تیسری داستان
تاج الملوک کے تختہ نرد کھیلنے کی دلبر لکھا بیسوا
سے اور جیتنے میں مال اور اسباب کے
جب تاج الملوک کو امیر کی خدمت میں کئی مہینے گزرے اور اس نے وجہ مقررہ سے کچھ روپے جمع کیے تو ایک روز اس کی خدمت میں عرض کی کہ ایک فدوی کے آشناؤں میں اس شہر میں تازہ واردہے، اگر حکم ہو تو ہر روز چار گھڑی کے واسطے اس کے پاس جایا کروں،دل بہلایا کروں۔ امیر نے کہا بہتر۔
پس شہزادہ ہر روز تختہ نرد کھیلنے والوں کے پاس جا بیٹھتا اور کھیلتا۔ جب قانون اس کے دریافت کر لیے اور ہر ایک سے بازی ہاتھ آنے لگی تو یہ تجویز کیا کہ اب اس عیّارہ سے کھیلنے اور اپنے طالع کے قرعہ کو تختۂ امتحان پر پھینک کر خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھیے کہ پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر ایک روز شہزادہ اس کے دروازے پر گیا دیکھا کہ ایک بڑھیا اندر سے باہر آتی ہے کسی سے پوچھا یہ کون ہے؟ اس نے کہا یہاں کی یہی مدار المہام ہے۔ بے مشورہ اس کے وہ کچھ کام نہیں کرتی ہے۔
تاج الملوک نے دل سے کہا کہ اب کچھ مکر پھیلایا چاہیے، دام محبت میں اسکو لایا چاہیے، اس کے ہاتھ میرا کام نکلے تو نکلے۔ اس دن تو شہزادہ چلا آیا پھر ایک روز وہی بڑھیا اس کو دکھائی دی، سلام کیا اور پاؤں پر سر رکھ کر بے اختیار رونے لگا۔ بڑھیا نے پوچھا تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے مگر دیوانہ ہے یا مظلوم کہ اس طرح پھوٹ کر روتا ہے۔ شہزادے نے کہا:
کیا مجھ سے پوچھتی ہو میں ہوں کمال مضطر دنیا میں کوئی مجھ سا ڈھونڈھو تو پاؤ کمتر آتش سے غم کی میرا سینہ جلا بھنا ہے دو دن کی زندگانی مجھ پر عجیب بلا ہے گردش سے آسمان کی کیا کیا ستم ہے مجھ پر سایہ بغیر اپنا ساتھی نہ دوسرا ہے
مسافر ہوں بے سر و پا۔ اس شہر یگانہ میں نہ کوئی یار نہ آشنا۔ بجز باری تعالی کی ذات کے نہ اپنا کوئی پشت پناہ، نہ کسی کا آسرا۔ پورب دیس میں میرا وطن ہے، ایک میری دادی تھی، وہ بھی قضائے الٰہی سے کئی برس ہوئے کہ اس عالم فنا سے ملک بقا کو کوچ کر گئی۔ اس کے تمام آثار تجھ میں پائے، اس واسطے بصد آرزو تیری پابوسی کی۔ اگر میرے حال زار کو الطاف کی نظر سے تو دیکھے اور اس عاجز کی غریبی اور بے کسی پر رحم فرمائے تو میں تیرا ہو کر رہوں اور دادی کی جگہ تجھ کو تصور کروں۔
نظر سے اپنی جو کرتے ہیں خاک کو اکسیر کبھی تو گوشۂ چشم اس طرف کریں للہ
ایسی چکنی چپڑی باتیں کیں کہ اس پیر زال کا دل پھسل گیا، بلکہ شعلۂ آواز سے موم کی مانند پگھل گیا۔ بولی کہ اے جوان! میرا بھی اس جہاں میں کوئی نہیں رہا، آج سے میں تیری دادی تو میرا پوتا۔ پھر تاج الملوک نے کہا، دادی صاحب! کئی روز سے میں ایک جگہ نوکر ہوں، اس کی فرمانبرداری لازم ہے۔ ہر روز تمہاری قدم بوسی کے واسطے نہ پہنچ سکوں گا، مگر کبھی کبھی۔
بڑھیا نے کہا “بیٹا کیا مضائقہ ہے”۔
اگرچہ شہزادے نے ہر روز کے آنے کا عذر کیا لیکن مدام اس غم خوار کے گھر جاتا اور چاپلوسی اور تملق کی باتیں بناتا۔ آخرش رفتہ رفتہ اس کا محرم راز ہوا۔
اسی طرح سے کچھ روز گزرے۔ ایک دن شہزادہ کچھ روپے اس کے پاس لے گیا اور کہا “دادی صاحب! یہ روپے رکھ چھوڑو۔ اگر کسی کام میں درکار ہوں تو خرچ کرو”۔
وہ بولی “بیٹا تیرے روپے میں لے کر کیا کروں گی۔ خدا کا دیا میرے گھر میں سب کچھ ہے، کسی چیز کی کمی نہیں۔ اگر تجھے کسی کام کے لیے کچھ درکار ہو تو یہ نقد و جنس تیرا ہے۔ بے وسواس اپنے تصرف میں لا”۔
کھانے کے لیے یہ زر ہے اے نور بصر رکھنے کے لیے تو سنگ و زر یکساں ہے
غرض شہزادے نے جب اس کو اپنے حال پر مہربان پایا، ایک روز ادھر ادھر کا تذکرہ کرکے کہنے لگا کہ اے دادی صاحب! تم کو کچھ معلوم ہے کہ جو کوئی اس عیارنی کے ساتھ تختہ نرد کھیلتا ہے اس سے بازی نہیں پاتا؟
اس نے جواب دیا “بیٹا یہ راز بہت نازک ہے، خبردار ہرگز کسی سے نہ کہو، ایسا نہ ہو کہ یہ بات طشت از بام ہو۔ اگر اس کی بھنک اُس خام پارہ کے کان میں پہنچے تو میرے زوال کا باعث ہو”۔
شہزادے نے کہا “استغفر اللہ یہ کیا بات ہے”۔
بڑھیا بولی کہ اس نے ایک بلی اور چوہے کو پرورش کرکے یہ سکھایا ہے کہ بلی کے سر پر چراغ رکھے تو وہ لیے رہے اور چوہا چراغ کے سائے بیٹھا رہے، جب اس کی خاطر خواہ پانسا نہ پڑے تب بلی چراغ کو ہلا کر نردوں پر سایہ کرے اور چوہا پانسے کو اس کے حسب دل خواہ الٹ دے۔ پس جو کوئی اس سے کھیلنے آتا ہے وہ بے چارہ بازی ہار جاتا ہے اور یہ بلی چوہے کی مدد سے بازی جیت لیتی ہے، لیکن کسی کھلاڑی پر یہ بھید آج تک نہیں کھلا اور جو کوئی اس ارادے پر آیا اس نے داغ ندامت کا اپنی پیشانی پر کھایا۔
تاج الملوک جب یہ بات دریافت کر چکا، بازار میں گیا اور ایک نیولے کا بچہ مول لے کر اسے آستین میں رکھ کر یہ سکھانے لگا کہ جوں ہی وہ چٹکی کی آواز پائے وہیں بچۂ پلنگ کی طرح آستین سے کود کرباہر آئے۔ جب اس طرح سیکھ سکھا کر وہ طاق ہوا، تب ایک روز شہزادے نے بڑھیا سے یہ مکر پھیلایا کہ میں اب اس نوکری سے اداس ہواہوں۔ اگر تو ہزار روپے سے میری مدد کرے تو تجارت کروں۔ بڑھیا نے کوٹھری میں لے جاکر کہا کہ دیکھ بیٹا یہ سب توڑے حاضر ہیں، جتنا جی چاہے اتنا لے لے۔ تب شہزادہ ہزار روپیہ اس سے لے کر امیر کی خدمت میں گیا اور عرض کی کہ میرے آشناؤں میں سے ایک شخص کا آج بیاہ ہے۔ اگر سرکار سے ایک خلعت فدوی کو مرحمت ہو تو اس مجلس میں جائے، ہم چشموں میں عزت پائے۔
امیر نے اپنا ملبوس خاص شہزادے کو عنایت کیا اور فرمایا کہ گھوڑوں میں سے بھی جو تیرے پسند ہو لے جا۔ تب تاج الملوک حضور کے خاصے پر سوار ہو کر اس بیسوا کے دروازے پر گیا اور گھوڑے سے اتر کر بے باکانہ قدم اندر رکھا۔ اس کی ہیئت سے اس کے منہ کا رنگ اڑ گیا۔ گھبرائی اور استقبال کے لیے دوڑی آئی۔ شہزادہ نے کہا کہ تو ایک مدت سے اس شہر میں مسافر کی دم ساز رہتی ہے اور عاشق مزاجوں کی ہمراز رہتی ہے اور میں کہ اس شہر کے والی کا خواص ہوں، کبھی مجھ سے رجوع نہیں ہوتی۔ بہر حال لا کچھ تحفہ یاروں کی بھی نذر کر۔
اس نے شہزادہ کو باعزاز تمام جڑاؤ کرسی پر بٹھایا اور آپ ہٹ کر پیچھے بیٹھی۔ اس میں شاطر فلک کج باز نے اکتشاف کے سنہرے نرد کو مغرب کے گھر میں چھپایا اور فرق دان کی روپہلی گوٹوں کو تختۂ طلوع پر بٹھایا۔ شہزادے نے کہا میں نے سنا ہے کہ تجھ کو نرد کھیلنے کا بڑا شوق ہے۔ آ ایک بازی کھیلیں۔ اس مکرہائی نےپہلے تو انکار کیا، آخر شہزدے کے کہنے سے تختۂ نرد منگواکر بدستورِ قدیم بلی کے سر پر چراغ رکھا اور لاکھ روپے کی بازی بد کر پانسہ پھینک دیا۔
پہلی بازی تو شہزادے نے جان بوجھ کر ہار دی اور اس نے بلی چوہے کی مدد سے جیت لی پھر دوسری بازی رکھ کر کھیلنے بیٹھی جو ایک پانسہ اس کے خاطر نہ پڑا تو وہیں بلی نے سرہلایا۔ چوہے نے چاہا کہ پانسے کو الٹ دے۔ تاج الملوک نے چٹکی بجائی، نیولا بچۂ پلنگ کی طرح جست کر کے آستین سے باہر نکلا، چوہا تو اس کی صورت دیکھتے ہی کافور ہو گیا اور بلی پر بھی دہشت غالب ہوئی، چراغ سر سے پھینک کر ہوا ہوئی۔ شہزادے نے برہم ہو کر کہا “اے عیارنی تو نے کیا بھگل نکالا ہے۔ باوجودیکہ تیرے گھر گوہر شب چراغ تک ہیں، ایک شمع دان بھی نہیں رکھتی ہے؟”
وہ اس گفتگو سے نہایت خجِل ہوئی، غیرت سے پسینے پسینے ہوئی۔ اسی وقت جڑاؤ شمع دان منگوا کر رکھا اور دونوں پھر اسی کام میں مشغول ہوئے۔
کہنے والے نے یوں کہا ہے کہ شہزادے نے اسی رات میں سات کروڑ روپے جیتے۔ اس میں صبح صادق ہو گئی۔ تاج الملوک نے کہا کہ اب حضرت جہاں پناہ کے ناشتے کا وقت عنقریب آ پہنچا ہے، اگر اس وقت میں حضور میں حاضر نہ ہو سکا تو موجب قباحت ہوگا۔ یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور وہ روپے شام کے وعدے پر اس کے پاس چھوڑ کر امیر کی خدمت میں آ کر حاضر ہوا۔ شام کے انتظار میں تمام دن جوں کا توں کاٹا۔ سورج کے ڈوبتے ہی سج سجا کے ایک ایسے گھوڑے باد رفتار پر کہ جس کی جلدی سے باد صبا بھی ہر دم دمِ سرد بھرتی تھی، سوار ہو کر اس کے گھر پہنچا۔
یہ خبر سن کر اس نے چند قدم چار ناچار استقبال کیا اور شہزادے کو بدستور کرسی پر لا کر بٹھایا۔ کھانا کھانے کے بعد کروڑ روپے کی بازی بد کر کھیلنے لگی۔ کہتے ہیں کہ اس کھلاڑن نے آدھی رات کے عرصے میں قریب سو کروڑ کے جو اس کے خزانے میں تھے، ہار دیے۔ تب ششدر ہو کر شش و پنج کرنے لگی۔ آخر اثاث البیت کی نوبت پہنچی، وہ بھی تاج الملوک کے ہاتھوں ہاتھ، ہاتھ لگا۔ پھر اس نے کہا “اب تیرے پاس کچھ باقی نہیں رہا، اتنی رات کس شغل سے کٹے گی؟ اب پورب اور پچھم کے شہزادے جو تو نے قید کیے ہیں، ان پر بھی ایک بازی کھیل۔ اگر تو جیتی تو لاکھ روپے میں دوں، نہیں اِن کو بھی لے لوں اور جو چاہوں سو کروں”۔
