نئی تہذیب
یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گےنئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے
نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنینہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے
نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندینہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجب روئے صنم ہوں گے
بدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سےنئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے
نہ پیدا ہوگی خط نسخ سے شان ادب آگیںنہ نستعلیق حرف اس طور سے زیب رقم ہوں گے
خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کیکھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے
عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سےنیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے
بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلید یورپ کےمگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے
ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگیلغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میںزیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گےکتابوں ہی میں دفن افسانۂ جاہ و حشم ہوں گے
کسی کو اس تغیر کا نہ حس ہوگا نہ غم ہوگاہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیر و بم ہوں گے
تمہیں اس انقلاب دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔبہت نزدیک ہیں وہ دن کہ تم ہوگے نہ ہم ہوں گے
مس سیمیں بدن
ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقداس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراشکوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قومکوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بد خصال و بد معاشدل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاشہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھوقوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع تراشجگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کروسوپ و کری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آشلیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے انداز و طریقہال میں ناچو کلب میں جاکے کھیلو ان سے تاشبادۂ تہذیب یورپ کے چڑھاؤ خم کے خمایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاشجب عمل اس پر کیا پریوں کا سایہ ہو گیاجس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاشسامنے تھیں لیڈیاں زہرہ وش و جادو نظریاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاشاس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل رباچال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاشوہ فروغ آتش رخ جس کے آگے آفتاباس طرح جیسے کہ پیش شمع پروانے کی لاشجب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برق بلادست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش؟دونوں جانب تھا رگوں میں جوش خون فتنہ زادل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاشبار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیالحضرت سید سے جاکر عرض کرتا کوئی کاش'درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای'باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش'
مدرسہ علی گڑھ
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
جلوۂ دربار دہلی
سر میں شوق کا سودا دیکھادہلی کو ہم نے بھی جا دیکھاجو کچھ دیکھا اچھا دیکھاکیا بتلائیں کیا کیا دیکھا
جمنا جی کے پاٹ کو دیکھااچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھاسب سے اونچے لاٹ کو دیکھاحضرت ڈیوک کناٹؔ کو دیکھا
پلٹن اور رسالے دیکھےگورے دیکھے کالے دیکھےسنگینیں اور بھالے دیکھےبینڈ بجانے والے دیکھے
خیموں کا اک جنگل دیکھااس جنگل میں منگل دیکھابرھما اور ورنگل دیکھاعزت خواہوں کا دنگل دیکھا
سڑکیں تھیں ہر کمپ سے جاریپانی تھا ہر پمپ سے جارینور کی موجیں لیمپ سے جاریتیزی تھی ہر جمپ سے جاری
ڈالی میں نارنگی دیکھیمحفل میں سارنگی دیکھیبیرنگی بارنگی دیکھیدہر کی رنگا رنگی دیکھی
اچھے اچھوں کو بھٹکا دیکھابھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھامنہ کو اگرچہ لٹکا دیکھادل دربار سے اٹکا دیکھا
ہاتھی دیکھے بھاری بھرکمان کا چلنا کم کم تھم تھمزریں جھولیں نور کا عالممیلوں تک وہ چم چم چم چم
پر تھا پہلوئے مسجد جامعروشنیاں تھیں ہر سو لامعکوئی نہیں تھا کسی کا سامعسب کے سب تھے دید کے طامع
سرخی سڑک پر کٹتی دیکھیسانس بھی بھیڑ میں گھٹتی دیکھیآتش بازی چھٹتی دیکھیلطف کی دولت لٹتی دیکھی
چوکی اک چولکھی دیکھیخوب ہی چکھی پکھی دیکھیہر سو نعمت رکھی دیکھیشہد اور دودھ کی مکھی دیکھی
ایک کا حصہ من و سلویٰایک کا حصہ تھوڑا حلواایک کا حصہ بھیڑ اور بلوامیرا حصہ دور کا جلوا
اوج بریش راجا دیکھاپرتو تخت و تاج کا دیکھارنگ زمانہ آج کا دیکھارخ کرزن مہراج کا دیکھا
پہنچے پھاند کے سات سمندرتحت میں ان کے بیسوں بندرحکمت و دانش ان کے اندراپنی جگہ ہر ایک سکندر
اوج بخت ملاقی ان کاچرخ ہفت طبقاقی ان کامحفل ان کی ساقی ان کاآنکھیں میری باقی ان کا
ہم تو ان کے خیر طلب ہیںہم کیا ایسے ہی سب کے سب ہیںان کے راج کے عمدہ ڈھب ہیںسب سامان عیش و طرب ہیں
