مذہب عشق معروف بہ قصہ گل بکاؤلی · منشی نہال چند لاہوری

Chapter 26: چھبیسویں داستان

چھبیسویں داستان

بہرام کے جزیرہ فردوس میں پہنچنے کی سمن رو پری کی مدد سے

اور روح افزا سے ملنے میں بنفشہ کی توجہ سے

کہتے ہیں کہ بہرام روح افزا کے فراق میں یہاں تک نحیف ہو گیا کہ دبلاپے سے آنکھوں میں حلقے پڑ گئے، لیکن اس بات کی سمن رو کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی۔ چنانچہ وہ مُدام اس کو نصیحت کرتی کہ اے بہرام! اس خیال سے درگزر اور دل سے یہ اندیشہ فاسد دور کر، کیونکہ غیر جنس کا شجر محبت سوا فراق کے کچھ ثمر نہیں دیتا۔ خاک میں ملے ایسی دوستی جس سے ہمیشہ خرابی اور اضطرابی جی کو رہے اور ناحق ایک بے پروا کے پیچھے دکھ اور درد سہے۔ تو تاج الملوک کی بات پر نہ جا کہ نادر ہے یہ اتفاق ہو گیا کہ بکاؤلی کی طبیعت اس پر آگئی۔ والّا آدمی اور پری میں کیا مناسبت، لطیف اور کثیف میں ملاقات کی کون صورت۔ لیکن بہرام چپکا سنا کرتا تھا کچھ جواب نہ دیتا تھا۔ مگر یہ بیت پڑھتا تھا:

نصیحت کرتی ہو ناحق تم اتنی نہیں جانے کی زنگی سے سیاہی

جب سمن رو نے دیکھا کہ خار عشق بہرام کے جگر میں ایسا چبھا ہے کہ اس کا نکلنا دشوار ہے، کہا اے خود فراموش! اس مہم میں مجھ سے تیری امداد اور تو کچھ نہیں ہو سکتی لیکن اگر تو کہے تو میں جزیرہ فردوس میں تجھے پہنچا دوں، پھر آگے تیری قسمت ہے۔

وہ اس بات پر بخوشی راضی ہوا۔ تب سمن رو نے اس کو زنانے کپڑے اور گہنا جس قدر مناسب تھا پہنایا۔ بہرام امرد تھا، ہو بہو ایک عورت پری پیکر بن کر چلا۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر جزیرہ فردوس کو لے اڑی اور اپنی منہ بولی بہن کے گھر میں کہ اس کا نام بنفشہ تھا اور وہی مشّاطہ روح افزا کی تھی، جا کر اتری۔ وہ سمن رو کے آنے سے نہایت مسرور ہوئی اور پوچھنے لگی کہ یہ نوجوان لڑکی تمہارے ساتھ کون ہے۔ اس نے کہا کہ میری دینی بہن ہے۔ اس کا جی اس سرزمین کی سیر کو بہت چاہتا تھا، اس واسطے میں تمہارے پاس لائی ہوں۔ اسے خوب طرح سیر کرواؤ، تماشے دکھاؤ۔ اس نے کہا بہت اچھا، آنکھوں سے۔ پھر سمن رو رخصت ہو کر بکاؤلی کے پاس آئی اور بہرام بنفشہ کے گھر میں رہا۔ وہ اسے دنيا کی نعمتیں کھلاتی تھی۔ شفقت اور مہربانی سے دن کو ہر ایک باغ میں لے جاتی تھی اور سیر دکھاتی تھی، شام کے وقت اپنے گھر آتی تھی۔ اسی طرح چند روز گزرے۔

ایک روز بنفشہ کہیں گئی تھی، اس وقت جو بہرام نے گھر خالی پایا تو اس کی مشاطگی کے اسباب میں سے آئینہ نکال کر اس کی پشت پر یہ شعر لکھا اور اسی جگہ رکھ دیا:

روشن نہ تھا یہ کچھ رخِ نیکوئے آئنہ چمکائے تیرے عکس سے کیا روئے آئنہ مشاطہ آئینہ کو تیرے آگے با آدب بٹھلاتی ہے جو کھینچ کے زانوئے آئنہ غیرت یہ کہتی ہے کہ اسے چور کیجیے کیوں دیکھا تو نے جان جہاں سوئے آئنہ سنمکھ جو تجھ سے ہوئے کسی اور طور سے نظروں سے گر پڑے رخ دل جوئے آئنہ آئینہ ایک دم نہ ٹھہرتا ترے حضور باندھا ہے عکس زلف نے بازوئے آئنہ

الغرض کہ بنفشہ اپنے وقت پر مقابہ اور سنگار دان لے کر روح افزا کے پاس جا کر حاضر ہوئی پھر کنگھی اور چوٹی کر کے آئینہ جو اس کے ہاتھ میں دیا، شہزادی کی نظر جو اس کے پشت پر جا پڑی، نوشتہ دیکھا اور اس کو پڑھ کر معلوم کیا ہر چند راقم اس کا بہرام کے سوا کوئی نہیں لیکن اس بات کو اس طرح دریافت کیجیے تا اس کے آنے کا یقین ہوجائے اور دغدغہ دل میں نہ رہے۔ مشاطہ سے یوں مخاطب ہوئی، اے بنفشہ! جو چیز ہمیشہ ہے وہ کیا ہے اور وہ شے جو مدام غم کے ساتھ ہے کون شے ہے؟

اس نے ہر چند غور کیا لیکن جواب معقول نہ سوجھا۔ عرض کی کہ اس کا جواب لونڈی کل دے گی، اس وقت معاف کیجیے۔ یہ کہہ کر گھر آئی مگر اس پہیلی کے بوجھنے میں نہایت متفکر تھی۔ اس کی گھبرائی ہوئی صورت دیکھ کر بہرام نے پوچھا، بوا آج اتنی بےحواس کیوں ہو۔ تب بنفشہ نے سوال روح افزا کا اس کے سامنے بیان کیا اور کہا مجھ کو اس کے جواب میں اس کے سوا کچھ نہیں سوجھتا، یعنی اس حکیم مطلق کا نیرنگ دوام ہے اور شادی غم سے وابستہ مدام ہے۔

بہرام نے یہ سن کر کہا، اس سوال کا یہ جواب ہرگز نہیں، بلکہ یہ ہے: جس عاشق کے منہ پر معشوق کے ہاتھ کے طمانچے لگے ہیں وہ ہمیشہ سرخرو ہے اور مدام ناخوشی سے تلخ کام وہ ہے جس کا مطلوب محجوب ہے اور وہ ہر ایک کو اپنا محبوب سمجھتا ہے۔ نقل مشہور ہے کہ مجنون سے پوچھا کہ خلافت پیغمبر کی بعد خلفائے راشدین کے حق کس کا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ لیلی کا۔

القصہ بنفشہ نے اسی کا جواب دیا ہوا صبح کو روح افزا کے حضور میں جا کر عرض کیا۔ سنتے ہی اس کو بہرام کے آنے کا یقین ہوا۔بنفشہ سے پوچھنے لگی سچ کہہ،یہ جواب کس نے دیا۔ اس نے ہر چند کہا کے رات کو میرے خیال میں گزرا تھا لیکن پری نے ہرگز نہ مانا۔ بنفشہ نے مجبور ہو کر کہا،کہ سمن رو پری اپنی منہ بولی بہن کو اس سر زمین کی سیر کے واسطے میرے گھر چھوڑ گئی ہے، اس نے یہ جواب مجھ کو سکھایا ہے۔ روح افزا نے کہا اس کو ہمارے پاس کبھی نہ لائی، بھلا تو آج اپنے ساتھ لے آئیو، ایک ذرا میں بھی دیکھوں۔ اس نے کہا بہت اچھا، اس کی اور میری دونوں کی سعادت ہے۔ چنانچہ شام کے وقت بہرام کو پہنا اوڑھا کر اپنے ہمراہ لے گئی۔ روح افزا نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ بہرام ہے لیکن اغماض کیا اور کچھ متوجہ نہ ہوئی۔ وہ سمجھا کہ اس نے مجھے ابھی تک نہیں پہچانا۔ شاید آئینہ کی پشت نہیں دیکھی اور میرا لکھا ملاحظہ نہیں کیا۔

