انتخابِ کلامِ اکبر · اکبر الہ آبادی

Chapter 1: غزلیات

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیںاس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہمقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے

اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جامہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے

واں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لوان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے

ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سےہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

سورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیںبت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنابرکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے

سچ کہتے ہیں شیخ اکبرؔ ہے طاعت حق لازمہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے


دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقیہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں

اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوثسایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں

افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجتغم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں

وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہےالجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں

یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سےمیں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں

گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میںبت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں

افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔکافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں


آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتےارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتےسچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے

کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصلتم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولےکیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنادشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقتہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانعپنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے


آہ جو دل سے نکالی جائے گیکیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

اس نزاکت پر یہ شمشیر جفاآپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی

کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کواور اک بوتل چڑھا لی جائے گی

شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیااحتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی

یاد ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوںکب تری یہ کج خیالی جائے گی


غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیابلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

اللہ بچائے مرض عشق سے دل کوسنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سےہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کالیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدناموہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا


چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیںآرزو میں نے کوئی کی ہی نہیں

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیںفالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

چاہتا تھا بہت سی باتوں کومگر افسوس اب وہ جی ہی نہیں

جرأت عرض حال کیا ہوتینظر لطف اس نے کی ہی نہیں

اس مصیبت میں دل سے کیا کہتاکوئی ایسی مثال تھی ہی نہیں

آپ کیا جانیں قدر یا اللہجب مصیبت کوئی پڑی ہی نہیں

شرک چھوڑا تو سب نے چھوڑ دیامیری کوئی سوسائٹی ہی نہیں

پوچھا اکبرؔ ہے آدمی کیساہنس کے بولے وہ آدمی ہی نہیں


دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملابت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا

بزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوسایک سر بھی اسے آمادۂ سودا نہ ملا

گل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروشطالب زمزمۂ بلبل شیدا نہ ملا

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نےکر دیا کعبے کو گم اور کلیسا نہ ملا

رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائمرنگ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا

سید اٹھے جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائےشیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسا نہ ملا

ہوشیاروں میں تو اک اک سے سوا ہیں اکبرؔمجھ کو دیوانوں میں لیکن کوئی تجھ سا نہ ملا


بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھیگزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی

عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھییہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی

بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پرہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی

عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم رازتو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی

خطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباںتو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی

ہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضبکہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی

ہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔحرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی


فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیںڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں

معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہےشہر تن میں جب کہ خود اپنا پتا ملتا نہیں

غافلوں کے لطف کو کافی ہے دنیاوی خوشیعاقلوں کو بے غم عقبیٰ مزا ملتا نہیں

کشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں ہو خیرناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں

غافلوں کو کیا سناؤں داستان عشق یارسننے والے ملتے ہیں درد آشنا ملتا نہیں

زندگانی کا مزا ملتا تھا جن کی بزم میںان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں

صرف ظاہر ہو گیا سرمایۂ زیب و صفاکیا تعجب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں

پختہ طبعوں پر حوادث کا نہیں ہوتا اثرکوہساروں میں نشان نقش پا ملتا نہیں

شیخ صاحب برہمن سے لاکھ برتیں دوستیبے بھجن گائے تو مندر سے ٹکا ملتا نہیں

جس پہ دل آیا ہے وہ شیریں ادا ملتا نہیںزندگی ہے تلخ جینے کا مزا ملتا نہیں

لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہئےکہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں

اہل ظاہر جس قدر چاہیں کریں بحث و جدالمیں یہ سمجھا ہوں خودی میں تو خدا ملتا نہیں

چل بسے وہ دن کہ یاروں سے بھری تھی انجمنہائے افسوس آج صورت آشنا ملتا نہیں

منزل عشق و توکل منزل اعزاز ہےشاہ سب بستے ہیں یاں کوئی گدا ملتا نہیں

بار تکلیفوں کا مجھ پر بار احساں سے ہے سہلشکر کی جا ہے اگر حاجت روا ملتا نہیں

چاندنی راتیں بہار اپنی دکھاتی ہیں تو کیابے ترے مجھ کو تو لطف اے مہ لقا ملتا نہیں

معنیٔ دل کا کرے اظہار اکبرؔ کس طرحلفظ موزوں بہر کشف مدعا ملتا نہیں


حال دل میں سنا نہیں سکتالفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا

عشق نازک مزاج ہے بے حدعقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

ہوش عارف کی ہے یہی پہچانکہ خودی میں سما نہیں سکتا

پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسوداغ دل کو مٹا نہیں سکتا

مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پرالم اس کو گھٹا نہیں سکتا


حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دیناحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

یہ طرز احسان کرنے کا تمہیں کو زیب دیتا ہےمرض میں مبتلا کر کے مریضوں کو دوا دینا

بلائیں لیتے ہیں ان کی ہم ان پر جان دیتے ہیںیہ سودا دید کے قابل ہے کیا لینا ہے کیا دینا

خدا کی یاد میں محویت دل بادشاہی ہےمگر آساں نہیں ہے ساری دنیا کو بھلا دینا


اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکےان کو ہم قصۂ غم اپنا سنا ہی نہ سکے

ذہن میرا وہ قیامت کہ دو عالم پہ محیطآپ ایسے کہ مرے ذہن میں آ ہی نہ سکے

دیکھ لیتے جو انہیں تو مجھے رکھتے معذورشیخ صاحب مگر اس بزم میں جا ہی نہ سکے

عقل مہنگی ہے بہت عشق خلاف تہذیبدل کو اس عہد میں ہم کام میں لا ہی نہ سکے

ہم تو خود چاہتے تھے چین سے بیٹھیں کوئی دمآپ کی یاد مگر دل سے بھلا ہی نہ سکے

عشق کامل ہے اسی کا کہ پتنگوں کی طرحتاب نظارۂ معشوق کی لا ہی نہ سکے

دام ہستی کی بھی ترکیب عجب رکھی ہےجو پھنسے اس میں وہ پھر جان بچا ہی نہ سکے

مظہر جلوۂ جاناں ہے ہر اک شے اکبرؔبے ادب آنکھ کسی سمت اٹھا ہی نہ سکے

ایسی منطق سے تو دیوانگی بہتر اکبرؔکہ جو خالق کی طرف دل کو جھکا ہی نہ سکے


گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دنادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن

غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کیعیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن

سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میریرہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن

وہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میںوہ دور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن

لگا لیا انہیں سینہ سے جوش الفت میںغرض کہ آ ہی گیا مجھ کو پیار عید کے دن

کہیں ہے نغمۂ بلبل کہیں ہے خندۂ گلعیاں ہے جوش شباب بہار عید کے دن

سویاں دودھ شکر میوہ سب مہیا ہےمگر یہ سب ہے مجھے ناگوار عید کے دن

ملے اگر لب شیریں کا تیرے اک بوسہتو لطف ہو مجھے البتہ یار عید کے دن


وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہےوہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہے

وہ گلوں میں گلوں کی سی بو نہ رہی وہ عزیزوں میں لطف کی خو نہ رہیوہ حسینوں میں رنگ وفا نہ رہا کہیں اور کی کیا وہ ہمیں نہ رہے

نہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی جنگ رہیسوئے قبلہ نگاہوں کے رخ نہ رہے اور در پہ نقش جبیں نہ رہے

نہ وہ جام رہے نہ وہ مست رہے نہ فدائی عہد الست رہےوہ طریقۂ کار جہاں نہ رہا وہ مشاغل رونق دیں نہ رہے

ہمیں لاکھ زمانہ لبھائے تو کیا نئے رنگ جو چرخ دکھائے تو کیایہ محال ہے اہل وفا کے لیے غم ملت و الفت دیں نہ رہے

ترے کوچۂ زلف میں دل ہے مرا اب اسے میں سمجھتا ہوں دام بلایہ عجیب ستم ہے عجیب جفا کہ یہاں نہ رہے تو کہیں نہ رہے

یہ تمہارے ہی دم سے ہے بزم طرب ابھی جاؤ نہ تم نہ کرو یہ غضبکوئی بیٹھ کے لطف اٹھائے گا کیا کہ جو رونق بزم تمہیں نہ رہے

جو تھیں چشم فلک کی بھی نور نظر وہی جن پہ نثار تھے شمس و قمرسو اب ایسی مٹی ہیں وہ انجمنیں کہ نشان بھی ان کے کہیں نہ رہے

وہی صورتیں رہ گئیں پیش نظر جو زمانہ کو پھیریں ادھر سے ادھرمگر ایسے جمال جہاں آرا جو تھے رونق روئے زمیں نہ رہے

غم و رنج میں اکبرؔ اگر ہے گھرا تو سمجھ لے کہ رنج کو بھی ہے فناکسی شے کو نہیں ہے جہاں میں بقا وہ زیادہ ملول و حزیں نہ رہے


اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئےگو بت ہیں آپ بہر خدا مان لیجئے

دل لے کے کہتے ہیں تری خاطر سے لے لیاالٹا مجھی پہ رکھتے ہیں احسان لیجئے

غیروں کو اپنے ہاتھ سے ہنس کر کھلا دیامجھ سے کبیدہ ہو کے کہا پان لیجئے

مرنا قبول ہے مگر الفت نہیں قبولدل تو نہ دوں گا آپ کو میں جان لیجئے

حاضر ہوا کروں گا میں اکثر حضور میںآج اچھی طرح سے مجھے پہچان لیجئے


جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہواکہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا

غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیںمگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا

وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیرانہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا

امید چشم مروت کہاں رہی باقیذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا

نگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پرہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا


ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہوجان دینے کو ہوں موجود کوئی بات تو ہو

دل بھی حاضر سر تسلیم بھی خم کو موجودکوئی مرکز ہو کوئی قبلۂ حاجات تو ہو

دل تو بے چین ہے اظہار ارادت کے لیےکسی جانب سے کچھ اظہار کرامات تو ہو

دل کشا بادۂ صافی کا کسے ذوق نہیںباطن افروز کوئی پیر خرابات تو ہو

گفتنی ہے دل پر درد کا قصہ لیکنکس سے کہیے کوئی مستفسر حالات تو ہو

داستان غم دل کون کہے کون سنےبزم میں موقع اظہار خیالات تو ہو

وعدے بھی یاد دلاتے ہیں گلے بھی ہیں بہتوہ دکھائی بھی تو دیں ان سے ملاقات تو ہو

کوئی واعظ نہیں فطرت سے بلاغت میں سوامگر انسان میں کچھ فہم اشارات تو ہو


سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوںیہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں

بحر ہستی میں ہوں مثال حبابمٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں

اتنی آزادی بھی غنیمت ہےسانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں

شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوںمیں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں

آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاجشکر اللہ کا ہے مرتا ہوں

یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔدل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں


بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تکبنے رہو گے تم اس ملک میں میاں کب تک

حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہیتو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک

میاں سے بی بی ہیں پردہ ہے ان کو فرض مگرمیاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک

طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میںیہ غیرتیں یہ حرارت یہ گرمیاں کب تک

عوام باندھ لیں دوہر تو تھرڈ وانٹر میںسکنڈ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک

جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیسچھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک

جناب حضرت اکبرؔ ہیں حامئ پردہمگر وہ کب تک اور ان کی رباعیاں کب تک


درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہوبندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہو

جھومتی ہے شاخ گل کھلتے ہیں غنچے دم بہ دمبا اثر گلشن میں تحریک صبا ہو یا نہ ہو

وجد میں لاتے ہیں مجھ کو بلبلوں کے زمزمےآپ کے نزدیک با معنی صدا ہو یا نہ ہو

کر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریکاس کا کچھ مقصود کوئی مدعا ہو یا نہ ہو

کیوں سول سرجن کا آنا روکتا ہے ہم نشیںاس میں ہے اک بات آنر کی شفا ہو یا نہ ہو

مولوی صاحب نہ چھوڑیں گے خدا گو بخش دےگھیر ہی لیں گے پولس والے سزا ہو یا نہ ہو

ممبری سے آپ پر تو وارنش ہو جائے گیقوم کی حالت میں کچھ اس سے جلا ہو یا نہ ہو

معترض کیوں ہو اگر سمجھے تمہیں صیاد دلایسے گیسو ہوں تو شبہ دام کا ہو یا نہ ہو


آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہےپھر مری جان گرفتار بلا ہوتی ہے

شوق پابوسیٔ جاناں مجھے باقی ہے ہنوزگھاس جو اگتی ہے تربت پہ حنا ہوتی ہے

پھر کسی کام کا باقی نہیں رہتا انساںسچ تو یہ ہے کہ محبت بھی بلا ہوتی ہے

جو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئیوقف وہ بہر مزار شہدا ہوتی ہے

