آٹھویں داستان
بکاؤلی کے جاگنے کی اور گلاب کے حوض میں گل کو
نہ دیکھنے کی اور اس کے چور کی تلاش میں نکلنے کی
خم خانۂ سخن کا ساقی اس پرانی شراب کو نئے پیالے میں یوں بھرتا ہے کہ جب بکاؤلی نے جادو بھری آنکھ کھولی اور خواب راحت سے چونکی، انگیا چڑھا، کرتی درست کر، پیشواز نازسے پہنی، کنگھی سے بالوں کو سنوارا، ڈوپٹا اوڑھا پھر آہستہ آہستہ جھومتی، اٹکھیلیاں کرتی حوض کی طرف چلی۔
ہر ہر قدم پر وہ گل اندام اپنے نقش قدم سے زمین کو پائیں باغ بناتی تھی اور گردِ راہ سے چشمِ بلبل میں سرمہ لگاتی تھی۔ جب حوض کے کنارے پر پہنچی، دست نگاریں سے گلاب اپنے رخسار پر ڈالنے لگی اور چہرے کا غبار کہ عنبر کے مانند تھا دھو دھو کر گلاب میں ملانے اور حوض کو جادو نظر چشم مست ناز سے دیکھنے بھالنے لگی۔ ناگاہ گل بکاؤلی کی جگہ پر نظر پڑی، ہر چند بغور و تامل نگاہ کی، کچھ اس کا نشان نظر نہ آیا۔ تب سونے کی طرح اس سیم تن کے منہ پر زردی چھائی اور غنچے کی مانند سموم غم سے کمھلائی۔ اتنے میں انگوٹھی پر آنکھ جا پڑی۔ حیرانی زیادہ بڑھی۔ گھبرا کر دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملنے لگی اور یوں زبانِ گوہر فشاں سے کہنے لگی یا الٰہی یہ خواب دیکھتی ہوں یا عالم طلسم۔ پھر بولی اگر خواب ہوتا تو علامتیں ظاہر نہ ہوتیں۔ پس اس صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام انسان کا ہے۔ نہیں تو دوسرے کی کیا طاقت کہ اٹھارہ ہزار دیو کے ہاتھ سے بچ کر یہاں سلامت پہنچے اور گل مقصود کو بے کھٹکے لے جائے۔ پھر جس وقت اپنی برہنگی کی حالت اس کو یاد آتی دریائے شرم میں ڈوب جاتی اور یہ اشعار اپنے حسب حال پڑھتی:
اے چور تو اپنا نام بتلا چوری کا سبب تمام بتلا دنیا میں نہیں ہے کوئی تجھ سا انسان سے ہو نہ کام تیرا ہے چور کو مال سے سروکار تکتا ہے وہ سیم و زر کو ہر بار میں دیکھوں جو تیرے دست گلگوں آنکھوں سے لگاؤں بلکہ چوموں ہر جنس یہاں ادھر ادھر تھی پر اور کہیں نظر تری تھی سینے میں سرنگ تو لگا کر دل مفت میں لے گیا چرا کر دیکھا نہیں گو نگاہ بھر کر پر آنکھ پڑی ضرور لب پر گو سیر ہوا نہ تو یہ مانا اس شہد کا پر مزا تو جانا جو نقد تھا اس کو لے گیا صندوق فقط یہاں پڑا ہے
الغرض افسوس کرتی ہوئی حوض کے کنارے سے اٹھ کر یاقوت کے مکان میں جا بیٹھی اور پریوں کو بلا کر اس بے خبری کی سزا ہر ایک کو دینے لگی۔ مگر نہ سمجھی کہ جس وقت تیرِ تقدیر چھوٹے، سپرِ تدبیر سے کوئی روک نہ سکے۔ ؏
تقدیر کے آگے کچھ تدبیر نہیں چلتی"
پھر پریوں سے جھنجھلا کر کہنے لگی اگر تم اپنی زندگی چاہتی ہو تو میرے چور کو بجنسہ لا کر حاضر کرو۔ یہ سن کر سات سو پریاں چار طرف تلاش کے واسطے ہانپتی کودتی پھاندتی دوڑیں لیکن کہیں اس بے نشان کا نشان کسی نے نہ پایا۔ سچ ہے کہ بے نشان کا وہ نشان پائے جو آپ اپنے کو بے نشان پائے۔