اس بات پر وہ راضی ہوئی۔ پلک مارتے شہزادے نے وہ بھی بازی جیت لی۔ تب وہ بولی “اے جواں بخت! ایک بار اور میں اپنا نصیب آزماؤں، اگر یہ بازی میرے ہاتھ آئی تو اپنی سب جنس ہاری ہوئی تجھ سے پھیر لوں، نہیں تو تیری لونڈی ہو کر رہوں”۔ شہزادے کے طالع کا ستارہ آسمان ترقی پر چمک رہا تھا، بات کی بات میں وہ بھی بازی جیت لی۔ تب وہ سرو قد اٹھ کھڑی ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی کہ اے جوان! خدا کی مدد سے تو نے مجھے اپنی لونڈیوں میں ملایا، غرض کہ جس شکار کے واسطے ساری زمین کے بادشاہوں نے تمام عمر صرف کی، بخت بلند کی مدد سے اس کو تو نے ہاتھوں ہاتھ پکڑ لیا۔ اب یہ تیرا گھر ہے، مجھ کو اپنے نکاح میں لا اور باقی عمر دولت و حشمت کے ساتھ یہیں بسر کیے جا۔
تاج الملوک نے کہا، یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ مجھے ایک بڑی مہم درپیش ہے۔ اگر حق تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس پر فتحیاب ہوا تو البتہ تو بھی کامیاب ہوگی۔ اب تجھے لازم ہے کہ بارہ برس تک میرے انتظار میں نیک بختی کا لباس پہن کر حق تعالی کی عبادت میں مشغول رہے اور اپنے کسب سے ہاتھ اٹھائے۔ اس نے کہا اے بوستان سرداری کے نو نہال! اب تک تیری جوانی کا شگوفہ نہیں پھولا اوربہار شباب کے چمنوں پر صرصرکا جھونکا بھی نہیں لگا۔ کیا لازم ہے کہ تو سفر کر کے آتش کدۂ محنت میں عمداً آپ کو گرائے اور آتش سر گردانی قصر شادمانی میں قصداً لگائے؟ مجھ کو بھی اس کیفیت سے مطلع کر کہ میں بھی تیرے ساتھ جب تک میرے قالب میں جان ہے اور مہم سر نہ ہو، سعی و تردد کروں کہ اب مجھ کو تیرے بغیر یہ گھر بندی خانہ ہے:
اے فصیحی! گھر بغیر از یار کے زندان ہے ہر در و دیوار پہ اس بات کو لکھ دیجیے
جب اس علامہ نے اس راز سر بستہ کے کھولنے میں حد سے زیادہ مبالغہ کیا، تب شہزادےنےکہا سن! میرا نام تاج الملوک ہے اور زین الملوک شرقستان کے بادشاہ کا بیٹا ہوں۔ قضائے کار میرے باپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ حکیموں اور طبیبوں نے بالاتفاق گل بکاؤلی کے سوا اور کوئی دوا تجویز نہیں کی۔ اسی روز سےمیرے چار بھائی جو چند روز سے تیری قید میں ہیں، گل مذکور کی تلاش کو نکلےہیں۔ میں بھی خفیہ ان کے ساتھ تھا، وہ تو تیرے مکر و فریب کے دام میں پھنس گئے ہیں۔ میں سینکڑوں حیلوں سے تجھ تک پہنچا اور غالب ہوا۔ اب اسی کی تلاش میں جاتا ہوں۔ اگر گل مقصود ہاتھ آیا تو خیر۔ نہیں تو اس کے پیچھے جان لے کہ میں نے اپنی جان سے ہاتھ اٹھایا۔
اس نے سن کر کہا اے شہزادے یہ کیا خیال باطل تیرے دل میں سمایا اور اندیشۂ فاسد تیرے جی میں آیا۔ ذرہ کو کیا مجال کہ اپنے کو آفتاب کی منزل تک پہنچائے۔ پرندے کو کیا طاقت آپ کو ہمدم صبا بنائے۔ سن بکاؤ لی پریوں کے بادشاہ کی بیٹی ہے۔ اس کے باغ میں وہ گل ہے، پر اس کی چار دیواری کو آفتاب بھی نظر اٹھا کے نہیں دیکھ سکتا۔ ہزاروں دیو اس کی نگہبانی کے واسطے چاروں طرف مستعد رہتے ہیں۔ کسی ذی روح کو طاقت نہیں کہ بے اجازت ان کے وہاں تک پہنچے اور بیشمار پریاں پاسبانی کے واسطے ہوا پر مقرر ہیں کہ کوئی پرندہ پر نہ مارسکے۔ اس کے سوا زمین پر سانپ بچھو بے انتہا پہرہ چوکی دیتے ہیں کہ کوئی شخص کسی راہ سے بھی اس تک نہ پہنچ سکے اور زمین کے پیچھے چوہوں کا بادشاہ ہزاروں چوہوں کے ساتھ رات دن نگہبانی کرتا ہے کہ سرنگ کی راہ سے بھی کسی کی رسائی نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ چیونٹی چاہے کہ رینگتی ہوئی کسی حیلہ سے اس تک پہنچے ممکن نہیں۔ اے شہزادے! تو اس خرابی میں زنہار گرفتار نہ ہو۔ قرآن شریف میں ہے کہ نہ ڈالو تم ہاتھ ہلاکت کی طرف اور سعدی شیرازی نے بھی فرمایا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
کوئی مرتا نہیں ہے بن آئے لیک تو منہ میں اژدہے کے نہ جا
شہزادے نے کہا فی الحقیقت یہی بات ہے، مگر حق تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے خلیل اللہؑ پر آگ کو گلزار کیا تھا۔ اگر میں عاشق ثابت قدم ہوں اور میرے عشق کا جذبہ صادق ہے تو البتہ شاہد مراد کے دامن تک میرا دست رس ہوگا۔ ؏
کیا کر سکے ہے دشمن جو دوست مہربان ہو
میرے چھوٹے سے قد پر نہ جا۔ اگرچہ بنی آدم قوت میں دیو سے کمتر ہیں لیکن فہم و فراست میں زیادہ تر ہیں۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر آئینہ بزرگی دی ہے میں نے بنی آدم کو۔
حکایت برہمن اور شیر کی
وہ تو سنی ہے یا نہیں کہ کسی جنگل میں ایک روز برہمن کا گزر ہوا۔ دیکھتا ہے کہ ایک شیر موٹی سی رسی سے جکڑا ہوا پنجرے میں بندھا ہے۔ وہ شیر برہمن کو دیکھ کر نہایت غریبی سے گڑگڑانے لگا کہ اے دیوتا میری اس حالت زار پر رحم کر اور اس قید سے نجات دے تو اس جاں بخشی کے عوض ایک نہ ایک دن میں بھی تیرے کام آؤں گا۔ برہمن سادہ لوح کا دل شیر کے بلبلانے پر بھر آیا مگر عقل کے اندھے کو یہ نہ سوجھا کہ دشمن ہے، اس کی بات کا اعتبار نہ کیا چاہیے۔ بے تامل قفس کا دروازہ کھول کر اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے۔ بند سے خلاصی ہوتے ہی اس خونخوار نے اس کو تہ اندیش کو گردن سے پکڑ کر اپنی پیٹھ پر ڈال لیا اور وہاں سے چل نکلا۔
شعر سعدی :
نیکی کرنی بدوں سے ایسی ہے جیسے نیکوں سے کی بدی تو نے
برہمن نے کہا اے شیر! میں نے تجھ سے بھلائی کی نیکی کی امید پر اور تو ارادہ بدی کا رکھتا ہے۔؏
میں نیکی سے گزرا، بدی بھی نہ کر