قصہ کوتاہ، جب بنفشہ چوٹی گوندھ چکی، شہزادی نے آئینہ مانگا۔ بہرام نے جلدی سے اٹھا کر پشت کی طرف سے اسے دکھایا۔ وہ غنچہ دہن بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بنفشہ سے کہنے لگی کہ اے تمہاری بہن بڑی کوڑ ہے کہ اب تک آرسی کی پشت و رو نہیں جانتی۔ آج کی رات اسے یہاں چھوڑ جاؤ، ہم اس کے ساتھ ہنسیں، بولیں، چہلیں کریں گے۔ اس نے عرض کی میری عین خوشی اور اس کی سراسر سرفرازی ہے۔

یہ کہہ کر وہ تو اپنے گھر آئی اور یہ دل آرام کے خلوت خانے میں رہا۔

اے عزیز! اگر بہرام زنانہ لباس نہ پہنتا تو ہرگز اپنی معشوقہ سے اتنا جلد نہ ملتا اور اپنے مطلب کو نہ پہنچتا۔ فی الواقع کہ جو عاشق کہ معشوق کا رنگ پکڑتا ہے، معشوق خود عاشق اس کا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی اس وضع کا کلام فرمایا ہے، حاصل اس کا یہ ہے کہ خصائل خدا کی پیروی کرو تاکہ قربت اس سے حاصل ہو۔

جب امور عالم کے انتظام دینے والوں نے نقابِ ظلماتی سے چہرہ روز کو چھپایا اور چادر ماہتاب کا فرشِ نورانی سطح زمین پر بچھایا، روح افزا پریوں کی مجلس سے اٹھ کر خلوت سرا میں آئی۔ بہرام کو اکیلا لے کر بیٹھی، اس آشنا صورت نے اجنبیوں کی طرح سر رشتہ سخن کا نکالا، کہو بی، تمہارا نام کیا ہے۔ اس نے کہا کوچہ ننگ و نام تو مجھ سے کب کا چھوٹ چکا ہے، تیرے نام کے سوا کچھ یاد نہیں۔ پری نے پوچھا یہاں کس واسطے آئی ہو۔ جواب دیا کہ پروانے کے آنے کا سبب شمع پر بخوبی روشن ہے، اس سے پوچھا چاہیے۔

بہرام کی میٹھی میٹھی باتوں سے تو بہت محظوظ ہوئی لیکن ظاہر میں ترش رو ہو کر بولی، اے مکرہائی عیارنی! تیری باتوں سے میں نے پہچانا کہ تو رنڈی نہیں بلکہ مردوا ہے۔ یہ بھگل نکال کر تو یہاں درآمد ہوا ہے۔ میرے ناموس کو تونے برباد کیا، دیکھ تو اس دلیری کی کیسی سزا دیتی ہوں اور ڈھٹائی کا بدلہ کیسے لیتی ہوں۔ وہ ناکردہ کار، نیش اور نوشِ رنج و حلاوت سے واقف نہ تھا، ناز و نیاز کے بھید اس پر کھلے نہ تھے، اس کے علاوہ طمانچوں کا صدمہ آگے اٹھا چکا تھا، وہ ناز کی باتوں کو سچ سمجھا۔ یقین ہوا کہ اب پھر مار کھاؤں گا اور نکالا جاؤں گا۔ مارے ڈر کے تھر تھر کانپنے لگا اور اس شعر کو پڑھ کر بیہوش ہو گیا:

گر قتل کہ تیرے آگے مرنا

بہتر، نہ کہ دور زندگانی

پھر تو پری زاد سہم گئی کہ مبادا ڈر سے اس کی جان پر آ بنے اور جفا کاروں میں میرا نام لکھا جائے۔ بے اختیار دوڑ پڑی اور سر اس کا اپنے زانوں پر رکھ کر گلفام کی بو یہاں تک سنگھائی کہ اس کو پھر ہوش میں لائی۔

اے عزیز اگر اپنے نور عقل کو حکمتوں سے زیادہ نہ چمکائے گا تو تجلی یار سے فائدہ نہ پائے گا، اگر تو یہ ہستی موہوم نہ چھوڑے تو حیات ابدی کب تیرے پاس آئے۔ جو راہ عشق میں آپ سے نہ گزرا، وہ منزل مقصود میں کب پہنچا۔

