مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 4: چوتھی داستان

چوتھی داستان

تاج الملوک کے پہنچنے کی بکاؤلی کی

سرزمین میں دیو کی مدد سے

راوی شیریں زبان یہ داستان یوں بیان کرتا ہے کہ تاج الملوک نے ٹھاٹھ قلندرانہ کیا اور چہرے پر راکھ مل کر خدا کا نام لے کر چل نکلا۔

بعد کئی روز کے ایک ایسے وادی پُرخار میں کہ جس کی انتہا نہ تھی، تاریکی سے ہر گز دن رات میں فرق معلوم نہ ہوتا تھا، سپیدی اور سیاہی میں ذرا بھی امتیاز نہ کیا جاتا تھا، وہاں جا کے وارد ہوا اور اپنے دل کو ڈھارس سے کہنے لگا کہ اے عزیز! یہ پہلے ہی بحر مصیبت کی لہر ہے، تجھ کو ابھی سارا دریا کا دریا تیرنا ہے، ہمت کی کمر چست باندھ اور سمندر کی مانند آپ کو آتش کدہ میں ڈال، دیکھ تو خدا کیا کرتا ہے۔

سعدی:

غوّاص گر اندیشہ کند کام نہنگ ہرگز کند درّ گراں مایہ بہ چنگ غواص کرے خوف جو گھڑیالوں سے تو ایک بھی موتی نہ لگے ہاتھ اسے

یہ سوچ کر آخر اس صحرا میں جانکلا۔ جو قدم پڑتا تھا، کانٹا گڑتا تھا، ہر گام پر آہ و نالہ کرتا تھا۔ غرض اس دشت پُرخار میں جو جاہلوں کے دل سے تاریک تر تھا، درندوں کا مسکن پر خطر تھا، اگر ایک دم وہاں آفتاب آئے تو اپنا نور کھو جائے۔ ہر طرف اژدہے بھوکے پیاسے منہ کھولے پڑے تھے گویا خالی گھروں کے دروازے، چھالوں کے سوا نہ کہیں دانہ، پھپھولوں کے سوا نہ کوئی آبشار۔ مدت تک شہزادہ دائیں بائیں چاروں طرف دوڑتا پھرا، جھاڑیوں کی رگڑوں سے بدن چھل گیا، ہر ایک عضو سے لہو ٹپکنے لگا، یہاں تک کہ پھول سے تلوے اس کے ببول کے کانٹوں سے چِھد گئے۔

کہتے ہیں کہ شہزادے نے ایسی مصیبت اور محنت اٹھا کر بارے اس جنگل کو طے کیا اور لاکھوں سجدے شکرِ الٰہی کے بجا لا کر آگے بڑھا۔ سامنے سے ایک دیو پہاڑ سا بیٹھا نظر آیا۔ وہ سمجھا یہ پہاڑ ہے، جب نزدیک پہنچا دفعتاً اس ظالم نے اپنےسر کو بلند کیا۔ ہمسر فلک ہوگیا اور مارے خوشی کے گرج کر بولا کہ تصدّق ہو جاؤں میں اپنے راز‍ق کے اور قربان ہوجاؤں اس خالق کے کہ جس نے ایسا لقمۂ لطیف مجھ دیو کثیف کے واسطے گھر بیٹھے بھیجا۔ یہ کہہ کر شہزادے سے مخاطب ہو کر بولا کہ اس ایامِ جوانی میں تجھے کس نے عروسِ اجل کا مشتاق کیا اور حلاوت زندگی کو تجھ پر شاق کیا جو تو شہر حیات کو چھوڑ کر پائے خواہش سے ویرانۂ موت میں آیا؟

شہزادہ اس کی ہیبت سے تھرّایا، چہرے کا رنگ پتنگ سا اڑ گیا، منہ پر ہوائیاں چھوٹنے لگیں۔ کہا اے دیو! تو میرا حال پوچھتا ہے کہ زندگانی اس دنیائے فانی کی مجھ پر وبال ہوئی ہے۔ اگر مجھے اپنی جان عزیز ہوتی تو میں ہرگز اپنے آپ کو موت کے پنجے میں نہ ڈالتا اور تجھ جیسے خونخوار کے دام میں گرفتار نہ ہوتا۔ اب مجھ کو زندگانی کی صعوبت سے چھڑا اور بلا توقف میرا کام تمام کر کہ ایک ساعت کی زیست مجھ پر سو برس کی مشقت کے برابر ہے:

کٹے خوشی سے تو ہے زیست خضر کی تھوڑی نہیں تو نیم نفس بھی بہت ہے جینے کو

دیو کو اس کی درد انگیز باتوں پر رحم آیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی قسم کھا کر یہ بات زبان پر لایا کہ اے آدم زاد! میں تجھے ہرگز رنجیدہ خاطر نہ کروں گا اور سر مو تصدیع نہ دوں گا بلکہ اپنی پناہ میں رکھ کر جس مطلب کے واسطے نکلا ہے اس میں کوشش اور مدد کروں گا۔

پس ہر روز دیو شہزادے پر شفقت زیادہ کرتا اور بارہا دلاسا دیا کرتا۔ تاج الملوک میٹھی میٹھی باتیں کر کے اس سے شیر و شکر کے مانند مل گیا اور چاپلوسی اور تملق سے اس کو محبت کے شیشے میں اتارا۔

القصہ ایک روز دیو نے مہربان ہو کر کہا تیری غذا کیا ہے، میں لاؤں؟ تاج الملوک نے عرض کی کہ آدمیوں کی غذا شکر، گھی، میدہ، گوشت وغیرہ یہی چیزیں ہیں۔ یہ سنتے ہی دیو اٹھ دوڑا اور ایسے قافلے پر پہنچا کہ جس کے لوگ شکر اور گھی اور میدہ اونٹوں پر لادے ہوئے کہیں لیے جاتے تھے اور وہ لدے لدائے اونٹ اٹھا کر شہزادے کے آگے لے آیا۔ کہا کہ اپنی خورش لے اور اس سے کچھ کھا لے۔

تاج الملوک نے اونٹوں پر سے وہ سب اتار لیا اور انہیں جنگل میں چھوڑدیا۔ پھر ہر روز اپنے کھانے کے موافق کچی پکی روٹی پکا کر کھانے لگا۔ اسی طرح چند روز گزرے۔ ایک دن شہزادے نے کئی من میدا لےکر اس میں گھی شکر ملا کر بڑی بڑی پتھر کی چٹانوں پر ڈال کے ہاتھ پاؤں سے خوب روند کر گوندھا۔ پھر ادھر اُدھرسے سوکھی لکڑیاں جمع کرکے روغنی روٹ سینک سانک کے تیار کیے اور ایک اونٹ کے کباب بھی خوب نمکین بھونے۔ دیو نے دیکھ کے پوچھا کہ آج تو نے کیوں اتنی تکلیف اٹھائی اور کس واسطے فضولی پر کمر باندھی؟ تاج الملوک نے کہا یہ سب تمہارے لیے ہے تا کہ تم بھی ایک نوالہ اس میں سے کھا کر آدمیوں کے کھانے کی لذت دریافت کرو۔ دیو نے ایک بارگی سب کا سب اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ ازبس کہ اس طرح کے کھانے کی اس نے کبھی لذت نہ چکھی تھی، مارے َخوشی کے اچھل اچھل کر کھاتا تھا اور بار بار شاباش کہہ کر تعریف کرتا تھا اور کہتا تھا اےآدمی زاد! تونے مجھے ایسی چیز کھلائی کہ میرے باپ دادا نے بھی نہ کھائی ہوگی بلکہ آج تک کسی دیونے ایسے کھانے کی لذت نہ پائی ہوگی۔ اس روٹی کے ٹکڑے کا احسان میں ابد تک مانوں گا اور دل سے تیرا ممنون رہوں گا۔

شہزادے نے جو اس کی رغبت دیکھی تو ہر روز نئی قسم کی روٹی اور کباب تیار كركے كھلاتا، دیو نہایت محظوظ اور خوش ہوتا۔ یہاں تك كہ ایك روز خود بخود كہنے لگا، اے آدم زاد! تو ہر روز اس لقمۂ لذیذ سے مجھے ایسا خرسند ركھتاہے كہ اگر میرے بدن پر ہر روئیں كی جگہ زبان پیدا ہو اور ہر زبان سے شكر تیرے احسان كا ادا كروں تو بھی نہ ہو سكے، لیكن اب تك تیرا كوئی كام میرے ہاتھ سے نہیں نكلا، اگر كچھ مطلب ہو تو بیان كر۔

تاج الملوك نے عرض كی، میں نے سنا ہے دیوؤں كا مزاج اكثر جھوٹ كی طرف راغب ہوتا ہے اور اپنی بات پر قائم نہیں رہتے۔ اگر تم حضرت سلیمانؑ كی قسم كھاؤ تو میں اپنا راز تم سے ظاہر كروں۔ تب دیو بولاكہ میں اس بزرگ كی قسم سے ڈرتا ہوں، خدا جانےكیا كہے اگر وہ مجھ سے نہ ہو سكےتو مرنا پڑے۔ آخرش چار ناچارقسم كھائی اور پوچھا، كہو كیا مطلب ہے۔

تاج الملوك نے كہا، ایك مدت سے مجھ كو ملك بکاؤلی كی سیر كا سودا ہوا ہے۔ اس سرزمین میں پہنچادے یہی میری آرزو ہے۔ یہ بات سنتے ہی اس نے ایك دم سرد سینے سے كھینچا اور دو ہتھڑ اپنے سر پر مار كر بے ہوش ہو گیا۔ بعد ایك رات كے ہوش میں جو آیا، ہائے ہائے كرنے لگااور ماتم زدوں كی صورت بنا كر بولا، اے آدم زاد! حق تعالیٰ نے تیری اجل كا سر رشتہ میرے ہاتھ میں نہ دیا بلكہ میری حیات كی باگ تیرے ہاتھ میں دی۔

سن، بکاؤلی پریوں كے بادشاہ كی بیٹی ہے۔ اٹھارہ ہزار دیو بلكہ اس سے بھی زیادہ اس كے باپ كے غلام ہیں۔ وہ ہر طرف اس كے ملك كی پاسبانی كرتے ہیں۔ میں تو ایك طرف، وہاں كے خاص چوكیدار جو اس ملك سے نزدیك ہیں انہوں نے بھی اس شہر كی چاردیواری كو نہ دیكھا ہوگا۔ كسی ذی حیات كی كیا طاقت، بلكہ صرصر بھی ان دیوؤں كی اجازت كے بغیر جو برس روز كی راہ تك نگہبان ہیں ممكن نہیں كہ پہنچ سكے۔ او رپریاں بے شمار دن رات نگہبانی میں مشغول ہیں كہ كوئی پرندہ اس سرحد میں پر نہ مارے اور زمین كے نیچے چوہوں كا بادشاہ بے انتہا فوج سے اور سانپ بچھؤوں كا لشكر زمین پر محافظت كے واسطے مقرر ہے تا كوئی سرنگ لگا كر بھی نہ پہنچے۔ بھلا میں تجھے وہاں كیوں كر پہنچاؤں اور جو نہ پہنچاؤں تو یقین ہے كہ بسبب اس قسم كے جان سے جاؤں۔ اب تو ایك كام كر كہ آج پھر اسی طرح سے كھانا پكا، دیكھ كہ پردۂ غیب سے كیا ظاہر ہو اور میری كوشش كے ہاتھوں كیا بن پڑے۔

تاج الملوك نے وہی كیا، جب كھانا دیو نے تیار دیكھاچنگھاڑا، فوراً شمال كی طرف سے ایك اور دیو پہاڑ سا پہنچا اور دونوں دست بوسی كر كے بیٹھ گئے، پھر تاج الملوك پر دوسرے دیو كی نظر پڑی۔ شہزادہ نے فی الحال جھك كر سلام كیا، اس كے سلام كرنے سے دیو نے حیران ہو كر صاحب خانہ سے پوچھا كہ اے بھائی، یہ مقام تعجب كا ہے۔ اب تك كسی نے نہ دیكھا نہ سنا ہوگا كہ دیو اور آدمی سے موافقت ہواور دونوں ایك جگہ ہم نشین رہیں، اس كے یہاں رہنے كا كیا باعث ہے؟

دیو نے كہا، اے بھائی اس آدم زاد نے مجھ كو نہایت ممنون كیا ہے۔ مجھے كسی طرح اس سے بدی كرنی منظور نہیں اور تجھ كو اس واسطہ بلایاہےكہ تو بھی اس كے ہنر سے واقف ہو۔ یہ كہہ كے صاحب خانہ نے سامان مہمانی كا لا مہمان كے آگے ركھا، وہ دیو اس لقمۂ شیریں كو منہ میں ڈالتے ہی نہایت متلذذ ہو كر خوشی كے مارے ناچنے لگا۔ آخر كھا پی كر مہمان نے كہا كہ كہو بھائی تم سے بھی آج تك اس آدمی كا كا كچھ كام ہوا یا نہیں؟ گھر كے مالك نے جواب دیا كہ یہ شخص ایسے كام كے واسطہ تكلیف دیتا ہے كہ میرے حد امكان سے باہر او ر سعی و تردد كے احاطے سے خارج ہے۔ اگر تو مہربانی كرے تو شاید یہ كامیاب ہو۔ پھر اس نے پوچھا كہ یار ایسی كون سی بات ہے جو تم اس میں عاجز ہو؟ میزبان نے كہا، اس كو سیر ملك بکاؤلی كی خواہش ہے۔ مہمان بولا ؏

جو جان بوجھ كے پوچھے تو پھر خطا ہے سوال

صاحب خانہ نے كہاكہ میں نے حضرت سلیمانؑ كی قسم كھائی ہے، اگر تو توجّہ كركے اس كو شاہد مراد سے ملائے تو فی الحقیقت میری جان بخشی كرے۔

القصہ، اس دیو كی بہن حمّالہ نام، اٹھارہ ہزار دیو جو بکاؤلی كے ملك خاص كے چوكیدار تھے، ان كی وہ سردار تھی۔ اس كو ایك خط اس مضمون كا لكھا كہ اے خواہر عزیز! مجھ كو ان دنوں میں ایك سفر ایسا درپیش ہوا ہےكہ بغیر اس كے كسی صورت سے مجھے رہائی نہیں اور ایك مدت سے میں نے ایك آدم زاد كو بجائے فرزند پرورش كیا ہے۔ اب میرے جانے كے بعد گھر خالی رہے گا، اب بہر صورت جائے خوف وخطر ہے۔ اس واسطہ نورِ دیدہ كو تمہاری خدمت میں روانہ كیا چاہیے كہ اس كے حال پر شفقت كی نظر ركھیو۔ كسی طرح یہ تصدیع نہ اٹھائے۔ والسلام

اور قاصد کے ہاتھ میں دیا پھر تاج الملوک کی طرف منہ پھیر کر اشارہ کیا کہ اس کے ساتھ جا، میں نے تو کمندِ سعی و تردد اپنے بازو کے زور سے میدان مطلب میں پھینکی، اگر تیرا چوگانِ بخت مدد کرے تو شاید اپنے مطلب کو پہنچے۔

یہ کہہ کر قاصد کے بائیں ہاتھ پر بٹھادیا۔ اس نے داہنے ہاتھ کا سایہ کیا اور رستہ پکڑا۔ بخیریت تمام منزل مقصود پر جا پہنچا اور دور سے حمّالہ کو سلام کرکے شہزادے کو نامہ سمیت حوالہ کیا۔ وہ دیکھ کر نہایت خوشی سے باغ باغ ہو کر مانند غنچے کے کھل گئی۔

سماتی تھی نہ اپنے پیرہن میں خوشی سے روح پھولے تھی بدن میں

الغرض قاصد کی طرف متوجہ ہو کے کہنے لگی، اگر بھائی مجھ کو سرخ گندھک کی کان بھیجتا یا حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی تو میں اتنا خوش نہ ہوتی جیسا کہ اس کے آنے سے خوشی ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس کا لفافہ کھول کر اس کے احوال دریافت کرکے جواب لکھا:

اے بھائی مجھ کو ایک دن بستی کی سیر کا اتفاق ہوا تھا۔ وہاں ایک بادشاہ کی بیٹی خوبصورت لا ثانی میرے ہاتھ لگی، اس کو بیٹی کی طرح میں نے پرورش کیا، محمودہ نام رکھا، اب وہ چودہ برس کی چودھویں رات کے چاند سی ہوئی۔ کارساز نے اس کا جوڑا اس تقریب سے بھیجا، الحمدللہ کہ یہ بات خاطر خواہ بن پڑی، زیادہ شوق و ملاقات۔ والسلام

اور خط دے کر نامہ بر کو رخصت کیا، پھر محمودہ کو تاج الملوک کے ساتھ بیاہ دیا۔

اے عزیز! روشنی چشم ظاہر بین کی سات پردوں میں ہے اور تجلی باری تعالیٰ کی کہ نورِ دیدۂ اولیا ہے، ستر ہزار پردے میں ہے۔ اگر یہ ارادہ ہو کہ وہ پردے درمیان سے اٹھیں تو پہلے اس بڑے نگہبان دیونفس کا حجاب بیچ سے اٹھا کر اس کو بس میں کر کہ وہ لعین اپنی کجروی چھوڑ کر محمودہ کے مقام (اہل باطن کے اشغال سے ایک شغل محمودہ بھی ہے اور نورِ الٰہی اور اسرارِ معرفت نظر پڑتے ہیں) میں پہنچائے لیکن یہ بات یاد رکھ، اگر دیو سے الٹا کیجے تو سیدھا پڑے۔