا تو سیکھ لے ابھی دو چار بار دل
نکلے مری بغل سے وہ ایسے تڑپ کے ساتھیاد آ گیا مجھے وہیں بے اختیار دل
اے عندلیب تجھ کو لگے کب ہوائے عشقکلیوں کی طرح تجھ میں نہ پھوٹے ہزار دل
عاشق ہوئے وہ جیسے عدو پر یہ حال ہےرکھ کہہ کے ہاتھ دیکھتے ہیں بار بار دل
اس نے کہا ہے صبر پڑے گا رقیب کالے اور بے قرار ہوا بے قرار دل
بیتاب ہو کے بزم سے اس کی اٹھا دیاغافل میں ہوں مگر ہے بہت ہوشیار دل
مشہور ہیں سکندر و جم کی نشانیاںاے داغؔ چھوڑ جائیں گے ہم یادگار دل
کھلتا نہیں ہے راز ہمارے بیان سےلیتے ہیں دل کا کام ہم اپنی زبان سے
کیا لذت وصال ادا ہو بیان سےسب حرف چپکے جاتے ہیں میری زبان سے
مشہور راز عشق ہے کس کے بیان سےمیری زبان سے کہ تمہاری زبان سے
فتنہ بنا زمین پہ ہر ذرہ خاک کانکلے ہیں بہر سیر وہ جس دم مکان سے
اس دن سے مجھ کو نیند نہ آئی تمام عمراک شب ملی تھی آنکھ ترے پاسبان سے
یہ خاک میں ملائے تو وہ ہو ستم شریکمجھ کو زمیں سے لاگ انہیں آسمان سے
لینا سنبھالنا کہ مرے ہوش اڑ چلےآتا ہے کوئی مست قیامت کی شان سے
مجھ سے نظر ملا کے تم ابرو میں بل نہ دوسیدھا چلے گا تیر نہ ٹیڑھی کمان سے
بازار عشق میں ہیں بہت دل جگہ جگہدیکھیں وہ مول لیتے ہیں کس کی دکان سے
شوریدہ سر وہ ہوں کہ اسے سر سے توڑ دوںگر سنگ حادثہ بھی گرے آسمان سے
ارزاں کرے فروخت اگر مے فروش عشقلینے لگیں فرشتے بھی اس کی دکان سے
گزری ہے آزمائش مہر و وفا میں عمرفرصت مجھے ملی نہ کبھی امتحان سے
دل بھی بچا جگر بھی بچا خیر ہو گئیتیر نگاہ پار ہوا درمیان سے
میں تم کو ناگوار ہوں دل مجھ کو ناگوارتم مجھ سے تنگ اور ہوں میں تنگ جان سے
ہاں ہاں ترا رقیب سے بے شک ہے ربط ضبطرتبہ یقین کا ہے زیادہ گمان سے
مہر و وفا کا نام ہے اب بات بات پریہ سن لیا ہے آپ نے کس کی زبان سے
کیسا کھلا ہے پھول جب آیا بہار پرپوچھے تو کوئی لطف جوانی جوان سے
دانستہ آتے جاتوں سے لڑتا ہے رات دنپھر ہو پڑی تھی آج ترے پاسبان سے
اس خوبرو کو بزم حسیناں میں دیکھیےکرتا ہے آن بان بڑی آن تان سے
اے داغؔ اس کی خیر مناتا ہے آدمیکوئی عزیز بڑھ کے نہیں اپنی جان سے
محبت میں آرام سب چاہتے ہیںمگر حضرت داغؔ کب چاہتے ہیں
خطا کیا ہے ان کی جو اس بت کو چاہاخدا چاہتا ہے تو سب چاہتے ہیں
وہی ان کا مطلوب و محبوب ٹھہرابجا ہے جو اس کی طلب چاہتے ہیں
مگر عالم یاس میں تنگ آ کریہ سامان آفت عجب چاہتے ہیں
اجل کی دعا ہر گھڑی مانگتے ہیںغم و درد و رنج و تعب چاہتے ہیں
نہ تفریح آسائش دل کی خواہشنہ سامان عیش و طرب چاہتے ہیں
قیامت بپا ہو نزول بلا ہویہی آج کل روز و شب چاہتے ہیں
نہ معشوق فرخار سے ان کو مطلبنہ یہ جام بنت العنب چاہتے ہیں
نہ جنت کی حسرت نہ حوروں کی پروانہ کوئی خوشی کا سبب چاہتے ہیں
نرالی تمنا ہے اہل کرم سےستم چاہتے ہیں غضب چاہتے ہیں
نہ ہو کوئی آگاہ راز نہاں سےخموشی کو یہ مہر لب چاہتے ہیں
خدا ان کی چاہت سے محفوظ رکھےیہ آزار بھی منتخب چاہتے ہیں
غم عشق میں داغؔ مجبور ہو کرکبھی جو نہ چاہا وہ اب چاہتے ہیں
جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہوخلش کیوں ہو تپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو
مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت کاخوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں کیوں ہو
یہ مصرع لکھ دیا ظالم نے میری لوح تربت پرجو ہو فرقت کی بیتابی تو یوں خواب گراں کیوں ہو
ہمیشہ آدمی کا آدمی غم خوار ہوتا ہےیہی بے اعتباری ہو تو کوئی راز داں کیوں ہو
بہت نکلیں گے روز حشر تیرے جور کے خواہاںستم کا حوصلہ دنیا میں صرف امتحاں کیوں ہو
غضب آیا ستم ٹوٹا قیامت ہو گئی برپایہ پوچھا تھا کہ تم آزردہ مجھ سے میری جاں کیوں ہو
انہیں کو رنجش بے جا ہے لیکن ہے تو ہم سے ہےمحبت گر نہ ہو باہم شکایت درمیاں کیوں ہو
گئے ٹھکرا کے مجھ کو اور پھر کہتے گئے یہ بھینصیب دشمناں تو پائمال آسماں کیوں ہو
نئی تاکید ہے ضبط محبت کی وہ کہتے ہیںجگر ہو تو فغاں کیوں ہو دہن ہو تو زباں کیوں ہو
شریک دور مے بزم عدو میں خاک ہوتے ہمکسی نے رات بھر اتنا نہ پوچھا تم یہاں کیوں ہو
تحمل کر سکے کیا حسن نازک ان نگاہوں کااسے میں نے چھپایا ہے وگرنہ وہ نہاں کیوں ہو
خدا شاہد خدا شاہد ہے کیوں کہتے ہو وعدوں پرخدا کو کیا غرض میرے تمہارے درمیاں کیوں ہو
جگر سے کم نہیں اے چارہ گر داغ جگر مجھ کوجو پیدا کی ہو مر مر کے وہ دولت رائیگاں کیوں ہو
نوید جاں فزا ہے کیا خبر قاتل کے آنے کیبتاؤ تو سہی تم داغؔ ایسے شادماں کیوں ہو
پکارتی ہے خموشی مری فغاں کی طرحنگاہیں کہتی ہیں سب راز دل زباں کی طرح
بگڑ گئی ہے یہاں بے طرح جہاں کی طرحکہاں کی وضع کہاں کی ادا کہاں کی طرح
چھڑا دے قید سے اے برق ہم اسیروں کولگا دے آگ قفس کو بھی آشیاں کی طرح
کبھی تو صلح بھی ہو جائے زہد و مستی میںالٰہی شیخ بھی مے خوار ہو مغاں کی طرح
جلا کے داغ محبت نے دل کو خاک کیابہار آئی مرے باغ میں خزاں کی طرح
حیا نے روک لیا جذب دل نے کھینچ لیاچلے وہ تیر کی صورت کھنچی کماں کی طرح
تلاش یار میں چھوڑی نہ سرزمیں کوئیہمارے پاؤں میں چکر ہے آسماں کی طرح
جو سمجھے خضر تو قول شہید الفت کوگرہ میں باندھ رکھے عمر جاوداں کی طرح
سنے جو حضرت زاہد سے وصف جنت کےتو صاف پھر گئی آنکھوں میں اس مکاں کی طرح
جھکی ہی جاتی ہے کچھ خودبخود حیا سے وہ آنکھگری ہی پڑتی ہے بیمار ناتواں کی طرح
یہ سد راہ ہوا کس کا پاس رسوائیرکے ہوئے ہیں مرے اشک کارواں کی طرح
ادائے مطلب دل ہم سے سیکھ جائے کوئیانہیں سنا ہی دیا حال داستاں کی طرح
مزے ہیں اس دہن زخم کے لیے کیا کیاجو چوسے تیر کے پیکان کو زباں کی طرح
سمجھ کے کیجیے برباد میرا مشت غباریہ لے نہ آئے کوئی چکر آسماں کی طرح
یہ دل ہے آپ کا گھر رہئے شوق سے لیکنشکیب و راحت و صبر و قرار جاں کی طرح
قیامت آئی شب وصل میرے گھر کے پاسرقیب نے اسے آواز دی اذاں کی طرح
شب اس کی بزم میں تھا شمع پر بھی رشک ہمیںکہ منہ میں شعلے کو گلگیر لے زباں کی طرح
مجھے یہ حکم ہے زنہار تم نہ کرنا عشقنصیحتیں بھی وہ کرتے ہیں امتحاں کی طرح
ہم اپنے ضعف کے صدقے بٹھا دیا ایساہلے نہ در سے ترے سنگ آستاں کی طرح
کچھ ان سے کہنے کو بیٹھے تھے ہم کہ خلوت میںرقیب آ ہی گیا مرگ ناگہاں کی طرح
شکستہ بال ہوں وہ مرغ ناتواں و ضعیفکہ میں تو میں نہ اڑے میرے آشیاں کی طرح
نہ ہوں گے سوز محبت کے دل جلے ٹھنڈےبھری ہے آتش غم مغز استخواں کی طرح
نہ چھوڑ صید محبت کو خاک پر صیاداسے بھی ڈال لے تو دوش پر کماں کی طرح
زبان خار ہوئی تر ہماری وحشت سےکہ چھالے پھوٹے بھی چشم خوں فشاں کی طرح
خدا قبول کرے داغؔ تم جو سوئے عدمچلے ہو عشق بتاں لے کے ارمغاں کی طرح
دل مبتلائے لذت آزار ہی رہامرنا فراق یار میں دشوار ہی رہا
ہر دم یہ شوق تھا اسے قربان کیجئےمیں وصل میں بھی جان سے بے زار ہی رہا
احسان عفو جرم سے وہ شرمسار ہوںبخشا گیا میں تو بھی گنہ گار ہی رہا
ہوتی ہیں ہر طرح سے مری پاسداریاںدشمن کے پاس بھی وہ مرا یار ہی رہا
دن پہلوؤں سے ٹال دیا کچھ نہ کہہ سکےہر چند ان کو وصل کا انکار ہی رہا
زاہد کی توبہ توبہ رہی گھونٹ گھونٹ پرسو بوتلیں اڑا کے بھی ہشیار ہی رہا
دیکھیں ہزار رشک مسیحا کی صورتیںاچھا رہا جو عشق کا بیمار ہی رہا
صدقے میں تم نے چھوڑ دیئے ہیں بہت اسیرمیں بھی رہا ہوا کہ گرفتار ہی رہا
لذت وفا میں ہے نہ کسی کی جفا میں ہےدل دار ہی رہا نہ دل آزار ہی رہا
جلوہ کے بعد وصل کی خواہش ضرور تھیوہ کیا رہا جو عاشق دیدار ہی رہا
کہتے ہیں جل کے غیر محبت سے داغؔ کیمعشوق اس کے پاس وفادار ہی رہا
اس کے در تک کسے رسائی ہےوہ ہی جائے گا جس کی آئی ہے
بات اک دل میں میرے آئی ہےگر کہوں تو ابھی لڑائی ہے
دوسری جان ہے تری الفتایک کھوئی ہے ایک پائی ہے
بھر دیا زخم میں نمک اس نےیہ دعا گو کی منہ بھرائی ہے
سچ ہے بے عیب ہے خدا کی ذاتتجھ میں کیا جانے کیا برائی ہے
اے لب یار تجھ کو میری قسمکبھی سچی قسم بھی کھائی ہے
اس کے در تک پہنچ گیا قاصدآگے تقدیر کی رسائی ہے
قتل کرتی ہے گفتگو ان کیبات میں بات کی صفائی ہے
داغؔ اب وصل کا وصال ہوایار زندہ غم جدائی ہے
ہوا جب سامنا اس خوب رو سےاڑا ہے رنگ گل کا پہلے بو سے
یہ آنکھیں تر جو رہتی ہیں لہو سےوہ گزرے عشق کے دن آبرو سے
اسے کہئے شہادت نامۂ عشقاسے لکھا ہے خط اپنے لہو سے
دھواں بن کر اڑی مسی کی رنگتیہ کس نے جل کے تیرے ہونٹ چوسے
رقیبوں کو تمنا ہے تو باشدتمہیں مطلب پرائی آرزو سے
وہ گل تکیہ مرے مرقد میں رکھنامعطر ہو جو زلف مشک بو سے
نئی ضد ہے کہ دل ہم مفت لیں گےبھلا کیا فائدہ اس گفتگو سے
عدو بھی تم کو چاہے اے تری شانلڑاتے ہیں ہم اپنی آرزو سے
ہوا ہے تو تو شاہد باز اے دلبچاؤں تجھ کو کس کس خوب رو سے
لگا رکھی ہے خاک اس رہ گزر کیتیمم اپنا بڑھ کر ہے وضو سے
ہمارا دل اسے اب ڈھونڈتا ہےتھکے ہیں پاؤں جس کی جستجو سے