اگزبشن کی شان انوکھیہر شے عمدہ ہر شے چوکھیاقلیدس کی ناپی جوکھیمن بھر سونے کی لاگت سوکھی
جشن عظیم اس سال ہوا ہےشاہی فورٹ میں بال ہوا ہےروشن ہر اک ہال ہوا ہےقصۂ ماضی حال ہوا ہے
ہے مشہور کوچہ و برزنبال میں ناچیں لیڈی کرزنطائر ہوش تھے سب کے لرزنرشک سے دیکھ رہی تھی ہر زن
ہال میں چمکیں آ کے یکا یکزریں تھی پوشاک جھکا جھکمحو تھا ان کا اوج سما تکچرخ پہ زہرہ ان کی تھی گاہک
گو رقاصۂ اوج فلک تھیاس میں کہاں یہ نوک پلک تھیاندر کی محفل کی جھلک تھیبزم عشرت صبح تلک تھی
کی ہے یہ بندش ذہن رسا نےکوئی مانے خواہ نہ مانےسنتے ہیں ہم تو یہ افسانےجس نے دیکھا ہو وہ جانے
دربار 1911
دیکھ آئے ہم بھی دو دن رہ کے دہلی کی بہارحکم حاکم سے ہوا تھا اجتماع انتشارآدمی اور جانور اور گھر مزین اور مشینپھول اور سبزہ چمک اور روشنی ریل اور تارکراسن اور برق اور پٹرولیم اور تارپینموٹر اور ایروپلین اور جمگھٹے اور اقتدارمشرقی پتلوں میں تھی خدمت گزاری کی امنگمغربی شکلوں سے شان خود پسندی آشکارشوکت و اقبال کے مرکز حضور امپررزینت و دولت کی دیوی امپرس عالی تباربحر ہستی لے رہا تھا بے دریغ انگڑائیاںتھیمس کی امواج جمنا سے ہوئی تھیں ہم کنارانقلاب دہر کے رنگین نقشے پیش تھےتھی پئے اہل بصیرت باغ عبرت میں بہارذرے ویرانوں سے اٹھتے تھے تماشا دیکھنےچشم حیرت بن گئی تھی گردش لیل و نہارجامے سے باہر نگاہ ناز فتاحان ہندحد قانونی کے اندر آنریبلوں کی قطارخرچ کا ٹوٹل دلوں میں چٹکیاں لیتا ہوافکر ذاتی میں خیال قوم غائب فی المزاردعوتیں انعام اسپیچیں قواعد فوج کمپعزتیں خوشیاں امیدیں احتیاطیں اعتبارپیش رو شاہی تھی پھر ہز ہائینس پھر اہل جاہبعد اس کے شیخ صاحب ان کے پیچھے خاکسار
آم نامہ
نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئےاس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئےایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوںپختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئےمعلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریسسیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئےایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میںتعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے
سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہا
سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہاچرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کاسمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدادل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کاہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حجکچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کاشیطان نے دکھا کے جمال عروس دہربندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کااس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواجراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کاافسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبرکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کایورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفرگزرے نظر سے حال رعایا و شاہ کاوہ آب و تاب و شوکت ایوان خسرویوہ محکموں کی شان وہ جلوہ سپاہ کاآئے نظر علوم جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کادعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کیکمسن مسوں سے ذکر ہو الفت کا چاہ کانوخیز دل فریب گل اندام نازنیںعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کارکئے اگر تو ہنس کے کہے اک بت حسیںسن مولوی یہ بات نہیں ہے گناہ کااس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلامپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کاپتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھےسودا جناب کو بھی ہو ترکی کلاہ کامنبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جنابسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا
سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح
سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روحبے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمامبے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قومنیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلامتعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حالپھر کیا امید دولت و آرام و احترامسید کے دل میں نقش ہو اس خیال کاڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا نامصدمے اٹھائے رنج سہے گالیاں سنیںلیکن نہ چھوڑا قوم کے خادم نے یہ کامدکھلا دیا زمانہ کو زور دل و دماغبتلا دیا وہ کرتے ہیں کرنے والے کامنیت جو تھی بخیر تو برکت خدا نے دیکالج ہوا درست بہ صد شان و احتشامسرمائے میں کمی تھی سہارا کوئی نہ تھاسید کا دل تھا درپئے تکمیل انتظامآخر اٹھا سفر کو وہ مرد خستہ پئےاحباب چند ساتھ تھے ذی علم و خوش کلامقسمت کہ رہبری سے ملی منزل مرادفرماں روائے ملک دکن کو کیا سلامحالت دکھائی اور ضرورت بیان کیخوبی ث التماس کیا قوم کا پیامرحم آ گیا حضور کو حالت پہ قوم کیپھر کیا تھا موجزن ہوا دریا فیض عامماہانہ دو ہزار کیا اک ہزار ثامید ث زیادہ عطا تھی یہ لا کلاماکبرؔ کی ی دعا ہے خدا کی جناب میںتا حشر اس رئیس و ریاست کو ہو قیامکیا وقت پر ہوئی ہے کہ بے احتجاج فکرتاریک اپنی آپ ہے فیاضی نظام