جس نے دیکھی ہو وہ چتون کوئی اس سے پوچھےجان کیوں کر ہدف تیر قضا ہوتی ہے

نزع کا وقت برا وقت ہے خالق کی پناہہے وہ ساعت کہ قیامت سے سوا ہوتی ہے

روح تو ایک طرف ہوتی ہے رخصت تن سےآرزو ایک طرف دل سے جدا ہوتی ہے

خود سمجھتا ہوں کہ رونے سے بھلا کیا حاصلپر کروں کیا یوں ہی تسکین ذرا ہوتی ہے

روندتے پھرتے ہیں وہ مجمع اغیار کے ساتھخوب توقیر مزار شہدا ہوتی ہے

مرغ بسمل کی طرح لوٹ گیا دل میرانگہ ناز کی تاثیر بھی کیا ہوتی ہے

نالہ کر لینے دیں للّٰلہ نہ چھیڑیں احبابضبط کرتا ہوں تو تکلیف سوا ہوتی ہے

جسم تو خاک میں مل جاتے ہوئے دیکھتے ہیںروح کیا جانے کدھر جاتی ہے کیا ہوتی ہے

ہوں فریب ستم یار کا قائل اکبرؔمرتے مرتے نہ کھلا یہ کہ جفا ہوتی ہے


ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گےمنہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے

کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتےکہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے

ہے ذہن میں اک بات تمہارے متعلقخلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے

واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافرافسوس یہ کافر کو مسلماں نہ کریں گے

کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتناسنتا ہوں وہ مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے

دیوانہ نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابیاب چاک کبھی جیب و گریباں نہ کریں گے

وہ جانتے ہیں غیر مرے گھر میں ہے مہماںآئیں گے تو مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے


پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسییہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی

دوست احباب سے ہنس بول کے کٹ جائے گی راترند آزاد ہیں ہم کو شب فرقت کیسی

جس حسیں سے ہوئی الفت وہی معشوق اپناعشق کس چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی

ہے جو قسمت میں وہی ہوگا نہ کچھ کم نہ سواآرزو کہتے ہیں کس چیز کو حسرت کیسی

حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھےآج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی

کوچۂ یار میں جاتا تو نظارہ کرتاقیس آوارہ ہے جنگل میں یہ وحشت کیسی


ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیےمنزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے

کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثباتہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے

دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کوکیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے

خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیببدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے

سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیاخود ہوئی قید اس کو سینے سے لگانے کے لیے

جب کہا میں نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہایاد پھر مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے

دیدہ بازی وہ کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بندجان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے

مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہیمیں ہوں پینے کے لیے اور وہ ہیں کھانے کے لیے

اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یادجو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے

سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعینجوش دل کافی ہے اکبرؔ تان اڑانے کے لیے


امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہےجو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے

اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقیاجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے

غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمیچہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے

یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزنوہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے

غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دےاسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے


کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہےچلی ہے کیسی ہوا الٰہی کہ ہر طبیعت میں برہمی ہے

مری وفا میں ہے کیا تزلزل مری اطاعت میں کیا کمی ہےیہ کیوں نگاہیں پھری ہیں مجھ سے مزاج میں کیوں یہ برہمی ہے

وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفتنہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل کی یہاں کمی ہے

عجیب جلوے ہیں ہوش دشمن کہ وہم کے بھی قدم رکے ہیںعجیب منظر ہیں حیرت افزا نظر جہاں تھی وہیں تھمی ہے

نہ کوئی تکریم باہمی ہے نہ پیار باقی ہے اب دلوں میںیہ صرف تحریر میں ڈیر سر ہے یا جناب مکرمی ہے

کہاں کے مسلم کہاں کے ہندو بھلائی ہیں سب نے اگلی رسمیںعقیدے سب کے ہیں تین تیرہ نہ گیارہویں ہے نہ اسٹمی ہے

نظر مری اور ہی طرف ہے ہزار رنگ زمانہ بدلےہزار باتیں بنائے ناصح جمی ہے دل میں جو کچھ جمی ہے

اگرچہ میں رند محترم ہوں مگر اسے شیح سے نہ پوچھوکہ ان کے آگے تو اس زمانے میں ساری دنیا جہنمی ہے


بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئےنقد دل موجود ہے پھر کیوں نہ سودا لیجئے

دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپاس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے

پاؤں پکڑ کر کہتی ہے زنجیر زنداں میں رہووحشت دل کا ہے ایما راہ صحرا لیجئے

غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریکمجھ سے کہتے ہیں اگر کچھ بھوک ہو کھا لیجئے

خوش نما چیزیں ہیں بازار جہاں میں بے شمارایک نقد دل سے یارب مول کیا کیا لیجئے

کشتہ آخر آتش فرقت سے ہونا ہے مجھےاور چندے صورت سیماب تڑپا لیجئے

فصل گل کے آتے ہی اکبرؔ ہوئے بے ہوش آپکھولیے آنکھوں کو صاحب جام صہبا لیجئے


اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئےاخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹابہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے

چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیںاخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے

دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کوطول شب فراق کو تو ناپ دیجئے

سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی باتانجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے

اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیازر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے


خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہےکسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے

فنا اسی رنگ پر ہے قائم فلک وہی چال چل رہا ہےشکستہ و منتشر ہے وہ کل جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے

یہ دیکھتے ہو جو کاسۂ سر غرور غفلت سے کل تھا مملویہی بدن ناز سے پلا تھا جو آج مٹی میں گل رہا ہے

سمجھ ہو جس کی بلیغ سمجھے نظر ہو جس کی وسیع دیکھےابھی یہاں خاک بھی اڑے گی جہاں یہ قلزم ابل رہا ہے

کہاں کا شرقی کہاں کا غربی تمام دکھ سکھ ہے یہ مساوییہاں بھی اک بامراد خوش ہے وہاں بھی اک غم سے جل رہا ہے

عروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمےہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولٹیکل رہا ہے

مزہ ہے اسپیچ کا ڈنر میں خبر یہ چھپتی ہے پانیر میںفلک کی گردش کے ساتھ ہی ساتھ کام یاروں کا چل رہا ہے


جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہےگھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے

عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہےپر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیںبے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے

جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مراہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا سودائی تو ہے

دیکھیے ہوتی ہے کب راہی سوئے ملک عدمخانۂ تن سے ہماری روح گھبرائی تو ہے

دل دھڑکتا ہے مرا لوں بوسۂ رخ یا نہ لوںنیند میں اس نے دلائی منہ سے سرکائی تو ہے

دیکھیے لب تک نہیں آتی گل عارض کی یادسیر گلشن سے طبیعت ہم نے بہلائی تو ہے

میں بلا میں کیوں پھنسوں دیوانہ بن کر اس کے ساتھدل کو وحشت ہو تو ہو کمبخت سودائی تو ہے

