نہ قید شرع باقی ہے نہ آزادی کی ہے کچھ حد
نہ قید شرع باقی ہے نہ آزادی کی ہے کچھ حدنہیں کچھ گفتگو اس باب میں یہ نیک ہے یا بدبزرگوں کا بھی فتویٰ ہے کہ پڑھ قانون سر سیدبہ می سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گویدکہ سالک بے خبر نہ بود ز راہ و رسم منزلہا
برق کلیسا
رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چارہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھارزلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مریدقدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہیدآنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریںگال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریںگرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکےدلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکےدل کشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیںسرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیںآتش حسن سے تقوے کو جلانے والیبجلیاں لطف تبسم سے گرانے والیپہلوئے حسن بیاں شوخیٔ تقریر میں غرقترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برقپس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہیسر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہیضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوایا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہواعرض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہاردولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثارتو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائےساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائےشوق کے جوش میں میں نے جو زباں یوں کھولیناز و انداز سے تیور کو چڑھا کر بولیغیرممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سےبوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سےلن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کرحملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کرکوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیںآگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیںگل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیںپائیں سامان اقامت تو قیامت ڈھائیںمطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہادہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاددشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ آئیکامیابی کی دل زار نے آہٹ پائیعرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روحاب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوحشجر طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیںگیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیںاب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرفٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرفہم میں باقی نہیں اب خالد جاں باز کا رنگدل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگیاں نہ وہ نعرۂ تکبیر نہ وہ جوش سپاہسب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہجوہر تیغ مجاہد ترے ابرو پہ نثارنور ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثاراٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحث بد و نیکدو دلے ہو رہے ہیں کہتے ہیں اللہ کو ایکموج کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گردمیں تو تہذیب میں ہوں پیر مغاں کا شاگردمجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیںنام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیںجب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحب فہمتو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہممیرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھوہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو
فرضی لطیفہ
خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔمجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاسیہ عاشق شاہد مقصود کے ہیںنہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاسسناؤں تم کو اک فرضی لطیفہکیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاسکہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نےکہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاستو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سےبلا دقت میں بن جاؤں تری ساسکہا مجنوں نے یہ اچھی سنائیکجا عاشق کجا کالج کی بکواسکجا یہ فطرتی جوش طبیعتکجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساسبڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہےہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاسیہ اچھی قدر دانی آپ نے کیمجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داسدل اپنا خون کرنے کو ہوں موجودنہیں منظور مغز سر کا آماسیہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰتو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس