پانچویں داستان
تاج الملوک کے پہنچے کی بکاؤلی کے باغ میں
اور لینا گل مقصودکااور عاشق ہونا بکاؤلی پر
القصہ تاج الملوک چند مدت محمودہ کی صحبت میں رہا لیکن اس غنچہ دہن کا دل اوس کی باتوں سے نہ کھلا اور کبھی اس گل کے پاس شگفتہ ہوکر نہ بیٹھا۔ ایک رات محمودہ نے شہزدے سے کہا کہ اے مایہ نشاط! شاید آدمیوں کی یہی وضع ہے جو رات کو اپنی ہمخوابہ کے گلے لگ کر نہ سوئیں، الگ پڑے رہیں، بوس وکنار نہ کریں اور صبح کو جیسے کے تیسے اٹھ کھڑے ہوں۔ تاج الملوک بولا کہ عیش وعشرت انسان میں اس سے بھی کچھ زیادہ ہے، مگر کسی کھٹے میٹھے کو جی نہیں چاہتا بلکہ جان شیریں بھی تلخ ہے، کیونکہ ایک بڑی مہم درپیش ہےاور میں نے عہد کیا ہے کہ جب تک وہ سر نہ ہو دنیا کی تمام لذتوں کو حرام سمجھوں، کسی سے اختلاط نہ کروں۔
محمودہ بولی وہ کیا ہے بیان کر۔ کہا میں ملک بکاؤلی کے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ محمودہ نے جواب دیا خاطر جمع رکھو، ان شاء اللہ تعالٰی کل رشتۂ امید کی گرہ ناخنِ تدبیر سے کھولوں گی اور وہ ملک تجھے دکھاؤں گی۔
خیر وہ رات جوں توں گزری۔ جب مہتاب چھپا اور آفتاب نکلا، حمالہ دونوں کو خواب گاہ سے باہر لائی اور اپنے دائیں بائیں زانوؤں پر بٹھا کر شفقت اور الطاف مادرانہ کرنے لگی۔ محمودہ بھی سروقد اٹھ کر آداب بجا لائی اور عرض کی امی جان! میں کچھ گزارش کیا چاہتی ہوں۔ اگر قبول ہو تو کروں۔ حمالہ نے سر اور آنکھیں چوم کر کہا کہ بے تکلف کہو۔ محمودہ بولی کہ یہ ملک بکاؤلی کے دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس طرح تم سے ہو سکے ان کو وہاں پہنچاؤ۔ حمّالہ نے چند در چند حیلے اور عذر کیے، آخرش دیکھا لڑکی کسی طرح اس کا خیال نہیں چھوڑتی، ناچار قبول کیا اور چوہوں کے بادشاہ کو بلا کر فرمایا کہ اسی وقت یہاں سے بکاؤلی کے باغ تک سرنگ کھود کر اس شہزادے کو کہ میری حیات کا سرمایہ ہے، اپنی گردن پر سوار کرکے اس باغ میں پہنچا۔ مگر خبردار سر مو اسے آسیب نہ پہنچے۔ ہرگز اسے اپنی گردن سے نیچے نہ اترنے دیجیو۔ اس نے بموجب حکم کے ویسا ہی کیا۔
باغ میں پہنچ کر شہزادے نے آہستہ آہستہ چاہا کہ اتر کر اس میں جائے۔ چوہے نے نہ چھوڑا اور ارادہ پھرنے کا کیا۔ تاج الملوک بولا کہ اگر تو مجھے اس باغ کی سیر کو جانے دے تو بہتر، نہیں تو میں اپنے تئیں ابھی ہلاک کرتا ہوں۔ چوہا ڈرا کہ اگر یہ اپنی جان پر کھیل جائے گا تو میں بھی حمالہ کے ہاتھ سے نہ بچوں گا۔ ناچار جانے دیا۔