خاک میں دل کو ملایا جلوۂ رفتار سےکیوں نہ ہو اے نوجواں اک شان رعنائی تو ہے

یوں مروت سے تمہارے سامنے چپ ہو رہیںکل کے جلسوں کی مگر ہم نے خبر پائی تو ہے

بادۂ گل رنگ کا ساغر عنایت کر مجھےساقیا تاخیر کیا ہے اب گھٹا چھائی تو ہے

جس کی الفت پر بڑا دعویٰ تھا کل اکبرؔ تمہیںآج ہم جا کر اسے دیکھ آئے ہرجائی تو ہے


نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتےصدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتے

مجھ ایسے رند سے رکھتے ضرور ہی الفتجناب شیخ اگر عاشق خدا ہوتے

گناہ گاروں نے دیکھا جمال رحمت کوکہاں نصیب یہ ہوتا جو بے خطا ہوتے

جناب حضرت ناصح کا واہ کیا کہناجو ایک بات نہ ہوتی تو اولیا ہوتے

مذاق عشق نہیں شیخ میں یہ ہے افسوسیہ چاشنی بھی جو ہوتی تو کیا سے کیا ہوتے

محل شکر ہیں اکبرؔ یہ درفشاں نظمیںہر اک زباں کو یہ موتی نہیں عطا ہوتے


تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہےبلا کے پیچ میں آیا ہوا ہے

نہ کیوں کر بوئے خوں نامے سے آئےاسی جلاد کا لکھا ہوا ہے

چلے دنیا سے جس کی یاد میں ہمغضب ہے وہ ہمیں بھولا ہوا ہے

کہوں کیا حال اگلی عشرتوں کاوہ تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے

جفا ہو یا وفا ہم سب میں خوش ہیںکریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے

ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی قدرہمیں سے آپ کا شہرا ہوا ہے

بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہطبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے

پریشاں رہتے ہو دن رات اکبرؔیہ کس کی زلف کا سودا ہوا ہے


نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقیزمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی

شب گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقیزبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی

جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکرخدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی

فضول ہے ان کی بد دماغی کہاں ہے فریاد اب لبوں پریہ وار پر وار اب عبث ہیں کہاں بدن میں ہے جان باقی

میں اپنے مٹنے کے غم میں نالاں ادھر زمانہ ہے شاد و خنداںاشارہ کرتی ہے چشم دوراں جو آن باقی جہان باقی

اسی لیے رہ گئی ہیں آنکھیں کہ میرے مٹنے کا رنگ دیکھیںسنوں وہ باتیں جو ہوش اڑائیں اسی لیے ہیں یہ کان باقی

تعجب آتا ہے طفل دل پر کہ ہو گیا مست نظم اکبرؔابھی مڈل پاس تک نہیں ہے بہت سے ہیں امتحان باقی


کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تکسمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک

منطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہدے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک

افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوماب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک

کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہآخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں تک

مرنا بھی ضروری ہے خدا بھی ہے کوئی چیزاے حرص کے بندو ہوس جاہ کہاں تک

تحسین کے لائق ترا ہر شعر ہے اکبرؔاحباب کریں بزم میں اب واہ کہاں تک


عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑاجو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا

صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہلکھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا

تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احترازپہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا

شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیںدین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا

کیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سےعقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا

اقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیںشیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا

عالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان رازایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا

شعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسندحضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا


اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتازمانہ کی دو رنگی کا اسے ہرگز نہ غم ہوتا

یہ پابند مصیبت دل کے ہاتھوں ہم تو رہتے ہیںنہیں تو چین سے کٹتی نہ دل ہوتا نہ غم ہوتا

انہیں کی ہے وفائی کا یہ ہے آٹھوں پہر صدمہوہی ہوتے جو قابو میں تو پھر کاہے کو غم ہوتا

لب و چشم صنم گر دیکھنے پاتے کہیں شاعرکوئی شیریں سخن ہوتا کوئی جادو رقم ہوتا

بہت اچھا ہوا آئے نہ وہ میری عیادت کوجو وہ آتے تو غیر آتے جو غیر آتے تو غم ہوتا

اگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کیمجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا

لئے جاتا ہے جوش شوق ہم کو راہ الفت میںنہیں تو ضعف سے دشوار چلنا دو قدم ہوتا

نہ رہنے پائے دیواروں میں روزن شکر ہے ورنہتمہیں تو دل لگی ہوتی غریبوں پر ستم ہوتا


رنگ شراب سے مری نیت بدل گئیواعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی

طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حورجلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی

مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہےصیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی

چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شامپروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی

عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیالدنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیںپردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی


ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کانثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کا

اگر ہو ذوق سجود پیدا ستارہ ہو اوج پر جبیں کانشان سجدہ زمین پر ہو تو فخر ہے وہ رخ زمیں کا

صبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے دل کو ہوا یہ کھٹکاکوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو کہیں کا

نہ مہر و مہ پر مری نظر ہے نہ لالہ و گل کی کچھ خبر ہےفروغ دل کے لیے ہے کافی تصور اس روئے آتشیں کا

نہ علم فطرت میں تم ہو ماہر نہ ذوق طاعت ہے تم سے ظاہریہ بے اصولی بہت بری ہے تمہیں نہ رکھے گی یہ کہیں کا


نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کانہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا

محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دمبھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا

پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میںمگر عشق میں ہو گیا نام دل کا

ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میںخدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا

یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیںیہی لے گئیں صبر و آرام دل کا

دھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا

جب آغاز الفت ہی میں جل رہا ہےتو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا

خدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحبجو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا

پس مرگ ان پر کھلا حال الفتگئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا

تڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہکہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا

دل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔتو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا


معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہےنیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہے

کمرے میں جو ہنستی ہوئی آئی مس رعناٹیچر نے کہا علم کی آفت ہے تو یہ ہے

یہ بات تو اچھی ہے کہ الفت ہو مسوں سےحور ان کو سمجھتے ہیں قیامت ہے تو یہ ہے

پیچیدہ مسائل کے لیے جاتے ہیں انگلینڈزلفوں میں الجھ آتے ہیں شامت ہے تو یہ ہے

پبلک میں ذرا ہاتھ ملا لیجئے مجھ سےصاحب مرے ایمان کی قیمت ہے تو یہ ہے


شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لیپھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لی

مدتوں قائم رہیں گی اب دلوں میں گرمیاںمیں نے فوٹو لے لیا اس نے نظر پہچان لی

رو رہے ہیں دوست میری لاش پر بے اختیاریہ نہیں دریافت کرتے کس نے اس کی جان لی

میں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیارہ گئے نغمے حدی خوانوں کے ایسی تان لی