خدا جانے چھلاوا تھا کہ بجلیابھی نکلا ہے کوئی روبرو سے
ہوا ہے داغؔ آصف کا نمک خوارگزر جائے الٰہی آبرو سے
نگاہ شوخ جب اس سے لڑی ہےتو بجلی تھرتھرا کر گر پڑی ہے
اسے بھی مجھ کو بھی ضد آ پڑی ہےخرابی بیچ والوں کی بڑی ہے
قیامت میں قیامت کر گیا کونکہ دل تھامے صف محشر کھڑی ہے
کریں کیا رند توبہ مے سے زاہدکہ یہ تو ان کی گھٹی میں پڑی ہے
قدم جمتا نہیں تیری گلی میںکسی بیتاب کی میت گڑی ہے
عدو بھی تنگ ہے ان کے ستم سےاسے اپنی مجھے اپنی پڑی ہے
ابھی میں نے کیا تھا یاد اس کووہ آیا عمر قاصد کی بڑی ہے
بنا ہے مدعی پیغام بر بھیجڑی ہے جب مری کھوٹی جڑی ہے
کیا ہے میں نے ضبط آہ جس دمانی برچھی کی سینے میں گڑی ہے
گل بستر ستارے بن گئے ہیںترے ماتھے سے جب افشاں جھڑی ہے
یہ کہتا ہے مرا شوق شہادتتری تلوار پھولوں کی چھڑی ہے
وہ روٹھیں غیر سے تو ہم منائیںپرائی آفت اپنے سر پڑی ہے
تجھے دیتا ہوں اپنی جان بھی میںمرے دل سے مری ہمت بڑی ہے
ٹلیں وہ کب جو دل لینے پہ اڑ جائیںیہ کیا کچھ کھیل چوسر کی اڑی ہے
الٰہی کب سحر ہوگی شب ہجرقیامت کی گھڑی ہے جو گھڑی ہے
بگڑ کر ہم نے سو الزام پائےاب ان کی ہر طرح سے بن پڑی ہے
غزل اک اور بھی اے داغؔ لکھوطبیعت اس زمیں میں کچھ لڑی ہے
قرینے سے عجب آراستہ قاتل کی محفل ہےجہاں سر چاہیئے سر ہے جہاں دل چاہیئے دل ہے
ہر اک کے واسطے کب عشق کی دشوار منزل ہےجسے آساں ہے آساں ہے جسے مشکل ہے مشکل ہے
زہے تقدیر کس آرام و راحت سے وہ بسمل ہےکہ جس کے سر کا تکیہ دیر سے زانوئے قاتل ہے
طریق عشق کچھ آسان ہے کچھ ہم کو مشکل ہےادھر رہبر ادھر رہزن یہی منزل بہ منزل ہے
مجھے تجھ سے رکاوٹ اور تو غیروں پہ مائل ہےمرا دل اب ترا دل ہے ترا دل اب مرا دل ہے
بڑھا دل اس قدر فرط خوشی سے وصل کی شب کومجھے یہ وہم تھا پہلو میں یہ تکیہ ہے یا دل ہے
تری تلوار کے قربان اے سفاک کیا کہناادھر کشتے پہ کشتہ ہے ادھر بسمل پہ بسمل ہے
عدم میں لے چلا ہے رہنمائے عشق کیا مجھ کویہی کہتا ہے آ پہنچے ہیں تھوڑی دور منزل ہے
انہیں جب مہرباں پا کر سوال وصل کر بیٹھادبی آواز سے شرما کے وہ بولے یہ مشکل ہے
ستم بھی ہو تو مجھ پر ہو جفا بھی ہو تو مجھ پر ہومجھے اس رشک نے مارا وہ کیوں عالم کا قاتل ہے
مسیحا نے ترے بیمار کو دیکھا تو فرمایانہ یہ جینے کے قابل ہے نہ یہ مرنے کے قابل ہے
زبردستی تو دیکھو ہاتھ رکھ کر میرے سینے پروہ کس دعوے سے کہتے ہیں ہمارا ہی تو یہ دل ہے
ہمارے دل میں آ کر سیر دیکھو خوب رویوں کیکہ اندر کا اکھاڑا ہے پری زادوں کی محفل ہے
مدارج عشق کے طے ہو سکیں یہ ہو نہیں سکتازمیں سے عرش تک اے بے خبر منزل بہ منزل ہے
جھڑکتے ہو مجھے کیوں دور ہی سے پاس آنے دوبڑھا کر ہاتھ دل دیتا ہوں تم سمجھے ہو سائل ہے
سنا بھی تو نے اے دل کیا صدا آتی ہے محشر میںیہی دن امتحاں کا ہے ہمارے کون شامل ہے
اڑاتے ہیں مزے دنیا کے ہم اے داغؔ گھر بیٹھےدکن میں اب تو افضل گنج اپنی عیش منزل ہے
شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیںیہ نالے بہت منہ لگائے گئے ہیں
خدا جانے ہم کس کے پہلو میں ہوں گےعدم کو سب اپنے پرائے گئے ہیں
وہی راہ ملتی ہے چل پھر کے ہم کوجہاں خاک میں دل ملائے گئے ہیں
مرے دل کی کیونکر نہ ہو پائمالیبہت اس میں ارمان آئے گئے ہیں
گلے شکوے جھوٹے بھی تھے کس مزے کےہم الزام دانستہ کھائے گئے ہیں
نگہ کو جگر زلف کو دل دیا ہےیہ دونوں ٹھکانے لگائے گئے ہیں
رہے چپ نہ ہم بھی دم عرض مطلبوہ اک اک کی سو سو سنائے گئے ہیں
فرشتے بھی دیکھیں تو کھل جائیں آنکھیںبشر کو وہ جلوے دکھائے گئے ہیں
چلو حضرت داغؔ کی سیر دیکھیںوہاں آج بھی وہ بلائے گئے ہیں
منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیاکس جگہ آنکھ لڑی ہائے کہاں دل آیا
ہم نہ کہتے تھے نہ کر عشق پشیماں ہوگاجو کیا تو نے وہ آگے ترے اے دل آیا
قہقہے قلقل مینا نے لگائے کیا کیامجھ کو مستی میں جو رونا سر محفل آیا
قتل کی سن کے خبر عید منائی میں نےآج جس سے مجھے ملنا تھا گلے مل آیا
تا دم مرگ نہ ہو وہ مرے دشمن کو نصیبجو مزا مجھ کو الٰہی دم بسمل آیا
مرقد قیس پر اب تک بھی تو خار صحراانگلیوں سے یہ بتاتے ہیں وہ محمل آیا
گنج قاروں کے سوا بھی ہے عدم میں سب کچھہائے دنیا میں نہ اس ملک کا حاصل آیا
جس نے کچھ ہوش سنبھالا وہ جواں قتل ہواعہد پیری نہ ترے عہد میں قاتل آیا
دین و دنیا سے گیا تو یہ سمجھ لے اے داغؔغضب آیا اگر اس بت پہ ترا دل آیا
بھلا ہو پیر مغاں کا ادھر نگاہ ملےفقیر ہیں کوئی چلو خدا کی راہ ملے
کہاں تھے رات کو ہم سے ذرا نگاہ ملےتلاش میں ہو کہ جھوٹا کوئی گواہ ملے
قریب مے کدہ مجھ کو جو خانقاہ ملےگلے ثواب کے کیا کیا مرے گناہ ملے
وہ روز حشر ہے دنیا نہیں کہ راہ ملےکہاں چھپوگے جو دو چار داد خواہ ملے
مری خرابی میں آ کر وہ چوکڑی بھولےکہ پھر نہ خانہ خرابی کو گھر کی راہ ملے
ترا دل آئے کسی پر تو عرش ہل جائےاثر تلاش میں ہے اس طرح کی آہ ملے
تمہارے کوچے میں ہر روز وہ قیامت ہےکہ سایہ ڈھونڈ رہا ہے کہیں پناہ ملے
ترا غرور سمایا ہے اس قدر دل میںنگاہ بھی نہ ملاؤں جو بادشاہ ملے
سر برہنہ مجنوں پہ آشیاں ہے تاجنہ رکھے سر پہ جو فغفور کی کلاہ ملے
فلک کی طرح جفائیں نہ کیجیے ہر روزاسی قدر ہے یہ نعمت جو گاہ گاہ ملے
تمہارے حسن سے کیا رتبہ ماہ کنعاں کووہی تو چاند جسے ڈوبنے کو چاہ ملے
سب اہل حشر جب اپنے کئے کو پائیں گےبڑا مزا ہو جو مجھ کو مرا گناہ ملے
کروں میں عرض اگر جان کی اماں پاؤںکہوں پتے کی اگر قہر سے پناہ ملے
یہ ہے مزے کی لڑائی یہ ہے مزے کا ملاپکہ تجھ سے آنکھ لڑی اور پھر نگاہ ملے
ہوا ہے درد جگر سے یہ گھر مرا تاریککہ موت ڈھونڈتی پھرتی ہے کوئی راہ ملے
نہ اس کو صبر نہ تاثیر کا پتا یا ربجلا دیا ہے مجھے خاک میں یہ آہ ملے
بلا سے دعوئ الفت نہ پیش کرتے ہمملے ہوئے ہیں جو دشمن سے وہ گواہ ملے
ٹھہر نہ آہ مری جان لے کے چلتے ہوسفر کرے جو مسافر کو زاد راہ ملے
مثل سنی ہے کہ ملنے سے کوئی ملتا ہےملو تو آنکھ ملے دل ملے نگاہ ملے
قمر کو جامہ شب تو بصر کو پردۂ چشمکئی لباس ترے نور کو سیاہ ملے
اثر کہاں سے ملے جب یہ پھوٹ ہو باہمالگ الگ رہے دونوں نہ حرف آہ ملے
لگا کے پاؤں میں اس کے اڑاؤں قاصد کواگر مجھے ترے توسن کی گرد راہ ملے
اس انقلاب میں ڈھونڈو جو مشک اور کافورتو یہ سفید ملے اور وہ سیاہ ملے
نوید بخشش عصیاں اسے سنا دیناجو شرمسار کہیں داغؔ رو سیاہ ملے
اس سے کیا خاک ہم نشیں بنتیبات بگڑی ہوئی نہیں بنتی
وہ بنی ابتدائے الفت میںدم پہ جو وقت واپسیں بنتی
آدمی سب فرشتے بن جاتےآسماں پر اگر زمیں بنتی
میری صورت بنی تو خاک بنیقسمت اے صورت آفریں بنتی
وعدہ کرتے ہی کیا وہ آ جاتےرات بھر زلف عنبریں بنتی
کاش سنتا نہ کوئی شور و فغاںدل کی جا چشم سرمگیں بنتی
تو نے ایسے بگاڑ ڈالے ہیںایک کی ایک سے نہیں بنتی
نہ چمکتی جو حسن کی تقدیرکیوں تری چاند سی جبیں بنتی
پارۂ جیب سے مرے اے کاشدست وحشت کی آستیں بنتی
بزم دنیا تھی قابل جنتخوب بنتی اگر یہیں بنتی
طبع نازک کا لطف جب تھا داغؔنازنینوں میں نازنیں بنتی
پھر شب غم نے مجھے شکل دکھائی کیونکریہ بلا گھر سے نکالی ہوئی آئی کیونکر
کٹ سکے سختی ایام جدائی کیونکرغیر کو آئے الٰہی مری آئی کیونکر
تو نے کی غیر سے کل میری برائی کیونکرگر نہ تھی دل میں تو لب پر ترے آئی کیونکر
نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہرگزجا کے اس بزم میں شامت مری آئی کیونکر
کھل گئی بات جب ان کی تو وہ پوچھتے ہیںمنہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہے پرائی کیونکر
دادخواہوں سے وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تو سنیںدوگے تم حشر میں سب مل کے دہائی کیونکر
تم دل آزار و ستم گر نہیں میں نے مانامان جائے گی اسے ساری خدائی کیونکر
ناگہاں شکوۂ بیداد تو کر بیٹھے ہماب یہ ہے فکر کریں ان سے صفائی کیونکر
آپ میں بھی تو رہی آتش تر کی تیزیآگ پانی میں یہ ساقی نے لگائی کیونکر
اللہ اللہ بتوں کو ہے یہ دست قدرتان کی مٹھی میں رہی ساری خدائی کیونکر
وہ یہاں آئیں وہاں غیر کا گھر ہو برباداس طرح سے ہو صفائی میں صفائی کیونکر
مجلس وعظ کو دیکھا تو کہا رندوں نےہوگی اس بھیڑ کی جنت میں سمائی کیونکر
آئینہ دیکھ کر وہ کہنے لگے آپ ہی آپایسے اچھوں کی کرے کوئی برائی کیونکر
کثرت رنج و الم سن کے یہ الزام ملااتنے سے دل میں ہے اتنوں کی سمائی کیونکر
اس نے صدقے میں کئے آج ہزاروں آزاددیکھیے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیونکر
داغؔ کو مہر کہا اشک کو دریا ہم نےاور پھر کرتے ہیں چھوٹوں کی بڑائی کیونکر
داغؔ کل تو دعا آپ کی مقبول نہ تھیآج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیونکر
پیامی کامیاب آئے نہ آئےخدا جانے جواب آئے نہ آئے