تاج الملوک جا کر دیکھتا کیا ہے کہ سونے کی زمین پر زر خالص کی چار دیواری میں لعل بدخشانی اور عقیقِ یمنی نیچے سے اوپر تک جڑے ہیں۔ زمرد کے چَمَنوں کے آس پاس فیروزے کی نہریں گلاب سے معمور جن کو دیکھ کر خدائی نظر آئے، جاری ہیں۔ سبحان اللہ کیا سہانا باغ ہے کہ دیکھنے والوں کے منہ پر جس کے چمن کی سیر سے شفق پھولی ہوئی نظر آئے اور پھولوں کے رنگ کی سرخی سے گل سرخ آفتاب کا شرمندگی کے مارے پسینے میں ڈوب جائے۔ وہاں کے انگور کا خوشہ زمرد بن عقدۂ پروین کا رشک بڑھاتا ہے اور سنبل کا عالم ہر ایک زہرہ جبین کے گھونگر والے بالوں کو پیچ و تاب میں لاتا ہے۔ اگر اس کے گلزار کی شبنم کا ایک قطرہ سمندر میں پہنچے تو مچھلیوں میں گلاب کی بو آنے لگے۔ جو وہاں کے پرندوں کی صدا آسمان کے کان میں پڑے تو پھرنے سے باز رہے اور اگر زہرہ سنے تو فی الفور وجد میں آکر ناچتی ہوئی ماہتاب کے دف سمیت زمین پر گر پڑے۔ معشوقوں کے فندقوں سے وہاں کے عناب رنگیں تر اور سر گردانی میں قامتِ خوباں سے کہیں بہتر۔ اس کے ایوان کی شمع کا اگر مرغ زریں فلک پرواز ہو تو بجا ہے اور مہتاب اس کی صفائی پر دیوانہ ہو تو روا ہے۔ طُرفہ تر یہ کہ لعل کے درختوں میں موتیوں کے گچھے ایسے درخشاں ہیں جیسے خورشید کے شجر میں ستاروں کے خوشے آویزاں۔ گلاب کے جڑاؤ حوضوں پر زمرد کی ڈالیاں ہوا سے جھک جھک گِریں اور بطخیں گوہر شب چراغ کی ان میں تیرتے پھریں۔
شہزادہ یہ رنگ ڈھنگ دیکھتا بھالتا قدم بڑھائے چلا جاتا تھا کہ ایک دالان صرف یاقوت کا اور سامنے اس کے ایک دالان زبرجد کا، دونوں کے درمیان ایک حوض مرصع، پاکیزہ، گلاب سے بھرا ہوا، اس کے اطراف کے نار دانوں میں جواہر خوش آب کے گٹے دیے ہوئے اور اس میں ایک پھول نہایت لطیف و نازک خوشبودار کھلا ہوا نظر آیا۔ تاج الملوک نے اپنے ذہن کی رسائی سے دریافت کیا کہ ہو نہ ہو گلِ بکاؤلی یہی ہے۔ فوراً کپڑے اتار کے حوض میں کودا اور گلِ مقصود کو لے کر کنارے پر آیا۔ پوشاک پہنی اور اس کو کمر میں باندھ لیا۔ پھر محل کی سیر کو متوجہ ہوا۔
آگے بڑھتے ہی ایک قصر عتیق یمانی کا نظر آیا، دروازے اُس کے ہم پہلوئے آسمان نئے طور کے تھے، اس کے ہر مکان کی چمک کے آگے دھوپ پھیکی اور چاندنی دھندلی۔ یہ پروانے کی مانند شوق کے بال و پر کھولے ہوئے اس کے اندر بے دھڑک چلا آیا۔ ہر ایک دالان نہایت خوش اسلوب، عقیق اس کا بہت خوب، اس کی ساخت کے نئے آئین اور خوش قطع شہ نشین نظر پڑے۔ پردے اس کے کارچوبی، جا بجا سلمی کی بیل ستاروں کے بوٹے پر سب کے سب چھوٹے ہوئے تھے۔ شہزادہ اُس میں بھی در آیا مگر ہکا بکا سا کھڑا رہ گیا کہ جڑاؤ پلنگ پر ایک نازنین پڑی دبلی پتلی مست خواب بے حجاب نظر آئی۔ بال بکھرے ہوئے، کاجل پھیلا ہوا، انگیا مسکی ہوئی، کرتی اوپر کو سرکی ہوئی، پائیچا چڑھا ہوا، کنگھی بکھری ہوئی، لٹیں چھوٹی ہوئی، نیفہ ڈھلکا ہوا، گچھا ازار بند کا لٹکا ہوا، ناز سے ہاتھ ماتھے پر رکھے ہوئے جوانی کی نیند میں بے خبر سوتی ہے۔ اس کے رنگ روپ کی جوت سے زمین و آسمان نورانی اور اس کی چشم مست سے نرگس کو ہمیشہ حیرانی۔ لبِ نازک کے رشک سے لالہ خوں میں غلطاں ہے، ابرو کی چاہ سے ہلال زار و ناتواں ہے۔ معلم بہار اُس کے غنچۂ دہن سے کوئی حرف نہ سنے تو اطفال شگوفہ کو پھولنے کا سبق نہ دے سکے۔ اگر زنگی شب اُس کی زلفِ مُشکیں کے سائے میں نہ آئے تو آفتاب کی تیغِ شعاع سے مارا جائے:
سرو قد، گل عذار، عنبر بو شکریں لب، عزیز دل، مہ رو کہیں پردے سے گروہ باہر آئے چاند و سورج کی جوت یکسر جائے سلک دندان سے گر خبر پاتا تو ثریا کو پردہ ہی بھاتا وصف کرتا ہے کیا تو اُس گل کا اس کی بلبل کو اس چمن میں لا
تاج الملوک دیکھتے ہی بے خود ہو کر گر پڑا۔ ایک ساعت کے بعد جو آپ میں آیا تو اپنے تئیں سنبھال کر جوں توں اس کے سرہانے تک پہنچایا اور ایک دمِ سرد دلِ پُردرد سے بھر کر یہ اشعار پڑھے:
جب اٹھا کر نقاب ہو تو عیاں کھینچے شرمندگی مہِ تاباں تیرے گیسوئے مشک فام میں بار لیلۃ القدر رہتی ہے پنہاں مست ہے حسن کی شراب میں تو تجھ کو پروا کس کی ہے جاناں ہم پہ کیا کیا گزر گیا لیکن نہ ہوئی کچھ خبر تجھے اے جاں
القصہ شہزادے نے اپنے دل میں تجویز کیا کہ یہاں اپنے آنے کی نشانی کچھ چھوڑ جانا چاہیے۔ اس پری کی انگوٹھی بآہستگی و نرمی اتارلی اور اپنی پہنادی، پھر آنکھیں پھیر کر یہ شعر پڑھتا ہوا وہاں سے چلا۔
لالہ ساں اس باغ سے ہم داغِ ہجراں لے چلے خاک سر پر، داغ دل پر، سینہ بِریاں لے چلے باغِ دنیا میں نہ ہوگا کوئی ہم سا کم نصیب آئے ایسے باغ میں اور خالی داماں لے چلے
آخر حالتِ خواب میں اس سے وداع ہوا اور سرنگ کی راہ سے چوہے پر سوار ہو کر اپنے مکان میں آ پہنچا۔
اے عزیز اب وہ کام کر جس کام سے تجھے دوسرا کام سوجھے جیسا کہ بھوکا روٹی کی خاطر نان بائی کی دکان پر جاوے اور اچانک اس کے جمال پر فریفتہ ہووئے۔ آخر روٹی کی بات سے گزر کر جان تک نوبت پہنچی اور نان بائی کی بھی گردن میں اس کے عشق کی کمند پڑی۔ آخرکار بھوکا دونوں کا مالک ہوا مثل اس شہزادے کی اس کے مانند ہے کہ بلبل وار پھول کی تلاش کو نکلا اور صاحبِ گل کے گلشنِ جمال باکمال کو دیکھتے ہی باغ باغ ہوا، خواہش کا ہاتھ بھی اس کے دامن تک پہنچایا پھر بہت سی محنت اور مشقّت اٹھانے کے بعد رفتہ رفتہ خرمنِ گل سے اپنی گود بھری اور اپنے گھر آیا۔ حمالہ کہ انتظار میں رونی صورت بنائے خونِ جگر آنکھوں میں لیے بیٹھی تھی، اس کے پہنچنے سے اس کا غنچۂ خاطر کھل گیا۔ وہ دن تو بہت ہنسی خوشی سے کٹا۔ اتنے میں عروسِ روز نے شفق کے لال گھونگھٹ میں اپنا منہ چھپایا اور محبوبۂ شام نے طُرّۂ مُشک فام دکھایا۔ تاج الملک اپنی امنگ سے رنگ محل میں گیا اور اس رات محمودہ سے ہم کلام اور ہم کنار ہوا، بلکہ اسی طرح چند روز عیش و عشرت میں کاٹے۔