حضرت اکبرؔ کے استقلال کا ہوں معترفتابہ مرگ اس پر رہے قائم جو دل میں ٹھان لی


طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتاگئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتا

بھری ہے انجمن لیکن کسی سے دل نہیں ملتاہمیں میں آ گیا کچھ نقص یا کامل نہیں ملتا

پرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہےاسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا

پہنچنا داد کو مظلوم کا مشکل ہی ہوتا ہےکبھی قاضی نہیں ملتے کبھی قاتل نہیں ملتا

حریفوں پر خزانے ہیں کھلے یاں ہجر گیسو ہےوہاں پہ بل ہے اور یاں سانپ کا بھی بل نہیں ملتا

یہ حسن و عشق ہی کا کام ہے شبہ کریں کس پرمزاج ان کا نہیں ملتا ہمارا دل نہیں ملتا

چھپا ہے سینہ و رخ دل ستاں ہاتھوں سے کروٹ میںمجھے سوتے میں بھی وہ حسن سے غافل نہیں ملتا

حواس و ہوش گم ہیں بحر عرفان الٰہی میںیہی دریا ہے جس میں موج کو ساحل نہیں ملتا

کتاب دل مجھے کافی ہے اکبرؔ ؔدرس حکمت کومیں اسپنسر سے مستغنی ہوں مجھ سے مل نہیں ملتا


ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکیجوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی

رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہاصحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی

مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاںدور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی

رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئیتھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی

اب تک اسی روش پہ ہے اکبرؔ مست و بے خبرکہہ دے کوئی عزیز من فصل بہار ہو چکی


دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں

مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کییہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں

وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میںمگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں

یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شکمگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سےوہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں

ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سےہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں

قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔکھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں


جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیااب خشک مزاج آنکھیں بھی ہوئیں دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیا

ناوک فگنی سے ظالم کی جنگل میں ہے اک سناٹا سامرغان خوش الحاں ہو گئے چپ آہو نے اچھلنا چھوڑ دیا

کیوں کبر و غرور اس دور پہ ہے کیوں دوست فلک کو سمجھا ہےگردش سے یہ اپنی باز آیا یا رنگ بدلنا چھوڑ دیا

بدلی وہ ہوا گزرا وہ سماں وہ راہ نہیں وہ لوگ نہیںتفریح کہاں اور سیر کجا گھر سے بھی نکلنا چھوڑ دیا

وہ سوز و گداز اس محفل میں باقی نہ رہا اندھیر ہواپروانوں نے جلنا چھوڑ دیا شمعوں نے پگھلنا چھوڑ دیا

ہر گام پہ چند آنکھیں نگراں ہر موڑ پہ اک لیسنس طلباس پارک میں آخر اے اکبرؔ میں نے تو ٹہلنا چھوڑ دیا

کیا دین کو قوت دیں یہ جواں جب حوصلہ افزا کوئی نہیںکیا ہوش سنبھالیں یہ لڑکے خود اس نے سنبھلنا چھوڑ دیا

اقبال مساعد جب نہ رہا رکھے یہ قدم جس منزل میںاشجار سے سایہ دور ہوا چشموں نے ابلنا چھوڑ دیا

اللہ کی راہ اب تک ہے کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیںاللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا

جب سر میں ہوائے طاعت تھی سرسبز شجر امید کا تھاجب صرصر عصیاں چلنے لگی اس پیڑ نے پھلنا چھوڑ دیا

اس حور لقا کو گھر لائے ہو تم کو مبارک اے اکبرؔلیکن یہ قیامت کی تم نے گھر سے جو نکلنا چھوڑ دیا


انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرفنظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف

توجہ اپنی ہو کیا فن شاعری کی طرفنظر ہر ایک کی جاتی ہے عیب ہی کی طرف

لکھا ہوا ہے جو رونا مرے مقدر میںخیال تک نہیں جاتا کبھی ہنسی کی طرف

تمہارا سایہ بھی جو لوگ دیکھ لیتے ہیںوہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے پری کی طرف

بلا میں پھنستا ہے دل مفت جان جاتی ہےخدا کسی کو نہ لے جائے اس گلی کی طرف

کبھی جو ہوتی ہے تکرار غیر سے ہم سےتو دل سے ہوتے ہو در پردہ تم اسی کی طرف

نگاہ پڑتی ہے ان پر تمام محفل کیوہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف

نگاہ اس بت خود بیں کی ہے مرے دل پرنہ آئنہ کی طرف ہے نہ آرسی کی طرف

قبول کیجیئے للہ تحفۂ دل کونظر نہ کیجیئے اس کی شکستگی کی طرف

یہی نظر ہے جو اب قاتل زمانہ ہوئییہی نظر ہے کہ اٹھتی نہ تھی کسی کی طرف

غریب خانہ میں للٰلہ دو گھڑی بیٹھوبہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف

ذرا سی دیر ہی ہو جائے گی تو کیا ہوگاگھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف

جو گھر میں پوچھے کوئی خوف کیا ہے کہہ دیناچلے گئے تھے ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف

ہزار جلوۂ حسن بتاں ہو اے اکبرؔتم اپنا دھیان لگائے رہو اسی کی طرف


دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑےاب کار عاشقی تو بہر کیف کر پڑے

عشق بتاں کا دین پہ جو کچھ اثر پڑےاب تو نباہنا ہے جب اک کام کر پڑے

مذہب چھڑایا عشوۂ دنیا نے شیخ سےدیکھی جو ریل اونٹ سے آخر اتر پڑے

بیتابیاں نصیب نہ تھیں ورنہ ہم نشیںیہ کیا ضرور تھا کہ انہیں پر نظر پڑے

بہتر یہی ہے قصد ادھر کا کریں نہ وہایسا نہ ہو کہ راہ میں دشمن کا گھر پڑے

ہم چاہتے ہیں میل وجود و عدم میں ہوممکن تو ہے جو بیچ میں ان کی کمر پڑے

دانا وہی ہے دل جو کرے آپ کا خیالبینا وہی نظر ہے کہ جو آپ پر پڑے

ہونی نہ چاہئے تھی محبت مگر ہوئیپڑنا نہ چاہئے تھا غضب میں مگر پڑے

شیطان کی نہ مان جو راحت نصیب ہواللہ کو پکار مصیبت اگر پڑے

اے شیخ ان بتوں کی یہ چالاکیاں تو دیکھنکلے اگر حرم سے تو اکبرؔ کے گھر پڑے


جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگااٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا

وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہواپھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگےاگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا

آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہتنام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا

لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگرڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا


دشت غربت ہے علالت بھی ہے تنہائی بھیاور ان سب پہ فزوں بادیہ پیمائی بھی

خواب راحت ہے کہاں نیند بھی آتی نہیں اببس اچٹ جانے کو آئی جو کبھی آئی بھی

یاد ہے مجھ کو وہ بے فکری و آغاز شبابسخن آرائی بھی تھی انجمن آرائی بھی

نگہ شوق و تمنا کی وہ دل کش تھی کمندجس سے ہو جاتے تھے رام آہوئے صحرائی بھی

ہم صنم خانہ جہاں کرتے تھے اپنا قائمپھر کھڑے ہوتے تھے واں حور کے شیدائی بھی

اب نہ وہ عمر نہ وہ لوگ نہ وہ لیل و نہاربجھ گئی طبع کبھی جوش پہ گر آئی بھی

اب تو شبہے بھی مجھے دیو نظر آتے ہیںاس زمانہ میں پری زاد تھی رسوائی بھی

کام کی بات جو کہنی ہو وہ کہہ لو اکبرؔدم میں چھن جائے گی یہ طاقت گویائی بھی


ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیںیہ سچ بھی ہے کہ مزا بے یقیں تو کچھ بھی نہیں

تمام عمر یہاں خاک اڑا کے دیکھ لیااب آسمان کو دیکھوں زمیں تو کچھ بھی نہیں

مری نظر میں تو بس ہے انہیں سے رونق بزموہی نہیں ہیں جو اے ہم نشیں تو کچھ بھی نہیں

حرم میں مجھ کو نظر آئے صرف زاہد خشکمکان خوب ہے لیکن مکیں تو کچھ بھی نہیں

ترے لبوں سے ہے البتہ اک حلاوت زیستنبات قند شکر انگبیں تو کچھ بھی نہیں

دماغ اب تو مسوں کا ہے چرخ چارم پربڑھا دیا مری خواہش نے تھیں تو کچھ بھی نہیں

بہ قول حضرت محشرؔ کلام شاعر کاپسند آئے تو سب کچھ نہیں تو کچھ بھی نہیں

وہ کہتے ہیں کہ تمہیں ہو جو کچھ ہو اے اکبرؔہم اپنے دل میں ہیں کہتے ہمیں تو کچھ بھی نہیں


حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کےہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کے

پہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسامعنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے

بوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغلکمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے

قامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیںدکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال کے

شان دماغ عشق کے جلوے سے یہ بڑھیرکھتا ہے ہوش بھی قدم اپنے سنبھال کے

زینت مقدمہ ہے مصیبت کا دہر میںسب شمع کو جلاتے ہیں سانچے میں ڈھال کے

ہستی کے حق کے سامنے کیا اصل این و آںپتلے یہ سب ہیں آپ کے وہم و خیال کے

تلوار لے کے اٹھتا ہے ہر طالب فروغدور فلک میں ہیں یہ اشارے ہلال کے

پیچیدہ زندگی کے کرو تم مقدمےدکھلا ہی دے گی موت نتیجہ نکال کے


خوشی کیا ہو جو میری بات وہ بت مان جاتا ہےمزا تو بے حد آتا ہے مگر ایمان جاتا ہے

بنوں کونسل میں اسپیکر تو رخصت قرأت مصریکروں کیا ممبری جاتی ہے یا قرآن جاتا ہے

زوال جاہ و دولت میں بس اتنی بات اچھی ہےکہ دنیا میں بخوبی آدمی پہچان جاتا ہے

نئی تہذیب میں دقت زیادہ تو نہیں ہوتیمذاہب رہتے ہیں قایم فقط ایمان جاتا ہے

تھئیٹر رات کو اور دن کو یاروں کی یہ اسپیچیںدہائی لاٹ صاحب کی مرا ایمان جاتا ہے

جہاں دل میں یہ آئی کچھ کہوں وہ چل دیا اٹھ کرغضب ہے فتنہ ہے ظالم نظر پہچان جاتا ہے

چناں بروند صبر از دل کے قصے یاد آتے ہیںتڑپ جاتا ہوں یہ سن کر کہ اب ایمان جاتا ہے


تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھاجو یہ کہتے ہوئے جاتے ہو کہ دیکھا دیکھا

طفل دل کو مرے کیا جانے لگی کس کی نظرمیں نے کمبخت کو دو دن بھی نہ اچھا دیکھا

لے گیا تھا طرف گور غریباں دل زارکیا کہیں تم سے جو کچھ واں کا تماشا دیکھا

وہ جو تھے رونق آبادیٔ گلزار جہاںسر سے پا تک انہیں خاک رہ صحرا دیکھا

کل تلک محفل عشرت میں جو تھے صدر نشیںقبر میں آج انہیں بیکس و تنہا دیکھا

بسکہ نیرنگی عالم پہ اسے حیرت تھیآئینہ خاک سکندر کو سراپا دیکھا

سر جمشید کے کاسے میں بھری تھی حسرتیاس کو معتکف تربت دارا دیکھا


میری تقدیر موافق نہ تھی تدبیر کے ساتھکھل گئی آنکھ نگہباں کی بھی زنجیر کے ساتھ

کھل گیا مصحف رخسار بتان مغربہو گئے شیخ بھی حاضر نئی تفسیر کے ساتھ

ناتوانی مری دیکھی تو مصور نے کہاڈر ہے تم بھی کہیں کھنچ آؤ نہ تصویر کے ساتھ

ہو گیا طائر دل صید نگاہ بے قصدسعی بازو کی یہاں شرط نہ تھی تیر کے ساتھ

لحظہ لحظہ ہے ترقی پہ ترا حسن و جمالجس کو شک ہو تجھے دیکھے تری تصویر کے ساتھ

بعد سید کے میں کالج کا کروں کیا درشناب محبت نہ رہی اس بت بے پیر کے ساتھ

میں ہوں کیا چیز جو اس طرز پہ جاؤں اکبرؔناسخؔ و ذوقؔ بھی جب چل نہ سکے میرؔ کے ساتھ


مذہب کا ہو کیوں کر علم و عمل دل ہی نہیں بھائی ایک طرفکرکٹ کی کھلائی ایک طرف کالج کی پڑھائی ایک طرف

کیا ذوق عبادت ہو ان کو جو بس کے لبوں کے شیدا ہیںحلوائے بہشتی ایک طرف ہوٹل کی مٹھائی ایک طرف

طاعون و تپ اور کھٹمل مچھر سب کچھ ہے یہ پیدا کیچڑ سےبمبے کی روانی ایک طرف اور ساری صفائی ایک طرف

