چھٹی داستان
تاج الملوک اور محمودہ کے رخصت ہونے میں
حمالہ سے اور دلبر کے پاس پہنچنا
کہتے ہیں ایک رات تاج الملوک محمودہ سے خلوت میں ادھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے کہنے لگا: اے مایۂ عیش و شادمانی! اگر چہ اس جگہ سب طرح کی خوشی ہے اور کسی صورت کا رنج نہیں۔ ہر وقت جو اسبابِِ نشاط چاہیے، وہ موجود ہے۔ لیکن کب تک ہم وطن اور ہم جنسوں سے دور رہیں اور کہاں تک دوستوں کی جدائی کا غم سہیں۔ کچھ ایسی تدبیر کیا چاہیے کہ اس مجلسِ ناجنس سے رہائی پائیے اور دشمنوں کے پنجے سے چھوٹ جائیے:
ہے عزیزوں ہی کی صحبت سے تو جینے کی بہار ورنہ کیا فائدہ ہے خضر سا تنہا رہنا
محمودہ نے کہا کہ خاطر جمع رکھ، کل رخصت لوں گی۔
جب عطّارِ گردوں نے مشکِ تاتارِ شب سے شیشۂ ماہ بھر کر طاقِ مغرب میں دھرا اور خوان زریں آفتاب کا دکّانِ مشرق پر رکھ کر کافورِ صبح سے بھرا، حمالہ نے دو بھاری بھاری خلعت اور کئی خوان میوے کے تیار کرکے دونوں کو خواب گاہ سے باہر نکالا۔ پھر خلعت پہنا کر اور میوہ کھلا کر داہنے بائیں زانو پر بٹھا لیا اور سر منہ چومنے لگی۔ اس اشفاق پر بھی دونوں کا غنچۂ خاطر نہ کِھلا، تب بولی اے دخترِ با تمیز و اے داماد عزیز! جو تمنا تمہارے دل میں ہو سو کہو، اگر آسمان کے تارے بھی مانگوگے تو اتار لاؤں گی۔
محمودہ نے اٹھ کر عرض کی کہ تمھاری توجہات اور عنایات سے کوئی آرزو ہمارے دل میں باقی نہیں، اگر چہ تمھاری آتشِ جدائی بھی چمنِ عشرت کو جلائے گی اور تمھاری مجلس سے رخصت گویا جان کی رخصت ہے لیکن ہر ساعت ہم جنسوں کا شعلۂ فراق میرے سینے میں بھڑکتا ہے۔ اس نے دل و جگر کو جلا کر خاک سیاہ کر دیا ہے۔ اگر حکم ہو تو چند روز کے واسطے ہم جنسوں کی صحبت میں جاؤں اور ان کے آب وصال سے اس آگ کو بجھاؤں۔ ؏
کہیں رہوں میں پرستار ہوں مگر تیری
حمالہ نے اس بات کے سنتے ہی ٹھنڈی سانس بھری اور کہا کہ میں نے اس واسطے تجھے پرورش کیا تھا کہ اپنی آنکھوں کو صبح و شام بلکہ مدام تیرے سرمۂ دیدار سے روشن رکھوں پر تو کیا کرے حق بجانب تیرے ہے میں خوب جانتی ہوں کہ یہ فتنہ سویا ہوا شہزادے نے جگایا۔ اگر آگے سے میں ایسا جانتی تو ہرگز تیرا بیاہ اس کے ساتھ نہ کرتی۔ ؏
یہ ہے گناہ مرا کچھ نہیں خطا تیری
قصہ مختصر حمالہ نے دیکھا کہ ہرگز ان کا دل یہاں نہیں لگتا۔ ایک دیو کو بلا کر کہا کہ جہاں کہیں شہزادے کی مرضی ہو باحتیاط تمام وہاں پہنچادے اور ان کی رسید مجھے لا دے تو تیری جان کی خلاصی ہوگی۔ اس کے بعد حمالہ نے دو بال اپنے سر کے اکھیڑے، ایک تاج الملوک اور دوسرا محمودہ کو دیا اور کہا کہ جس وقت تجھ کو کوئی مہم درپیش ہو تو یہ بال آگ پر رکھنا اور مجھ کو اٹھارہ ہزار دیو سمیت بات کی بات میں وہیں پہنچا جاننا۔ پھر تاج الملوک کے ہاتھ میں محمودہ کا ہاتھ دے کر یہ شعر پڑھا:
سپردم بتو مایۂ خویش را تو دانی حسابِ کم و بیش را
کہنے والے نے یوں کہا ہے کہ اسی وقت وہ دیو پہاڑ کی مانند بجلی سا تیز رو دوڑ آیا۔ پوچھنے لگا جہاں فرماؤ پہنچا دوں گا۔ شہزادہ بولا شہر فردوس میں دلبر لکھا بیسوا کے باغ میں۔ یہ سنتے ہی ان دونوں کو اپنے کاندھے پر بٹھا کر ایک پَل میں وہاں جا کر اتارا اور رسید مانگی۔ تاج الملوک نے کہا ذرا تامل کر میں لکھے دیتا ہوں۔ جوں آواز شہزادے کی بیسوا کے کان میں پڑی، سنتے ہی دوڑی آئی اور اس کے قدموں پر گرپڑی پھر سجدۂ شکر الٰہی بجا لاکر بولی :
ہر مو کی جگہ تن پہ اگر میرے زبان ہو تو بھی نہ تیری بندہ نوازی کا بیان ہو
شہزادے نے اپنے پہنچنے کا حال لکھ کر دیو کو دیا اور رخصت کیا۔ اس کے بعد بیابان کی صعوبت، دیو ستم پیشہ کی شفقت، حمالہ کی مروت، محمودہ کے نکاح کی کیفیت، گل بکاؤلی کے ہاتھ آنے کی حقیقت مفصل اس سے بیان کی۔ پھر وہ اٹھ کر محمودہ سے ملی اور بہت سی اس کی دلداری اور مہمانداری کی۔ شہزادے نے وہاں چند روز توقف کیا پھر اپنے ملک کے جانے پر مستعد ہوا، اس واسطے کہ گل کے پہنچنے سے اس بلبل منتظر کی آنکھیں روشن ہوں۔ فرمایا کہ اسباب سفر کا تیار کریں اور کشتیوں پر بار کریں۔
اہلکار وہی عمل میں لا ئے۔ اتنے میں بندی خانے کے داروغہ نے آکر عرض کی کہ پورب کے شہزادوں کے حق میں کیا حکم ہوتا ہے۔ تاج الملوک صاحب خانہ کی طرف متوجہ ہوکر بولا کہ ہر چند میں بھائیوں کی سفارش کروں لیکن قبول نہ کیجیو جب تک وہ تیرے مہر کا داغ اپنے اپنے چوتڑوں پر نہ کھائیں۔ جو ں ہی زنداں بان ان کو لایا، تاج الملوک نے بہت سی شفاعت کی کہ اگر شہزادے پورب پچھم کے تو نے چھوڑدیے تو ان بیچاروں کو بھی اس گرفتاری سے نجات دے کہ خلق میں تیری نیک نامی اور خالق کے آگے سرخروئی ہو۔ وہ بولی آپ اس میں دخل نہ کیجیے، میں ہرگز نہ چھوڑوں گی۔ مگر ایک صورت سے کہ اپنے چوتڑوں پر میرے مہر کا داغ کھائیں۔
شہزادوں نے اس کے سوا اور کچھ اپنی رہائی کی صورت نہ دیکھی، ناچار قبول کیا۔ چوتڑ دغوا کے وہاں سے چھوٹے اور جان سلامت لے گئے۔ تاج الملوک نے چلتے وقت ایک ایک خلعت اور لاکھ روپے خرچ کے واسطے دلوادیے۔ انھوں نے اور کسی شہر میں جاکر کچھ جمعیت بہم پہنچائی، پھر وطن کی راہ لی۔
تاج الملوک نے بھی دلبر اور محمودہ کو مع اسباب اپنے ملک کی طرف نزدیک کی راہ سے رخصت فرمایا اور ارشاد کیا کہ فلانے شہر میں پہنچ کر مقام کرنا، میں بھی عنقریب خشکی کی راہ سے پہنچتا ہوں۔