جو پیچھے گم شدہ کے کوئی جائے کر گم آپ کو جو اس کو پائے
بکاؤلی کہ دل اس کا تیر عشق سے چِھد گيا تھا، درد کی شدت سے بُلبلاتی تھی۔ کمان کی طرح چلّاتی تھی۔ آخر بے تابی کے مارے گوشہ چھوڑ کر، رشتۂ شرم و حیا کو توڑ کر،چور کی تلاش میں کمر ِہمت باندھ کرسر بہ صحرا نکلی۔جہاں جاتی اسے کوئی نہ دیکھتا اور وہ ہرایک کو دیکھ کر پر کھتی اور جا نچتی۔ غرض اس طرح پھرتے پھرتے پورب دیس جا نکلی۔ کہتے ہیں جب زین الملوک کے شہر میں وارد ہوئی، جس کوچہ و بازار میں دیکھتی وہاں اسباب عیش کا مہیا پاتی، ہر ایک دروازے پر خوشی کی نوبت بجتے دیکھتی۔ یہ رنگ ڈھنگ دیکھ حیران ہو کر آخر آپ کو پندرہ سولہ برس کا ایک جوانِ شکیل دیدار بناکر کسی سے پوچھا کہ اس شہر میں چھوٹے بڑے کی خوشی کا سبب اور خاص وعام کی شادی کا باعث کہ برخلاف آئین حکمت ہے،کیاہے؟
اس نے کہا کہ یہاں کا بادشاہ قضائے الٰہی سے اندھا ہوگیا تھا۔اس کے بیٹے مدت مَدید کے بعد بہت سی مصیبت اور رنج اٹھاکر گل بکاؤلی لائے کہ بادشاہ کی آنکھیں روشن ہوئیں۔ جب ارشاد کیا کہ برس دن تک اسی طرح سب اعلیٰ و ادنیٰ اپنے دروازوں پر نوبت دھریں اور عیش کریں۔
بکاؤلی نے یہ مژدۂ جاں بخش سن کر کہا الحمدللہ پائے طلب نے منزل مقصود پائی،محنت ٹھکانے لگی،یہ ملک اسی فتنہ انگیز کا ہے۔ اغلب کہ وہ بھی ہاتھ آئے اور خَلِش مِٹ جائے۔ پھر دریا کے کنارے جاکر کپڑے اتارے، پانی میں اتری، نہا دھوکر راہ کی ماندگی کھو کر،کلفت ڈبو کر اور ایک جوانِ حسین بن کر،پوشاک مردانی پہن کر بادشاہی محلوں کی طرف متوجہ ہوئی۔بازار میں ناز سے آہستہ آہستہ چلتی تھی،جس طرف چشمِ سرمہ سا اٹھاتی، اُسے نقشِ پا کی طرح مٹاتی اور جس دَم تیغِ ابرو یا خنجرِ مِژگاں دکھاتی،اہل نظر کو بسمل کی طرح لُٹاتی اور جس وقت زلفِ پُرپیچ کو تاب دیتی تماشائیوں کے دل کو پیچ وتاب میں لاتی۔غرض کہ جو اس کے سامنے آتا، اس کو سکتہ ہو جاتا۔آخر تمام شہر میں اس کے حسن وجمال کا غُل پڑگیا۔رفتہ رفتہ بادشاہ کے بھی گوش گزار ہوا۔چنانچہ حضور سے ارشاد ہوا کہ اس جوان رعنا کو ہمارے پاس لاؤ۔قصہ کوتاہ حضور اعلیٰ میں اسے لے گئے۔ حضرت نے اس سے پوچھا:کہو کہاں سے آنا ہوا اور تمھارا نام کیا ہے، کس واسطے آئےہو؟
جوان نے عرض کی کہ وطن تو غلام کا پچھم ہے اور نام فرخ،نوکری کی تلاش میں آیا ہوں اور اب جہاں پناہ کے تفَضُّلات سے امید یہ ہے کہ حضور کے ملازموں میں سرفراز ہوںتا دعائے دولت میں خاطر جمع سے مشغول رہوں۔ زین الملوک نے کہا: بہت بہتر حاضر رہو اور خواصوں میں بعزت تمام سرفراز کیا۔ بلا قید کی پروانگی دی۔ تھوڑے دن اسے گزرے تھے کہ چاروں شاہ زادے ایک روز بارگاہ سلطانی میں آئے۔ بادشاہ نے شفقت سے ہر ایک کو چھاتی سے لگا کر سر اور آنکھیں چومیں، پھر کرسی پر بیٹھنے کو ارشاد کیا۔ وہ تسلیم کرکے بیٹھ گئے۔