مذہب کا تو دم وہ بھرتے ہیں بے پردہ بتوں کو کرتے ہیںاسلام کا دعویٰ ایک طرف یہ کافر ادائی ایک طرف

ہر سمت تو ہے ایک دام بلا رہ سکتے ہیں خوش کس طرح بھلااغیار کی کاوش ایک طرف آپس کی لڑائی ایک طرف

کیا کام چلے کیا رنگ جمے کیا بات بنے کون اس کی سنےہے اکبرؔ بیکس ایک طرف اور ساری خدائی ایک طرف

فریاد کئے جا اے اکبرؔ کچھ ہو ہی رہے گا آخر کاراللہ سے توبہ ایک طرف صاحب کی دہائی ایک طرف


صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہیلیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی

زور آزمائیاں ہوئیں سائنس کی بھی خوبطاقت بڑھی کسی کی کسی میں نہیں رہی

دنیا کبھی نہ صلح پہ مائل ہوئی مگرباہم ہمیشہ برسر پیکار و کیں رہی

پایا اگر فروغ تو صرف ان نفوس نےجن کی کہ خضر راہ فقط شمع دیں رہی

اللہ ہی کی یاد بہرحال خلق میںوجہ سکون خاطر اندوہ گیں رہی


حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کینظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کی

نہ دل آتا ہے قابو میں نہ نیند آتی ہے آنکھوں میںشب فرقت میں کیوں کر بن پڑے تدبیر سونے کی

یہاں بیداریوں سے خون دل آنکھوں میں آتا ہےگلابی کرتی ہے آنکھوں کو واں تاثیر سونے کی

بہت بے چین ہوں نیند آ رہی ہے رات جاتی ہےخدا کے واسطے جلد اب کرو تدبیر سونے کی

یہ زردہ چیز ہے جو ہر جگہ ہے باعث شوکتسنی ہے عالم بالا میں بھی تعمیر سونے کی

ضرورت کیا ہے رکنے کی مرے دل سے نکلتا رہہوس مجھ کو نہیں اے نالۂ شب گیر سونے کی

چھپر کھٹ یاں جو سونے کی بنائی اس سے کیا حاصلکرو اے غافلو کچھ قبر میں تدبیر سونے کی


جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کاکیا دل کشا یہ سین ہے فصل بہار کا

نازاں ہیں جوش حسن پہ گل ہائے دل فریبجوبن دکھا رہا ہے یہ عالم ابھار کا

ہیں دیدنی بنفشہ و سنبل کے پیچ و تابنقشہ کھینچا ہوا ہے خط و زلف یار کا

سبزہ ہے یا یہ آب زمرد کی موج ہےشبنم ہے بحر یا گہر آبدار کا

مرغان باغ زمزمہ سنجی میں محو ہیںاور ناچ ہو رہا ہے نسیم بہار کا

پرواز میں ہیں تیتریاں شاد و چست و مستزیب بدن کیے ہوئے خلعت بہار کا

موج ہوا و زمزمۂ عندلیب مستاک ساز دلنواز ہے مضراب و تار کا

ابر تنک نے رونق موسم بڑھائی ہےغازہ بنا ہے روئے عروس بہار کا

افسوس اس سماں میں بھی اکبرؔ اداس ہےسوہان روح ہجر ہے اک گل عذار کا


مل گیا شرع سے شراب کا رنگخوب بدلا غرض جناب کا رنگ

چل دیئے شیخ صبح سے پہلےاڑ چلا تھا ذرا خضاب کا رنگ

پائی ہے تم نے چاند سی صورتآسمانی رہے نقاب کا رنگ

صبح کو آپ ہیں گلاب کا پھولدوپہر کو ہے آفتاب کا رنگ

لاکھ جانیں نثار ہیں اس پردیدنی ہے ترے شباب کا رنگ

ٹکٹکی بندھ گئی ہے بوڑھوں کیدیدنی ہے ترے شباب کا رنگ

جوش آتا ہے ہوش جاتا ہےدیدنی ہے ترے شباب کا رنگ

رند عالی مقام ہے اکبرؔبو ہے تقویٰ کی اور شراب کا رنگ


کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہےموت آتی ہے شب ہجر نہ نیند آتی ہے

وہ بھی چپ بیٹھے ہیں اغیار بھی چپ میں بھی خموشایسی صحبت سے طبیعت مری گھبراتی ہے

کیوں نہ ہو اپنی لگاوٹ کی نظر پر نازاںجانتے ہو کہ دلوں کو یہ لگا لاتی ہے

بزم عشرت کہیں ہوتی ہے تو رو دیتا ہوںکوئی گزری ہوئی صحبت مجھے یاد آتی ہے


یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیانیٹیو جو ہے تو پھر کیا انگریز ہے تو پھر کیا

رہنا کسی سے دب کر ہے امن کو ضروریپھر کوئی فرقہ ہیبت انگیز ہے تو پھر کیا

رنج و خوشی کی سب میں تقسیم ہے مناسببابو جو ہے تو پھر کیا چنگیز ہے تو پھر کیا

ہر رنگ میں ہیں پاتے بندے خدا کے روزیہے پینٹر تو پھر کیا رنگریز ہے تو پھر کیا

جیسی جسے ضرورت ویسی ہی اس کی چیزیںیاں تخت ہے تو پھر کیا واں میز ہے تو پھر کیا

مفقود ہیں اب اس کے سننے سمجھنے والےمیرا سخن نصیحت آمیز ہے تو پھر کیا


مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگرکس طرح ان سے ہمارا حال دیکھا جائے گا

دفتر دنیا الٹ جائے گا باطل یک قلمذرہ ذرہ سب کا اصلی حال دیکھا جائے گا

آفیشل اعمال نامہ کی نہ ہوگی کچھ سندحشر میں تو نامۂ اعمال دیکھا جائے گا

بچ رہے طاعون سے تو اہل غفلت بول اٹھےاب تو مہلت ہے پھر اگلے سال دیکھا جائے گا

تہ کرو صاحب نسب نامی وہ وقت آیا ہے اببے اثر ہوگی شرافت مال دیکھا جائے گا

رکھ قدم ثابت نہ چھوڑ اکبرؔ صراط مستقیمخیر چل جانے دے ان کی چال دیکھا جائے گا


نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کیکہ آخر مسلموں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی

تمہاری پالسی کا حال کچھ کھلتا نہیں صاحبہماری پالسی تو صاف ہے ایماں فروشی کی

چھپانے کے عوض چھپوا رہے ہیں خود وہ عیب اپنےنصیحت کیا کروں میں قوم کو اب عیب پوشی کی