القصہ بہرام نے جو آنکھ کھولی تو اپنا مرتبہ برنگِ گل دیکھا اور محبوبہ کا مثل بلبل۔ مارے خوشی کے پھول گیا اور اگلی پچھلی باتیں بھول گیا۔ پھر تو بے کھٹکے اپنے ہونٹ کہ رشکِ گلبرگ تھے، اس کے دہن سے کہ غیرت غنچۂ یاسمین تھا، ملائے اور خوب ہی مزے اڑائے۔ ازبسکہ وہ گل پیرہن بھی اشتیاق میں بھری ہوئی تھی، آپ کو روک نہ سکی، گٹھ ہی گئی۔ آخر نسیم نے کلی کو پھول بنایا اور آپس میں نئی نئی طرح سے لطف اٹھایا۔ روح افزا کا یہ جی لگا کہ ایک ساعت اس سے جدا رہنا دشوار ہوا۔ پھر یہ ارادہ کیا کہ اس کو حرز جان کی طرح گلے سے لگائے رکھے مگر دشمنوں کی نظر سے چھپائے رکھے۔ آخر ایک طلسم اس کے گلے میں باندھا اور قمری بنا کر ایک سونے کے پنجرے میں رکھا۔ پھر تو وہ سروِ گل اندام روبرو لٹکائے رکھتی تھی۔ رات کو پنجرے سے نکال کر پھر آدمی بناتی تھی اور صبح تک اس کی صحبت سے انواع واقسام کی کیفیتیں اٹھاتی۔

چند مدت اس طرح گذر گئی اور یہ بات چھپی رہی۔ آخر عشق اور مشک بے ظاہر ہوئے نہیں رہتا۔ کچھ بو باس یہاں کی حسن آرا تک پہنچی، ایک دن نور کے تڑکے اس کی سن گن لینے آئی۔ جب روح افزا کے پاس آنکلی، دیکھا کہ اس کی زلف مشکیں کا طور بے طور ہے اور سیب زنخداں کا رنگ اور ہے۔ نسرین رخسار کی رنگت گل سی اور نرگس نیم خواب کی کیفیت جام سی دیکھی۔ پیشواز کی چولی کی حالت اور طرح کی پائی اور انگیا کی صورت کچھ اور ہی نظر آئی۔ سمجھی کہ اس کا یاقوت کسی کے الماس سے مقرر کندہ ہوا ہے اور جھونکا نسیم کا بلاشبہ اس کے غنچے کو لگا۔

دوڑ کر غصے سے ایک دو ہتڑ پیٹھ میں مارا اور کہنے لگی، اے علامہ کل کا نام ڈبویا، کیا غضب کیا تو نے۔ کنوارے میں کس سے آنکھ لگائی، تجھے غیر مردوے سے حیا نہ آئی؟ حیف تیری زیست پر،چپنی بھر پانی میں ڈوب مر، تیری رسوائی کا نقارہ بج گیا، تو نے باپ کا نام خراب کیا۔ سچ بتا کہ یہ کیا ماجرا ہے، نہیں تو تیرا گلا گھونٹ ڈالوں گی اور جیتا نہ رکھوں گی۔

روح افزا مارے ڈر کے تھرتھراتی تھی اور کہتی تھی، اماں مجھے تمھارے سر کی قسم جو میں نے کسی مردوے کو بھی دیکھا ہو تو آنکھیں پھوٹیں۔ یہ فقط تہمت ہے اور صاف بندش ہے۔ تم کیسی ماں ہو کہ بیٹی کو عیب لگاتی ہو اور لوگوں کے کہنے سننے پر جاتی ہو۔ غرض اس نے ہر چند سخت سخت قسمیں کھائیں اور بہتیری باتیں بنائیں مگر اس نے باور نہ کیا بلکہ درپے ہوئی کہ جس چور نے اس گھر میں کو نبھل دی ہے اسے پکڑا چاہیے اور اچھی طرح سزا کو پہنچائیے۔

ہزاروں جاسوسوں عیاروں نے زمین وآسمان کو ڈھونڈ مارا لیکن گھر کے پنجرے کا بھد کسی پر نہ کھلا۔ اے عزیز تو عرش پر کس کے ڈھونڈنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جو تیرے خانۂ دل میں ہے اس کی تو تجھے خبر نہیں۔ واہ واہ دور کا دھیان اور نزدیک آپ سے انجان:

کون ہے گھر میں جب اتنی بھی نہیں تجھ کو خبر

پھر تو یہ کیا جانے، کیا ہے اوجِ بامِ چرخ پر

القصہ حسن آرا نے جستجو کرکے روح افزا کی خواصوں کو دھمکایا اور مظفر شاہ کے غضب سے ڈرایا۔ تب ایک خواص کہ اس کا نام گل رخ تھا، اس کے نزدیک آکر یوں کہنے لگی کہ اس خلوت سرا کا بھید ہم پر کیوں کر کھلے، نہ وہاں تک گزارا، نہ دیدہ باطن بینا:

اس کے منہ کے دیکھنے کو دیدۂ دل چاہیے

چشم ظاہر بیں ہماری دید کرسکتی ہے کب

لیکن ان دنوں ہماری صاحب زادی صبح و شام اس قمری سے مشغول رہتی ہے اور اس کے پنجرے کو ایک دم آنکھ سے اوجھل نہیں رکھتی۔ ظاہر میں تو یہ پرندہ ہے اور باطن کی ہم کو خبر نہیں۔ بس اپنا طائر قیاس آگے نہیں اڑ سکتا، مگر ملکہ اڑتی چڑیا پہچانتی ہے، اس کی کنہ سمجھ لے۔

اے نادان! انسان کہ بسبب علاقۂ روح سبزہ زار دنیا کی سیر کو آتا ہے۔ جب تک یہ مربع طلسم عناصر اس کے گلے میں پڑا ہے اور قفس وجود میں طوق بندگی اس کا گلوگیر ہے، چشم ظاہر بیں مشت خاک کے سوا کچھ نہیں دیکھتی۔ جس دن یہ طلسم ٹوٹ گیا، کیفیت اس کی کھل جائے گی کہ وہ کون ہے اور یہ نیرنگ کیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺنے بھی فرمایا ہے، جب لوگ مریں گے اس حال سے آگاہ ہوں گے۔ وجود مطلق ایک دریا ہے اور ہر موجود مثل حباب ہے۔ جب حباب سے ہوا نکل گئی، دریا کے سوا کچھ نہیں۔ بس تامل سے دیکھ کہ اصل ہستی دریا کی ہے لیکن فرق مرتبہ کا البتہ ہے۔ حباب کو کوئی دریا نہ کہے گا اور دریا کو حباب اور کعبہ کو قبلہ کہتے ہیں اور بت خانے کو کنشت، جہنم کو دوزخ اور جنت کو بہشت:

ہر مرتبے میں اور ہی حکم وجود ہے زندیق ہے جو حفظِ مراتب کرے نہ تو

واقعی مسئلہ وحدت الوجود کا مشکل ترین مسائل ہے۔ بہتیرے اس بحر عمیق میں گر کے مذہبِ جبری کے بھنور میں جا پڑے اور اکثر مسلکِ دہری کے گرداب میں ڈوبے۔ ہادی یہاں فضل الٰہی اور کرم رسالت پناہی کے سوا کوئی نہیں۔

قصہ کوتاہ حسن آرا نے روح افزا کی نشست گاہ میں جا کر پنجرے کو اتار لیا اور ارادہ لے جانے کا کیا۔ روح افزا اس کو شاہین کے چنگل میں دیکھ کر کلیجہ پکڑ کر رہ گئی۔ منہ سے تو مارے لحاظ کے بول نہ سکی، پر طائر روح قفس تن میں تڑپنے لگا۔ ہر چند تڑپا لیکن صیّادِقضا و قدر کے ہاتھ سے نہ چھوٹا۔

غرض اس بے پر کو وہ پری لے اڑی اور مظفر شاہ کے روبرو اس کا پنجرہ جا کر رکھ دیا۔ شاہ نے نکال کر اس کے بال و پر تمام ٹٹولے، آخر گلے پر جو ہاتھ پڑا تو ایک تعویذ بندھا نظر آیا۔ اس کو کھولا، بہرام آدمی ہوگیا۔

حاضرین مجلس سخت متعجب ہوئے۔ شاہ آتش غضب سے جل کر کباب ہوگیا اور کہنے لگا اے بد ذات نابکار تو غضب سلطانی سے نہ ڈرا اور اپنے جی میں کچھ نہ سوچا۔ سچ کہہ اس دیار میں تجھے کون لایا اور بادشاہوں کے محل میں کس نے پہنچایا؟ لے اس ڈھٹائی اور بے پروائی کا ثمرہ تو ہلاکت کے سوا کچھ نہ پائے گا اور اس کی سزا میں جان سے جائے گا۔ بہرام بولا، عاشقوں کا رہنما جذبہ اشتیاق ہے اور انھیں کے سزاوار تکلیف مالا یطاق ہے۔ عشق کی زنجیر وہ نہیں کہ کوئی آپ سے پاؤں میں ڈالے اور بہ اختیار گرفتار ہو۔ عاشقوں نے رشتہ رشتۂ اختیار سے توڑا ہے اور بے اختیاری سے جوڑا ہے۔ جس نے زندگی سے ہاتھ دھوئے، اسے موت سے کیا خطرہ ہے اور جان کی کیا پروا ہے۔ مگر حسرتِ دیدار جی میں رہے گی اور گور میں جوئے خون آنکھوں سے بہے گی:

موت سے ہرگز نہیں ڈرتا نہ کچھ غم ہے مگر گلر خون کی دید سے محروم میں رہ جاؤں گا

آخر مظفر شاہ کا شعلۂ غضب ایسا بھڑکا کہ لوگوں سے فرمایا، اس آتش کے پرکالے کو جلد شہر سے دور لے جا کر آگ میں ڈال دو اور جلا کے خاک سیاہ کردو۔ اتفاقاً تاج الملوک اور بکاؤلی گلستان ارم کی سیر کو آئے تھے، جس مقام سے جزیرۂ فردوس نزدیک رہ جاتا تھا وہاں پہنچے۔ جی میں آیا کہ چلو روح افزا کو بھی دیکھیں اور دو دن وہاں کی بھی سیر کریں۔ القصہ جزیرۂ فردوس کی طرف پھرے اور وہاں آنکلے جہاں لکڑیوں کا انبار لگا تھا اور بہرام اس پر بیٹھا تھا، بلکہ چاروں طرف سے آگ دے چکے تھے۔ جونہی بکاؤلی نے لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور آگ بھڑکی ہوئی اسے نظر پڑی، تخت اپنا قریب لے جا کے پوچھنے لگی کہ یہ کیا ہنگامہ ہے۔ کوئی بول اٹھا کہ روح افزا کے عاشق کو جلاتے ہیں۔ سنتے ہی اس بات کے تخت سے اتر کر آگے بڑھی، کیا دیکھتی ہے کہ بہرام ہے۔ فی الفور بکاؤلی نے کہا جلد اس آگ کو بجھاؤ اور اس جوان کو نکالو۔ اگر اس کا ایک رواں جلا تو سیکڑوں کے سر جلاؤں گی، بلکہ اس کا گھر کا گھر خاک میں ملاؤں گی۔ لوگ ڈر گئے اور آگ کو بجھادیا اور بہرام کو نکال کر شہزادے کے حوالے کیا۔ اس کو ہمراہ لے کر ایک باغ میں جا اتری پھر تاج الملوک کو اور اسے وہاں چھوڑا، آپ مظفر شاہ اور حسن آرا کے پاس گئی، جھک کر سلام کیا، انھوں نے اس کا سر چھاتی سے لگایا، خیر و عافیت پوچھی اور آنے کی حقیقت۔

بکاؤلی نے کہا کہ میرا بے اختیار آپ کے اور چچی جان کے دیکھنے کو جی چاہتا تھا، اس کے سوا خیریت ہے لیکن راہ میں عجب ماجرا دیکھا ہے کہ میرے سسر کے وزیر زادے کو لوگ جلایا چاہتے تھے۔ اگر میرے آنے میں اور ایک دم کا وقفہ ہوتا تو وہ جل کر راکھ ہوجاتا اور ماں باپ کو دنیا سے کھو جاتا۔ اگر چہ مرنا سب کا برا ہے خصوصاً ایسے جوان شکیل کا۔ فی الواقع تقصیر بھی ایسی ہوئی تھی، لیکن اس طرح کی سزا اب فائدہ نہیں رکھتی۔ جو کچھ ہونا تھا سو ہو چکا۔ میں نے فرض کیا کہ آپ نے اسے مار ڈالالیکن کلنک کا ٹیکا تو نہ مٹے گا۔ اب سو جانتے ہیں پھر ہزاروں جانیں گے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اس کی تقصیر معاف کیجیے اور روح افزا کو اس کے ساتھ بیاہ دیجیے، کیونکہ بہرام نہایت طرحدار اور قابل ہے۔ کچھ اس میں مضاٰئقہ نہیں، وزیر اور بادشاہ میں ہمیشہ سے رشتہ ہوتا آیا ہے اور جو آپ انسان کو حقیر جانتے ہیں تو پھر مجھ کو کیوں تاج الملوک کے ساتھ بیاہا۔ بیٹی اور بھتیجی میں کیا فرق ہے۔

مظفر شاہ نے یہ باتیں سن کر سر جھکا لیا اور کہا بہت بہتر مختار ہو۔ پھر وہاں سے روح افزا کے پاس آئی دیکھا کہ وہ آنکھوں میں آنسو ڈبڈبائے، سر جھاڑ منہ پہاڑ بنائے بیٹھی ہے۔ ہنس کر کہنے لگی واہ واہ ری گھسکی! کہاں جا کر سرنگ لگائی۔ پناہ مانگیے تجھ سے اور ڈریے تیرے دیدے سے۔ بس اٹھ کھڑی ہو، ہنس بول، کپڑے بدل، حجرے سے باہر نکل، میں تیرے چاہنے والے کو سلامت لے آئی ہوں۔ اب کوئی دن میں دل کھول کر ملیو اور ہمیشہ عیش کیجیو۔

روح افزا بہن کی باتوں سے مسکرا کر اٹھ بیٹھی اور بلائیں لے کر گلے سے لپٹ گئی۔ رات کی رات تو بکاؤلی وہاں رہی، صبح کے وقت روح افزا کو مظفر شاہ اور حسن آرا کے پاس لےگئی، تقصیر معاف کروائی۔ پھر اس کو مائیوں بٹھا کر تاج الملوک اور بہرام کو لے کر جزیرہ ارم میں جا کر پہنچی اور یہ ماجرا من و عن اپنے ماں باپ کے گوش گزار کیا۔ پھر ان سے درخواست کی کہ وہ جس دھوم سے تاج الملک کو لے کر بیاہنے آئی تھے، اسی طرح تم بھی بہرام کو بیاہنے لے چلو اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو۔ چنانچہ انھوں نے ویسی ہی مہمان داری اور تیاری اندر باہر کی اور تجمل سے بہرام کو خلعتِ شاہانہ اور جواہر پہنا کر، پھولو ں کا سہرا باندھ کربڑے کرّ و فر سے جزیرہ فردوس کو روانہ ہوئے۔

وہاں کی تیاری کا کیا کہنا ہے۔ پری کے بیاہ کا تجمل زبان کیا بیان کرے اور قلم کب لکھ سکے۔ غرض مظفر شاہ کی طرف کے لوگوں براتیوں کو اور دولہا کو لے جا کر نہایت عظم و شان سے مجلس نشاط میں بٹھایا اورزنانی سواریوں کو اسی وضع سے اتروا کر بڑی تعظیم اور تواضع سے حسن آرا کے علاقہ دار مجلس انبساط میں لے آئے۔

پہر رات تک اندر باہر ناچ رنگ کی صحبت رہی، آتش بازی انواع و اقسام کی چھوٹا کی۔ پھر اپنے خاندان کے چلن کے موافق اس پری پیکر کا نکاح اس رشک قمر کے ساتھ بندھوایا۔ ہار اور پان دینے کےبعد نوشہ کو ریت و رسم کے واسطے محل میں بھجوایا۔

بکاؤلی بھی بہنوں کی طرح بہرام کے ساتھ گئی اور ٹونے ٹوٹکے کرتی ہوئی اس کی طرف سے خوب جھگڑی۔ پھر آرسی مصحف دکھایا اور دولہا کو دلہن کا جھوٹا شربت پلایا۔ اس کے بعد مظفر شاہ اور حسن آرا نے روح افزا کو بہت سا جہیز نقد و جنس، لونڈی غلام دے کر بہ تجمل تمام رخصت کیا۔

برات کو اسی رونق سے فیروز شاہ اور تاج الملوک لیے ہوئے شاد و خرم جزیرۂ ارم میں داخل ہوئے۔ کئی دن وہاں چہل رہی، پھر بکاؤلی اور تاج الملوک روح افزا اور بہرام کو اسی طمطراق سے لے کر ملک نگاریں کو روانہ ہوئے، تھوڑے عرصہ میں جا پہنچے۔