بکاؤلی نے کسی سے پوچھا یہ کون ہیں؟
اس نے کہا تم نہیں پہچانتے بادشاہ کے بیٹے ہیں۔
تب اس نے ہر ایک کے قیافہ کے سونے کو امتحان کی کسوٹی پر کسا لیکن کھرا نہ پایا،سراپا کھوٹا ہی نظر آیا۔ پوچھا کہ بادشاہ کا کوئی اور بھی بیٹا ہے جو اِن کے ساتھ گل بکاؤلی لینے گیا تھا۔ اس نے کہا اور کوئی نہیں۔
جب اس پر ثابت ہوا کہ بادشاہ اور کوئی بیٹا نہیں رکھتا، نہایت گھبرائی۔ اپنے طالع سے لڑنے لگی اور یہ اشعار پڑھے:
ارے بخت زبوں تو نے کیا کیا یہ عقدہ کام میں کیوں میرے ڈالا نہ کھولے ناخنِ تدبیر اس کو یہ وہ ہے کہتے ہیں تقدیر جس کو اگر دیکھے کوئی خوابِ پریشاں تو ہو تعبیر دینی اس کی آساں مگر میرا مُعَمّا ہے یہ لاحل کسی مخلوق سے ہووے یہ کیا حل کہوں کیا خواب کی اپنے میں تعبیر نہیں تعبیر اس کی، ہے یہ تعبیر
وہ کون سا عیار تھا جو اس باغ سے گُل لے گیا، گل نہیں بلکہ جان و دل لے گیا۔ اس کی نیرنگ سازی کے افسوں نے میرے شیشۂ دل کو پھوڑا اور غائبانہ تیرِ عشق سے میرے سینہ کو توڑا۔ میں نے اس کی کس قدر جستجو کی،کیا کیا محنت اور مشقت کھینچی۔ بارے یہاں اس گل کا نشاں ملا،ذرا میرا غنچۂ دل کھلا:
نہیں کچھ شبہ بیشک میں نے جانا یہی ہے چور کا میرے ٹھکانہ
لیکن فلک دغا باز نے میرا کھیل بگاڑا، آبادی کی صورت دکھلا کر اجاڑا اور قرعہ نا امیدی کا میرے نام پر پھینکا:
کہاں جاؤں کروں اب کس سے فریاد نہیں بس کرتی ہوں میں داد بیداد
القصہ بکاؤلی نے اپنے دل میں ٹھہرایا کہ البتہ بادشاہ کا کوئی اور بھی بیٹا ہوگا، کیونکہ ان نادانوں کے قیافے سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس امر دشوار کی تحصیل ان سے کج فہموں، نا عاقبت اندیشوں سے ہو سکے۔ بہر حال چندے اور بھی صبر کیا چاہیے، دیکھوں تو پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ سبحان اللہ کیا الٹی بات ہے کہ معشوق طالب عاشق کا ہوا اور عاشق اس کا مطلوب، لیکن نظرِ تحقیق سے جو غور کرے تو سیدھی لگے،کیونکہ جب تک معشوق کو خواہش عاشق کی نہ ہو اس کی چاہت اکارت ہے اور کوشش بے فائدہ۔ آتش طلب کی جو عاشق کے گریبان سے مشتعل ہے، فی الحقیقت لگائی ہوئی معشوق کی ہے:
عشق اول در دل معشوق پیدا می شود گرنہ سوزد شمع کے پروانہ شیدا می شود
بات بڑھ گئی، قلم کہتا ہے، اے شخص بس کر، میں نے لکھنے میں بہت سی کوشش کی۔ اور ہاتھ اپنی سعی کا دعویٰ کرتے ہیں کہ قلم نے کیا کیا، ہم نے لکھا۔ بازو اپنے تردد کا دم مارتا ہے کہ دست اور قلم سے کیا ہوا، جو کچھ کیا سو میں نے کیا۔غرض اسی طرح اسباب تحریر کے بڑھے اور ایک کو ایک پر فوقیت ہوتی گئی۔ دفعتاً ایک ایسا سبب پایا کہ وہ محتاج کسی کا نہ تھا(١)۔
پس اے عزیز! اگر تو بتادے کہ فی الحقیقت لکھنے میں کس کی سعی ہے اور ظاہر میں کس کی تو میں بھی عاشق و معشوق کی سعی کا جواب دوں۔