شیر بولا کہ ہمارے مذہب میں نیکی کی جزا بدی ہے، اگر میرے کہنے کا اعتبار نہیں تو چل کسی دوسرے سے پُچھوا دوں اور جو وہ کہے سو صحیح ہے۔ اس بات پر وہ گوبر گنیش راضی ہوا۔ اس جنگل میں بڑا پرانا برگد کا درخت تھا۔ شیر اور برہمن اس کے نیچے گئے۔ شیر نے اپنی درخواست اس سے ظاہر کی، اس نے اس کے جواب میں کہا “شیر سچ کہتا ہے، اس وقت میں نیکی کا بدلہ بدی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اے برہمن! سن کہ میں بر سرراہ ایک پاؤں سے کھڑا ہوں اور سب چھوٹے بڑے مسافروں پر سایہ کرتا ہوں لیکن جو مسافر گرمی کا مارا میرے سایہ میں آکر دم لیتا ہے، بیٹھ کر ہوا کھاتا ہے وہ چلتے وقت سر پر سایہ کرنے کو میری ڈالی توڑ کر لے جاتا ہے۔ کوئی میری شاخ کی لاٹھی بناتا ہے۔ بتا کہ بھلائی کا عوض برائی ہے یا نہیں۔”
شیر نے کہا کہو دیوتا اب کیا کہتے ہو۔ اس نے کہا کسی اور سے بھی پوچھ لو۔ شیر نے چند قدم آگے جا کر راستے سے اس بات کو پوچھا۔ اس نے کہا “شیر سچا ہے۔ سنو مصر جی! مسافر مجھے بھول کر ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے۔ جب میں اسے ملتا ہوں وہ بآرام تمام اپنے منزل مقصود کو پہنچتا ہے، لیکن اس کے بدلے وہ میری چھاتی پر پیشاب کرتا ہے، جاء ضرور بھی پھرتا ہے۔”
برہمن بولا “تیسرے سے اور بھی دریافت کر۔ پھر تیری جو رضامندی ہووے بہتر ہے۔”
شیر آگے بڑھا، سامنے سے ایک گیدڑ ٹیلہ پر بیٹھا نظر آیا۔ اس نے ارادہ بھاگنے کا کیا۔ شیر للکارا کہ اے گیدڑ تو کچھ اندیشہ نہ کر، ہم ایک بات تیرے پاس پوچھنے آئے ہیں۔ تب وہ بولا کہ حضرت کو جو ارشاد کرنا ہے دور سے فرمائیے کہ خود بدولت کے رعب سے اس عاجز کا طائر ہوش وحواس اڑا جاتا ہے۔ شیر نے کہا کہ اس برہمن نے مجھ سے نیکی کی اور میں اس سے ارادہ بدی کا رکھتا ہوں۔ تو کہہ اس مقدمہ میں تو کیا کہتا ہے؟
گیدڑ نے عرض کی “یہ بات جو آپ ارشاد کرتے ہیں اس خاکسار کے خیال میں نہیں آتی۔ آدمی کی کیا مجال جو قوی ہیکل جانوروں کے شہنشاہ سے کہ جس کے رو برو انسان پشّے سے بدتر ہے، کچھ نیکی کر سکے۔ مجھ کو اس بات کا ہرگز اعتماد نہیں آتا، جب تک کہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھوں۔”
شیر نے کہا آ ہم دکھا دیں۔ پھر شیر برہمن کو لیے آگے آگے اور گیدڑ آہستہ آہستہ پیچھے روانہ ہوا۔ ایک آن میں پنجرے کے پاس تینوں آ پہنچے۔برہمن نے کہا اے گیدڑ! شیر اسی پنجرے میں بند تھا۔میں نے خلاص کیا۔کہہ تیرا کیا فتوی ہے؟
گیدڑ بولا کہ اتنا بڑا شیر اس چھوٹے سے پنجرے میں کیونکر تھا! اب میرے روبرو پھر اس میں جائے اور جس طرح اس کے ہاتھ پاؤں بندھے تھے اسی صورت سے باندھ کر پھر تو کھولے تو میں جانوں۔