ترے غمزوں کو اپنے کام سے کامکسی کے دل کو تاب آئے نہ آئے
اسے شرمائیں گے ذکر عدو پریہ قسمت ہے حجاب آئے نہ آئے
تم آؤ جب سوار تو سن نازقیامت ہم رکاب آئے نہ آئے
شمار اپنی خطاؤں کا بتا دوںتمہیں شاید حساب آئے نہ آئے
نئے خنجر سے مجھ کو ذبح کیجےپھر ایسی آب و تاب آئے نہ آئے
شب وصل عدو تیری بلا سےکسی مضطر کو خواب آئے نہ آئے
پیوں گا آج ساقی سیر ہو کرمیسر پھر شراب آئے نہ آئے
یہ جا کر پوچھ آ تو ان سے درباںکہ وہ خانہ خراب آئے نہ آئے
نہ دیکھو داغؔ کا دیوان دیکھوسمجھ میں یہ کتاب آئے نہ آئے
کیا طرز کلام ہو گئی ہےہر بات پیام ہو گئی ہے
کچھ زہر نہ تھی شراب انگورکیا چیز حرام ہو گئی ہے
آگے تو نہیں نہیں سنی تھیاب تکیہ کلام ہو گئی ہے
جاتے جاتے پیام بر کوہر صبح سے شام ہو گئی ہے
اب دیکھیے مشق پائمالیتعریف خرام ہو گئی ہے
پہنچے ہیں جب اس کی بزم میں ہممجلس ہی تمام ہو گئی ہے
عالم کو ہے دعوی محبتیہ خاص بھی عام ہو گئی ہے
اس بت کے ہمیں نہیں ہیں بندےمخلوق غلام ہو گئی ہے
برباد نہ ہوگی تیری الفتتجویز مقام ہو گئی ہے
جاگیر جنوں کی قیس کے بعداب داغؔ کے نام ہو گئی ہے
یہ جو ہے حکم مرے پاس نہ آئے کوئیاس لیے روٹھ رہے ہیں کہ منائے کوئی
تاک میں ہے نگہ شوق خدا خیر کرےسامنے سے مرے بچتا ہوا جائے کوئی
وعدہ وصل اسے جان کے خوش ہو جاؤںوقت رخصت بھی اگر ہاتھ ملائے کوئی
سرد مہری سے زمانے کی ہوا ہے دل سردرکھ کر اس چیز کو کیا آگ لگائے کوئی
آپ نے داغؔ کو منہ بھی نہ لگایا افسوساس کو رکھتا تھا کلیجہ سے لگائے کوئی
بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیںہم بھی دیکھیں تو اسے دیکھ کے کیا کہتے ہیں
جو بھلے ہیں وہ بروں کو بھی بھلا کہتے ہیںنہ برا سنتے ہیں اچھے نہ برا کہتے ہیں
بزم احباب و مے ناب وصال معشوقاب کسی شے میں نہیں جس کو مزہ کہتے ہیں
میں گناہ گار اگر عشق مجازی ہے گناہمیں خطا وار اگر اس کو خطا کہتے ہیں
پہلے تو داغؔ کی تعریف ہوا کرتی تھیاب خدا جانے وہ کیوں اس کو برا کہتے ہیں
کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کرلگائیں وہ تہمتیں کہ بولا خدا خدا کر خدا خدا کر
تری محبت نے مار ڈالا ہزار ایذا سے مجھ کو ظالمرلا رلا کر گھلا گھلا کر جلا جلا کر مٹا مٹا کر
شراب خانہ ہے یہ تو زاہد طلسم خانہ نہیں جو ٹوٹےکہ توبہ کرتے گئی ہے توبہ ابھی یہاں سے شکست پا کر
نگہ کو بیباکیاں سکھاؤ حجاب شرم و حیا اٹھاؤبھلا کے مارا تو خاک مارا لگاؤ چوٹیں جتا جتا کر
نہ ہر بشر کا جمال ایسا نہ ہر فرشتے کا حال ایساکچھ اور سے اور ہو گیا تو مری نظر میں سما سما کر
الٰہی قاصد کی خیر گزرے کہ آج کوچہ سے فتنہ گر کےصبا نکلتی ہے لڑکھڑا کر نسیم چلتی ہے تھرتھرا کر
جناب سلطان عشق وہ ہے کرے جو اے داغؔ اک اشارہفرشتے حاضر ہوں دست بستہ ادب سے گردن جھکا جھکا کر
آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیامیں بت پرستیوں سے مسلمان ہو گیا
مے تو حلال ہے جو پئے ڈھب سے بادہ نوشمیں توبہ کر کے اور پشیمان ہو گیا
رندان بے ریا کی ہے صحبت کسے نصیبزاہد بھی ہم میں بیٹھ کے انسان ہو گیا
اس غنچے میں سمائی ہے وحشت برنگ بودل کتنی تنگیوں پہ بیابان ہو گیا
لو اے بتو سنو کہ وہ داغؔ صنم پرستمسجد میں جا کے آج مسلمان ہو گیا
محشر میں بھی کسی کے اٹھائیں گے ناز ہمایسے نیاز مند ہیں اے بے نیاز ہم
ہوگی فقط شریک دعا ایک بیکسیمیت پر اپنی آپ پڑھیں گے نماز ہم
واعظ یہی نہ کہہ دے کہ پیدا ہی کیوں ہوئےدنیا میں آئیں اور رہیں پاک باز ہم
اس میں بھی کوئی بھید ہے تم جانتے نہیںکہتے ہیں ایک ایک سے کیوں دل کے راز ہم
جب سنتے ہیں کہ آپ پہ دو چار مر گئےدلواتے ہیں رقیبوں کی اپنے نیاز ہم
وہ دن گئے کہ داغؔ تھی ہر دم بتوں کی یادپڑھتے ہیں پانچ وقت کی اب تو نماز ہم
عرش و کرسی پہ کیا خدا ملتاآگے بڑھتے تو کچھ پتہ ملتا
زر ملا گھر ملا غلام ملامیں نہ ملتا تو تم کو کیا ملتا
غیر سے مل کے کیا لیا تم نےہم سے ملتے تو کچھ مزہ ملتا
عاشقی سے ملے گا اے زاہدبندگی سے نہیں خدا ملتا
اک نہ اک ہم لگائے رکھتے ہیںتم نہ ملتے تو دوسرا ملتا
روز اک دل لگی نئی ہوتیروز اک دل مجھے نیا ملتا
تم کو یہ مل گیا ہے قسمت سےداغؔ سا ورنہ دوسرا ملتا
وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیارقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیا
یہ حال تھا شب وعدہ کہ تا بہ راہ گزرہزار بار گیا میں ہزار بار آیا
ترا ہی کوچہ ٹھکانہ ہے خاکساروں کاجو زندہ آ نہ سکا میں مرا غبار آیا
مزے اڑائے وہاں خوش رہا لیا انعامیہاں جو نامہ بر آیا تو اشک بار آیا
گزر گئے اسی گردش میں اپنے لیل و نہارشب فراق گئی روز انتظار آیا
اڑائے ہیں ملک الموت نے بھی تیرے ڈھنگہزار بار بلایا تو ایک بار آیا
خدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیںمجھے یقین ہوا مجھ کو اعتبار آیا
کہاں تھے شب کو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ نہیںکوئی پکارنے والا بہت پکار آیا
کمال عشق کو فرہاد و قیس کب پہنچےوہ پختہ کار ہے دل جس کا بار بار آیا
وہ کیوں ہوئے مرے مشتاق خیر ہو یا ربطلب میں کل ہی خط آیا تھا آج تار آیا
پلا دے آج سر شام مجھ کو اے ساقیکہ تیری بزم میں اک میں ہی روزہ دار آیا
ڈرے جو حشر میں وہ مجھ کو دیکھتے ہی کہامرا رفیق مرا داغؔ جاں نثار آیا
کوئی جانے تو کیا جانے وہ یکتا ہے ہزاروں میںستم گاروں میں عیاروں میں دل داروں میں یاروں میں
کسی کا دل تو کیا شیشہ نہ ٹوٹا بادہ خواروں میںیہ توبہ ٹوٹ کر کیوں جا ملی پرہیزگاروں میں
کہاں ہے دختر رز اے محتسب ہم بادہ خواروں میںترے ڈر سے وہ کافر جا چھپی پرہیزگاروں میں
کوئی غنچہ دہن ہنس کر ہمیں اب کیا ہنسائے گابہاریں ہم نے لوٹی ہیں بہت اگلی بہاروں میں
انہیں لوگوں کے آنے سے تو میخانے کی عظمت ہےقدم لو شیخ کے تشریف لائے بادہ خواروں میں
وہ کترا کر چلے ہیں میکدے سے حضرت زاہدبڑے مرشد ہیں ہاتھوں ہاتھ لانا ان کو یاروں میں
پڑا رویا کرے وہ داغؔ بیکس اس طرح تنہاکہ جس کی رات دن ہنس بول کر گزری ہو یاروں میں
سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیاملنا تھا جو مجھے مری قسمت کا مل گیا
اس نے لیا جو آئنے میں بوسہ اپنا آپاللہ رے نازکی لب گلفام چھل گیا
اللہ رے جامہ زیب تری جامہ زیبیاںپہنا جو تو نے رنگ وہی رنگ کھل گیا
جنت اسی کا نام اگر ہے تو بس سلاممحفل میں تیری جو کوئی آیا خجل گیا
میں نے تو اپنے واسطے کی تھی دعائے وصلالٹا اثر ہوا وہ رقیبوں سے مل گیا
ہستی میں ہیں عدم کے مزے عاشقوں کو داغؔقالب میں جان آتے ہی پہلو سے دل گیا
مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپجو نہ ملتے تھے سب ملیں گے آپ
دم رخصت یہ چھیڑ تو دیکھومجھ سے کہتے ہیں کب ملیں گے آپ
آپ کیوں خاک میں ملاتے ہیںہم مصیبت طلب ملیں گے آپ
کارواں کی تلاش کیا اے دلآ کے منزل پہ سب ملیں گے آپ
ایک تو وعدہ اور اس پہ قسمیہ یقیں ہے کہ اب ملیں گے آپ
داغؔ اک آدمی ہے گرما گرمخوش بہت ہوں گے جب ملیں گے آپ
ہم اپنے ہی سر لیں گے مصیبت ہو کسی کیآئے گی اسی جان پہ آفت ہو کسی کی
ہم لطف کے رتبے کو ابھی جانچ رہے ہیںدل دیں اگر ایسی ہی عنایت ہو کسی کی
کیوں وصل کی شب ہاتھ لگانے نہیں دیتےمعشوق ہو یا کوئی امانت ہو کسی کی
اے نامہ بر احوال غم ہجر تو لکھ دوںایسا نہ ہو میری ہی سی حالت ہو کسی کی
لڑنا کبھی ملنا کبھی آنا کبھی جاناتم شوخ ہو یا شوخ طبیعت ہو کسی کی
لو رہنے دو تسکیں کے لئے غیر کی تصویرشاید جو نہ ہوں میں تو ضرورت ہو کسی کی
یہ داغؔ ہماری نہیں سنتا نہیں سنتاایسی بھی الہی نہ بری مت ہو کسی کی
ذرا وصل پر ہو اشارہ تمہاراابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا
بتو دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کوخدا کا بھروسہ سہارا تمہارا
محبت کے دعوے ملے خاک میں سبوہ کہتے ہیں کیا ہے اجارہ تمہارا
رکاوٹ نہ ہوتی تو دل ایک ہوتاتمہارا ہمارا ہمارا تمہارا
نکل کر مرے گھر سے یہ جان لو تمنہ ہوگا کسی گھر گزارہ تمہارا
سنا ہے کسی اور کو چاہتا ہےوہ دشمن ہمارا وہ پیارا تمہارا
کریں گے سفارش ہم اے داغؔ ان سےاگر ذکر آیا دوبارہ تمہارا
دعا مانگے دل غمگیں کہاں تککہوں میں دم بہ دم آمیں کہاں تک
ترے بیمار کو آتی نہیں موتپڑھے جائے کوئی یٰسیں کہاں تک
تڑپنے دو ابھی میں بھی تو دیکھوںوہ دیتے ہیں مجھے تسکیں کہاں تک
خدا اس بت کی باتوں کا ہے مشتاقگیا شور لب شیریں کہاں تک
مرا منہ تھک گیا شکر جفا سےکروں میں آفریں تحسیں کہاں تک
مطلب کی تم سنو تو ذرا کوئی کچھ کہےجب بے سنے خفا ہو تو کیا کوئی کچھ کہے
ہم آپ چھیڑ چھیڑ کے کھاتے ہیں گالیاںکانوں کو پڑ گیا ہے مزہ کوئی کچھ کہے
بندے ہیں ہم تو عشق کے اے شیخ و برہمنپروا نہیں ہمیں بخدا کوئی کچھ کہے
کم بخت نامراد تو مدت سے ہے خطابجی چاہتا ہے اس سے سوا کوئی کچھ کہے