پھر بہرام کے ماں باپ کو بلوا کر تمام قصہ کہہ کر سنایا اور دونوں کا دیدار دکھایا۔ وہ بہو بیٹے کو دیکھ کر بہت شاد ہوئے اور بکاؤلی کے جان و دل سے ممنونِ احسان ہوئے۔

مِن بعد وزیر نے مجلس نشاط کی وہاں تیار کی، بادشاہ کو جا کر لے آیا اور جتنے چھوٹے بڑے امیر تھے ان کو بھی بلایا۔ جس قدر اہل طرب شہر میں تھے، ان کو طلب کیا۔ غرض کئی دن تک ناچ راگ کی صحبت رہی، مہمان داری بخوبی کی۔ بادشاہ اور بادشاہ زادے کے حضور میں سیکڑوں کشتیاں جواہر اور پوشاک کی رکھیں اور محل بھی اسی قبیل سے بھجوائیں۔ انعام اور اکرام لوگوں کو بہت سا دیا، نقد و جنس بے شمار بانٹا۔ بعد اس کے حضرت اعلیٰ قلعۂ مبارک میں تشریف لے گئے۔ سب مہمان بھی رخصت ہوئے۔

پھر بکاؤلی نے حمالہ کو کہلا بھیجا کہ جلد میرے باغ اور محل کو اکھڑواکر یہاں لے آؤ۔ وہ دو چار ہی دن کے عرصے میں لے کر پہنچی، فی الفور متصل اپنی دولت سرا کے نہایت آراستگی کے ساتھ قائم کرکے روح افزا اور بہرام کے حوالے کیا۔ الحمد للہ خدا کے فضل سے سب شاد ہوئے اور بخوبی آباد ہوئے۔

غرض جس طرح سے کیا ان کو شاد ہماری بھی دے یا الٰہی مراد

تاریخ سال ہجری:

یہ قصہ ہوا جب بخوبی تمام تو پھر فکر تاریخ تھی صبح و شام یکایک سنی میں نے آواز غیب کہ ہے مذہب عشق تاریخ و نام

تاریخ سن عیسوی :

ہوئی پھر یہ خواہش کہ کلک و زباں کریں عیسوی سال کو بھی بیان تو پھر ہاتفِ غیب نے دی صدا کہ اس مذہب عشق میں کوئی آ کرے مشرب جام گر اختیار تو راز نہاں اس پہ ہو آشکار

تمام شد

ناظرین پر روشن ہو کہ تھوڑا سا احوال شاہجہاں کے بادشاہ ہونے کا آخر کتاب میں تھا۔ مترجم نے اس کو مع حکایت کے جو اس کے مطابق تھی، اس واسطے ترجمہ نہ کیا کہ وہ خلاف شاہجہاں نامے کے نکلا۔ شاید مصنف نے سنا سنایا لکھا واِلّا اتنا فرق نہ ہوتا۔ جس کو مفصل اس کا دریافت کرنا ہو وہ اصل کتاب کے آخر کو اور شاہجہاں نامے کے اس مقام کو، جہاں وہ احوال ہے، ملاحظہ کرے۔

الحمد للہ فسانہ خوش اسلوب و داستان مرغوب مسمّٰی بمذہب عشق معروف بہ “گل بکاؤلی” بروئے انٹرنیٹ بشکل برقی کتاب ماہ ستمبر ٢٠٢٠ ؁ء کو طبع ہوا۔

(١) جملوں اور عبارتوں کے حذف کی کارروائی لاہور کی اشاعت میں کی گئی تھی جہاں سے پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی کا یہ مقدمہ ماخوذ ہے۔ زیر نظر برقی کتاب میں اصل کتاب سے کوئی جملہ حذف نہیں کیا گیا ہے۔ (Yethrosh)

(١) خلاصہ اس تمثیل کا یہ ہے کہ جس طرح آلات تحریر بہت ہیں اور ہر ایک کو اپنے ہی باعث تحریر ہونے کا دعویٰ، پر باطن میں اور ہے۔ اسی طور ظاہر میں عاشق کو معشوق کی اور معشوق کو عاشق کی طلب ہے اور درحقیقت محرک اس سلسلے کا وہ ہے کہ دل دونوں کا جس کے تصرف میں ہے۔

١۔ کنویں

The end.