نویں داستان
حمالہ کے پہنچنے کی تاج الملوک کے پاس دیووں سمیت
اور بکاؤلی کی سی حویلی اور باغ تیار کرنے میں
جب تاج الملوک سے ان ناعاقبت اندیشوں نے گل بکاؤلی چھین لیا، وہ بیچارہ دل میں پیچ وتاب کھا کر رہ گیا۔ مثل ہے کہ قہرِ درویش بر جانِ درویش۔ پھر اُن کج فہموں کے پیچھے پیچھے، بعد چند روز کے اپنے باپ کی سرحد میں ایک جنگل جو درندوں کا مسکن تھا اس میں آپہنچا اور چقماق سے آگ جھاڑ کر حمالہ کے دیے ہوئے بال کو اس پر رکھ دیا۔ چوتھائی بھی نہ جلا ہوگا کہ وہ اٹھارہ ہزار دیووں سمیت آپہنچی اور تاج الملوک کو فقیروں کے بھیس میں دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئی کہ اے شہزادے میری بیٹی کو کیا کیا اور تو نے اپنا حال کیا بنایا۔
تاج الملوک بولا کہ آپ کی توجہ سے سب طرح خیریت ہے، لیکن ایک کام مجھے نہایت منظور ہے اور اس کی تدبیر مجھ سے نہیں ہوسکتی، اس واسطے آپ کو تصدیع دی ہے۔ حمالہ نے کہا اے عیار باتیں نہ بنا۔ وہ کونسا کام ہے کہیں جلدی کہہ۔
تاج الملوک نے عرض کی، میں چاہتا ہوں کہ اس جنگل میں ایک محل اور باغ ہو بہو بکاؤلی کے قصر اور باغ سا ہو، بناؤں۔ تم جس طرح سے جانو جلد بنوادو۔ وہ بولی اے بیٹا یہ کتنی بڑی بات ہے مگر میں نے تو اس کے باغ اور عمارت کو دیکھا نہیں۔ بھلا بن دیکھے مکان کا نقشہ کس طرح بتاؤں اور بنوادوں۔ تاج الملوک بولا جس طرح میں کہوں اسی طرح بنواؤ۔
حمالہ نے اسی وقت کئی سو دیو لعل بدخشانی کے واسطے اور سیکڑوں عقیق یمانی کے لیے اور ہزاروں سونے روپے اور جواہر بیش قیمت کے واسطے ہر چہار طرف بھیجے۔ دیووں نے تین روز کے عرصے میں جواہرات وغیرہ کے جا بجا تودے لگادیے۔ پھر شہزادہ جس طرح بتانے لگا، اسی طرح وہ بنانے لگے۔ پہلے تو دو نیزے مٹی کھود کر پھینک دی اور وہاں زر خالص بھر دیا اور اسی قطعۂ طلائی پر جڑاؤ عمارتوں کی بنا ڈالی۔
غرض تھوڑے دنوں میں ویسا ہی قصر اور اسی طرح کا باغ جواہر نگار، جڑاؤ نہریں، درختوں سمیت اور زبرجد اور یاقوت کے دو دالان عالیشان آمنے سامنے، بیچ میں ان کے ایک حوض مُرصّع اسی قطع کا گلاب سے معمور بنایا۔ پھر ہر ایک مکان میں فرش اسی رنگ کا بچھایا۔ حاصل یہ ہے کہ جتنا جواہر، سونا روپا دیو لائے تھے اس میں سے آدھا مکانات کے بنانے میں خرچ ہوا۔ چوتھائی کارخانہ جات کی تیاری کو دیا، باقی خزانے میں داخل کیا۔
جب عمارت سب بن چکی اور تاج الملوک کے پسند پڑی، تب حمالہ نے اس سے کہا کہ تو بھی جانتا ہے کہ میں نے تیرے واسطے کس قدر رنج اٹھایا، دکھ سہا۔ اس کے سوا دیووں کو آدمیوں سے کمال مخالفت ہے، برعکس اس کے میں نے تجھ سے محبت کی اور کس شفقت سے پالا اور پرورش کیا۔ علاوہ اس کے بکاؤلی کے ملک میں کہ آج تک کوئی نہیں گیا، تجھے پہنچایا۔ پھر بہ سبب اس حرکت کے جو تجھ سے وہاں ہوئی، اس کے ہاتھ سے میں نے کیا کیا صعوبت اور زحمت اٹھائی۔ سو یہ سب محمودہ جان کی خاطر ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کا دامن ہوائے روزگار سے غبار آلودہ ہو۔
یہ کہہ کر رخصت ہوئی۔ اس کے بعدجس مقام میں محمودہ اور دلبر کو استقامت کے لیے فرمایا تھا، اسی طرف کو شہزادہ بڑے ٹھاٹ باٹ سے گیا اور ان کو جڑاؤ عماریوں میں سوار کیا۔ پیچھے پیچھے خواصوں کے محافے رتھیں، جن پر کار چوبی سلطانی بانات کے پردے پڑے ہوئے تھے، آگے آگے غلام خوش پوشاک سونے روپے کے عصے ہاتھوں میں لیے گھوڑوں پر سوار اہتمام کرتے ہوئے۔ غرض اسی تجمل سے اس قصر عالی میں دونوں کو داخل کیا اور عیش وعشرت سے اوقات بسر کرنے لگا۔