ناصح کہے سنے پہ ہمارا نہیں عملجو جی میں آ گیا وہ کیا کوئی کچھ کہے
اے داغؔ اس کی بزم میں ہم گل کھلائیں گےاس کا ہے انتظار ذرا کوئی کچھ کہے
ذکر میرا اگر آ جاتا ہےسن کے وہ صاف اڑا جاتا ہے
غم ترا حصہ ہے میرا لیکندل چرا کر اسے کھا جاتا ہے
کیا نزاکت ہے کہ آپ آئنہ میںعکس کے ساتھ کھنچا جاتا ہے
ناز سے کھینچ نہ مجھ پر تلوارغیر مشتاق ہوا جاتا ہے
حسرتیں دل کی مٹی جاتی ہیںقافلہ ہے کہ لٹا جاتا ہے
راہ میں گر نہ پڑے خط یا ربنامہ بر مثل ہوا جاتا ہے
داغؔ کو دیکھ کے بولے یہ شخصآپ ہی آپ جلا جاتا ہے
چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیاسر پہ احسان رہے اس لیے سر چھوڑ دیا
ٹکڑے ٹکڑے کیا ناصح کا گریباں میں نےشکر ہے اس نے مرا دامن تر چھوڑ دیا
کام سب خانہ خرابی کے ہوئے ہیں تجھ سےرحم کھا کر تجھے اے دیدۂ تر چھوڑ دیا
پھر کہاں تھا نہ یہاں تھا نہ وہاں تھا وہ شوخدامن اس کا جو سر راہ گزر چھوڑ دیا
لے گئی تھی ترے دیوانہ کو گھر سے وحشتنہیں معلوم کہ جنگل میں کدھر چھوڑ دیا
داغؔ وارفتہ طبیعت کا ٹھکانہ کیا ہےخانہ برباد نے مدت ہوئی گھر چھوڑ دیا
مزے لوں درد کے میں تھوڑے تھوڑے ظلم سہ سہ کرستم کیجے تو تھم تھم کر جفا کیجے تو رہ رہ کر
ملے تھے آج مدت میں بہت روئے بہت تڑپےوہ درد عشق سن سن کر ہم اپنا درد کہہ کہہ کر
ہوئی ہے شمع محفل تو شریک گریۂ عاشقتجھے اے قلقل مینا کہا تھا کس نے قہہ قہہ کر
چھپایا زلف نے چہرہ تو شوخی نے کیا ظاہرہزاروں بار نکلا وصل کی شب چاند گہہ گہہ کر
تڑپنے میں مزہ آتا ہے اس کم بخت کے ہم کواگر دل یاس سے بیٹھا ابھارا ہم نے کہہ کہہ کر
یہ جانا تھا نہ آئیں گے تو کیوں جانے دیا ان کویہی اے داغؔ پچھتاوا مجھے آتا ہے رہ رہ کر
پھر دیکھتے عیش آدمی کابنتا جو فلک مری خوشی کا
گلشن میں ترے لبوں نے گویارس چوس لیا کلی کلی کا
تیرا بھی تو حسن ہے دغابازہوتا ہی نہیں کوئی کسی کا
اتنی ہی تو بس کسر ہے تم میںکہنا نہیں مانتے کسی کا
ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھےمنہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا
تم کوچہ غیر میں نہ جانااس راہ میں ہے گزر کسی کا
کس کس نے لئے ہیں تیرے بوسےہے لعل نمک فشاں جو پھیکا
جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمتسارہ سودا ہے جیتے جی کا
آغاز کو کون پوچھتا ہےانجام اچھا ہو آدمی کا
روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمتآنا جانا کبھی کبھی کا
کہتے ہیں اسے زبان اردوجس میں نہ ہو رنگ فارسی کا
ایسے سے جو داغؔ نے نباہیسچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا
جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیںکیا ہی جھنجھلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں
کس بھروسے یہ کریں تجھ سے وفا کی امیدکون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں
خاک میں آہ ملا کر ہمیں کیا پوچھتے ہوخیر جس طور ہیں ہم خاک نشیں اچھے ہیں
دل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کوکہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیں
مجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی برائی سن کروہ نہیں تم سے برے بلکہ کہیں اچھے ہیں
بت وہ کافر ہیں کہ اے داغؔ خدا ان سے بچائےکون کہتا ہے یہ غارت گر دیں اچھے ہیں
شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھےتم جانتے ہو وہم ہے جس بات کا مجھے
جانا کہ بوئے غیر یہ پہچان جائے گاباسی نہ اس نے ہار دیا رات کا مجھے
مل کر تمام بھید کہوں گا رقیب سےآتا ہے خوب توڑ تری گھات کا مجھے
ڈرنا کسی کا اور وہ بجلی کا کوندناموسم بہت پسند ہے برسات کا مجھے
آخر وہاں رقیب نے نقشہ جما لیااے داغؔ خوف تھا اسی بد ذات کا مجھے
کیوں کہا یہ کسی سے کیا مطلباسی کہنے سے کھل گیا مطلب
بات پوری نہیں کہی میں نےکہ وہ طرار لے اڑا مطلب
میں کہے جاؤں تم سنے جاؤایک کے بعد دوسرا مطلب
ہے مرا درد آپ کی راحتہے مرے پاس آپ کا مطلب
کبھی کہتا ہوں دل سے خوب کیاکبھی کہتا ہوں کیوں کہا مطلب
دل میں گھٹ گھٹ کے رہ گئی حسرتلب پر آ آ کے رہ گیا مطلب
حضرت داغؔ توبہ کرتے ہیںکاش پورا کرے خدا مطلب
غم اٹھانے کے واسطے دم ہےزندگی ہے اگر تو کیا غم ہے
کہتے ہو کچھ کہو کہوں کیا خاکجانتا ہوں مزاج برہم ہے
گریہ بے اثر کی کچھ حد بھیہم ہیں اور آج چشم پر نم ہے
کیا نئے دوستوں سے بگڑی آجدشمنوں کا کچھ اور عالم ہے
مجھ کو دیکھا تو غیر سے یہ کہاعمر اس نوجوان کی کم ہے
گر خوشی ہے تو وصل کی ہے خوشیغم اگر ہے تو ہجر کا غم ہے
سنتے ہیں داغؔ کل وہ آئے تھےبارے اب تو سلوک باہم ہے
داغ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہےتیرا اللہ نگہبان کہاں جاتا ہے
پاؤں سے میرے بیابان کہاں چھٹتا ہےہاتھ سے میرے گریبان کہاں جاتا ہے
غیر جاتا تھا وہاں میں نے یہ کہہ کر روکاتجھ سے کچھ جان نہ پہچان کہاں جاتا ہے
ہجر کے دن کی مصیبت تو گزر جائے گیوصل کی رات کا احسان کہاں جاتا ہے
روٹھ کر بزم سے اٹھا تو نہ روکا مجھ کونہ کہا اس نے کہا مان کہاں جاتا ہے
بند کرتے ہو جو ہاتھوں سے تم آنکھیں میریکیا کہوں میں کہ مرا دھیان کہاں جاتا ہے
داغؔ تم نے تو بڑی دھوم سے کی تیاریآج یہ عید کا سامان کہاں جاتا ہے
وہ جو بولیں تو بات جاتی ہےچپ رہوں میں تو رات جاتی ہے
ساتھ حوروں کے ہے شہید تراکیا عدم کو برات جاتی ہے
مے کے پینے سے کر تو لوں توبہآرزوئے نجات جاتی ہے
دل لگی کا مزہ جب آتا ہےہستی بے ثبات جاتی ہے
خوب آتا ہے لطف آزادیجب یہ قید حیات جاتی ہے
کیا کروں داغؔ وصل میں شکوہبات کہنے میں رات جاتی ہے
تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرناکوئی ایک بات پوچھے تو ہزار بات کرنا
نہیں اور خوف قاصد مگر ایک بات کا ہےجو رقیب بھی وہاں ہو بہت التفات کرنا
وہ ہو تیز رو نہ پائے کوئی تم کو حضرت دلرہ دوست میں جو چلنا تو ہوا کو مات کرنا
مرے دل کی قیمت اتنی نہ بڑھاؤ کون لے گاجو تمہیں نہ جانتا ہو یہ اسی سے گھات کرنا
نکل آئیں گے وہ باہر وہیں شور سن کے اے دلکبھی ان کے کے گھر پہ جا کر کوئی واردات کرنا
وہ کریم کیا نہیں ہے وہ رحیم کیا نہیں ہےکبھی داغؔ بھول کر بھی نہ غم نجات کرنا
کیا چاک کیا تو نے مری جاں مرے دل کومیرا ہی بنایا ہے گریباں مرے دل کو
تجھ کو ہے قسم درد محبت مرے دل کیتو چین نہ دینا کسی عنواں مرے دل کو
یا اس بت گمراہ کو لا راہ وفا پریا پھیر دے اے گردش دوراں مرے دل کو
اچھی کہی اچھا نہیں کچھ دل کا لگانایہ لگ گئی اے ناصح ناداں مرے دل کو
تاثیر دکھا جائے محبت تو عجب کیاسینے سے لگا آج مری جاں مرے دل کو
کچھ دور نہیں بت کدہ و کعبہ سمجھ لیںکافر تری آنکھوں کو مسلماں مرے دل کو
ہے لطف تو یہ تجھ کو ہو محشر میں بھی انکاراور داغؔ کہے تو نے لیا ہاں مرے دل کو
گرہ جو پڑ گئی رنجش میں وہ مشکل سے نکلے گینہ ان کے دل سے نکلے گی نہ میرے دل سے نکلے گی
نہیں دشوار کچھ اپنے مکاں سے لا مکاں جاناوہیں پہنچائے گی جو راہ جس منزل سے نکلے گی
مری کشتی اگر چھوٹے گی دریائے محبت میںتو سب سے پہلے بسم اللہ لب ساحل سے نکلے گی
بڑی سختی سے میری جان نکلی ہے کئی دن میںیکایک لاش کیوں کر کوچۂ قاتل سے نکلے گی
ترشتے ہیں قیامت کے غضب کے رات دن فقرےنئی جب بات نکلے گی تری محفل سے نکلے گی
رموز عاشقی کو عاشقو تم داغؔ سے پوچھوکہ باریکی میں باریکی اسی کامل سے نکلے گی
غم اس پر آشکار کیا ہم نے کیا کیاغافل کو ہوشیار کیا ہم نے کیا کیا
ہاں ہاں تڑپ تڑپ کے گزاری تمہیں نے راتتم نے ہی انتظار کیا ہم نے کیا کیا
اترا رہا ہے نقد محبت پہ دل بہتاچھے کو مال دار کیا ہم نے کیا کیا
کہتے ہیں وہ شکایت بیداد و جور پرتجھ کو خدا نے خوار کیا ہم نے کیا کیا
ناصح بھی ہے رقیب یہ معلوم ہی نہ تھاکس کو صلاح کار کیا ہم نے کیا کیا
رسوا کیا جو دل نے تو اب کہہ رہے ہیں داغؔدشمن کو رازدار کیا ہم نے کیا کیا
ایک طوفاں ہے غم عشق میں رونا کیا ہےنہیں معلوم کہ انجام کو ہونا کیا ہے
دیکھ کر سانولی صورت تری یوسف بھی کہےچٹپٹا حسن نمک دار سلونا کیا ہے
چار باتیں بھی کبھی آپ نے گھل مل کے نہ کیںانہیں باتوں کا ہے رونا مجھے رونا کیا ہے
کاش مل جائے ترا سایۂ دیوار ہمیںاوڑھنا کیا ہے فقیروں کا بچھونا کیا ہے
اس کی ٹھوکر سے بھی کم بخت نہ جاگا افسوسموت ہے داغؔ سیہ مست کا سونا کیا ہے
جائے آسودگی کہاں ہے آججو زمیں کل تھی آسماں ہے آج
تم وہاں تھے تو دل وہاں تھا کلتم یہاں ہو تو دل یہاں ہے آج
عشق کو ابتدا میں ہم سمجھےفتنہ آخر الزماں ہے آج
کل ادا دل کا حال ہو کہ نہ ہوسن لو گویا مری زباں ہے آج
آرزو وصل کی شہید ہوئیماتم مرگ نوجواں ہے آج
اس ہدف پر لگائیں گے وہ تیردل نشیں داغؔ کا نشاں ہے آج
آزمایا ہے مدام آپ کو بس بس اجی بسدونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو بس بس اجی بس
آپ کی بندہ نوازی ہے جہاں میں مشہورجانتا ہے یہ غلام آپ کو بس بس اجی بس
منہ نہ کھلوایئے میرا یوں ہی رہنے دیجےیاد بھی ہے وہ کلام آپ کو بس بس اجی بس
ہم نے کل دیکھ لیا دیکھ لیا دیکھ لیاکہیں جاتے سر شام آپ کو بس بس اجی بس
پیجیے خون جگر اپنا جناب زاہدبادہ و ساغر و جام آپ کو بس بس اجی بس
چاک ہو پردہ وحشت مجھے منظور نہیںورنہ یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیں
سجدے کرنے سے مٹا خط جبیں اے زاہدہم کہے دیتے ہیں قسمت میں تری حور نہیں
محتسب مانع علت ہے گمان مے سےسونگھنے کو بھی میسر مجھے انگور نہیں
لب تک آئی تھی شکایت کہ محبت نے کہادیکھ پچھتائے گا خاموش یہ دستور نہیں
رات دن نامہ و پیغام کہاں تک ہوں گےصاف کہہ دیجئے ملنا ہمیں منظور نہیں
تم نے دی کوہ کن و قیس سے مجھ کو نسبتکوئی دیوانہ نہیں میں کوئی مزدور نہیں
کیا کرے داغؔ کوئی اس کی محبت کا علاجوہ کلیجہ ہی نہیں جس میں یہ ناسور نہیں
ملتے ہی بے باک تھی وہ آنکھ شرمائی ہوئیپھر گئی پچھتا کے پلکوں تک حیا آئی ہوئی
ہر ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئیاف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی
مجھ کو یہ دعوی کوئی تیرے سوا دل میں نہیںاس کا یہ الزام اچھی قید تنہائی ہوئی
بھولے بن کر ان کے منہ سے سن لیا حال رقیبعمر بھر میں ایک ہی تو ہم سے دانائی ہوئی
بوسہ لے کر جان ڈالی غیر کی تصویر میںیہ نیا اعجاز یہ اچھی مسیحائی ہوئی
دیکھ کر قاتل کی آمد داغؔ دل میں شاد شاداور غم خواروں کے منہ پر مردنی چھائی ہوئی
بیکسیٔ شب ہجراں کی مجھے تاب نہیںکاش دشمن ہی چلے آئیں جو احباب نہیں
تجھ کو اے بخت سیہ آگ لگا کر دیکھوںشب ہجراں میں اگر جلوہ مہتاب نہیں
دیکھ بت خانے میں تصویر کا عالم اے شیخیاں مصلیٰ نہیں منبر نہیں محراب نہیں
نامہ بر مجھ سے یہ کہتا ہے کہ تم تو کیا ہوبادشہ بھی تو وہاں قابل القاب نہیں
نہ ملے مجھ کو مرے حال پہ رونے والےعیش کیسا کہ یہاں غم کے بھی اسباب نہیں
حال دل جس سے کہا اس نے کہا بس خاموشداغؔ اس درد کے سننے کی ہمیں تاب نہیں
اے فلک چاہیئے جی بھر کے نظارہ ہم کوجا کے آنا نہیں دنیا میں دوبارہ ہم کو
کبھی ایما نہ کنایہ نہ اشارہ ہم کوکم نگاہی نے تری جان سے مارا ہم کو
ہم کسی زلف پریشاں کی طرح اے تقدیرخوب بگڑے تھے مگر خوب سنوارا ہم کو
جب کھنچے ان سے ہوئے اور زیادہ مضطرمرض عشق کے پرہیز نے مارا ہم کو
روز تکرار کرے کون خریداروں سےدل کی اس گرمئ بازار نے مارا ہم کو
آپ سے اب نہ بنے گا کوئی سودا اپناپھیر دیجے دل بیتاب ہمارا ہم کو
بحر ہستی میں ہوئے کشتیئ طوفانی ہمنہیں ملتا کہیں اے داغؔ کنارہ ہم کو
کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیںجی بہل جائے گا کہیں نہ کہیں
ہے کدورت بھری ہوئی اس میںآسماں پر بھی ہو زمیں نہ کہیں
حال پہلو بچا کے لکھا ہےتاڑ جائے وہ نکتہ چیں نہ کہیں
آپ کی گفتگو کا کیا کہناچار باتیں بھی دل نشیں نہ کہیں
غیر دیتا ہے کیوں مجھے ساغرسانپ ہو زیر آستیں نہ کہیں
تیرے عاشق ہیں کافر و دیں دارایک ہو جائے کفر و دیں نہ کہیں
داغؔ پھر تاک جھانک کرتے ہیںاب گھرے اب پھنسے کہیں نہ کہیں
دیکھا نہ ہم نے رشک سے اغیار کی طرفمنہ پھیر بیٹھے بزم میں دیوار کی طرف
سیل سرشک اپنے ہی گھر میں بہائیں گےکیوں جائے یہ بلا تری دیوار کی طرف
بیٹھے بٹھائے آئے جو شامت تو کیا علاجدل نے کہا کہ آؤ چلیں یار کی طرف
چاہی تھی داد ہم نے دل صاف کی مگرآئینہ ہو گیا ترے رخسار کی طرف
تصویر کو بھی اس کی یہاں تک غرور ہےدیکھے کبھی نہ طالب دیدار کی طرف
تقصیر مے فروش کی اے محتسب نہیںیہ چیز اڑ کے جاتی ہے مے خوار کی طرف
دی جان کس خوشی سے تہ تیغ داغؔ نےلب پر تبسم اور نظر یار کی طرف
کسی کی نرگس مخمور کچھ کہہ دے اشاروں میںمزہ ہے رات دن چلتی رہے پرہیزگاروں میں
جنوں میں دیکھیے میدان کس کے ہاتھ رہتا ہےپڑی ہے آبلوں میں پھوٹ اور ایکا ہے خاروں میں
وہ شرمائی ہوئی آنکھیں وہ گھبرائی ہوئی باتیںنکل کر گھر سے وہ گھرنا ترا امیدواروں میں
پلک اٹھتی نہیں میری طرف کیا تھک گئیں آنکھیںابھی تو ہو رہی تھیں غیر سے باتیں اشاروں میں
کوئی جنت کا خواہاں ہے کوئی کوثر کا طالب ہےاڑا کرتی ہے بے پر کی ہمیشہ بادہ خواروں میں
جلانا داغؔ کا اچھا نہیں یہ دم غنیمت ہےکہ ایسا با وفا اک آدھ نکلے گا ہزاروں میں
دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبروجاتا ہے اک اسیر ستم گر کے روبرو
اس بت میں اک خدائی کا جلوہ ہے ورنہ شیخسجدہ کئے سے فائدہ پتھر کے روبرو
آنسو بہا رہا ہوں خط یار پڑھ کے میںیوں دانہ ڈالتا ہوں کبوتر کے روبرو
حاصل ہوئی بھی عقل فلاطوں اگر تو کیاچلتی نہیں کسی کی مقدر کے روبرو
اے داغؔ ہوگا ہم سے کسی کا جواب کیامقدار چشم کیا ہے سمندر کے روبرو
سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کوکہیں جینے دے یوں ہی تو مجھ کو
بندہ نو خرید ہوں ہر دمرکھیے آنکھوں کے رو بہ رو مجھ کو
کل تک اس کی تلاش تھی لیکنآج ہے اپنی جستجو مجھ کو
پہلے وہ تھا کہ تم نہ تھے آگاہاب وہ ہوں سن لو کو بہ کو مجھ کو
واں شکایت پہ وہ حکایت ہےکہ نہیں جائے گفتگو مجھ کو
اے حیات دو روزہ لے آئیکن گرفتاریوں میں تو مجھ کو
داغؔ یکسو ہو خوش نہیں آتیناامیدانہ آرزو مجھ کو
تلوار تری رواں بہت ہےتھوڑا بھی تو امتحاں بہت ہے
کچھ آہ کے حوصلہ نکلتےنیچا مگر آسماں بہت ہے
دامن پہ ترے لگی رہی خاکاتنا ہی مرا نشاں بہت ہے
دل تنگ سہی پر اے تمنامر رہنے کو یہ مکاں بہت ہے
اک کوہ گراں ہے عشق لیکناس کو دل ناتواں بہت ہے
الفت میں نہیں ہے صبر نایابیہ چیز مگر گراں بہت ہے
باطن کی خبر خدا کو ہے داغؔظاہر میں وہ مہرباں بہت ہے
گر میرے بت ہوش ربا کو نہیں دیکھااس دیکھنے والے نے خدا کو نہیں دیکھا
رہبر سے غرض کیا ہے جو منزل نظر آئےکعبے میں کہے قبلہ نما کو نہیں دیکھا
جس شکل سے ہنستے ہیں مرے حال پہ احبابروتے ہوئے یوں اہل عزا کو نہیں دیکھا
اتنا تو بتا دے مجھے اے ناصح مشفقدیکھا ہے کہ اس ماہ لقا کو نہیں دیکھا
جب داغؔ کو ڈھونڈھا کسی بت خانے میں پایاگھر میں کبھی اس مرد خدا کو نہیں دیکھا
راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میںاور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں
یہ بھی تم جانتے ہو چند ملاقاتوں میںآزمایا ہے تمہیں ہم نے کئی باتوں میں
غیر کے سر کی بلائیں جو نہیں لیں ظالمکیا مرے قتل کو بھی جان نہیں ہاتھوں میں
ابر رحمت ہی برستا نظر آیا زاہدخاک اڑتی کبھی دیکھی نہ خراباتوں میں
یا رب اس چاند کے ٹکڑے کو کہاں سے لاؤںروشنی جس کی ہو ان تاروں بھری راتوں میں
تمہیں انصاف سے اے حضرت ناصح کہہ دولطف ان باتوں میں آتا ہے کہ ان باتوں میں
دوڑ کر دست دعا ساتھ دعا کے جاتےہائے پیدا نہ ہوئے پاؤں مرے ہاتھوں میں
جلوہ یار سے جب بزم میں غش آیا ہےتو رقیبوں نے سنبھالا ہے مجھے ہاتھوں میں
ایسی تقریر سنی تھی نہ کبھی شوخ و شریرتیری آنکھوں کے بھی فتنے ہیں تری باتوں میں
ہم سے انکار ہوا غیر سے اقرار ہوافیصلہ خوب کیا آپ نے دو باتوں میں
ہفت افلاک ہیں لیکن نہیں کھلتا یہ حجابکون سا دشمن عشاق ہیں ان ساتوں میں
اور سنتے ابھی رندوں سے جناب واعظچل دئے آپ تو دو چار صلٰواتوں میں
ہم نے دیکھا انہیں لوگوں کو ترا دم بھرتےجن کی شہرت تھی یہ ہرگز نہیں ان باتوں میں
بھیجے دیتا ہے انہیں عشق متاع دل و جاںایک سرکار لٹی جاتی ہے سوغاتوں میں
دل کچھ آگاہ تو ہو شیوۂ عیاری سےاس لئے آپ ہم آتے ہیں تری گھاتوں میں
وصل کیسا وہ کسی طرح بہلتے ہی نہ تھےشام سے صبح ہوئی ان کی مداراتوں میں
وہ گئے دن جو رہے یاد بتوں کی اے داغؔرات بھر اب تو گزرتی ہے مناجاتوں میں
کیوں کرتے ہو دنیا کی ہر اک بات سے توبہمنظور تو ہے میری ملاقات سے توبہ
زاہد نے چھپایا ہے اسے گوشۂ دل میںبھاگی تھی کسی رند خرابات سے توبہ
یہ فصل اگر ہوگی تو ہر روز پئیں گےہم مے سے کریں توبہ کہ برسات سے توبہ
دنیا کی کوئی بات ہی اچھی نہیں زاہداس بات سے توبہ کبھی اس بات سے توبہ
مسجد نہیں دربار ہے یہ پیر مغاں کادروازے کے باہر رہے اوقات سے توبہ
یہ داغؔ قدح خوار کے کیا جی میں ہے آئیسنتے ہیں کئے بیٹھے ہیں وو رات سے توبہ
ہے طرفہ تماشہ سر بازار محبتسر بیچتے پھرتے ہیں خریدار محبت
اللہ کرے تو بھی ہو بیمار محبتصدقہ میں چھٹیں تیرے گرفتار محبت
اس واسطے دیتے ہیں وہ ہر روز نیا داغاک درد کے خوگر نہ ہوں بیمار محبت
کچھ تذکرہ عشق رہے حضرت ناصحکانوں کو مزہ دیتی ہے گفتار محبت
واعظ کی زباں پر تو وہ کلمہ ہے کہ گویابخشے ہی نہ جائیں گے گنہ گار محبت
دیکھا ہے زمانے کو ان آنکھوں نے تو اے داغؔاس رنگ پر اس ڈھنگ پر انکار محبت
سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھےسلجھے ہوئے ہم سے نہ کبھی یار سے الجھے