پہننے کو تو کپڑے ہی نہ تھے کیا بزم میں جاتےخوشی گھر بیٹھے کر لی ہم نے جشن تاج پوشی کی

شکست رنگ مذہب کا اثر دیکھیں نئے مرشدمسلمانوں میں کثرت ہو رہی ہے بادہ نوشی کی

رعایا کو مناسب ہے کہ باہم دوستی رکھیںحماقت حاکموں سے ہے توقع گرم جوشی کی

ہمارے قافیے تو ہو گئے سب ختم اے اکبرؔلقب اپنا جو دے دیں مہربانی ہے یہ جوشی کی


یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیداجیسے ساون کی گھٹاؤں سے ہو پانی پیدا

کیا غضب ہے نگہ مست مس بادہ فروششیخ فانی میں ہوا رنگ جوانی پیدا

یہ جوانی ہے کہ پاتا ہے جنوں جس سے ظہوریہ نہ سمجھو کہ جنوں سے ہے جوانی پیدا

بے خودی میں تو یہ جھگڑے نہیں رہتے اے ہوشتو نے کر رکھا ہے اک عالم فانی پیدا

کوئی موقع نکل آئے کہ بس آنکھیں مل جائیںراہیں پھر آپ ہی کر لے گی جوانی پیدا

ہر تعلق مرا سرمایہ ہے اک ناول کامیری ہر رات سے ہے ایک کہانی پیدا

جنگ ہے جرم محبت ہے خلاف تہذیبہو چکا ولولۂ عہد جوانی پیدا

کھو گئی ہند کی فردوس نشانی اکبرؔکاش ہو جائے کوئی ملٹنؔ ثانی پیدا


وزن اب ان کا معین نہیں ہو سکتا کچھبرف کی طرح مسلمان گھلے جاتے ہیں

داغ اب ان کی نظر میں ہیں شرافت کے نشاںنئی تہذیب کی موجوں سے دھلے جاتے ہیں

علم نے رسم نے مذہب نے جو کی تھی بندشٹوٹی جاتی ہے وہ سب بند کھلے جاتے ہیں

شیخ کو وجد میں لائی ہیں پیانوں کی گتیںپیچ دستار فضیلت کے کھلے جاتے ہیں


حرم کیا دیر کیا دونوں یہ ویراں ہوتے جاتے ہیںتمہارے معتقد گبرو مسلماں ہوتے جاتے ہیں

الگ سب سے نظر نیچی خرام آہستہ آہستہوہ مجھ کو دفن کر کے اب پشیماں ہوتے جاتے ہیں

سوا طفلی سے بھی ہیں بھولی باتیں اب جوانی میںقیامت ہے کہ دن پر دن وہ ناداں ہوتے جاتے ہیں

کہاں سے لاؤں گا خون جگر ان کے کھلانے کوہزاروں طرح کے غم دل کے مہماں ہوتے جاتے ہیں

خرابی خانہ ہائے عیش کی ہے دور گردوں میںجو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ویراں ہوتے جاتے ہیں

بیاں میں کیا کروں دل کھول کر شوق شہادت کوابھی سے آپ تو شمشیر عریاں ہوتے جاتے ہیں

غضب کی یاد میں عیاریاں واللہ تم کو بھیغرض قائل تمہارے ہم تو اے جاں ہوتے جاتے ہیں

ادھر ہم سے بھی باتیں آپ کرتے ہیں لگاوٹ کیادھر غیروں سے بھی کچھ عہد و پیماں ہوتے جاتے ہیں


میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشرمجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے

دل جس کے ہاتھ میں ہو نہ ہو اس پہ دسترسبے شک یہ اہل دل پہ مصیبت کی بات ہے

پروانہ رینگتا رہے اور شمع جل بجھےاس سے زیادہ کون سی ذلت کی بات ہے

مطلق نہیں محال عجب موت دہر میںمجھ کو تو یہ حیات ہی حیرت کی بات ہے

ترچھی نظر سے آپ مجھے دیکھتے ہیں کیوںدل کو یہ چھیڑنا ہی شرارت کی بات ہے

راضی تو ہو گئے ہیں وہ تاثیر عشق سےموقع نکالنا سو یہ حکمت کی بات ہے


لطف چاہو اک بت نوخیز کو راضی کرونوکری چاہو کسی انگریز کو راضی کرو

لیڈری چاہو تو لفظ قوم ہے مہماں نوازگپ نویسوں کو اور اہل میز کو راضی کرو

طاعت‌ و امن و سکوں کا دل کو لیکن ہو جو شوقصبر پر طبع ہوس انگیز کو راضی کرو

ذق ذق‌ و بق بق میں دنیا کے نہ ہو اکبرؔ شریکچپ ہی رہنے پر زبان تیز کو راضی کرو


روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کارنگیں ہے طبیعت کی طرح پیرہن ان کا

محروم ہی رہ جاتی ہے آغوش تمناشرم آ کے چرا لیتی ہے سارا بدن ان کا

جن لوگوں نے دل میں ترے گھر اپنا کیا ہےباہر ہے دو عالم سے مری جاں وطن ان کا

ہر بات میں وہ چال کیا کرتے ہیں مجھ سےالفت نہ نبھے گی جو یہی ہے چلن ان کا

عارض سے غرض ہم کو عنادل کو ہے گل سےہے کوچۂ معشوق ہمارا چمن ان کا

ہے صاف نگاہوں سے عیاں جوش جوانیآنکھوں سے سنبھلتا نہیں مستانہ پن ان کا

یہ شرم کے معنی ہیں حیا کہتے ہیں اس کوآغوش تصور میں نہ آیا بدن ان کا

غیروں ہی پہ چلتا ہے جو اب ناز کا خنجرکیوں بیچ میں لایا تھا مجھے بانکپن ان کا

غیروں نے کبھی پاک نظر سے نہیں دیکھاوہ اس کو نہ سمجھیں تو یہ ہے حسن ظن ان کا

اس زلف و رخ و لب پہ انہیں کیوں نہ ہو نخوتتاتار ہے ان کا حلب ان کا یمن ان کا

اللہ رے فریب نظر چشم فسوں سازبندہ ہے ہر اک شیخ ہر اک برہمن ان کا

آیا جو نظر حسن خداداد کا جلوہبت بن گیا منہ دیکھ کے ہر برہمن ان کا

مرقد میں اتارا ہمیں تیوری کو چڑھا کرہم مر بھی گئے پر نہ چھٹا بانکپن ان کا

گزری ہوئی باتیں نہ مجھے یاد دلاؤاب ذکر ہی جانے دو تم اے جان من ان کا

دلچسپ ہی آفت ہے قیامت ہے غضب ہےبات ان کی ادا ان کی قد ان کا چلن ان کا