شیر اندر گیا اور برہمن اس کے ہاتھ پاؤں باندھنے لگا۔گیدڑ نے کہا اگر آگے سے اس کے باندھنے میں کچھ بھی فرق کرے گا تو باللہ میں ہرگز اس بات کا جواب نہ دے سکوں گا۔ اس نے گیدڑ کے کہنے سے شیر کو خوب مضبوط باندھا اور پنجرے کا دروازہ بند کر کے کہا۔ اے گیدڑ دیکھ اس طرح یہ گرفتار تھا جو میں نے کھولا۔
گیدڑ بولا۔“پتھر پڑیں تیری عقل پر۔اے نادان ! ایسے دشمن قوی سے نیکی کرنی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنی ہے۔تجھے کیا ضرورت کہ دشمن کو قید سے چھڑائے۔ جا اپنی راہ لے، دشمن تیرا مغلوب ہوا۔”
اے عزیز سچ ہےجو کوئی بے صبری اور فریاد اپنے نفس کی جو مثل شیر جسم کے پنجرے میں بند ہے، سنے اور اس کے حال پر رحم کر کے صبر و توکل کی رسی اس کے ہاتھ پاؤں سے بے محابا کھول دے تو بہر صورت آپ کو اس کا لقمہ بنائے۔مگر خضر رہنما کی دستگیری سے بچے تو بچے۔
اے بیسوا! یہ ذکر اس واسطے میں نے کیا جو تو جانے کہ طاقت جسمانی، قوت روحانی پر زیادتی نہیں رکھتی۔ اب تجھ پر یہ لازم ہے کہ پورب پچھم کے شہزادوں کو جو تونے اپنے مکرو فریب سے قید کیا ہے چھوڑ دے، حق تعالی تجھ کو بھی دوزخ کی قید سے نجات دےگا۔
لیکن اپنے بھائیوں کے واسطے بہت تاکید سے کہا کہ جب تک خدا مجھے پھر یہاں لائے، ان کی حفاظت قرار واقعی کیجو۔ یہ کہہ کر رخصت چاہی تب اُس نے با چشم خوں بار یہ چند اشعار پڑھے :
آتش سوزاں میں تو اے شوخ بے پروا نجا نقد جانِ بے کساں کو چھوڑ کر تنہا نجا تشنہ لب اے ابر نیساں اس صدف کو چھوڑ کر جانبِ ویرانہ ظالم اس قدر دوڑا نجا چل رہی ہے چار سو باد حوادث تیز و تند کلبۂ احزاں سے تو اے شادیِ دلہا نجا تو نہیں واقف ہے حیلے سے زمانے کے ابھی یوسفِ دوراں یہ زنداں ہے تو پھر آ نجا جس میں تو جاتا ہے وہ ہے بحر ناپیدا کنار مان میری بات کو ظالم یہیں رہ جا نجا حشر میں پروانے کو ظالم تو کیا دے گا جواب چھوڑ کر اُن کو کہیں اے شمع نور افزا نجا
اے عزیز! تو نے معلوم کیا کہ یہ میں نے کیا کہا۔ اس بات کا حاصل یہ ہے کہ دلِ عرش منزل تیرا جو رونق بخش تختِ بادشاہی کا اور دیکھنے والا مادی مجرد کا تھا۔ جب اُس کی آنکھ اس خلقت ناپاک پر پڑی، اُس کی بصارت کو زنگ لگا اور دیدۂ روشن تاریک ہوگیا۔ اب اٹھ اور سرمۂ بینائی ڈھونڈ، یعنی گل مراد کی تلاش میں کوشش کر، لیکن راہ میں دنیائے عیّارہ کی بازی میں کہ تختہ فریب کا دھرا ہوا ہے، مشغول نہ ہونا۔ مبادا وہ تجھ کو پہلے فریفتہ کرکے بتّا دے اور بعد اس کے مکر کی بلّی اور فریب کے چوہے کی مدد سے اچھا پانسا اپنے حسب مرضی پھینکے اور اچانک تیرے توکل کا سرمایہ آخر ہوجائے، تب تجھ کو دائم الحبس کر رکھے۔ اگر تو صبر کے نیولے کی اعانت سے اس مکارہ کی بازیِ طلسم کو درہم برہم کردے تو وہ جو بادشاہوں اور گردن کُشوں کی ہم نشیں ہے تیری فرماں بردار لونڈی ہوکر چاہے کہ تجھ کو اپنے حسن وجمال پر لُبھائے۔ پھر اگر تو اس کے منہ پر الفت سے نگاہ نہ کرے تو یقین ہے کہ گل مراد کے دامن تک تیرا دسترس ہو۔