ہونے نہ دیا رشک نے اظہار تمناہر بات میں ہم اپنی ہی گفتار سے الجھے
الجھاؤ سے الجھاؤ ہیں اس عشق میں یا ربدلدار سے اٹکے تھے کہ اغیار سے الجھے
کیا سیر ہو شانے سے لڑے گر دل صد چاکایک ایک گرفتار گرفتار سے الجھے
اٹکے تو کسی چشم فسوں ساز سے اٹکےالجھے تو کسی طرۂ طرار سے الجھے
چوری سے بھی پہنچے نہ ترے گھر میں کبھی ہمبرسوں یوں ہی خار سر دیوار سے الجھے
کھلتے نہیں تم داغؔ الجھتی ہے طبیعتاچھے کسی عیار سے مکار سے الجھے
شوق ہے اس کو خود نمائی کااب خدا حافظ اس خدائی کا
ہنسی آتی ہے اپنے رونے پراور رونا ہے جگ ہنسائی کا
اور تو ہم کو کچھ نہیں آتاکام کرتے ہیں آشنائی کا
دل ترا صاف ہو نہیں سکتاہیچ ہے محکمہ صفائی کا
بت کدہ کی جو سیر کی ہم نےکارخانہ ہے اک خدائی کا
گرچہ پہنچا ہوں میں کہیں سے کہیںمرحلہ دور ہے رسائی کا
نہ رہا لطف اس زمانے میںمیرزا داغؔ میرزائی کا
دل مکدر مدام کا نکلاکب یہ آئینہ کام کا نکلا
بحث تھی مے کشی میں زاہد سےعذر ماہ صیام کا نکلا
یہ سنا ہے کہ اب وہ ہرجائیصبح آتا ہے شام کا نکلا
دل کے ملنے کی پھر امید نہیںیہ اگر اس کے کام کا نکلا
واہ کیا کیا تری محبت میںحوصلہ خاص و عام کا نکلا
سچ تو یہ ہے کہ عاشقی میں داغؔایک ہی اپنے نام کا نکلا
غم اٹھانے کے ہیں ہزار طریقکہ زمانے کے ہیں ہزار طریق
غیر کے ذکر پر نہیں موقوفجی جلانے کے ہیں ہزار طریق
مہربانی کی ایک راہ تو ہوگر ستانے کے ہیں ہزار طریق
دل میں آیا ہزار راہ سے غماس ٹھکانے کے ہیں ہزار طریق
ان کو سو سو بہانے آتے ہیںہر بہانے کے ہیں ہزار طریق
دی ہے مے اس نے غیر کو جوٹھیمنہ لگانے کے ہیں ہزار طریق
داغؔ اب فاقہ مست بن بیٹھےمانگ کھانے کے ہیں ہزار طریق
ہوا جو ان کی خاموشی سے کچھ ملال مجھےجواب دینے لگی طاقت سوال مجھے
کسی کے دل سے کسی کی نظر سے گرتا ہوںسنبھالنا ہے تو اے آسماں سنبھال مجھے
امید بوسہ ہے پھر بھی اگرچہ یہ ہے یقیںبہت ذلیل کرے گا مرا سوال مجھے
صدائے نالہ شب وصل بھی نہ دل سے گئیپکارتی تھی یہ حسرت مری نکال مجھے
پلا دے بزم میں ساقی اسے شراب اتنیوہ مست ناز کہے مجھ سے تو سنبھال مجھے
شکایتوں سے محبت کی اور کیا حاصلکچھ انفعال تمہیں ہو کچھ انفعال مجھے
اسیر حلقہ کاکل نہ میں ہوا اے داغؔمرے خدا نے بچایا ہے بال بال مجھے
وصل کی آرزو کئے نہ بنینہ بنی جستجو کئے نہ بنی
شوق نے ہم کلام کر ہی دیاان سے بے گفتگو کئے نہ بنی
جب رکا خون بن گئی دم پرچاک دل کو رفو کئے نہ بنی
ذلت عشق ہے وہاں عزتشکوہ آبرو کئے نہ بنی
پاک ہونا ہے رند کو لازممے کشی بے وضو کئے نہ بنی
قتل ٹھہرا جو شیوۂ معشوقہمیں دل کو لہو کئے نہ بنی
اس کی تصویر سے بھی تھا یہ خوفداغؔ کو گفتگو کئے نہ بنی
دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیںدیکھ لیتا ہے جو کوئی وہیں تھم جاتے ہیں
آپ نے گھر سے نکالا ہمیں ہم جاتے ہیںپھر نہ آئیں گے کبھی کھا کے قسم جاتے ہیں
بے خطا سر مرے قاصد کا قلم ہوتا ہےغیر کو تحفہ میں بن بن کے قلم جاتے ہیں
دل کا کیا حال کہوں صبح کو جب اس بت نےلے کے انگڑائی کہا ناز سے ہم جاتے ہیں
حضرت داغؔ یہ ہے کوچۂ قاتل اٹھیےجس جگہ بیٹھتے ہیں آپ تو جم جاتے ہیں
برسوں آنکھوں میں رہے آنکھوں سے پھر کر دل میں آئےراہ سیدھی تھی مگر پہنچے بڑے چکر سے آپ
کٹ گئے لاکھوں گلے اس تیزیٔ رفتار سےاب تو چل نکلے زیادہ اپنے بھی خنجر سے آپ
اپنے سینہ سے دبا دیجے ذرا سینہ مراچور کیجے شیشہ دل کو اسی پتھر سے آپ
حضرت زاہد نکل آیا فلک پر آفتابپیر و مرشد اب تو اٹھیے میکدے کے در سے آپ
کیوں جناب داغؔ یاد اللہ میری یاد ہےبھیس بدلے رات کو آتے تھے کس کے گھر سے آپ
تیرے کوچے میں جو ہم با دیدہ تر بیٹھتےجوش طوفاں سے زمیں میں سینکڑوں گھر بیٹھتے
چارہ گر بھی ہم نشیں تھا رات کو ناصح بھی تھاورنہ بیتابی سے ہم کیا جانے کیا کر بیٹھتے
ہو گئی محفل تری کیا بے ادب بے قاعدہجو کھڑے رہتے تھے وہ اب ہیں برابر بیٹھتے
جب کیا شکوہ کہ محفل میں رہے ہم تم سے دوراس نے جھنجھلا کر کہا کیا میرے سر پر بیٹھتے
جس کی قسمت میں ہو گردش کس طرح بیٹھے کہیںہم سے آوارہ ترے کوچے میں کیوں کر بیٹھتے
داغؔ تم نے کیوں کیا ہے نام وحشت کا خراباس سے تو بہتر یہی تھا چین سے گھر بیٹھتے
جفا پر جان دیتے ہیں ستم پر تیرے مرتے ہیںیہ ناکام محبت سچ تو یہ ہے کام کرتے ہیں
کہیں کیا ہم پہ جو صدمہ گزرتے ہیں گزرتے ہیںلگایا جس گھڑی دل اس گھڑی کو یاد کرتے ہیں
تماشہ جب سے دیکھا ہے مرے دل کے تڑپنے کاتماشہ ہے کہ وہ اپنی نظر سے آپ ڈرتے ہیں
نہیں آتے نہ آئیں وہ گئے تاب و تواں جائیںتجھی پر آج ہم اے بے قراری صبر کرتے ہیں
گلی کوچوں میں تم نے اشتہار عشق پھیلائےکہ اڑاڑ کر مرے مکتوب کے پرزے بکھرتے ہیں
ادا بے ساختہ ان گیسوؤں کی کچھ نرالی ہےبنائے سے بگڑتے ہیں سنوارے سے بکھرتے ہیں
نہ پوچھو داغؔ ہم سے انتظار یار کی صورتیہ آنکھیں جانتی ہیں خوب جو نقشے گزرتے ہیں
اول تو رہے دور وہ نالوں سے ہمارےپاس آئے تو گھبرائے سوالوں سے ہمارے
یہ کہتے ہیں بلبل سے وہ گل ہاتھ میں لے کرتو دیکھ ملا کر اسے گالوں سے ہمارے
کیا برہنہ پا دشت میں لاکھوں بھی نہ ہوں گےکانٹوں کو مگر چھیڑ ہے چھالوں سے ہمارے
ہر وقت نئی دھن ہے ہمیں تازہ تصورجاؤ گے کہاں بچ کے خیالوں سے ہمارے
کہتی ہیں وہ آنکھیں صف مژگاں کو بڑھا کرہے کون جو روکش ہو رسالوں سے ہمارے
اے داغؔ فلک دشمن ارباب ہنر ہےظالم کو خبر ہو نہ کمالوں سے ہمارے
شمع روشن ہے ہماری آہ سےلو لگائے بیٹھے ہیں اللہ سے
چلتے ہیں کیا کیا وہ رستہ کاٹ کرجب گزرتے ہیں ہماری راہ سے
کیوں نہ رکھوں میں تبرک کی طرحغم ملا ہے عشق کی درگاہ سے
ایک بوسہ پر ہمیں ٹالیں نہ آپکچھ علاوہ دیجئے تنخواہ سے
مانگ کر تجھ کو بہت نادم ہوامانگنا تھا اور کچھ اللہ سے
خوب صورت ہو کے تم لڑنے لگےبحث ہے دن رات مہر و ماہ سے
تو نے واعظ زندگی دشوار کیکیوں کیا واقف خدا کی راہ سے
عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہتدل سلامت ہے تو حسرت بہت ارمان بہت
کاش دو چار ہزاروں میں تو ہوں کافر عشقہم نے کعبے میں بھی دیکھے نہ مسلمان بہت
سر اٹھاتا نہیں تو شرم جفا سے ظالمیا کیے ہیں کسی کم بخت نے احسان بہت
تم کہ بیداد کرو اور نہ شرماؤ ذراہم کہ نا کردہ گنہ اور پشیمان بہت
حسرتیں روز نئی دل میں بھری جاتی ہیںتھوڑے تھوڑے بھی ہوئے جاتے ہیں مہمان بہت
سوچیے دل میں تو ہے عشق نہایت دشوارنہ سمجھئے تو یہی کام ہے آسان بہت
بزم احباب میں اے داغؔ کبھی تو ہنس بولدیکھتے ہیں تجھے ہر وقت پریشان بہت
ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایکآج محفل میں گرے مست شراب ایک پر ایک
گل بازی ہے حسینوں میں مرا افسانہپھینک دیتا ہے محبت کی کتاب ایک پر ایک
جوش پر ہے جو ترا حسن تو اے پردہ نشیںروز کرتا ہے غضب بند نقاب ایک پر ایک
توڑ اس طرح سے اے نالۂ دل ساتوں فلککہ گریں ٹوٹ کے یہ خانہ خراب ایک پر ایک
لب جو سیر کو آیا ہے جو وہ بحر جمالٹوٹا پڑتا ہے تماشے کو حباب ایک پر ایک
یاد آتی ہے انہیں دم بہ دم اک بات نئیروز آتا ہے مرے خط کا جواب ایک پر ایک
جب کبھی داغؔ کیا ہم نے سوال بوسہسیکڑوں اس نے دئے سخت جواب ایک پر ایک
طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گیچڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گی
رہیں گی دم مرگ تک خواہشیںیہ نیت کوئی آج بھر جائے گی
رہے پیروی ہجر ہو یا وصالکہ اک بات آخر ٹھہر جائے گی
محبت میں اے دل نہ ڈر سر پہ کھیلوہ بازی نہیں یہ کہ ہر جائے گی
نہ گزری شب ہجر سمجھے تھے ہمتڑپتے پھڑکتے گزر جائے گی
دیا دل تو اے داغؔ اندیشہ کیاگزرنی جو ہوگی گزر جائے گی
جور کے بعد ہے کیوں لطف یہ عادت کیا ہےتم تلافی جو کرو اس کی ضرورت کیا ہے
ایک دن مان ہی جاؤ گے ہمارا کہناتم کہے جاؤ یہی تیری حقیقت کیا ہے
وعدہ وصل سے انکار ہے تو قتل کروتم سے ہم پوچھتے ہیں اس میں قباحت کیا ہے
بوسہ مانگا تو کہا اس نے بدل کر چتونآپ کو یہ بھی خبر ہے مری عادت کیا ہے
ہائے کیا تھا وہ زمانہ کہ تم آگاہ نہ تھےشکر کس چیز کو کہتے ہیں شکایت کیا ہے
کیا کہوں کس سے کہوں دل کی حقیقت اے داغؔسب یہی پوچھتے ہیں کہئے تو حضرت کیا ہے
غربت کے رنج فاقہ کشی کے ملال کھینچاے داغؔ پر زمانے سے دست سوال کھینچ
نازک بہت ہے رشتہ الفت نہ ٹوٹ جائےاتنا نہ اپنے آپ کو اے مہ جمال کھینچ
ہو جائے تو نہ طائر دل کی طرح اسیرصیاد اپنی سمت کو آہستہ جال کھینچ
کھینچی تھی جب مصور قدرت نے دل کی شکلکہتا یہ کون تو نہ اسے بے خیال کھینچ
وہ ٹھنڈے ٹھنڈے چین سے گھر کو چلے گئےلے اور آہ سرد دل پر ملال کھینچ
ناصح قمار گاہ محبت میں جی نہ ہاردل کو لگا کے نفع اٹھا خوب مال کھینچ
اے داغؔ جذب عشق کی دیکھیں گے اب کششکی اس کشیدہ رو نے تو ہم سے کمال کھینچ
آئے بھی تو وہ منہ کو چھپائے مرے آگےاس طرح سے آئے کہ نہ آئے مرے آگے
