ساتویں داستان
راہ میں تاج الملوک کے ملنے کی بھائیوں سے
اور چھین لینا گل بکاؤلی کا
کہتے ہیں کہ تاج الملوک فقیروں کے بھیس میں پیچھے پیچھے بھائیوں کے چلا آتا تھا کہ ان کا ارادہ کما حَقّہ دریافت کرے۔ الغرض وہ جہاں اترے ہوئے تھے، آن پہنچا اور ایک کونے میں بیٹھ کر اُن کی لن ترانیاں اور جولانیاں جھوٹی جھوٹی سننے لگا۔ آخر نہ رہ سکا، سامنے آکر دو بدو کہنے لگا یہ بیہودہ باتیں آپس میں کیا کر رہے ہو۔ اپنا منہ دیکھو، گل بکاؤلی میرے پاس ہے اور اسی وقت اُس کو کمر سے کھول کر ان دغابازوں کے سامنے رکھ دیا۔ شہزادے طیش کھا کر بولے بھلا اس کو آزمائیں، اگر تیری بات سچی نہ ہو تو جو چاہیں تجھ کو سزا دیں۔ تاج الملوک نے کہا کہ سانچ کو آنچ کیا، بہت بہتر۔ پھر اندھے کو بلا کر پھول اس کی آنکھوں میں مَلا۔ فوراً وہ نابینا بینا ہوگیا۔ وہ اس تماشے کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ آخر نادم ہوکر پھول زبردستی چھین لیا اور مارے طمانچوں کے اس کا منہ لال کیا۔ پھر گردن میں ہاتھ دے کر وہاں سے نکال دیا اور خُرّم وشاداں وطن کی راہ لی۔
چند روز کے بعد اپنے ملک کی سرحد میں پہنچے اور ایک پیک کو آگے بھیجا کہ ہمارے آنے کی خبر حضور میں جلد پہنچا۔ وہ ان کا حکم فی الفور بجا لایا۔ جب زین الملوک نے یہ خبر فرحت اثر سنی باغ باغ ہوکر یہ قطعہ پڑھا
بتا دلا مجھے آیا یہ قاصد جاناں کہ درد کھونے کو پہنچا ہے صاحب درماں ہر ایک غنچۂ خاطر کھلا ہے کنعاں میں صبا لے آئی مگر بوئے یوسفِ کنعاں
حاصل کلام بادشاہ خود کئی منزل استقبال کے واسطے تشریف لے گئے۔ جب دوچار ہوئے شہزادوں نے قدم بوسی کی اور بادشاہ نے ان کا ماتھا چوما، ایک ایک کو چھاتی سے لگایا، الطاف فرمایا، پھر شہزادوں نے گل بکاؤلی نذر کیا۔ حضرت نے جوں ہی آنکھوں پر مَلا ووہیں تارا سی روشن ہوگئیں۔ تب کہا الحمد للہ دیدۂ ظاہری کو اس پھول نے نورانی کیا اور دیدۂ باطن بیٹوں کے دیدار سے مُنور ہوا۔ اس کے بعد بادشاہ نے جشنِ شاہانہ شروع کیا اور شہر میں منادی پھرادی کہ ہر ایک فقیر امیر عیش وعشرت کا دروازہ برس دن تک کھلا رکھے اور غم والم کا بند۔