پچیسویں داستان
تاج الملوک کے نامہ لکھنے میں فیروز شاہ اور مظفر شاہ اور اپنے باپ کو
اور آنے میں تاج الملوک کی ملاقات کو اور روح افزا پر عاشق ہو نا بہرام کا
مصور نگارستانِ عشق کا اس داستان کی تصویر صفحۂ کا غذ پر یوں کھنچتا ہے کہ تاج الملوک نے فیروز شاہ اور مظفر شاہ اور زین الملوک کو مژدہ اپنے پہنچنے کا لکھ بھیجا اور اس کو پڑھ کر ہر ایک کا دل تر و تازہ ہوا۔ چنانچہ فیروز شاہ نے مع جمیلہ خاتون بڑی جاہ و حشمت سے شرقستان کی طرف کوچ کیا اور مظفر شاہ، حسن آرا اور روح افزا کو ساتھ لےکر اسی تجمل سے روانہ ہوا اور زین الملوک بھی خاص محل کو ہمراہ لے کر بڑے کرّ و فر، فوج اور لشکر سے چلا۔
غرض تھورے دنوں میں ملک نگاریں میں آ پہنچے اور اس کے گرد و نواح میں انسان اور پری زاد کی ایسی کثرت ہوئی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ بارے تاج الملوک اور بکاؤلی کے دیدار سے سب مسرور ہوئے اور ہر ایک کے دل سے سارے رنج و الم دور ہوئے۔ تین روز تک جشن رہا، ناچ راگ دن رات ہوا کیا۔
چوتھے دن ہر ایک شاد و خُرّم رخصت ہو کر اپنے اپنے ملک کو رانہ ہوا، مگر بکاؤلی نے روح افزا کو نہ چھوڑا کہ چندے اور بھی اس کی صحبت سے حظِ زندگانی اٹھائے اور ایام جدائی کی سختیاں سب دل سے بھلائے۔ عقیق کا دالان اس کی خواب گاہ کے واسطے مقرر کیا۔ وہ پری پیکر اس حور سرشت کے ساتھ پہر رات گئے تک سرگرم گفتگو رہتی تھی، پھر خواب گاہ میں جا کر سو رہتی تھی۔
ایک رات کی نقل ہے کہ روح افزا کی چوٹی سوتے میں کھڑکی کے باہر جا پڑی تھی، اس کے موباف میں ایک گوہر شب چراغ چمک رہا تھا۔ بہرام بھی اسی وقت چاندنی کی سیر کرتا ہوا ادھر جا نکلا۔ جبکہ نگاہ اس پر جا پڑی، پہلے تو سمجھا کہ کالا اپنا من منہ میں لیے چڑھا جاتا ہے، پھر غور سے جو دیکھا تو معلوم کیا کہ کسی کی چوٹی میں لعل چمکتا ہے۔ جی میں سوچا کہ شاید بکاؤلی یہاں سوتی ہو اور اس کی چوٹی لٹک پڑی ہو۔ لیکن دل اس کا تمام رات پیچ و تاب کھاتا رہا، آخر رہ نہ سکا۔ صبح کو سمن رو پری سے پوچھا کہ فلانے مکان میں کون سوتا ہے، اس نے کہا کہ وہ روح افزا کی خواب گاہ ہے۔ سنتے ہی اس کے عشق کا سودا بہرام کے سر میں پیدا ہوا اور اس کی زنجیر زلف ڈھونڈنے لگا۔ چنانچہ دوسرے دن آدھی رات کے وقت کمند مار کر اس مکان میں جا کر اترا اور دالان کے اندر بے تابانہ چلا گیا۔ دیکھتا کیا ہے کہ وہ رشک زہرہ ایک سونے کے پلنگ پر ناز سے سوتی ہے۔ یہ کیفیت اس کی دیکھ کر کیفیوں کی مانند بے خود ہو گیا، اس نے تو کبھی اس شراب کو چکھا نہ تھا، اس کا نشہ سنبھال نہ سکا۔ بدمستوں کی طرح اس پری پیکر سے ہم آغوش ہو کر مچھیاں لینے لگا، فوراً اس کی آنکھ کھل گئی، دیکھا کہ بہرام ہے۔ اگرچہ اس کا سنگ عشق اس کے شیشہ دل کو بھی چور کر چکا تھا، لیکن اتنی چالاکی اور بے باکی اس کے طبع نازک کو خوش نہ آئی، بہت سا جھنجھلائی۔ آخرش طمانچہ مار کر ایسا دھکا دیا کہ کھڑکی سے گر گیا اور زار زار روتا ہوا اپنے گھر چلا گیا۔
صبح ہوتے ہی روح افزا نے بکاؤلی سے رخصت مانگی، اس نے ہر چند سماجت اور منت کی کہ چند روز اور بھی رہو، روح افزا نے نہ مانا، اس واسطے کہ اگر رات کی بات ظاہر ہوگی تو بکاؤلی مجھے ہنسی میں لے گی اور چھیڑے گی۔ آخرش نہ ٹھہری اور جزیرہ فردوس کی راہ لی، لیکن بہرام کے عشق سے دن کو چین سے نہ بیٹھتی تھی اور رات کو ایک دم آرام سے نہ سوتی تھی، بلکہ اکثر اوقات شمع فانوس کی مانند روتی تھی اور ساعت بساعت سموم غم سے مرجھاتی تھی اور اپنی نرگس مخمور میں گھڑی گھڑی آنسو بھر لاتی تھی۔
سچ ہے کہ جو دیدہ غور سے ملاحظہ کرے تو عشق کی بے تابی معشوق میں زیادہ دیکھے۔ یہ وہ گروہ ہے کہ کسی کے گلے میں کمند عشق ڈال کر دور سے اپنے حضور میں کھینچ لے اور کسی کو فَلاخن ہجر سے دور پھینک دے۔