بجھتے ہوئے دیکھوں گا نہ میں دل کی لگی کوکوئی نہ کبھی شمع بجھائے مرے آگے
تیور یہی کہتے تھے کہ یہ نام ہے میرالکھ کر کئی حرف اس نے مٹائے مرے آگے
بچھڑے ہوئے معشوق ملیں سب کو الٰہیتنہا کوئی جنت میں نہ جائے مرے آگے
کچھ داغؔ کا مذکور جو آیا تو وہ بولےآئے تھے برا حال بنائے مرے آگے
عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہواس باغ کا تو پھول ہو پھر اس میں بو نہ ہو
اے درد عشق خانہ دل گھر ترا سہیآباد یہ مکان تو جب ہو کہ تو نہ ہو
میں رنگ دیکھ کر نہ کروں گا یقیں کبھیجب تک عدو کے خون کی خنجر میں بو نہ ہو
چاک دل رقیب کی جب فکر کیجیےپہلے یہ دیکھ لیجیے پہلا رفو نہ ہو
اس فکر میں کچھ ان سے نہ ہم بات کر سکےیہ گفتگو نہ ہو کہیں وہ گفتگو نہ ہو
مجھ کو جناب شیخ کی دعوت ضرور ہےایسی کہیں شراب ملے جس میں بو نہ ہو
مٹی کی مورت اس سے تو اے داغؔ خوب ہےمعشوق کیا جو شوخ نہ ہو خوش گلو نہ ہو
چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہمہاتھ دھو بیٹھے مئے کوثر سے ہم
بت کدہ میں جا کے اس بت کا پتہپوچھتے پھرتے ہیں ہر پتھر سے ہم
قصد صحرا ہے دل ویراں کے ساتھاک بیاباں لے چلے ہیں گھر سے ہم
جب رگ جاں سے کمی کرتا ہے خونچھیڑ دیتے ہیں اسے نشتر سے ہم
کس قدر کٹتی ہے راہ شوق جلدتیز چلتے ہیں ترے خنجر سے ہم
کیا کہیں کس سے کہیں کس کے لیےپھرتے ہیں چاروں طرف مضطر سے ہم
وہ ستم گر روبرو ہوگا تو داغؔکیا کہیں گے داور محشر سے ہم
کیا کیا فریب دل کو دیے اضطراب میںان کی طرف سے آپ لکھے خط جواب میں
کیا جانیں کیا سکھائیں گے ان کو صلاح کارہر روز گفتگو ہے نئی میرے باب میں
پیر مغاں کی دل شکنی کا رہا خیالداخل ہوا ہوں توبہ سے پہلے ثواب میں
رکھنا قدم تصور جاناں سنبھال کرکائی ہے جا بہ جا مری چشم پر آب میں
اے شیخ جو بتائے مے عشق کو حرامایسے کے دو لگائے بھگو کر شراب میں
اے داغؔ کوئی مجھ سا نہ ہوگا گناہ گارہے معصیت سے میری جہنم عذاب میں
کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگدیکھتے ہیں بہ چشم غور اہل نظر الگ الگ
راہ میں ان کو وہم تھا کوئی نہ بد گمان ہوآئے تو ساتھ ساتھ وہ مجھ سے مگر الگ الگ
کس کا یقین کیجیے کس کا یقیں نہ کیجیےلائے ہیں اس کی بزم سے یار خبر الگ الگ
میں ہوں ادھر تو وہ ادھر میں ہوں یہاں تو وہ وہاںرہتے ہیں مجھ سے دور دور آٹھ پہر الگ الگ
رنج فراق یار بھی صدمۂ روزگار بھیایک دل اور اتنے غم چاہئے گھر الگ الگ
ان کو یہ وہم ہے کہیں ایک سے ایک مل نہ جائیںلوگ بہت ہیں بزم میں سب ہیں مگر الگ الگ
حشر کو اس نے چن لئے داغؔ گناہ گار عشقتاڑ گئی ہزار میں اس کی نظر الگ الگ
رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہمکیا بروں کی جان کو روتے ہیں ہم
بے خودانہ اپنی ہشیاری رہیجاگتے ہیں کچھ تو کچھ سوتے ہیں ہم
اپنے گھر رہنے دے کیوں کر حور وشحضرت آدم ہی کے پوتے ہیں ہم
جاں کنی اپنا ہے کام اے کوہ کنعشق میں پتھر نہیں ڈھوتے ہیں ہم
داغؔ ہے کس کو میسر درد عشقرنج ہوتا ہے تو خوش ہوتے ہیں ہم
جب مے لالہ فام ہوتی ہےمجھ کو توبہ حرام ہوتی ہے
خوبرو وہ ہے جس کی خو اچھیشمع صورت حرام ہوتی ہے
یہ سنا ہے کہ برہمن سے بھیشیخ کی رام رام ہوتی ہے
تیرا وعدہ ہے کس قیامت کارات دن صبح و شام ہوتی ہے
ہجر کا دن ڈھلے تو ہم جانیںصبح کے بعد شام ہوتی ہے
پہلے اے داغؔ کچھ نہ ہوش آیادل کی اب روک تھام ہوتی ہے
نفرت ہے حرف وصل سے اچھا یوہیں سہیلو آؤ اور بات سنو وہ نہیں سہی
چھوڑوں گا میں نہ ہاتھ چلے آؤ ساتھ ساتھنازک کلائی دکھتی ہے تو آستیں سہی
مشق جفا کے واسطے کس کی تلاش ہےکوئی اگر نہیں ہے تو یہ کمتریں سہی
اقرار کر کے گھورتے ہو کیوں مری طرفباور سہی یقین سہی دل نشیں سہی
بیداد کر کے چاہتے ہو پھر جفا کی دادبہتر بجا درست صحیح آفریں سہی
سجدے ہی کرتے جائیں گے ہم تیری راہ میںہے نقش پا سے عار تو نقش جبیں سہی
بے دل لگی بھی داغؔ گزرنی محال ہےوہ دل نہیں سہی وہ تمنا نہیں سہی
نامہ بر کہتا ہے اب لاتا ہوں دل بر کا جوابسن چکا میں چار دن آگے مقدر کا جواب
شیخ ہو حق کر رہا ہے رات دن مستوں کے ساتھآج کل ہے مے کدہ اللہ کے گھر کا جواب
خلق کے اعمال نامے چھین لوں گا شہر میںگم ہوا ہے ہاتھ سے قاصد کے دلبر کا جواب
غیر کی تعریف لکھی سارے خط میں اور مجھےیہ بھی لکھتے ہیں کہ لکھو میرے دفتر کا جواب
لوگ کہتے ہیں بنا دلی بگڑ کر لکھنوپر کہاں اے داغؔ اس اجڑے ہوئے گھر کا جواب
مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیںبھلا کیا اعتبار تو نے ہزار منہ ہیں ہزار باتیں
جو کیفیت دیکھنی ہے زاہد تو چل کے تو دیکھ میکدے میںبہک بہک کر مزے مزے کی سنائیں گے بادہ خوار باتیں
فسانۂ درد و غم سنایا تو بولے وہ جھوٹ بولتا ہےسنی ہوئی ہے بہت کہانی نہ ہم سے ایسی بگھار باتیں
ابھی سے ہے کچھ اداس قاصد ابھی سے ہے بد حواس قاصدسنبھل سنبھل کر سمجھ سمجھ کر کرے گا کیا بے قرار باتیں
تمہاری تحریر میں ہے پہلو تمہاری تقریر میں ہے جادوپھنسے نہ کس طرح دل ہمارا جہاں ہوں یہ پیچ دار باتیں
بری بلا ہے یہ داغؔ پر فن تم اس کو ہرگز نہ منہ لگاناوگرنہ ڈھب پر لگا ہی لے گا سنیں اگر اس کی چار باتیں
اپنی نظر میں ہیچ ہے سارے جہاں کی سیردل خوش نہ ہو تو کس کا تماشہ کہاں کی سیر
اب تک تو دیکھتے رہے جوبن بہار کاآئندہ ہم کریں گے تمہاری خزاں کی سیر
دنیا کے دیکھنے کے لیے آنکھ چاہیےجنت کی سیر سے ہے سوا اس مکاں کی سیر
کچھ جھومتے ہیں نشے میں کچھ ہیں گرے پڑےکچھ اور ہی ہے محفل پیر مغاں کی سیر
کیوں دیکھنے لگے مری چشم پر آب کودریا پہ آپ کیجیے آب رواں کی سیر
کیوں آدمی کو عالم بالا کی ہو ہوسبڑھ کر نہیں زمین سے کچھ آسماں کی سیر
دلی میں پھول والوں کی ہے ایک سیر داغؔبلدے میں ہم نے دیکھ لی سارے جہاں کی سیر
دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائےدو ہی جھٹکے جو ذرا زلف دوتا نے پائے
ہاتھ پائی ہوئی میخانے میں زاہد سے کہیںہم نے تسبیح کے بکھرے ہوئے دانے پائے
چھیڑ منظور نہ ہو تجھ کو تو مژگاں تیریدل بے تاب کو انگلی نہ لگانے پائے
جل گیا کیا مری آتش قدمی سے جنگلچار تنکے نہ کہیں باد صبا نے پائے
ہم نے اپنا دل گم گشتہ نہ پایہ کھو کرورنہ یاں ڈھونڈھنے والوں نے خزانے پائے
لا شب وعدہ اسے کھینچ کے اے جذبہ دلحیلہ جو پاؤں میں منہدی نہ لگانے پائے
حور کے واسطے زاہد نے عبادت کی ہےسیر تو جب ہے کہ جنت میں نہ جانے پائے
ہیں بہت سے عاشق دلگیر جمعتیرے ترکش میں ہیں کتنے تیر جمع
اچھی صورت سے ہمیں بھی عشق ہےکرتے ہیں تصویر پر تصویر جمع
کوچہ قاتل میں آفت آ گئیجب ہوئے دو چار بھی رہ گیر جمع
یا لگا دو آگ یا لکھ دو جوابہو گیا ہے دفتر تحریر جمع
تھوڑی تھوڑی ہی ملے اس در کی خاکچٹکی چٹکی ہم کریں اکسیر جمع
خون دل کا چشم تر ٹھیکا نہ لےاس سے ہونے کی نہیں توفیر جمع
کس طرح یکجا ہوں داغؔ اپنے عزیزہونے دیتی ہی نہیں تقدیر جمع
میرے ہی دم سے مہر و وفا کا نشاں ہے ابتجھ سا اگر نہیں ہے تو مجھ سا کہاں ہے اب
اس حال کو پہنچ گئیں دل کی خرابیاںتیرا مکاں ہے اب نہ خدا کا مکاں ہے اب
جاتی ہے آدھی رات مگر اس کا کیا جوابگھبرا کے وہ یہ کہتے ہیں وقت اذاں ہے اب
سینے سے میرے دست تسلی اٹھائیےیہ بھی دل نحیف کو بار گراں ہے اب
دیکھو ذرا سی شرم نے سب کچھ مٹا دیاوہ آنکھ وہ نگاہ وہ چتون کہاں ہے اب
کیا لطف دوستی کہ نہیں لطف دشمنیدشمن کو بھی جو دیکھیے پورا کہاں ہے اب
تم کو یقیں نہیں تو نہ ہو اس کا کیا علاجکم بخت داغؔ تم سے بہت بد گماں ہے اب
کب بات ہو بغیر خوشامد وہاں درستوہ نادرست بھی جو کہیں کہیے ہاں درست
تھوڑے سے دن بہار کے ہیں کس امید پرکرتے ہیں اپنے مرغ چمن آشیاں درست
کچھ میں بھی اپنا حال طبیعت بیاں کروںگر ہو مزاج آپ کا اے مہرباں درست
اس کو درستی دل عاشق سے کیا غرضجس بد زبان کی نہیں اب تک زباں درست
آنکھوں میں رہ کہ دل میں ٹھہر تیرے واسطےآراستہ ہر ایک مکاں ہر مکاں درست
ہر روز تازیانہ زلف دراز سےتو نے بھی دل کو خوب کیا میری جاں درست
آتا ہے سامنے جو وہ غارت گر شکیباوسان داغؔ رہتے ہیں اپنے کہاں درست
یوں برس پڑتے ہیں کیا ایسے وفاداروں پررکھ لیا تو نے تو عشاق کو تلواروں پر
محتسب توڑ کے شیشہ نہ بہا مفت شرابارے کم بخت چھڑک دے اسے مے خواروں پر
عاشق آئے ہیں کہ دیوانوں کا لشکر آیاکیا چڑھائی ہے ترے کوچہ کی دیواروں پر
داغؔ کا عشق بھی دنیا سے نرالا دیکھادل جب آتا ہے تو آتا ہے دل آزاروں پر
قول تیرا شوق میرا چاہیئےجھوٹ سچ کے واسطے کیا چاہیئے
ہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاجتیرے کوچے میں بھی صحرا چاہیئے
گو تری نظروں سے کل گر ہی پڑیںآج تو کوئی سہارا چاہیئے
ہر طرف ہے تیرے بیماروں کا شورہر گلی میں اک مسیحا چاہیئے
کیوں نہ چھائے مے کشوں کے سر پر ابرکچھ گنہ گاروں کا پردہ چاہیئے
کاش دے کر کچھ گرہ سے ہو نجاتتجھ کو زاہد دین و دنیا چاہیئے
کیوں نہیں دیتے تسلی داغؔ کواس سے لیجے گر تمنا چاہیئے
تجھ سے کیا نسبت کہ تھے لیلی کے کالے ہاتھ پاؤںحق نے تیرے نور کے سانچے میں ڈھالے ہاتھ پاؤں
ہاتھ پکڑے مجھ کو کھینچے پھر سوئے دشت بلااے جنوں اب کر دئے تیرے حوالے ہاتھ پاؤں
خواہ باندھیں خواہ جکڑیں ان کو زنجیروں میں وہہم نے ان زلفوں کے ہاتھوں بیچ ڈالے ہاتھ پاؤں
ہاتھ الجھے جیب سے پھر پاؤں لپٹے خار سےہم نے زنداں سے نکلتے ہی نکالے ہاتھ پاؤں
سر سناں نے سینہ خنجر نے لیا ناوک نے دلہیں یہ تیری نذر اے تیغ جفا لے ہاتھ پاؤں
کر دیا ہے چور ہم کو نشۂ الفت نے داغؔاب بھلا کوئی سنبھلتے ہیں سنبھالے ہاتھ پاؤں
پھرا پیامبر اپنا خراب رستے میںدیا نصیب نے اچھا جواب رستے میں
یہ سچ ہے راہ محبت بڑی ہے ٹیڑھی کھیرنہ آئے خضر کبھی اس خراب رستے میں
بھٹکتے پھرتے ہیں اس رہ گزار میں عاشقمسافروں کی ہے مٹی خراب رستے میں
گلی سے یار کی ہم اٹھ کے چل چکے تھے مگرمچل گیا دل پر اضطراب رستے میں
وہ رستہ کاٹ کے چلتے ہیں اس لئے مجھ سےکہ کچھ کہے نہ یہ خانہ خراب رستے میں
بغل میں داب کے لے چل عدم کو شیشۂ مےملے گی داغؔ نہ تجھ کو شراب رستے میں
دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بنددنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند
ہم دام میں پھنستے ہی ہوئے عاشق صیادیہ اور بھی اک بند پہ مضبوط لگا بند
اے حضرت دل جائیے میرا بھی خدا ہےبے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند
اے محتسب اک دم سے تری کتنی جفائیںشیشے کا ہے دم بند صراحی کا گلا بند
دم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسوبارش کی علامت ہے جو ہوتی ہے ہوا بند
کہتے تھے ہم اے داغؔ وہ کوچہ ہے خطرناکچھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند
غیر ہو ناشاد کیوں کیسی کہیچاہتا ہوں داد کیوں کیسی کہی
پہلے گالی دی سوال وصل پرپھر ہوا ارشاد کیوں کیسی کہی
تم نے دل کی بات کیوں کیسی سنیہم نے یہ روداد کیوں کیسی کہی
مانگتے تھے میرے ملنے کی دعاوہ بھی دن ہیں یاد کیوں کیسی کہی
تو بھی اے ناصح کسی پر جان دےہاتھ لا استاد کیوں کیسی کہی
داغؔ تجھ کو باغ جنت ہو نصیبخانماں برباد کیوں کیسی کہی
کافر وہ زلف پر شکن ایک اس طرف ایک اس طرفپھر اس پہ چشم سحر فن ایک اس طرف ایک اس طرف
ہنگامہ رحلت دیکھیے دل کس طرف اپنا جھکےبیٹھے ہیں شیخ و برہمن ایک اس طرف ایک اس طرف
زلفوں کی یہ سرگوشیاں دل پر بلائیں لائیں گیغماز ہے گرم سخن ایک اس طرف ایک اس طرف
غیروں کا مجمع اور تم پریوں کا جمگھٹ اور ہمپہلو بہ پہلو انجمن ایک اس طرف ایک اس طرف
دل ایک تنہا بیچ میں آنکھیں تری سفاک دوشمشیر زن ناوک فگن ایک اس طرف ایک اس طرف
میں مر گیا ہوں وصل میں راحت ہو ہر پہلو مجھےتکیے ہوں دو زیر کفن ایک اس طرف ایک اس طرف
تو اور دہنے بائیں ہوں لیلی و شیریں بزم میںمیں اور قیس و کوہ کن ایک اس طرف ایک اس طرف
دونوں فرشتے دوش پر کیا لکھ سکیں حالت مریآلودہ رنج و محن ایک اس طرف ایک اس طرف
رخسار تیرے سیم گوں پھر اس پہ گل گونے کا رنگپھولا ہے کیا رنگ چمن ایک اس طرف ایک اس طرف
اترا رہا ہے داغؔ کیا ہنگام گل گشت چمنرنگیں قبا گل پیرہن ایک اس طرف ایک اس طرف
سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھییہی کم بخت دکھا دیتی ہے صورت اچھی
حسن معشوق سے بھی حسن سخن ہے کم یابایک ہوتی ہے ہزاروں میں طبیعت اچھی
میری تصویر بھی دیکھی تو کہا شرما کریہ برا شخص ہے اس کی نہیں نیت اچھی
کس صفائی سے کیا وصل کا تو نے انکاراس محل پر تو زباں میں تری لکنت اچھی
جو ہو آغاز میں بہتر وہ خوشی ہے بد ترجس کا انجام ہو اچھا وہ مصیبت اچھی
تم بتاؤ تو سہی مہر و محبت کے گواہایسے دعوے میں تو جھوٹی ہی شہادت اچھی
زور و زر سے بھی کہیں داغؔ حسیں ملتے ہیںاپنے نزدیک تو ہے سب سے اطاعت اچھی
کر نہ لے اپنا ٹھکانہ دشمندوست نادان ہے دانا دشمن
دیکھے گر اس کی پلک یا اللہتو ہو تیروں کا نشانہ دشمن
دیدہ تر نہ بہانا آنسوڈھونڈھتے ہیں یہ بہانہ دشمن
دوست کو دوست نہ سمجھا تم نےاور دشمن کو نہ جانا دشمن
دوستی کی نہ رہے پھر امیدکاش ہو جائے زمانہ دشمن
دشمن جاں ہیں بہت پر اے عشقتجھے جانا تجھے مانا دشمن
تم سمجھتے ہو اسے یار قدیمدل ہے اے داغؔ پرانا دشمن
بزم سے آخر شب ہے سفر جام شرابشام غربت ہوئی ساقی سحر جام شراب
مست و سرشار کو سرشار سنبھالے کیا خاکنہ تھمی دست سبو سے کمر جام شراب
کثرت مجمع اغیار سے محروم رہانہ ہوا بزم میں مجھ تک گزر جام شراب
محتسب دے گا جواب اپنے ستم کا تو کیاکل جو کوثر پہ ہوا داد گر جام شراب
یہ بھی اے محتسب اس لال پری کا ہے اثراڑ کے پہنچی ہے جو تجھ تک خبر جام شراب
بزم دشمن میں رہے آپ تو صوفی بن کرسرخ آنکھوں میں کہاں ہے اثر جام شراب
نہیں معلوم کہ اے داغؔ ہے تو کس دھن میںنہ تلاش بت مہ وش نہ سر جام شراب
پوشیدہ جب ہو راز کہ منہ میں زباں نہ ہوہم بات بھی کریں تو بغیر از فغاں نہ ہو
لے جائیں آہ مجھ کو مری بدگمانیاںظالم وہاں کہ تیرا پتہ بھی جہاں نہ ہو
زاہد عذاب عشق صنم لطف حق سمجھیعنی عذاب ہم کو یہاں ہو وہاں نہ ہو
نیرنگی چمن جو مجھے یاد آ گئیگل پر ہوا گمان کہ برگ خزاں نہ ہو
تم کو مزہ نہ دے گی کبھی داستان عشقجب تک ہمارے منہ سے یہ قصہ بیاں نہ ہو
ناقہ کو قیس کیا نہ لگا لائے راہ پرلیلی کا رازدار اگر سارباں نہ ہو
تہمت کسی کو ظلم کی اے داغؔ کیوں لگائیںشکوہ بتوں سے کیا جو خدا مہرباں نہ ہو
سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوںمانند آبلہ ہمہ تن آب دیدہ ہوں
گر تو نہ ہو تو پھر کسی کافر کا دل لگےدوزخ میں آرمیدہ ارم سے رمیدہ ہوں
اللہ ر کشاکش دیر و حرم کہ میںظالم ہزار ہاتھ سے دامن دریدہ ہوں
پروانہ پاس شمع کے بلبل ہے گل کے پاساک میں کہ تیری بزم میں خلوت گزیدہ ہوں
افتادگی پہ بھی نہ گئی اس کی جستجوگویا زمیں پہ سایۂ مرغ پریدہ ہوں
اے آرزوئے تازہ نہ کر مجھ سے چھیڑ چھاڑمیں پائے شوق و دست تمنا بریدہ ہوں
اے داغؔ جس کے واسطے روز جزا بناوہ کون ہے وہ میں ہی تو آفت رسیدہ ہوں
خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہےآشنا سے آشنا بیگانے سے بیگانہ ہے
آتے جاتے ہیں نئے ہر روز مرغ نامہ بربندہ پرور آپ کا گھر بھی کبوتر خانہ ہے
فاتحہ پڑھنے کو آیا تھا مگر وہ شمع روآج میری قبر کا جو پھول ہے پروانہ ہے
پائے ساقی پر گرایا جب گرایا ہے مجھےچال سے خالی کہاں یہ لغزش مستانہ ہے
مجھ کو لے جا کر کہا ناصح نے ان کے روبروآپ کے سر کی قسم یہ آپ کا دیوانہ ہے
داغؔ یہ ہے کوئے قاتل مان ناداں ضد نہ کراٹھ یہاں سے آ ادھر گھر بیٹھ کچھ دیوانہ ہے
یوں وہ پیغام سے تو آئے گاغیر کے نام سے تو آئے گا
شب ہجراں سے موت بہتر ہےخواب آرام سے تو آئے گا
یوں نہ آئے گا ہاتھ گر وہ صنمترک اسلام سے تو آئے گا
لے ہی تو آئیں گے اسے ہمدممیرے ہی نام سے تو آئے گا
ساقیا مجھ سے بادہ کش کو سرورایک ہی جام سے تو آئے گا
دل کا آنا ہے کام سے جاناجائے گا کام سے تو آئے گا
کبھی اپنا بھی روز خوش اے داغؔدور ایام سے تو آئے گا
کچھ اور دل لگی نہیں اس بد نصیب سےہم جانتے ہیں کھیلتے ہو تم رقیب سے
میں بد گمانیوں کا بھی ممنون ہو گیاوہ حال پوچھ لیتے ہیں میرا طبیب سے
دشمن بنائے ہیں مری قسمت نے سینکڑوںچاہا ہے تجھ کو خلق نے میرے نصیب سے
اے ناصح شفیق رہے کچھ تو چھیڑ چھاڑذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے
مانند برق مثل ہوا صورت نگاہاکثر نکل گئے ہیں وہ میرے قریب سے
پوچھو جناب داغؔ کی ہم سے شرارتیںکیا سر جھکائے بیٹھے ہیں حضرت غریب سے
طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھیہم بھی اک چیز تھے اس عالم امکاں میں کبھی
رنج میں رنج کا راحت میں ہوں راحت کا شریکخاک ساحل میں کبھی موج ہوں طوفاں میں کبھی
دل میں بے لطف رہی خار تمنا کی خلشنوک بن کر نہ رہا یہ کسی مژگاں میں کبھی
وار کرتے ہی بھرا زخم میں قاتل نے نمکتیغ پر ہاتھ کبھی ہے تو نمکداں میں کبھی
خضر سے میں نے جو کیں جوش جنوں کی باتیںایسے نکلے کہ نہ آئے تھے بیاباں میں کبھی
اللہ اللہ رے تری شوخ بیانی اے داغؔسست اک شعر نہ دیکھا ترے دیواں میں کبھی
میرے رونے پر جو رویا آدمی فہمیدہ ہےناصح عاقل پرانا گرگ باراں دیدہ ہے
میں بھی تو دیکھوں نکلتا ہے یہ تنکا کس طرحچارہ گر کی آنکھ میں میرا تن کاہیدہ ہے
تو نے رکھا ہے رقیب ترش رو کے دل پہ ہاتھآج کیوں پھیکا ترا دست حنا مالیدہ ہے
خاک میں اس نے ملایا مجھ کو یا میں نے اسےآج میں ہوں اور یہ میرا دل تفتیدہ ہے
زہر کھا کر مل گئے ہیں خاک میں عاشق بہتانگلیاں ہیں دیکھ تو یا سبزۂ روئیدہ ہے
خوب آتا ہے لگا لینا نگاہ یار کوایک سے ان بن ہوئی تو دوسرا گرویدہ ہے
بہر نظارہ چلا ہے کوچۂ قاتل میں داغؔکس بلی کا ہے کلیجہ کس غضب کا دیدہ ہے